Baaghi TV

Tag: غزہ

  • حماس حملے کی اسرائیلی فوج کو ستمبر میں رپورٹ مل گئی تھی،اسرائیلی میڈیا

    حماس حملے کی اسرائیلی فوج کو ستمبر میں رپورٹ مل گئی تھی،اسرائیلی میڈیا

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کی رپورٹ اسرائیلی فوج کو مل چکی تھی، اسرائیلی ٹی وی چینل نے ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے

    گزشتہ برس سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیاجس کے بعد اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، اب ایک اسرائیلی ٹی وی نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو حماس کے حملے کی رپورٹ مل چکی تھی،اسرائیلی فوج کو حماس کے حملے کے حوالہ سے جو رپورٹ ملی تھی اس میں بڑے پیمانے پر حملے کا ذکر تھا وہیں شہریوں کو یرغمال بنانے کا ذکر بھی تھا،اسرائیلی ٹی وی کے مطابق اسرائیلی فوج کی 8200 انٹیلی جنس یونٹ کو 19 ستمبر کو یعنی حماس کے حملے سے تقریبا 20 روز قبل حماس کے حملے کی رپورٹ ملی تھی، اس رپورٹ کو اسرائیل کے سینئر افسران کو بھی دکھایا گیا تھا تا ہم اسرائیلی حکام نے اس رپورٹ کو مکمل نظر انداز کر دیا تھا،

    اسرائیل کے کان پبلک براڈ کاسٹر کے مطابق اسرائیلی فوج کو جو 19 ستمبر کو خفیہ رپورٹ ملی تھی اس میں بتایا گیا تھا کہ حماس کی جانب سے دو سو سے 250 کے قریب شہریوں کو یرغمال بنایا جائے گا،حماس نے اسرائیل پر جب حملہ کیا تو 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا،

    حماس کے حملے کے حوالہ سے اسرائیلی میڈیا ایجنسی کان پبلک براڈ کاسٹر تنہا نہیں بلکہ کچھ اور میڈیا اداروں نے بھی اسی طرز کی رپورٹ کو نشر کیا اور کہا کہ اسرائیلی دفاعی محکمہ کے پاس حماس کے حملہ کے حوالہ سے رپورٹ موجود تھیں، اسرائیلی محکمہ دفاع کو یہاں تک معلوم تھا کہ حماس کس طرح اسرائیل کے شہروں اور ملٹری ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا اور شہریوں کو یرغمال کرے گا،حماس کے حملے بارے مکمل تفصیلات ہونے کے باوجود اسرائیل نے اس رپورٹ کو نظر انداز کیا،

    اسرائیلی فوج نے میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، اسرائیلی فوج نے حملے سے متعلق پہلے سے اطلاع ہونے کے دعوے کو مسترد بھی کیا ہے تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ کوتاہیوں کا پتہ لگانے سے متعلق مسلسل تحقیقات میں مصروف ہیں جو بھی رپورٹ آئے گی سب کے سامنے رکھی جائے گی

    غزہ کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں تو دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہوکی مخالفت بڑھتی جارہی ہے۔ یرغمال کئے گئے افراد کی فیملی والے ان کی رہائی کے لئے احتجاج کر رہے ہیں اور وہ اس جنگ سے متعلق نیتن یاہو حکومت کی اب تک کی حکمت عملی کی کھلے عام تنقید کررہے ہیں۔ اسرائیل کے غزہ پرحملے میں 37 ہزار سے بھی زیادہ لوگوں کی جان جاچکی ہے 85 ہزار سے بھی زیادہ لوگ زخمی ہیں 10 ہزار لوگ لاپتہ ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کے باہر احتجاج کرنے والے 8 اسرائیلی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے،احتجاج کرنے والے نئے انتخابات، جنگ بندی معاہدے اور یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے

    حماس یرغمالیوں کو رہاکرتا ہے توکل ہی جنگ بندی ہوجائےگی،امریکی صدر

    یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا

    اسرائیل اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے،ابو عبیدہ

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیلی وزیراعظم نے جنگی کابینہ تحلیل کردی

    اسرائیلی وزیراعظم نے جنگی کابینہ تحلیل کردی

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنگی کابینہ سے دو وزرا کے مستعفی ہونے کے بعد اب 6 رکنی جنگی کابینہ تحلیل کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ دنوں غزہ میں جنگ جاری رکھنے کے معاملے پر جنگی کابینہ میں اختلافات پیدا ہوئے، جس کے بعد 2 وزرا اس کابینہ سے مستعفی ہوئے،جنگی کابینہ سے وزرا کے مستعفی ہونے کے بعد سے اسرائیلی وزیر اعظم پر انتہاپسند جماعتوں کی جانب دباؤ تھا کہ اس کابینہ میں نئے ارکان کو شامل کیا جائے،اس ساری صورتحال میں نیتن یاہو نے آج جنگی کابینہ ہی تحلیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق جنرل بینی گینٹز کے مستعفی ہونے کے بعد جنگی کابینہ کی ضرورت نہیں رہی۔

    جنگی کابینہ چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے ایک مستعفی رکن بینی گینٹز نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وزیر اعظم، ہمیں جنگ میں حقیقی کامیابی سے روک رہے ہیں اسی لیے ہم نے ایمرجنسی کابینہ چھوڑ دی،بینی گینٹز اسرائیلی اپوزیشن رہنما ہیں لیکن حماس کے اسرائیل پر7 اکتوبر کے حملے کے بعد بنائی جانے والی 6 رکنی جنگی کابینہ کا حصہ تھے-

    دوسری جانب سابق اسرائیلی سفارتکار الون نے کہا کہ نیتن یاہو کے جنگی کابینہ کے خاتمے کے فیصلے کے بعد غزہ اور لبنان میں اسرا ئیلی حملے بڑھنے کا امکان ہے۔

  • غزہ: رفح میں کیپٹن سمیت 8 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ: رفح میں کیپٹن سمیت 8 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں ہفتے کے روز کیپٹن سمیت 8 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے-

    باغی ٹی وی :دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز بھی رفح اور اس کے گرد و نواح میں پیش قدمی جاری رکھی صیہونی فورسز کے غزہ کے متعدد علاقوں پر حملوں میں مزید 19 فلسطینی شہید ہو گئے رفح میں ہفتے کی صبح ہونے والے ایک دھماکے میں 8 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئےجو جنوری کے بعد سے غزہ کی پٹی میں آئی ڈی ایف کے لیے سب سے مہلک واقعہ ہے، ان فوجیوں میں سے ایک ’دروز‘ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا 23 سالہ کیپٹن وسیم محمود ہے، جو بیٹ جان سے کمبیٹ انجینئرنگ کور کی 601 ویں بٹالین میں ڈپٹی کمپنی کمانڈر ہے-

    واضح رہے کہ اس سے قبل حماس کے مسلح ونگ نے کہا تھا کہ جنگجوؤں نے رفح کے مغرب میں تل السلطان کے علاقے میں گھات لگا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔

    عالمی بینک نے پاکستان کو 15 کروڑ ڈالر کے مزید قرض کی منظوری دے دی

    سپنٹک کی چوٹی پر لاپتا ہونے والے دو میں سے ایک جاپانی کوہ پیما کی …

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ:بھارت اور کینیڈا کے درمیان میچ بارش کی وجہ سے منسوخ

  • غزہ جنگ : اختلافات پر  نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کےاہم رکن اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

    غزہ جنگ : اختلافات پر نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کےاہم رکن اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

    یروشلم: اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کےاہم رکن اوروزیربینی جینٹس نے غزہ جنگ کے حوالے سے اختلافات پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیرجیننٹس نے اتوارکو اپنی وزرات سے استعفیٰ دے دیا اور خود کو وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت سے علیحدہ کرلیا جو غزہ جنگ کے حوالےسے تشکیل دی گئی جنگی کابینہ کا حصہ تھے۔

    نیوز کانفرنس میں مستعفی وزیرنے بتایا کہ انہوں نے غزہ میں مہینوں سے جاری جنگ کی وجہ سے جنگجو رہنما سے اپنے آپ کوعلیحدہ کرلیا ہے،وزیراعظم نیتن یاہو کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ہمیں غزہ میں کامیابی حاصل نہیں ہورہی ہے جس کی وجہ سے آج وہ دلبرداشتہ ہوکرکابینہ سے استعفے کافیصلہ کررہےہیں۔

    اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں،200 سے زائد فلسطینی شہید

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے قریبی وزیرکے استعفیٰ سے متعلق کہا کہ اس اقدام سے ان کی حکومت کو پارلیمنٹ میں 64 نشستوں کی برتری حاصل ہے اس لیے ان کے جانے سے حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 37 ہزار 84 فلسطینی شہید جبکہ 84 ہزار 494 فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں-

    اقوام متحدہ کا اسرائیلی فوج کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ

  • اسرائیلی فوج کی غزہ میں جارحیت جاری،مزید 283 افراد شہید اور 814 زخمی

    اسرائیلی فوج کی غزہ میں جارحیت جاری،مزید 283 افراد شہید اور 814 زخمی

    غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار سے تجاوز کر گئی-

    باغی ٹی وی :عرب میڈیا نے غزہ کی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 37 ہزار 84 فلسطینی شہید جبکہ 84 ہزار 494 فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں 283 افراد شہید اور 814 زخمی ہوئے، شہید اور زخمی ہونے والوں کی بڑی تعداد گزشتہ روز نصیرات میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے جانے والے قتل عام کا نشانہ بنی، گزشتہ روز غزہ کے نصیرات کیمپ میں اسرائیلی حملوں میں 274 فلسطینی شہید اور 698 زخمی ہوئے۔

    گزشتہ روز اسرائیل کی اسپیشل فورسز نے وسطی غزہ کی پٹی سے چار یرغمالیوں کو بازیاب کرایا، اس مقصد کیلئے انہوں نے انسانی امداد کے ٹرک کا استعمال کیا اور نصرات پناہ گزین کیمپ میں گھس گئےذرائع نے نیوز ایجنسی انادولو کو بتایا کہ اسرائیلی اسپیشل فورسز نے یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے دراندازی کی کارروائی میں ایک ٹرک اور ایک سویلین گاڑی کا استعمال کیا۔

    اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں،200 سے زائد فلسطینی شہید

    انہوں نے مزید بتایا کہ اسرائیلی اسپیشل فورسز نے جن گاڑیوں کا استعمال کیا ، عام طور پر ایسی گاڑیاں غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں استعمال ہوتی ہیں،اسرائیلی فوج کی گاڑیاں غیر متوقع طور پر نصرات کیمپ کے مشرق اور شمال مغرب کے علاقوں میں داخل ہوئیں اور کیمپ کے بڑے علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے بھاری توپ خانے سے بمباری بھی کی-

    اقوام متحدہ کا اسرائیلی فوج کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ

  • اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں،200 سے زائد فلسطینی شہید

    اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں،200 سے زائد فلسطینی شہید

    غزہ: اسرائیل کی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں درجنوں فضائی، بری اور بحری کارروائیاں کیں اور اس کے نتیجے میں 200 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے-

    باغی ٹی وی : الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ ہفتے کو درجنوں فضائی کارروائیاں کی گئیں اور خاص طور پر مرکزی غزہ کے علاقوں دیرالبلاح اور نصیرت ، جنوب میں رفح کے مغربی علاقوں میں رہائشی عمارتیں اور غزہ سٹی کے شمال میں کئی علاقے نشانہ بنے،الاقصیٰ شہدا اسپتال میں شہیدوں اور زخمیوں کی بڑی تعداد لائی گئی ہے اور ان میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے پورے غزہ میں ادویات اور غذائی قلت کا سامنا ہے اور ایندھن کی کمی کی وجہ سے اسپتال کا مرکزی جنریٹر بھی بند ہوگیا ہے، نصیرت اور وسطی غزہ کے دیگر علاقوں میں اسرائیلی کارروائیوں سے 210 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

    صحافی نصراللہ گڈانی کے قتل کا مرکزی ملزم گرفتار

    قبل ازیں ترجمان وزارت صحت کا کہنا تھا کہ گلیوں میں تاحال کئی لاشیں اور زخمی افراد پڑے ہوئے ہیں اسرائیل کی بدترین بمباری کے باعث علاقے میں رابطے کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے تاہم الجزیرہ کے رپورٹر نے ٹیلی فون کے ذریعے آگاہ کیا کہ حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وحشت زدہ شہری بے بس ہیں کہ وہ کہاں جائیں، ہر منٹ بعد دھماکا ہوتا ہے، ایمبولینسز زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہی ہیں جہاں ہم پھنسے ہوئے ہیں، ہسپتال کے اندر افراتفری کا ماحول ہے، زخمیوں میں بچوں کی بڑی تعداد ہے۔

    اقوام متحدہ کا اسرائیلی فوج کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مختصر بیان میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے نصیرت میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے جبکہ بعد میں ایک بیان میں بتایا کہ نصیرت میں کارروائی کے دوران زیرحراست 4 اسرائیلیوں کو رہا کروایا ہے، جنہیں 7 اکتوبر کو حماس نے گرفتار کیا تھا۔

    حکومت فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے زراعت میں جدت کے لیے کوشاں ہے،شہباز …

  • اقتدار میں آنے کے بعد غزہ میں جاری جنگ رکوادوں گا،ڈونلڈ ٹرمپ کا دعوی

    اقتدار میں آنے کے بعد غزہ میں جاری جنگ رکوادوں گا،ڈونلڈ ٹرمپ کا دعوی

    نیوجرسی: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد غزہ میں جاری جنگ رکوادیں گے۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر ریپبلکن پارٹی کی طرف سے امریکا کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی سابق مکس مارشل آرٹ خبیب نُرماگومیڈوف کے ساتھ ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے،ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ خبیب کو یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہوگئے تو غزہ میں جاری جنگ رکوا دیں گے۔

    میل آن لائن کے مطابق سابق صدر ٹرمپ نے ریاست نیوجرسی کے شہر نیوآرک میں پروڈینشل سینٹر میں منعقدہ یو ایف سی 302 ایونٹ میں شرکت کی، جہاں ان کی ملاقات سابق یو ایف سی لائٹ ویٹ چیمپئن سے ہوئی اور دونوں شخصیات کے درمیان خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی، خبیب نُرماگومیڈوف نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا وہ جانتے ہیں آپ فلسطین جنگ رکوادیں گے، جس پر سابق امریکی صدر نے انہیں جواب دیا اقتدار میں آنے کے بعد وہ یہ جنگ رکوادیں گے۔

  • قطر میں کانفرنس،32 سے زائد ممالک کے مندوبین کی شرکت،علامہ راشد محمود سومرو شریک

    قطر میں کانفرنس،32 سے زائد ممالک کے مندوبین کی شرکت،علامہ راشد محمود سومرو شریک

    ھیئۃ العلماء فلسطین کی جانب سے قطر میں مندوبین کی بڑی بیٹھک ہوئی

    دنیا بھر کے 32 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے نامور علماءکرام مفتیان عظام اور مشائخ نے شرکت کی،قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان کے نمائندے کی حیثیت سے علامہ راشد محمود سومرو کی کانفرنس میں شرکت کی، جن مسلم رہنماؤں نے فلسطین کے مظلوموں کی آواز بننے کے ساتھ ساتھ انکو میدان میں نہتا نہیں چھوڑا۔ اہل فلسطین کی نمائندگی کرنے والے رہنماؤں کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے پاکستان سے صرف جمعیت علماء اسلام کے قائد حضرت مولانا فضل الرحمن کو خصوصی دعوت دی گئی ۔قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن مظفرگڑھ میں عوامی اسمبلی میں شرکت کی وجہ سے اس بیٹھ میں شرکت سے قاصر رہے ۔

    علامہ راشد محمود سومرو نے اسماعیل ھنیہ اور خالد مشعل سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقات کرکے مولانا فضل الرحمن کا خصوصی پیغام پہنچایا ،قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی جانب سے علامہ راشدمحمود سومرو نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم فلسطین کے علماء کرام کے شکر گزار ہیں ،ہم کانفرنس میں شرکت کی دعوت پر ممنون ہیں جمعیت علماء اسلام روز اول سے اھل فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے۔جمعیت علماء اسلام نے پاکستان مین اب تک طوفان اقصی کے نام سے نو ملین مارچ کئے ہیں ، رمضان المبارک میں مکہ عالمی کانفرنس میں اھل فلسطین کے لئے سب سے پہلی اور توانا آواز حضرت مولانا فضل الرحمن نے بلند کی تھی ۔ جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن پاکستان کے پارلیمنٹ میں بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے حکومت و افواج پاکستان کو بھی اس بات پر قائل کرنے کی بارہا کوشش کی ہیکہ فلسطین پر جاری بربریت اور جارحیت کے خلاف حکومت و افواج پاکستان کو کسی صورت خاموش نہیں رہنا چاہئے ۔مولانا فضل الرحمن کی اپیل پر کارکنان جمعیت نے اھل غزہ کی جو مالی مدد کی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اسکو مزید بڑھانے کے لئے کوشش کریں گے ۔ مولانا فضل الرحمن اور جمعیت علماء اسلام کی جانب سے اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے کی سزا امریکی ایما پر انتخابات میں ہمارے امیدواران کو ہروا کر دیا گیا،جمعیت علماء اسلام پاکستان نہ صرف اھل فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے بلکہ ھر حال میں مالی اخلاقی اور سیاسی تعاون جاری رکھے گی ، فلسطین میں انشاءاللہ فتح حق کی ہی ہوگی اور باطل کا منہ کالا ہوگا ۔

    اس موقع پر اسماعیل ھانیہ اور خالد مشعل سمیت فلسطین کی مکمل لیڈر شپ نے مولانا فضل الرحمن کی صحت یابی کے لئے دعاکی اور انکے بھرپور تعاون پر انکا شکریہ ادا کیا

    سائفر سیکیورٹی کا مقصد یہی ہے کہ سائفر کو کسی غیر متعلقہ شخص کے پاس جانے سے روکا جائے،

    سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

    ثابت کریں کہ جو پبلک ریلی میں لہرایا گیا وہ سائفر تھا ،عدالت کا پراسیکیوٹر سے مکالمہ

    سائفر کیس، عمران خان، قریشی کو سزا سنانے والے جج بارے اہم فیصلہ

    سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،وکیل عمران خان

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

  • اسرائیلی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی جنگ بندی تجاویز کی منظوری دیدی

    اسرائیلی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی جنگ بندی تجاویز کی منظوری دیدی

    تل ابیب: اسرائیلی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی جنگ بندی تجاویز کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیلی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی جنگ بندی تجاویز کی منظوری دے دی ہے اور انہیں اب حماس کے ردعمل کاانتظار ہے،اسرائیلی حکام نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنگی مقاصد پورے ہونے، مغویوں کی رہائی اور حماس کی تباہی تک مستقل جنگ بندی کے لیے رضامند نہیں ہوں گے۔

    دوسری طرف امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ اگر حماس امریکی تجاویز پر رضامند ہوجائے تو اسرائیل بھی مان جائے گا،امریکا کی دی گئی تجاویز اسرائیلی تجاویز تھیں، حماس مان جائے تو اسرائیل بھی ہاں کہہ دے گا۔

    غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے نیا جنگ بندی …

    گزشتہ روز فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلا کے لیے پیش کردہ تجاویز کی حمایت کی تھی،حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے پیش کیا گیا مجوزہ جنگ بندی معاہدہ جس میں ‘اسرائیلی افواج کا انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور قیدیوں کا تبادلہ’ شامل ہیں کو ہم مثبت سمجھتے ہیں کسی بھی ایسی تجویز پر مثبت اور تعمیری انداز میں عمل درآمد کے لیے تیار ہیں جس سے غزہ کی تعمیر نو ہوسکے اور بے گھر افراد کی اپنے گھروں میں واپسی ممکن ہوسکے۔

    حماس کی امریکی صدر کی غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے پیش کردہ تجاویز کی حمایت

    واضح رہے کہ صدر بائیڈن کے تین مراحل پر مشتمل مجوزہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 6 ہفتے کی جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی، غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کی واپسی، امداد کی فراہمی، دوسرے مرحلے میں مستقل جنگ بندی کی بات چیت اور تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو شامل ہے۔

  • غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے نیا جنگ بندی معاہدہ تجویز

    غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے نیا جنگ بندی معاہدہ تجویز

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے نیا جنگ بندی معاہدہ تجویز کردیا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دراصل اسرائیل کی جانب سے پیش کیا گیا ہے اور اسے ثالثوں کے ذریعے حماس تک پہنچا دیا گیا ہے،مجوزہ جنگ بندی معاہدہ 3 مراحل پر مشتمل ہے۔

    مجوزہ معاہدے کے تحت جنگ بندی کا پہلا مرحلہ 6 ہفتے طویل ہوگا جس میں مکمل جنگ بندی ہوگی اور اسرائیل فوج غزہ کے آبادی والے علاقوں میں سے نکل جائے گی اس مرحلے میں غزہ میں موجود خواتین اور بزرگ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جن کے بدلے میں سنیکڑوں فلسطینی قیدی رہا ہوں گے، اسی مرحلے میں غزہ میں موجود امریکی مغوی بھی رہا کیے جائیں گے۔

    یورپ کی جانب سے پاکستان پر عائد سفری پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ نہ ہوسکا

    عرب میڈیا کے مطابق اسی مرحلے میں ہلاک مغویوں کی لاشیں بھی ورثا کے حوالے کی جائیں گی اور شمالی غزہ سمیت پورے غزہ میں شہری اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے اس دوران غزہ میں روزانہ 600 امدادی ٹرک داخل ہوں گے اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے ہزاروں خیمے تقسیم کیے جائیں گے،دونوں جانب سے جنگ بندی معاہدہ تسلیم کیے جانے کے بعد یہ مرحلہ فوری شروع کیا جاسکے گا۔

    دوسرے مرحلے میں تمام زندہ مغویوں بشمول مرد فوجیوں کا تبادلہ ہوگا اور اسرائیلی فوج غزہ سے مکمل طور پر انخلا کرے گی،جبکہ تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کا آغاز کیا جائے گا۔

    امریکی صدر نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اسرائیل میں کچھ لوگ اس منصوبے سے خوش نہیں ہوں گے لیکن میں اسرائیلی حکومت سے کہتا ہوں کہ ہر طرح کے دباؤ سے قطع نظر اس معاہدے کی حمایت کرے۔

    سعودی تیل کمپنی آرامکو نے گیس اینڈ آئل پاکستان کے 40 فیصد حصص خرید …

    اگر قابض افواج غزہ میں ہمارے لوگوں کے خلاف جنگ اور جارحیت روک دیں تو ہم ایک مکمل معاہدہ طے کرنے کے لیے تیار ہیں،حماس

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اس نے ثالثوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ جاری جارحیت کے دوران مزید مذاکرات میں حصہ نہیں لے گی لیکن اسرائیل کے جنگ بند کر دینے کی صورت میں یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے سمیت ایک "مکمل معاہدے” کے لیے تیار ہے۔

    حماس کا تازہ ترین بیان اس وقت سامنے آیا ہے جبکہ اسرائیل غزہ کے جنوبی شہر رفح پر فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے حالانکہ اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت یعنی بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے اسے یہ کارروائی روک دینے کا حکم دیا ہے۔

    "العربیہ ” کے مطابق حماس کے بیان میں کہا گیا کہ حماس اور فلسطینی دھڑے ہمارے لوگوں کے خلاف جارحیت، محاصرے، فاقے اور نسل کشی کے پیشِ نظر (جنگ بندی) مذاکرات جاری رکھ کر اس پالیسی کا حصہ بننا قبول نہیں کریں گے،آج ہم نے ثالثوں کو اپنے واضح مؤقف سے آگاہ کر دیا کہ اگر قابض افواج غزہ میں ہمارے لوگوں کے خلاف جنگ اور جارحیت روک دیں تو ہم ایک مکمل معاہدہ طے کرنے کے لیے تیار ہیں جس میں ایک جامع تبادلہ معاہدہ بھی شامل ہے۔”

    31 مئی تاریخ کے آئینے میں

    اسرائیل نے حماس کی ماضی کی پیشکشوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی تباہی پر تلے ہوئے گروہ کا صفایا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کی رفح میں جارحیت یرغمالیوں کو بچانے اور حماس کے مزاحمت کاروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر مرکوز ہے۔