Baaghi TV

Tag: غزہ

  • شمالی غزہ میں چار اسرائیلی فوجی ہلاک،6 شدید زخمی

    شمالی غزہ میں چار اسرائیلی فوجی ہلاک،6 شدید زخمی

    شمالی غزہ میں لڑائی کے دوران 4 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 6 شدید زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ہفتے کے روز شمالی غزہ کی پٹی میں لڑائی کے دوران 4 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 6 شدید زخمی ہو گئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے ہلاک ہونے والے فوجیوں میں 37 سالہ ریزرو سارجنٹ الیگزینڈر فیڈورینکو، 21 سالہ اسٹا ف سارجنٹ ڈینیلا ڈیاکوف، 19 سالہ سارجنٹ یہو مایان اور 19 سالہ سارجنٹ ایلیو استوکر شامل ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق 6 زخمی فوجیوں میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، حماس کے خلاف زمینی کارروائی میں مرنے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 402 ہوگئی،فوجیوں کو شمالی غزہ کے علاقے بیت حنون میں حماس کے مسلح مزاحمت کاروں نے پہلے نصب دھماکا خیز مواد سے نشانہ بنایا پھر ان پر فائرنگ بھی کی گئی۔

    غزہ میں ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں لاشیں بھاپ میں تبدیل

    اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی کے شمال میں حماس کے خلاف اپنی کارروائی کو تیز کر دیا ہے،غزہ میں میدانی پیش رفت میں اسرائیلی فوج کے طیارے جنگ کے 463 ویں دن بھی پٹی کے شمال اور جنوب میں محلوں پر بمباری کر رہے ہیں۔

    غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان، محمود بسال نے کہاہے کہ غزہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع زیتون محلے میں تفیش خاندان سے تعلق رکھنے والی رہائشی عمارت کو نشانہ بنانے کے بعد ایک فلسطینی شہید اور کم از کم تین زخمی ہوئے۔

    برطانیہ نے ایلون مسک کے سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ شروع کردی

    فلسطینی وزارت مواصلات نے جنوبی غزہ کی پٹی کے رفح شہر کے شمال مغرب میں مسلسل اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری کے دوران ایندھن کی قلت کے باعث غزہ کی پٹی میں مواصلاتی سروس چند گھنٹوں میں بتدریج بند کرنے کا انتباہ دیا۔

    سول ڈیفنس نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ غزہ، وسطی، خان یونس گورنریوں میں کئی فائر فائٹنگ اور ریسکیو گاڑیوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ ان کی مرمت کے لیے ضروری سامان اور اسپیئر پارٹس کی کمی ہے۔

    قیامت کا سماں: لاس اینجلس میں ’آگ کے بگولے‘ بننے لگے

    اقوام متحدہ کےرابطہ دفتر برائے انسانی امور نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے شمالی غزہ کی گورنری تک امداد کی رسائی کو محدود رکھا ہوا ہے اور اقوام متحدہ کی طرف سے فراہم کردہ 21 میں سے صرف 10 انسانی امداد کی اشیاء کو گذرنے کی اجازت دی ہے۔

  • غزہ میں ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں لاشیں بھاپ میں تبدیل

    غزہ میں ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال سے ہزاروں لاشیں بھاپ میں تبدیل

    غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جانب سے استعمال کیے گئے ممنوعہ دھماکہ خیز مواد کے باعث متاثرین کی لاشیں بھاپ میں تبدیل ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : فلسطینی سول ڈیفنس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے مقامات پر 7,820 لاشیں جزوی طور پر بخارات بنی ہوئی تھیں، یہ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی کارروائیوں کے تمام متاثرین کا 10 فیصد بنتا ہے اسرائیلی فضائی حملوں میں سے 10 فیصد متاثرین کی لاشیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں یا ان کے چھوٹے چھوٹے حصے ہو گئے تھے کہ انہیں نکالا نہیں جا سکتا تھا۔

    غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے انکشاف کیا کہ اسرائیل فلسطینیوں پر حملہ کرنے کیلئے ان ہتھیار وں کو شمالی غزہ میں اپنی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں میں استعمال کر رہا ہے،اسرائیل شمال میں ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے جس سے لاشیں بخارات بن رہی ہیں۔

    حاملہ خاتون طبی امداد نہ ملنے پر بچے سمیت جاں بحق

    ان کا کہنا تھا کہ ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال نے بین الاقوامی انسانی قانون کو توڑنے اور شہریوں پر انتہائی طاقت کے ساتھ حملہ کرنے کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہےبعض حملوں میں دھماکے کا درجہ حرارت چار ہزار ڈگری سے زائد تھا التابعین سکول پر فجر کے وقت کے حملے میں بھی ایسا ہی ہوا اور بہت سے لاشیں ختم ہوگئیں۔

    واضح رہے کہ غزہ کے حکام نے ہفتہ کو بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک شہدا کی تعداد 46537 ہوگئی ہے-

    برطانیہ نے ایلون مسک کے سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ شروع کردی

  • جنگی جرائم کا مقدمہ،اسرائیلی فوجی برازیل سے رات کے اندھیرے میں فرار

    جنگی جرائم کا مقدمہ،اسرائیلی فوجی برازیل سے رات کے اندھیرے میں فرار

    برازیل میں چھٹیاں گزارنے والے ایک سابق اسرائیلی فوجی نے وہاں اس کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر ہونے کے بعد اچانک ملک چھوڑ دیا۔ اس مقدمے میں کہا گیا تھا کہ وہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے ساتھ خدمات کے دوران جنگی جرائم میں ملوث تھا۔

    یہ مقدمہ "ہند رجاب فاؤنڈیشن” کی طرف سے دائر کردہ کیسوں میں سب سے تازہ ترین ہے، جو غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی سرگرمیوں کا پیچھا کر رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے برازیلی جج نے پولیس کو اس فوجی کے خلاف تفتیش کا حکم دیا تھا، جو ہندر جاب فاؤنڈیشن کی شکایت کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ "غزہ میں شہری مکانات کی بڑے پیمانے پر تباہی کے دوران اس تباہی کی مہم میں شریک تھا۔”برازیلی وکیل مائرہ پینہیرو، جو فاؤنڈیشن کی جانب سے مقدمہ دائر کر رہی ہیں، نے برازیلی میڈیا میں کہا کہ چونکہ برازیل روم اسٹیچو (Rome Statute) کا دستخط کنندہ ملک ہے، اس لیے اسے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس قانون کے تحت فراہم کردہ جرائم (جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی) کی تحقیقات کرے اور مجرموں کو سزا دے۔

    ہند رجاب فاؤنڈیشن ایک فلسطینی حامی غیر سرکاری تنظیم ہے، ہند رجاب ایک 5 سالہ بچی تھی، جو اپنے خاندان کے ساتھ غزہ میں سفر کر رہی تھی اور اسرائیلی ٹینک کی گولہ باری میں ہلاک ہو گئی تھی۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے اتوار کو کہا کہ "گزشتہ ہفتے کے آخر میں برازیل کا دورہ کرنے والے ایک اسرائیلی فوجی کے خلاف تحقیقات کے لیے مخالف اسرائیلی عناصر کے اقدام کے بعد، وزیر خارجہ جدعون سآر نے فوراً وزارت خارجہ کو متحرک کیا تاکہ یہ یقین دہانی کی جا سکے کہ اسرائیلی شہری کو کسی بھی قسم کے خطرات کا سامنا نہ ہو۔”

    اسرائیلی سفارت خانے نے برازیل میں اس فوجی کی "جلدی اور محفوظ واپسی” کو یقینی بنایا۔ وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیلی شہریوں کو ان کے سوشل میڈیا پر کیے گئے فوجی خدمات کے متعلق پوسٹس کے بارے میں آگاہ کر رہی ہے اور یہ کہ مخالف اسرائیلی عناصر ان پوسٹس کا فائدہ اٹھا کر بے بنیاد قانونی کارروائیوں کا آغاز کر سکتے ہیں۔

    ہند رجاب فاؤنڈیشن نے اس کے علاوہ تھائی لینڈ، سری لنکا، چلی اور دیگر ممالک میں اسرائیلی فوجیوں کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی ہیں، جیسا کہ اس کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے۔ سری لنکا کے کیس میں تنظیم نے فوجی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سری لنکا کی حکام، بین الاقوامی فوجداری عدالت اور انٹرپول سے اس فوجی کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔تاہم ابھی تک یہ کوئی تصدیق نہیں ہوئی کہ کسی اسرائیلی فوجی کو ان مقدمات کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا ہو۔

    برازیل کے کیس نے اسرائیل میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اپوزیشن کے رہنما یائر لاپڈ نے کہا: "یہ حقیقت کہ ایک اسرائیلی ریزرو فوجی کو برازیل میں رات کے وقت گرفتار ہونے سے بچنے کے لیے فرار ہونا پڑا، ایک تاریخی سیاسی ناکامی ہے، جو ایک حکومت کی طرف سے ہے جو بالکل بھی کام کرنے کے قابل نہیں ہے۔” اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون سآر نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: "حتیٰ کہ خالی لاپڈ بھی یہ جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ ایک منظم مہم ہے، جس کا مقصد اسرائیل کے حق دفاع کو مسترد کرنا ہے۔ بے شمار بین الاقوامی اداکار اور کئی ممالک اس میں شریک ہیں۔”

    "مومز اپ” کے نام سے ایک گروپ، جو اسرائیلی فوجیوں کی ماؤں پر مشتمل ہے، نے اس کیس پر وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف کو ایک خط لکھا، جس میں کہا: "ہم آپ کو ہی وہ واحد ذمہ دار سمجھتی ہیں جو ہمارے بچوں کے سامنے موجود قانونی خطرات کو دور کریں۔”انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کو "سیاسی خلا اور انتہا پسند گروپوں کے دباؤ کے تحت کام کرنے پر مجبور کیا گیا تھا، بغیر اس ضروری قانونی تحفظ کے جو اس کے فوجیوں کو دنیا بھر کے بدنیتی پر مبنی عناصر سے محفوظ رکھ سکے۔”

    اسرائیل کے جج ایڈووکیٹ جنرل کے محکمے کے ایک سابق اعلی افسر نے سی این این کو بتایا کہ غیر ملکی ممالک میں اسرائیلی فوجیوں کے خلاف الزامات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اب تک ان میں سے کوئی بھی گرفتاری یا مقدمے کی سماعت تک نہیں پہنچی۔ اس افسر نے کہا کہ ماضی کے برعکس، کارکن گروہ اب اعلیٰ عہدیداروں اور سیاست دانوں کا پیچھا نہیں کر رہے بلکہ عام فوجیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس وکیل نے اس رپورٹ کے لیے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔اسرائیل کی پارلیمنٹ کے خارجہ امور اور سیکیورٹی کمیٹی میں پیر کو اسرائیلی فوجیوں کے خلاف دنیا بھر میں کی جانے والی کارروائیوں پر بحث ہوگی۔

    سپریم کورٹ،سابق ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس ،پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    شادی کی آڑ میں مجرا پارٹی سے رقاصاؤں سمیت 50 افراد گرفتار

  • حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی امید، حماس نے 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی

    غیر ملکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس اہم پیشرفت کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ دوحہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے، جس میں قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں کئی ماہ سے کوششیں جاری ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق حماس کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے لیے جو فہرست فراہم کی گئی ہے، اس میں سے 34 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس تیار ہے۔ حماس رہنما نے مزید کہا کہ ابتدائی تبادلے میں تمام خواتین، بچے، عمر رسیدہ اور بیمار افراد شامل ہو سکتے ہیں جو غزہ میں اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں۔حماس رہنما نے یہ بھی کہا کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ یرغمالی ہلاک ہو چکے ہوں، لیکن ان کی حالت کا تعین کرنے کے لیے حماس کو مزید وقت درکار ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں موجود حماس کے جنگجوؤں سے رابطے اور زندہ یا ہلاک یرغمالیوں کی شناخت کے لیے کم از کم ایک ہفتے کا امن ضروری ہوگا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق دوحہ میں فریقین کے نمائندہ وفود کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی توقع تھی، جو ہفتے کے اختتام تک جاری رہنی تھی۔ تاہم، حماس رہنما کے بیان کے سوا اس بات چیت کی مزید تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین پر معاہدے پر پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدہ طے پائے۔

    یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ بعد میں ایک عارضی معاہدے کے تحت 80 اسرائیلی یرغمالی اور 240 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم، اس وقت بھی غزہ میں 96 یرغمالی حماس کے قبضے میں ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج کے مطابق 34 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، غزہ پٹی پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور صرف گزشتہ تین دنوں میں ہونے والے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 100 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ پٹی پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 45,805 فلسطینی شہید اور 98,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، تاہم غزہ کی موجودہ صورتحال اور اسرائیلی حملوں کے باعث فوری طور پر امن قائم ہونے کی کوئی واضح امید نظر نہیں آ رہی۔ جنگ بندی کے معاہدے کے کامیاب ہونے کا انحصار فریقین کے درمیان مذاکرات اور عالمی دباؤ پر ہوگا۔

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    کراچی،تاجر پر حملے کا مقدمہ ترجمان میئر کے خلاف درج

  • اسرائیل نے شمالی غزہ میں اسپتال زبردستی خالی کرا لیا

    اسرائیل نے شمالی غزہ میں اسپتال زبردستی خالی کرا لیا

    شمالی غزہ کے آخری اسپتالوں میں سے ایک کو اسرائیلی فوج نے زبردستی خالی کرا لیا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کی زندگیاں خظرے میں پڑ گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کمال ادواں اسپتال کے نرسنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ عید صباح نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صیہونی فوج نے انتظامیہ کو مریضوں اور عملے کو صحن میں داخل کرنے کے لیے 15 منٹ کا وقت دیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اسرائیلی فوجی اسپتال میں داخل ہوئے اور باقی مریضوں کو بھی نکال دیا۔اسرائیلی فوج نےکہا تھا کہ وہ اسپتال کے علاقے میں ایک آپریشن کر رہی ہے، جسے اس نے ‘حماس کے دہشت گردوں کا گڑھ’ قرار دیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے آپریشن شروع کرنے سے قبل ہسپتال سے شہریوں، مریضوں اور طبی عملے کے اسپتال خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔فوج نے یہ نہیں بتایا کہ مریضوں کو کہاں منتقل کیا جائے گا۔ تاہم اس ہفتے کے اوائل میں ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا تھا کہ وہ کمال ادوان اسپتال میں موجود افراد کو قریبی انڈونیشیا کے اسپتال منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ڈاکٹر صباح کا کہنا تھا کہ یہ خطرناک ہے کیونکہ آئی سی یو میں ایسے مریض ہیں جو کوما میں ہیں اور انہیں وینٹیلیشن مشینوں کی ضرورت ہے اور انہیں منتقل کرنے سے وہ خطرے میں پڑ جائیں گے ان مریضوں کی منتقلی صرف خصوصی گاڑیوں میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ چند گھنٹے قبل کمال ادوان ہسپتال کے ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں پانچ طبی عملے سمیت تقریبا 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    سنچورین ٹیسٹ: دوسرا دن ختم، جنوبی افریقا کو برتری
    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کا اردل روم، افسران و اہلکار پیش

    وزیراعظم نے اہم فصلوں سے متعلق 8 رکنی کابینہ کمیٹی بنا دی

    سی ڈی اے کی میٹرو بس کے نئے روٹس کی منظوری

    سندھ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

  • غزہ،اسرائیلی فوج کی صحافیوں کی گاڑی پر بمباری، پانچ صحافی جاں بحق

    غزہ،اسرائیلی فوج کی صحافیوں کی گاڑی پر بمباری، پانچ صحافی جاں بحق

    اسرائیلی فوج نے غزہ میں صحافیوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پانچ صحافی جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق یہ واقعہ غزہ کے نصیرات پناہ گزین کیمپ میں واقع العودہ اسپتال کے سامنے پیش آیا، جہاں اسرائیلی بمباری سے صحافیوں کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ، مغربی کنارے، اسرائیل اور لبنان میں 141 میڈیا ورکرز اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ان میں سے 133 فلسطینی صحافی غزہ میں مارے گئے ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو جنگی حالات میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران شدید خطرات کا سامنا ہے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔

    گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے غزہ کے پناہ گزین کیمپوں پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 40 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے تھے۔ یہ حملے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے دوران کی جانے والی بمباری کا حصہ ہیں جس میں روز بروز انسانی نقصانات بڑھ رہے ہیں۔اس دوران، پوپ فرانسس نے اسرائیل کے حملوں پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل بچوں پر گولیاں برسا رہا ہے جو کہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    دنیا بھر میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کی شدید مذمت کی جا رہی ہے، اور اقوام متحدہ سمیت متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی قوانین کا احترام کرے اور شہریوں اور صحافیوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کرے۔اس تمام صورتحال کے پیش نظر غزہ میں انسانی بحران میں شدت آتی جا رہی ہے، اور عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کی درخواستیں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

  • غزہ میں اسرائیلی فوج کے 2 افسر اور ایک سپاہی ہلاک

    غزہ میں اسرائیلی فوج کے 2 افسر اور ایک سپاہی ہلاک

    تل ابیب: شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کے 2 افسر اور ایک سپاہی ہلاک ہو گئے-

    باغی ٹی وی:اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں اپنے 2 افسروں اورایک سپاہی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے تینوں ؛اہلکار حماس کے ایک حملے میں مارے گئے،کفیربریگیڈ کا ڈپٹی کمپنی کمانڈر کیپٹن ایلی گیبریل اتدیگی حماس کے حملےمیں ماراگیا،ریزرو فوج کا میجر ہلیل دینار اور سارجنٹ نتھانیئل پیسچ بھی شمالی غزہ میں ہلاک ہوئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں جوابی کارروائیوں کے دوران متعدد اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کرنے کا دعوی کیا تھا۔

    دوسری جانب اسرائیل نے پہلی بار عوامی سطح پر حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو شہید کرنے کا اعتراف کر لیااسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم حوثی رہنماؤں کے ساتھ بھی وہی کریں گے جو ہم نے اسماعیل ہنیہ، یحییٰ السنوار اور حسن نصراللہ کے ساتھ کیا۔

    اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ حوثیوں کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے حماس اور حزب اللہ کو شکست دی، ایران کے دفاعی اور پیداواری نظام کو نقصان پہنچایا اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کو گرا دیا ہے، اب ہم حوثیوں کے اسٹریٹجک انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچائیں گے۔

  • اسرائیل کا المواصی کیمپ پر حملہ، 50 فلسطینی شہید

    اسرائیل کا المواصی کیمپ پر حملہ، 50 فلسطینی شہید

    اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں بربریت کا سلسلہ کسی صورت تھمنے کا نام نہیں لے رہا.

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی غزہ میں جبالیا، بیت حنون اور بیت لاہیا کا محاصرہ 70 روز سے جاری ہے، قابض فوج کی جانب سے المواصی کیمپ پر بھی بمباری کی گئی ہے۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں مزید 50 سے زیادہ فلسطینی جام شہادت نوش کرگئے، مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فائرنگ سے 2 فلسطینی شہید ہوئے۔فلسطینی صدر محمود عباس قاہرہ میں غزہ جنگ بندی پر مذاکرات کے لیے قاہرہ پہنچ گئے، امریکا کا کہنا ہے کہ انہیں فریقین کے معاہدے کے قریب پہنچنے کا یقین ہے۔خبر ایجنسی نے جنگ بندی چند دن میں ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ حماس کا کہنا ہے معاہدہ اسی وقت کیا جائے گا جب اسرائیل نئی شرائط نہ لگائے۔دوسری جانب شام کے دارالحکومت دمشق کے باہر ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے، جس میں ہزاروں افراد کی باقیات ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔عرب میڈیا الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شام سے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک بھر میں لاپتہ افراد کی اجتماعی قبریں منظرعام پر آرہی ہیں اور یہ اجتماعی قبر بھی ان ہی میں سے ایک ہے، جس کے باعث بشار الاسد پر ماورائے عدالت قتل عام کے الزامات بھی عائد کیے جارہے ہیں۔

    پی ٹی اے نے 58 لاکھ سے زائد سمز بلاک کر دیں

    پی ٹی آئی کے ہم خیال گروپ کا بلدیہ عظمی کراچی بلڈنگ میں احتجاج

    نان فائلرز پرحکومت کی جانب پابندیوں کا امکان

  • غزہ جنگی بندی معاہدہ، حماس 2 اہم شرائط سے دستبردار

    غزہ جنگی بندی معاہدہ، حماس 2 اہم شرائط سے دستبردار

    قاہرہ میں غزہ جنگ بندی مذاکرات کا سلسلہ جاری ،جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس غزہ پٹی سے اسرائیلی فورسز کے مکمل انخلا اور مکمل جنگ بندی کی شرائط سے دستبردار ہوگئی ہے حماس بیمار، عمر رسیدہ اور خواتین فوجی یرغمالیوں کی رہائی پر رضامند ہوگئی اور حماس نے عمر رسیدہ فلسطینی قیدیوں کی قطر اور ترکیے منتقلی کی بھی حامی بھرلی ہے،حماس نے شمالی غزہ پٹی میں اسرائیلی چیک پوسٹوں کےقیام کی مخالفت کردی ہے۔

    دوسری جانب غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نئی شرائط عائد نہ کرے تو جنگ بندی معاہدہ ہوسکتا ہے،رپورٹ کے مطابق قاہرہ میں غزہ جنگ بندی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ چند دن میں جنگ بندی ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ غزہ میں 14 ماہ سے زائد عرصے سے جاری اسرائیلی جنگ رکوانے کے لیے مصر اور قطر کی کوششیں جاری ہیں ان دونوں ملکوں کی کوششوں کو اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی اور اسلحہ سپلائر امریکہ بھی حمایت حاصل ہےامریکہ کی مدد سے دونوں ملک جنگ کےآغاز سے ہی جنگ بندی کے لیے کوشش کر رہے ہیں، نئی مذاکراتی نشست دوحا میں جاری ہونے کی اطلاعات ہی جس کے اسرائیلی تکنیکی ٹیم کے دوحا پہنچنے کی ایک روز پہلے خبر آئی تھی۔

  • غزہ میں اسرائیل کی جارحیت جاری،دیرالبلح کے میئر سمیت مزید 70 سے زائد فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کی جارحیت جاری،دیرالبلح کے میئر سمیت مزید 70 سے زائد فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کی جارحیت جاری، مزید 70 نہتے فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، غزہ میں اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملے جاری ہیں، صیہونی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں دیرالبلح کے میئر سمیت مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید کردئیے۔

    2 روز قبل بھی اسرائیل نے غزہ کے علاقے نصیرات میں پناہ گزین کیمپ پر بمباری کرتے ہوئے عورتوں اور بچوں سمیت 33 فلسطینیوں کو شہید کردیا تھا جبکہ حملے میں 50 سے زائد فلسطینی زخمی بھی ہوئے تھے گزشتہ سال 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 44 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

    دوسری جانب لندن میں فلسطین کے بعد لبنان اور شام پر جاری اسرائیلی حملوں کے خلاف مظاہرہ اور پارلیمنٹ اسکوائر پر احتجاجی ریلی نکالی گئی،اس کے علاوہ مظاہرین نے اسرائیلی مظالم کے خلاف نعرے بھی لگائے اور ساتھ ہی حکومت برطانیہ سے فوری جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے اور اسرائیل کو اسلحے کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔