Baaghi TV

Tag: غزہ

  • فلسطین کے معاملے پر تمام ممالک خاموش ہیں،سعیدغنی

    فلسطین کے معاملے پر تمام ممالک خاموش ہیں،سعیدغنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ دنیا میں کہی بھی چھوٹا واقعہ ہو تو فورا مذمت کی جاتی ہے، مگر فلسطین کے معاملے پر امریکہ سمیت تمام بڑے ممالک خاموش ہیں.

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز اسرائیل کی غزہ اور فلسطین پر جارحیت کا ایک سال مکمل ہونے کے خلاف پیپلز پارٹی کے تحت منعقدہ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرین سے پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری و وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی سید وقار مہدی، وزیر اعلی سندھ کے مشیر سید نجمی عالم، پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ سائوتھ کے جنرل سیکرٹری تیمور ٹالپور، پیپلز لائرز فورم کے ارشد نقوی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر سینکڑوں کی تعداد میں خواتین اور مرد کارکنان نے ہاتھوں میں فلسطین کے پرچم تھامے ہوئے تھے اور وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ آج بھی فلسطین اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور بربریت جاری ہے اور افسوس کہ جو ممالک اپنے آپ کو انسانی حقوق کا چیئمپین کہتے ہیں وہ خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج پورے پاکستان میں یوم یکجہتی فلسطین منایا جارہا ہے، آج سے ایک سال قبل اسرائیلی جارحیت کا آغاز ہوا تھا اور اب تک اسرائیل نے دہشت گردی کر کے 40 ہزار سے زائد مظلوموں کو شہید کیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اسرائیل کی دہشت گردی سے فلسطین ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، ایسی دہشت گردی حالیہ ماضی میں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اس جارحیت پر بڑی بڑی طاقتیں خاموش ہیں۔ دنیا میں کہی بھی چھوٹا واقعہ ہو تو فورا مذمت کی جاتی ہے، مگر فلسطین کے معاملے پر امریکہ سمیت تمام بڑے ممالک خاموش ہیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ آج یوم یکجہتی کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینیوں کو پتہ لگے کے پاکستان ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں کھڑے ہوکر فلسطین سے ہمدردی کرسکتے ہیں، مگر اسرائیل کو روکنے کے لیے بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔سعید غنی نے کہا کہ جب تک کوئی بڑا اور اجتماعی فیصلہ نہیں ہوگا تب تک اسرائیل رکے گا نہیں، ڈر اس بات کا ہے کہ اسرائیل ایک بھی فلسطینی کو زندہ نہیں رکھنا چاہتا۔ سعید غنی نے کہا کہ ایک سال میں 42000 سے زائد بچے، خواتین و مظلوم فلسطینی اس بربریت کاشکار ہوئے ہیں۔ بلڈنگز، رہائشی علاقے مسلمار کئے گئے ہیں، اج بھی کئی عمارتوں کے ملبے تلے بھی ہزاروں لوگ اجل کاشکار ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں ایسے واقعات ہوتے ہیں، آوازیں اٹھتی ہیں۔ لیکن اسرائیلی دھشتگردی پر دنیا کی بڑی طاقتیں خاموش ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ایران اور لبنان کی طرف سے ردعمل کے طور پر کچھ کیا جاتا ہے، تو دنیا ردعمل کا اظہار کرتی ہے۔ حسن نصراللہ ہو ایرانی صدر کوٹارگیٹ کیاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر یہ مظاہرے اس بات کا اظہار ہے کہ ہم اپنے مظلوم فسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔مسلم دنیا کے بڑے طاقت ور ممالک امریکا ،یورپ سے اب کوئی توقع نہیں۔ اب مسلم دنیا ایک ہوکر ردعمل دے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بھرپور اور اجتماعی ردعمل نہیں دیا جائے گا، تب تک یہ ظلم فلسطین میں ہوتا رہے گا کیونکہ اسرائیل چوتھی جنگ عظیم چاہتا ہے۔ اب تواس نے جنگ بڑھا دی ہیہمیں اب مذمتوں سے آگے بڑھنا ہوگا اور آل پارٹی کانفرنس طے کرے کہ ہمیں فلسطینیں کے لئے مزید کیا کرنا ہے۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سید وقار مہدی نے کہا کہ پیپلز پارٹی فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی منارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اسرائیلی جارحیت کو پورا ایک سال ہوگیا ہے۔ اس دوران 42000 سے زائد مظلوم فلسطینی شہید ہوچکے ہیں لیکن افسوس کہ اس تمام کے باوجود مسلمان ممالک خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھلے خاموش رہے پاکستان پیپلزپارٹی خاموش نہیں رہ سکتی۔

    کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی پھر مہنگی

  • حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    حماس کے اسرائیل پر تباہ کن حملے کو ایک سال بیت گیا، اسرائیل نے جوابی کاروائی کی، اسرائیل ایک سال گزرنے کے باوجود حماس سے اپنے یرغمالی رہا نہ کروا سکا، ایک برس کے عرصے میں اسرائیل نے حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا،

    حماس نے سات اکتوبر کو گزشتہ برس اسرائیل پر بڑا حملہ کیا تھا،اس حملے میں 12 سو سے زائد اسرائیلی ہلاک جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا،حماس نے سات اکتوبر کی صبح ساڑھے چھ بجے 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کئے تھے،راکٹ حملوں کے بعد حماس جنگجوؤں نے اسرائیل میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ بھی کی تھی، اس روز اسرائیل میں ایک مذہبی تہوار منایاجا رہا تھا، حماس نے اس حملے کے دورا سرائیلیوں کو یرغمال بھی بنایا تھا،حماس نے اس حملے کو فلڈ آف الاقصیٰ کا نام دیا تھا

    حماس کے اسرائیل پر بڑے حملے کے بعد اسرائیلی حکومت ،فوج ،سیکورٹی ادارے تنقید کا نشانہ بنتے رہے کہ اسرائیل حماس کے حملے سے بے خبر کیوں تھا؟ اسرائیل نے 8 اکتوبر کو حماس کے حملے کا جواب دیتے ہوئے فضائی حملہ کیا،اسرائیل نے آپریشن سورڈز آف آئرن شروع کیا اور غزہ کا مکمل محاصرہ شروع کر دیا اور غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں رہنے والے تقریباً 15 لاکھ لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا،اسرائیل نے غزہ پر تباہ کن بمباری کی، اسرائیل حملوں کا آج بھی سلسلہ جاری ہے، غزہ میں ایک برس میں قیامت برپا رہی،غزہ کے لوگ پانی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا شکار ہیں،غزہ کی تقریباً 70 فیصد عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں،ہسپتالوں، سکولوں کو بھی اسرائیل نے نشانہ بنایا، غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس حملے میں اب تک 42 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 16,765 بچے ہیں، تقریباً 98 ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں، 10 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں ،تل ابیب میں 1200 سے زائد اسرائیلی ہلاک اور 8,730 زخمی ہو چکے ہیں ، اسرائیلی حملے کے باعث غزہ کی پٹی میں اب تک 80 فیصد تجارتی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔ 87 فیصد سکولوں کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، غزہ کی پٹی میں 144,000 سے 175,000 عمارتوں کو نقصان پہنچا ، 36 میں سے صرف 17 ہسپتال کام کر رہے ہیں، سڑکوں کا 68 فیصد نیٹ ورک تباہ ہو چکا ہے اور کھیتی کے لیے موزوں 68 فیصد زمین بنجر ہو چکی ہے،غزہ کی جی ڈی پی میں 81 فیصد کمی آئی ہے۔ 2.01 لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں،تقریباً 20 لاکھ لوگ بے گھر ہیں، 85 ہزار فلسطینی مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک برس کے دوران حزب اللہ ، حوثی اور ایرانی حکومت سے بھی پنگا لے لیا، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ ،حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت ہوئی،جس کے بعد ایران کی جانب سے حملوں نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے ،جنگ کے ایک سال مکمل ہونے پر اسرائیل آج بھی مغربی ممالک کی جانب مدد کے لئے دیکھ رہا ہے اور اتنے فلسطینوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل اپنے تمام یرغمالی نہیں رہا کروا پایا ہے،اسرائیل گزشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں ٹن بم برسانے اور ہزاروں فوجیوں کے ساتھ زمینی کارروائی کرنے کے باوجود غزہ سے حماس کا وجود ختم نہیں کرسکا اور اسے آج بھی غزہ میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،غزہ جنگ اب لبنان سے آگے شام، عراق تک پہنچ چکی ہے،ایرانی حملوں کے بعد ممکنہ اسرائیلی ردعمل کے بعد اس جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں نے جنگ بندی کی کئی کوششیں کیں مگر سب رائیگاں رہیں اور اسرائیل حماس کے وجود کو ختم کیے بغیر مستقل جنگ بندی پر راضی نہیں ہوا،نومبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد 4 روزہ جنگ بندی پر دونوں فریقین نے عالمی ثالثوں کی موجودگی میں اتفاق کیا اور اس دوران دونوں اطراف سے قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا مگر بعد ازاں جنگ دوبارہ شروع ہوگئی،بعد ازاں امریکی صدر جوبائیڈن اور دیگر ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی کئی کوششیں کی گئیں اور ایک موقع پر اسرائیل اور حماس دونوں امریکی صدر کی پیش کی گئی جنگ بندی تجاویز اور اس کے نکات پر آمادہ بھی ہوئے مگر اسرائیل کے پیچھے ہٹ جانے اور مستقل جنگ بندی نہ کرنے کے باعث معاہدہ نہ ہوسکا۔

    حماس،اسرائیل مذاکرات ختم، جنگ بندی نہ ہو سکی

     حماس نے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • ہزاروں فلسطینی خواتین اور بچوں کو شہید کیا گیا، حافظ نعیم الرحمٰن

    ہزاروں فلسطینی خواتین اور بچوں کو شہید کیا گیا، حافظ نعیم الرحمٰن

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ یہ ملین مارچ کسی جماعت کا نہیں بلکہ اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کیلیے ہے۔

    باغی ٹٰی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں غزہ ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملین مارچ کے شرکاء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، یہ ملین مارچ کسی پارٹی کا نہیں بلکہ اہل غزہ اور فلسطین کی مزاحمتی تحریک سے اظہار یکجہتی کا ملین مارچ ہے۔ اسرائیل کے پاس بہت بڑی فوجی طاقت بھی ہے اور اس کی پشت پناہی کرنے والا ملک امریکا ہے، اسرائیل دہشت گردی کرکے بچوں کو بھی شہید کررہاہے، غزہ میں ہزاروں خواتین اور بچوں کو شہید کیاگیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس دہشت گردی کے پیچھے امریکا، اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں نیتن یاہو نے گریٹر اسرائیل کا نقشہ پیش کیا، اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے دوران واک آؤٹ کرنے والے ممالک کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک اپنا کردار ادا نہیں کررہے، مسلم ممالک کے پاس بہترین افواج ہونے کے باوجود اسرائیل نہتے لوگوں پر بمباری کررہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ غزہ کے بچوں، عورتوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو اسرائیل کے مظالم کے اگے جھک اور دب نہیں رہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وہ ملین مارچ کے توسط سے پورے پاکستان کے تمام طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو کل بارہ بجے سڑکوں پر نکل کر غزہ سے اظہار یکجہتی کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

    دبئی حکومت کا غیرمعمولی ٹیچرز کو گولڈن ویزہ دینے کا اعلان

  • پاکستان کیجانب سے غزہ کیلئے امداد کی دسویں کھیپ روانہ

    پاکستان کیجانب سے غزہ کیلئے امداد کی دسویں کھیپ روانہ

    کراچی: اہلِ غزہ کے لیے الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے امداد کی دسویں کھیپ روانہ کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: پاکستان کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں خصوصاً اہلِ غزہ کے لیے امداد کی فراہمی جاری ہے اسی سلسلے میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے امدادی سامان کی دسویں کھیپ روانہ کر دی ہے۔

    امدادی سامان روانہ کرنے کی تقریب جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ کراچی پر منعقد ہوئی جہاں سے امدادی سامان بذریعہ چارٹرڈ طیارہ A300 عمان، اُردن کے لیے روانہ کیا گیا جو کہ وہاں سےغزہ کے لیے بھیجا جائے گا روانہ کیے گئے امدادی سامان میں غزہ کے لوگوں کے لیے ضرورت کے مطابق 40ٹن ادویات شامل ہیں۔

    حسن نصراللہ کی نماز جنازہ غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی،عرب میڈیا

    پاکستان کی جانب سے عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ جہاں بھی فلاحی اقدامات کی ضرورت ہو گی وہاں ہم مدد اور تعاون فراہم کریں گے۔ سامان روانگی کی تقریب میں ایم این اے ڈاکٹر درشن نے این ڈی ایم اے اور الخدمت فاؤنڈیشن کے نمائندگان کے ساتھ شرکت کی این ڈی ایم کی جانب سے اب تک کل 1151ٹن امدادی سامان غزہ کے لیے روانہ کیا جا چکا ہے۔

    لاپتہ افراد کیس :وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور طلب

  • لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 500 سے زائد اموات،دنیا کا امن کا مطالبہ

    لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 500 سے زائد اموات،دنیا کا امن کا مطالبہ

    اسرائیلی فوج کے لبنان کے شہری علاقوں پر حملوں میں‌ 5 سو سے زائد افراد کی موت ہوئی ہے جبکہ 1024 افراد زخمی ہوگئے ہیں، مرنے والے اور زخمی افراد میں خواتین ، بچے بھی شامل ہیں،

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کے تقریباً 300 ٹھکانوں پر بیک وقت بمباری کی ہے، دوسری طرف اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے،حزب اللہ پر حملے کے بعد اسرائیلی حکومت نے اپنے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر علی قراقی بھی مارے گئے ہیں، تاہم ابھی تک اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    لبنان میں ایک خونی دن ، اسرائیل نے درجنوں بچوں سمیت تقریباً 500 افراد کو ہلاک کر دیا، لبنانی وزارت صحت کے مطابق،اسرائیلی حملے کے بعد بین الاقوامی ردعمل جاری ہے، جس میں کشیدگی پر قابو پانے اور خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے کا مطالبہ کیا گیا۔ پیرس اور واشنگٹن سمیت عرب اور بین الاقوامی دارالحکومتوں کی جانب سے امن کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ فرانس کے نئے وزیر خارجہ جین نول باروٹ نے اعلان کیا کہ ان کے ملک نے لبنان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے اس ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے۔فرانسیسی وزیر نے نیویارک میں اقوام متحدہ میں کہا کہ ان کا ملک "فریقین اور ان کی حمایت کرنے والوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشیدگی کو روکیں اور ایک علاقائی تصادم کے پھیلنے سے بچیں ،اس وقت میں لبنانی عوام کے بارے میں ایسے وقت میں سوچ رہا ہوں جب اسرائیلی چھاپوں سے درجنوں شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں درجنوں بچے بھی شامل ہیں۔یہ حملے، جو بلیو لائن کے دونوں طرف (اسرائیل اور لبنان کو الگ کرنے والی) اور پورے خطے میں وسیع پیمانے پر کیے جا رہے ہیں، فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔”

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے تصدیق کی کہ وہ لبنان میں شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر "شدید فکر مند” ہیں، ایک سینئر امریکی اہلکار نے انکشاف کیا کہ امریکہ لبنان میں بحران پر قابو پانے کے لیے "ٹھوس نظریات” پیش کرنے کے عمل میں ہے، جس میں حزب اللہ کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی زمینی حملے کی واشنگٹن کی مخالفت کا اعادہ کیا گیا ہے۔برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے بھی لبنان اور اسرائیل میں میزائلوں اور فضائی حملوں کے آغاز اور اس کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر اپنی "گہری تشویش” کا اظہار کیا۔ سعودی عرب میں، مملکت نے ایک بیان میں لبنان میں سیکورٹی کی پیش رفت پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا، اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔اردنی وزیر خارجہ ایمن صفادی نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کا مطالبہ کیا ، مصر نے "بین الاقوامی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری طور پر مداخلت کریں”، ملک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اور اس کی خودمختاری کی "کسی بھی خلاف ورزی کو مکمل طور پر مسترد” کیا جائے۔ترکی نے خبردار کیا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں سے مشرق وسطیٰ کو مزید "افراتفری” میں دھکیلنے کا خطرہ ہے، عراق نے "اسرائیل کے مجرمانہ رویے کو روکنے” کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر عرب رہنماؤں کا "ہنگامی اجلاس” طلب کیا ہے۔

    لبنان میں اسرائیل نے شہریوں کے خلاف نفسیاتی جنگ چھیڑ دی ، لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے گھر اور عمارتیں چھوڑ دیں۔ لبنانی حکام کے مطابق ان کے ملک کو 80 ہزار سے زائد مشکوک اسرائیلی کالز موصول ہوئی ہیں۔ ان میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر خالی کر دیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں لبنان کے عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں۔ اسرائیل کی لڑائی آپ سے نہیں ہے۔ ہم حزب اللہ سے لڑ رہے ہیں جو آپ کو ایک عرصے سے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ وہ آپ کے کمرے میں راکٹ اور آپ کے گیراج میں میزائل رکھ رہا ہے۔ وہ ہمارے ملک کے شہریوں پر حملے کر رہے ہیں۔ اپنی حفاظت کے لیے اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان ہتھیاروں کو تلف کریں۔ اس لیے آپ سب کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ حزب اللہ سے دور رہیں۔ براہ کرم ابھی محفوظ علاقوں میں چلے جائیں،اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے پیر کے روز حزب اللہ کے 1,300 اہداف کو نشانہ بنایا جن میں کروز میزائلوں، طویل اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے راکٹون اور ڈرونز کو تباہ کر دیا ۔ انہوں نے وہ فوٹو دکھاتے ہوئے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ نجی گھروں میں چھپائے گئے ہتھیار تھے،اور کہا کہ بہت سے رہائشی علاقوں میں چھپائے گئے تھے ۔

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے پر ایئر لائنز نے پروازیں معطل کر دیں۔

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کا دائرہ مزید پھیل گیا، عراقی گروہ بھی شامل

    حزب اللہ کا جوابی وار،اسرائیل پر میزائل حملے،فوجی اڈہ نشانہ،یہودی چھپنے پر مجبور

    لبنان پیجر دھماکے،بھارت بھی ملوث نکلا،تہلکہ خیز انکشاف

    اسرائیل کا پیجرز میں دھماکا خیز مواد نصب کرنے کا انکشاف

    لبنان میں پیجرز دھماکوں کے پیچھے کون؟،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    اسرائیلی وزیراعظم کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    بیروت : ایران کے سفیر مجتبیٰ عمانی اسرائیلی پیجر دھماکوں میں زخمی، لبنان میں خون کے عطیات کی اپیل

  • اسرائیل کا غزہ میں پناہ گزین سکول پر حملہ، 22 فلسطینی شہید

    اسرائیل کا غزہ میں پناہ گزین سکول پر حملہ، 22 فلسطینی شہید

    غزہ:اسرائیل کا غزہ میں پناہ گزینوں کے سکول پر فضائی حملہ، 22 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 30 فلسطینی شہری شہید ہوچکے ہیں، شہدا میں 13 بچے اور 6 خواتین شامل ہیں، اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں الزیتون سکول کو بھی نشانہ بنایا، حملے میں 30 افراد زخمی ہوئے، فلسطین وزارت صحت کے مطابق ہفتے کو غزہ میں الزیتون کے علاقے میں پناہ گزین سکول پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 22 افراد شہید ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں،جنگ کے دوران یہ سکول بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد یہاں بے گھر افراد نے پناہ لی تھی۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک اور عینی شاہد احمد عظام نے کہا کہ میں نے اسکول میں کسی بھی مرد کو زخمی نہیں دیکھا تھا۔ شہید اور زخمی ہونے والے بچے تھے یا پھر خواتین۔ احمد عظام نے کہا کہ ہم مر رہے ہیں مگر ہمارے اسلامی پڑوسی صرف تماشا دیکھ رہے ہیں وہ اپنی زندگی میں مست ہیں اور اسرائیل سے پینگیں بڑھانے میں مصروف ہیں مظلوم فلسطینیوں کی مدد کرنے کے لیے مسلم دنیا میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھ رہا۔

    ژوب میں انسداد دہشت گردی فورس کی گاڑی پرحملہ،ایک اہلکار شہید جبکہ تین زخمی

    واضح رہے اسرائیلی دہشت گردانہ حملوں میں غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 41 ہزار 391 ہوگئی ہے جبکہ 95 ہزار 790 فلسطینی زخمی ہیں،جن میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے-

    ایم کیو ایم ،سنی تحریک کا شہر قائد کی بہتری کیلئے مل کر چلنے پر …

  • غزہ جنگ بندی کے لیےنیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑا مظاہر

    غزہ جنگ بندی کے لیےنیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑا مظاہر

    تل ابیب: اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ بندی کے لیے وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑا مظاہرہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف ریلی نکالی، حکومت مخالف ریلی میں مظاہرین نے غزہ سے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جبکہ اس دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے اور مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں جس کے نتیجے میں 15 مظاہرین کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

  • اسرائیلی فوج کا غزہ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ

    اسرائیلی فوج کا غزہ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ

    غزہ میں اسرائیلی فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا، جس میں سوار 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کو موصول رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں اسرائیلی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر بدھ کی صبح حادثے کا شکار ہو گیا، جس میں 2 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے اسے ایک حادثہ قرار دیا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق، UH-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، 123ویں اسکواڈرن کا حصہ تھا جو ایک شدید زخمی انجینئر کو غزہ سے نکالنے کے لیے رفح پہنچا تھا۔ رات تقریباً 12:30 بجے لینڈنگ کے دوران ہیلی کاپٹر صحیح طریقے سے نیچے نہیں اُتر سکا اور زمین پر آ گرا۔حادثے میں 2 فوجی ہلاک اور 8 دیگر زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں دو پائلٹس، ایک مکینک، یونٹ 669 کا ایک ڈاکٹر اور ایک فوجی شامل ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے المواصی کیمپ پر وحشیانہ حملہ کیا گیا۔ غزہ سے عرب میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے المواصی کیمپ پر حملے میں امریکی بم استعمال کیے۔ غزہ میڈیا دفتر کے مطابق اسرائیلی فوج نے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم بےگھر فلسطینیوں کے خیموں پر گرائے۔ اسرائیلی فوج نے المواصی کیمپ میں گذشتہ رات ہولناک قتل عام کیا ہے۔ دفتر کے مطابق اسرائیلی فوج کے قتل عام میں 41 فلسطینی شہید اور 60 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

  • خان یونس میں پناہ گزینوں کے کیمپوں پر اسرائیل کا حملہ، 40 فلسطینی شہید

    خان یونس میں پناہ گزینوں کے کیمپوں پر اسرائیل کا حملہ، 40 فلسطینی شہید

    خان یونس: جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں پناہ گزینوں کے کیمپوں پر اسرائیلی طیاروں کے حملے سے 40 فلسطینی شہید جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق خان یونس شہر کے مغرب میں واقع المواسی کے انسانی حقوق کے علاقے میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بڑے بڑے گڑھے بن گئے۔

    حماس کی سول ڈیفنس اتھارٹی کے آپریشنز ڈائریکٹر نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حملے میں 40 فلسطینی شہید اور 60 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، آدھی رات کے فورا بعد المواسی کے علاقے میں بڑے دھماکے ہوئے اور آسمان پر شعلوں کے شعلے اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    حملے کے مقام کے قریب رہنے والے ایک خیراتی ادارے کے رضاکار خالد محمود نے کہا کہ وہ اور دیگر رضاکار مدد کے لیے پہنچے لیکن وہ تباہی کی شدت کو دیکھ کر دنگ رہ گئے حملوں سے سات میٹر گہرے تین گڑھے بن گئے جن کے نیچے 20 سے زیادہ خیمے دب گئے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے طیاروں نے خان یونس میں حماس کے جنگجوؤں کے ایک آپریشن سینٹر پر حملہ کیا ہے،جبکہ حماس نے اسرائیلی فوج کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ علاقے میں حماس کے جنگجو موجود ہیں۔

  • اسرائیلی بمباری ،غزہ شہری دفاع کے ڈپٹی ڈائریکٹر   اہلخانہ سمیت شہید

    اسرائیلی بمباری ،غزہ شہری دفاع کے ڈپٹی ڈائریکٹر اہلخانہ سمیت شہید

    غزہ: جبالیا میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ شہری دفاع کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عبدالحیی مرسی اہل خانہ سمیت شہید ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: شہری دفاع کے ترجمان نے اسرائیلی حملے میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گھر کو ہدف بنا کر حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ان کے اہل خانہ بھی شہید ہو گئے۔

    رپورٹس کے مطابق صیہونی افواج کے حملوں میں اب تک شہری دفاع کے 83 اہلکار شہید اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 33 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ جنوبی لبنان میں بھی 3 ایمرجنسی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی قید میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے اسرائیل میں اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ ہوا،اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں یرغمالیوں کے اہل خانہ سمیت لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے،یرغمالیوں کے اہل خانہ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی کا مطالبہ دُہرایا۔

    مظاہرین نے نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنی کرسی بچانے کے لیے یرغمالیوں کی جانیں داؤ پر لگائی جارہی ہیں۔

    دوسری جانب امریکا کی جانب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی نئی تجویز کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم حکام کو ان تجاویز کی منظوری کی زیادہ امید نہیں ہے اور ابھی اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا کہ انہیں کب منظر عام پر لایا جائے گا۔