Baaghi TV

Tag: غزہ

  • بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں کسی فوجی مشن میں حصہ لینا نہیں ،پاکستان

    بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں کسی فوجی مشن میں حصہ لینا نہیں ،پاکستان

    پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے حوالے سے ہونیوالی تنقید پر کہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے فوجی بھیجے گا اپنا موقف واضح کر دیا-

    پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں کسی فوجی مشن میں حصہ لینا نہیں بلکہ صرف غزہ میں امن قائم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے ایک منصفانہ و پائیدار حل کو آگے بڑھانا ہے بورڈ آف پیس کے 19 فروری 2026 کو منعقدہ اجلاس میں پاکستان ان ممالک میں شامل نہیں تھا جو بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس کے لیے فوجی دستے فراہم کر رہے ہیں۔

    پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ وہ فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل کی حمایت کرتا ہے، جو 2 ریاستی حل پر مبنی ہو، جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدیں اور القدس شریف آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر رہا ہے-

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں زلزلے کے جھٹکے

    پاکستان نے بار بار واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک کہ ایک خودمختار، مستحکم اور قابل عمل فلسطینی ریاست قائم نہ ہو، جس کی سرحدیں 1967 کی طے شدہ ہوں اور القدس شریف اس کا دارالحکومت ہو پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے حوالے سے اپنا موقف شفاف، مستقل اور اصولی رکھا ہے، جس کی بار بار سرکاری بیانات میں تصدیق کی گئی اور یہ موقف بین الاقوامی قانونی جواز پر مبنی ہے۔

    سونے اور چاندی کی قیمت میں مسلسل اضافہ

  • ہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،ترجمان دفتر خارجہ

    ہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،ترجمان دفتر خارجہ

    اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے۔

    صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ وزیر اعظم نیویارک میں موجود ہیں، جو صدر ٹرمپ کی دعوت پر امریکا کے دورے پر ہیں، آج وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے اس کے علاوہ وزیراعظم کی اہم امریکی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

    ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی نیویارک میں موجود ہیں نائب وزیراعظم نے فلسطینی مستقل مندوب اور مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ملاقات کی ہے آسٹریا کے دورے سے قبل نائب وزیر اعظم کے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود اور مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی سے ٹیلیفون رابطے بھی ہوئے،وزیر اعظم نے ویانا، آسٹریا کا دورہ بھی کیا جو آسٹرین وفاقی چانسلر کرسٹین سٹاکر کی دعوت پر تھا۔ دورے کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا آسٹریا میں وزیر اعظم نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی سے بھی ملاقات کی۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان غزہ میں صرف امن کے قیام میں کردار ادا کرے گا بورڈ آف پیس سے امیدیں وابستہ ہیں جس سے غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کے خلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے نائب وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ ہم امن عمل میں شریک ہوں گے تاہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے امید ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس غزہ کے عوام کی مشکلات کو کم کرے گا۔

    انہوں نے بتایا کہ پروفیسر احسن اقبال نے نئی بنگلا دیشی حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی، رواں ہفتے پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے اسرائیل کے مغربی کنارے کے الحاق سے متعلق متنازع قانون کی شدید مذمت کی، ہم نے بھارتی شہری نکھیل گپتا کی گرفتاری کی رپورٹس دیکھی ہیں پاکستان میں بھارتی پشت پناہی سے فعال دہشت گرد گروہوں کے شواہد موجود ہیں، انٹرنیشنل اسسٹنس سیکیورٹی فورسز پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

  • غزہ پر قبضہ برقرار رہا تو اسلحہ ترک نہیں کریں گے، حماس کا دوٹوک موقف

    غزہ پر قبضہ برقرار رہا تو اسلحہ ترک نہیں کریں گے، حماس کا دوٹوک موقف

    حماس نے اسرائیل کا 60 روز میں غیر مسلح ہونے کا الٹی میٹم مسترد کردیا۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے سینئر رہنما محمود مرداوی نے بیان میں کہا ہے کہ جب تک غزہ پر اسرائیلی قبضہ برقرار ہے، اسلحہ ترک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،اسرائیلی دھمکیاں حماس کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتیں اور مزاحمت جاری رہے گی، اسرائیل کی جانب سے حماس کو غیر مسلح ہونے کے لیے دی گئی مہلت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،غزہ میں جاری صورتحال اور اسرائیلی اقدامات کے تناظر میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ شرط قبول نہیں کی جا سکتی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان کے بعد دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ خطے میں امن کوششوں کو بھی ایک نیا دھچکا لگنے کا امکان ہے صورتحال پر عالمی برادری کی نظر ہے، تاہم فی الحال زمینی حقائق میں کسی فوری تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

    سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

    سی ٹی ڈی کی بلوچستان میں کامیاب کارروائیاں،صدر مملکت کا خراجِ تحسین

    سی ٹی ڈی کی بلوچستان میں کامیاب کارروائیاں،صدر مملکت کا خراجِ تحسین

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس:اسحاق ڈار غزہ کا مقدمہ پیش کریں گے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس:اسحاق ڈار غزہ کا مقدمہ پیش کریں گے

    نائب وزیراعظم و،وزیر خارجہ اور سینیٹر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اعلیٰ سطحی بریفنگ میں شرکت کے لیے نیویارک جائیں گے-

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 18 فروری 2026 کو فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اعلیٰ سطحی بریفنگ میں شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ کریں گے،یہ اجلاس برطانیہ کی وزیر خارجہ کی زیرِ صدارت ہوگا، جو اس وقت سلامتی کونسل کی صدر بھی ہیں۔

    بریفنگ کے دوران نائب وزیرِاعظم و وزیر خارجہ پاکستان کے فلسطین سے متعلق اصولی اور مستقل مؤقف کا اعادہ کریں گے،جانب سے مغربی کنارے پر اپنے کنٹرول کے حالیہ غیرقانونی فیصلوں کی سخت مخالفت کا اظہار کریں گے، اور غزہ میں مستقل جنگ بندی پر زور دیں گے اسحاق ڈار سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل عملدرآمد، انسانی امداد میں اضافے اور غزہ کی بحالی و تعمیرِ نو کے فوری آغاز کی ضرورت کو اجاگر کریں گے۔

    سی ٹی ڈی کی کارروائی، کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 4 دہشتگرد ہلاک

    وہ اس امر کو بھی نمایاں کریں گےکہ پاکستان بین الاقوامی اور علاقائی شراکت داروں، بشمول 8 عرب و اسلامی ممالک کے گروپ اور امریکا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے، جس کے نتیجے میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی تکمیل اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی آزاد، خودمختار اور مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو سکے،دورے کے موقع پر وہ اپنے ہم منصبوں سے باہمی دلچسپی کے امور پر دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گےاس سے قبل نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، اور مختلف معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔

    باجوڑ میں چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کا حملہ، 11 سیکیورٹی اہلکار شہید، 12 خوارج ہلاک

  • اسرائیلی کابینہ میں مغربی کنارے کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی تجویز منظور

    اسرائیلی کابینہ میں مغربی کنارے کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی تجویز منظور

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت نے ایک متنازع تجویز کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت وسیع علاقوں کو ’ریاستی ملکیت‘ کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا۔

    الجزیرہ کے مطابق 1967 میں قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے اس نوعیت کا اقدام کیا ہے، جسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ قابض طاقت مقبوضہ علاقے کی زمین ضبط نہیں کرسکتی یہ پیش رفت اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے اتوار کو رپورٹ کی اسی روز غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 12 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔

    اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ سے منظور شدہ اس تجویز کو وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ، وزیر انصاف یاریو لیون اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیش کیا۔ اسموٹریچ نے کہا کہ ’ہم اپنی تمام زمینوں پر کنٹرول کے لیے بستیوں کے انقلاب کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

    فلسطینی صدارتی دفتر نے فیصلے کو ’سنگین اشتعال انگیزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور طے شدہ معاہدوں کے منافی ہے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مقبوضہ اراضی کو یہودی رنگ دینے کی کوشش قرار دیا۔

    دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود غزہ میں جھڑپیں جاری ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک کم از کم 601 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ اسرائیل نے اسی عرصے میں اپنے 4 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

  • غزہ: امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف

    غزہ: امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف

    غزہ میں جاری جنگ میں امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف ہو اہے-

    رپورٹ کے مطابق، غزہ میں امریکی ساختہ ممنوعہ تھرموبیرک بموں کے استعمال کے نتیجے میں تقریباً 3,000 فلسطینی فضا میں تحلیل ہو گئے، جن کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا ،رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ مہلک ہتھیار امریکہ اور یورپ کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کیے گئے ہیں،طبی اور دفاعی ماہرین نے ان بموں کی تباہ کاریوں کی جو تفصیلات بتائی ہیں وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہیں-

    ان بموں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والا درجہ حرارت 3,500 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اس قدر شدید تپش میں انسانی جسم چند سیکنڈز کے اندر براہِ راست راکھ میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے شہداء کی شناخت یا باقیات کا ملنا ناممکن ہو جاتا ہے یہ بم ارد گرد کی تمام آکسیجن کھینچ کر ایک ‘ویکیوم’ پیدا کر دیتے ہیں، جس سے عمارتوں کے اندر موجود لوگ بھی بچ نہیں پاتے۔

    ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس انکشاف پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے صدی کا بدترین جنگی جرم قرار دیا ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) جیسے ادارے غزہ کے اس امتحان میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں، جہاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

  • اسرائیل نے رفح کراسنگ محدود طور پر کھول دی

    اسرائیل نے رفح کراسنگ محدود طور پر کھول دی

    اسرائیل نے تقریباً دو برس بعد غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح سرحدی گزرگاہ کو محدود سطح پر دوبارہ کھول دیا ہے۔

    اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق اس اقدام کو ’’پائلٹ آپریشن‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ لوگوں کی باقاعدہ آمد و رفت پیر سے شروع ہوگی، ابتدائی مرحلے میں روزانہ تقریباً 150 افراد کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ تقریباً 50 افراد کی واپسی متوقع ہےغزہ چھوڑنے والے فلسطینی صرف اسی راستے سے واپس آ سکیں گے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیل سرحدی گزرگاہ پر براہِ راست فوجی تعینات نہیں کرے گا بلکہ جدید نگرانی کے آلات کے ذریعے دور سے مانیٹرنگ کی جائے گی مصر کی جانب سے روزانہ ان افراد کی فہرست اسرائیل کو فراہم کی جائے گی جو اگلے 24 گھنٹوں میں سرحد عبور کریں گے اسرائیل محدود تعداد میں زخمی فلسطینی جنگجوؤں کو بھی رفح کے راستے باہر جانے کی اجازت دے سکتا ہے، اور اصولی طور پر جو افراد باہر جائیں گے انہیں بعد میں واپسی کی اجازت دی جائے گی۔

    محسن نقوی کی سی ایم ایچ کوئٹہ آمد، زخمی اہلکاروں کی عیادت

    تاحال اسرائیلی، مصری یا فلسطینی حکام کی جانب سے اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ رفح سرحدی گزرگاہ انسانی امداد کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، جس پر اسرائیل نے مئی 2024 میں قبضہ کیا تھا اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران اب تک غزہ میں 71 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں،اگرچہ جنگ بندی معاہدہ نافذ ہے، تاہم غزہ کے میڈیا آفس کے مطابق 10 اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں مزید 524 افراد جاں بحق اور 1,360 زخمی ہو چکے ہیں۔

    چاند کی جانب سفر ، ناسا نے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی

  • جنگ بندی کی خلاف ورزی،  اسرائیل کی غزہ میں فضائی حملے،6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید

    جنگ بندی کی خلاف ورزی، اسرائیل کی غزہ میں فضائی حملے،6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے، آج ہونے والے حملوں میں 6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے غزہ سٹی اور خان یونس میں فضائی حملے کیے جن میں 6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید ہوئے جب کہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں،اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہےکہ اسرائیلی طیاروں نے حماس اور اسلامی جہاد کے سرکردہ رہنماؤں کو نشانہ بنایا، اس کے علاوہ اسلحےکے ذخیرے کو بھی نشانہ بنایا گیا تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت نہیں پیش کیےگئے۔

    دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانےکی مذمت کرتے ہوئےکہا ہےکہ اسرائیل کے بے بنیاد اور کھوکھلے دعوے امن معاہدے کے ثالثوں، اسرائیل کے ضامنوں او ر پیس کونسل میں شامل تمام فریقین کی توہین ہے۔

    ٹرمپ نے ایران کو ’ڈیڈ لائن‘ دیدی،امریکی میزائل بردار بحری جہاز ایلات پہنچ گیا

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیل 1300سے زائد مرتبہ اس کی خلاف ورزی کرچکا ہے ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کم از کم 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہوچکے ہیں جنگ بندی معاہدے کے بعد سے 430 مرتبہ عام فلسطینیوں پر فائرنگ کی گئی، رہائشی علاقوں میں ییلو لائن سے آگے 66 چھاپے مارے گئے، 200 مرتبہ فلسطینی املاک کو مسمار کیا گیا، گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہی کم از کم 50 فلسطینیوں کو گرفتارکیا گیا۔

    امریکا و اسرائیل کی غلطی سے پورا خطہ خطرے میں پڑ سکتا ہے، ایرانی آرمی چیف

  • غزہ جنگ بندی نئے اور مشکل مرحلے میں داخل

    غزہ جنگ بندی نئے اور مشکل مرحلے میں داخل

    غزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات برآمد ہونے کے بعد جنگ بندی ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل ہو گئی-

    اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات برآمد کر لی ہیں، جس کے بعد ملک کے لیے ایک طویل اور تکلیف دہ باب اختتام کو پہنچ گیا ہے پولیس اہلکار ران گویلی کی باقیات شمالی غزہ کے ایک قبرستان سے ملیں، جو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس پیش رفت کو سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہو گئی ہےاس مرحلے میں غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کھولنے، انسانی امداد میں اضافے اور غزہ کی بحالی سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ران گویلی کا تابوت اسرائیل لائے جانے پر فوجی اہلکاروں، رشتہ داروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا تل ابیب کی سڑکوں پر لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر تابوت کے گزرنے کے وقت احتراماً خاموشی اختیار کیے رہے۔

    واضح رہے کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں تمام یرغمالیوں کی واپسی طے تھی، جسے اب مکمل کر لیا گیا ہے تاہم دوسرے مرحلے میں غزہ کی حکومت، حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی افواج کے انخلا جیسے مسائل شامل ہیں، جن پر پیش رفت کو مشکل قرار دیا جا رہا ہے-

  • غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش برآمد کر لی ہے،اسرائیلی فوج کی تصدیق

    غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش برآمد کر لی ہے،اسرائیلی فوج کی تصدیق

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی ران گویلی کی لاش برآمد کر لی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق نیشنل سینٹر آف فارنزک میڈیسن کی جانب سے اسرائیلی فوجی ران گویلی کی شناخت کی تصدیق کردی گئی ہے اور یوں غزہ لے جائے گئے تمام اسرائیلی یرغمالی زندہ یا مردہ حالت میں اسرائیل واپس آچکے ہیں۔

    گزشتہ روز فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے ثالثوں کو آخری قیدی کی لاش کے ممکنہ مقام سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کر دی ہیں تاکہ اسے امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل کے حوالے کیا جا سکے۔

    اسرائیلی فوج نے بھی اتوار کی شام تصدیق کی تھی کہ وہ شمالی غزہ کے ایک قبرستان میں ران گویلی کی لاش کو تلاش کر رہی ہےاسرائیلی یرغمالی کی لاش ملنے کے بعد حماس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یرغمالی کی لاش کا ملنا حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کا ثبوت ہے۔ تنظیم معاہدے کے تمام پہلوؤں پر عمل درآمد جاری رکھے گی جن میں غزہ کے انتظام کے لیے قائم قومی کمیٹی کو سہولت فراہم کرنا اور اس کی کامیابی کو یقینی بنانا شامل ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اتوار کی شام اعلان کیا تھا کہ اسرائیل آخری یرغمالی ماسٹر سارجنٹ ران گویلی کی لاش برآمد کرنے کے لیے جاری فوجی کارروائی مکمل ہونے کے بعد غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ دوبارہ کھول دے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا اعلان کردیا گیا، جس کے تحت کئی اہم ممالک ’غزہ بورڈ آف پیس‘ کا حصہ بن گئے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔