Baaghi TV

Tag: غزہ

  • لبنان،کیپٹن سمیت اسرائیل کے چھ فوجی ہلاک

    لبنان،کیپٹن سمیت اسرائیل کے چھ فوجی ہلاک

    لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جاری لڑائی میں گزشتہ روز مزید 6 اسرائیلی فوجی مارے گئے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ لبنانی سرحد پر حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے دوران ایک کیپٹن سمیت 6 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے لبنانی سرحدی علاقوں میں اپنی کارروائیوں میں مزید توسیع کا اعلان کیا تھا، اور یہ اسرائیلی فوج کا پہلا بڑا جانی نقصان ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق، فوجی ایک سرحدی گاؤں میں واقع عمارت میں کارروائی کے دوران حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والے تمام فوجی گولانی بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، لبنان میں اسرائیل کی زمینی کارروائی کے آغاز سے اب تک 47 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں، متعدد ہلاکتیں
    لبنان کے جنوبی علاقے بنت جبیل کے اطراف میں اسرائیلی فوج کے زمینی دستوں اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائیاں جاری ہیں۔ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق یہ جھڑپیں ایترون گاؤں کے قریب اور عیناتا گاؤں کی سمت میں ہو رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔دوسری جانب، جنوبی لبنان کے حباریہ گاؤں میں اسرائیلی فضائی بمباری سے ایک کسان، یاسین عبداللہ ابو قیس، ہلاک ہوگئے ہیں۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کے 146ویں ڈویژن کے لیے شمال مشرقی نیٹیو حیشیارا سیٹلمنٹ اور نہاریا شہر کے مشرق میں ایک لاجسٹک بیس پر میزائل حملہ کیا ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی سرحدی پوسٹ، جَل العالَم اور شہر نہاریا پر بھی راکٹ حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسی دوران اسرائیلی فوج نے بیروت کے مضافاتی علاقوں حریت حرک اور برج البراجنہ سے مقامی افراد کو نقل مکانی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ بیروت کے علاقے شوفیحات، العَمروسیہ اور غوبیریہ سے بھی اسی طرح کے انخلاء کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد اسرائیلی ڈرون کا ایک حملہ بھی اس علاقے میں ہوا۔اسرائیلی فوج نے نگیو کے علاقے میں واقع غیر تسلیم شدہ گاؤں ام المسمیر پر دھاوا بول کر وہاں کی آخری عمارت، ایک مسجد، کو منہدم کر دیا، جس کی تصدیق فلسطینی نیوز ایجنسی وفا نے کی ہے۔

    دریں اثناء، اسرائیل کی آبادکاری کی وزیر اورریٹ اسٹروک نے ایک اسرائیلی اخبار "یدعوت احرونوت” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں مزید زمینوں پر قبضہ کرنا چاہیے تاکہ حماس کو یہ سمجھا سکے کہ کچھ قیمتیں ایسی ہیں جو وہ ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کی رپورٹ: اسرائیل کا جنگی رویہ نسل کشی کے مترادف
    اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی کی ایک حالیہ رپورٹ میں اسرائیل کے جنگی رویے کو "نسل کشی کے مترادف” قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی، انسانی امداد کی رکاوٹ، اور شہریوں و امدادی کارکنوں پر حملے کے ذریعے جان بوجھ کر موت، قحط اور سنگین زخمیوں کو پیدا کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی فضائی بمباری اور جدید مصنوعی ذہانت کے استعمال نے خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کو جنم دیا ہے، جو اسرائیل کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے کہ وہ شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان فرق کرے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مناسب تدابیر اپنائے۔اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسرائیل کے حملوں نے "ماحولیاتی تباہی” مچا دی ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔

  • القسام بریگیڈ کا حملہ ،میجر سمیت 4 اسرائیلی فوجی ہلاک، 11 زخمی

    القسام بریگیڈ کا حملہ ،میجر سمیت 4 اسرائیلی فوجی ہلاک، 11 زخمی

    غزہ میں القسام بریگیڈ کے حملے میں میجر سمیت 4 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنے ریزرو فوج کے میجر 34 سالہ اتامار لیوین فرائیڈ مین کے حماس کے ہاتھوں مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ القسام کی جانب سے ٹینک پر میزائل حملہ کیا گیا تھا، جس میں اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا۔دوسری جانب جنوبی لبنان میں حزب اللّٰہ کے ہاتھوں گزشتہ دنوں زخمی ہونے والا ایک اور فوجی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔یاد رہے کہ اسرائیلی فوج کے مطابق 27 اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی میں زمینی آپریشن کے آغاز سے اب تک 369 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد مارے جانیوالے اسرائیلی فوجیوں کی کل تعداد 783 ہو گئی ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ میں فوری اور غیرمشروط جنگ بندی، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی فوری روکنے اور غزہ کی ناکہ بندی ختم کرکے وہاں خوراک، پانی، بجلی اور طبی امداد کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ریاض میں منعقدہ غیرمعمولی عرب اسلامی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ پر جارحیت کی ہر حد پار کرچکا، غزہ میں انسانی بحران تصور سے باہر ہے، زندگیاں ختم ہورہی ہیں، گھر تباہ ہورہے ہیں اور خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ کب تک ہسپتالوں کو بچوں کی لاشیں اٹھائے خواتین سمیت دھماکوں سے اڑایا جاتا رہے گا اور انسانیت اپنی آنکھیں بند کیے رکھے گی؟

    کراچی میں شہری لاوارث، ڈکیتی مزاحمت پر تین بچوں کا باپ قتل

    ڈونلڈ ٹرمپ کو جیت کے بعد امریکی خواتین تحریک کا سامنا

    کسانوں کی جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی کو یقینی بنائیں گے، امریکی سفیر

    بھارتی ہٹ دھرمی، پاکستانی اسکریبل پلیئرز کوبھی ویزے دینے سے انکار

  • عرب اسلامک سربراہ اجلاس،وزیراعظم کی شرکت،فلسطینیوں سے یکجہتی

    عرب اسلامک سربراہ اجلاس،وزیراعظم کی شرکت،فلسطینیوں سے یکجہتی

    ریاض:سعودی عرب میں مشترکہ عرب اسلامک سربراہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں سربراہان مملکت و حکومت،عرب لیگ،اوآئی سی کے اعلیٰ حکام شریک ہیں،اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف کی بھی شرکت ہوئی ہے،وزیراعظم شہباز شریف کی عرب اسلامک سمٹ میں آمد، پر سعودی قیادت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔عرب اسلامک سربراہ اجلاس میں غزہ اور مقبوضہ علاقوں کی صورتحال پر غور کیا گیا،مقررین نےاسرائیلی مظالم کا نشانہ بننے والے نہتے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت روکی جائے،اجلاس مقررین نے غزہ اور لبنان پر اسرائیلی سفاکیت کی شدید مذمت کی،اور عالمی برداری سے غزہ میں فوری جنگ بندی کیلئے موثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا.

    عرب میڈیا کے مطابق اجلاس میں 50 سے زائد سربراہان مملکت اور خصوصی نمائندے شرکت کررہے ہیں، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب فلسطینی علاقوں سمیت لبنان اور ایران پر اسرائیلی حملوں کی پر زور مذمت کرتا ہے، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں،لبنان پر جاری اسرائیلی حملے نے لبنان کی خود مختاری اور سالمیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اسرائیل کی مسجد اقصٰی کے تقدس کی پامالی اور بےحرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، بین الاقوامی برادری اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کرے۔

    فلسطینی صدر محمود عباس نے عرب اسلامی سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں اقوام متحدہ کے امدادی ادارے پر پابندی کے ہولناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اسرائیل کی رکنیت معطل کرے اور بین الاقوامی برادری فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کی جاری دہشت گردی روکنے میں مدد کرے۔

    وزیراعظم سے سعودی وزیر سرمایہ کاری،ایڈوائرز رائل کورٹ کی ملاقات

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ملاقات

    سعودی عرب اور قطر دورہ انتہائی مفید رہا،وزیراعظم

    وزیراعظم سے سعودی وزیر سرمایہ کاری،شاہی دیوان کے مشیر کی ملاقات

    پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کے درمیان دو طرفہ اقتصادی تعاون میں اضافے پر اتفاق

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • اسرائیلی حملے میں حماس کے دو سینئر رہنماؤں کی موت

    اسرائیلی حملے میں حماس کے دو سینئر رہنماؤں کی موت

    اسرائیلی فوج نے حماس کے سینئر رہنما عزالدین قصاب کو بھی شہید کر دیا

    حماس نے خان یونس میں گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں دو سینیئر ارکان کی شہادت کا اعلان کیا ہے، عزالدین قصاب انٹرنل کمیونیکیشن آفس کے رکن اور غزہ میں قومی اور اسلامی تحریکوں کی پیروی کی کمیٹی کے رکن تھے،ایمن عیاش غزہ کی پٹی میں قومی اور اسلامی تحریکوں کی فالو اپ کمیٹی کی رکن تھے۔اسرائیلی فوج نے بیت لاہیہ میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جہاں بمباری کے نتیجے میں پانچ فلسطینی شہید ہو گئے۔ نصیرت کیمپ کے اطراف بھی ٹینکوں سے گولہ باری کی گئی، جس کے باعث 26 فلسطینیوں کی جانیں گئیں۔

    واضح رہے کہ غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج کے 778 افسران اور اہلکار مارے جا چکے ہیں، جس کی تصدیق اسرائیلی حکام نے کی ہے،ہ غزہ میں حماس کے ساتھ جھڑپوں میں 366 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیل اور لبنان میں حملوں کے نتیجے میں 62 فوجی جان کی بازی ہار گئے، اور 58 اسرائیلی پولیس افسران بھی غزہ میں ہلاک ہوئے۔

    یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور انسانی جانوں کے نقصان پر گہری افسوس کا اظہار کیا جانا چاہیے۔ بین الاقوامی برادری کو اس تشدد کے سلسلے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ بے گناہ شہریوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔

  • اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری، 143 فلسطینی شہید

    اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری، 143 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری، 24 گھنٹے میں 143 فلسطینیوں کو شہید کردیا صرف شمالی غزہ میں 108فلسطینی شہید ہوئے-

    باغی ٹی وی : صیہونی فوج نے بیت لاہیا میں دو رہائشی عمارتوں پر بمباری کردی، پناہ لینے والے22 بچوں سمیت 109 فلسطینی شہید، درجنوں زخمی کئی افراد ملبے تلے دب گئے،شمالی غزہ میں 25 روز میں شہادتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی القسام بریگیڈ نے چار اسرائیلی فوجی ہلاک کردیئے، صیہونی فوج نے ہلاکتوں کی تصدیق کردی۔

    حماس کے سینئر رہنما سامی ابو زہری نے کہا جنگ بندی مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگرمعاہدہ اسرائیلی فوج کے غزہ سے مکمل انخلا سے مشروط ہوگا۔

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سینئر رہنما سامی ابو زہر نے اسرائیل سے جنگ بندی پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا سے مشروط ہوگا۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے لبنان میں بھی بمباری کی، جس کے نتیجے میں 82 افراد شہید اور 180 زخمی ہوئے، لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں 3 ڈرون حملے کیے، جس کے نتیجے میں ایک اسرائیلی ہلاک ہوا، یہ صورتحال بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، جہاں مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس تشدد کی مذمت کر رہی ہیں جنگ بندی کی کوششیں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

  • اسرائیلی فوج  کی غزہ میں  عمارتوں پر وحشیانہ بمباری،درجنوں فلسطینی شہید

    اسرائیلی فوج کی غزہ میں عمارتوں پر وحشیانہ بمباری،درجنوں فلسطینی شہید

    غزہ: اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح بیت الہیہ شہر میں بمباری کی جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح ایک بار پھر بیت الہیہ شہر میں قائم رہائشی عمارتوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں اب تک 77 فلسطینیوں کی شہادت کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والوں میں خواتین اور 17 کم عمر بچے بھی شامل ہیں جب کہ متعدد افراد عمارت کے ملبے تلے دبے ہیں جنہیں ریسکیو حکام کی جانب سے نکالنے کی کوشش جاری ہے، عمارت میں 100 سے زائد افراد موجود تھے جن میں کچھ مقامی لوگ تھے جب کہ کچھ لوگوں نے جبالیہ کیمپ سے جبری بے دخلی کے بعد گزشتہ روز ہی عمارت میں پناہ حاصل کی تھی۔

    دوسری جانب لبنان میں بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں اور گزشتہ رات اسرائیلی فوج نے وادی بیقہ میں فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں 60 افراد شہید اور 58 زخمی ہوگئے۔

    ادھر امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی CIA کے ڈائریکٹر بیل بیرنز نے اتوار کے روز اپنے اسرائیلی اور قطری ہم منصب کے ساتھ غزہ اور قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے ایک نئے فارمولے پر بات چیت کی، اس فارمولے کے تحت تجویز پیش کی گئی ہے کہ 28 روز کی مدت کے لیے جنگ بندی عمل میں لائی جائے، اس کے ساتھ حماس تنظیم 8 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے اور اس کے مقابل اسرائیل درجنوں فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے-

    تاہم اس فارمولے میں حماس کا مرکزی مطالبہ شامل نہیں جس پر وہ گذشتہ مہینوں کے دوران قائم ہے وہ مطالبہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کا مکمل انخلا اور جنگ کا خاتمہ ہے۔

    ایک اسرائیلی ذمے دار نے واضح کیا ہے کہ اگر فریقین میں سے کسی نے بھی اپنے موقف میں لچک پیدا نہ کی تو کسی بھی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکے گا”۔

    جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کل پیر کے روز زور دیا تھا کہ وہ جنگ کے خاتمے پر نہیں بلکہ صرف جزوی سمجھوتے پر آمادہ ہوں گے۔

  • پاکستان سےغزہ و لبنان کے لیے 13 ویں  امدادی کھیپ روانہ

    پاکستان سےغزہ و لبنان کے لیے 13 ویں امدادی کھیپ روانہ

    وزیر اعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے کی جانب سے غزہ اور لبنان کے لیے امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے

    اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے امدادی سامان کی 13 ویں کھیپ روانہ کر دی گئی ،غزہ کے لیے امدادی سامان بردآر ہوائی جہاز عمان، اردن پہنچے گا ،100 ٹن امدادی سامان سردیوں کے لیے فیملی ٹینٹ، اور گرم کمبلوں پر مشتمل ہے ،این ڈی ایم اے مجموعی طور پر 1381 ٹن امداد غزہ اور لبنان بھیجوا چکا ہے،این ڈی ایم اے ابھی تک غزہ کے لیے 10 جبکہ لبنان کے لیے دو امدادی کھیپیں روانہ کر چکا ہے ، سامان روانگی تقریب میں فلسطینی سفیر، ایم این اے بیرسٹر عقیل ملک ،این ڈی ایم اے، وزارت خارجہ اور پاک آرمی نمائندگان موجود تھے،فلسطینی سفیر نے ہنگامی امداد پر پاکستانی عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا ،حکومت نے ہنگامی امداد کی مسلسل ترسیل کے لیے غزہ اور لبنان کے لیے وزیراعظم ریلیف فنڈ بھی قائم کیا ہے،عوام فلسطینی اور لبنانی بہن بھائیوں تک اپنی عطیات پہنچانے کے لیے غزہ اور لبنان کے لیے وزیر اعظم ریلیف فنڈمیں عطیات جمع کروا سکتے ہیں

    الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے لبنان کے لئے امدادی سامان روانہ

    پاکستان سے لبنان کے لیے پہلی امدادی کھیپ روانہ

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

  • اسرائیلی فوج نے الجزیرہ کے چھ صحافیوں کو "دہشتگرد” بنا دیا

    اسرائیلی فوج نے الجزیرہ کے چھ صحافیوں کو "دہشتگرد” بنا دیا

    اسرائیل کی دفاعی افواج نے انکشاف کیا ہے کہ الجزیرہ کے چھ صحافی حماس اور فلسطین اسلامی جہاد کے ساتھ کام کرتے ہیں

    اسرائیل کی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزیرہ کے لیے کام کرنے والے چھ صحافی حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے رکن ہیں۔ غزہ سے ملنے والی انٹیلی جنس معلومات اور متعدد دستاویزات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ 6 صحافیوں کا غزہ کے عسکری گروپوں سے تعلق ہے،اسرائیلی سیکورٹی فورسز کو ملنے والی دستاویزات میں دہشت گردی کے تربیتی کورسز کی فہرستیں، فون ڈائریکٹریز، اور دہشت گردوں کے لیے تنخواہ کے دستاویزات” شامل ہیں۔ دستاویزات "غیر واضح طور پر ثابت” کرتی ہیں کہ صحافی حماس اور اسلامی جہاد کے متعلقہ عسکری ونگز کے ارکان کے طور پر کام کرتے تھے۔ جن صحافیوں کو آئی ڈی ایف نے حماس کے عسکری ونگ کے کارندوں کے طور پر ظاہر کیا ہے، وہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق الجزیرہ میں خاص طور پر شمالی غزہ میں حماس کے لیے پروپیگنڈے کی سربراہی کرتے ہیں۔چھ صحافیوں کی شناخت انس جمال محمود الشریف، علاء عبدالعزیز محمد سلامہ، حسام باسل عبدالکریم شباط، اشرف سمیع احسور سراج، اسماعیل فرید محمد ابو عمرو اور طلال محمود عبدالرحمن اروکی کے نام سے ہوئی ہے۔

    اسرائیلی دفاعی فورسز کے مطابق انس الشریف ایک راکٹ لانچنگ اسکواڈ کا سربراہ اور حماس کی نصرت بٹالین میں نخبہ فورس کمپنی کا رکن تھا۔ علاء سلامہ شبورہ بٹالین کے اسلامی جہاد کے پروپیگنڈہ یونٹ کے نائب سربراہ تھے۔ شبات حماس کی بیت حنون بٹالین میں ایک سنائپر تھا، اشرف سراج اسلامی جہاد کی بوریج بٹالین کا رکن تھا۔ ابو عمرو مشرقی خان یونس بٹالین میں ٹریننگ کمپنی کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، اور عبدالرحمن اروکی حماس کی نصرت بٹالین میں ٹیم کمانڈر تھے۔اسماعیل ابو عمرو رواں سال فروری میں غزہ میں اسرائیلی کارروائی میں زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت الجزیرہ نے اس بات کی تردید کی تھی کہ اس کے عسکری گروپوں سے روابط ہیں۔

    اس سال مئی میں بنجمن نیتن یاہو حکومت نے حماس کے حامی پروپیگنڈے پر اسرائیل میں الجزیرہ چینل کی نشریات کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد ستمبر میں اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کے رام اللہ میں الجزیرہ بیورو کو بھی بند کر دیا تھا۔

    یحییٰ سنوار کی شہادت اسرائیل کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوگی،حماس

    یحییٰ سنوار کی موت پر وہی احساسات جو اسامہ بن لادن کی موت پر تھے،جوبائیڈن

    اذکار کے کتابچے،تسبیح، گھڑی،اسلحہ،شہید یحییٰ سنوار کا کل سامان

    حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار شہید،حماس کی تصدیق

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

  • غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    مغرب کی حکومتیں اور ان کے حکمران ۔۔۔۔انسانیت اور جمہوریت کے جھوٹے دعویدار اور علمبردار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ا ن سے بڑا انسانیت کا دشمن اس وقت روئے زمین پر کوئی نہیں ۔یہ وہ درندے ہیں جن کے منہ کو انسانوں کا اور خاص کر مسلمانوں کا خون لگا ہوا ہے ۔یہ درندے دنیا میں کہیں نہ کہیں مسلمانوں کا خون بہاتے رہتے ہیں اور اس خون سے اپنی پیاس بجھاتے رہتے ہیں جس کی تازہ اور بدترین مثال غزہ ہے جس پر اسرائیل کی جارحیت کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے ۔ایک سال کا ایک ایک لمحہ غزہ کے مسلمانوں کیلئے قیامت بن کر گزرا ہے ۔ ایک سال میں کوئی دن ایسا نہیں آیا جو غزہ کے مسلمانوں نے آرام اور سکون سے گزارا ہو اور کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں وہ چین کی نیند سوئے ہوں ۔

    واضح رہے کہ غزہ کی پٹی دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آ باد علاقہ تھا جو365 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ساحلی پٹی پر مشتمل 24 لاکھ افراد کا مسکن ہے، جہاں ایک مربع کلومیٹر رقبے میں ساڑھے پانچ ہزار افراد رہائش پذیر تھے ۔دنیا کا سب سے گنجان آباد یہ علاقہ اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اسرائیل نے غزہ کی محدود جغرافیے کی حامل زیر محاصرہ گنجان آبادی پر جتنا بارود ایک سال کے دوران برسایا ، اس کی مثال دونوں عالمی جنگوں میں بھی نہیں ملتی ہے۔اسرائیل غزہ کی چھوٹی سی پٹی پر اب تک 85 ہزار ٹن سے بھی زیادہ بارود بموں کی شکل میں برسا چکا ہے۔ غزہ میں تاریخ انسانی کی بدترین تباہی ہوئی ہے جس کا اندازہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے کیا جاسکتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے طیاروں ، ٹینکوں اور توپوں نے بمباری سے جو تباہی مچائی ، رہائشی عمارتیں ، تعلیمی ادارے ، ہسپتال ، مساجد ، دکانیں اور مارکیٹیں جتنے بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی ہیں ان کا ملبہ اٹھانے پر 15 سال لگیں جائیں گے۔ جب کہ تباہ شدہ عمارتوں کی جگہ تعمیر نو پر 80 سال لگیں گے۔ آزاد ذرائع کے مطابق 2 لاکھ سے زائد فلسطینی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ زخموں سے چور ہیں، 20 لاکھ افراد ایسے ہیں جو مکمل طور پر گھر سے بے گھر اور در سے بے در ہوچکے ہیں ۔ان بیچاروں کے پاس معمولی چھت اور کھانے پینے کا معمولی سامان بھی دستیاب نہیں ہے ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے شب و روز کیسے گزرتے ہوں گے ؟

    ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی روپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں قائم انڈونیشیا ہسپتال، ترک ہسپتال اور القدس ہسپتال کو کئی بار نشانہ بنایا۔ ہر روز اوسطاً طبی عملے کے دو ارکان یا ڈاکٹروں کو موت کے گھاٹ اتارتاجاتا رہا ۔ اب تک کم سے کم 752 ڈاکٹر و طبی عملے کے ارکان قتل اور 782 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 128 زیر حراست ہیں۔اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے فراہم کردہ ڈیٹا اور اوپن سٹریٹ میپ کے جغرافیائی ڈیٹا بیس کے مطابق غزہ کی 80فیصد مساجد مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ ہوچکی ہیں ۔سات اکتوبر 2023 سے 31 دسمبر 2023 کے دوران 117 مساجد بشمول تاریخی گرینڈ مسجد عمری اور دو گرجا گھر بھی اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے۔ غزہ کے کل قابل کاشت رقبے کا 68 فیصد حصہ [102مربع کلومیٹر] اسرائیلی بمباری اور فوجی نقل وحرکت سے تباہ ہو چکا ہے۔ شمالی غزہ کی 78 فیصد زرعی زمین جبکہ رفح میں 57 فیصد زرعی رقبہ ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔اسرائیلی بمباری سے غزہ میں سڑکوں کا 68 فیصد ]119 کلومیٹر] نیٹ ورک تباہ ہو گیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیٹلائیٹ سینٹر کی جانب سے 18 اگست 2024 کو جاری کردہ ابتدائی ڈیٹا رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ ہونے والی شاہراؤں میں 415 کلومیٹر سڑکیں مکمل تباہ جبکہ 1440 کلومیٹر پر محیط سڑکیں جزوی طور پر تباہ ہوئی ہیں، ہسپتالوں کے محاصروں اور حملوں کے دوران اسرائیلی فوج ہزاروں فلسطینیوں کو 200سے زائد اجتماعی قبروں میں پھینک چکی ہے۔غزہ جنگ کے دوران 173 صحافی بھی اسرائیلی فوج کی بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کا نشانہ بن کر زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔جبکہ لاتعداد صحافی پابند سلاسل ہیں ۔ غزہ میں سب سے بری حالت بچوں کی ہے ۔ بچے جو کہ کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ قوموں کی تعمیر وترقی اور نشوونما کا دارومدار بچوں پر ہوتا ہے ۔ جب کسی قوم کے بچے موت کے گھاٹ اتار دیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے ۔ صہیونی اسی فارمولے پر عمل پیرا ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی درندے فلسطینی بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے اور جانوروں کی طرح ذبح کررہے ہیں ۔اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسیف ) کی رپورٹ انتہائی لرزہ خیز ، دلوں کو ہلادینے تڑپا دینے اور خون کے آنسو رولادینے والی ہے ۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کا کہنا ہے کہ یہ جنگ جو اسرائیل نے غزہ پر مسلط کررکھی ہے اس میں سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہورہا ہے ۔اس جنگ میں روزانہ ہی فلسطینی بچے اسرائیلی فوج کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ ایک سال کے دوران ہر روز تقریباََ 40 بچے شہید کیے گئے ہیں ۔ غزہ کا مختصر سا خطہ اپنے اندر موجود لاکھوں بچوں کے لئے گویا زمین پرجہنم بنادیا گیا ہے۔ صورت حال بہتر ہونے کی بجائے دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 ء کو اسرائیلی حملے کے بعد اب تک 14,100 سے زائد بچے موت کے گھاٹ اتارے جاچکے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ میں روزانہ 35 سے 40 کے درمیان بچے اور بچیاں شہید کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں لوگ مرنے کے بعد ملبے کے نیچے دب کر بھی لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جو لوگ روزانہ فضائی حملوں اور فوجی کارروائیوں میں بچ جاتے ہیں انہیں اکثر خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بچوں کو بار بار تشدد اور بار بار انخلا کے احکامات سے بے گھر کیا جاتا ہے یہاں تک کہ محرومیت نے پورے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ بچے اور ان کے اہلخانہ کہاں جائیں؟ وہ سکولوں اور پناہ گاہوں میں محفوظ نہیں ہیں، وہ ہسپتالوں میں محفوظ نہیں ہیں اور زیادہ بھیڑ والے کیمپوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

    ایک طرف غزہ میں اسرائیل کی بدترین جارحیت جاری ہے تو دوسری طرف دنیا کے نقشے پر57اسلامی ممالک موجود ہیں جو ہر قسم کے وسائل ،قدرتی ذخائر اور معدنیات سے مالال ہیں ۔57اسلامی ممالک کی ا فواج کی تعداد لاکھوں پر مشتمل ہے جو کہ ہر قسم کے جدید ترین اسلحہ سے لیس ہے بلکہ ان میں پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک بھی شامل ہے اس کے باوجود غزہ کے مسلمان بے یارومددگار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ تمام اسلامی ممالک سے صرف سعودی عرب ہی قدمے دامے درمے سخنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کررہا ہے ۔

    اب چاہئے تو یہ کہ دیگر اسلامی دنیا بھی غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ان کی جانی مالی اور عسکری مدد کرتی لیکن اسلامی دنیا خاموش تماشائی ہے جبکہ اسرائیلی درندے فلسطینی مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑے ہیں جس طرح بھوکے گدھ اپنے شکار پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس وقت غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے ۔۔۔۔وہ جنگ نہیں بلکہ یکطرفہ قتل عام ہے ۔ اسلامی ممالک نے غزہ میں بڑھکتی ہوئی آگ کو نہ بجھایا تو عین ممکن ہے کہ آگ کے یہ بڑھکتے ہوئے شعلے ان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں ۔
    اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
    یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا ہی گھر نہ ہو

  • خوراک نہیں کفن بھیج دیں، فلسطینی وزارت صحت کی دنیا سے اپیل

    خوراک نہیں کفن بھیج دیں، فلسطینی وزارت صحت کی دنیا سے اپیل

    غزہ میں اسرائیلی بربریت ،کفن کم پڑ گئے، فلسطینی وزارت صحت نے کفن بھجوانے کی اپیل کر دی

    فلسطینیوں پر اسرائیلی بربریت جاری ہے، سات اکتوبر کو گزشتہ برس حماس کے حملے کے بعد سے اب تک اسرائیلی غزہ پر بمباری کر رہا ہے، فلسطین میں کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں اسرائیل نے بمباری نہ کی ہو، گھر مسمار، سکول تباہ، ہسپتال ملیا میٹ کر دیئے گئے، لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، ہزاروں لاپتہ ہیں، لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، ایسے میں فلسطینی وزارت صحت نے عالمی دنیا سے اپیل کی ہے کہ اگر کچھ اور نہیں بھیج سکتے تو کم از کم کفن ہی بھیج دیں،فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہسپتالوں میں کفن ختم ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے لاشوں کو کمبل سے ڈھانپا جا رہاہے،ہمیں کفن بھجوائے جائیں،کھانے پینے کی اشیا کی ضرورت نہیں کیونکہ اسرائیل ہمیں بھی قتل کر دے گا، ہمیں اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے شہداء کی لاشیں ڈھانپنے کے لیے کچھ کفن بھیج دیں تاکہ آپ ہمارے خون اور زخم دیکھ کر بیزار نہ ہوں

    دوسری جانب آسٹریلوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے،غزہ میں لگ بھگ 2 لاکھ فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، غزہ کی 8 فیصد آبادی ماری جا چکی ہے،اسرائیلی بمباری سے غزہ کے اسپتال تباہ ہوچکے ہیں اور چند اسپتال جزوی طور پر فعال ہیں۔

    یحییٰ سنوار کی موت کیسے ہوئی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تفصیلات

    یحییٰ سنوار کی شہادت اسرائیل کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوگی،حماس

    یحییٰ سنوار کی موت پر وہی احساسات جو اسامہ بن لادن کی موت پر تھے،جوبائیڈن

    اذکار کے کتابچے،تسبیح، گھڑی،اسلحہ،شہید یحییٰ سنوار کا کل سامان

    حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار شہید،حماس کی تصدیق

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار