Baaghi TV

Tag: غزہ

  • حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کردینا چاہئے، اسرائیلی وزیر

    حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کردینا چاہئے، اسرائیلی وزیر

    سات اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے،دنیا جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی لیکن اسرائیل حملوں سے باز نہیں آ رہا، ایسے میں اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی اتماربن گویر نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

    امریکا اور اسرائیل میں دہشتگرد قرار دی گئی تنظیم کا حصہ رہنے والے اسرائیلی وزیر نے حال ہی میں غیر قانونی یہودی بستیوں میں 25000 ہتھیاروں کے علاوہ گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان تقسیم کیا ،

    اتمار بن گویر نسل پرست یہودی تنظیم کے سابق رکن تھے جس پر اسرائیل نے 1998 میں دہشتگردانہ کارروائیوں کے باعث پابندی عائد کر دی تھی،اسرائیلی وزیر کے پرتشدد عقائد کے باعث انہیں فوجی خدمات کی انجام دہی سے بھی روک دیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ سات اکتوبر سے اسرائیلی بمباری میں 11 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اسرائیل نے فلسطینی شہریوں کو گرفتار بھی کرنا شروع کر دیا ہے،غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد مقبوضہ مغربی پٹی میں اسرائیلی افواج کی کارروائیوں اور فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں بے انتہا شدت آگئی ہے

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    جنگ بندی کے لئے اور کتنی شہادتیں چاہئے؟ شیری رحمان
    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت عالمی دنیا کی بے بسی دنیا کے امن کیلئے خطرہ بن چکی ہے،عالمی ادارے اور دنیا 7 اکتوبر سے جاری معصوم اور نہتے فلسطینیوں کا قتل عام روکنے میں ابھی تک ناکام ہوئے ہیں،11 ہزار سے زائد فلسطینوں کو شہید کیا گیا ہے جس میں 4506 بچے ہیںاعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیل نے یومیہ 320 فلسطینیوں کا قتل کیا ہے،بمباری کرکے ہسپتالوں کو قبرستان بنایا گیا ہے، غزہ کے مناظر عالمی دنیا کے اخلاقی معیار پر بدنما داغ ہیں،جنگ بندی کیلئے اسرائیل اور عالمی دنیا کو معصوم فلسطینیوں اور بچوں کی مزید کتنی شہادتیں چاہئیں؟

    مسلسل اسرائیلی بمباری، غزہ کا الشفا ہسپتال غیر فعال
    اسرائیل نے غزہ میں ہسپتالوں پر بمباری کی ہے،غزہ کا مرکزی ہسپتال الشفا مسلسل بمباری کی وجہ سے غیر فعال ہو چکا ہے، عالمی ادارہ صحت نے بھی تصدیق کر دی ہے،عالمی ادارہ صحت کے مطابق الشفا ہسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا،ہسپتال اور اسکے گردونواح میں اسرائیل نے مسلسل بمباری کی، جس کی وجہ سے حالات تشویشناک ہو گئے، ایسے میں طبی عملے کا کام جاری رکھنا ممکن نہیں،حماس کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ پٹی کے تمام اسپتالوں میں کام بند ہوگیا ہے،
    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق الشفا ہسپتال میں تقریباً دو ہزار لوگ موجود ہیں جن میں مریض، طبی عملہ اور بے گھر افراد بھی شامل ہیں

    عالمی ادارہ صحت نے اسرائیل سے ایک بار پھر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے جنگ بندی ضروری ہے۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جنگ بندی نہیں ہو گی،الشفاء ہسپتال کے ایک سرجن ڈاکٹر مروان ابوسدا نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ وسائل کی شدید کمی کا مطلب ہے کہ تین بچے مر چکے ہیں اور مزید 36 کو فوری خطرہ لاحق ہے۔ہسپتال میں طبی سہولت، بجلی اور پانی کی کمی تھی،بمباری نے سب کچھ تباہ کر دیا،

    حماس کے مطابق اسرائیل نے جان بوجھ کر الشفا ہسپتال کے شعبہ جات پر فائرنگ کی اور ایک کارکن کو زخمی کر دیا جس نے الیکٹرک جنریٹر کا معائنہ کرنے کی کوشش کی تھی،قبل ازیں، اسرائیل کی دفاعی افواج نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ اس نے فوری طبی مقاصد کے لیے 300 لیٹر ایندھن الشفا کو فراہم کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن حماس کی جانب سے یہ سہولت قبول نہیں کی گئی،اسرائیلی فوج یہ کہہ کر ہسپتالوں پر اپنے حملوں کا جواز پیش کرتی ہے کہ وہاں حماس کے فوجی ٹھکانے، اہلکار موجود ہیں.

    مسلسل بمباری کے بعد اسرائیلی فوج اب الشفا ہسپتال کے دروازوں تک پہنچی ہے، طبی عملے کا کہنا ہے کہ ہسپتال غیر فعال ہو چکی ،اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے، بجلی کے جنریٹرز کے لیے ایندھن نہ ہونے کے باعث وہ مریضوں کا علاج کرنے سے قاصر ہیں،الشفا ہسپتال میں شہریوں نے بھی پناہ لے رکھی تھی، ہزاروں شہری ہسپتال کے اندر موجود ہیں ،اسرائیلی فوج کا دعویٰ کے کہ الشفا ہسپتال پر انکاکنٹرول سے شمالی غزہ کے 50 فیصد حصے پر اس کا قبضہ ہو جائے گا

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق الشفا ہسپتال کے اندر 650 مریض، 500 عملے کے افراد اور ڈھائی ہزار کے قریب بے گھر افراد موجود ہیں،اسرائیلی فوج کے ٹینک الشفا ہسپتال کے دروازے کے باہرموجود ہیں،وہیں اسرائیل ڈرونز کے ذریعے ہسپتال پر حملے کر رہا ہے، ان حملوں کی وجہ سے طبی عملے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے،ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے سی این این کو بتایا کہ الشفاء ہسپتال کے اندر کے حالات "تباہ کن” ہیں، تقریباً 7,000 افراد ہسپتال میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جن میں 1500 مریض اور طبی عملے کے اراکین شامل ہیں۔ ہسپتال نے اسرائیلی فوج سے ہر گھنٹے میں 600 لیٹر ایندھن طلب کیا ہے تاکہ اس کے جنریٹرز کو بجلی فراہم کی جا سکے لیکن فوج نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ہم نے اسرائیلی فوج کو بتایا کہ انہوں نے جو 300 لیٹر ایندھن کی پیشکش کی ہے وہ ہسپتال کو 30 منٹ تک چلانے کے لیے کافی نہیں ہے،اب بچوں کے لیے پانی، خوراک، دودھ نہیں ہے.الشفاء ہسپتال غزہ کی وزارت صحت کے تحت آتا ہے جس پر حماس کا کنٹرول ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس کا ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی عمارت کے نیچے ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور حماس نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    سی این این نے العربیہ نیٹ ورک کے ایک رپورٹر، خدر الزانون سے بھی بات کی، جو ہسپتال کے اندر ہیں۔انکا کہنا تھا کہ ہسپتال اور اس کے صحن میں کیا ہو رہا ہے اس کی اطلاع دینا ہمارے لیے تقریباً ناممکن ہے، ہمارے پاس بمشکل سگنل آ رہے،لیکن انٹرنیٹ نہیں ہے،کوئی بھی ہسپتال سے باہر جانے کی ہمت نہیں کر سکتا، ہمیں معلوم ہے کہ ان عمارتوں میں کچھ لوگ موجود ہیں لیکن ایمبولینسز ہسپتال سے باہر نہیں نکل پاتی ہیں کیونکہ پچھلے دنوں ہسپتال سے باہر جاتے ہوئے ایک ایمبولینس کو ٹکر مار دی گئی تھی

    فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے پیر کے روز غزہ شہر میں القدس ہسپتال کے قریب "شدید فائرنگ” کی اطلاع دی۔سی این این کے مطابق ہلال احمر سوسائٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ القدس ہسپتال کے قریب اسرائیلی فوج نے فائرنگ کی، علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،اسرائیلی حملوں کی وجہ سے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،غزہ کا دوسرا بڑا ہسپتال القدس بھی مکمل طور پر بند ہو گیا ہے، ایندھن کی کمی اور بجلی کی بندش کی وجہ سے ہسپتال اب کام نہیں کر رہا،

  • غزہ: زمینی لڑائی میں افسر سمیت مزید  5  اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ: زمینی لڑائی میں افسر سمیت مزید 5 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ میں حماس کے ساتھ ہونے والی زمینی لڑائی میں افسر سمیت مزید 5 اسرائیلی فوجی مارے گئے۔

    باغی ٹی وی: اسرائیل نے فضائی کارروائی کے بعد غزہ میں زمینی راستے سے داخل ہوکر فوجی آپریشن کرنے کی دھمکی دی تھی، صیہونی ریاست کی بری فوج غزہ میں گھس کر کارروائی کی کوشش تو کر رہی ہے لیکن ہمیشہ اسے منہ کی کھانی پڑ رہی ہے۔

    ٹائمز آف اسرائیل اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں حماس کے ساتھ ہونے والی زمینی لڑائی میں مزید 5 فوجی مارے گئے جن میں ایک افسر بھی شامل ہے جب کہ ایک بٹالین کمانڈر شدید زخمی ہواغزہ میں بری فوج کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 43 ہو گئی جبکہ دو درجن کے قریب زخمی ہوچکے ہیں اسرائیلی فوج نے بھی اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے-

    برطانیہ: احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر غزہ کےالشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام …

    دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ 48 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کی 25 سے زائد گاڑیاں مکمل تباہ کیں، دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا، غزہ میں 160 سے زیادہ اسرائیلی فوجی اہداف کومکمل یا جزوی تباہ کر دیا۔

    صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش

    حماس نے اسرائیل پر 7 اکتوبر کو اچانک اور غیر متوقع حملہ کیا تھا جس میں 1400 اسرائیلی مارے گئے تھے جن میں زیادہ تر فوجی شامل تھے جب کہ 250 سے زائد اسرائیلیوں کو یرغمال بناکر غزہ لے جایا گیا تھا۔

  • برطانیہ:  احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر  غزہ کےالشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام پڑھ کر آبدیدہ ہوگئیں

    برطانیہ: احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر غزہ کےالشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام پڑھ کر آبدیدہ ہوگئیں

    لندن: غزہ کے اسپتالوں پر اسرائیلی بمباری روکنے کیلئے ہونے والے احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام پڑھ کر آبدیدہ ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : غزہ میں ہسپتالوں کے اطراف لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جنگ کو شروع ہوئے 36 روز مکمل ہوگئے ہیں اس وقت اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں موجود ہسپتالوں کا گھیراؤ کرلیا ہے، الشفا ہسپتال میں آکسیجن کی کمی اور دیگر وجوہات کی بنا پر بڑی تعداد میں اموات ہو رہی ہیں، ہسپتال میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں،تاہم اب صیہونی فوج نے غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفا سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

    الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ کمپلیکس کے اندر لاشوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے، یہ صورت حال زخمیوں کو بچانے میں ناکامی کی نشاندہی کر رہی ہے، الشفا ہسپتال کے قرب و جوار میں جھڑپیں جاری ہیں، اسرائیلی ٹینک الشفاکمپلیکس کے ارد گرد کے علاقے کے شمالی حصے سے 200 میٹر کے فاصلے پر ہیں ہسپتال کے ارد گرد حملے کئے جارہے ہیں، انڈونیشیا ہسپتال کے اطراف بھی صہیونی فوج موجود ہے۔

    صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش

    فلسطینی خاتون وزیر صحت ’’می الکیلہ‘‘ کے مطابق الشفا ہسپتال میں ایندھن کی کمی اور آکسیجن کی عدم دستیابی کے باعث کم از کم 39 شیر خوار بچوں کی موت کا خطرہ ہے، انتہائی نگہداشت وارڈ میں موجود 39 نوزائیدہ بچے کسی بھی لمحے موت کے منہ میں جا سکتے ہیں، ایک نومولود ہفتہ کی صبح جاں بحق بھی ہوگیا۔

    غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ پٹی کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال کمپلیکس میں ایندھن مکمل طور پر ختم ہونے کے بعد آج آپریشن روک دیا گیا۔

    دوسری جانب ہسپتالوں پر بمباری روکنے کیلئے برطانیہ کے ڈاکٹرز بھی میدان میں آگئے ہیں اور انہوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور بمباری رکوانے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

    دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    https://x.com/IrnaEnglish/status/1723396453853192559?s=20
    احتجاج میں موجود ایک خاتون ڈاکٹر نے الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر کا میسج پڑھ کر سنانا چاہا لیکن دل خراش میسج پڑھ کر وہ سب کے سامنے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور اسرائیلی بربریت پر ان کی آنکھیں بھر آئیں،جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، خاتون ڈاکٹر سمیت احتجاج میں موجود دیگر ڈاکٹرز کو بھی روتے دیکھا جا سکتا ہے،احتجاج میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈاکٹرز کی جانب سے بھرپور نعرے لگائے گئے-

    غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہمت کرکے خاتون ڈاکٹر نے پیغام پڑھ کر سنایا جس میں لکھا تھا کہ ہم میڈیکل اسٹاف زندہ رہنا چاہتے ہیں لیکن ہم نہیں رہ سکتے اور ہو سکتا ہے صبح تک ہم سب مارے جائیں، ہم یہاں قتل نہیں ہونا چاہتے ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں، برائے مہربانی آپ لوگ ہمارے لیے کچھ کریں، جو ہوسکتا ہے اپنی حکومت سے بات کریں، عالمی اداروں سے کہیں کہ مدد کیلئے سامنے آئیں۔

    حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا …

  • صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے  انخلا میں تعاون کی پیشکش

    صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش

    غزہ: صیہونی فوج نے غزہ کے الشفا اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

    باغی ٹی وی :فلسطینی وزارت صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی ٹینکوں نے الشفا میڈیکل اسپتال کے اندرونی صحنوں کو نشانہ بنایا ہے، الشفا اسپتال میں اسرائیلی حملے کے بعد آگ بھی بھڑک اٹھی تاہم بعد ازاں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کے سب سے بڑے الشفااسپتال سے انخلا میں تعاون کریں گے، اتوار کو الشفا اسپتال سےبچوں کونکالنےمیں مدد کریں گے۔

    الشفا اسپتال میں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی ہے، صہیونی فوج نے اسپتال کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لےرکھا ہےاسپتال آنےیا جانےوالوں کو تاک تاک کرگولیاں بھی ماری جا رہی ہیں الشفا اسپتال میں ایندھن اور آکسیجن ختم ہونے پر انتالیس بچوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا جبکہ شہدا کی تعداد 11 ہزار ایک سو سے بڑھ گئی، 27 ہزار 500 سے زائد زخمی ہوگئے، وزارت صحت کے مطابق، چاراسپتالوں کے اطراف اسرائیلی ٹینکس تعینات ہیں، غزہ سے دو لاکھ فلسطینی دو دن میں جنوب منتقل ہوگئے۔

    دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بار پھر غزہ پر قبضے کا ارادہ ظاہر کردیا، جنگ بندی کے بڑھتے ہوئے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنگ کے بعد غزہ کا سیکیورٹی کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھے گا فلسطینی اتھارٹی کا کوئی کردار نہیں ہوگا، حزب اللہ نے جنگ کی غلطی کی تو یہ اس کی آخری غلطی ہوگی، لبنان میں وہی ہوگا جو ہم غزہ میں کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فو ج نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس شمالی غزہ کا کنٹرول کھو چکی ہے، حماس کی ہدایات کےخلاف رہائشیوں نے جنوب کی طرف انخلا کیا ہے۔

    اسرائیل کی رات گئے غزہ پر بمباری اور گولہ باری

    دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا ایک بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں 160 سے زیادہ اسرائیلی فوجی اہداف کومکمل یاجزوی تباہ کردیا، گزشتہ 48 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کی 25 سے زیادہ گاڑیوں کو مکمل تباہ کیا، اسرائیلی فوج سے لڑائی برابری کی نہیں ہے، حماس سے لڑائی نے خطے کی سب سے طاقتور فوج کو خوفزدہ اور پریشان کردیا ہے، اسرائیلی فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور شدید زمینی جھڑپیں ہو رہی ہیں، ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں۔

    کینیڈا میں سکھ شہری نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 11 سالہ بیٹے سمیت قتل

  • اسرائیل کی رات گئے غزہ پر بمباری اور گولہ باری

    اسرائیل کی رات گئے غزہ پر بمباری اور گولہ باری

    غزہ: اسرائیل نے غزہ پر رات گئے پہلے طیاروں سے بمباری اور پھر ٹینکوں سے گولہ باری کردی-

    باغی ٹی وی: اسرائیل نےالقدس اسپتال پر پھر حملہ کردیا،بمباری کے ساتھ ہی اسپتال میں اندھیرا چھا گیا، جس میں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی ہے، صہیونی فوج نے اسپتال کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لےرکھا ہےاسپتال آنےیا جانےوالوں کو تاک تاک کرگولیاں بھی ماری جا رہی ہیں الشفا اسپتال میں ایندھن اور آکسیجن ختم ہونے پر انتالیس بچوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا جبکہ شہدا کی تعداد 11 ہزار ایک سو سے بڑھ گئی، 27 ہزار 500 سے زائد زخمی ہوگئے، وزارت صحت کے مطابق، چاراسپتالوں کے اطراف اسرائیلی ٹینکس تعینات ہیں، غزہ سے دو لاکھ فلسطینی دو دن میں جنوب منتقل ہوگئے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بار پھر غزہ پر قبضے کا ارادہ ظاہر کردیا، جنگ بندی کے بڑھتے ہوئے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنگ کے بعد غزہ کا سیکیورٹی کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھے گا فلسطینی اتھارٹی کا کوئی کردار نہیں ہوگا، حزب اللہ نے جنگ کی غلطی کی تو یہ اس کی آخری غلطی ہوگی، لبنان میں وہی ہوگا جو ہم غزہ میں کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا ایک بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں 160 سے زیادہ اسرائیلی فوجی اہداف کومکمل یاجزوی تباہ کردیا، گزشتہ 48 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کی 25 سے زیادہ گاڑیوں کو مکمل تباہ کیا، اسرائیلی فوج سے لڑائی برابری کی نہیں ہے، حماس سے لڑائی نے خطے کی سب سے طاقتور فوج کو خوفزدہ اور پریشان کردیا ہے، اسرائیلی فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور شدید زمینی جھڑپیں ہو رہی ہیں، ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں۔

  • عرب لیگ،اسرائیل کو تیل  ،فضائی حدود کی بندش کی تجاویز مسترد

    عرب لیگ،اسرائیل کو تیل ،فضائی حدود کی بندش کی تجاویز مسترد

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر صدارت غزہ کی صورتحال پر او آئی سی کااجلاس جاری ہے
    او آئی سے اجلاس سے قبل اعلامئے کو حتمی شکل دینے کے لئے عرب لیگ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے تیل پر پابندی کی تجویز کو مسترد کر دیا

    او آئی سی کے اجلاس سے قبل، عرب لیگ کا اجلاس ہوا،جس میں پیش کی گئی تجاویز میں کہا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کے منصوبے ختم کرنا ہو گا، عرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں کی بندش کرنی ہو گی، تیل کی بندش کی مشترکہ دھمکی دی جائے گی، اسرائیل کے ساتھ سویلین پروازوں کی معطلی اور اسرائیل کی ہر قسم کی پروازوں کیلئے فضائی بندش کرنی ہو گی، تمام مطالبات کو فوری جنگ بندی سے مشروط کرنا ہو گا

    اس اجلاس میں چار ممالک سعودی عرب،بحرین، مراکش، عرب امارات نے ان تجاویز کومسترد کر دیا،تیل پر پابندی اور تعلقات کے بائیکاٹ کے حوالہ سے او آئی سی اجلاس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی قابض افواج کو ہماری زمین سے نکلنا ہوگا، ہمیں صہیونی ریاست سے نجات کیلئے مزاحمت اور حماس کی حمایت کرنی ہوگی،صیہونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم ہونے چاہیے اسلامی ممالک اسرائیل کےخلاف تیل اور دیگرچیزوں کی پابندی لگائیں، اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں

    دوسری جانب او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیلی مظالم کی مذمت کی ہے،اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ نے فلسطینی عوام کی مکمل حمایت اور فلسطینی کاز کے دفاع کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا انہوں نے غزہ کے عوام پر ان حملوں کے خلاف جنگ بندی، امداد کی مسلسل ترسیل کے لیے محفوظ راستے کھولنے اور فلسطینی عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔او آئی سی سیکرٹری جنرل نے فلسطینی عوام کو نشانہ بنانے،جبری نقل مکانی کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ قابض حکومت کے ان اقدامات کے خلاف مناسب اقدامات کرے۔انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور جامع حل کے لیے ایک بین الاقوامی پرامن حل کے حصول کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے جس سے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہو.انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سربراہی اجلاس فلسطینی کاز کو پورا کرنے والے مقاصد کو حاصل کرے گا۔

    عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے غزہ میں نسل کشی کی کارروائیوں پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ پہلی نہیں ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ آخری جنگ ہوگی۔سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ عالمی ضمیر کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ غزہ میں اسرائیل کی مسلسل فوجی جارحیت علاقائی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔انہوں نے جبری نقل مکانی کی تمام شکلوں میں سختی سے مخالفت کی، اسے ایک بین الاقوامی جرم اور انسانی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی سمجھا۔

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا تھا ،ایلون مسک

    حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا تھا ،ایلون مسک

    یوٹیوب کے ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں، ایلون مسک نے آخر کار اسرائیل،حماس جنگ کے بارے میں بات کی ہے۔

    باغی ٹی وی: پوڈکاسٹر لیکس فریڈمین نے یوٹیوب انٹرویو ویڈیو میں ایلون مسک سے پوچھا کہ آپ کیسے امید کرتے ہیں کہ اسرائیل اور غزہ میں موجودہ جنگ ختم ہوگی؟ آپ کو ایسا کون سا راستہ نظر آتا ہے جو دنیا کے اس حصے میں طویل مدت میں انسانی مصائب کو کم کر سکتا ہے؟ –

    مسک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی آسان جواب نہیں ہے لیکن اگر آپ حماس کے زیادہ ارکان کو قتل کر دیں تو آپ کامیاب نہیں ہوں گےیہ کہنامحفوظ ہےکہ اگر آپ غزہ میں کسی کےبچےکو مارتے ہیں،تو آپ نے حماس کےکم از کم چند ارکان بنائے ہیں ، میری قطعی رائے میں حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا تھا کیونکہ حماس کو فوجی فتح حاصل کر نے کی امید نہیں تھی۔

    ٹیسلا کے سی ای او نے مزید کہا کہ وہ حقیقت میں بدترین ممکنہ مظالم کا ارتکاب کرنا چاہتے تھے تاکہ ایک بڑے جارحانہ اسرائیلی ردعمل کو اکسایا جا سکے اور اسرائیل کے اس ردعمل کا فائدہ اٹھا کر دنیا بھر کے مسلمانوں کو غزہ اور فلسطین کے لیے نکالا جا سکے وہ حقیقت میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    میزبان نے پوچھا کہ کیا یہ مسک کا فلسفہ ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے یہ "مناسب” ہے کہ وہ حماس کے ارکان کو تلاش کرے اور یا تو انہیں قتل کرے یا انہیں قید کرے انہوں نے کہا ، "یہ کچھ ایسا ہے جو کرنا ہے کیونکہ وہ دوسری صورت میں آتے رہیں گے اسرائیل کو موبائل ہسپتال فراہم کرنے کے لیے جو کچھ ہو سکتا ہے وہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہاں خوراک، پانی اور طبی ضروریات موجود ہوں، اور یہ تمام سہولیات انتہائی شفاف طریقے سے فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ اسے ایک چال کے طور پر نہ دیکھا جا سکے ، انہوں نے کہا آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کے اصول پر عمل کرنے سے صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ مسک نے حیرت کا اظہار کیا کہ حماس کے ہر رکن کے لیے جسے اسرائیل نے مارا اس نے کتنے اور بنائے ہیں؟ اگر اسرائیل غزہ میں کچھ لوگوں کے بچوں کو مارتا ہےتو اس سے زیادہ غصہ پیدا ہوگا اور شایدطویل مدت میں دہشت گردی ہو گی۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب ایلون مسک نے غزہ کے حق میں بات کی ہو۔ پچھلے مہینے، ایلون مسک نے اعلان کیا کہ SpaceX کا Starlink غزہ میں "بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ امدادی تنظیموں” کے لیے مواصلاتی تعاون فراہم کرے گا اس اعلان نے اسرائیل کے وزیر مواصلات کو اس اقدام کی مخالفت کا اعلان کرنے پر مجبور کیا مسک نے ایکس پر ذکر کیا کہ غزہ میں زمینی روابط کا اختیار واضح نہیں ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس علاقے میں کسی ٹرمینل نے رابطے کی درخواست نہیں کی ہے-

  • سعودی عرب،او آئی سی اجلاس،جنگ بندی،غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

    سعودی عرب،او آئی سی اجلاس،جنگ بندی،غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

    غزہ کی صورتحال پر او آئی سی کا غیر معمولی اسلامی سربراہی اجلاس سعودی عرب میں ہو رہا ہے

    سعودی ولی محمد بن سلمان اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، صدارتی خطاب میں محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہمیں غزہ میں ایک انسانی تباہی کا سامنا ہے، غزہ کی صورتحال سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری کی اسرائیلی مظالم کو روکنے میں ناکامی کی گواہی ہے،غزہ کی صورتحال پر عالمی برادری کا رویہ دوہرے معیار کو ثابت کرتا ہے،

    اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، اجلاس میں ایرانی صدر، ترک صدر، پاکستانی وزیراعظم سمیت دیگر شریک ہیں،

    غزہ میں جنگ کا جاری رہنا سلامتی کونسل کی ناکامی ہے،محمد بن سلمان
    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں شہریوں کے تحفظ کے لیے موجودہ واقعات کے آغاز سے ہی مسلسل کوششیں کی ہیں اور جنگ کو روکنے کے لیے دنیا کے موثر ممالک سے مشاورت اور ہم آہنگی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ہم ایک انسانی تباہی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے میں ناکامی کو نمایاں کرتا ہے۔خطے میں سلامتی، امن اور استحکام کے حصول کا واحد راستہ قبضے، محاصرے اور تصفیہ کو ختم کرنا، فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو یقینی بنانا، اور مشرقی یروشلم کے ساتھ ان کی آزاد ریاست کا قیام ہے۔ سعودی عرب غزہ کے رہائشیوں کے خلاف جاری جارحیت اور جبری بے گھر ہونے کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔ ہم قابض اسرائیلی حکام کو فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔محمد بن سلمان نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو فوری طور پر کھولا جانا چاہیے۔ہم فوری طور پر فوجی آپریشن بند کرنےکا بھی مطالبہ کرتے ہیں.اسرائیل غزہ میں لوگوں کے قتل عام کا ذمہ دار ہے،نہتے مسلمانوں کا عام روکا جائے اور انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دی جائے، مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنا بڑا جرم ہے،اس کو فوری روکا جائے

    اجلاس میں شریک تمام ممالک کے سربراہان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں،فلسطینی صدر
    فلسطینی صدر محمود عباس کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، فلسطینیوں پر روزانہ بمباری کی جارہی ہے،اسرائیل ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے، اجلاس میں شریک تمام ممالک کے سربراہان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں،فلسطین کے شہری اپنی زمین کے مالک ہیں،اسرائیلی قابض فوج نے دو ریاستی حل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے،سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فلسطین کو مستقل رکنیت دی جائے،غزہ فلسطین کا جزو ہے – اسرائیل نے غزہ مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے – بچوں عورتوں کو قتل کیا جارہا ہے – فلسطین قضیہ حل کیا جائے تاکہ یہ قتل عام روکا جائے

    فلسطینی کاز سے اپنی غر متزلزل وابستگی کا اعلان کرتے ہیں،ترک صدر
    ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر اسرائیل کے حالیہ ظلم اور تشدد کی مثال نہیں ملتی،ہم فلسطینی کاز کی واضح حمایت کا اعلان کرتے ہیں،غزہ میں امداد کے لیے ایک کارگو شپ روانہ کیا ہے،فلسطینی کاز سے اپنی غر متزلزل وابستگی کا اعلان کرتے ہیں،غزہ کے اسپتال معصوم بچوں کی لاشوں سے بھر گئے، غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے،اسرائیل نے بے گناہ فلسطینیوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے ،پیرس میں چند لوگوں کے قتل پر سربراہ مملکت نے احتجاج کیا تھا ،آج فلسطین میں ہزاروں بچے شہید ہو رہے ہیں کسی نے روکنے کی کوشش نہیں کی،اسرائیلی انتظامیہ 7 اکتوبر کے واقعے کا بدلہ غزہ کے بچوں، معصوم فلسطینی بچوں اور خواتین سے لے رہی ہے،غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے،امید ہے اجلاس امت مسلمہ کے لیے مثبت ثابت ہوگا،غزہ میں ہزاروں بچوں کے قتل عام پر کوئی سربراہ مملکت آواز اٹھانے کو تیار نہیں،اسرائیل اور اس کے حکمرانوں کے خلاف جنگی جرائم کی عدالت میں جانا ہوگا، فلسطین میں ہونے والے اسرائیلی مظالم کبھی نہیں بھولیں گے، بچوں کو گود میں اٹھا کر لے جانے والی ماؤں کو مارا جارہا ہے،اسرائیل کے جوہری ہتھیار پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں، اسرائیل غزہ جنگ کے نقصانات کا ازالہ کرے،اسرائیل ایک بگڑا ہوا بچہ بن چکا ہے جو ہرموقع پر اپنے ہر جرم اور تباہی کی ادائیگی سے بچ جاتا ہے۔ اسرائیل کو کی گئی تباہی کا اب معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ ہم فلسطین میں اپنے بہن بھائیوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ او آئی سی کو غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کو یقینی بنانے کے لیے ایک فنڈ بنانا ہوگا،مغربی ممالک نے غزہ جنگ بندی کی بھی مخالفت کی ہے،جو آج غزہ مظالم پر خاموش ہے وہ بھی ظلم میں برابر کا شریک ہے، مغرب امریکا انسانی حقوق کے علمبردار ہیں لیکن غزہ میں زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں،اسرائیل کے ایٹم بموں کی تحقیقات کی جائیں اور ایٹم بم رکھنے پر پابندیاں لگائی جائیں

    اسرائیل کو جنگی جرائم پر عالمی عدالت انصاف لے کر جانا ہوگا،امیر قطر
    امیر قطر نے او آئی سی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ غزہ میں مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام ناقابل قبول ہے، فلسطینیوں کے ساتھ مسلسل یکجہتی کرتے ہیں،اسرائیل کو جنگی جرائم پر عالمی عدالت انصاف لے کر جانا ہوگا، بین الاقوامی برادری کب تک اسرائیل کے ساتھ ایسا سلوک کرے گی جیسے وہ بین الاقوامی قانون سے بالاتر ہو؟ کس نے سوچا ہوگا کہ 21ویں صدی میں ہسپتالوں پر کھلے عام بمباری کی جائے گی اور اندھا دھند بمباری کے ذریعے خاندانوں کا صفایا ہو جائے گا؟”

    غزہ میں اسرائیل کے جرائم کا ذمہ دار امریکہ ،فلسطین امت مسلمہ کے فخر کا نشان ہے،ایرانی صدر
    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے او آئی سی اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اسلامی اور انسانی اقدار کا عکاس ہے،فلسطین امت مسلمہ کے فخر کا نشان ہے،غزہ میں معصوم فلسطینیوں کا خون بہایا جارہا ہے، اسرائیل غزہ میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے،خطے کی تاریخ کا فیصلہ کن مرحلہ آگیا ہے،غزہ میں اسرائیل کے جرائم کا ذمہ دار امریکہ ہے۔غزہ کے لوگ 20 سال سے جیل میں زندگی گزار رہے ہیں،غزہ کے عوام امت مسلمہ کے ہیرو ہیں،اسرائیل صیہونی ایجنڈے کے تحت نسل کشی کر رہا ہے،یہ جنگ فلسطینیوں کی عظمت اور اسرائیل کے کمینے پن کا ثبوت ہے، اسرائیل کی حمایت میں امریکا نے جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں،مسجد اقصیٰ کی حفاظت کرنے والوں کو صیہونی ریاست سے بچانا ہے،تین ہزار سے زائد فلسطینی بچے اور خواتین ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، امریکا اسرائیل کی حمایت کر کے جنگی جرائم میں شریک ہے،

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کروا کر حملے روکے جائیں، غزہ کا محاصرہ ختم کر کے امداد بھیجی جائے، اسرائیلی فوجی غزہ سے نکل جائیں، اگر نہیں نکلتے تو اسرائیل کا بائیکاٹ کیا جائے، اسرائیلی فوج کو دہشت گرد قرار دیا جانا چاہئے.اسلامی ممالک کو فلسطین کی مدد کرنی چاہئے، اسرائیل پر بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلانا چاہئے،آج ہم سب کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ کس طرف کھڑے ہیں ،امریکہ اسرائیل کے ساتھ ہے، روزانہ اسرائیل کو ہتھیار دے رہا ہے،

    مصری صدر السیسی نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی مذمت کرتے ہوئے غزہ کے لوگوں کے خلاف اسرائیل کی خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کی پالیسیاں ناقابل قبول ہیں اور اپنے دفاع یا کسی دوسرے دعوے سے ان کا جواز نہیں بن سکتا۔ انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے، غزہ میں جنگ کو ختم کرنے میں ناکامی کا نتیجہ خطے کے باقی حصوں تک پھیلنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو خونریزی کو روکنے اور تنازع کی جڑوں سے نمٹنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔


    اسرائیل غاصب ملک،غزہ میں‌قتل عام بند کیا جائے،نگران وزیراعظم
    پاکستان کے نگران وزیر اعظم انور الحق کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 70 سال قبل اقوام متحدہ نے مسئلہ فلسطین کو اپنی قرارداد کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔غزہ پر اسرائیلی بمباری سے اسپتال، اسکول اور اقوام متحدہ کے دفاتر بھی محفوظ نہیں۔غزہ میں قتل عام فوری بند کیا جائے۔غزہ میں فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم نے جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل غزہ میں قتل عام کو روکنے کی ذمہ دار ہے۔ناانصافی اور معصوم شہریوں کا قتل عام مزید تنازعات کو جنم دے گا۔پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس کو اس کا دارالحکومت قرار دینے کی حمایت کرتا ہے۔اسرائیل ایک غاصب ملک ہے۔وزیراعظم نے غزہ کو انسانی امداد کی فراہمی میں مصر کی کوششوں کو سراہا۔اور کہا کہ اسرائیل کے جنگی جرائم کو عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جائے۔غزہ کی صورتحال کے حوالے سے فوری طور پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے مسائل حل کرے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ میں ہسپتالوں پر بمباری،بلاول خاموش نہ رہ سکے

    اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ میں ہسپتالوں پر بمباری،بلاول خاموش نہ رہ سکے

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ میں اسپتالوں پر بمباری کی مذمت کی ہے

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ غزہ میں الشفاء، العودہ، القدس اور انڈونیشین اسپتال کو اسرائیلی فوجیوں نے نشانہ بناکر دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کی، اسپتالوں میں زیرعلاج بچے اور بزرگ اسرائیلی درندگی اور بربریت کا شکار ہوگئے، عالمی برادری مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کرے،اسرائیل بچوں، بزرگوں اور عورتوں سمیت عام شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے تاکہ خوف پیدا کرکے غزہ سے وہ عوامی انخلاء کو ممکن بناسکے، غزہ میں ہر 10 منٹ میں اسرائیلی جارحیت کے ہاتھوں ایک بچہ شہید ہورہا ہے اور نیتن یاہو سیز فائر سے انکار کررہا ہے،امید کرتا ہوں کہ سعودی عرب میں آج غزہ میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ہونے والی سمٹ فیصلہ کن ثابت ہوگی،

    واضح رہے کہ غزہ پر سات اکتوبر سے اسرائیلی بمباری جاری ہے، اسرائیل کے حملوں‌میں 11 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں ،اسرائیل نے ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا، گزشتہ روز سے اسرائیل نے الشفا ہسپتال سمیت کئی ہسپتالوں پر بمباری کی،اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال حماس اہلکاروں کے محفوظ ٹھکانے ہیں

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    غزہ پر سات اکتوبر سے اسرائیلی بمباری جاری ہے، اسرائیل کے حملوں‌میں 11 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں ،اسرائیل نے ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا، گزشتہ روز سے اسرائیل نے الشفا ہسپتال سمیت کئی ہسپتالوں پر بمباری کی،اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال حماس اہلکاروں کے محفوظ ٹھکانے ہیں

    ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے الشفا ہسپتال میں ‘تباہ کن صورتحال’ پر تشویش کا اظہار کیا۔امدادی ایجنسی ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے ایک سرجن کا حوالہ دیا ہے جس میں غزہ شہر کے الشفا ہسپتال کے اندر "تباہ کن صورتحال” پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اسرائیل کی جانب سے "گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران، الشفا ہسپتال کے خلاف حملوں میں ڈرامائی طور پر شدت آئی ہے۔ایک سرجن کا کہنا ہے کہ ایک مریض جسے سرجری کی ضرورت ہے۔ ہم خود کو نہیں نکال سکتے اور ان لوگوں کو اندر نہیں چھوڑ سکتے۔ بطور ڈاکٹرمیں ان لوگوں کی مدد کرنے کی قسم کھاتا ہوں جنہیں مدد کی ضرورت ہے۔

    ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کہا کہ وہ فی الحال ہسپتال میں اپنے کسی عملے سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ہم فوری طور پر ہسپتالوں کے خلاف حملوں کو روکنے اور طبی سہولیات، طبی عملے اور مریضوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں.

    اسرائیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ الشفاء اسپتال حماس اہلکاروں کا محفوظ ٹھکانہ ہےالبتہ حماس نے اسرائیلی دعوے کی تردید کی ہے، الجزیرہ نے الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ سے بات کی ہے۔ڈائریکٹر محمد ابوسلیمہ کا کہنا تھا کہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے جانیں گنوانا شروع کر دی ہیں۔ مریض لمحہ بہ لمحہ مر رہے ہیں، متاثرین اور زخمی بھی مر رہے ہیں – ہم نے انتہائی نگہداشت یونٹ میں ایک نوجوان کو بھی کھو دیا۔ غزہ شہر میں واقع ہسپتال کو بجلی، انٹرنیٹ اور پانی اور طبی سامان کے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    دار الشفاء ہسپتال، جس کے نام کا ترجمہ "شفا کا گھر” ہے، طویل عرصے سے اسرائیلی حملوں کے دوران ایک اہم پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں، غزہ کی پٹی میں ہزاروں فلسطینی بمباری سے اس لیے ہسپتالوں میں پہنچے کہ انہیں امید تھی کہ وہ علاقے کے سب سے بڑے ہسپتال کے گراؤنڈ میں محفوظ رہیں گے

    غزہ کے الشفا اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں 39 بچے آکسیجن کی کمی کی وجہ سے موت کے منہ میں ہیں، ایک بچے کی موت ہو گئی ہے ،الشفا ہسپتال پر اسرائیل نے مسلسل بمباری کی ، بعد میں ہسپتال کی بجلی بھی بند کر د ی گئی،الشفا ہسپتال کو مکمل خالی کروا لیا گیا ہے، آج صبح ایک شخص کو ہسپتال میں داخل ہونے پر گولی مار دی گئی،

    غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ سب سے بڑے الشفا ہسپتال کمپلیکس میں ایندھن ختم ہونے کے بعد ہفتے کے روز آپریشن معطل کر دیا گیا تھا۔ غزہ کے اسپتالوں میں مریضوں کو ناگزیر موت کا سامنا ہے، وہ اسرائیل اور عالمی برادری کو اس سنگین صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔”غزہ کے 30 ہسپتالوں میں سے اب 20 مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں،

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان