Baaghi TV

Tag: غزہ

  • الشفا ہسپتال پر اسرائیلی فوج کا دھاوا،بے گھر افراد گرفتار،کیا گیا برہنہ

    الشفا ہسپتال پر اسرائیلی فوج کا دھاوا،بے گھر افراد گرفتار،کیا گیا برہنہ

    اسرائیلی فوج نے مسلسل بمباری کے بعد غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال پر دھاوا بول دیا

    غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ الشفا ہسپتال میں ڈاکٹر ،مریض اور بے گھر افراد ہیں، اسکے باوجود اسرائیلی فوج نے الشفا ہسپتال پر دھاوا بول دیا ہے، ترجمان اشرف القدرہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں اور ہمارے پاس چھپانے کے لئے بھی کچھ نہیں،الشفا ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں موجود ملازم عمرزقوت نے خبر رساں ادارے الجزیرہ کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے شفا ہسپتال سے کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے، گرفتاری کے دوران انہیں برہنہ کر دیا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا،اسرائیلی فوجی امداد کے نام پر گرفتاریاں کرنے آئے تھے، فوج ہسپتال کو مکمل گھیرے میں‌ لے رہی ہے، ہسپتال میں 180 سے زائد لاشیں خراب ہو رہیں ہیں،جو صحن میں پڑی ہیں،ہسپتال کے ہر طرف گولیاں چل رہی ہیں.

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوجی لاؤڈا سپیکرکا استعمال کرتے ہوئے ہتھیار ڈالنے کا کہہ رہے ہیں لیکن ہسپتال میں ڈاکٹر،مریض اور بےگھر افراد ہیں، اسرائیلی فوج نے ہسپتال میں ادویات اور طبی آلات کے گودام کو دھماکے سے اڑا دیا،اسرائیلی فوج نے 30 کے قریب افراد کو گرفتار کیا، جن کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور ان کے کپڑے اتار کر انہیں برہنہ کر دیا گیا،غزہ کےہسپتالوں کے چیف نے الجزیرہ کو بتایا کہ اسرائیلی فوجی الشفا ءہسپتال کی سرجیکل اور ایمرجنسی عمارتوں میں داخل ہو ئے ہیں، سرجن ڈاکٹر احمد المخلاتی نےبتایا کہ اسرائیلی فورسز کے حملے کے بعد اسپتال کے اندر خوف کا ماحول ہے،

    یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کا کہنا ہے کہ غزہ کے دس لاکھ بچوں کے لیےکہیں بھی محفوظ جگہ نہیں ہے، بہت سے بچے لاپتہ ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ منہدم عمارتوں اور گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں،علاقے میں پانی ختم ہو چکا، خوراک ختم ہو چکی اور بیماریاں پھیل رہی ہیں.

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    یرغمالیوں کی رہائی، بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے، امریکی صدر

    الشفا ہسپتال پر اسرائیلی دھاوے اور گرفتاریوں کے بعد حماس ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل ہسپتال میں اسلحہ کے حوالہ سے جھوٹ بول رہا ہے اور دنیا کو دھوکا دے رہاہے،غاصب صیہونی فوج کا یہ دعویٰ کہ اس نے الشفاء میڈیکل کمپلیکس میں اسلحہ اور سازوسامان پکڑا ہے، سفید جھوٹ اور سستے پروپیگنڈے کا تسلسل ہے جس کے ذریعے وہ اپنے جرم کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا مقصد غزہ میں صحت کے شعبے کو تباہ کرنا ہے۔ حماس ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے دو ہفتے قبل ایک سے زیادہ مرتبہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ہسپتالوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دیں اور اسرائیل کے جھوٹے دعوؤں کا تعین کریں، کیونکہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارے او سی ایچ اے نے کہا ہے کہ متعدد رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجیں "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری” کے ذریعے جنوب کی طرف بھاگنے والے شہریوں کی گرفتاریاں کر رہی ہیں،مار پیٹ، برہنہ کرنے اور تشدد کی دیگر اقسام کی اطلاعات سامنے آئی ہیں،

    صحت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی "خوف زدہ” مریضوں اور طبی عملے کو دیکھ کر الشفا ہسپتال میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔غزہ کے ہسپتالوں کے جنرل ڈائریکٹر ڈاکٹر منیر البرش نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے تہہ خانے اور دیگر عمارتوں میں موجود آلات کو تباہ کر دیا، "وہ اب بھی یہاں ہیں مریض، خواتین اور بچے خوفزدہ ہیں،انہوں نے اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ پھنسے مریضوں، عملے اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے ایک محفوظ راہداری بنائیں۔اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اندر کم از کم 2,300 مریض، عملہ اور شہری موجود ہیں۔

  • غزہ جنگ:کینیڈین اور اسرائیلی وزیراعظم کا سوشل میڈیا پر مکالمہ

    غزہ جنگ:کینیڈین اور اسرائیلی وزیراعظم کا سوشل میڈیا پر مکالمہ

    غزہ میں جاری جنگ کے معاملے پر کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے سوشل میڈیا پر اسرائیل سے تحمل کامطالبہ کیا جس پر ان کے اسرائیلی ہم منصب بن یامین نیتن یاہو نے بھی ردعمل دیا-

    باغی ٹی وی : کینیڈین وزیراعظم جسٹس ٹروڈو نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اسرائیل کو چاہیے کہ غزہ میں اپنے فوجی آپریشن کو لگام دے، غزہ میں عورتوں، بچوں اور شیرخواروں کی ہلاکتیں دیکھ رہے ہیں، یہ سب رکنا چاہیے، غزہ میں انسانی المیہ، خصوصاً الشفا اسپتال کے واقعات دل کو جھنجھوڑنے والے ہیں، جنگ کے بھی اصول ہوتے ہیں، اسرائیلی ہو یا فلسطینی، ہر معصوم زندگی برابر ہوتی ہے، اسرائیلی حکومت سے حتی الامکان تحمل کا مطالبہ کرتا ہوں۔
    https://x.com/netanyahu/status/1724588372994216010?s=20
    جس پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جسٹس ٹروڈو کو سوشل میڈیا پر ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ حماس نے جو کچھ کیا وہ یہودیوں کے ساتھ ہولوکاسٹ کے بعد سب سے بڑا ظلم ہے، اسرائیل عام شہریوں کو خطرے کی راہ سے ہٹانے اور حماس خطرے کی راہ پر ڈالنے میں لگی ہے، اسرائیل نے غزہ کیلئے انسانی امداد کا کوریڈور کھولا۔

    غزہ میں اسرائیلی مظالم کیخلاف امریکا کے یہودیوں کا احتجاج

    نیتن یاہو نے کہا کہ جہاں اسرائیل شہریوں کو نقصان کے راستے سے دور رکھنے کے لیے سب کچھ کر رہا ہے، وہیں حماس انھیں نقصان پہنچانے کے لیے سب کچھ کر رہی ہے اسرائیل غزہ میں شہریوں کو انسانی ہمدردی کی راہداری اور محفوظ زون فراہم کرتا ہے، حماس انہیں بندوق کی نوک پر جانے سے روکتی ہےیہ حماس نہیں اسرائیل ہے جسے دوہرے جنگی جرم کے ارتکاب کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے – شہریوں کے پیچھے چھپ کر شہریوں کو نشانہ بناناتہذیب کی قوتوں کو حماس کی بربریت کو شکست دینے میں اسرائیل کا ساتھ دینا چاہیے۔

    دوسری جانب آئرلینڈ کی اپوزیشن رہنما میری لو مکڈونلڈ نے اپنی حکومت سے اسرائیل کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے،میری لو مکڈونلڈ نے پارٹی کی سالانہ تقریب میں آئر لینڈ میں تعینات فلسطینی سفیر کا خیر مقدم کیا اور فلسطین میں اسرائیلی فورسز کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ بچوں کا قبرستان بن چکا ہے، ہر 10 منٹ میں ایک بچہ مارا جا رہا ہے۔

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم …

    انہوں نے آئرش حکومت سے اسرائیل کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے کٹہرے میں لانے اور اسرائیلی سفیر کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا انہوں نے سوال کیا کہ غزہ میں مارے جانے والے ہر بچے اور مردہ بچے کی سرد لاش اٹھانے کے لیے بین الاقوامی قانون کا تحفظ کہاں ہے؟ اسرائیل کو استثنیٰ کے ساتھ مظالم کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    علاوہ ازیں غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کی سربراہ کیتھرین رسل نے غزہ کا دورہ کیا اور غزہ میں تباہ کن مناظر کی مذمت کی،کیتھرین رسل نے فریقین پر غزہ میں جاری وحشت کو روکنے پر زور دیتے ہوئے کہا میں نے جو دیکھا اور سنا وہ تباہ کن تھا، غزہ کے شہریوں نے متعدد بمباری، نقصان اور نقل مکانی کو برداشت کیا ہے، غزہ کے اندر 10 لاکھ بچوں کے واپس جانے کیلئے کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔

    ترکیہ نے اسرائیلی وزیراعظم کیخلاف بین الاقوامی عدالت سے رجوع کرلیا

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے الشفا اسپتال سے 30 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، اسپتال سے نکالے گئے افراد کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں اور گرفتار کیے گئے افراد کے گرد تین ٹینک کھڑے ہیں ایک ٹینک الشفا اسپتال کی ایمرجنسی کے دروازے پر کھڑا کیا گیا ہے، اسرائیلی فوج الشفا اسپتال کی سرجری بلڈنگز میں داخل ہو گئے ہیں، اسرائیلی فوجیوں نے الشفا کے سرجری ڈپارٹمنٹ کی تمام پارٹیشنز اکھاڑ دی ہیں،اسرائیلی ریڈیو کہہ چکا ہےکہ الشفا میں یرغمالیوں کا کوئی نشان نہیں ملا جبکہ فلسطینیوں کو خدشہ ہےکہ اسرائیلی فوج اسپتال پر قبضہ کرکے حماس سے منسوب کوئی غلط کام کریں گے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن، انٹونی بلنکن اور لائڈ آسٹن کے خلاف مقدمہ درج

  • امریکی صدر جوبائیڈن، انٹونی بلنکن اور  لائڈ آسٹن  کے خلاف  مقدمہ درج

    امریکی صدر جوبائیڈن، انٹونی بلنکن اور لائڈ آسٹن کے خلاف مقدمہ درج

    نیویارک: انسانی حقوق کی ایک امریکی تنظیم نے غزہ میں اسرائیلیوں کی نسل کشی میں ملوث ہونے اور اسے روکنے میں ناکامی پر صدر جو بائیڈن کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی ٌ نیویارک میں قائم مرکز برائے آئینی حقوق (سی سی آر) نے فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں اور غزہ اور امریکا کے فلسطینیوں کی جانب سےامریکی صدر جو بائیڈن، سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن، اور سیکریٹری دفاع لائڈ آسٹن کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔

    سی سی آر کی جانب سے شکایت میں کہا گیا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی کو روکنے میں ناصرف ناکام رہے ہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کو غیر مشروط فوجی اور سفارتی حمایت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے، فوجی حکمت عملی پر قریبی رابطہ کاری، اسرائیل کی بے دریغ اور بے مثال بمباری مہم اور غزہ کا مکمل محاصرہ روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی کوششوں کو کمزور کر کے سنگین جرائم کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی ہے۔

    مغربی کنارے پر بھی اسرائیل کے حملے،7 فلسطینی شہید، 2 بچوں سمیت 31 گرفتار

    https://x.com/theCCR/status/1724162383751327995?s=20
    سی سی آر نے شکایت میں کہا کہ اسرائیلی حکومت کے متعدد رہنماؤں نے واضح نسل کشی کے ارادوں کا اظہار کیا ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا گیا ہے، اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سمیت شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے پر بمباری کی ہے اور فلسطینیوں کو پانی، خوراک، بجلی، ایندھن اور ادویات سمیت انسانی زندگی کے لیے ہر ضروری چیز سے محروم کر دیا ہے اجتماعی قتل، سنگین جسمانی اور ذہنی ایذا رسانی، مکمل محاصرہ اور بندش جس سے گروپ کی جسمانی تباہی کے حالات پیدا ہو جائیں، یہ سب نسل کشی کے ایک آشکار ہوتے ہوئے جرم کے ثبوت کو ظاہر کرتے ہیں۔

    القسام بریگیڈ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے 70 یرغمال خواتین اور بچوں کی رہائی …

    سی سی آر نے نسل کشی اور ہولوکاسٹ کے کئی سرکردہ قانونی محققین و مؤرخین بشمول ولیم شاباس کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے اسرائیلی حکومت کی ہرزہ سرائی اور فوجی ردِعمل کو نسل کشی کی علامات کے طور پر بیان کیا۔

  • یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیلی خاندانوں کا نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ

    یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیلی خاندانوں کا نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ

    حماس کی جانب سے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد کے خاندانوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے

    مارچ میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، شرکا نے بینرز پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں،انکا مطالبہ ہے کہ یرغمالی افراد کو رہا کروایا جائے.اسرائیلی خاندانوں نے تل ابیب سے یروشلم تک پانچ روزہ مارچ کا آغاز کیا،حماس نے تقریبا 240 افراد کو یرغمال بنایا تھا جن میں‌سے چار افراد کو رہا کیا گیاہے، یرغمالیوں کی عمریں نوماہ سے 85 سال کے درمیان ہیں،

    اسرائیلی فوج حماس کو تباہ کرنے کے حکم کے ساتھ غزہ میں مسلسل بمباری کر رہی ہے، ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں ،لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، ایسے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو یرغمالیوں کے رشتہ داروں کی طرف سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ ان کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے مزید کچھ نہیں کر رہے ہیں۔

    مارچ میں شریک ایک خاتون کا کہنا تھا کہ "میں بنجمن نیتن یاہو اور کابینہ سے مطالبہ کرتی ہوں کہ ہمیں جوابات اور اقدامات فراہم کریں،میرے 21 سالہ بیٹے عمر کو حماس والے اپنے ساتھ لے گئے تھے،مارچ میں شریک ایک خاتون انتہائی جذباتی تھیں اور وہ اپنے بیٹے کے لئے حکومت سے انکی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھیں،خاتون مسلسل تم کہاں ہو، تم کہاں ہو،کہہ رہی تھیں، حماس نے اسرائیلی جیلوں میں قید 275 خواتین اور بچوں کی رہائی کے بدلے یرغمال بنائے گئے 70 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کا کہا تھا تا ہم اسرائیل کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اب تک جنگ بندی کی کسی بھی بات کو مسترد کرتے ہوئے این بی سی نیوز کو بتایا کہ وہ صرف اسی صورت میں لڑائی کو روکنے کے لیے تیار ہوں گے جب تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے۔ معاہدے کو محفوظ بنانے کا بہترین طریقہ حماس پر فوجی دباؤ برقرار رکھنا ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس ساحلی علاقے کا کنٹرول کھو چکی ہے۔ طبی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 11,100 سے زائد فلسطینی، جن میں سے 40 فیصد کے قریب بچے ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔

    غزہ کے عسکریت پسندوں نے اب تک چار یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، اسرائیلی فوج نے منگل کو ایک یرغمال فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی، جس کے بارے میں حماس کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی حملے میں مارا گیا تھا۔

    تل ابیب کے مارچ کرنے والے ہفتہ کو 65 کلومیٹر (40 میل) دور یروشلم میں نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے سامنے اپنا احتجاج ختم کریں گے۔72 سالہ یرغمالی آدینا موشے کے بھتیجے امیت زچ نے کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ ہم اچھے ہاتھوں میں ہیں۔ ہمیں ایسا نہیں لگتا کہ ہمیں کافی معلومات حاصل ہیں۔ ہم اندھیرے میں گر گئے۔ ہمیں جواب چاہیے،” .”میرے پاس کوئی حل نہیں ہے، لیکن حل نکالنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ میرا کام ہے کہ اپنے خاندان سے واپسی کا مطالبہ کروں،” اسیروں کی تصویریں اٹھائے ہوئے، مارچ کے شرکاء نے نعرے لگائے "انہیں ابھی گھر لے آؤ!” ایک آدمی چلایا: "سب!”

    القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا ہے کہ قطری ثالثوں کو بتایا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے غزہ میں قید 70 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں،ان دنوں مکمل جنگ بندی اور ہر انسانی امداد کی اجازت ہونی چاہیے،ساتھ فلسطینی خواتین اور بچوں کو بھی رہا کیا جائے جو اسرائیلی جیلوں میں،قبل ازیں ابوعبیدہ کا کہنا تھا کہ ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں، دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا

    حماس کی قید میں موجود اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کی ہلاکت کی تصدیق
    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حماس کی قید میں موجود اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے،اسرائیلی فوج نے حماس کی قید میں19 سالہ خاتون فوجی کارپورل نوا مارسیانو کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کو اطلاع کر دی،اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کو 7 اکتوبر کو یرغمال بنایا گیا تھا،حماس کے عسکری ونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون فوجی نوا مارسیانو 9 نومبر کو اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئیں، تاہم اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی

    غزہ میں بارش،فلسطینی شہریوں کے لئے ایک اور امتحان
    علاوہ ازیں غزہ میں بارش برسی ہے، جو فلسطینیوں کے لئے ایک امتحان بن گئی ہے،اسرائیلی بمباری سے گھر ملیا میٹ ہو چکے ایسے میں بارش ،شہری کھلے آسمان تلے بارش میں بھیگتے رہے تو کم سن بچے بارش میں کھیلتےرہے،بے گھر شہریوں‌کے لیے لگائے گئے خیموں میں بھی بارش کا پانی داخل ہو گیا، اس سے شہریون کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا، اقوام متحدہ کی 150 عمارتوں میں 7 لاکھ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں،اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی نے بارشوں سے کیمپوں میں متعدی بیماریاں پھیلنےکا خدشہ ظاہرکیا ہے

    اسرائیل کا اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے استعفیٰ کا مطالبہ
    دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے، اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی سربراہی کے لئے موزوں نہیں رہے، انہوں نے خطے میں امن کو فروغ نہیں دیا، سب کو کہنا چاہئے کہ غزہ سے حماس کی جان چھڑاؤ،ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، اسرائیلی وزیر نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی سی آر سی غزہ میں حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرے۔دوسری طرف اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے گیلاد اردن نے بھی گزشتہ ماہ اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کےاستعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا،

    یرغمالیوں کی رہائی، بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے، امریکی صدر
    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ہم یرغمالیوں کی بازیابی کیلئے کافی سرگرم ہیں اور بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے ۔ صدرجو بائیڈن سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کے اہل خانہ کے لیے کوئی پیغام ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ وہیں ٹھہرو، ہم آ رہے ہیں۔امریکی صدر جوبائیڈن اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے روزانہ بات چیت میں مصروف ہیں۔ میں ہر دن ملوث لوگوں سے بات کرتا رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ہونے والا ہے، لیکن میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا

    دوسری جانب یورپ اور لاطینی امریکہ کے ساٹھ سے زیادہ بائیں بازو کے سیاست دانوں نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے جس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت آئی سی سی سے اسرائیلی لیڈران کی نسل کشی کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ہسپانوی وزیر برائے سماجی حقوق Ione Belarra نے کہا کہ ہم اپنی خاموشی اور تعاون سے نسل کشی کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر آپ بروقت ظلم کو نہیں روکتے ہیں، تو یہ آپ کو اپنے ساتھ گھسیٹ لے گا۔اس پٹیشن میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے نام شامل ہیں، ان پر نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے،پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کے پاس نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں،

    اسرائیل کی غزہ پر ایک طرف بمباری جاری ہے تو دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ٹینکس کمپلیکس میں‌داخل ہوئے ہیں، اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے خلاف ٹارگٹ آپریشن کیا جا رہا ہے، حماس نے الشفا ہسپتال میں اپنا ٹھکانہ بنا رکھا تھا،حماس نے الشفا ہسپتال پر حملے کا ذمہ دار امریکی صدر کو قرار دیا، وائیٹ ہاؤس نے بھی اسرائیلی زبان بولتے ہوئے کہا تھا کہ حماس نے غزہ کے الشفا ہسپتال میں ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کررکھا ہے حما س نے وہاں اسلحہ جمع کر رکھا ہے،ترجمان الشفا ہسپتال کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج شفاہسپتال کے بیسمنٹ تک پہنچ گئی اور بیسمنٹ کی تلاشی شروع کردی ہے،شفا اسپتال میں محفوظ راہداری سے گزرنے والوں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ بھی کی.

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • القسام بریگیڈ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے 70 یرغمال خواتین اور بچوں کی رہائی پر تیار

    القسام بریگیڈ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے 70 یرغمال خواتین اور بچوں کی رہائی پر تیار

    مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل سے 5 دن کی جنگ بندی کے بدلے 70 یرغمال خواتین و بچوں کی رہائی پر تیار ہے-

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق القسام بریگیڈز کےترجمان ابوعبیدہ نے آڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں القسام بریگیڈز کے ترجمان نےکہا کہ قطری ثالثوں کو بتایا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے غزہ میں قید 70 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں، قطری ثالثیوں کو بتایاکہ5 روز کے دوران مکمل جنگ بندی اور ہر انسانی امداد کی اجازت ہونی چاہیے۔

    قبل ازیں ایک ویڈیو بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا تھاکہ ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا۔

    دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    واضح رہے کہ غزہ میں مسلسل 38 ویں روزبھی اسرائیلی طیاروں کی بمباری جاری ہے، 7 اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 11 ہزار 240 سے زیادہ ہوگئی ہے،امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ کے الشفا اسپتال کو بچانا ہوگا، اس معاملے پر اسرائیلی حکام سے رابطے میں بھی ہوں،پیر کو امریکی صدر جو بائیڈن نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امید اور توقع ہے کہ اسپتال کے حوالے سے کم دخل اندازی کی جائے گی، قطر کی مدد سے قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پربھی بات چیت جاری ہے۔

    اسرائیلی فوج کے الشفا اسپتال کے محاصرے پر امریکی صدر کا ردعمل

  • سعودی وزیر دفاع کا غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ

    سعودی وزیر دفاع کا غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ

    ریاض: سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی ضروری ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی وزیر دفاع نے آسٹریلیا کے نائب وزیراعظم و وزیر دفاع سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور غزہ کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی،دونوں رہنماؤں کے درمیان موجودہ عالمی صورتحال سمیت دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔

    رابطے میں دونوں ملکوں میں دفاع کی وزارتوں کے درمیان تعاون کے شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے غزہ میں عسکری کارروائی فوری بند کرنے، بے قصور شہریوں کی جان کی سلامتی اور انسانی امداد غزہ پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    دوسری جانب سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے تباہ حال غزہ کے لیے پہلا امدادی قافلہ غزہ پہنچ گیا ہے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس امدادی قافلے نے اتوار کے روز رفح کی راہداری عبور کی ، شاہ سلمان کی طرف سے غزہ کے لوگوں کے لیے بھجوائی امداد میں خوراک کے علاوہ خیمے وغیرہ بھی شامل ہیں یہ خیمے سعودی عرب کے قومی امدادی پروگرام کا حصہ ہیں جو شاہ سلمان کی ہدایت پر مملکت میں شروع کیا گیا پروگرام ہے پروگرام اسی ماہ فلسطینیوں کے لیے شروع کیا گیا ہےسعودی عرب کی طرف سے امدادی سامان کے ساتھ مصر کے العریش ہوائی اڈے پر ہفتے کے روز بھی ایک سعودی طیارہ اتر ا،سعودی عرب کا یہ ‘ انیشیٹو ‘ فلسطینیوں کے لیے اس کمٹمنٹ کا مظہر ہے جو مملکت کی طرف سے فلسطینیوں کو ہمیشہ کڑے وقت پر فراہم کی جانے کے حوالے سے ہے۔

    اسرائیلی فوج کے الشفا اسپتال کے محاصرے پر امریکی صدر کا ردعمل

  • اسرائیلی فوج کے الشفا اسپتال کے محاصرے پر امریکی صدر کا ردعمل

    اسرائیلی فوج کے الشفا اسپتال کے محاصرے پر امریکی صدر کا ردعمل

    فلسطین: غزہ میں مسلسل 38 ویں روزبھی اسرائیلی طیاروں کی بمباری جاری ہے، 7 اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 11 ہزار 240 سے زیادہ ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی: فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے، 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری سے 4 ہزار 630 بچے، 3 ہزار 130 خواتین سمیت 11 ہزار 240 معصوم فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

    فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت سے اب تک طبی عملے کے 189 افراد شہید ہوگئے ہیں،ہ اسرائیلی بمباری سے 41 ہزار 120 رہائشی املاک تباہ ہوئیں، بمباری سے 94 سرکاری عمارتیں تباہ اور 71 مساجد بھی شہید ہوئیں جبکہ بمباری سے 253 اسکولوں کی عمارتیں بھی تباہ ہوئیں۔

    حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کردینا چاہئے، اسرائیلی وزیر

    فلسطینی ادارہ شماریات کے مطابق غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک اسکول کے 3 ہزار 117 طلبا شہید ہوئے ہیں جبکہ مغربی کنارے میں بھی24 طلبا شہید کیے گئے اسرائیلی بمباری سے 130 اساتذہ اور تدریسی عملہ شہید ہوا ہے، 7 اکتوبر سے غزہ کے تمام اسکول بند ہیں،6 لاکھ 8 ہزار طلبا تعلیم سے محروم ہیں۔

    فلسطینی ادارہ شماریات کے مطابق غزہ کے 239 سرکاری اور اقوام متحدہ کے اسکولوں پر بمباری کی گئی،فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے 25 فیصد زرعی اراضی برباد ہوگئی ہے ،7 اکتوبر سے اب تک 18 کروڑ ڈالر کا زرعی نقصان ہوچکا ہے۔

    غزہ میں مواصلاتی سروسز منقطع ہونے کا خدشہ

    دوسری جانب اسرائیلی فوج غزہ کے سب سے بڑے الشفا اسپتال کے دروازوں تک پہنچ گئی ہے جبکہ وہاں موجود طبی عملے نے خبردار کیا ہے کہ نوزائیدہ بچوں سمیت مریضوں کی شہادتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے اسرائیلی فوج نے کئی روز سے الشفا اسپتال کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور اس کے اندر موجود ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بجلی کے جنریٹرز کے لیے ایندھن نہ ہونے کے باعث وہ مریضوں کا علاج کرنے سے قاصر ہیں،عالمی ادارہ صحت نے بتایا تھا کہ الشفا اسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے جبکہ فلسطینی حکام نے کہا کہ اسپتال کے محاصرے اور ایندھن کی کمی کے باعث 3 دن میں 32 مریض انتقال کر چکے ہیں الشفا اسپتال میں 45 نومولود بچے انکوبیٹرز میں موجود ہیں جن میں سے 6 شہید ہوچکے ہیں۔

    برطانیہ: احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر غزہ کےالشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام …

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ کے الشفا اسپتال کو بچانا ہوگا، اس معاملے پر اسرائیلی حکام سے رابطے میں بھی ہوں،پیر کو امریکی صدر جو بائیڈن نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امید اور توقع ہے کہ اسپتال کے حوالے سے کم دخل اندازی کی جائے گی، قطر کی مدد سے قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پربھی بات چیت جاری ہے۔

    قبل ازیں پیر کو امریکی محکمہ خارجہ اور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایجنسی (یو ایس ایڈ) کے درجنوں عہدیداران نے ایک اندرونی میمو پر دستخط کیے ہیں، جس میں غزہ میں فلسطینیوں کی زندگیوں کو اہمیت نہ دینے پر وائٹ ہاؤس پر تنقید کی گئی ہے۔

    دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیداران نے اس میمو پر دستخط کرتے ہوئے غزہ جنگ کے حوالے سے صدر جو بائیڈن کی حکمت عملی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس اس جنگ کو روکنے کے لیے تیار نہیں میمو میں امریکی صدر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کو روکنے میں ناکام رہے ہیں، بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیلی حکومت کو کسی واضح یا قابل اقدام ریڈ لائنز کے بغیر غیر مشروط فوجی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، یہ میمو محکمہ خارجہ کے پالیسی آفس میں 3 نومبر کو بھیجا گیا تھااس طرح کے میمو خفیہ رکھےجاتے ہیں اور ان کے ذریعے سفارتکاروں کی جانب سے اندرونی طور پر محکمہ خارجہ کی پالیسیوں پر اعتراضات کیے جاتے ہیں۔

    صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش

    ویتنام جنگ کے بعد یہ طریقہ کار مرتب کیا گیا تھا تاکہ اندرونی طور پر غلطیوں کی نشاندہی اور انہیں درست کیا جاسکے رپورٹ میں کہا گیا کہ اس میمو سے امریکی حکومت کے اندر موجود اختلافات کا عندیہ ملتا ہے،میمو میں کہا گیا کہ بائیڈن انتظامیہ غزہ میں عام شہریوں کی شہادت کے معاملے پر امریکی تشویش اسرائیل تک پہنچانے میں ناکام رہی،وائٹ ہاؤس کے اراکین واضح طور پر فلسطینیوں کی زندگیوں کا احترام نہیں کرتے، ان کی جانب سے جنگ روکنے کا عزم نظر نہیں آتا،میمو میں امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ گمراہ کن مواد پھیلا رہے ہیں، البتہ اس حوالے سے رپورٹ میں وضاحت نہیں کی گئی۔

    اس سے قبل بھی گزشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایک میمو میں محکمہ خارجہ کے عہدیداران کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکا اسرائیل سے جنگ بندی کا مطالبہ کرے۔

    اسرائیل کی رات گئے غزہ پر بمباری اور گولہ باری

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ حماس نے غزہ کی پٹی پر کنٹرول کھو دیا ہے اور اب وہ جنوب کی طرف جار رہے ہیں شہری حماس کے ٹھکانوں کو لوٹ رہے ہیں، شہریوں کو اب حکومت پر اعتماد نہیں رہا، یرغمالیوں کو غزہ میں بچوں کے اسپتال میں رکھے جانے کے اشارے ملے ہیں-

  • حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کردینا چاہئے، اسرائیلی وزیر

    حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کردینا چاہئے، اسرائیلی وزیر

    سات اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے،دنیا جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی لیکن اسرائیل حملوں سے باز نہیں آ رہا، ایسے میں اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی اتماربن گویر نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

    امریکا اور اسرائیل میں دہشتگرد قرار دی گئی تنظیم کا حصہ رہنے والے اسرائیلی وزیر نے حال ہی میں غیر قانونی یہودی بستیوں میں 25000 ہتھیاروں کے علاوہ گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان تقسیم کیا ،

    اتمار بن گویر نسل پرست یہودی تنظیم کے سابق رکن تھے جس پر اسرائیل نے 1998 میں دہشتگردانہ کارروائیوں کے باعث پابندی عائد کر دی تھی،اسرائیلی وزیر کے پرتشدد عقائد کے باعث انہیں فوجی خدمات کی انجام دہی سے بھی روک دیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ سات اکتوبر سے اسرائیلی بمباری میں 11 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اسرائیل نے فلسطینی شہریوں کو گرفتار بھی کرنا شروع کر دیا ہے،غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد مقبوضہ مغربی پٹی میں اسرائیلی افواج کی کارروائیوں اور فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں بے انتہا شدت آگئی ہے

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    جنگ بندی کے لئے اور کتنی شہادتیں چاہئے؟ شیری رحمان
    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت عالمی دنیا کی بے بسی دنیا کے امن کیلئے خطرہ بن چکی ہے،عالمی ادارے اور دنیا 7 اکتوبر سے جاری معصوم اور نہتے فلسطینیوں کا قتل عام روکنے میں ابھی تک ناکام ہوئے ہیں،11 ہزار سے زائد فلسطینوں کو شہید کیا گیا ہے جس میں 4506 بچے ہیںاعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیل نے یومیہ 320 فلسطینیوں کا قتل کیا ہے،بمباری کرکے ہسپتالوں کو قبرستان بنایا گیا ہے، غزہ کے مناظر عالمی دنیا کے اخلاقی معیار پر بدنما داغ ہیں،جنگ بندی کیلئے اسرائیل اور عالمی دنیا کو معصوم فلسطینیوں اور بچوں کی مزید کتنی شہادتیں چاہئیں؟

    مسلسل اسرائیلی بمباری، غزہ کا الشفا ہسپتال غیر فعال
    اسرائیل نے غزہ میں ہسپتالوں پر بمباری کی ہے،غزہ کا مرکزی ہسپتال الشفا مسلسل بمباری کی وجہ سے غیر فعال ہو چکا ہے، عالمی ادارہ صحت نے بھی تصدیق کر دی ہے،عالمی ادارہ صحت کے مطابق الشفا ہسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا،ہسپتال اور اسکے گردونواح میں اسرائیل نے مسلسل بمباری کی، جس کی وجہ سے حالات تشویشناک ہو گئے، ایسے میں طبی عملے کا کام جاری رکھنا ممکن نہیں،حماس کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ پٹی کے تمام اسپتالوں میں کام بند ہوگیا ہے،
    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق الشفا ہسپتال میں تقریباً دو ہزار لوگ موجود ہیں جن میں مریض، طبی عملہ اور بے گھر افراد بھی شامل ہیں

    عالمی ادارہ صحت نے اسرائیل سے ایک بار پھر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے جنگ بندی ضروری ہے۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جنگ بندی نہیں ہو گی،الشفاء ہسپتال کے ایک سرجن ڈاکٹر مروان ابوسدا نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ وسائل کی شدید کمی کا مطلب ہے کہ تین بچے مر چکے ہیں اور مزید 36 کو فوری خطرہ لاحق ہے۔ہسپتال میں طبی سہولت، بجلی اور پانی کی کمی تھی،بمباری نے سب کچھ تباہ کر دیا،

    حماس کے مطابق اسرائیل نے جان بوجھ کر الشفا ہسپتال کے شعبہ جات پر فائرنگ کی اور ایک کارکن کو زخمی کر دیا جس نے الیکٹرک جنریٹر کا معائنہ کرنے کی کوشش کی تھی،قبل ازیں، اسرائیل کی دفاعی افواج نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ اس نے فوری طبی مقاصد کے لیے 300 لیٹر ایندھن الشفا کو فراہم کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن حماس کی جانب سے یہ سہولت قبول نہیں کی گئی،اسرائیلی فوج یہ کہہ کر ہسپتالوں پر اپنے حملوں کا جواز پیش کرتی ہے کہ وہاں حماس کے فوجی ٹھکانے، اہلکار موجود ہیں.

    مسلسل بمباری کے بعد اسرائیلی فوج اب الشفا ہسپتال کے دروازوں تک پہنچی ہے، طبی عملے کا کہنا ہے کہ ہسپتال غیر فعال ہو چکی ،اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے، بجلی کے جنریٹرز کے لیے ایندھن نہ ہونے کے باعث وہ مریضوں کا علاج کرنے سے قاصر ہیں،الشفا ہسپتال میں شہریوں نے بھی پناہ لے رکھی تھی، ہزاروں شہری ہسپتال کے اندر موجود ہیں ،اسرائیلی فوج کا دعویٰ کے کہ الشفا ہسپتال پر انکاکنٹرول سے شمالی غزہ کے 50 فیصد حصے پر اس کا قبضہ ہو جائے گا

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق الشفا ہسپتال کے اندر 650 مریض، 500 عملے کے افراد اور ڈھائی ہزار کے قریب بے گھر افراد موجود ہیں،اسرائیلی فوج کے ٹینک الشفا ہسپتال کے دروازے کے باہرموجود ہیں،وہیں اسرائیل ڈرونز کے ذریعے ہسپتال پر حملے کر رہا ہے، ان حملوں کی وجہ سے طبی عملے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے،ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے سی این این کو بتایا کہ الشفاء ہسپتال کے اندر کے حالات "تباہ کن” ہیں، تقریباً 7,000 افراد ہسپتال میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جن میں 1500 مریض اور طبی عملے کے اراکین شامل ہیں۔ ہسپتال نے اسرائیلی فوج سے ہر گھنٹے میں 600 لیٹر ایندھن طلب کیا ہے تاکہ اس کے جنریٹرز کو بجلی فراہم کی جا سکے لیکن فوج نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ہم نے اسرائیلی فوج کو بتایا کہ انہوں نے جو 300 لیٹر ایندھن کی پیشکش کی ہے وہ ہسپتال کو 30 منٹ تک چلانے کے لیے کافی نہیں ہے،اب بچوں کے لیے پانی، خوراک، دودھ نہیں ہے.الشفاء ہسپتال غزہ کی وزارت صحت کے تحت آتا ہے جس پر حماس کا کنٹرول ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس کا ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی عمارت کے نیچے ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور حماس نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    سی این این نے العربیہ نیٹ ورک کے ایک رپورٹر، خدر الزانون سے بھی بات کی، جو ہسپتال کے اندر ہیں۔انکا کہنا تھا کہ ہسپتال اور اس کے صحن میں کیا ہو رہا ہے اس کی اطلاع دینا ہمارے لیے تقریباً ناممکن ہے، ہمارے پاس بمشکل سگنل آ رہے،لیکن انٹرنیٹ نہیں ہے،کوئی بھی ہسپتال سے باہر جانے کی ہمت نہیں کر سکتا، ہمیں معلوم ہے کہ ان عمارتوں میں کچھ لوگ موجود ہیں لیکن ایمبولینسز ہسپتال سے باہر نہیں نکل پاتی ہیں کیونکہ پچھلے دنوں ہسپتال سے باہر جاتے ہوئے ایک ایمبولینس کو ٹکر مار دی گئی تھی

    فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے پیر کے روز غزہ شہر میں القدس ہسپتال کے قریب "شدید فائرنگ” کی اطلاع دی۔سی این این کے مطابق ہلال احمر سوسائٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ القدس ہسپتال کے قریب اسرائیلی فوج نے فائرنگ کی، علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،اسرائیلی حملوں کی وجہ سے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،غزہ کا دوسرا بڑا ہسپتال القدس بھی مکمل طور پر بند ہو گیا ہے، ایندھن کی کمی اور بجلی کی بندش کی وجہ سے ہسپتال اب کام نہیں کر رہا،

  • غزہ: زمینی لڑائی میں افسر سمیت مزید  5  اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ: زمینی لڑائی میں افسر سمیت مزید 5 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ میں حماس کے ساتھ ہونے والی زمینی لڑائی میں افسر سمیت مزید 5 اسرائیلی فوجی مارے گئے۔

    باغی ٹی وی: اسرائیل نے فضائی کارروائی کے بعد غزہ میں زمینی راستے سے داخل ہوکر فوجی آپریشن کرنے کی دھمکی دی تھی، صیہونی ریاست کی بری فوج غزہ میں گھس کر کارروائی کی کوشش تو کر رہی ہے لیکن ہمیشہ اسے منہ کی کھانی پڑ رہی ہے۔

    ٹائمز آف اسرائیل اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں حماس کے ساتھ ہونے والی زمینی لڑائی میں مزید 5 فوجی مارے گئے جن میں ایک افسر بھی شامل ہے جب کہ ایک بٹالین کمانڈر شدید زخمی ہواغزہ میں بری فوج کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 43 ہو گئی جبکہ دو درجن کے قریب زخمی ہوچکے ہیں اسرائیلی فوج نے بھی اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے-

    برطانیہ: احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر غزہ کےالشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام …

    دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ 48 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کی 25 سے زائد گاڑیاں مکمل تباہ کیں، دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا، غزہ میں 160 سے زیادہ اسرائیلی فوجی اہداف کومکمل یا جزوی تباہ کر دیا۔

    صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش

    حماس نے اسرائیل پر 7 اکتوبر کو اچانک اور غیر متوقع حملہ کیا تھا جس میں 1400 اسرائیلی مارے گئے تھے جن میں زیادہ تر فوجی شامل تھے جب کہ 250 سے زائد اسرائیلیوں کو یرغمال بناکر غزہ لے جایا گیا تھا۔

  • برطانیہ:  احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر  غزہ کےالشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام پڑھ کر آبدیدہ ہوگئیں

    برطانیہ: احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر غزہ کےالشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام پڑھ کر آبدیدہ ہوگئیں

    لندن: غزہ کے اسپتالوں پر اسرائیلی بمباری روکنے کیلئے ہونے والے احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام پڑھ کر آبدیدہ ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : غزہ میں ہسپتالوں کے اطراف لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جنگ کو شروع ہوئے 36 روز مکمل ہوگئے ہیں اس وقت اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں موجود ہسپتالوں کا گھیراؤ کرلیا ہے، الشفا ہسپتال میں آکسیجن کی کمی اور دیگر وجوہات کی بنا پر بڑی تعداد میں اموات ہو رہی ہیں، ہسپتال میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں،تاہم اب صیہونی فوج نے غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفا سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

    الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ کمپلیکس کے اندر لاشوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے، یہ صورت حال زخمیوں کو بچانے میں ناکامی کی نشاندہی کر رہی ہے، الشفا ہسپتال کے قرب و جوار میں جھڑپیں جاری ہیں، اسرائیلی ٹینک الشفاکمپلیکس کے ارد گرد کے علاقے کے شمالی حصے سے 200 میٹر کے فاصلے پر ہیں ہسپتال کے ارد گرد حملے کئے جارہے ہیں، انڈونیشیا ہسپتال کے اطراف بھی صہیونی فوج موجود ہے۔

    صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش

    فلسطینی خاتون وزیر صحت ’’می الکیلہ‘‘ کے مطابق الشفا ہسپتال میں ایندھن کی کمی اور آکسیجن کی عدم دستیابی کے باعث کم از کم 39 شیر خوار بچوں کی موت کا خطرہ ہے، انتہائی نگہداشت وارڈ میں موجود 39 نوزائیدہ بچے کسی بھی لمحے موت کے منہ میں جا سکتے ہیں، ایک نومولود ہفتہ کی صبح جاں بحق بھی ہوگیا۔

    غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ پٹی کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال کمپلیکس میں ایندھن مکمل طور پر ختم ہونے کے بعد آج آپریشن روک دیا گیا۔

    دوسری جانب ہسپتالوں پر بمباری روکنے کیلئے برطانیہ کے ڈاکٹرز بھی میدان میں آگئے ہیں اور انہوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور بمباری رکوانے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

    دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    https://x.com/IrnaEnglish/status/1723396453853192559?s=20
    احتجاج میں موجود ایک خاتون ڈاکٹر نے الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر کا میسج پڑھ کر سنانا چاہا لیکن دل خراش میسج پڑھ کر وہ سب کے سامنے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور اسرائیلی بربریت پر ان کی آنکھیں بھر آئیں،جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، خاتون ڈاکٹر سمیت احتجاج میں موجود دیگر ڈاکٹرز کو بھی روتے دیکھا جا سکتا ہے،احتجاج میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈاکٹرز کی جانب سے بھرپور نعرے لگائے گئے-

    غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہمت کرکے خاتون ڈاکٹر نے پیغام پڑھ کر سنایا جس میں لکھا تھا کہ ہم میڈیکل اسٹاف زندہ رہنا چاہتے ہیں لیکن ہم نہیں رہ سکتے اور ہو سکتا ہے صبح تک ہم سب مارے جائیں، ہم یہاں قتل نہیں ہونا چاہتے ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں، برائے مہربانی آپ لوگ ہمارے لیے کچھ کریں، جو ہوسکتا ہے اپنی حکومت سے بات کریں، عالمی اداروں سے کہیں کہ مدد کیلئے سامنے آئیں۔

    حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا …