Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، محکمہ داخلہ  نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، محکمہ داخلہ نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ،بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی کا محکمہ داخلہ پنجاب کا نوٹیفکیشن چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نےسماعت کی،وکیل شیر افضل مروت عدالت کے روبرو پیش، روسٹرم پر آگئے،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ نے کیا چیلنج کیا ہے،وکیل شیر افضل مروت کی جانب سے ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا گیا ،وکیل شیر افضل مروت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے گئے، شیر افضل مروت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئیے ہفتے میں دو دن مقرر کیے،تین کیٹگریز کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت تھی،تین مختلف اپیلیں دائر ہوئی اور سب پر فیصلے ہوئے،عدالتی فیصلے لیکر سب کو بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کرنے کی اجازت تھی،بانی پی ٹی آئی سے جیل میں سیاسی معاملے پر مشاورت ہوتی ہے،سنگل بینچ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے واضح احکامات جاری کیے ،سنگل بینچ نے جیل ملاقات سے متعلق ایک فیصلہ جاری کیا ،

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ سنگل بینچ نے آرڈر جاری کردیا ہے ،وکیل شیر افضل مروت نے کہاکہ جی بالکل آرڈر جاری کیا اور اس میں واضح طور پر ملاقات کی اجازت دی گئی ،سینٹ کا ضمنی الیکشن کل ہے اور ہم نے مشاورت کرنا تھی ،ہمیں ملاقات پر پابندی لگا کر کہا گیا آپ نہیں مل سکتے ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا صرف بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر ہی پابندی لگی ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ نہیں پوری اڈیالہ جیل میں ملاقات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، کوئی قیدی کسی سے کسی قسم کی ملاقات یا مشاورت نہیں کرسکتا ،وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ، سینیٹ انتخابات آرہے ہیں،جس حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ضروری ہے،

    وکیل شیر افضل مروت سینٹ انتخابات کی تاریخ ہی بھول گئے،کہا کل انتخابات ہیں اس حوالے سے ان سے مشاورت کرنی تھی،قانون اجازت دیتا ہے کہ قیدی وکلا سے مشاورت کرے،عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی اڈیالہ جیل میں کونسا جیل ٹرائل چل رہا ہے،وکیل نے کہا کہ ابھی 190 ملین پاؤنڈ کیس زیر سماعت ہے ، عدالت نے کہا کہ آج اسکی سماعت تھی کیا ، کون سی عدالت ہے، وکیل نے کہا کہ آج نیب کیس کی سماعت تھی احتساب عدالت کے جج نے سماعت کی ، ہمارے دو وکیل آج گئے لیکن انھیں خان صاحب سے مشاورت کی اجازت نہیں دی گئی ،عدالت نے کہا کہ ویسے اب تو ضمنی الیکشن کی نامزدگی ہوگی،باقی جو نشستیں ہیں انکی پولنگ تو اپریل میں ہوگی ،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ سینٹ الیکشن بے شک اپریل میں ہو مشاورت تو ابھی کرنی ہے ہم نے،دوسری جانب بشری بی بی کو بنی گالا سب جیل میں رکھا گیا ہے،ہم نے اس آرڈر کو بھی چیلنج کر رکھا ہے،عدالت نے کہا کہ سب جیل کا آرڈر کہاں چیلنج کیا گیا ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ بشری بی بی کو سب جیل رکھنے والا آرڈر اسی ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ، بانی پی ٹی آئی کو سیریس تھریٹ ہیں ، اب ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ،آرٹیکل ٹین اس سے متعلق واضح ہے، ہمارا قانونی حق ہے ، پنجاب حکومت کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کا نوٹیفکیشن خلاف قانون ہے ، کلعدم قرار دیا جائے،آپ اگر کل جیل سپرٹنڈنٹ کو بلا لیں تو بہتر رہے گا ، عدالت نے کہا کہ ہم اپنے طریقے سے کام کرینگے ، آپ نے فریق کس کو بنایا ہے ،ویل نے کہ کہ ہم نے جیل سپرٹنڈنٹ کو فریق بنایا ہے، عدالت نے کہا کہ وہ کل اگر کہیں ہم نے تو آرڈر نہیں کیا ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کیا ہے، وکیل نے کہا کہ آپ آرڈر کردیں جیل سپرنٹینڈنٹ کے پاس اختیارات ہوتے ہیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا،کل گیارہ بجے سماعت ہوگی ،

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس میں سزا کیخلاف درخواست،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےسماعت کی،عمران خان کے وکیل نے اپیل کے حق پر مختلف قوانین کے حوالہ جات پیش کئے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل د یئے اور کہا کہ اس کیس میں یہاں سے کچھ نہیں گیا بلکہ باہر سے آیا ہے، کوئی ابہام نہیں کس قانون کے تحت سائفر کیس کا ٹرائل ریگو لیٹ کرنا تھا،یہ کہہ رہے تھے کہ ضمانت کا حق موجود نہیں ہے، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سائفر کیس میں درخواست گزاروں کے خلاف جن دفعات کے تحت ٹرائل چلایا گیا، دونوں درخواست گزار آرمڈ فورسز کے ممبر نہیں نہ ہی کورٹ مارشل ہوا ہے، باسپیشل لاء اور جنرل لاء دونوں میں سزا ہوئی، بیرسٹر سلمان صفدر نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں  سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

  • ہمیں پارلیمان میں بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا،بیرسٹر گوہر

    ہمیں پارلیمان میں بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا،بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج دو گواہان پر جرح مکمل ہوئی، 7 گواہان میں سے 6 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں،

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبعیت ٹھیک ہے،ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے لیکن ہم نے درخواست کی تھی ، ملاقات میں پارٹی سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی ہے،سینٹ کے انتخابات کا اعلان ہوا ہے 15 اور 16 کو انتخابات ہوں گے،امیدواران کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے اس پر پارٹی فائنل فیصلہ کرے گی ،وفاقی کابینہ میں نگران حکومت کے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے،نگران حکومت ایک سیاسی جماعت کے پیچھے بنے اور اب بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ، موجودہ حکومت کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں رہی، اس کی مذمت کرتے ہیں ،حکومت ہمیں پیچھے دھکیل رہی ہے اور کوریج کو بھی محدود کر دیا گیا ، دہشت گردی ایک سیریس مسئلہ ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں ہمیں اعتماد میں لینا ہو گا ،ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، ہمیں پارلیمان میں بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا،

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت 16 مارچ تک ملتوی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت 16 مارچ تک ملتوی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی

    کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء بیرسٹر سلمان صفدر، بیرسٹر علی ظفر، عثمان گل اور ظہیر عباس چودھری عدالت میں پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،جیل حکام نے صرف 6 وکلاء کو اندر جانے کی اجازت دے دی۔جیل حکام نے صرف 6 صحافیوں کو پروسیڈنگز کور کرنے کی اجازت دی۔شاہ محمود قریشی کی اہلیہ، بیٹا اور بیٹی بھی ملاقات کیلئے جیل کے باہر موجود تھے،میڈیا کو جیل سے دو کلو میٹر دور کوریج کی اجازت دی گئی ہے۔جیل کے اندر اور اطراف سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔وکلاء کی بڑی تعداد جیل کے باہر موجودتھی،

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس کی سماعت 16 مارچ تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے نیب کے تین گواہان کے بیانات قلمبند کرلئے۔گواہان کا تعلق فارن آفس، اسٹیٹ بینک، کیبنیٹ ڈویژن اور القادر یونیورسٹی سے ہے۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔نیب کے پراسیکیوٹر عرفان بھولا ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی۔دوران سماعت وکلاء کے تاخیر سے آنے پر عدالت نے برہمی کا اظہارکیا،بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ صبح دس بجے سے آئے ہوئے ہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی، ہمیں جیل کے اندر پوری دستاویزات لانے کی بھی اجازت نہیں،

    دوسری جانب مشعال یوسفزئی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہم صبح 9 بجے سے اڈیالہ جیل کے باہر موجود ہیں ہمیں اندر جانے نہیں دِیا جارہا ہے۔ باقی روٹین کی موومنٹ چل رہی ہے ، مخالف وکیل ،پراسیکیوٹر سب پروٹوکول کے ساتھ اندر باہر جارہے ہیں، شاید ہم ہی وہ دہشت گرد ہیں جس سے اڈیالہ جیل کو خطرہ ہے اور جس سے پنجاب کی مینڈیٹ چور چیف منسٹر خوف کا شکار ہے۔عمران خان جیل میں بیٹھ کر اس ملک کے پورے نظام پر بھاری ہے۔

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان
    سابق وزیراعظم عمران خان نےاڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب کچھ جھوٹ پر چل رہا ہے،الیکشن نتائج فراڈ جاری ہوئے،اداروں کی ساکھ ختم کر دی گئی،سیکورٹی تھریٹ فریب اور جھوٹ ہے،سارا ملک جھوٹ پر چل رہا ہے،ادارے تباہ ہو چکے ہیں،انتخابات میں پی ٹی آئی کو میدان میں نہیں آنے دیا گیا،ووٹر نے پولنگ ڈے پر ان سے بدلہ لیا،لیکن ووٹ کے ذریعے تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا گیا،انھوں نے مینڈیٹ چھین کر قوم کی امید ختم کر دی ہے،میری ساری پیشگوئیاں سچ ثابت ہوئیں،اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ہے
    کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی،وکلا تک سے ملاقاتیں بند کر دی گئی ہیں،اب مہنگائی میں اضافہ ہو گا،عوام باہر نکلے گی
    ہمارا پرامن احتجاج کا سلسہ جاری رہے گا،ہم انتخابات میں دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ بھی جائیں گے ،سینٹ الیکشن میں پھر پیسہ چلنے والا ہے،گزشتہ سینٹ انتخابات میں گیلانی کا بیٹا پکڑا گیا،آج تک سزا نہیں ہوئی

  • عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ بطور وزیر اطلاعات پوری کوشش ہوگی کہ میڈیا ورکرز اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات اٹھاﺅں،وزارت اطلاعات کے دروازے صحافیوں کے لئے کھلے ہیں، میری کوشش ہوگی کہ حکومت اور میڈیا کے درمیان پل کا کردار ادا کروں

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے منصب سنبھالتے ہی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملی پر کام شروع کیا،گزشتہ روز بلومبرگ نے پاکستان کی معیشت کو صلاحیت رکھنے کے حوالے سے وزیر اعظم کا ذکر ہوا،بلومبرگ نے محمد اورنگزیب کے وزیر خزانہ انتخاب کو بہترین انتخاب قرار دیا،بلوم برگ نے وزیر اعظم کی معاشی پالیسیوں کا ذکر کیا،
    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب عالمی سطح پر تجربہ کار معیشت دان ہیں، کچھ سیاستدان اپنی سیاست کی خاطر ریاست کا نقصان کر رہے ہیں،کسی کو معیشت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے 9 مئی کو حملے کر کے شہداءکی یادگاروں کو مسمار کیا، پی ٹی آئی نے سائفر کی سازش کی اور عالمی سطح پر پاکستان کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کی،جھوٹ پر مبنی مہم کے ذریعے ملکی معیشت داﺅ پر لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل کے قریب تخریب کاری کی اطلاعات پر ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی، یہ بے بنیاد بات ہے کہ عمران خان کو جیل میں سہولیات نہیں دی جا رہیں،عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں اُن کے زیراستعمال 3 کمرے ہیں، ہفتے میں 4 ملاقاتوں کی اجازت ہےایکسرسائز کے لئے سائیکل دی گئی ہے، سیکیورٹی خدشات کے باعث اڈیالہ میانوالی اور ڈی جی خان کی جیلوں کا سیکیورٹی آڈٹ کیا جا رہا ہے،چند جیلوں کے اندر تخریب کاری کے خدشہ کے پیش نظر پنجاب حکومت کی طرف سے لیٹر جاری کیا گیا،سیکورٹی آڈٹ کنڈکٹ کرنا پنجاب حکومت کی ذمہ داری تھی، بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں کی سیکورٹی یقینی بنانا جیل حکام اور متعلقہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے،اڈیالہ جیل پنجاب کے محکمہ داخلہ کا ایک اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹ ہے،جیل مینوئل کے اندر تمام قواعد و ضوابط درج ہیں،

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی یورپی یونین کو غلط بیانی پر مبنی بیانیہ دے کر پاکستان کے خلاف سازش کر رہی ہے،پی ٹی آئی نے بانی چیئرمین کو سہولیات کا بہانہ بنا کر پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر حملہ کیا ہے، تحریک انصاف نے یورپی یونین سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس واپس لیا جائے، خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان کو جیل میں سہولت نہیں دی جا رہی ،انشاءاللہ پاکستان کا جی ایس پی اسٹیٹس قائم و دائم رہے گا،،پی ٹی آئی کے ترجمانوں کو جیل سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ہدایات مل رہی ہیں،

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ: عدالتی احکامات کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے علامہ ناصر عباس کی درخواست پر سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کردیا،جسٹس سمن رفعت امتیاز نے درخواست پر سماعت کی،وکیل عبدالہادی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8 مارچ 2024 کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے کے احکامات جاری کیے، سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے جان بوجھ کر حکم عدولی کرتے ہوئے ملاقات نہ کرائی،سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، عدالت نے سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 15 مارچ کیلئے نوٹس جاری کردیا.

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کی اجازت دینے کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمودجہانگیری نے سماعت کی،سپریڈنٹ اڈیالہ جیل اور کمشنر اسلام آباد نے الگ الگ اپیلیں دائر کر رکھیں ہیں،اپیلوں میں جیل ملاقات کی اجازت دینے کے سنگل بنچ کے فیصلے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،سنگل بینچ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ملاقات کی اجازت دی تھی

    سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ ہی جیل مینوئل اور پریزن رولز کے خلاف ہیں،سرکاری وکیل
    سرکاری وکیل نے کہا کہ قانونی ٹیم کی ملاقات ہو یا کسی اور کی، اکیلے میں ملاقات کی اجازت نہیں، کسی بھی مجرم سے ملاقات جیل مینوئل کی مطابق ہوتی ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو سنگل رکنی بینچ کے فیصلے کے کس حصے سے اعتراض ہے؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ ہی جیل مینوئل اور پریزن رولز کے خلاف ہیں، عدالت نے کہا کہ اگر عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو جرمانہ عائد کریں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو جرمانہ سے مسئلہ ہے ؟ یہاں عمران احمد خان نیازی سے ملاقاتوں کی روزانہ کتنی درخواستیں آتیں، ہم اس معاملے کو روٹین نہیں بنارہے، مگر جن کو یہاں سے اجازت ملتی ہے ان کو بھی نہیں ملنے دیا جارہا ہے،

    پی ٹی آئی رہنما شوکت بسرا کے روسٹرم پر بنا گاؤن کے کھڑے ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے شوکت بسرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس کیس میں نہیں ہیں نہ ہی آپ ڈریسں میں ہیں آپ بیٹھ جائیے،شوکت بسرا نے کہا کہ میں کورٹ ڈریس میں ہوں میں ہائی کورٹ کا وکیل ہوں،باہر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کھڑے ہیں انکو نہیں آنے دیا جارہا، عدالت نے کہا کہ اگر کھڑے ہیں تو کھڑا رہنے دیں، آپ بیٹھ جائیں،

    نواز شریف کیس کی اپیلیں یہاں زیر سماعت رہیں،کیس کو کہیں اور لیکر نہ جائیں،عدالت کا سرکاری وکیل سے مکالمہ
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عدالت نے تو چھ افراد کی ملاقاتوں کا حکم دیا ہے،سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت کے پاس جیل اتھارٹی کے پاس آرڈر پاس کرنے کا اختیار نہیں،جیل کا معاملہ صوبائی معاملہ ہے، اس عدالت کا دائر اختیار نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ہم آپکی بات مان لیں تو اسلام آباد کا کیا ہوگا؟ اڈیالہ جیل صرف پنجاب کا نہیں بلکہ اسلام آباد کا بھی جیل ہے، اسلام آباد کے قیدی اڈیالہ جیل ہی ہوتے ہیں، عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ آپ رولز پڑھ لیجیے اور ہمیں بتائے کہ آپکا مسئلہ کیا ہے؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ آرٹیکل 199 تجاوز ہے، وفاقی عدالت کا دائرہ اختیار تب ہوگا جہاں ٹرائل ہوا ہو،عدالت نے کہا کہ اگر آپ کی بات مان لیں تو پھر اسلام آباد کے ہمارے انڈر ٹرائل یا سزایافتہ قیدیوں کے حوالے سے فیصلہ کا اختیار نہیں ہوگا،آپ اس کیس کو کہیں اور لیکر نہ جائیں،میاں نواز شریف کیس کی اپیلیں یہاں زیر سماعت رہی ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ اپیل میں عدالت بالکل جاسکتی ہے،عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کوئی اور نقطہ اٹھائے اور دلائل دیں، آپکی بات اگر مان لیں تو اسکا مطلب کہ سزا ہونے کے بعد ہمارا کوئی لینا دینا نہیں،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ صرف سزا یافتہ ہی نہیں وہاں تو انڈر ٹرائل قیدی بھی ہیں پھر تو وہاں بھی ہمارا لینا دینا نہیں ہوگا،آپ اگر میرٹ پر نہیں آتے آپکی مرضی مگر اس نقطے کو آپ کہیں اور لیکر جارہے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیل راولپنڈی میں واقع ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام آباد کا دائرہ اختیار نہیں، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹوری کا اڈیالہ جیل میں دائرہ اختیار ہے،

    سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے وکیل نے جسٹس سردار اعجاز اسحاق کا آرڈر پڑھا اور کہا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ عمران خان بڑی سیاسی جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سنگل جج نے اپنے آرڈر میں لکھ دیا کہ عمران خان ایک بڑی سیاسی جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں، اگر کوئی جج نہ بھی لکھے تو بھی وہ تو ہیں، اس حقیقت سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا،

    عمران خان سے ملاقات ہو گی یا نہیں؟ فیصلہ محفوظ
    اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گا یا نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    عمران خان کے کیس میں پیش رفت نہ ہونے پر ورکرز کا ردِ عمل ان کا حق ہے،شیر افضل مروت
    تحریک انصاف کے رہنما، رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے،عمران خان کے کیس میں پیش رفت نہ ہونے پر ورکرز کا ردِ عمل ان کا حق ہے، پنجاب حکومت نے 2 سال میں عوام پر بہت زیادہ ظلم ڈھائے ہیں، اگر ملاقاتوں پر سے پابندی نہ ہٹائی گئی تو اڈیالہ جیل کے باہراحتجاج کی کال دیں گے۔

    اگر پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے احتجاج کی کال دی تو ہم بھر پور ساتھ دیں گے،علامہ راجہ ناصر عباس
    ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے آرڈر لئے،اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کے باوجود جیل سپریڈنٹ نے ملاقات نہیں کرائی،عدالت سے دوبارہ رجوع کرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے جیل سپریڈنٹ کو نوٹس جاری کیا ہے،عدالت نے 15 مارچ کو جیل سپریڈنٹ کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے، ملک میں اجارہ داری کا نظام قائم کر دیا گیا ہے، لا قانونیت اس وقت ملک میں بڑھ چڑھ کر بول رہی ہے،ایک ایسے شخص کو وزیر خزانہ لگایا جس کی شہریت بھی پاکستان کی نہیں ہے، اگر پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے ملک میں احتجاج کی کال دی تو ہم بھر پور ساتھ دیں گے،

    عدالت ملاقات کی اجازت دیتی ہے اور جیل حکام حکم ہی نہیں مانتے، وکیل عمران خان
    عمران خان کے وکیل علی بخاری نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورٹ کے آرڈر کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے نہیں ملنے دیا گیا،حیرت کی بات ہے کہ عدالت ملاقات کی اجازت دیتی ہے اور جیل حکام حکم ہی نہیں مانتے، مینڈیٹ چور اور کٹھ پتلی حکومت اس ملک پہ مسلط کر دی گئی ہے، جو عوامی مینڈیٹ چوری کیا گیا اس میں الیکشن کمیشن ملوث ہے، عوامی مینڈیٹ پر بری طرح سے ڈاکہ مارا گیا،بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرنے دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی صحت کے حوالے سے تشویش ہے

    قبل ازیں گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر سپریٹنڈنٹ جیل کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی تھی،مجلس وحدت المسلمین کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی،وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی اور انچارج پولیٹیکل افیئرز اسد عباس شاہ بھی پٹیشنرز میں شامل ہیں، درخواست میں کہا گیا کہ عدالتی آرڈر کے ساتھ اڈیالہ جیل گئے مگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی گئی،جیل حکام کو آٹھ مارچ کا آرڈر دکھایا تو انہوں نے انتظار کرنے کا کہا، گیارہ مارچ کو صبح نو بجے سے شام چار بجے تک انتظار کرانے کے باوجود ملاقات نا کرائی گئی، عدالتی احکامات کی مصدقہ کاپی دکھانے کے باوجود پٹیشنرز کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر جیل سپریٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے.

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • عمران خان، بشریٰ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی ،حاضری نہ ہو سکی

    عمران خان، بشریٰ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی ،حاضری نہ ہو سکی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے ، جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ عدالتی عملہ حاضری کیلئے گیا ہوا ہے ابھی تک رابطہ نہیں ہو پارہا ،پراسیکوٹر نےعدالتی عملے کے ذریعے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی حاضری پر اعتراض عائد کیا اور کہا کہ سکیورٹی ایشوز کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کو عدالت پیش نہیں کیا جاسکتا ،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ یہی سکیورٹی ایشوز کو پہلے پراسیکیوشن مانتی نہیں تھی ،پراسیکیوشن شوگر کوٹڈ باتوں کو اب چھوڑ دے ،بانی پی ٹی آئی جب تک گرفتار نہیں ہوئے تھے عدالتوں میں خود پیش ہوتے رہے ،اب بانی پی ٹی آئی کو عدالت کے سامنے پیش کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ،لاہور ہائیکورٹ نے بھی ویڈیو لنک پر حاضری کا کہا تھا ، اب ہمیں دوبارہ ہائیکورٹ جانے پر مجبور کیا جارہا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ گئے تو وہ بھی حیران ہونگے کہ اب تک ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کیوں نہیں ہوا ،عدالتی عملے کے ذریعے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی حاضری میں کوئی دقت نہیں ،سپرینڈینٹ اڈیالہ جیل کو توہین عدالت کا نوٹس بنتا ہے ،جیل کا انٹرنیٹ ٹھیک ہونے میں ہی نہیں آرہا کہ ویڈیو لنک پر حاضری ہو سکے

    جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ ہائیکورٹ ہم سے بھی پوچھ سکتی کہ اب تک ضمانت کے کیسوں کا کیا کیا ہے ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سارا بوجھ اس وقت پراسیکیوشن کے کندھوں پر ہے ،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ شہباز گل عدالت نہیں آسکتے تھے تو عدالتی عملے نے ایمبولینس میں جاکر حاضری لگائی ،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کو جیل سپرنٹینڈنٹ کا نمبر بھی دینے کو تیار ہیں ،پراسیکوشن بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں کو لٹکانے کی کوشش کر رہی ہے ،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ عدالت کیلئے مسائل پیدا نہ کریں جیل سپرنٹینڈنٹ سے رابطہ کرکے بتائیں ،عدالت نے پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ ایک گھنٹے کا وقت دیتے ہیں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی حاضری سے متعلق آگاہ کریں ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت میں ایک بجے تک وقفہ کر دیا گیا،

    عمران خان کا حاضری شیٹ پر دستخط کرنے سے انکار
    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی درخواست ضمانتوں پر وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی ،عدالتی عملے نے بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل میں حاضری سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی ، جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ عمران خان نے حاضری شیٹ پر دستخط کرنے سے انکار کیا،بانی پی ٹی آئی نے عدالت پیش کیے جانے یا ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری پر اصرار کیا ، عدالت نے پہلے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کا آڈر کیا اس کے بعد جیل سپرنٹینڈنٹ کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا، جیل حکام نے جواب دیا کہ ویڈیو لنک سسٹم کام نہیں کر رہا ،عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ جیل حکام ویڈیو لنک سسٹم ٹھیک کروا کر بانی پی ٹی آئی کی حاضری لگوائیں ،اگر ویڈیو لنک ٹھیک نہیں ہوسکتا تو حاضری کا متبادل انتظام کیا جائےجیل سپرنٹینڈنٹ بانی پی ٹی آئی کی حاضری کا انتظام نہیں کرتے تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 20 مارچ تک ملتوی کر دی گئی

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے مشتاق غنی کی عمران خان سے ملاقات کی درخواست نمٹا دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے مشتاق غنی کی عمران خان سے ملاقات کی درخواست نمٹا دی

    سابق اسپیکر خیبر پختوانخواہ اسمبلی مشتاق غنی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے مشتاق غنی درخواست نمٹا دی،عدالت نے عمران خان سے ملاقات کے لیے مشتاق غنی کو مروجہ طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت کر دی،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے درخواست پر سماعت کی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ہدایت کرچکی ہے کہ بانی پی ٹی آئی فوکل پرسن مقرر رکریں گے، عدالت نے ہدایت کی تھی کہ فوکل پرسن بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے معاملات طے کریں گے، مناسب ہوگا درخواست گزار پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کو اختیار کریں،

    درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کو ای میل کے ذریعے درخواست دی تھی،سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا،بانی پی ٹی آئی سے مشتاق غنی کو ملاقات کی اجازت دی جائے،

    جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • آپ یہاں آتے ہیں تصویریں اتار کر چلے جاتے ہیں،علیمہ خان کا اظہار برہمی

    آپ یہاں آتے ہیں تصویریں اتار کر چلے جاتے ہیں،علیمہ خان کا اظہار برہمی

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور،جناح ہاؤس حملہ کیس کا مقدمہ ، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خانم اور عظمی خان سمیت 34 ملزمان کی عبوری ضمانتوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے 34 ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں 20 اپریل تک توسیع کا حکم دے دیا ، بانی پی ٹی آئی کی بہنیں عبوری ضمانت کی معیاد ختم ہونے پر عدالت پیش ہوئیں ،انسداد دہشت گردی عدالت کے ڈیوٹی جج نے ضمانتوں پر سماعت کی،ملزمہ کے خلاف تھانہ سرور روڈ میں مقدمہ درج ہے

    عمران خان کی بہن علیمہ خان نےعبوری ضمانت پر آئی خواتین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگوں کا تماشہ بنا رہے ہیں یہ لوگ، ن لیگ کے جلاو گھیراؤ کیس میں مجھے نامزد کیا گیا ہے، مجھے وہاں لیکر جائیں دیکھیں کیا جلایا ہم نے، ہم انوسٹی گیشن آفیسر کے پاس جاکر پوچھیں گے ہم نے کہاں گاڑیاں جلائی ہیں ,ہمیں دکھائیں کہاں ہم نے کنٹینر جلائے ہیں، ہمارا تماشہ بنایا ہوا ہے کبھی کہتے ہیں جج ٹرانسفر ہوگیا ہے کبھی ریکارڈ نہیں دیتے، ہم یہی کہتے ہیں کہ ٹرائل شروع کریں جو کرنا ہے کریں لیکن یوں ہمارا تماشہ نہ بنائے ، ہمیں انصاف لائیرز فورم کا کوئی وکیل نظر نہیں آیا، علیمہ خان نے جمیل اصغر بھٹی پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ یہاں آتے ہیں تصویریں اتار کر چلے جاتے ہیں، آپ صدر ہیں انصاف لائرز فورم کے آپکو میں نے آج دیکھا ہے ، یہ 9 مئی سے صدر انصاف لائیرز کے ہیں اور آپ آج ہمیں نظر آئےہیں، علیمہ خان نے جمیل اصغر بھٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مریم نواز کی تعریفیں کم کریں آپ جو ورکرز اندر ہیں انکا خیال رکھیں ،یہاں ورکرز ہمیں کہہ رہے ہیں کہ وکلاء فراہم کیے جائیں،

    جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • عمران خان سے ملاقات ،دو ہفتے کے لئے پابندی

    عمران خان سے ملاقات ،دو ہفتے کے لئے پابندی

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی گئی

    عمران خان سے ملاقات پر پابندی کا فیصلہ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے کیا گیا ہے،عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کا اطلاق 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ،عدالتی احکامات پر جیل انتظامیہ نے منگل اور جمعرات کا ملاقاتوں کے لیے مختص کر رکھا تھا ،وزیر اعلی خیبر پختونخواہ سمیت دیگر سیاسی افراد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر چکے ہیں ،فیصلے کے بعد جیل انتظامیہ نے جیل کے گیٹ نمبر 5 کے سامنے میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کر دی،سینٹرل جیل اڈیالہ راولپنڈی مین عمران خان سمیت تمام قیدیوں کی ملاقاتوں و جیل وزٹس پر دو ہفتوں کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے،فیصلہ دہشت گردوں کی جانب سے جیل کو نشانہ بنانے کے خدشے کے پیش نظر کیا گیا ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے آئی جی جیل خانہ کو احکامات دے دیئے،

    پولیس نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کوریج پر پابندی لگادی۔بانی پی ٹی آئی عمران خان سے آج ملاقاتوں کا دن ہے، میڈیا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے والوں کی کوریج کرتا ہے،راولپنڈی پولیس نے اڈیالہ جیل گیٹ نمبر 5 کے باہر میڈیا گاڑیوں کی پارکنگ پر بیرئیر لگادئیے۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کیمروں والی جگہ پر قناتیں لگادی گئی ہیںَ موقع پر موجود سیکورٹی اہلکار کہتے ہیں کہ میڈیا کو آج کوریج کی اجازت نہیں، میڈیا ٹیمیں جیل سے 2 کلومیٹر دور چلی جائیں،

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں‌قید ہیں، تین مقدمات میں انہیں سزا ہو چکی ہے، عمران خان سے جیل میں ملاقات کے بعد تحریک انصاف کے رہنما اور انکے وکیل، عمران خان کی بہنیں، میڈیا سے بات چیت کرتی ہیں تا ہم آج معمول سے ہٹ کر ایسا ہوا کہ پولیس کی جانب سے میڈیا پر پابندی عائد کی گئی ہے.

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر سپریٹنڈنٹ جیل کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی،مجلس وحدت المسلمین کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی،وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی اور انچارج پولیٹیکل افیئرز اسد عباس شاہ بھی پٹیشنرز میں شامل ہیں، درخواست میں کہا گیا کہ عدالتی آرڈر کے ساتھ اڈیالہ جیل گئے مگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی گئی،جیل حکام کو آٹھ مارچ کا آرڈر دکھایا تو انہوں نے انتظار کرنے کا کہا، گیارہ مارچ کو صبح نو بجے سے شام چار بجے تک انتظار کرانے کے باوجود ملاقات نا کرائی گئی، عدالتی احکامات کی مصدقہ کاپی دکھانے کے باوجود پٹیشنرز کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر جیل سپریٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے.

    وہ جو دہشتگرد پکڑے گئے تھے کیا انکی شناخت ہوئی تھی انسے کیا برآمد ہوا؟ عمر ایوب
    تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری عمر ایوب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی جی جیل خانہ جات اور دیگر لوگ عدالتی حکم کو ماننے سے انکاری ہیں، میں خود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے گیا ہوں پر نہیں ملنے دیا جا رہا، جس شخص کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر وزیر داخلہ بنایا گیا ہے اس کی ذمہ داری بنتی ہے، بحیثیت اپوزیشن لیڈر میں یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے،اڈیالہ جیل کے باہر ماحول بلکل پر امن تھا ،یہ سب صرف ڈھونگ ہے، اس کا مقصد صرف بانی پی ٹی آئی کو تنہا کرنا ہے،وہ جو دہشتگرد پکڑے گئے تھے کیا انکی شناخت ہوئی تھی انسے کیا برآمد ہوا،اڈیالہ جیل کے اطراف سے پکڑے جانے والے دہشتگرد کی کوئی شناخت ہوئی؟کیا بتایا گیا ان کا تعلق کس تنظیم سے تھا، کیا یہ بتایا گیا ان دہشتگردوں سے کون سے ہتھیار اور بارود برآمد ہوا، یہ سب ایک ڈھونگ رچایا جا رہا ہے،اس طرح کی سرگرمیوں کو دیکھ کر تو جیل خانہ جات کے افسران کو فارغ کر دینا چاہیے تھا،لیکن اس کو پس پردہ رکھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے،جیل کی سیکورٹی دیکھیں اس کی دیواریں دیکھیں وہاں اتنے سیکورٹی اہلکار مامور ہیں یہ تو خود جیل کی سپریڈنٹ کی نا اہلی اس سے ثابت ہوتی ہے، بانی پی ٹی آئی کو اس کیس میں اندر رکھا ہوا ہے جو توشہ خانہ جو گھڑی انکی اپنی تھی بیچی ،اس کے مطابق تو آصف علی زرداری جو کہ صدر اور نواز شریف ایم این اے انہوں نے گاڑیاں لی ہیں انکو اس وقت جیل میں ہونا چاہئے،

    ہمیں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور سیکیورٹی کے حوالے سے بتایا جائے،بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے دس وکیلوں کی لسٹ دی تھی، ہمیں رولز کے مطابق موقع نہیں ملا، ہماری جب بھی ملاقات ہوتی تھی اچانک ہوتی تھی، آج نہ فیملی کی ملاقات ہو سکی نہ وکیلوں کی ملاقات ہو سکی، یہ بتایا گیا ہے کہ دو ہفتوں کے لئے ملاقات پر پابندی لگائی گئی ہے،وجہ دہشتگردی کا خدشہ بتایا گیا ہے،ہم اس کی مزمت کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو لاحق خطرات پوری دنیا کو پتا ہے، بانی پی ٹی آئی کی جان کو خطرہ ہے،کل تک ہماری ملاقات کے لئے کوئی طریقہ بنایا جائے،ہمیں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور سیکیورٹی کے حوالے سے بتایا جائے، بتایا جائے کہ یہ سمری کہاں سے موو ہوئی ہے، ہم اس کی مزمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ کل تک ملاقات ہو جائے،