Baaghi TV

Tag: غزہ

  • اسرائیل کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ،خواتین ،بچوں سمیت 75 شہید

    اسرائیل کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ،خواتین ،بچوں سمیت 75 شہید

    اسرائیل باز نہ آیا، اسرائیل نے غزہ میں بمباری کی، اسرائیلی حملہ رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ پر کیا گیا، حملے میں 75 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، شہدا میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں

    اسرائیل نے آج پیر کی صبح رفح پر حملہ کیا، اسرائیل کی جانب سے بمباری کے بعد رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ میں آ گ لگ گئی، حملے میں 75 شہادتیں ہوئی ہیں، زیادہ شہادتیں جھلس جانے کی وجہ سے ہوئی ہیں، متعدد افراد زخمی ہیں، شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، رفح میں پناہ گزین کیمپ میں شمالی غزہ سے بے دخل فلسطینیوں کی بڑی تعداد میں مقیم ہے

    میڈیا پورٹس کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں اقوام متحدہ کے کیمپوں پر دسویں بار حملہ کیا ہے نو حملے پہلے ہو چکے ہیں،اسرائیل نے 24 گھنٹوں میں 230 سے زائد فلسطینیوں کا قتل عام کیا اس سے قبل اسرائیل نے جبالیہ، نصیرت اور غزہ سٹی میں کیمپوں پر حملوں میں 160 فلسطینیوں کا قتل کیا

    اسرائیل نے رفح پر حملے کے بعد دعویٰ کیا کہ اسرائیلی طیاروں نے رات رفح میں حماس کے ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، حملےکے مقام پر حماس کے اہم ارکان ٹھہرے ہوئے تھے ،غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 36 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ رفح میں بے گھر افراد کے لیے ایک کیمپ قائم کیا گیا جہاں اسرائیل نے حملہ کیا۔ شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ النجلہ میں ایک گھر پر اسرائیلی فوج کے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    قبل ازیں گزشتہ روز حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، حماس نے تل ابیب پر میزائل حملہ کیا تھا، حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر دعویٰ کیا کہ یہ راکٹ صیہونی شہریوں کے قتل عام کے جواب میں داغے گئے ہیں، راکٹ غزہ کی پٹی سے فائر کیے گئے۔ تاہم ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی کوئی خبر نہیں ملی

    حماس مجاہدین نےمتعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا

    اسرائیل کا عالمی عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو جرمنی میں داخل ہوئے تو گرفتار کرلیا جائے گا،جرمن چانسلر

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

  • غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری،مزید 85 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری،مزید 85 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری ہیں،چوبیس گھنٹوں میں 70 مقامات پر بمباری کی گئی، جس میں مزید 85 فلسطینی شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے،شہدا کی تعداد 35 ہزار 600 سے زیادہ ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے ان حملوں عمارتیں منہدم ہونے سے بہت سے افراد ملبے میں دب گئے جبالیہ کیمپ میں بھی فائرنگ کرکے درجنوں فلسطینیوں کو شہید کیا گیا صہیونی فورسز نے شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال کا محاصرہ کرلیا اسرائیلی ٹینکوں نے اسپتال کی ایمرجنسی کے دروازے پر گولا باری کی اسپتال کے عملے، مریضوں اور زخمیوں کو نکل جانے کا حکم دیا گیا،اسرائیلی حملوں کے باعث غزہ میں امدادی سامان اور ایندھن کی شدید قلت ہے –

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، …

    فلسطینی مہاجرین کے لیے کام کرنے والی تنظیم انروا کے مطابق غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں اس وقت خوراک کی تقسیم معطل ہے۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انروا نے کہا کہ عدم تحفظ اور امدادی سامان کی قلت کے باعث رفح میں اس وقت خوراک کی تقسیم معطل ہے،رواں ماہ غزہ نے جنوب اور شمال میں اسرائیلی حملوں کے باعث فلسطینیوں کو ایک بار پھر اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنی پڑی ان حملوں کے نتیجے میں غزہ میں امداد کی رسائی بھی متاثر ہوئی جس سے غذائی قلت کا خطرہ بڑھ گیا۔

    لاہور سمیت ملک کے بیشتر علاقے اِس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں

    اپنے بیان میں انروا کا کہنا تھا کہ اس کے 24 مراکز صحت میں سے صرف 7 مراکز ہی فعال ہیں رفح کراسنگ اور کرم ابو سالم کراسنگ کی بندش کی وجہ سے گزشتہ 10 روز سے اسے کسی قسم کا طبی سامان موصول نہیں ہوا 7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں 35 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں انروا کے پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے 449 افراد بھی شامل ہیں اب تک انروا کے مراکز اور ان میں موجود لوگوں پر 382 حملے ہوچکے ہیں جبکہ انروا کے 189 اہلکار بھی اس تنازع کا شکار ہوچکے ہیں ،قوام متحدہ کے آفس فار دی کو آرڈینیشن آف ہیومنٹیرئین افیئرز کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک مغربی کنارے میں 480 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں 116 بچے بھی شامل ہیں۔

    قیمتی پتھروں کی صنعت میں ویلیو ایڈیشن کے حوالے سے تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں، …

  • عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    عالمی عدالت انصاف ، پراسیکیوٹر نے اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کردی

    انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں پراسیکیوشن نے اسرائیلی وزیراعظم، وزیرخارجہ اور حماس کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کردی ہے،عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے غیر ملکی خبر ایجنسی کو انٹرویو میں بتایا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست دی ہے،عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ ،حماس کے سرکردہ رہنماؤں القاسم بریگیڈ کے رہنما محمد ضیف اور حماس کے اسماعیل ہنیہ،یحییٰ سنوار کے وارنٹ طلبی کی درخواست دائر کی ہے

    https://x.com/intlcrimcourt/status/1792511246769570084?s=46&t=UJzUvndbKkvbo4lbzD2Z9w&mx=2

    آئی سی سی کے ججوں کا ایک پینل اب پراسیکیوٹر کریم خان کی گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست پر غور کرے گا۔کریم خان نے بتایا کہ یحیٰ سنوار، اسماعیل ہنیہ اور المصری کے خلاف الزامات میں "قتل، یرغمال بنانا، عصمت دری اور حراست میں جنسی زیادتی شامل ہیں، نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف الزامات میں جنگ کے طریقہ کار کے طور پر بھوکا مارنا، بشمول انسانی امداد کی فراہمی سے انکار، جان بوجھ کر تنازعات میں شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔

    پراسیکیوٹر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، اگر اسرائیل آئی سی سی سے متفق نہیں ہے تو وہ ججوں کے سامنے اسے چیلنج کرنے میں آزاد ہے

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ آج میں ریاست فلسطین کی صورتحال میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پری ٹرائل چیمبر I کے سامنے وارنٹ گرفتاری کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں۔یحیٰ سنوار،محمد دیاب ابراہیم المصری،اسماعیل ہنیہ کے بھی وارنٹ کی درخواست کی ہے،ان پر بھی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی مجرمانہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے،انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر قتل، یرغمال بنانا ایک جنگی جرم ؛عصمت دری اور جنسی تشدد کی دیگر کارروائیوں کو انسانیت کے خلاف جرائم کے طور پر؛تشدد کو انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر،

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ ان درخواستوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک بین الاقوامی مسلح تصادم اور اسرائیل اور حماس کے درمیان متوازی طور پر چلنے والے ایک غیر بین الاقوامی مسلح تصادم کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ انسانیت کے خلاف جن جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے وہ تنظیمی پالیسیوں کے مطابق حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے ذریعہ اسرائیل کی شہری آبادی کے خلاف وسیع پیمانے پر اور منظم حملے کا حصہ تھے۔ ان میں سے کچھ جرائم آج تک جاری ہیں۔یحیٰ سنوار، ضٰف اور اسماعیل حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے حملوں میں،یہ سینکڑوں اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ اکتوبر 2023 میں کم از کم 245 یرغمال بنائے۔ ہماری تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر، میرے دفتر نے متاثرین اور بچ جانے والوں کا انٹرویو کیا ہے، بشمول سابق یرغمالیوں اور حملے کے چھ بڑے مقامات کے عینی شاہدین کا، ثبوتوں کے لئے آڈیو ، ویڈیوز، اراکین کے بیانات موجود ہیں،ان افراد نے 7 اکتوبر 2023 کو جرائم کی منصوبہ بندی کی اور اکسایا ،یہ جرائم ان کے اعمال کے بغیر سرزد نہیں ہو سکتے تھے۔ ان پر روم سٹیٹیوٹ کے آرٹیکل 25 اور 28 کے مطابق شریک مرتکب اور اعلیٰ افسر کے طور پر دونوں الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے افراد کو غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے، اور یہ کہ بعض کو قید میں رکھنے کے دوران عصمت دری سمیت جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہم میڈیکل ریکارڈز، عصری ویڈیو اور دستاویزی ثبوتوں، اور متاثرین اور بچ جانے والوں کے انٹرویوز کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ میرا دفتر 7 اکتوبر کو ہونے والے جنسی تشدد کی رپورٹوں کی تحقیقات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔میں زندہ بچ جانے والوں، اور 7 اکتوبر کے حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے آگے آنے کی جرات کی۔ ہم ان حملوں کے ایک حصے کے طور پر کیے گئے تمام جرائم کی تحقیقات کو مزید گہرا کرنے پر مرکوز ہیں اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔میں ایک بار پھر سے تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہوں۔

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، یوو گیلنٹ
    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ میرے دفتر کے ذریعے جمع کیے گئے اور جانچے گئے شواہد کی بنیاد پر، میرے پاس یہ ماننے کے لیے معقول بنیادیں ہیں کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ، درج ذیل جنگی جرائم اور جرائم کے لیے مجرمانہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ جنگی جرم کے طور پر جنگ کے طریقہ کار کے طور پر شہریوں کا بھوکا رہنا؛ جان بوجھ کر شدید تکلیف پہنچانا، یا جسم یا صحت کو شدید چوٹ پہنچانا،ظالمانہ سلوک؛ جان بوجھ کر قتل، جنگی جرم کے طور پر جان بوجھ کر شہری آبادی کے خلاف حملوں کی ہدایت کرنا؛انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر ظلم و ستم؛انسانیت کے خلاف جرائم کے طور پر دیگر غیر انسانی کارروائیاں۔

    میرا دفتر عرض کرتا ہے کہ ان درخواستوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک بین الاقوامی مسلح تصادم کے تناظر میں کیا گیا تھا، اور اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک غیر بین الاقوامی مسلح تصادم (دوسرے فلسطینی مسلح گروپوں کے ساتھ) متوازی چل رہا تھا۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ریاستی پالیسی کے مطابق فلسطینی شہری آبادی کے خلاف وسیع اور منظم حملے کے حصے کے طور پر کیا گیا تھا۔ یہ جرائم، ہماری تشخیص میں، آج تک جاری ہیں۔

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ ہم نے جو شواہد اکٹھے کیے ہیں، بشمول زندہ بچ جانے والوں اور عینی شاہدین کے انٹرویوز، تصدیق شدہ ویڈیو، تصویر اور آڈیو مواد، سیٹلائٹ کی تصاویر اور مبینہ مجرم گروپ کے بیانات، ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے ملک کے تمام حصوں میں شہری آبادی غزہ کو اشیاء سے محروم رکھا ،یہ غزہ پر مکمل محاصر ہ تھا، 8 اکتوبر 2023 سے تین سرحدی کراسنگ پوائنٹس، رفح، کریم شالوم اور ایریز کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور پھر ضروری سامان کی منتقلی پر پابندی لگا دی گئی، بشمول خوراک اور ادویات۔ اسرائیل سے غزہ تک سرحد پار پانی کی پائپ لائنوں کو کاٹا گیا، غزہ کے شہریوں‌کو صاف پانی سے محروم کیا اور کم از کم 8 اکتوبر 2023 سے آج تک بجلی کی سپلائی کو منقطع کرنا اور اس میں رکاوٹ ڈالنا بھی شامل ہے۔ یہ عام شہریوں پر دوسرے حملوں کے ساتھ ہوا ، انسانی ہمدردی کے اداروں کی طرف سے امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی گئی،اور امدادی کارکنوں پر حملے اور ان کا قتل کیا گیا جس کی وجہ سے بہت سے امداد ی ایجنسیوں کو غزہ میں اپنی کارروائیاں بند کرنے یا محدود کرنے پر مجبور کیا گیا، یہ کارروائیاں بھوک کو جنگ کے طریقہ کار کے طور پر استعمال کرنے اور غزہ کی شہری آبادی کے خلاف تشدد کی دیگر کارروائیوں کے ایک مشترکہ منصوبے کے حصے کے طور پر کی گئی تھیں (i) حماس کو ختم کرنے کے لیے؛ (ii) ان یرغمالیوں کی واپسی کو محفوظ بنانے جنہیں حماس نے اغوا کیا ہے، اور (iii) غزہ کی شہری آبادی کو اجتماعی طور پر سزا دینا، جنہیں وہ اسرائیل کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے دو ماہ سے زیادہ پہلے خبردار کیا تھا، "غزہ میں 1.1 ملین لوگ تباہ کن بھوک کا سامنا کر رہے ہیں – ایک "مکمل طور پر انسان ساختہ تباہی” کے نتیجے میں – کہیں بھی، کسی بھی وقت ریکارڈ کیے گئے لوگوں کی سب سے زیادہ تعداد۔ آج، میرا دفتر ان سب سے زیادہ ذمہ داروں میں سے دو، NETANYAHU اور GALLANT پر فرد جرم عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسرائیل، تمام ریاستوں کی طرح، اپنی آبادی کے دفاع کے لیے کارروائی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم یہ حق اسرائیل یا کسی بھی ریاست کو بین الاقوامی انسانی قانون کی تعمیل کرنے کی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔ ان کے کسی بھی فوجی اہداف کے باوجود، اسرائیل نے غزہ میں ان کو حاصل کرنے کے لیے جن ذرائع کا انتخاب کیا ہے – یعنی جان بوجھ کر موت، بھوک، اور شہری آبادی کے جسم یا صحت کو شدید چوٹ پہنچانا – مجرمانہ ہیں۔

  • بھارت بھی فلسطینیوں کے قتل عام میں ملوث،ثبوت مل گئے

    بھارت بھی فلسطینیوں کے قتل عام میں ملوث،ثبوت مل گئے

    فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام میں بھارت بھی برابر کا شریک، بھارت اسرائیل کو اسلحہ بھیج رہا ہے جو فلسطینی شہریوں‌کے قتل عام میں استعمال ہو رہا ہے، یہ انکشاف اس وقت ہوا جب ایک جہاز کو روکا گیا جو اسرائیل جا رہا تھا اور اس میں بھارتی اسلحہ تھا

    اسرائیل جہانے والے جہاز کو اسپین نے اپنی بندر گاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی، بحری جہاز میں تقریبا 27 ٹن دھماکہ خیز مواد تھا جو بھارت اسرائیل بھیج رہا تھا،جہاز نے اسپین میں لنگر انداز ہونے کی کوشش کی تا ہم اسپین نے انکار کر دیا،ہسپانوی وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ جس جہاز میں بھارتی دھماکہ خیز مواد اسرائیل لے جایا جا رہا تھا اس پر ڈنمارک کا جھنڈا لگا ہوا ہے، جہاز بھارت کے چنئی سے اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ جا رہا ہے

    ہسپانوی وزیر خارجہ جوز مینوئل کے مطابق اسپین اسرائیل کے لیے ہتھیاروں سے لدے بحری جہازوں کو اپنی بندرگاہوں پر بلانے کی اجازت نہیں دے گا،اسپین کا اقدام جنگ میں حصہ نہ بننے کیلئے اسرائیل کو ہتھیار برآمد نہ کرنے کے لائسنس نہ دینے کے سرکاری فیصلے کے مطابق ہے،مشرق وسطیٰ کو مزید ہتھیاروں کی ضرورت نہیں، امن کی ضرورت ہے۔

    ایک سال میں 16 خواتین قتل،کاروکاری کے پانچ،گمشدگی کے سات کیس رپورٹ

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • غزہ  میں اسرائیلی ٹینکوں نے اپنے ہی فوجیوں کو نشانہ بنا ڈالا، 5 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ میں اسرائیلی ٹینکوں نے اپنے ہی فوجیوں کو نشانہ بنا ڈالا، 5 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ: شمالی غزہ میں اسرائیلی ٹینکوں نے اپنے ہی فوجیوں کو نشانہ بنا ڈالا-

    باغی ٹی وی : شمالی غزہ میں اسرائیلی ٹینکوں نے اپنے ہی فوجیوں کو نشانہ بنا ڈالا، اسرائیلی ٹینک کی عمارت پر گولہ باری سے 5 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے جبکہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں اضافی فوج بھیجنے کے اعلان کے ساتھ اسرائیلی فوج کے غزہ کے رہائشی علاقوں پر حملے جاری ہیں جس نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 40 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں،

    اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیل نے جنگ کا دائرہ کار 78 فیصد غزہ تک پھیلادیا ہے، اسرائیل کی مزید پیش قدمی ’انسانی تباہی‘ کا سبب بن سکتی ہے،دوسری جانب شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کے ڈرون حملے میں 5 اسرائیلی فوجی زخمی زخمی ہوگئے جبکہ اسرائیلی فوجی تنصیب کو نقصان پہنچا۔

    غزہ کے جنوبی شہر رفح میں یہ ہولناک مرحلے پر پہنچ گئی،جنوبی افریقا

    ادھر اسرائیلی فوج کے غزہ میں طویل المدتی قیام اور حکمرانی پر وزیراعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یووگیلنٹ کے درمیان شدید اختلافات سامنے آگئے اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا ہے کہ ہمیں غزہ میں حماس کی حکمرانی کو بڑی فوجی کارروائی کے ذریعے خاتمہ کرنا چاہیے اور حماس کی جگہ کسی دوسری حکومت کے قیما کی کوشش کرنا چاہیے، غزہ کے لیے دو آپشنز ہی ہیں یا تو حماس کی حکومت قائم رہے یا غزہ میں اسرائیلی فوجی حکمرانی، لیکن میں فوجی حکمرانی کی مخالفت کروں گا اور وزیراعظم نیتن یاہو سے اس منصوبے کو ترک کرنے پر زور ڈالوں گا،اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے ہی وزیراعظم کی غزہ پالیسی پر ان اعتراضات کا ٹیلی ویژن پر کھل کر اظہار کیا جس سے غزہ جنگ میں وزیراعظم نیتن یاہو، وزرا اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کے درمیان کشمکش اور عدم اتفاقی کا بھانڈا پھوٹ دیا۔

    علاوہ ازیں غزہ میں جاری جارحیت میں اسرائیل کا ساتھ دینے پر بائیڈن انتظامیہ کی یہودی خاتون عہدے دار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    فلسطینیوں کی نسل کشی: بائیڈن انتظامیہ کے ایک اور رکن نے استعفی دے دیا

  • غزہ : سرائیلی فوج کے حملوں میں مزید  82 فلسطینی شہید،1اسرائیلی فوجی سمیت 2 افراد ہلاک اور 5 زخمی

    غزہ : سرائیلی فوج کے حملوں میں مزید 82 فلسطینی شہید،1اسرائیلی فوجی سمیت 2 افراد ہلاک اور 5 زخمی

    غزہ: اسرائیلی فوج نے غزہ میں حملے بڑھا دیے ہیں ، غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج کے حملوں میں مزید 82 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہےکہ 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 35 ہزا سے زائد افراد شہید اور 78 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق رفح اور جبالیہ کیمپ کے علاقوں میں اس وقت اسرائیلی فوج اور حماس کے جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں، اسرائیلی ٹینکوں، بلڈوزروں اور بکتربند گاڑیوں نے جبالیہ میں بےگھرافراد کے مراکز کا بھی محاصرہ کرلیا صیہونی غزہ کے مظلوم شہریوں کیلئے امداد لانے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر بھی حملے کررہے ہیں جب کہ رفح کے قریب واقع یورپین اسپتال کو جنریٹرز کیلئے ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے بند کردیا گیا ہے۔

    بچے سے بدفعلی کرنیوالے کو قتل کرنیوالا ملزم گرفتار

    اقوام متحدہ کے مطابق رفح میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد اب تک 4 لاکھ سے زائد افراد رفح چھوڑ کر غزہ کے دیگر شہروں اور کیمپوں میں چلے گئے ہیں، یہ تمام شہری بے سروسامانی کی حالت میں ہیں۔

    دوسری جانب مختلف حملوں میں ایک اسرائیلی فوجی سمیت 2 افراد ہلاک اور 5 زخمی ہوگئےٹائمز آف اسرائیل کے مطابق جنوبی غزہ کی پٹی میں لڑائی کے دوران ایک اسرائیلی فوجی مارا گیا اسرائیلی فوج نے اسے رفح میں اپنی پہلی ہلاکت قرار دیا ہے، ہلاک فوجی کی شناخت 19 سالہ سارجنٹ ایرا یائر گسپان کے نام سے ہوئی۔

    اسحاق ڈارکی بطورنائب وزیراعظم تقرری کیخلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ

    دوسرے واقعے میں لبنان سے حزب اللہ نے اسرائیلی فوجی پوزیشن پر اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل حملہ کیا جس سے ایک اسرائیلی شہری ہلاک اور پانچ فوجی زخمی ہو گئے، حزب اللہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے تین میزائل داغے تھے پہلے میزائل حملے میں اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد ایک اسرائیلی شہری فوجی پوزیشن پر پہنچا تو وہاں مزید میزائل کیے گئے جس کی زد میں آکر وہ ہلاک ہوگیا۔

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے دو علاقوں آئتہ الشاب اور کفر قلعہ میں حزب اللہ کے کی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔

    توشہ خانہ تحائف کے قوانین میں ترامیم منظور

  • جامعہ کراچی میں غزہ کے مظلومین کے حق میں ’’دیوار یکجہتی‘‘ قائم

    جامعہ کراچی میں غزہ کے مظلومین کے حق میں ’’دیوار یکجہتی‘‘ قائم

    کراچی: جامعہ کراچی میں غزہ کے مظلومین کے حق میں ’’دیوار یکجہتی‘‘ قائم کردی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ دیوار یکجہتی جامعہ کراچی کی معروف آرٹس لابی میں فلسطین اکیڈمک فورم اور انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے اشتراک سے بنائی گئی ہے ، جہاں 33 میٹر لمبا بینر آویزاں کیا گیا ہے جس پر منگل کی صبح سے دستخطی مہم کا آغاز ہورہا ہے ،بدھ 15 مئی کو جامعہ کراچی میں فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے سلسلے میں یکجہتی طلبا واک کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے، اس پروگرام میں شیخ الجامعہ کو بھی مدعو کیا گیا ہے-

    آرٹس لابی میں قائم کی گئی دیوار یکجہتی پر انگریزی زبان میں Wall of solidarity, stop genocide in Palestine, we stand in solidarity with Palestinians سمیت دیگر عبارتیں لکھی ہوئی ہیں جبکہ جامعہ کراچی کے نشان کے علاوہ پاکستان اور فلسطین کا پرچم بنا ہوا ہے جس پر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اساتذہ، طلبا و ملازمین کے دستخط لیے جائیں گے، جامعہ کراچی کے اساتذہ و طلباء کے علاوہ کالجوں کے اساتذہ و طلباء بھی شریک ہورہے ہیں اور اس سلسلے میں سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کو بھی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔

    پانی کے بہاؤ میں اضافہ :ارسا نے پنجاب اور سندھ کے پانی میں اضافہ …

    الیکشن کمیشن کے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات پر 7 اعتراضات

    ہڑتالوں کو نظر اندازکرتے ہوئے جوڈیشل افسران اپنی ڈیوٹی جاری رکھیں، لاہور ہائیکورٹ رجسٹرار

  • طلبہ نے یونیورسٹی کالج لندن میں کیمپ کا نام ’رفح کیمپس‘ رکھ دیا

    طلبہ نے یونیورسٹی کالج لندن میں کیمپ کا نام ’رفح کیمپس‘ رکھ دیا

    لندن: غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف مختلف ممالک کے طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : لندن کی سوایس یونیورسٹی میں طلبہ نے احتجاجی کیمپ کا نام ’آزاد علاقہ‘ اوریونیورسٹی کالج لندن میں کیمپ کا نام ’رفح کیمپس‘ رکھ دیا ہے ،ادھر امریکا میں ہارورڈ یونیورسٹی کی عمارت کا ہال اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید صحافی شیریں ابو عاقلہ کے نام کردیا گیا ہے۔

    امریکا میں طلبہ کے مظاہروں میں اساتذہ نے بھی شرکت کی جس پر پولیس کی جانب سے کریک ڈاؤن کا سلسلہ بھی جاری ہے، 18 اپریل سے اب تک 2500 طلبہ کے ساتھ 50 پروفیسرز کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

    آزاد کشمیر میں کشیدہ صورتحال، متعدد شہروں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل

    اس کے علاوہ اسپین میں ہزاروں افراد نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے صیہونیوں فلسطینی سرزمین چھوڑ دو کے نعرے لگائے، جاپان میں سیکڑوں افراد نے انتفادہ مارچ کا اہتمام کیا، ٹوکیو میں مظاہرین نے نسل کشی بند کرو کے نعرے لگائے جب کہ سوئیڈن میں موسیقی کے عالمی مقابلے ’یورو ویژن سانگ‘ کے موقع پر فلسطین حامیوں نے مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین آزاد کرو کے نعرے لگائے۔

    نان روٹی ایسوسی ایشن روٹی 15 روپے میں فروخت کرنے پر رضا مند

    واضح ہے کہ سات اکتوبر سے اب تک حماس-اسرائیل جنگ میں فلسطینی علاقے میں کم از کم 34,971 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ تعداد میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی کم از کم 28 اموات شامل ہیں نیز وزارت نے کہا کہ سات اکتوبر کے حملے کے نتیجے میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے 78،641 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

    محکمہ موسمیات کی مختلف شہروں میں بارش کی پیشگوئی

  • جنگ بندی کا معاہدہ طے ہوجانے کے باوجود  رفح پر حملہ کریں گے، اسرائیلی وزیر اعظم

    جنگ بندی کا معاہدہ طے ہوجانے کے باوجود رفح پر حملہ کریں گے، اسرائیلی وزیر اعظم

    تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ طے ہوجانے کے باوجود اپنے اہداف کے حصول کے لیے رفح پر حملہ کریں گے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے تمام مقاصد حاصل کیے بغیر جنگ کو راستے میں روک دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہم پر مسلط کی گئی جنگ کو ادھورا نہیں چھوڑ یں گے، اگرایسا کیا تو دوبارہ اسرائیل پر حملے ہونے کا امکان زندہ رہے گا۔

    بیان میں جنگ بندی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود رفح میں فوجی آپریشن کریں گےیہ جنگی اہداف کے حصول کے لیے بے حد ضروری ہےاسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن مشرق وسطیٰ کےاہم دورے پر سعودی عرب کے بعد اردن پہنچے ہیں اور دورے کے اختتام پر اسرائیل بھی جائیں گے۔

    مرتضیٰ وہاب نے وزیراعظم سے کراچی کا ٹریفک سنبھالنے کی درخواست کردی

    واضح رہے کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک اسرائیلی وزیراعظم سے رفح میں لاکھوں پناہ گزینوں کی زندگیوں کی حفاظت کو یقینی بنائے بغیر کسی بھی فوجی آپریشن سے باز رہنے پر زور دیتے آئے ہیں، تاہم اسرائیل کا مؤقف ہے کہ رفح میں حماس کے کئی ایسے کمانڈرز پناہ گزینو ں کے بھیس میں موجود ہیں جنھوں نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں حصہ لیا یا اس کی منصوبہ بندی کی تھی۔

    دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی کوششیں جاری ہیں، برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ کیمرون کے مطابق اسرائیل نے حماس کو غزہ میں 40 روز کی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے،یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے ممکنہ طورپر ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی پیشکش بھی شامل ہے۔

    ایف بی آر نے 6 لاکھ 6 ہزار 671 ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی کرلی

    ڈیوڈ کیمرون نے اُمید ظاہر کی کہ حماس ان تجاویز پر اتفاق کرے گی کیونکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی تک جنگ نہیں رکے گی اور یہ کہ دو ریاستی حل کے سیاسی ماحول کے لیے حماس قیادت اور7 اکتوبر کے ذمہ داروں کو غزہ چھوڑنا ہوگا،حماس کا وفد آج قاہرہ میں مصری اور قطری ثالث کاروں سے ملاقات میں اسرائیل کی جنگ بندی تجاویز پر اپنا جواب دے گا۔

    گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی منظوری ‘را’ نے دی تھی،امریکی میڈیا

  • امریکی میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ میں غزہ  میں اسرائیلی جنگی جرائم کی تصدیق

    امریکی میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ میں غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کی تصدیق

    امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں محفوظ قرار دئیےگئے علاقے بھی اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں سے محفوظ نہیں ہیں،رپورٹ میں اسرائیلی جنگی جرائم کی تصدیق ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکا کے این بی سی نیوز کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج شہریوں کو محفوظ علاقوں کا بتا کر وہاں جانےکا کہتی ہے اور پھر سیف زون میں بھی بم برسا دیتی ہے ساڑھے 10 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کی پناہ گاہ رفح اور المواسی زون میں کیے گئے اسرائیلی حملوں میں سیکڑوں فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اسرائیلی فوج کے غزہ میں جنگی جرائم مسلسل بڑھتے ہیں جارہے ہیں اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو صاف پانی سے بھی محروم کر دیا ہے اور غزہ کے واٹر فلٹر پلانٹس میں کلورین استعمال کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

    طورخم پرٹرک کے خفیہ خانوں سے ایک ارب روپے مالیت کی منشیات برآمد

    اقوام متحدہ ایجنسی کے مطابق غزہ میں صرف تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے میں 14 سال لگیں گےیو این مائن ایکشن سروس کا کہنا ہے کہ غزہ میں 4 لاکھ ٰعمارتوں کا 3 کروڑ 70 لاکھ ٹن ملبہ ہے، غزہ میں 4 لاکھ عمارتیں تباہ ہوئی ہیں، تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے میں 14 سال لگ سکتے ہیں،’پورے غزہ میں ہر طرف ملبے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں‘۔

    اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلئے کل بھی تیار تھے، آج بھی تیار ہیں،ترجمان پی ٹی …

    سات اکتوبر کے بعد اسرائیل نے 23 لاکھ سے زیادہ کی آبادی کی غالب اکثریت کے گھر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردئے ہیں۔اقوام متحدہ کے مائن ایکشن سروس کے ایک ذمہ دار نے غزہ میں تباہی اور ملبے کے بارے میں جنیوا میں دی گئی بریفنگ کے دوران کہا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں لگ بھگ 37 ملین ٹن ملبہ غزہ کی گلیوں اور بازاروں میں زمین پر موجود ہے،یہ درست اندازہ لگانا تو مشکل ہے کہ غزہ میں کس قدر گولہ بارود استعمال ہوا مگر ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ کل استعمال شدہ گولہ بارود کا دس فیصد پھٹے بغیر ملبے کا ڈھیر بن جاتا ہے،یہ 100 ٹرکوں کے ساتھ ملبہ نکالنے کی کوشش کی جائے تو 14 سال کا وقت درکار ہوگا۔

    سیکیورٹی فورسز نے ہرنائی میں مسافر گاڑیوں کو روکنے کی دہشتگردوں کی کوشش ناکام …