Baaghi TV

Tag: غزہ

  • صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے  انخلا میں تعاون کی پیشکش

    صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش

    غزہ: صیہونی فوج نے غزہ کے الشفا اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

    باغی ٹی وی :فلسطینی وزارت صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی ٹینکوں نے الشفا میڈیکل اسپتال کے اندرونی صحنوں کو نشانہ بنایا ہے، الشفا اسپتال میں اسرائیلی حملے کے بعد آگ بھی بھڑک اٹھی تاہم بعد ازاں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کے سب سے بڑے الشفااسپتال سے انخلا میں تعاون کریں گے، اتوار کو الشفا اسپتال سےبچوں کونکالنےمیں مدد کریں گے۔

    الشفا اسپتال میں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی ہے، صہیونی فوج نے اسپتال کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لےرکھا ہےاسپتال آنےیا جانےوالوں کو تاک تاک کرگولیاں بھی ماری جا رہی ہیں الشفا اسپتال میں ایندھن اور آکسیجن ختم ہونے پر انتالیس بچوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا جبکہ شہدا کی تعداد 11 ہزار ایک سو سے بڑھ گئی، 27 ہزار 500 سے زائد زخمی ہوگئے، وزارت صحت کے مطابق، چاراسپتالوں کے اطراف اسرائیلی ٹینکس تعینات ہیں، غزہ سے دو لاکھ فلسطینی دو دن میں جنوب منتقل ہوگئے۔

    دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بار پھر غزہ پر قبضے کا ارادہ ظاہر کردیا، جنگ بندی کے بڑھتے ہوئے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنگ کے بعد غزہ کا سیکیورٹی کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھے گا فلسطینی اتھارٹی کا کوئی کردار نہیں ہوگا، حزب اللہ نے جنگ کی غلطی کی تو یہ اس کی آخری غلطی ہوگی، لبنان میں وہی ہوگا جو ہم غزہ میں کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فو ج نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس شمالی غزہ کا کنٹرول کھو چکی ہے، حماس کی ہدایات کےخلاف رہائشیوں نے جنوب کی طرف انخلا کیا ہے۔

    اسرائیل کی رات گئے غزہ پر بمباری اور گولہ باری

    دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا ایک بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں 160 سے زیادہ اسرائیلی فوجی اہداف کومکمل یاجزوی تباہ کردیا، گزشتہ 48 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کی 25 سے زیادہ گاڑیوں کو مکمل تباہ کیا، اسرائیلی فوج سے لڑائی برابری کی نہیں ہے، حماس سے لڑائی نے خطے کی سب سے طاقتور فوج کو خوفزدہ اور پریشان کردیا ہے، اسرائیلی فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور شدید زمینی جھڑپیں ہو رہی ہیں، ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں۔

    کینیڈا میں سکھ شہری نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 11 سالہ بیٹے سمیت قتل

  • اسرائیل کی رات گئے غزہ پر بمباری اور گولہ باری

    اسرائیل کی رات گئے غزہ پر بمباری اور گولہ باری

    غزہ: اسرائیل نے غزہ پر رات گئے پہلے طیاروں سے بمباری اور پھر ٹینکوں سے گولہ باری کردی-

    باغی ٹی وی: اسرائیل نےالقدس اسپتال پر پھر حملہ کردیا،بمباری کے ساتھ ہی اسپتال میں اندھیرا چھا گیا، جس میں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی ہے، صہیونی فوج نے اسپتال کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لےرکھا ہےاسپتال آنےیا جانےوالوں کو تاک تاک کرگولیاں بھی ماری جا رہی ہیں الشفا اسپتال میں ایندھن اور آکسیجن ختم ہونے پر انتالیس بچوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا جبکہ شہدا کی تعداد 11 ہزار ایک سو سے بڑھ گئی، 27 ہزار 500 سے زائد زخمی ہوگئے، وزارت صحت کے مطابق، چاراسپتالوں کے اطراف اسرائیلی ٹینکس تعینات ہیں، غزہ سے دو لاکھ فلسطینی دو دن میں جنوب منتقل ہوگئے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بار پھر غزہ پر قبضے کا ارادہ ظاہر کردیا، جنگ بندی کے بڑھتے ہوئے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنگ کے بعد غزہ کا سیکیورٹی کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھے گا فلسطینی اتھارٹی کا کوئی کردار نہیں ہوگا، حزب اللہ نے جنگ کی غلطی کی تو یہ اس کی آخری غلطی ہوگی، لبنان میں وہی ہوگا جو ہم غزہ میں کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا ایک بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں 160 سے زیادہ اسرائیلی فوجی اہداف کومکمل یاجزوی تباہ کردیا، گزشتہ 48 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کی 25 سے زیادہ گاڑیوں کو مکمل تباہ کیا، اسرائیلی فوج سے لڑائی برابری کی نہیں ہے، حماس سے لڑائی نے خطے کی سب سے طاقتور فوج کو خوفزدہ اور پریشان کردیا ہے، اسرائیلی فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور شدید زمینی جھڑپیں ہو رہی ہیں، ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں۔

  • عرب لیگ،اسرائیل کو تیل  ،فضائی حدود کی بندش کی تجاویز مسترد

    عرب لیگ،اسرائیل کو تیل ،فضائی حدود کی بندش کی تجاویز مسترد

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر صدارت غزہ کی صورتحال پر او آئی سی کااجلاس جاری ہے
    او آئی سے اجلاس سے قبل اعلامئے کو حتمی شکل دینے کے لئے عرب لیگ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے تیل پر پابندی کی تجویز کو مسترد کر دیا

    او آئی سی کے اجلاس سے قبل، عرب لیگ کا اجلاس ہوا،جس میں پیش کی گئی تجاویز میں کہا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کے منصوبے ختم کرنا ہو گا، عرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں کی بندش کرنی ہو گی، تیل کی بندش کی مشترکہ دھمکی دی جائے گی، اسرائیل کے ساتھ سویلین پروازوں کی معطلی اور اسرائیل کی ہر قسم کی پروازوں کیلئے فضائی بندش کرنی ہو گی، تمام مطالبات کو فوری جنگ بندی سے مشروط کرنا ہو گا

    اس اجلاس میں چار ممالک سعودی عرب،بحرین، مراکش، عرب امارات نے ان تجاویز کومسترد کر دیا،تیل پر پابندی اور تعلقات کے بائیکاٹ کے حوالہ سے او آئی سی اجلاس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی قابض افواج کو ہماری زمین سے نکلنا ہوگا، ہمیں صہیونی ریاست سے نجات کیلئے مزاحمت اور حماس کی حمایت کرنی ہوگی،صیہونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم ہونے چاہیے اسلامی ممالک اسرائیل کےخلاف تیل اور دیگرچیزوں کی پابندی لگائیں، اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں

    دوسری جانب او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیلی مظالم کی مذمت کی ہے،اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ نے فلسطینی عوام کی مکمل حمایت اور فلسطینی کاز کے دفاع کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا انہوں نے غزہ کے عوام پر ان حملوں کے خلاف جنگ بندی، امداد کی مسلسل ترسیل کے لیے محفوظ راستے کھولنے اور فلسطینی عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔او آئی سی سیکرٹری جنرل نے فلسطینی عوام کو نشانہ بنانے،جبری نقل مکانی کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ قابض حکومت کے ان اقدامات کے خلاف مناسب اقدامات کرے۔انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور جامع حل کے لیے ایک بین الاقوامی پرامن حل کے حصول کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے جس سے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہو.انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سربراہی اجلاس فلسطینی کاز کو پورا کرنے والے مقاصد کو حاصل کرے گا۔

    عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے غزہ میں نسل کشی کی کارروائیوں پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ پہلی نہیں ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ آخری جنگ ہوگی۔سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ عالمی ضمیر کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ غزہ میں اسرائیل کی مسلسل فوجی جارحیت علاقائی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔انہوں نے جبری نقل مکانی کی تمام شکلوں میں سختی سے مخالفت کی، اسے ایک بین الاقوامی جرم اور انسانی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی سمجھا۔

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا تھا ،ایلون مسک

    حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا تھا ،ایلون مسک

    یوٹیوب کے ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں، ایلون مسک نے آخر کار اسرائیل،حماس جنگ کے بارے میں بات کی ہے۔

    باغی ٹی وی: پوڈکاسٹر لیکس فریڈمین نے یوٹیوب انٹرویو ویڈیو میں ایلون مسک سے پوچھا کہ آپ کیسے امید کرتے ہیں کہ اسرائیل اور غزہ میں موجودہ جنگ ختم ہوگی؟ آپ کو ایسا کون سا راستہ نظر آتا ہے جو دنیا کے اس حصے میں طویل مدت میں انسانی مصائب کو کم کر سکتا ہے؟ –

    مسک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی آسان جواب نہیں ہے لیکن اگر آپ حماس کے زیادہ ارکان کو قتل کر دیں تو آپ کامیاب نہیں ہوں گےیہ کہنامحفوظ ہےکہ اگر آپ غزہ میں کسی کےبچےکو مارتے ہیں،تو آپ نے حماس کےکم از کم چند ارکان بنائے ہیں ، میری قطعی رائے میں حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا تھا کیونکہ حماس کو فوجی فتح حاصل کر نے کی امید نہیں تھی۔

    ٹیسلا کے سی ای او نے مزید کہا کہ وہ حقیقت میں بدترین ممکنہ مظالم کا ارتکاب کرنا چاہتے تھے تاکہ ایک بڑے جارحانہ اسرائیلی ردعمل کو اکسایا جا سکے اور اسرائیل کے اس ردعمل کا فائدہ اٹھا کر دنیا بھر کے مسلمانوں کو غزہ اور فلسطین کے لیے نکالا جا سکے وہ حقیقت میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    میزبان نے پوچھا کہ کیا یہ مسک کا فلسفہ ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے یہ "مناسب” ہے کہ وہ حماس کے ارکان کو تلاش کرے اور یا تو انہیں قتل کرے یا انہیں قید کرے انہوں نے کہا ، "یہ کچھ ایسا ہے جو کرنا ہے کیونکہ وہ دوسری صورت میں آتے رہیں گے اسرائیل کو موبائل ہسپتال فراہم کرنے کے لیے جو کچھ ہو سکتا ہے وہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہاں خوراک، پانی اور طبی ضروریات موجود ہوں، اور یہ تمام سہولیات انتہائی شفاف طریقے سے فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ اسے ایک چال کے طور پر نہ دیکھا جا سکے ، انہوں نے کہا آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کے اصول پر عمل کرنے سے صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ مسک نے حیرت کا اظہار کیا کہ حماس کے ہر رکن کے لیے جسے اسرائیل نے مارا اس نے کتنے اور بنائے ہیں؟ اگر اسرائیل غزہ میں کچھ لوگوں کے بچوں کو مارتا ہےتو اس سے زیادہ غصہ پیدا ہوگا اور شایدطویل مدت میں دہشت گردی ہو گی۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب ایلون مسک نے غزہ کے حق میں بات کی ہو۔ پچھلے مہینے، ایلون مسک نے اعلان کیا کہ SpaceX کا Starlink غزہ میں "بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ امدادی تنظیموں” کے لیے مواصلاتی تعاون فراہم کرے گا اس اعلان نے اسرائیل کے وزیر مواصلات کو اس اقدام کی مخالفت کا اعلان کرنے پر مجبور کیا مسک نے ایکس پر ذکر کیا کہ غزہ میں زمینی روابط کا اختیار واضح نہیں ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس علاقے میں کسی ٹرمینل نے رابطے کی درخواست نہیں کی ہے-

  • سعودی عرب،او آئی سی اجلاس،جنگ بندی،غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

    سعودی عرب،او آئی سی اجلاس،جنگ بندی،غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

    غزہ کی صورتحال پر او آئی سی کا غیر معمولی اسلامی سربراہی اجلاس سعودی عرب میں ہو رہا ہے

    سعودی ولی محمد بن سلمان اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، صدارتی خطاب میں محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہمیں غزہ میں ایک انسانی تباہی کا سامنا ہے، غزہ کی صورتحال سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری کی اسرائیلی مظالم کو روکنے میں ناکامی کی گواہی ہے،غزہ کی صورتحال پر عالمی برادری کا رویہ دوہرے معیار کو ثابت کرتا ہے،

    اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، اجلاس میں ایرانی صدر، ترک صدر، پاکستانی وزیراعظم سمیت دیگر شریک ہیں،

    غزہ میں جنگ کا جاری رہنا سلامتی کونسل کی ناکامی ہے،محمد بن سلمان
    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں شہریوں کے تحفظ کے لیے موجودہ واقعات کے آغاز سے ہی مسلسل کوششیں کی ہیں اور جنگ کو روکنے کے لیے دنیا کے موثر ممالک سے مشاورت اور ہم آہنگی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ہم ایک انسانی تباہی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے میں ناکامی کو نمایاں کرتا ہے۔خطے میں سلامتی، امن اور استحکام کے حصول کا واحد راستہ قبضے، محاصرے اور تصفیہ کو ختم کرنا، فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو یقینی بنانا، اور مشرقی یروشلم کے ساتھ ان کی آزاد ریاست کا قیام ہے۔ سعودی عرب غزہ کے رہائشیوں کے خلاف جاری جارحیت اور جبری بے گھر ہونے کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔ ہم قابض اسرائیلی حکام کو فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔محمد بن سلمان نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو فوری طور پر کھولا جانا چاہیے۔ہم فوری طور پر فوجی آپریشن بند کرنےکا بھی مطالبہ کرتے ہیں.اسرائیل غزہ میں لوگوں کے قتل عام کا ذمہ دار ہے،نہتے مسلمانوں کا عام روکا جائے اور انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دی جائے، مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنا بڑا جرم ہے،اس کو فوری روکا جائے

    اجلاس میں شریک تمام ممالک کے سربراہان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں،فلسطینی صدر
    فلسطینی صدر محمود عباس کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، فلسطینیوں پر روزانہ بمباری کی جارہی ہے،اسرائیل ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے، اجلاس میں شریک تمام ممالک کے سربراہان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں،فلسطین کے شہری اپنی زمین کے مالک ہیں،اسرائیلی قابض فوج نے دو ریاستی حل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے،سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فلسطین کو مستقل رکنیت دی جائے،غزہ فلسطین کا جزو ہے – اسرائیل نے غزہ مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے – بچوں عورتوں کو قتل کیا جارہا ہے – فلسطین قضیہ حل کیا جائے تاکہ یہ قتل عام روکا جائے

    فلسطینی کاز سے اپنی غر متزلزل وابستگی کا اعلان کرتے ہیں،ترک صدر
    ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر اسرائیل کے حالیہ ظلم اور تشدد کی مثال نہیں ملتی،ہم فلسطینی کاز کی واضح حمایت کا اعلان کرتے ہیں،غزہ میں امداد کے لیے ایک کارگو شپ روانہ کیا ہے،فلسطینی کاز سے اپنی غر متزلزل وابستگی کا اعلان کرتے ہیں،غزہ کے اسپتال معصوم بچوں کی لاشوں سے بھر گئے، غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے،اسرائیل نے بے گناہ فلسطینیوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے ،پیرس میں چند لوگوں کے قتل پر سربراہ مملکت نے احتجاج کیا تھا ،آج فلسطین میں ہزاروں بچے شہید ہو رہے ہیں کسی نے روکنے کی کوشش نہیں کی،اسرائیلی انتظامیہ 7 اکتوبر کے واقعے کا بدلہ غزہ کے بچوں، معصوم فلسطینی بچوں اور خواتین سے لے رہی ہے،غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے،امید ہے اجلاس امت مسلمہ کے لیے مثبت ثابت ہوگا،غزہ میں ہزاروں بچوں کے قتل عام پر کوئی سربراہ مملکت آواز اٹھانے کو تیار نہیں،اسرائیل اور اس کے حکمرانوں کے خلاف جنگی جرائم کی عدالت میں جانا ہوگا، فلسطین میں ہونے والے اسرائیلی مظالم کبھی نہیں بھولیں گے، بچوں کو گود میں اٹھا کر لے جانے والی ماؤں کو مارا جارہا ہے،اسرائیل کے جوہری ہتھیار پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں، اسرائیل غزہ جنگ کے نقصانات کا ازالہ کرے،اسرائیل ایک بگڑا ہوا بچہ بن چکا ہے جو ہرموقع پر اپنے ہر جرم اور تباہی کی ادائیگی سے بچ جاتا ہے۔ اسرائیل کو کی گئی تباہی کا اب معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ ہم فلسطین میں اپنے بہن بھائیوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ او آئی سی کو غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کو یقینی بنانے کے لیے ایک فنڈ بنانا ہوگا،مغربی ممالک نے غزہ جنگ بندی کی بھی مخالفت کی ہے،جو آج غزہ مظالم پر خاموش ہے وہ بھی ظلم میں برابر کا شریک ہے، مغرب امریکا انسانی حقوق کے علمبردار ہیں لیکن غزہ میں زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں،اسرائیل کے ایٹم بموں کی تحقیقات کی جائیں اور ایٹم بم رکھنے پر پابندیاں لگائی جائیں

    اسرائیل کو جنگی جرائم پر عالمی عدالت انصاف لے کر جانا ہوگا،امیر قطر
    امیر قطر نے او آئی سی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ غزہ میں مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام ناقابل قبول ہے، فلسطینیوں کے ساتھ مسلسل یکجہتی کرتے ہیں،اسرائیل کو جنگی جرائم پر عالمی عدالت انصاف لے کر جانا ہوگا، بین الاقوامی برادری کب تک اسرائیل کے ساتھ ایسا سلوک کرے گی جیسے وہ بین الاقوامی قانون سے بالاتر ہو؟ کس نے سوچا ہوگا کہ 21ویں صدی میں ہسپتالوں پر کھلے عام بمباری کی جائے گی اور اندھا دھند بمباری کے ذریعے خاندانوں کا صفایا ہو جائے گا؟”

    غزہ میں اسرائیل کے جرائم کا ذمہ دار امریکہ ،فلسطین امت مسلمہ کے فخر کا نشان ہے،ایرانی صدر
    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے او آئی سی اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اسلامی اور انسانی اقدار کا عکاس ہے،فلسطین امت مسلمہ کے فخر کا نشان ہے،غزہ میں معصوم فلسطینیوں کا خون بہایا جارہا ہے، اسرائیل غزہ میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے،خطے کی تاریخ کا فیصلہ کن مرحلہ آگیا ہے،غزہ میں اسرائیل کے جرائم کا ذمہ دار امریکہ ہے۔غزہ کے لوگ 20 سال سے جیل میں زندگی گزار رہے ہیں،غزہ کے عوام امت مسلمہ کے ہیرو ہیں،اسرائیل صیہونی ایجنڈے کے تحت نسل کشی کر رہا ہے،یہ جنگ فلسطینیوں کی عظمت اور اسرائیل کے کمینے پن کا ثبوت ہے، اسرائیل کی حمایت میں امریکا نے جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں،مسجد اقصیٰ کی حفاظت کرنے والوں کو صیہونی ریاست سے بچانا ہے،تین ہزار سے زائد فلسطینی بچے اور خواتین ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، امریکا اسرائیل کی حمایت کر کے جنگی جرائم میں شریک ہے،

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کروا کر حملے روکے جائیں، غزہ کا محاصرہ ختم کر کے امداد بھیجی جائے، اسرائیلی فوجی غزہ سے نکل جائیں، اگر نہیں نکلتے تو اسرائیل کا بائیکاٹ کیا جائے، اسرائیلی فوج کو دہشت گرد قرار دیا جانا چاہئے.اسلامی ممالک کو فلسطین کی مدد کرنی چاہئے، اسرائیل پر بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلانا چاہئے،آج ہم سب کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ کس طرف کھڑے ہیں ،امریکہ اسرائیل کے ساتھ ہے، روزانہ اسرائیل کو ہتھیار دے رہا ہے،

    مصری صدر السیسی نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی مذمت کرتے ہوئے غزہ کے لوگوں کے خلاف اسرائیل کی خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کی پالیسیاں ناقابل قبول ہیں اور اپنے دفاع یا کسی دوسرے دعوے سے ان کا جواز نہیں بن سکتا۔ انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے، غزہ میں جنگ کو ختم کرنے میں ناکامی کا نتیجہ خطے کے باقی حصوں تک پھیلنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو خونریزی کو روکنے اور تنازع کی جڑوں سے نمٹنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔


    اسرائیل غاصب ملک،غزہ میں‌قتل عام بند کیا جائے،نگران وزیراعظم
    پاکستان کے نگران وزیر اعظم انور الحق کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 70 سال قبل اقوام متحدہ نے مسئلہ فلسطین کو اپنی قرارداد کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔غزہ پر اسرائیلی بمباری سے اسپتال، اسکول اور اقوام متحدہ کے دفاتر بھی محفوظ نہیں۔غزہ میں قتل عام فوری بند کیا جائے۔غزہ میں فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم نے جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل غزہ میں قتل عام کو روکنے کی ذمہ دار ہے۔ناانصافی اور معصوم شہریوں کا قتل عام مزید تنازعات کو جنم دے گا۔پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس کو اس کا دارالحکومت قرار دینے کی حمایت کرتا ہے۔اسرائیل ایک غاصب ملک ہے۔وزیراعظم نے غزہ کو انسانی امداد کی فراہمی میں مصر کی کوششوں کو سراہا۔اور کہا کہ اسرائیل کے جنگی جرائم کو عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جائے۔غزہ کی صورتحال کے حوالے سے فوری طور پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے مسائل حل کرے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ میں ہسپتالوں پر بمباری،بلاول خاموش نہ رہ سکے

    اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ میں ہسپتالوں پر بمباری،بلاول خاموش نہ رہ سکے

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ میں اسپتالوں پر بمباری کی مذمت کی ہے

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ غزہ میں الشفاء، العودہ، القدس اور انڈونیشین اسپتال کو اسرائیلی فوجیوں نے نشانہ بناکر دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کی، اسپتالوں میں زیرعلاج بچے اور بزرگ اسرائیلی درندگی اور بربریت کا شکار ہوگئے، عالمی برادری مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کرے،اسرائیل بچوں، بزرگوں اور عورتوں سمیت عام شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے تاکہ خوف پیدا کرکے غزہ سے وہ عوامی انخلاء کو ممکن بناسکے، غزہ میں ہر 10 منٹ میں اسرائیلی جارحیت کے ہاتھوں ایک بچہ شہید ہورہا ہے اور نیتن یاہو سیز فائر سے انکار کررہا ہے،امید کرتا ہوں کہ سعودی عرب میں آج غزہ میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ہونے والی سمٹ فیصلہ کن ثابت ہوگی،

    واضح رہے کہ غزہ پر سات اکتوبر سے اسرائیلی بمباری جاری ہے، اسرائیل کے حملوں‌میں 11 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں ،اسرائیل نے ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا، گزشتہ روز سے اسرائیل نے الشفا ہسپتال سمیت کئی ہسپتالوں پر بمباری کی،اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال حماس اہلکاروں کے محفوظ ٹھکانے ہیں

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    غزہ پر سات اکتوبر سے اسرائیلی بمباری جاری ہے، اسرائیل کے حملوں‌میں 11 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں ،اسرائیل نے ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا، گزشتہ روز سے اسرائیل نے الشفا ہسپتال سمیت کئی ہسپتالوں پر بمباری کی،اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال حماس اہلکاروں کے محفوظ ٹھکانے ہیں

    ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے الشفا ہسپتال میں ‘تباہ کن صورتحال’ پر تشویش کا اظہار کیا۔امدادی ایجنسی ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے ایک سرجن کا حوالہ دیا ہے جس میں غزہ شہر کے الشفا ہسپتال کے اندر "تباہ کن صورتحال” پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اسرائیل کی جانب سے "گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران، الشفا ہسپتال کے خلاف حملوں میں ڈرامائی طور پر شدت آئی ہے۔ایک سرجن کا کہنا ہے کہ ایک مریض جسے سرجری کی ضرورت ہے۔ ہم خود کو نہیں نکال سکتے اور ان لوگوں کو اندر نہیں چھوڑ سکتے۔ بطور ڈاکٹرمیں ان لوگوں کی مدد کرنے کی قسم کھاتا ہوں جنہیں مدد کی ضرورت ہے۔

    ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کہا کہ وہ فی الحال ہسپتال میں اپنے کسی عملے سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ہم فوری طور پر ہسپتالوں کے خلاف حملوں کو روکنے اور طبی سہولیات، طبی عملے اور مریضوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں.

    اسرائیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ الشفاء اسپتال حماس اہلکاروں کا محفوظ ٹھکانہ ہےالبتہ حماس نے اسرائیلی دعوے کی تردید کی ہے، الجزیرہ نے الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ سے بات کی ہے۔ڈائریکٹر محمد ابوسلیمہ کا کہنا تھا کہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے جانیں گنوانا شروع کر دی ہیں۔ مریض لمحہ بہ لمحہ مر رہے ہیں، متاثرین اور زخمی بھی مر رہے ہیں – ہم نے انتہائی نگہداشت یونٹ میں ایک نوجوان کو بھی کھو دیا۔ غزہ شہر میں واقع ہسپتال کو بجلی، انٹرنیٹ اور پانی اور طبی سامان کے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    دار الشفاء ہسپتال، جس کے نام کا ترجمہ "شفا کا گھر” ہے، طویل عرصے سے اسرائیلی حملوں کے دوران ایک اہم پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں، غزہ کی پٹی میں ہزاروں فلسطینی بمباری سے اس لیے ہسپتالوں میں پہنچے کہ انہیں امید تھی کہ وہ علاقے کے سب سے بڑے ہسپتال کے گراؤنڈ میں محفوظ رہیں گے

    غزہ کے الشفا اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں 39 بچے آکسیجن کی کمی کی وجہ سے موت کے منہ میں ہیں، ایک بچے کی موت ہو گئی ہے ،الشفا ہسپتال پر اسرائیل نے مسلسل بمباری کی ، بعد میں ہسپتال کی بجلی بھی بند کر د ی گئی،الشفا ہسپتال کو مکمل خالی کروا لیا گیا ہے، آج صبح ایک شخص کو ہسپتال میں داخل ہونے پر گولی مار دی گئی،

    غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ سب سے بڑے الشفا ہسپتال کمپلیکس میں ایندھن ختم ہونے کے بعد ہفتے کے روز آپریشن معطل کر دیا گیا تھا۔ غزہ کے اسپتالوں میں مریضوں کو ناگزیر موت کا سامنا ہے، وہ اسرائیل اور عالمی برادری کو اس سنگین صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔”غزہ کے 30 ہسپتالوں میں سے اب 20 مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں،

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیلی بمباری سےغزہ میں یرغمال اسرائیلی خاتون فوجی اہلکار ہلاک

    اسرائیلی بمباری سےغزہ میں یرغمال اسرائیلی خاتون فوجی اہلکار ہلاک

    اسرائیل کی غزہ میں بمباری کے نتیجے میں ایک اور اسرائیلی یرغمالی فوجی ہلاک ہو گیا ہے

    حماس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری میں ایک اسرائیل کی خاتون فوجی اہلکار کی موت ہو گئی ہے،اب تک اسرائیلی حملوں میں 61 یرغمالی اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں، اسرائیلی بمباری سے آج ایک اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوا ہے،ہلاک اسرائیلی فوجی کی شناخت فاؤل عزائی کے طور پر ہوئی، جسے حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران یرغمال بنایاتھا.حماس کے اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کی تھی جو ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے، اسرائیلی حملوں میں گیارہ ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، دوسری جانب اسرائیل میں 16 سو کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں

    دوسری جانب اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کرنے سے لگاتار پانچویں ہفتے بھی روکے رکھا، اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں داخلے پرپابندی عائد کر رکھی تھی،تاہم فلسطینی پابندیوں کے باوجود مسجد اقصیٰ پہنچے، چار ہزار کے قریب افراد نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کی،مسجد اقصیٰ کے گردونواح والی سڑکوں پر اسرائیلی فوج تعینات تھی،مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی کے بعد سنیکڑوں فلسطینیوں کو اولڈ سٹی ایریا کے قریب سڑکوں پر نماز جمعہ ادا کرنے پر مجبور کیا گیا.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • نااہل شخص کو شہزادہ بناکر پیش کیا جا رہا،حافظ نعیم

    نااہل شخص کو شہزادہ بناکر پیش کیا جا رہا،حافظ نعیم

    جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اِس وقت فلسطین میں بہت بُرا حال ہے، مسلسل بم باری ہو رہی ہے، اس وقت گیارہ ہزار فلسطینی اسرائیلی بم باری سے شہید ہوئے ہیں،

    حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ امریکہ انکی سرپرستی کر رہا ہے، بچے عورتیں شہید ہو رہے ہیں اور امریکہ کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا،پوری دنیا میں اب لوگ اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، عالم اسلام کی فوج اگر انکے ساتھ مل جائیں تو حماس کی فوج اسرائیل کو مٹا سکتی ہے، امریکہ کھل کر اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے، اور مسلم حکمران خاموش ہو کر ساتھ دے رہے ہیں، یہ پورا عمل پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر رہا ہے، ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس تحریک کو ہم آگے بڑھائینگے، جاگیردار طبقہ ملک کو تباہ کرنے کا ذمہ دار ہے، ہم عوامی رابطے کا ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں، 15 نومبر سے ہم عوام میں جانگے جلسے اور ریلیاں بھی کرینگے، کراچی میں ہم ملین کی تعداد میں لوگوں سے رابطہ کرینگے،

    حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ان سازش کرنے والوں کو کوئی نہیں پوچھے گا، اس حکومت اور الیکشن کمیشن نے غیر آئینی کام کیا ہے،ایک شخص جو نا اہل ہے اسے شہزادہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے،دوسری جانب ایک پارٹی چیئرمین کو قید کیا ہوا ہے، پنجاب گورنر ہاؤس میں ن لیگ کا اجلاس کیسے ہو رہا ہے،چاروں صوبوں میں چاروں پارٹیوں کے گورنر لگے ہوئے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے چاروں گورنر برطرف ہوں، ووٹر لسٹ کو ٹھیک کیا جائے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ووٹر لسٹ درست بنائیں،اگر ہم مردم شماری پر جائیں گے تو الیکشن آگے بڑھیں گے،

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین

  • عرب وزراء خارجہ کا اجلاس،او آئی سی، عرب لیگ کا اجلاس رواں ہفتے ہو گا

    عرب وزراء خارجہ کا اجلاس،او آئی سی، عرب لیگ کا اجلاس رواں ہفتے ہو گا

    سعودی عرب میں او آئی سی اور عرب لیگ کا غزہ کے مسئلہ پر ہنگامی اجلاس رواں ہفتے ہو رہا ہے، اجلاس سے قبل عرب ممالک کے وزراء خارجہ کی ریاض میں ملاقات ہوئی ہے

    عرب لیگ کے اجلاس سے قبل تیاریوں کے سلسلہ میں عرب وزراء خارجہ کی ملاقات ہوئی، اس ضمن میں عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل حسام ذکی نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے کے دن ہونے والے عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس سے پیغام جاناچاہیےکہ فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کو روکنے اور فلسطینیوں کی حمایت کیلئے عرب ممالک کیا حکمت عملی اختیار کرنے جا رہے ہیں، اجلاس میں اسرائیلی قبضے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا جائے

    عرب لیگ وزرائے خارجہ کی اس اہم ملاقات کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے فلسطینیوں کی بھرپور حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پناہ گزین کیمپوں پر حملے کرکے سینکڑوں فلسطینیوں کو شہید کرنے پر اسرائیل کی شدید مذمت کی

    او آئی سی کا اجلاس اتوار کو ہو گا، پاکستانی وزیراعظم انوارالحق کاکڑ بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی شرکت بھی متوقع ہے،ایرانی صدر کئی برس بعد سعودی عرب کا دورہ کریں گے اور اجلاس میں شریک ہوں گے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ تین روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہو گئے،وزیراعظم ریاض میں منعقدہ او آئی سی سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے،او آئی سی کا ہنگامی اجلاس فلسطین کی موجودہ صورتحال پر طلب کیا گیا ہے،نگران وزیراعظم او آئی سی رکن ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کریں گے

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان