Baaghi TV

Tag: غزہ

  • ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

    غزہ پر اسرائیل کی مسلسل بمباری جاری ہے تو وہیں زمینی کاروائیاں بھی جاری ہیں ایسے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ کمانڈر اسماعیل قانی نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل سے جنگ میں حماس کی ہر ممکن مدد کی جائے گی

    ایرانی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل نے حماس کے القسام بریگیڈز کے کمانڈر محمد ضیف کو بھجوائے گئے پیغام میں ہر طرح کی مدد اور تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے،ایرانی کمانڈر اسماعیل قانی کا حماس کمانڈر کے نام پیغام میں کہنا تھا کہ ” آپ کے ایرانی بھائی آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ دشمن کو غزہ اور فلسطین میں انکے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے”

    قدس فورس کے کمانڈر کا پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا جب خبر رساں ادارے رائیٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے حماس کے سربراہ کو کہا ہے کہ ایران حماس کی اس جنگ میں حمایت نہیں کرے گاکیونکہ حماس نے خود سے حملہ کیا تھا، حماس ترجمان نے اس رپورٹ کو جھوٹا قرار دیا گیا تھا.

    اسرائیلی بمباری میں فلسطینی فریڈم موومنٹ کے بانی اور سیکرٹری جنرل خالد ابو ہلال شہید ہوگئے ہیں، فلسطینی میڈیا نے تصدیق کی کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے دوران خالد ابوہلال شہید ہو گئے، اسرائیل نے غزہ کے علاقے شیخ رضوان میں بمباری کی ، جس سے خالد کی موت ہوئی،

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ہم غزہ پر قبضے کا ارادہ نہیں رکھتے، ہمارے پاس الشفاء اسپتال میں یرغمالیوں کو رکھے جانے کے ٹھوس شواہد تھے،اسی وجہ سے ہسپتال پر حملے کئے گئے ،اسی وجہ سے اسرائیلی فوج ہسپتال داخل ہوئی تاہم حماس رہنما فوج کے پہنچنے سے قبل ہی نکل چکے تھے، خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی حکومت کے پاس یرغمالیوں کے حوالے سے انٹیلی جنس اطلاعات کا دعویٰ کیا لیکن انہوں نے تفصیلات بتانے سے انکار کردیا،انکا کہنا تھا کہ ہم غزہ میں زمینی آپریشن شروع کرنے سے پہلے ڈیل کے قریب تھے لیکن اسرائیلی فوج کے زمینی آپریشن نے حماس پر سیز فائر کے لیے دباؤ ڈالا ، اگر ہم اپنے یرغمالوں کو واپس لاسکتے ہیں تو ہم عارضی طور پر سیز فائر کریں گے لیکن میں نہیں سمجھتا یہ میرے مقصد کو پورا کرے

    دوسری جانب اسرائیل کے غزہ پر حملےکے بعد اسرائیلی معیشت کو یومیہ 26 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے،اسرائیلی مرکزی بینک نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیلی معیشت کو 50 ارب ڈالرز کا نقصان ہو سکتا ہے،اسرائیلی وزارت افرادی قوت کے مطابق غزہ جنگ کی وجہ سے ورک فورس میں 20 فیصد کمی ہوئی ہے،جنگ کی وجہ سے اسرائیلی کرنسی شیکل 2012 کے بعد کم ترین سطح پر آچکی ہے.

    اسرائیل نے غزہ میں کاروائی کے دوران طبی عملے کے بھی دو افراد کو گرفتار کیا ہے، اسرائیل نے ابن سینا ہسپتال کو خالی کرنے کا بھی حکم دیتے ہوئے ہسپتال کو گھیرے میں لے لیا ہے، ایمبولینسوں کی تلاشی لی گئی تو وہیں لاؤڈ سپیکر پر اعلان کر کے ہسپتال کو خالی کرنے کا کہا گیا،اسرائیل نے طبی عملے کو بھی ہسپتال سے نکلنے کا کہا ہے، جن افراد نے انکار کیا ان میں سے دو کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اسرائیل نے جنین پناہ گزین کیمپ سے بھی سات افراد کو گرفتار کیا ہے،

    غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ کا کہنا ہے کہ ہزاروں خواتین، بچے، بیمار اور زخمی موت کے خطرے سے دوچار ہیں،الشفاء کےڈائریکٹر نے الجزیرہ کو بتایا کہ شمالی غزہ میں انڈونیشین اسپتال بھی بند ہو چکا ہے،الشفا ہسپتال میں بھی اسرائیلی فوج موجود ہے جو مسلسل تلاشی لے رہی ہے، ہسپتالوں میں طبی سامان کی قلت ہو چکی ہے،جسکی وجہ سے کئی ہسپتال بند ہو چکے ہیں،مسلسل اسرائیلی حملوں کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا اور پانی کی بھی قلت ہو گئی ہے، زخمیوں کو بھی کھانے پینے کو کچھ نہیں مل رہا، غزہ پٹی کے شمالی علاقے میں کوئی امداد نہیں پہنچائی جا رہی

    الجزیرہ کے ساتھ ایک فون کال میں غزہ کے الشفا میڈیکل کمپلیکس میں برنز وارڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کمپلیکس کی اہم عمارتوں میں پانی اور بجلی کی کمی ہے۔ ہسپتال مریضوں سے تقریباً خالی ہے اور انٹرنیٹ ابھی تک منقطع ہے۔ عام صورتحال غیر محفوظ ہے اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سرجری نہیں کی جا سکتی، صاف پانی کی کمی کی وجہ سے بچے شدید آنتوں کے انفیکشن کا شکار ہو ہےر ہیں۔ اسرائیلی سنائپرز پورے کمپلیکس اور اس کے اطراف میں تعینات ہیں۔ اسرائیلی قبضے نے میڈیکل کمپلیکس کے اندر سے متعدد لاشیں چرا لیں۔ ہم نے ان انتہائی نگہداشت والے مریضوں کو کھو دیا ہے، جو وینٹی لیٹرز پر منحصر تھے۔

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    دوسری جانب اسرائیل نے مسجد اقصٰی میں آج بھی نماز جمعہ عائد کرنے کے لئے پابندی عائد کر رکھی تھی، شہریوں نے مسجد کے احاطے میں نماز جمعہ ادا کی،اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کی طرف جانے والے راستوں‌کو بند رکھا تھا،سینکڑوں نمازیوں نے راستوں کی بندش کی وجہ سے راہداریوں پر نماز ادا کی،اس دوران اسرائیلی فوج نے نمازیوں پر شیلنگ کی اور آنسو گیس برسائے،گزشتہ 6 جمعوں سے یہ صورت حال ہے اس سے قبل عام دنوں میں کم سے کم 50 ہزار مسلمان مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کیا کرتے تھے

    اسرائیلی بمباری کے دوران مریضوں کو تنہا نہ چھوڑنے والے ڈاکٹر حمام اللّٰہ اہل خانہ سمیت شہید ہو گئے ہیں، ڈاکٹر حمام اللہ الشفا ہسپتال میں تھے اور اسرائیلی بمباری سے انکی موت ہوئی ہے،36 سالہ ڈاکٹر حمام اللہ نے اسرائیلی دھمکیوں کی پرواہ نہیں کی تھی، اور علاقہ چھوڑنے کی بجائے زخمیوں کے علاج کو ترجیح دی تھی،ڈاکٹر حمام اللہ نے ایک انٹرویو میں اسرائیلی بمباری میں شہید طبی عملے کو خراج تحسین پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر میں محفوظ‌مقام پر چلا گیا تو زخمیوں کا علاج کون کرے گا، فلسطینی شہری انسان ہیں جانور نہیں کہ انہیں اکیلا چھوڑ دیا جائے، انہیں مناسب دیکھ بھال کی ضرورت ہے.

  • غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کی، جو آج تک جاری ہے، اسرائیلی حملے میں ہزاروں فلسطینی شہری شہید، لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، عمارتیں، ہسپتال، سکول، مساجد، چرچ پر بھی بمباری کی گئی، ہسپتالوں کو اسرائیلی فوج نے خصوصی نشانہ بنا لیا، اب اسرائیل نے غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال کو تباہ کر دیا ہے

    اسرائیلی فوج نے الشفا ہسپتال کو محاصرے میں رکھا، اسرائیلی فوج نے ہسپتال میں گھس کر پناہ لئے شہریوں کو گرفتار کیا، ان پر تشدد کیا، انہیں برہنہ کیا گیا اور پھر آج اسرائیلی فوج نے تمام عالمی قوانین کو روندتے ہوئے ہسپتال پر بلڈوزر چلا دیئے،اسرائیلی فوج نے سپیشل سرجریز کی عمارت مکمل تباہ کر دی ہے جبکہ ادویات اور طبی آلات کے گودام کو بھی دھماکے سے اڑا دیا ہے، اس دوران اسرائیلی فوج نے دو سو کے قریب بے گناہ ،نہتے فلسطینی شہریوں کو گرفتار کیا

    اسرائیل مسلسل یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ الشفا میں حماس کا ہیڈ کوارٹر ہے تا ہم اسرائیل آج تیسرا دن اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، حالانکہ اسرائیلی فوج کا ہسپتال پر مکمل کنٹرول ہے، اسرائیلی فوجی جعلی ویڈیو جاری کر رہے ہیں جس میں سے ایک ویڈیو کو ڈیلیٹ بھی کیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق الشفا ہسپتال میں حماس کا کوئی سراغ نہ ملنے پر الشفاء اسپتال میں حماس کی موجودگی کے دعویٰ غلط ثابت ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں اسپتال میں بڑی تباہی مچائی گئی، بلڈوزر اور فضائی حملوں سے الشفا اسپتال کو زمین بوس کیا گیا

    غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بلڈوزروں نے ہسپتال کے جنوبی داخلی راستے کے کچھ حصوں کو تباہ کر دیا.اسرائیلی فوجیوں نے الشفا ہسپتال میں موجود عملے اور دیگر شہریوں کو انسانی ڈھال بنا یا ہوا ہے،

    ہسپتالوں پر مسلسل حملے، غزہ میں جہاں اموات میں روز اضافہ ہو رہا ، بچے بھی شہید ہو رہے، ایسے میں غزہ میں پچاس ہزار سے زائد حاملہ خواتین ہیں جو اپنے آنے والے بچوں کے مستقبل کے حوالہ سے فکر مند ہیں، انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ خود بھی اسرائیلی بمباری سے بچ پائیں گی یا نہیں اگر خود مر گئیں تو انکے بچوں کا کیا ہو گا،ڈاکٹر اشرف محمود البشیطی کا کہنا ہے کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق 50,000 حاملہ خواتین انتہائی خطرے میں پڑ جائیں گی، ان حاملہ خواتین کو نہ صرف بچانا ہے بلکہ انکے بچوں کو بھی بچانا ہے،

    اسرائیلی بمباری سے ایک طرف اموات ہیں تو دوسری طرف جو لوگ زندہ ہیں انکی زندگیاں بھی اجیرن بن چکی ہیں، خوراک، پانی کی قلت،ادویات کی کمی بڑے مسائل ہیں تو وہیں کسی بھی وقت اسرائیلی بمباری کا خطرہ بھی سر پر منڈلاتا رہتا ہے،لاکھوں لوگ کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں، ان میں خواتین، بوڑھے بچے سب شامل ہیں، ریلیف کیمپوں میں خواتین کی حالت بارے الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گہا ہے کہ خواتین زیادہ پریشان ہیں، غزہ میں 50 ہزار سے زائد حاملہ خواتین ہیں جنہیں علاج، خوراک کی سہولیات میسر نہیں،حاملہ خواتین زیادہ تکلیف اور خوف میں رہتی ہیں، گھر ملیامیٹ ہو چکے ، ریلیف کیمپوں میں انکو وہ سہولیات نہیں مل رہیں جو ملنی چاہئے،33 سالہ خاتون نیوین الباری جو حاملہ ہیں اور ماں بننے والی ہیں، وہ شدید پریشان ہیں، مسلسل بمباری کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہیں کہ انکے بچے کا کیا بنے گا، انکی کمر اور پیٹ میں درد رہتا ہے مگر کوئی انکا علاج کروانے والا نہیں، وہ کیمپ میں رہ کر کسی کو بتا بھی نہیں سکتیں،نیوین کا کہنا ہے کہ میں صرف اس امید سے جی رہی ہوں کہ میرا بچہ محفوظ رہے،نیوین کے مطابق اسے ہائی بلڈ پریشر اور شوگر ہے تاہم یہاں اسے ادویات نہیں مل رہیں.اسرائیلی حملوں سے قبل وہ باقاعدگی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتی تھیں اور اپنا علاج کروا رہی تھیں لیکن اب تو اپنے خاندان سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہے، خاندان کے باقی افراد کہاں ہیں کس حال میں ہیں وہ کچھ نہیں جانتی،

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین
    غزہ کے ریلیف کیمپ میں زندگی گزارے والی نیوین کہتی ہیں کہ میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی، کسی بھی وقت اور کہیں بھی بمباری ہو رہی ہے، کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں،ہمیں نہیں معلوم کب کہاں بم گرے اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے،میں یقینی بنانے کی کوشش کروں گی کہ میں اور میرا بچہ محفوظ رہے،

    الجزیرہ کے مطابق نیوین اکیلی اس مسئلے کا شکار نہیں بلکہ جنگ زدہ علاقوں میں 50 ہزار حاملہ خواتین ہیں، کئی ایسی ہیں جو حمل کے آخری ماہ میں ہیں اور انکا باقاعدگی سے معائنہ بھی نہیں کیا جا رہا، اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق تقریبا 50 ہزار حاملہ خواتین علاج معالجہ اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں،

    نیوین کا کہنا ہے کہ زخمیوں لاشوں کو دیکھتی ہوں تو خوفزدہ ہو جاتی ہوں، روز دعا کرتی ہوں کہ جنگ ختم ہو جائے تا کہ میرے دنیا میں آنے والے بچے کو میزائل حملوں سے بچایا جا سکے،خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ امراض نسواں کے میڈیکل کنسلٹنٹ ولید ابو حاتب کے مطابق نقل مکانی کی وجہ سے صحت کے مراکز تک رسائی بہت مشکل ہو گئی ہے،

    وزارت صحت کی طرف سے فراہم کردہ تازہ ترین اعدادوشمارکے مطابق اسرائیلی بمباری سے غزہ کے کئی ہسپتال تباہ ہو چکے، اب غزہ میں 35 میں سے صرف 9 ہسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں،اسرائیلی حملوں میں اب تک 12 ہزار کے قریب شہری شہید ہو چکے جن میں ساڑھے چار ہزار بچے شامل ہیں، 29 ہزار سے زائد شہری زخمی ہیں،الشفاء ہسپتال میں 11 نومبر سے اب تک 3 قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں سمیت 40 مریضوں کی ایندھن کی کمی کے باعث موت ہوچکی ہے.

    اسرائیلی حملوں میں طبی عملے کے 202 اور سول ڈیفنس کے 26 اراکین کی موت ہو چکی ہے، طبی عملے کے دو سو سے زائد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں،1770 بچوں سمیت 3640 شہری لاپتہ ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں گرنے والی عمارتوں کے ملبے تلے پھنسے، تاحال انکو نہیں نکالا جا سکا، گمان ہے کہ انکی موت ہو چکی ہو گی،اسرائیلی حملے میں دو لاکھ 76 ہزار گھر تباہ ہو چکے ہیں،اسرائیل نے فضائی حملوں میں 60 سے زائد ایمبولینس گاڑیوں کو نشانہ بنایا،

    الجزیرہ کے مطابق ، الشفاء ہسپتال کے اطراف اور السرایا موڑ کی طرف جانے والے تمام راستوں میں صبح سے ہی جھڑپیں جاری ہیں.الصبر محلے اور شیخ رضوان محلے کے مغربی جانب بھی رات بھر جھڑپیں ہوتی رہیں،اس علاقے میں اسرائیل نے بمباری بھی کی،الشفا ہسپتال غزہ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ہم بہت ہی مشکل ترین حالات میں ہیں اور اس وقت گردوں کے مریض اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں ہم پیاس کے مارے چیخ رہے ہیں اور فوت ہو جانے والوں کو دفن کرنے سے قاصر ہیں،

    الشفا ہسپتال کو تباہ کرنے پرسعودی وزارت خارجہ کا ردعمل سامنے آیا ہے، سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے شہریوں اورطبی عملے کے خلاف انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کا جواب طلب ہونا چاہئے، سعودی عرب اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے بچوں، خواتین، شہریوں، طبی سہولیات اورامدادی ٹیموں کے خلاف مسلسل انسانی خلاف ورزیوں اورقابض فوج کی وحشیانہ اور غیرانسانی کارروائیوں کے نتیجے میں بین الاقوامی احتساب کے طریقۂ کارکوفعال کرنے کی ضرورت پرزوردیتی ہے.

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے آبائی گھر پر بمباری کی ہے، غزہ کے علاقے الشطی مہاجر کیمپ میں اسماعیل ہنیہ کے خاندانی گھر پر بم برسائے گئے، اسرائیلی فوج نے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اسماعیل کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق جس گھر پر بمباری کی گئی اس گھر میں اسماعیل ہنیہ نے اپنا بچپن گزارا تھا،اسرائیلی فوج کے گھر پرحملے میں ہلاکتوں کے حوالے سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • اسرائیلی جنگی جرائم پر انصاف کے عالمی اداروں کو متحرک ہونا ہوگا،دفتر خارجہ

    اسرائیلی جنگی جرائم پر انصاف کے عالمی اداروں کو متحرک ہونا ہوگا،دفتر خارجہ

    اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا ہے پاکستان او آئی سی اور عرب لیگ کے مشترکہ اجلاس کے اعلامیے کا خیر مقدم کرتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غزہ میں اسپتالوں پر اسرائیلی حملوں کا نوٹس لے-

    باغی ٹی وی : ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری ہے، اسرائیلی فوج نہتے فلسطینی عوام پر مظالم ڈھا رہی ہے، اسپتالوں پر حملے انسانی و جنگی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، اسرائیل عام شہریوں اور عمارتوں کو نشانہ بنا رہا ہے، اسپتالوں پر حملے انسانی و جنگی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، اسرائیلی جنگی جرائم پر انصاف کے عالمی اداروں کو متحرک ہونا ہوگا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    زہرا بلوچ نے بتایا کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے او آئی سی عرب لیگ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی، اور غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا نگران وزیراعظم نے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا اور اجلاس میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے حل پر زور دیا، پاکستان او آئی سی اور عرب لیگ کے مشترکہ اجلاس کے اعلامیے کا خیر مقدم کرتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غزہ میں اسپتالوں پر اسرائیلی حملوں کا نوٹس لے۔

    امریکی اور چینی صدور کی ملاقات، دو طرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ …

    یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان نے یوکرائن یا روس کو ہتھیار فروخت نہیں کیے، ہم جو ہتھیار کسی کو فروخت کرتے ہیں اس کا اینڈ یوزر سرٹیفیکٹ ہوتا ہے، ہم اس پوزیشن میں بھی نہیں کہ بتا سکیں کہ اس تنازع میں کون سا فریق کیا ہتھیار استعمال کر رہا ہےپاکستان اور روس کے درمیان دہشتگردی کی روک تھام کیلئے اجلاس جاری ہے، پاکستان کی طرف سے ایڈیشنل سیکرٹری حیدر شاہ وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا ہم نے انٹیلیجنس معلومات پر افغانستان کی عبوری حکومت کو دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کا کہا ہے-

    روپے کی مقابلے امریکی‌ڈالر کی قیمت میں کمی

  • الشفا ہسپتال پر اسرائیلی فوج کا دھاوا،بے گھر افراد گرفتار،کیا گیا برہنہ

    الشفا ہسپتال پر اسرائیلی فوج کا دھاوا،بے گھر افراد گرفتار،کیا گیا برہنہ

    اسرائیلی فوج نے مسلسل بمباری کے بعد غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال پر دھاوا بول دیا

    غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ الشفا ہسپتال میں ڈاکٹر ،مریض اور بے گھر افراد ہیں، اسکے باوجود اسرائیلی فوج نے الشفا ہسپتال پر دھاوا بول دیا ہے، ترجمان اشرف القدرہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں اور ہمارے پاس چھپانے کے لئے بھی کچھ نہیں،الشفا ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں موجود ملازم عمرزقوت نے خبر رساں ادارے الجزیرہ کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے شفا ہسپتال سے کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے، گرفتاری کے دوران انہیں برہنہ کر دیا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا،اسرائیلی فوجی امداد کے نام پر گرفتاریاں کرنے آئے تھے، فوج ہسپتال کو مکمل گھیرے میں‌ لے رہی ہے، ہسپتال میں 180 سے زائد لاشیں خراب ہو رہیں ہیں،جو صحن میں پڑی ہیں،ہسپتال کے ہر طرف گولیاں چل رہی ہیں.

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوجی لاؤڈا سپیکرکا استعمال کرتے ہوئے ہتھیار ڈالنے کا کہہ رہے ہیں لیکن ہسپتال میں ڈاکٹر،مریض اور بےگھر افراد ہیں، اسرائیلی فوج نے ہسپتال میں ادویات اور طبی آلات کے گودام کو دھماکے سے اڑا دیا،اسرائیلی فوج نے 30 کے قریب افراد کو گرفتار کیا، جن کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور ان کے کپڑے اتار کر انہیں برہنہ کر دیا گیا،غزہ کےہسپتالوں کے چیف نے الجزیرہ کو بتایا کہ اسرائیلی فوجی الشفا ءہسپتال کی سرجیکل اور ایمرجنسی عمارتوں میں داخل ہو ئے ہیں، سرجن ڈاکٹر احمد المخلاتی نےبتایا کہ اسرائیلی فورسز کے حملے کے بعد اسپتال کے اندر خوف کا ماحول ہے،

    یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کا کہنا ہے کہ غزہ کے دس لاکھ بچوں کے لیےکہیں بھی محفوظ جگہ نہیں ہے، بہت سے بچے لاپتہ ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ منہدم عمارتوں اور گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں،علاقے میں پانی ختم ہو چکا، خوراک ختم ہو چکی اور بیماریاں پھیل رہی ہیں.

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    یرغمالیوں کی رہائی، بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے، امریکی صدر

    الشفا ہسپتال پر اسرائیلی دھاوے اور گرفتاریوں کے بعد حماس ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل ہسپتال میں اسلحہ کے حوالہ سے جھوٹ بول رہا ہے اور دنیا کو دھوکا دے رہاہے،غاصب صیہونی فوج کا یہ دعویٰ کہ اس نے الشفاء میڈیکل کمپلیکس میں اسلحہ اور سازوسامان پکڑا ہے، سفید جھوٹ اور سستے پروپیگنڈے کا تسلسل ہے جس کے ذریعے وہ اپنے جرم کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا مقصد غزہ میں صحت کے شعبے کو تباہ کرنا ہے۔ حماس ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے دو ہفتے قبل ایک سے زیادہ مرتبہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ہسپتالوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دیں اور اسرائیل کے جھوٹے دعوؤں کا تعین کریں، کیونکہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارے او سی ایچ اے نے کہا ہے کہ متعدد رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجیں "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری” کے ذریعے جنوب کی طرف بھاگنے والے شہریوں کی گرفتاریاں کر رہی ہیں،مار پیٹ، برہنہ کرنے اور تشدد کی دیگر اقسام کی اطلاعات سامنے آئی ہیں،

    صحت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی "خوف زدہ” مریضوں اور طبی عملے کو دیکھ کر الشفا ہسپتال میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔غزہ کے ہسپتالوں کے جنرل ڈائریکٹر ڈاکٹر منیر البرش نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے تہہ خانے اور دیگر عمارتوں میں موجود آلات کو تباہ کر دیا، "وہ اب بھی یہاں ہیں مریض، خواتین اور بچے خوفزدہ ہیں،انہوں نے اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ پھنسے مریضوں، عملے اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے ایک محفوظ راہداری بنائیں۔اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اندر کم از کم 2,300 مریض، عملہ اور شہری موجود ہیں۔

  • غزہ جنگ:کینیڈین اور اسرائیلی وزیراعظم کا سوشل میڈیا پر مکالمہ

    غزہ جنگ:کینیڈین اور اسرائیلی وزیراعظم کا سوشل میڈیا پر مکالمہ

    غزہ میں جاری جنگ کے معاملے پر کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے سوشل میڈیا پر اسرائیل سے تحمل کامطالبہ کیا جس پر ان کے اسرائیلی ہم منصب بن یامین نیتن یاہو نے بھی ردعمل دیا-

    باغی ٹی وی : کینیڈین وزیراعظم جسٹس ٹروڈو نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اسرائیل کو چاہیے کہ غزہ میں اپنے فوجی آپریشن کو لگام دے، غزہ میں عورتوں، بچوں اور شیرخواروں کی ہلاکتیں دیکھ رہے ہیں، یہ سب رکنا چاہیے، غزہ میں انسانی المیہ، خصوصاً الشفا اسپتال کے واقعات دل کو جھنجھوڑنے والے ہیں، جنگ کے بھی اصول ہوتے ہیں، اسرائیلی ہو یا فلسطینی، ہر معصوم زندگی برابر ہوتی ہے، اسرائیلی حکومت سے حتی الامکان تحمل کا مطالبہ کرتا ہوں۔
    https://x.com/netanyahu/status/1724588372994216010?s=20
    جس پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جسٹس ٹروڈو کو سوشل میڈیا پر ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ حماس نے جو کچھ کیا وہ یہودیوں کے ساتھ ہولوکاسٹ کے بعد سب سے بڑا ظلم ہے، اسرائیل عام شہریوں کو خطرے کی راہ سے ہٹانے اور حماس خطرے کی راہ پر ڈالنے میں لگی ہے، اسرائیل نے غزہ کیلئے انسانی امداد کا کوریڈور کھولا۔

    غزہ میں اسرائیلی مظالم کیخلاف امریکا کے یہودیوں کا احتجاج

    نیتن یاہو نے کہا کہ جہاں اسرائیل شہریوں کو نقصان کے راستے سے دور رکھنے کے لیے سب کچھ کر رہا ہے، وہیں حماس انھیں نقصان پہنچانے کے لیے سب کچھ کر رہی ہے اسرائیل غزہ میں شہریوں کو انسانی ہمدردی کی راہداری اور محفوظ زون فراہم کرتا ہے، حماس انہیں بندوق کی نوک پر جانے سے روکتی ہےیہ حماس نہیں اسرائیل ہے جسے دوہرے جنگی جرم کے ارتکاب کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے – شہریوں کے پیچھے چھپ کر شہریوں کو نشانہ بناناتہذیب کی قوتوں کو حماس کی بربریت کو شکست دینے میں اسرائیل کا ساتھ دینا چاہیے۔

    دوسری جانب آئرلینڈ کی اپوزیشن رہنما میری لو مکڈونلڈ نے اپنی حکومت سے اسرائیل کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے،میری لو مکڈونلڈ نے پارٹی کی سالانہ تقریب میں آئر لینڈ میں تعینات فلسطینی سفیر کا خیر مقدم کیا اور فلسطین میں اسرائیلی فورسز کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ بچوں کا قبرستان بن چکا ہے، ہر 10 منٹ میں ایک بچہ مارا جا رہا ہے۔

    غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم …

    انہوں نے آئرش حکومت سے اسرائیل کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے کٹہرے میں لانے اور اسرائیلی سفیر کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا انہوں نے سوال کیا کہ غزہ میں مارے جانے والے ہر بچے اور مردہ بچے کی سرد لاش اٹھانے کے لیے بین الاقوامی قانون کا تحفظ کہاں ہے؟ اسرائیل کو استثنیٰ کے ساتھ مظالم کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    علاوہ ازیں غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کی سربراہ کیتھرین رسل نے غزہ کا دورہ کیا اور غزہ میں تباہ کن مناظر کی مذمت کی،کیتھرین رسل نے فریقین پر غزہ میں جاری وحشت کو روکنے پر زور دیتے ہوئے کہا میں نے جو دیکھا اور سنا وہ تباہ کن تھا، غزہ کے شہریوں نے متعدد بمباری، نقصان اور نقل مکانی کو برداشت کیا ہے، غزہ کے اندر 10 لاکھ بچوں کے واپس جانے کیلئے کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔

    ترکیہ نے اسرائیلی وزیراعظم کیخلاف بین الاقوامی عدالت سے رجوع کرلیا

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے الشفا اسپتال سے 30 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، اسپتال سے نکالے گئے افراد کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں اور گرفتار کیے گئے افراد کے گرد تین ٹینک کھڑے ہیں ایک ٹینک الشفا اسپتال کی ایمرجنسی کے دروازے پر کھڑا کیا گیا ہے، اسرائیلی فوج الشفا اسپتال کی سرجری بلڈنگز میں داخل ہو گئے ہیں، اسرائیلی فوجیوں نے الشفا کے سرجری ڈپارٹمنٹ کی تمام پارٹیشنز اکھاڑ دی ہیں،اسرائیلی ریڈیو کہہ چکا ہےکہ الشفا میں یرغمالیوں کا کوئی نشان نہیں ملا جبکہ فلسطینیوں کو خدشہ ہےکہ اسرائیلی فوج اسپتال پر قبضہ کرکے حماس سے منسوب کوئی غلط کام کریں گے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن، انٹونی بلنکن اور لائڈ آسٹن کے خلاف مقدمہ درج

  • امریکی صدر جوبائیڈن، انٹونی بلنکن اور  لائڈ آسٹن  کے خلاف  مقدمہ درج

    امریکی صدر جوبائیڈن، انٹونی بلنکن اور لائڈ آسٹن کے خلاف مقدمہ درج

    نیویارک: انسانی حقوق کی ایک امریکی تنظیم نے غزہ میں اسرائیلیوں کی نسل کشی میں ملوث ہونے اور اسے روکنے میں ناکامی پر صدر جو بائیڈن کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی ٌ نیویارک میں قائم مرکز برائے آئینی حقوق (سی سی آر) نے فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں اور غزہ اور امریکا کے فلسطینیوں کی جانب سےامریکی صدر جو بائیڈن، سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن، اور سیکریٹری دفاع لائڈ آسٹن کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔

    سی سی آر کی جانب سے شکایت میں کہا گیا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی کو روکنے میں ناصرف ناکام رہے ہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کو غیر مشروط فوجی اور سفارتی حمایت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے، فوجی حکمت عملی پر قریبی رابطہ کاری، اسرائیل کی بے دریغ اور بے مثال بمباری مہم اور غزہ کا مکمل محاصرہ روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی کوششوں کو کمزور کر کے سنگین جرائم کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی ہے۔

    مغربی کنارے پر بھی اسرائیل کے حملے،7 فلسطینی شہید، 2 بچوں سمیت 31 گرفتار

    https://x.com/theCCR/status/1724162383751327995?s=20
    سی سی آر نے شکایت میں کہا کہ اسرائیلی حکومت کے متعدد رہنماؤں نے واضح نسل کشی کے ارادوں کا اظہار کیا ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا گیا ہے، اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سمیت شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے پر بمباری کی ہے اور فلسطینیوں کو پانی، خوراک، بجلی، ایندھن اور ادویات سمیت انسانی زندگی کے لیے ہر ضروری چیز سے محروم کر دیا ہے اجتماعی قتل، سنگین جسمانی اور ذہنی ایذا رسانی، مکمل محاصرہ اور بندش جس سے گروپ کی جسمانی تباہی کے حالات پیدا ہو جائیں، یہ سب نسل کشی کے ایک آشکار ہوتے ہوئے جرم کے ثبوت کو ظاہر کرتے ہیں۔

    القسام بریگیڈ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے 70 یرغمال خواتین اور بچوں کی رہائی …

    سی سی آر نے نسل کشی اور ہولوکاسٹ کے کئی سرکردہ قانونی محققین و مؤرخین بشمول ولیم شاباس کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے اسرائیلی حکومت کی ہرزہ سرائی اور فوجی ردِعمل کو نسل کشی کی علامات کے طور پر بیان کیا۔

  • یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیلی خاندانوں کا نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ

    یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیلی خاندانوں کا نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ

    حماس کی جانب سے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد کے خاندانوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے

    مارچ میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، شرکا نے بینرز پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں،انکا مطالبہ ہے کہ یرغمالی افراد کو رہا کروایا جائے.اسرائیلی خاندانوں نے تل ابیب سے یروشلم تک پانچ روزہ مارچ کا آغاز کیا،حماس نے تقریبا 240 افراد کو یرغمال بنایا تھا جن میں‌سے چار افراد کو رہا کیا گیاہے، یرغمالیوں کی عمریں نوماہ سے 85 سال کے درمیان ہیں،

    اسرائیلی فوج حماس کو تباہ کرنے کے حکم کے ساتھ غزہ میں مسلسل بمباری کر رہی ہے، ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں ،لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، ایسے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو یرغمالیوں کے رشتہ داروں کی طرف سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ ان کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے مزید کچھ نہیں کر رہے ہیں۔

    مارچ میں شریک ایک خاتون کا کہنا تھا کہ "میں بنجمن نیتن یاہو اور کابینہ سے مطالبہ کرتی ہوں کہ ہمیں جوابات اور اقدامات فراہم کریں،میرے 21 سالہ بیٹے عمر کو حماس والے اپنے ساتھ لے گئے تھے،مارچ میں شریک ایک خاتون انتہائی جذباتی تھیں اور وہ اپنے بیٹے کے لئے حکومت سے انکی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھیں،خاتون مسلسل تم کہاں ہو، تم کہاں ہو،کہہ رہی تھیں، حماس نے اسرائیلی جیلوں میں قید 275 خواتین اور بچوں کی رہائی کے بدلے یرغمال بنائے گئے 70 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کا کہا تھا تا ہم اسرائیل کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اب تک جنگ بندی کی کسی بھی بات کو مسترد کرتے ہوئے این بی سی نیوز کو بتایا کہ وہ صرف اسی صورت میں لڑائی کو روکنے کے لیے تیار ہوں گے جب تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے۔ معاہدے کو محفوظ بنانے کا بہترین طریقہ حماس پر فوجی دباؤ برقرار رکھنا ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس ساحلی علاقے کا کنٹرول کھو چکی ہے۔ طبی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 11,100 سے زائد فلسطینی، جن میں سے 40 فیصد کے قریب بچے ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔

    غزہ کے عسکریت پسندوں نے اب تک چار یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، اسرائیلی فوج نے منگل کو ایک یرغمال فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی، جس کے بارے میں حماس کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی حملے میں مارا گیا تھا۔

    تل ابیب کے مارچ کرنے والے ہفتہ کو 65 کلومیٹر (40 میل) دور یروشلم میں نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے سامنے اپنا احتجاج ختم کریں گے۔72 سالہ یرغمالی آدینا موشے کے بھتیجے امیت زچ نے کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ ہم اچھے ہاتھوں میں ہیں۔ ہمیں ایسا نہیں لگتا کہ ہمیں کافی معلومات حاصل ہیں۔ ہم اندھیرے میں گر گئے۔ ہمیں جواب چاہیے،” .”میرے پاس کوئی حل نہیں ہے، لیکن حل نکالنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ میرا کام ہے کہ اپنے خاندان سے واپسی کا مطالبہ کروں،” اسیروں کی تصویریں اٹھائے ہوئے، مارچ کے شرکاء نے نعرے لگائے "انہیں ابھی گھر لے آؤ!” ایک آدمی چلایا: "سب!”

    القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا ہے کہ قطری ثالثوں کو بتایا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے غزہ میں قید 70 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں،ان دنوں مکمل جنگ بندی اور ہر انسانی امداد کی اجازت ہونی چاہیے،ساتھ فلسطینی خواتین اور بچوں کو بھی رہا کیا جائے جو اسرائیلی جیلوں میں،قبل ازیں ابوعبیدہ کا کہنا تھا کہ ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں، دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا

    حماس کی قید میں موجود اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کی ہلاکت کی تصدیق
    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حماس کی قید میں موجود اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے،اسرائیلی فوج نے حماس کی قید میں19 سالہ خاتون فوجی کارپورل نوا مارسیانو کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کو اطلاع کر دی،اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کو 7 اکتوبر کو یرغمال بنایا گیا تھا،حماس کے عسکری ونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون فوجی نوا مارسیانو 9 نومبر کو اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئیں، تاہم اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی

    غزہ میں بارش،فلسطینی شہریوں کے لئے ایک اور امتحان
    علاوہ ازیں غزہ میں بارش برسی ہے، جو فلسطینیوں کے لئے ایک امتحان بن گئی ہے،اسرائیلی بمباری سے گھر ملیا میٹ ہو چکے ایسے میں بارش ،شہری کھلے آسمان تلے بارش میں بھیگتے رہے تو کم سن بچے بارش میں کھیلتےرہے،بے گھر شہریوں‌کے لیے لگائے گئے خیموں میں بھی بارش کا پانی داخل ہو گیا، اس سے شہریون کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا، اقوام متحدہ کی 150 عمارتوں میں 7 لاکھ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں،اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی نے بارشوں سے کیمپوں میں متعدی بیماریاں پھیلنےکا خدشہ ظاہرکیا ہے

    اسرائیل کا اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے استعفیٰ کا مطالبہ
    دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے، اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی سربراہی کے لئے موزوں نہیں رہے، انہوں نے خطے میں امن کو فروغ نہیں دیا، سب کو کہنا چاہئے کہ غزہ سے حماس کی جان چھڑاؤ،ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، اسرائیلی وزیر نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی سی آر سی غزہ میں حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرے۔دوسری طرف اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے گیلاد اردن نے بھی گزشتہ ماہ اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کےاستعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا،

    یرغمالیوں کی رہائی، بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے، امریکی صدر
    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ہم یرغمالیوں کی بازیابی کیلئے کافی سرگرم ہیں اور بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے ۔ صدرجو بائیڈن سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کے اہل خانہ کے لیے کوئی پیغام ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ وہیں ٹھہرو، ہم آ رہے ہیں۔امریکی صدر جوبائیڈن اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے روزانہ بات چیت میں مصروف ہیں۔ میں ہر دن ملوث لوگوں سے بات کرتا رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ہونے والا ہے، لیکن میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا

    دوسری جانب یورپ اور لاطینی امریکہ کے ساٹھ سے زیادہ بائیں بازو کے سیاست دانوں نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے جس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت آئی سی سی سے اسرائیلی لیڈران کی نسل کشی کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ہسپانوی وزیر برائے سماجی حقوق Ione Belarra نے کہا کہ ہم اپنی خاموشی اور تعاون سے نسل کشی کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر آپ بروقت ظلم کو نہیں روکتے ہیں، تو یہ آپ کو اپنے ساتھ گھسیٹ لے گا۔اس پٹیشن میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے نام شامل ہیں، ان پر نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے،پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کے پاس نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں،

    اسرائیل کی غزہ پر ایک طرف بمباری جاری ہے تو دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ٹینکس کمپلیکس میں‌داخل ہوئے ہیں، اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے خلاف ٹارگٹ آپریشن کیا جا رہا ہے، حماس نے الشفا ہسپتال میں اپنا ٹھکانہ بنا رکھا تھا،حماس نے الشفا ہسپتال پر حملے کا ذمہ دار امریکی صدر کو قرار دیا، وائیٹ ہاؤس نے بھی اسرائیلی زبان بولتے ہوئے کہا تھا کہ حماس نے غزہ کے الشفا ہسپتال میں ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کررکھا ہے حما س نے وہاں اسلحہ جمع کر رکھا ہے،ترجمان الشفا ہسپتال کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج شفاہسپتال کے بیسمنٹ تک پہنچ گئی اور بیسمنٹ کی تلاشی شروع کردی ہے،شفا اسپتال میں محفوظ راہداری سے گزرنے والوں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ بھی کی.

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • القسام بریگیڈ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے 70 یرغمال خواتین اور بچوں کی رہائی پر تیار

    القسام بریگیڈ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے 70 یرغمال خواتین اور بچوں کی رہائی پر تیار

    مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل سے 5 دن کی جنگ بندی کے بدلے 70 یرغمال خواتین و بچوں کی رہائی پر تیار ہے-

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق القسام بریگیڈز کےترجمان ابوعبیدہ نے آڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں القسام بریگیڈز کے ترجمان نےکہا کہ قطری ثالثوں کو بتایا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے غزہ میں قید 70 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں، قطری ثالثیوں کو بتایاکہ5 روز کے دوران مکمل جنگ بندی اور ہر انسانی امداد کی اجازت ہونی چاہیے۔

    قبل ازیں ایک ویڈیو بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا تھاکہ ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا۔

    دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    واضح رہے کہ غزہ میں مسلسل 38 ویں روزبھی اسرائیلی طیاروں کی بمباری جاری ہے، 7 اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 11 ہزار 240 سے زیادہ ہوگئی ہے،امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ کے الشفا اسپتال کو بچانا ہوگا، اس معاملے پر اسرائیلی حکام سے رابطے میں بھی ہوں،پیر کو امریکی صدر جو بائیڈن نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امید اور توقع ہے کہ اسپتال کے حوالے سے کم دخل اندازی کی جائے گی، قطر کی مدد سے قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پربھی بات چیت جاری ہے۔

    اسرائیلی فوج کے الشفا اسپتال کے محاصرے پر امریکی صدر کا ردعمل

  • سعودی وزیر دفاع کا غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ

    سعودی وزیر دفاع کا غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ

    ریاض: سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی ضروری ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی وزیر دفاع نے آسٹریلیا کے نائب وزیراعظم و وزیر دفاع سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور غزہ کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی،دونوں رہنماؤں کے درمیان موجودہ عالمی صورتحال سمیت دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔

    رابطے میں دونوں ملکوں میں دفاع کی وزارتوں کے درمیان تعاون کے شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے غزہ میں عسکری کارروائی فوری بند کرنے، بے قصور شہریوں کی جان کی سلامتی اور انسانی امداد غزہ پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    دوسری جانب سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے تباہ حال غزہ کے لیے پہلا امدادی قافلہ غزہ پہنچ گیا ہے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس امدادی قافلے نے اتوار کے روز رفح کی راہداری عبور کی ، شاہ سلمان کی طرف سے غزہ کے لوگوں کے لیے بھجوائی امداد میں خوراک کے علاوہ خیمے وغیرہ بھی شامل ہیں یہ خیمے سعودی عرب کے قومی امدادی پروگرام کا حصہ ہیں جو شاہ سلمان کی ہدایت پر مملکت میں شروع کیا گیا پروگرام ہے پروگرام اسی ماہ فلسطینیوں کے لیے شروع کیا گیا ہےسعودی عرب کی طرف سے امدادی سامان کے ساتھ مصر کے العریش ہوائی اڈے پر ہفتے کے روز بھی ایک سعودی طیارہ اتر ا،سعودی عرب کا یہ ‘ انیشیٹو ‘ فلسطینیوں کے لیے اس کمٹمنٹ کا مظہر ہے جو مملکت کی طرف سے فلسطینیوں کو ہمیشہ کڑے وقت پر فراہم کی جانے کے حوالے سے ہے۔

    اسرائیلی فوج کے الشفا اسپتال کے محاصرے پر امریکی صدر کا ردعمل

  • اسرائیلی فوج کے الشفا اسپتال کے محاصرے پر امریکی صدر کا ردعمل

    اسرائیلی فوج کے الشفا اسپتال کے محاصرے پر امریکی صدر کا ردعمل

    فلسطین: غزہ میں مسلسل 38 ویں روزبھی اسرائیلی طیاروں کی بمباری جاری ہے، 7 اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 11 ہزار 240 سے زیادہ ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی: فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے، 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری سے 4 ہزار 630 بچے، 3 ہزار 130 خواتین سمیت 11 ہزار 240 معصوم فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

    فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت سے اب تک طبی عملے کے 189 افراد شہید ہوگئے ہیں،ہ اسرائیلی بمباری سے 41 ہزار 120 رہائشی املاک تباہ ہوئیں، بمباری سے 94 سرکاری عمارتیں تباہ اور 71 مساجد بھی شہید ہوئیں جبکہ بمباری سے 253 اسکولوں کی عمارتیں بھی تباہ ہوئیں۔

    حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کردینا چاہئے، اسرائیلی وزیر

    فلسطینی ادارہ شماریات کے مطابق غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک اسکول کے 3 ہزار 117 طلبا شہید ہوئے ہیں جبکہ مغربی کنارے میں بھی24 طلبا شہید کیے گئے اسرائیلی بمباری سے 130 اساتذہ اور تدریسی عملہ شہید ہوا ہے، 7 اکتوبر سے غزہ کے تمام اسکول بند ہیں،6 لاکھ 8 ہزار طلبا تعلیم سے محروم ہیں۔

    فلسطینی ادارہ شماریات کے مطابق غزہ کے 239 سرکاری اور اقوام متحدہ کے اسکولوں پر بمباری کی گئی،فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے 25 فیصد زرعی اراضی برباد ہوگئی ہے ،7 اکتوبر سے اب تک 18 کروڑ ڈالر کا زرعی نقصان ہوچکا ہے۔

    غزہ میں مواصلاتی سروسز منقطع ہونے کا خدشہ

    دوسری جانب اسرائیلی فوج غزہ کے سب سے بڑے الشفا اسپتال کے دروازوں تک پہنچ گئی ہے جبکہ وہاں موجود طبی عملے نے خبردار کیا ہے کہ نوزائیدہ بچوں سمیت مریضوں کی شہادتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے اسرائیلی فوج نے کئی روز سے الشفا اسپتال کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور اس کے اندر موجود ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بجلی کے جنریٹرز کے لیے ایندھن نہ ہونے کے باعث وہ مریضوں کا علاج کرنے سے قاصر ہیں،عالمی ادارہ صحت نے بتایا تھا کہ الشفا اسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے جبکہ فلسطینی حکام نے کہا کہ اسپتال کے محاصرے اور ایندھن کی کمی کے باعث 3 دن میں 32 مریض انتقال کر چکے ہیں الشفا اسپتال میں 45 نومولود بچے انکوبیٹرز میں موجود ہیں جن میں سے 6 شہید ہوچکے ہیں۔

    برطانیہ: احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر غزہ کےالشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام …

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ کے الشفا اسپتال کو بچانا ہوگا، اس معاملے پر اسرائیلی حکام سے رابطے میں بھی ہوں،پیر کو امریکی صدر جو بائیڈن نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امید اور توقع ہے کہ اسپتال کے حوالے سے کم دخل اندازی کی جائے گی، قطر کی مدد سے قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پربھی بات چیت جاری ہے۔

    قبل ازیں پیر کو امریکی محکمہ خارجہ اور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایجنسی (یو ایس ایڈ) کے درجنوں عہدیداران نے ایک اندرونی میمو پر دستخط کیے ہیں، جس میں غزہ میں فلسطینیوں کی زندگیوں کو اہمیت نہ دینے پر وائٹ ہاؤس پر تنقید کی گئی ہے۔

    دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیداران نے اس میمو پر دستخط کرتے ہوئے غزہ جنگ کے حوالے سے صدر جو بائیڈن کی حکمت عملی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس اس جنگ کو روکنے کے لیے تیار نہیں میمو میں امریکی صدر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کو روکنے میں ناکام رہے ہیں، بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیلی حکومت کو کسی واضح یا قابل اقدام ریڈ لائنز کے بغیر غیر مشروط فوجی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، یہ میمو محکمہ خارجہ کے پالیسی آفس میں 3 نومبر کو بھیجا گیا تھااس طرح کے میمو خفیہ رکھےجاتے ہیں اور ان کے ذریعے سفارتکاروں کی جانب سے اندرونی طور پر محکمہ خارجہ کی پالیسیوں پر اعتراضات کیے جاتے ہیں۔

    صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش

    ویتنام جنگ کے بعد یہ طریقہ کار مرتب کیا گیا تھا تاکہ اندرونی طور پر غلطیوں کی نشاندہی اور انہیں درست کیا جاسکے رپورٹ میں کہا گیا کہ اس میمو سے امریکی حکومت کے اندر موجود اختلافات کا عندیہ ملتا ہے،میمو میں کہا گیا کہ بائیڈن انتظامیہ غزہ میں عام شہریوں کی شہادت کے معاملے پر امریکی تشویش اسرائیل تک پہنچانے میں ناکام رہی،وائٹ ہاؤس کے اراکین واضح طور پر فلسطینیوں کی زندگیوں کا احترام نہیں کرتے، ان کی جانب سے جنگ روکنے کا عزم نظر نہیں آتا،میمو میں امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ گمراہ کن مواد پھیلا رہے ہیں، البتہ اس حوالے سے رپورٹ میں وضاحت نہیں کی گئی۔

    اس سے قبل بھی گزشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایک میمو میں محکمہ خارجہ کے عہدیداران کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکا اسرائیل سے جنگ بندی کا مطالبہ کرے۔

    اسرائیل کی رات گئے غزہ پر بمباری اور گولہ باری

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ حماس نے غزہ کی پٹی پر کنٹرول کھو دیا ہے اور اب وہ جنوب کی طرف جار رہے ہیں شہری حماس کے ٹھکانوں کو لوٹ رہے ہیں، شہریوں کو اب حکومت پر اعتماد نہیں رہا، یرغمالیوں کو غزہ میں بچوں کے اسپتال میں رکھے جانے کے اشارے ملے ہیں-