Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    کشمیر میں آج کرفیو لگے چھیالیس روز ہو چکے ظلم و بربریت کی انتہا ہو گئی ۔وہ جس وادی کو ہم جنت نظیر کہتے تھے- وہاں خون کی ندیاں بہتے آج کئی برس بیت گئے۔ہمارے مظلوم کشمیری بھائی اپنی آزادی کی جنگ اکیلے لڑ رہے ہیں۔ حق خوارادیت کے لیے جان دے رہے ہیں۔ہماری مائیں روز اپنے بیٹوں کو قربان کر رہی ہیں۔
    بھارت نے ظلم و ستم کی انتہا کردی ۔بھوک پیاس سے بلکتے کشمیری مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

    پچھلے 72 سال سے مسلسل آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی آزادی کا وقت آ ہی گیا۔
    وہ مسلہ کشمیر جو اقوام متحدہ کے ٹیبل کے کسی دراز میں پڑا تھا ۔
    وہ جس کو قرار داد کے طور پر فائل سے نکال کے چائے کے ٹیبل پے رکھ کر ایک دفعہ اسپیکر میں پڑھ لیا گیا تھا۔
    اس مسلے کو پچھلے چھیالیس روز سے بھارت ہوا دے رہا ہے۔ اب اگر ہوا دے ہی دی گئی تو اب یہ طوفان تھمنے والا نہیں ۔

    اب تو پوری قوم بلکہ پوری دنیا سے اٹھنے والی ایک ہی آواز ہے کہ

    ایک نعرہ ایک آواز۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔
    کشمیر سے پنجاب تک ۔۔۔
    سب بنے گا پاکستان۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔

    اب ہم کیوں انتظار کریں کسی اور مسیحا کا؟؟؟
    کیوں انتظار کریں بڑی عالمی برادری کا؟؟؟

    ہم کمزور نہیں ۔۔۔۔
    اور جن کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت ساتھ ہو ۔۔۔
    وُہ کمزور ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ہمیں بھروسہ ہے اپنی طاقت ور فوج پے ۔ہمیں بھروسہ ہے اپنے مجاہدوں پر۔۔۔
    وہ فوج جس نے بڑی عالمی طاقتوں کو شکست دی۔
    جو نا کسی سے ڈرنے والے نا کسی کے آگے جھکنے والے۔
    جن کی اڑان کو آج تک کوئی اور طاقت شکست نا دے پائی۔

    راستے کٹھن بھی ہوں تو سینہ تان کے چلتے ہیں

    ہماری عادت نہیں مشکل راستوں سے منہ موڑنا

    پوری دنیا سن لے کہ ہم ایسی بہادر نڈر فوج کے مالک ہیں جو پہلے کئی طوفانوں کا رخ موڑ چکی ہے۔
    اب بھارت کی باری ہے ۔بھارت سن لے کے ہم موت سے نہیں ڈرتے ۔۔۔پاک فوج کے جوان ہر پل جام شہادت کے لیے تیار ہیں۔ہمارے مجاہد تیار ہیں اب مرنا ہے یا مار دینا ہے۔

    اب ہمارے کشمیری مسلمان اکیلے نہیں اُن کے ساتھ پاکستان کی مصلح افواج کھڑی ہے۔
    پورا پاکستان کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے۔
    اب اگر دنیا کی بڑی طاقتیں انڈیا کو نہیں روک سکتیں ۔تو ہم خود اب اس طوفان کا رُخ موڑیں گے۔
    اب وہ ہی طریقہ اپنائیں گے جس کی اجازت ہمارا مذہب ہمیں دیتا ہے
    جس کی اجازت ہمارا دین اسلام دیتا ہے۔
    جس کا حکم ہماری دو جہاں کی مقدس کتاب قرآن مجید میں ہے ۔
    ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ مظلوموں کی مددّ کرو۔۔۔

    اب ہمیں کسی اور کے حکم کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
    اب ہم جائیں گے کشمیر میں ۔۔۔۔جہاں ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں اپنے بیٹوں کے لاشے اُٹھا رہی ہیں۔خون سے تر وادی ہمیں بولا رہی ہے کہ کوئی تو آئے ہمیں ان درندوں سے نجات دلائے۔۔

    اب ہماری حکومت کو چاہیے کہ اپنی فوج اور مجاہدوں کو اِک بار کشمیر کے لیے لڑنے کی اجازت دے۔
    پھر ہمیں کسی اور طاقت کی ضرورت نہیں کشمیر ان شاء اللہ آزاد ہو گا۔
    یہ خواب جلد پورا ہو گا
    ہمارے خواب کی تعبیر ہماری پاک فوج کی صورت میں آئے گی۔

    اور پھر کشمیر بنے گا پاکستان۔۔
    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا زمہ دار کون ؟  تحریر فرحان شبیر

    پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا زمہ دار کون ؟ تحریر فرحان شبیر

    اقلیتوں کے ساتھ افسوسناک واقعات کے بعد نیپال سے دانشوڑوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ ماضی کے مسلم حکمرانوں کو ایک کوسنے اور عربی تہذیب کو لعن طعن زوروں سے جاری ہے ۔ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کو اسلام سے جوڑ کر پوری پاکستانی قوم کو شرمندہ کیا جارہا ہے ۔ ابدالی ، محمد بن قاسم اور غزنوی کی اولاد ہونے کے طعنے دئیے جارہے ہیں ۔ ہندوستان میں تو یہ سلسلہ ہندو توا کے پرچارکوں کی طرف سے صدیوں سے جاری ہے ۔ سلطان ٹیپو کے خلاف مراٹھوں کی لڑائی سے لیکر تحریک پاکستان اور پاکستان بننے کے بعد سے لیکر اب تک ۔ ہندو توا کے اسیر کٹر ہندو ہوں یا بھارت کے سیکولر سب ہی یک زبان ہو کر برصغیر پر حکمران رہنے والوں کو عرب ، افغان حملہ آور لٹیرے گردانتے ہیں جنہوں نے یہاں کے باسیوں پر ایک غیر ملکی تہذیب ایک غیر ملکی زبان اور غیر ملکی مذہب نافذ کیا ۔

    ہمارے لبرل سیکولر احباب کے نزدیک باہر سے آنے والے مسلم حکمران تو یہاں کے لوگوں کے بادشاہ بن بیٹھے لیکن جو راجے مہاراجے جو یہاں راجے بنے بیٹھے تھے وہ شاید کسی انتخاب میں الیکشن جیت کر آئے تھےاور یہاں پر کوئی بڑا ہی برابری اور احترام آدمیت پر مبنی نظام تھا جسے مسلمانوں نے عربی تہذیب لاد کر الٹ پلٹ کر دیا ۔ ارے بھائی وہ بھی تو طاقت کے زور پر راجے مہاراجے بنے بیٹھے تھے کیا انکے دور میں راجہ بھوج اور گنگو تیلی ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھاتے تھے ۔ یہاں پر تو عوام ہندو برہمنوں کے خود ساختہ Cast سسٹم کا شکار تھے ۔ انسان انسانیت کے مقام سے گر کر گائے ماتا کا پیشاب پیتا تھا اور آج بھی پیتا ہے ۔

    میں تو شکر ادا کرتا ہوں کہ اسلام یہاں آیا اور آج خدا نے کسی گائے کا موتر پینے والے گھر میں پیدا نہیں کیا ۔ یہ کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ایک حقیقت کا بیان ہے ۔ یہاں بیوہ کو مرنے والے کے ساتھ جلا کر مار دیا جاتا تھا ۔ یہاں شودر کے گھر پیدا ہونے والا ساری زندگی ناپاک ، ملیچھ اور کمتر سمجھا جاتا تھا ۔ اسلام نے یہاں کے لوگوں کو ایک متبادل فراہم کیا ۔ کہ جو اس کمیونٹی میں شامل ہوگیا وہ ابن آدم ہونے کی جہت سے واجب التکریم ہے اور سب ابن آدم ایک برابر ہیں ۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ۔ دانشوڑ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے یہاں اپنا مذہب ٹھونسا جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ میرے دین نے یہاں کے اچھوتوں کو کاسٹ سسٹم کے گرداب سے نکال کر ایک ہی جھٹکے میں سب کے برابر کھڑا کردیا ۔

    یاروں سے التماس ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ ہمدردی کی آڑ میں پورے پاکستانیوں اور اسلام پر شدت پسندی کا لیبل نہ لگائیں ۔ اس خطے کے اندر پاکستان میں موجود ہندوں کے مندر ، سکھوں کے گردوارے ، عیسائیوں کے چرچ ، بدھا کے مجسمے اور دیگر مذہبی مقامات کوئی آج سے نہیں سینکڑوں ہزاروں سال سے ہیں ۔ بلوچستان میں دور پہاڑوں میں واقع تین ہزار سال پہلے کا ہنگلاج دیوی کا مندر ہو یا چکوال میں کٹاس راج ، سکھر کا سادھو بیلہ ہو یا کراچی کا شیو نرائن صدیوں پرانے ہیں ۔ سکھوں کے گردوارے اور عیسائیوں کے چرچ پانچ سو سال سے تین سو سالوں تک کی ہسٹری رکھتے ہیں ۔ مسلم حکمرانوں کو تو چھوڑئیے جنہوں نے یاروں کے بقول یہاں لوٹ مار کی لیکن خود پاکستان کی ستر سال کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ہاں آج تک اقلیتوں کے مذہبی مقامات کو کوئی بڑے پیمانے پر ، ریاستی سطح پر طویل عرصے تک نہ کوئی نقصان پہنچایا گیا نہ ایسی سوچ کی کبھی کسی نے پذیرائی کی بلکہ ہمیشہ رد کیا گیا ہے

    بحیثیت مجموعی پاکستانی قوم کے ہاتھوں اقلیتوں یا انکی عبادت گاہوں کو بحیثیت مجموعی نقصان نہیں پہنچا ۔ ننکانہ صاحب میں گرو نانک کی جنم بھومی چلے جائیں یا بلوچستان کے پہاڑوں میں ہنگلاج دیوی کے مندر کے ساتھ مقیم دو ڈھائی سو لوگوں پر مشتمل ہندو اکثریتی ٹاون کے باسیوں کے پاس بیٹھیں خدا کا شکر ہے کہ کہیں بھی اقلیتوں کے سر پر ہر وقت کے خوف کا عالم کبھی طاری نہیں ہوا اور نہ اب ہے ۔ لاہور شہر میں بیسیوں اداروں میں کرسچین اور کراچی میں صدر اور آس پاس کی دفاتر میں کئی ہندو برادری کے افراد ملسمانوں کے ساتھ ہی کام کرتے ہیں کھاتے پیتے بھی ہیں ۔ میرے دوست کے دفتر میں پیون ہندو لڑکا مکیش تھا ہم سب اسکے ہاتھ کا لگایا ہوا کھانا اور بنائی ہوئی چھائے مزے سے کھاتے پیتے تھے اور وہ بھی ساتھ ٹیبل پر ہی بیٹھا ہوتا تھا ۔ ایسی کئی مثالیں آپ سب کے سامنے بھی ہونگی ۔

    بھارت کی میجورٹی اگر اسی پر یقین رکھتی ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب سے نفرت کرتے ہیں تو اس میں حیرت نہیں انکی معاشرت اور سیاست کا تقاضہ ہی یہی ہے لیکن یہ ہمارے نیپال کے دانشوڑوں کی سمجھ داری سمجھ نہیں آتی ۔ مثلا گھوٹکی میں ہندو برادری کے مندر پر توڑ پھوڑ کے بعد جس طرح پورے علاقے نے پہرہ دیا اور اقلیتوں کو تسلی دی اسے ایک ایسے عمل سے بھی تشبیہ دی جیسے کوئی پہلی دفعہ پاکستان میں کسی نے گلے لگایا ہے اور اس سے پہلے پاکستانی مندروں کے باہر سوٹے اور ڈنڈے لیکر کھڑے ہوتے تھے کہ سب کو زبردستی کلمہ پڑھواکر چھوڑیں گے ۔ پھر کبھی یہ بھی سوچنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ کچھ واقعات کی ٹائمنگ بڑی عجیب ہوتی ہے ۔

    کشمیر میں مسلم بچیوں کے ریپ کے واقعات جب شروع ہوئے پاکستان میں قصور میں بچوں کی ویڈیو اسکینڈل کا معاملہ آگیا ۔ ادھر پاکستان دنیا بھر میں اقلیتوں کے ساتھ بھارتی مظالم کا رونا رو رہا ہے ادھر خود پاکستان میں گھوٹکی کا واقعہ ہوجاتا ہے ۔ قصور میں پھر بچوں کے ریپ کی خبریں اور لاڑکانہ سے ہندو لڑکی کا پراسرار قتل سارے دنیا کے میڈیا کی اٹینشن لے جاتا ہے ۔ اب جہاں آپکا وزیر کشمیر سمیت پورے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہندو توا کے علمبردار نریندر مودی اور امیت کا ظلم گنوائے گا وہیں وہیں مودی پاکستان سے آنے والی ان خبروں کو بنیاد بنا کر پاکستان کا مقدمہ کمزور کریگا ۔

    ہمیں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ مسلم حکمرانوں نے برصغیر کو لوٹا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ مسلم حکمران یہ لوٹا ہے ہوا مال لیکر کہاں گئے ۔ مکہ ؟ مدینہ ؟ ایران ؟ یا بابر کے آبائی وطن فرغانہ ؟ تاریخ تو یہی بتاتی ہے مسلم حکمرانوں کی اکثریت یہیں کی ہورہی اور یہاں کا پیسہ بھی یہیں رہا اور یہاں کے انفراسکٹچر پر لگا ۔ لیکن جو حال نیشن شیمنگ کے پراپیگنڈہ نے جاپانیوں کا اور جرمنز کا کیا وہی حال اس نیشن شیمنگ نے پوری مسلم ورلڈ کا اور برصغیر کے مسلمانوں کا بھی کیا اور اس میں غیروں کے ساتھ ساتھ ہمارے سو کالڈ لبرل سیکولر اور ماضی کے کمیونزم و سوشلزم کے پرچار دانشوڑوں کا بھی بڑا گہرا کردار ہے ۔ جیسے کسی انسان کو مایوس کرنا ہو تو اسے Body shaming میں ڈال دو ویسے ہی ان مہربانوں نے ہماری پوری قوم کو ہی Nation shaming میں ڈالا ہوا ہے

    یار لوگ یہ تو بتاتے ہیں کہ مسلم حکمرانوں نے برصغیر کو لوٹا مگر یہ نہیں بتاتا کہ پھر اس لوٹ کھسوٹ میں خود ہندو کیسے شامل ہوگئے ۔ مثلا بابر سے اورنگ زیب عالمگیر تک کے 6 Great Mughals حکمرانوں میں تیسرے نمبر والے جس اکبر اعظم کے دور میں برصغیر پھلا پھولا ، اسی اکبر اعظم کے 9 رتنوں( یہ اکبر کے خاص مشیر تھے ۔ Nine jewels ) میں سے 4 ہندو تھے ۔ راجہ مان اسکا آرمی چیف ، راجہ ٹوڈرمل فنانس کا منتظم تھا جبکہ تان سین اور ۔۔۔ بھی ہندو تھے ۔ یعنی لوٹنے والے مسلمان اکبر کا چیف آف آرمی بھی ہندو اور معیشت کا انتظام یعنی عوام سے لگان یا ٹیکس لینے کا منتظم بھی ہندو ۔ دانشوڑوں سے سوال ہے کہ یہ کیسی لوٹ مار تھی بھائی ؟

    "مسلمان” بابر آیا تو ” ہندو "رانا سانگا ساتھ ملکر لڑا "مسلمان” ابراہیم لودھی کے خلاف ۔ مسلمان کو ہرا کر ہندو کو ساتھ ملا کر مسلمان بابر نے یہاں کے باسیوں پر حکومت کی ۔ بابر کے بعد ہمایوں ، ہمایوں کے بعد اکبر ، اکبر کے بعد جہانگیر، جہانگیر کے بعد شاہ جہاں اور شاہ جہاں کے بعد اورنگ زیب عالمگیر نے تو 49 سال حکومت کی ۔ 49 سال کوئی کم عرصہ نہیں ہوتا ، یعنی آدھی صدی ۔ اورنگ زیب عالمگیر کی اسلام پسندانہ طبیعت تو ہمارے دانشوڑوں کو بہت چبھتی ہے لیکن دانشوڑ یہ نہیں بتاتے کہ اورنگ زیب عالمگیر کا آرمی چیف بھی ایک ہندو ہی تھا ۔ راجہ جے سنگھ ۔ تو یہ کیسی لوٹ مار تھی بھائی ؟
    مغل سلسلہ کے بانی ظہیر الدین بابر اگر فرغانہ سے اٹھ کر دہلی میں آبسا تو اسی کے پوتے جلال الدین اکبر نے اس برصغیر کو دنیا کی تیسری بڑی دفاعی اور معاشی طاقت بنا دیا ۔ اسی اکبر کے بیٹے جہانگیر اور پوتے شاہ جہاں نے برصغیر کو آرٹ اور کلچر دیا ۔ دنیا کو سول اینجینئرنگ اور آرکیٹیکٹ کا ایک شاہکار ، ایک عجوبہ ” تاج محل ” دیا ۔ ہمارے مختلف شہروں اور پہاڑوں میں بنے قلعہ روہتاس ، لاہور کا قلعہ ، قلعہ بالا حصار ، سندھ کے بے شمار قلعے باہر سے آنے والوں کی اولادوں نے اسی سرزمین پر بنائے اور یہ آج بھی یہیں ہیں ۔

    ایک اور شخصیت محمود غزنوی کی ہے کہ جی غزنی سے آیا سومنات کا مندر لوٹا ۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ محمود غزنوی ، غزنی سے بامیان ، بامیان سے پنجاب میں ملتان اور پھر یہاں سے سومنات گیا ۔ یہ پورا راستہ پانچ ہزار کلومیٹر بنتا ہے ۔ اس میں دو ہزار کلومیٹر تو ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت پر مشتمل علاقہ تھا ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ محمود نے پانچ ہزار کلومیٹر میں آنے والے بامیان میں بدھا کے مجسموں کو بھی نہیں چھیڑا بیچ میں دو ہزار کلومیٹر کی ہندو بیلٹ پر کسی اور مندر کو نہیں توڑا سوائے سومنات کے ۔ اگر محمود کا مقصد ہندو یا دیگر مذاہب کو نیچا دکھانا تھا تو بامیان میں بدھا کے مجسمے بھی نہیں بچتے اور بیچ کے راستے میں آنے والے مندر ۔ سومنات کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا جیسا دیگر راجوں مہاراجوں کے درمیان لگان اور ٹیکس وصولی کا تھا ۔ مثلا اورنگ زیب کے دور میں ایک مسلمان راجہ عبدالحسن تانہ شاہ نے لگان کا پیسہ دینے میں تین سال تک ٹال مول کی ۔ اورنگزیب نے بھائی کو بھیجا ۔ پتہ چلا فصلیں تو بہت ہوئیں پر تانہ شاہ بہانے کرتا آرہا تھا اور لوگوں سے ٹیکس لینے کے باوجود مرکز کو بھیجنے کے بجائے ایک مسجد میں چھپائے بیٹھا تھا ۔ اورنگ زیب کے بھائی نے اس مسجد کو منہدم کرکے چھپا ہو پیسہ نکالا اور مرکز کو دیا ۔

    اس کوئی دو رائے نہیں کہ جس طرح گھوٹکی کے واقعے کے بعد اہل علاقہ کا مندر کی حفاظت کے لئیے جمع ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم پاکستانی اور مسلمان بحیثیت مجموعی اقلیتوں کے ساتھ غلط سلوک رکھنے کو اچھا نہیں سمجھتے ، اور ہمارے ہاں کی میجورٹی کسی اقلیتی برادری کے فرد کو مسلمان بنانے کے لئیے شمشیر بکف نہیں پھرتی ( پہلے میجورٹی خود تو ڈھنگ سے مسلمان ہوجائے ) بالکل اسی طرح اس طرح کے افسوسناک واقعات کا رو نما ہونا یہ ثابت کرتا ہے چاہے تعداد میں کم کیوں نہ ہوں ایسے لوگ موجود ہیں جو اقلیتوں کے ساتھ کسی بھی بات کا بتنگڑ بنا کر اقلیتوں کو نقصان پہنچانے اور پوری قوم کا چہرہ داغدار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔

    اس کا کوئی انکار نہیں کہ دین کے ضمن میں متشدد نظریات رکھنے والے بھی اسی معاشرے میں پائے جاتے ہیں اور یہ ہمارے علما اور پڑھے لکھے طبقے کا کام ہے وہ اپنے اپنے حلقوں میں قرآن کے اس حکم کی شد و مد سے ترویج کریں کہ دین کے معاملے میں کسی بھی جبر اور اکراہ سے کا لینا احکام خداوندی کا انکار ہے نہ کہ ثواب کا ۔ اور پھر قرآن کریم میں تو اقلیتوں کے مندر ، گرجے، صعوموں اور عبادت گاہوں کی حفاظت کے لئیے جان تک دے دینے کے واضح احکامات ہیں ۔ مومنین کا فریضہ ہے کہ کسی بھی خبر کی پہلے تصدیق کریں پھر اس پر یقین کریں جو تصدیق کے بغیر یقین کر لے وہ مومن نہیں ہے خدا کی نظر میں ۔ مولوی صاحبان سے التماس ہے کہ اس طرح کسی کو کلمہ پڑھوانا دین کی خدمت نہیں دشمنی ہے اور دانشوڑوں سے التماس ہے تاریخ کا مطالعہ بالغ نظری سے کریں نہ کہ دوسری کی لگائی ہوئی عینکیں لگا کر ۔ کیوں کہ پھر وہی بات آجاتی ہے کہ
    بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے
    تیرے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہئیے

  • عمران خان آج سعودی عرب جارہے ہیں جہاں کشمیر اور سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلے ہوں گے

    عمران خان آج سعودی عرب جارہے ہیں جہاں کشمیر اور سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلے ہوں گے

    اسلام آباد: حسب روایت و حسب سابق پاکستان نے ایک بار پھر سعودی عرب کی سلامتی کو حائل مشکلات کا جائزہ لینے اور ان کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں‌وزیراعظم عمران خان 2 روزہ دورے پر آج سعودی عرب روانہ ہورہے ہیں‌۔

    دوسری طرف پاکستانی دفتر ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے پہلے ہوگا۔یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وزیراعظم سعودی قیادت سے مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے، معتبر ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم کے دورے میں پاک سعودی اقتصادی تعلقات مزید مضبوط کرنے پر بات ہوگی۔

    اب کون ہوں گے امریکی قومی سلامتی کے مشیر ٹرمپ نے اعلان کرکے سب کو حیران کردیا

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے دوسری طرف ایران سعودی تنازعے میں امریکی وزیرخارجہ بھی سعودی عرب میں موجود ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سعودی عرب کا یہ چوتھا دورہ ہے

  • نام نہاد جمہوریت کا ایک اور سیاہ اقدام ، تحریر نعمان علی ہاشم

    نام نہاد جمہوریت کا ایک اور سیاہ اقدام ، تحریر نعمان علی ہاشم

    قائد حریت سید علی گیلانی صاحب کی کال پر آنے والے صحافیوں کو پریس کانفرنس کی کوریج سے روک دیا گیا.
    .
    آج صبح دس بجے سے ہی سید علی گیلانی صاحب کے گھر کے باہر تقریباً 35 صحافی جمع تھے. آزادی اظہار رائے کے حق کو دباتے ہوئے مقبوضہ جموں کشمیر کی پولیس نے صحافیوں کو نہ صرف گھر میں داخل ہونے سے روک دیا بلکہ ان کے گھر کے قریب کھڑے ہونے سے بھی منع کر دیا. ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال یہ ہے کہ پوری دنیا کے میڈیا کی آزادی کو صلب کر لیا ہے. پانچ اگست کے بعد کسی بھی صھافی کو کسی ایک حریت پسند لیڈر کی کوریج کی اجازت نہیں. مقبوضہ جموں کشمیر کی پولیس کے آفیسر کا کہنا ہے کہ سیکشن 144 کے تحت کسی لیڈر کی میڈیا کوریج کو بند کیا گیا. ایک طرف تو غیر قانونی، غیر انسانی اور غیر آئینی اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبائی جا رہی ہے. دوسری طرف بھارت کی آئین میں ایسی غیر انسانی اور غیر جمہوری شقیں موجود ہیں جو ظلم کا ساتھ دیتی ہیں. بھارت جہاں کشمیریوں کی نسل کشی میں ملوث ہے وہیں کشمیریوں کی آواز دبانے میں بھی پیش پیش ہے.
    اب سوال یہ ہے کہ عالمی ادارے کیا اس غیر جمہوری اقدام پر بھارت سے سوال کریں گے؟ کیا آزادی اظہار رائے کے علمبردار بھارت کی اس ریاستی ہٹ دھرمی پر بات کریں گے؟

    نعمان علی ہاشم

  • اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں کمی

    اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں کمی

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جولائی اور اگست کے مہینے میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے ،
    موجودہ مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں اوورسیز پاکستانیوں نے کل 1.69 ارب ڈالر کی رقوم پاکستان بھجوائی ہیں جبکہ پچھلے مالی سال کے اسی دورانیے میں اوورسیز پاکستانیوں نے 2.03 ارب ڈالر کی رقم بھجوائی تھیں ، اور پچھلے مالی سال کے اسی دورانیے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی رقوم میں 33 فیصد کا کل اضافہ دیکھا گیا تھا جس کا گراف اس مالی سال میں کافی نیچے آگیا ہے ،
    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشنز کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ اس کمی کی وجہ عید کی بعد ہونے والی چھٹیاں بھی ہو سکتی ہیں لیکن بنیادی وجہ روپے کی گراوٹ ہے ، جس کے سبب اوورسیز پاکستانیوں کے کم رقوم بھیجنے پر بھی زیادہ لوکل کرنسی ملتی ہے اس لیے اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ،

  • قائداعظم ٹرافی:ایونٹ کے آغاز کے موقع پر جادوگر اسپنرعبدالقادر کو خراج عقیدت

    قائداعظم ٹرافی:ایونٹ کے آغاز کے موقع پر جادوگر اسپنرعبدالقادر کو خراج عقیدت

    قائداعظم ٹرافی کے آغاز کے موقع پر لیجنڈری کرکٹر عبدالقادر کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ تینوں سنٹرز پر میچ سے قبل جادوگر اسپنر کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ سوگ میں تمام کھلاڑیوں نے سیاہ رنگ کی پٹیاں پہن رکھی تھیں۔
    عبدالقادر 6 ستمبر 2019 کو لاہور میں دل کا دورہ پڑنے کے سبب انتقال کر گئےتھے

  • پی ٹی ایم اور پاکستان کا خون — تحریرعرفان مہمند

    پی ٹی ایم اور پاکستان کا خون — تحریرعرفان مہمند

    پی ٹی ایم جس کا خمیر محسود تحفظ موومنٹ سے اٹھا، اس تحریک نے بہت سے پشتون نوجوانوں کو ایک ایسے خواب کی تعبیر کا مژدہ سنایا جس کو لئیے پشتون قوم کے نوجوان، بڑے و بوڑھے کئی سالوں سے ریاست کی طرف آس لگائے دیکھ رہے تھے۔ خواب تھا امن کا، ترقی کا، ریاست سے اس بات کا وعدہ لینے کا جس میں پشتون علاقوں سے دہشتگردوں اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور وہاں امن، سکون، تعمیر، ترقی، خوشحالی، کاروبار، تعلیم و صحت جیسے معاملات پنپ سکیں۔

    بہت تیزی سے بہت سے نوجوان اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نےاس تحریک کے لئیے وقت دینا شروع کیا مگر چند ہی ہفتوں میں جب تحریک کے اکابرین نے اپنے آگے پیچھے لوگوں کا جم غفیر دیکھا تو وہ شاید اپنے اصلی ایجنڈا کو زیادہ دیر چھپا نہ سکے اور ان کے پروگرام اور جلسے "یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی’ ہے جیسے واہیات نعروں سے گونج اٹھے۔
    اس کے بعد ریاست پاکستان اور اس کی افواج کے خلاف ہر وقت اور ہر موقع پر لوگوں کو اشتعال دلایا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس بات کو خوب خوب اچھالا۔

    کبھی منظور پشتین کا جلسے سے خطاب جس میں وہ GHQ کو دہشت گردوں کا گڑھ کہتا ہے اور کبھی اس کا بیان جس میں وہ قائد و اقبال پر تبرا کرتا اور مذاق اڑاتا ہے.کبھی علی وزیر کی بیان جس میں وہ فوج اور عوم کے تصادم کی بات کرتا ہے اور کبھی کہیں وہ فوج کو مارنے اور گھسیٹنے کی بات کرتا ہے۔ کہیں آزاد پشتونستان کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور کہیں فوج کو قابض کہنے کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی گالی دی جاتی ہے۔ کہیں پنجابی کو نسل پرستانہ جملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کہیں لوگوں کو چیک پوسٹ پر حملہ کرنے پر ابھارا جاتا ہے تاکہ وہ پکڑے گئے دہشت گردوں کو چھڑوا سکیں۔

    کہیں پر یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ فوج نکل جائے ورنہ ہم خود نبٹ لیں گے فوج سے۔۔۔ اور کہیں دہشت گردوں کی آمد کو روکنے کے لئیے لگائی جانے والی باڑ کو روکنے کے لئیے آوازیں اٹھائی جاتی ہیں۔ کہیں ایک معصوم بچی کی لاش پر سیاست کی جاتی ہے اور کہیں ایک مظلوم باپ کی فریاد رسی کو مذاق اور گالم گلوچ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ غرض ہر وہ کام اور معاملہ روا رکھا گیا جس نے امن اور خوشحالی کے خواب کو ریاست سے ٹکراؤ اور خون ریزی کے عمل سے بدل دیا۔ اور اب کل رات شمالی وزیرستان کے علاقے سپین واگ میں دو فوجی اہلکاروں کی پی ٹی ایم کے ہی سپورٹرز کے ہاتھوں شہادت اس بات کی غماز ہے کہ پی ٹی ایم اب ہر وہ حد عبور کرنے کے لئیے تیار ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کے خون کو حلال کروا کر اپنے مقاصد پورے کر سکے۔

    منظور پشتین ہو یا علی وزیر یا محسن داوڑ، عبداللہ ننگیال ہو یا احتشام افغان، ادریس پشتین ہو یا ندیم عسکر، فوزیہ ہو یا ثنا اعجاز اور عائشہ گلا لئی سب کے سب کا چہرہ ایک ایک کر کے بے نقاب ہوا چاہتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ریاست ان بھیڑ کی کھال مین چھپے بھیڑیوں سے اس خطے کو نجات دلائے ۔ پشتون اس وقت تک امن اور چین کی بانسری نہیں بجا سکتے جب تک اس طرح کے عناصر کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے۔ پی ٹی ایم کو خون کی لت بہت پہلے سے لگ گئی تھی مگر اب پی ٹی ایم نے کھل کر اس کو بہانا بھی شروع کر دیا ہے۔ اس خون آشام بھیڑئیے کو ایک بلا بننے سے پہلے ہی نبٹ لینا چاہئیے۔۔ورنہ شاید پشتونوں کی ایک اگلی پوری نسل کو دہشت گردوں کے ایک نئے گروہ سے نبٹنا پڑ جائے گا۔
    از قلم عرفان مہمند

  • وزیراعظم عمران خان مشکل میں عدالت نے جواب مانگ لیا

    وزیراعظم عمران خان مشکل میں عدالت نے جواب مانگ لیا

    لاہور : وزیراعظم عمران خان مشکل میں پڑ گئے ، اطلاعات کے مطابق لاہور سیشن کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جانب سے ہتک عزت کے دعوے پر وزیراعظم عمران خان سے جواب طلب کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج امجد علی نے شہبازشریف کی درخواست پر سماعت کی۔ شہباز شریف کی جانب سے مصطفی رمدے نے عدالت میں دلائل دیے اور روزانہ کی بنیاد پر مقدمے کی سماعت کے لیے درخواست دائر کی۔

    مصطفیٰ رمدے نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت عمران خان کا جواب جمع کرانے کا حق منجمند کرے۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ساجد منور عدالت میں پیش ہوئے تھے۔شہباز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پانامہ لیکس کے معاملہ پر رشوت دینے کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا۔

  • دنیا ایک مرتبہ پھر بوسنیا، گجرات جیسی نسل کشی دیکھے گی؟ عمران خان نے خبردار کردیا

    دنیا ایک مرتبہ پھر بوسنیا، گجرات جیسی نسل کشی دیکھے گی؟ عمران خان نے خبردار کردیا

    اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال کو بوسنیا اور گجرات فسادات سے تشبیہ دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کی نسل کشی کے خدشے کا اظہار کردیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 12 روز سے کرفیو نافذ ہے، وہاں فوج کی اضافی نفری تعینات ہے، رابطوں کے تمام ذرائع پر پابندی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری کو خبرداری کیا کہ اگر مقبوضہ وادی میں ایسا ہوا تو اس کے اثرات پوری مسلم دینا پر پڑیں گے جس کا شدید رد عمل سامنے آئے گا اور انتہا پسندانہ اور تشدد کی سوچ پروان چڑھے گی۔عمران خان نے کہا کہ کچھ بھی ہوجائے پاکستان اپنےکشمیری بھائیوں کو کبھی بھی نہیں چھوڑے گا . وزیراعظم کا کشمیری قوم کے نام پیغام میں کہنا تھا کہ گھبرائیے نہیں بہت جلد بھارتی مظالم سے نجات مل جائے گی

    دوسری طرف وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ نازی حکمران اڈولف ہٹلر نے جس طرح ایک نسل کو اپنے ظلم کی بھینٹ چڑھایا اسی طرح خاکم بدہن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تھی کشمیریوں کی نسل کشی کا خواہش مند ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی اپنے سیاہ اقدام سے ان عزائم کی تکمیل چاہتا ہے جس کا آغاز اس نے گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام سے کیا۔

    وزیراعظم کی معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان ہر فورم پر مظلوم کشمیریوں کی وکالت کرے گا تا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے عین مطابق حل کرنے پر بھارت کو مجبور کیا جاسکے۔سلامتی کونسل کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی نے تنازع کشمیر پر اجلاس طلب کرکے بھارت کے اس دعوے پر کاری ضرب لگائی ہے جس کا وہ دعویٰ کرتا ہے کہ کشمیر ان کا اندرونی معاملہ ہے۔

    ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سلامتی کونسل کی طرف سے بلائے جانے والے اجلاس کے حوالے سے کہا کہ پانچ دہائیوں بعد سلامتی کونسل کا مسئلہ کشمیر پر اجلاس بلانا ہماری سفارتی فتح ہے جس کی تائید روس نے بھی کی ہے، مہذب دنیا مودی کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام کا نوٹس لے رہی ہے۔پاکستان کے مطالبے پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع پر غور کیا جائے گا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ ایک روز قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خط لکھ کر سیکیورٹی کونسل کے صدر سے مطالبہ کیا تھا کہ اجلاس بلا کر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات کی جائے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پاکستانی خط کو سیکیورٹی کونسل کے صدر تک پہنچایا۔

    سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی کونسل کا اجلاس جمعہ 16 اگست کو منعقد کیا جائے گا جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تصفیہ طلب معاملے پر مبنی ایجنڈے کے تحت جموں و کشمیر کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

  • عمران خان کا ٹویٹر اکاونٹ بلاک کردیاگیا ، کس وجہ سے بلاک ہوا ، بڑی حیران کردینے والی وجہ سامنے آگئی

    عمران خان کا ٹویٹر اکاونٹ بلاک کردیاگیا ، کس وجہ سے بلاک ہوا ، بڑی حیران کردینے والی وجہ سامنے آگئی

    لاہور: اینکر عمران خان کا ٹویٹر اکاونٹ بند کردیا گیا ہے. ذرائع کے مطابق یہ اکاونٹ کشمیریوں کی حمایت میں آواز بلندکرنے کی وجہ سے بالکل بند کردیا گیا ہے. معروف اینکر عمران خان اپنےٹویٹر اکاونٹ کے ذریعے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کودنیا بھر میں شیئر کرکے کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کررہے تھے .

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھارتی حکومت نے ٹویٹر انتظامیہ سے درخواست کی تھی جس میں پاکستان کے سنیئر اینکر ارشد شریف سمیت 8 لوگوں شامل ہیں. اینکر عمران خان بھی اب ان لوگوں میں شامل ہوں گئے ہیں جن پر بھارت کا حملہ کارگر ثابت ہوا ، دوسری طرف اینکر عمران خان نے بھارتی حکومت کے اس رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کشمیریوں کے حق میں اٹھائی جانے والی آواز نہیں دبائی جاسکتی . کشمیری پاکستانی ہیں اور پاکستانی کشمیری ہیں.