Baaghi TV

Tag: غزہ

  • اسرائیلی فوج کا غزہ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ

    اسرائیلی فوج کا غزہ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ

    غزہ میں اسرائیلی فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا، جس میں سوار 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کو موصول رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں اسرائیلی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر بدھ کی صبح حادثے کا شکار ہو گیا، جس میں 2 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے اسے ایک حادثہ قرار دیا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق، UH-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، 123ویں اسکواڈرن کا حصہ تھا جو ایک شدید زخمی انجینئر کو غزہ سے نکالنے کے لیے رفح پہنچا تھا۔ رات تقریباً 12:30 بجے لینڈنگ کے دوران ہیلی کاپٹر صحیح طریقے سے نیچے نہیں اُتر سکا اور زمین پر آ گرا۔حادثے میں 2 فوجی ہلاک اور 8 دیگر زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں دو پائلٹس، ایک مکینک، یونٹ 669 کا ایک ڈاکٹر اور ایک فوجی شامل ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے المواصی کیمپ پر وحشیانہ حملہ کیا گیا۔ غزہ سے عرب میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے المواصی کیمپ پر حملے میں امریکی بم استعمال کیے۔ غزہ میڈیا دفتر کے مطابق اسرائیلی فوج نے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم بےگھر فلسطینیوں کے خیموں پر گرائے۔ اسرائیلی فوج نے المواصی کیمپ میں گذشتہ رات ہولناک قتل عام کیا ہے۔ دفتر کے مطابق اسرائیلی فوج کے قتل عام میں 41 فلسطینی شہید اور 60 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

  • خان یونس میں پناہ گزینوں کے کیمپوں پر اسرائیل کا حملہ، 40 فلسطینی شہید

    خان یونس میں پناہ گزینوں کے کیمپوں پر اسرائیل کا حملہ، 40 فلسطینی شہید

    خان یونس: جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں پناہ گزینوں کے کیمپوں پر اسرائیلی طیاروں کے حملے سے 40 فلسطینی شہید جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق خان یونس شہر کے مغرب میں واقع المواسی کے انسانی حقوق کے علاقے میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بڑے بڑے گڑھے بن گئے۔

    حماس کی سول ڈیفنس اتھارٹی کے آپریشنز ڈائریکٹر نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حملے میں 40 فلسطینی شہید اور 60 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، آدھی رات کے فورا بعد المواسی کے علاقے میں بڑے دھماکے ہوئے اور آسمان پر شعلوں کے شعلے اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    حملے کے مقام کے قریب رہنے والے ایک خیراتی ادارے کے رضاکار خالد محمود نے کہا کہ وہ اور دیگر رضاکار مدد کے لیے پہنچے لیکن وہ تباہی کی شدت کو دیکھ کر دنگ رہ گئے حملوں سے سات میٹر گہرے تین گڑھے بن گئے جن کے نیچے 20 سے زیادہ خیمے دب گئے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے طیاروں نے خان یونس میں حماس کے جنگجوؤں کے ایک آپریشن سینٹر پر حملہ کیا ہے،جبکہ حماس نے اسرائیلی فوج کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ علاقے میں حماس کے جنگجو موجود ہیں۔

  • اسرائیلی بمباری ،غزہ شہری دفاع کے ڈپٹی ڈائریکٹر   اہلخانہ سمیت شہید

    اسرائیلی بمباری ،غزہ شہری دفاع کے ڈپٹی ڈائریکٹر اہلخانہ سمیت شہید

    غزہ: جبالیا میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ شہری دفاع کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عبدالحیی مرسی اہل خانہ سمیت شہید ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: شہری دفاع کے ترجمان نے اسرائیلی حملے میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گھر کو ہدف بنا کر حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ان کے اہل خانہ بھی شہید ہو گئے۔

    رپورٹس کے مطابق صیہونی افواج کے حملوں میں اب تک شہری دفاع کے 83 اہلکار شہید اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 33 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ جنوبی لبنان میں بھی 3 ایمرجنسی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی قید میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے اسرائیل میں اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ ہوا،اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں یرغمالیوں کے اہل خانہ سمیت لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے،یرغمالیوں کے اہل خانہ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی کا مطالبہ دُہرایا۔

    مظاہرین نے نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنی کرسی بچانے کے لیے یرغمالیوں کی جانیں داؤ پر لگائی جارہی ہیں۔

    دوسری جانب امریکا کی جانب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی نئی تجویز کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم حکام کو ان تجاویز کی منظوری کی زیادہ امید نہیں ہے اور ابھی اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا کہ انہیں کب منظر عام پر لایا جائے گا۔

  • جنگ بندی معاہدے پر دستخط نہ کرنے پر نیتن یاہو کیخلاف اسرائیلی سڑکوں پر نکل آئے

    جنگ بندی معاہدے پر دستخط نہ کرنے پر نیتن یاہو کیخلاف اسرائیلی سڑکوں پر نکل آئے

    تل ابیب: غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط نہ کرنے پر وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے خلاف ہزاروں اسرائیلی تل ابیب کی سڑکوں پر نکل آئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے اسرائیلی پرچم اور نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بینرز، پوسٹرز اٹھا رکھے تھے، مظاہرین نے جنگ بندی کے حق میں زبردست نعرے بھی لگائے۔

    رپورٹ کے مطابق احتجاج کرنے والے مظاہرین نے نیتن یاہو سے یرغمالیوں کی واپسی کے لیے فوری طور پر جنگ بندی معاہدہ کرنے کا مطالبہ دہرایا۔

    واضح رہے کہ کئی ماہ سے امریکا، قطر اور مصر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ثالثی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔

    دوسری جانب غزہ میں اسرائیل کی جاری جارحیت کے خلاف برطانیہ میں بھی بڑا مظاہرہ کیا گیا اسرائیلی حملوں کے گیارہ ماہ مکمل ہونے پر لندن میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینیوں سے زبردست اظہار یکجہتی کیامظاہرین نے فلسطینی پرچم کے ہمراہ لندن کی سڑکوں پر مارچ کیا، احتجاج میں شہریوں نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے اور غزہ پر حملوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

    اس کے علاوہ سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں بھی احتجاج کیا گیا، مظاہرین نے غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم رُکوانے کا مطالبہ کیا۔

    خیال رہے کہ غزہ سمیت دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی جارحیت کو 11 ماہ مکمل ہو چکےہیں،حملوں میں اب تک 41 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ 90 فیصد سے زائد فلسطینی اسرائیلی حملوں کی وجہ سے بے گھر بھی ہو چکے ہیں،اسرائیل نے غزہ میں کارروائی کرتے ہوئے حماس کے مزید 2 کمانڈر شہید کردیے۔

    اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں فائر بریگیڈ کے عملے پر ڈرون حملہ کرکے 2 اہلکار شہید اور 3 شدید زخمی کردیا جبکہ لبنان سے حزب اللہ نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے شمالی اسرائیل میں 2 ڈرون حملے کیے،امریکا سمیت تمام طاقتور ممالک اور عالمی ادارے 11 ماہ بعد بھی غزہ میں اسرائیلی حملے رُکوانے میں ناکام ہیں۔

    اسی حوالے سے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنس کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ بندی کی مزید جامع تجاویز کچھ دنوں میں پیش کریں گے،دوسری جانب یرغمالیوں کے اہلخانہ کی جانب سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں نیتن یاہو کے خلاف نئے مظاہروں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

  • یونائیٹڈ ایئر لائن نے اسرائیل کے حامیوں کی چیخیں نکلوا دیں

    یونائیٹڈ ایئر لائن نے اسرائیل کے حامیوں کی چیخیں نکلوا دیں

    یونائیٹڈ ایئر لائن نے اسرائیل کے حامیوں کی چیخیں نکلوا دیں

    یونائیٹڈ ایئرلائنز نے اپنے فلائٹ اٹینڈنٹ کو 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کی ذمہ دار حماس کے پرچم والے بیج پہننے کی اجازت دے دی جس پر اسرائیلی حکام سیخ پا ہو گئے،اسرائیلی شہریوں کا کہنا ہے کہ یونائیٹڈ ایئر لائن کو ایسا نہیں کرنا چاہئے ، حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تا ہم فلسطینیوں نے یونائیٹڈ ایئر لائن کے اس اقدام کو سراہا ہے

    دوسری جانب ڈیلٹا ایئر لائن نے بھی ایسا ہی اقدام کیا،مسافروں کی شکایات کے باوجود، ڈیلٹا نے اپنے فلائٹ اٹینڈنٹ کو فلسطینی پرچم کی پنیں پہننے کی اجازت دی، زبردست ردعمل کے بعد ڈیلٹا نے بالآخر 15 جولائی سے شروع ہونے والے تمام غیر امریکی پرچم پنوں پر پابندی لگانے والی پالیسی کو نافذ کیا۔

    یونائیٹڈ ائیرلائنز کے حکام سے جب احتجاج کیا گیا تو انہوں نے اپنے عملے کے اقدامات کا دفاع کیا،عوامی احتجاج کے باوجود، انہوں نے اپنی پالیسی کو اپ ڈیٹ کرنے یا ملوث عملے کو سرزنش کرنے سے انکار کر دیا ہے،فلائٹ اٹینڈنٹ کو ان علامتوں کو پہننے کی اجازت دینے سے بہت سے مسافروں، خاص طور پر اسرائیلیوں اور یہودیوں کو خطرہ اور بے چینی محسوس ہوتی ہے۔اسرائیلی شہریوں کا کہنا ہےکہ ہمیں ان ایئر لائنز کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے

    افریقی ایئر لائن بندروں کی غیر قانونی سمگلنگ میں ملوث نکلی

    امریکن ایئر لائنز پھر بحران کا شکار،ملازمین نوکریوں سے فارغ

    کوکین سمگل کرنے کا جرم،امریکن ایئر لائن کے سابق مکینک کو سزا

    جہاز میں بم ہے،پرچی ملنے کے بعد ہنگامی لینڈنگ

    بم کی دھمکی ملنے کے بعد بھارتی ایئر لائن کا رخ موڑ دیا گیا

    ایئر انڈیا کو بم سے اڑانے کی دھمکی افواہ نکلی

    احمد آباد میں کچھ اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں

    ممبئی میں تین بڑے بینکوں کو دھمکی آمیز ای میل موصول

    ویڈیو لیک ہونے سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ڈیٹا ریکوری کا طریقہ

     ایئر انڈیا کی پرواز کو بم سے اڑانے کی دھمکی کے بعد ہر طرف افرا تفری

    بھارت میں طیارے کا اے سی نہ چلنے پر مسافر برہم ہو گئے

  • سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار

    سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار

    سعودی عرب اسرائیل کوتسلیم کرنے کے لیے تیار، نئے امریکی صدر کے آنے سے قبل اسرائیل کو تسلیم کر لے گا

    یہ دعویٰ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ہیٹی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کیا، انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ جنوری سے قبل اگر غزہ میں جنگ بندی ہو جاتی ہے تو سعودی عرب کے اسرائیل کےساتھ تعلقات معمول پر آنے کا ایک موقع ابھی باقی ہے،اگر غزہ جنگ بندی ہو جاتی ہے تو امکان ہے کہ جو بائیڈن کے عہدہ چھوڑنے سے پہلے سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کر لے۔

    امریکی وزیر خارجہ کے تازہ ترین بیان پر سعودی عرب کی جانب کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم اس حوالے سے ماضی میں سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ حل ہونے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ،گزشتہ دنوں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا، محمد بن سلمان نے اس ضمن میں امریکی کانگریس ارکان سے اس خدشے کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں قتل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، انہوں نے سعودی اسرائیلی تعلقات کی بحالی اور امریکا کے ساتھ تعاون کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈال رکھی ہے۔

    یاد رہے کہ رواں سال فروری میں سعودی عرب کی جانب سے امریکا کو کہا گیا تھا کہ سعودی عرب اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کا آغاز نہیں کرے گا جب تک 1967 کی سرحدوں میں آزاد فلسطینی ریاست کا قیام نہیں ہوجاتا جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو،اس سے قبل رواں سال جنوری میں ہی سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ مسئلہ فلسطین حل ہوجائے تو سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرسکتا ہے۔

    رواں برس ماہ فروری میں امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی کہا تھا کہ سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار ہے،امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک انٹرویو کے دوران اس بات کا دعویٰ کیا کہ سعودی عرب بھی باقی عرب ممالک کی طرح اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے، وہ قطر سمیت 6 عرب ملکوں سے رابطے میں ہیں،

    قبل ازیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانےکی طرف پیش رفت ہو رہی ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم قریب تر ہوتے جا رہے ہیں، اسرائیل سے سعودی عرب کا فی الحال کوئی تعلق نہیں ہے مسئلہ فلسطین اہم ہے اسے دو طرفہ تعلقات کو بحال کرنے کی کوششوں کے دوران حل ہونا چاہیے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

    جنوری سے پہلے ٹرمپ،اسرائیل اور سعودی عرب کا کھیل تیار، مبشر لقمان کی زبانی تہلکہ خیز انکشافات

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    سعودی عرب اور اسرائیل کا نیا کھیل، سنئے اہم انکشافات مبشرلقمان کی زبانی

    کرونا وائرس، امید کی کرن پیدا ہو گئی،وبا سے ملے گا جلد چھٹکارا،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان کے گرد گھیرا تنگ، خوف کا شکار، سنئے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    آرمی چیف کا سعودی نائب وزیر دفاع کی وفات پر اظہار افسوس

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    یواے ای کے ولی عہد کی اسرائیلی صدر کو دورے کی دعوت

  • اسرائیلی وزیر کا مسجد اقصیٰ کے اندر یہودی عبادت گاہ بنانے کا اعلان،سعودی عرب کا ردعمل

    اسرائیلی وزیر کا مسجد اقصیٰ کے اندر یہودی عبادت گاہ بنانے کا اعلان،سعودی عرب کا ردعمل

    اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی اتما بن گویر نے مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے اندر یہودی عبادت گاہ بنانے کا اعلان کیا ہے

    اسرائیلی انتہاپسند وزیر نے یہ اعلان کر کے گزشتہ برس اکتوبر سے جاری حماس اسرائیل جنگ کو مزید ہوا دی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے وزیر اتمار بن گویر نے آرمی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بنا سکے تو مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں یہودی عبادت گاہ ضرور بنائیں گے، اس مقدس جگہ پر اسرائیلی جھنڈا بھی لگاؤں گا،

    دسمبر 2022 میں قومی سلامتی کے وزیر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اتمار بن گویر 6 بار مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ کا دورہ کر چکے ہیں،مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ کا کنٹرول ظاہری طور پر اردن کے پاس ہے تاہم حقیقی طور پر کمپاؤنڈ میں داخلے کی اجازت کا کنٹرول اسرائیلی فورسز نے سنبھال رکھا ہے،اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں عبادت کی اجازت ہونی چاہیے، جب عرب اپنی مرضی سے جہاں چاہیں عبادت کر سکتے ہیں تو یہودیوں کو بھی اپنی مرضی سے عبادت کی اجازت ہونی چاہیے،صیہونی ریاست کی موجودہ پالیسی اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ یہودی ماؤنٹ ٹیمپل میں جاکر عبادت کریں۔

    اسرائیلی وزیر کئی بار مسجد اقصیٰ میں جا کر بے حرمتی کر چکے ہیں،خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق،اتمار بین گویراور 2,250 دیگر اسرائیلی یہودی ترانے گاتے ہوئے مسجد کے احاطے میں داخل ہوئے، اس دوران اسرائیلی پولیس کے اہلکاروں کی بڑی تعداد اتمار بین گویر کے ساتھ تھی،مسجد الاقصیٰ کے متولی نے کہا کہ وزیر بن گویر مسجد میں جمود برقرار رکھنے کے بجائے یہودیت کی مہم چلا رہے تھے۔ وہ مسجد اقصیٰ کے اندر کی صورتحال کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں بولنے کا حق نہیں ہے۔

    مسجد اقصیٰ کمپاؤنڈ جسے یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں، مسلمانوں کے لیے تیسرا مقدس ترین مقام اور فلسطینیوں کی شناخت ہے، یہودی اسے پہلا اور دوسرا ٹیمپل تصور کرتے ہیں جسے 70 قبل مسیح میں رومیوں نے تباہ کر دیا تھا،اسرائیلی حکام کی جانب سے دہائیوں سے بنائے گئے قوانین کے تحت یہودی اور دیگر غیر مسلم مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں مخصوص اوقات میں جا سکتے ہیں تاہم انہیں وہاں کسی قسم کی عبادت کرنے یا کوئی بھی مذہبی نشان دکھانے کی اجازت نہیں ہے،آرتھوڈوکس یہودیوں کی جانب سے بھی اتمار بن گویر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور نامور یہودی ربیوں کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی حرمت کی وجہ سے کسی بھی یہودی کا وہاں داخلہ ممنوع ہے،حالیہ کچھ برسوں میں اتمار بن گویر جیسے سخت گیر مذہبی رہنماؤں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ کی کئی بار بے حرمتی کی گئی اور اس دوران یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑے بھی ہوئے،

    مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کا احترام کیا جائے،سعودی عرب
    مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کی عبادت گاہ سے متعلق اسرائیلی وزیر کے بیان پر سعودی عرب کی جانب سے مذمت کی گئی ہے،سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ شدت پسندی پر مبنی اسرائیلی بیان مسترد کرتے ہیں، مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کا احترام کیا جائے، عالمی برادری فلسطینی عوام کو درپیش انسانی المیے کی روک تھام کرے، عالمی قوانین اور قرار دادوں کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔

    یہودی وزیر کا بیان مشرقِ وسطیٰ اور عالمی امن سے کھیلنے کے مترادف ہے،طاہر اشرفی
    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمو د اشرفی نے بھی اسرائیلی وزیر کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیر اتمار بِن گویر کا بیان پورے عالم اسلام اور امن چاہنے والوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے،مسجدِ اقصیٰ میں یہودیوں کی عبادت گاہ بنانے کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہیں، اسلامی تعاون تنظیم اور اقوامِ متحدہ کو فوری طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، یہودی وزیر کا بیان مشرقِ وسطیٰ اور عالمی امن سے کھیلنے کے مترادف ہے،عالمی برادری کو اسرائیلی وزیر کے اس بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، اسرائیل کی سفاکیت اور بربریت کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے

  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ حماس حملے کے 10 ماہ بعد مستعفی

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ حماس حملے کے 10 ماہ بعد مستعفی

    حماس کے گزشتہ برس 7 اکتوبر کے حملوں کو روکنے میں ناکامی پر 10 ماہ بعد اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے چیف مستعفی ہو گئے ہیں

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے مستعفی میجر جنرل اہرن ہالیوا نے سات اکتوبر کے واقعات کی ریاستی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے،اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے نئے سربراہ میجر جنرل شیلومی ہوں گے جن کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کو ترجیح ہو گی،اسرائیلی فوج میں یہ تبدیلیاں ایسے وقت آئی ہیں جب اسرائیل پر ایران کے حملے کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکی طیارہ بردار یو ایس ایس ابراہام لنکن مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے،امریکی طیارہ بردار یو ایس ایس تھیوڈور روز ویلٹ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہے جبکہ جنوبی لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملے بھی جاری ہیں۔

    گزشتہ 10 ماہ سے حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں حماس کا اسرائیل پر سات اکتوبر کا حملہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی ناکامی تھی اب اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے چیف نے استعفیٰ دیا اور کہا کہ 7 اکتوبر کو حملے سے سرحد کا تحفظ نہیں کر سکے،حملے کو نہ روک سکنا ہماری ناکامی تھا، اسرائیل کی تاریخ میں سب سے بڑے حملے کا پتہ لگانے اور اسے روکنے میں ہم ناکام رہے،

    دوسری طرف اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے چیف کے استعفیٰ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صحیح فیصلہ قرار دیا ، 38 برس سے بھی زیادہ وقت تک فوج سے جڑے رہنے والے اسرائیل کی ملٹری انٹلیجنس کے سربراہ اہرون ہالیوا حماس کے حملے کا پتہ لگانے میں ناکام رہنے کے سبب عہدہ چھوڑنے والے پہلے سینئر اسرائیلی افسر بن گئے ہیں

    گزشتہ برس 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر زوردار حملے کرکے پورے علاقے میں تباہی پھیلا دی تھی، اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی اور غیر ملکی مارے گئے تھے،حماس نے 250 لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور ساتھ لے گئے تھے،

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

  • تل ابیب میں ہونے والا حملہ ہم نے کیا،القسام بریگیڈ

    تل ابیب میں ہونے والا حملہ ہم نے کیا،القسام بریگیڈ

    حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ نے گزشتہ روز اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے

    القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں آپریشن اسلامی جہاد کے مسلح ونگ القدس بریگیڈ کے ساتھ مل کر کیا ہے، حملے میں ایک شخص ہلاک ایک زخمی ہوا تھا، اسرائیلی حکام نے تل ابیب پر حملے کو دہشت گردانہ حملہ کہا ہے،اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں ہونے والے دھماکے میں مارا جانے والا شخص بم بار ہے جس نے بیگ میں بم رکھا ہوا تھا ، تل ابیب میں بم دھماکے کے واقعے کے پیچھے تمام امکانات کی چھان بین کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن اسرائیل غزہ جنگ بندی کے لئے متحرک ہو چکے ہیں، انہوں نے حالیہ غزہ جنگ بندی مذاکرات کو فیصلہ کن لمحہ قرار دیا ہے،اسرائیل کے دورے پر آئے امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے امریکا کی حالیہ سفارتی کوششیں ممکنہ طور پر آخری موقع ہیں جن کے ذریعے مغویوں کو رہا کرایا جا سکتا ہے،امریکا یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ علاقائی کشیدگی میں اضافہ نہ ہو،بلنکن آج اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سمیت سینئر اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے،امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن تل ابیب سے مصر کا دورہ بھی کریں گے.

  • غزہ،اسرائیلی حملے میں سکول میں ٹھہرے بچوں ،خواتین سمیت 100 شہید

    غزہ،اسرائیلی حملے میں سکول میں ٹھہرے بچوں ،خواتین سمیت 100 شہید

    غزہ شہر کے علاقے الدرج میں التبین اسکول پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 100 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، صہیونی فورسز نے حملہ صبح فجر کے وقت کیا، جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے، بمباری کے باعث اسکول کے مختلف حصوں میں آگ لگ گئی، اسکول میں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی

    اسرائیل اور حماس کے مابین گزشتہ برس سات اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی،اسرائیل مسلسل غزہ پر حملے کر رہا ہے، اسرائیل نے اب ایک تازہ حملہ کیا ہے جس میں 100 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں،درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں، اسرائیل نے حملہ سکول میں کیا جس میں بے گھر افراد ٹھہرے ہوئے تھے،تین اسرائیلی جہازوں نے فجر کے وقت حملہ کیا جس کے بعد سکول میں آگ لگ گئی، موجود لوگوں میں افرا تفری مچ گئی، حملے میں بچوں، خواتین سمیت 100 افراد جان کی بازی ہار گئے،

    غزہ پر فضائی حملے کے بعد اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں کو مارنے کے لیے ایئر اسٹرائک کی گئی ہے، عام شہریوں کو نقصانے پہنچانے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ شہریوں کو کم سے کم نقصان ہو سکے اس کے لیے قدم اٹھائے گئے تھے.

    سعودی عرب نے غزہ میں سکول پر حملے کی مذمت کی ہے، سعودی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم غزہ شہر کے مشرق میں واقع الدراج ضلع میں اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے التابین اسکول، جہاں بے گھر افراد نے پناہ لی تھی، کو نشانہ بنانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اردن نے بھی غزہ میں ایک اسکول پر اسرائیل کی بمباری کی شدید مذمت کی، جس میں 100 سے زائد شہری جاں بحق ہوگئےتھے۔