Baaghi TV

Tag: غزہ

  • امریکی سفارتخانے کی جانب غزہ مارچ کی تیاریاں،جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر گرفتار

    امریکی سفارتخانے کی جانب غزہ مارچ کی تیاریاں،جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر گرفتار

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ21 دن بعد اقوام متحدہ کا اجلاس بلایا گیا،بین الاقوامی ادارے بھی مسلمانوں کے قتل پر خاموش ہیں،

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ غزہ میں ظلم ستم ڈھایا جارہا ہے دنیا خاموش ہے، انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں بھی خاموش ہیں، اسرائیلی جارحیت کا جواب دینا کسی ایک تنظیم کا نہیں بلکہ حکمرانوں کا کام ہے،جماعت اسلامی نے کل امریکہ کے سفارتخانہ کے سامنے غزہ مارچ کا اعلان کیا ہے، اسرائیل کے ظلم اور امریکہ کی اسرائیل کی سرپرستی کیخلاف مظاہرہ کریں گے، آج غزہ کے مظلوم مسلمانوں ہماری طرف دیکھ رہے ہیں،بچوں نے کل غزہ کے بچوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مظاہرہ کیا، امت مسلمہ جاگ رہی ہے اور غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں،

    دوسری جانب ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق امیر جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد نصراللہ رندھاوا کو بھی گرفتار کر لیا ہے،پولیس غزہ مارچ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہمارا اسٹیج اور دیگر ساؤنڈ سسٹم اٹھا لیا،جماعت اسلامی کے رہنما میاں اسلم کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے غزہ مارچ کی تیاریوں پر ریاستی ادارے دھاوا بول کر کارکنان اور قیادت کو سامان سمیت اغوا کر رہے ہیں۔ یہ دہشت گردی، نگران حکومت کی امریکہ و اسرائیل نوازی بدترین فاشزم ہے۔ پولیس اور انتظامیہ ہوش کے ناخن لے، جماعت اسلامی کو دبانا آسان نہیں ہوگا۔

    امریکہ کے بعد کیا اب اسرائیل نوازی بھی ان کےلیے کوئی قابل شرم بات نہیں رہی؟سراج الحق
    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں غزہ مارچ کی تیاریاں روکنا اور اسلام آباد کے امیر نصراللہ رندھاوا اور تاجر رہنما کاشف چوہدری کی گرفتاری انتہائی قابل مذمت ہے۔ نگران حکومت اور ادارے کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں؟ امریکہ کے بعد کیا اب اسرائیل نوازی بھی ان کےلیے کوئی قابل شرم بات نہیں رہی؟ کارکنان کو فوری رہا کیا جائے

    فلسطینیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے جماعت اسلامی کی مظاہرے کا معاملہ ،سرینا چوک سے پولیس نے جماعت اسلامی کے کارکنان کو گرفتار کر لیا،جماعت اسلامی اسلام آباد کے ترجمان عامر بلوچ کو پولیس نے گرفتار کرلیا، جماعت اسلامی رہنماؤں کے مطابق عامر بلوچ کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ،گرفتاریوں کے بعد جماعت اسلامی کے کارکنان سرینا چوک پر جمع ہو گئے، جماعت اسلامی رہنمامیاں اسلم بھی سرینا چوک پہنچ گئے ،جماعت اسلامی نے سرینا چوک پر احتجاجی مظاہرہ شروع کردیا،جماعت اسلامی کے کارکنان نے پولیس اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی، اس موقع پر میاں اسلم کا کہنا تھا کہ غزہ میں قیامت گزر گئی، آٹھ ہزار فلسطینی شہید ہوگئے، اسرائیلی فلسطینیوں پر ظلم کررہے ہیں۔ہم کل کے مارچ کے لیے انتظامات کررہے ہیں ،ہمیں مارا گیا، سڑکوں پر لٹایا گیا،ہمارے کارکن گرفتار کررہے ہیں ،کل ہر پاکستانی غزہ کے مسلمانوں کے لیے آئیں گے ، 25 کروڑ عوام غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ ہم پر تشدد کیا گیا، ہمارے کیمپ اکھاڑ دیے گئے۔ ہم نے ڈی سی اسلام آباد سے بات کی ہے، وزیر داخلہ سے بات کی ہے.

    واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے 29 اکتوبر کو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے تک غزہ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، مارچ کی قیادت امیر جماعت اسلامی سراج الحق کریں گے،مارچ کا آغاز آبپارہ سے کیا جائے گا

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین

  • اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری،جنگ بندی کی اپیلیں بے سود

    اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری،جنگ بندی کی اپیلیں بے سود

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، 22 دن گزر گئے ، آٹھ ہزار سے زائدغزہ میں اموات ہو چکی ہیں،بچے، خواتین بھی مرنے والوں میں شامل ہیں، اسرائیل بمباری روکنے کا نام نہیں لے رہا، عالمی دنیا احتجاج کر رہی، جنگ بندی کی اپیلیں کر رہی لیکن اسرائیل نے حملے مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں.

    اسرائیل کی زمینی فوج غزہ میں داخل ہو چکی ہے تو وہیں اسرائیلی بحریہ کی بھی غزہ پر بمباری جاری ہے، اسرائیلی حملوں میں مزید تین سو فلسطینی شہید ہو چکے ہیںَ،حملوں میں اقوام متحدہ ریلیف ایجنسی کے اب تک 53 اہلکار مارے جا چکے ہیں،اسرائیلی حملوں میں ایک دن میں اقوام متحدہ ریلیف ایجنسی کے 15 افراد کی موت ہوئی،21 ہزار سے زائد شہری اسرائیلی حملوں میں زخمی ہو چکے ہیں،

    اسرائیلی حملوں کو ناکام بنایا، حماس کا دعویٰ
    حماس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کا تین طرفہ حملہ ناکام بناتے ہوئے اسرائیلی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے،حماس کے رہنما علی براکہ کا کہنا تھا کہ رات بھر اسرائیلی فوج نے غزہ پر زمینی حملے کے ساتھ ساتھ بمباری بھی کی تاہم حماس نے اسرائیلی حملے کو ناکام بنایا،مقابلے میں دشمن فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، اسرائیلی حملے کے مقابلے میں حماس نے روسی ساختہ ٹینک شکن میزائل اور مقامی تیار کردہ یاسین میزائل استعمال کئے،

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رات بھر کی زمینی دراندازی کے دوران اسرائیلی فورسز کے درمیان کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، انہوں نے مزید کہا کہ افواج ‘اب بھی میدان میں ہیں.

    اسرائیلی میڈیا چینل 14 سے بات کرتے ہوئے، ایک فوجی تجزیہ کار نے کہا کہ "بظاہر غزہ میں پہلا فیلڈ ٹیسٹ مایوس کن تھا۔ نیتن یاہو حکومت جوئے کی میز پر فوجیوں کی جانوں پر شرط لگا رہی ہے،

    گزشتہ شب اسرائیل نے غزہ پر حملہ کرتے ہوئے سب سے پہلے غزہ کو بڑی حد تک دنیا سے کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد اب تک کی شدید ترین بمباری شروع ہو ئی،اس کے بعد اسرائیلی فوج نے یقینی طور پر زمینی کارروائی کا آغاز کیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے رات اعلان کیا کہ لینڈ فورسز ایک فعال کردار ادا کریں گی اور اندر بھرپور خدمات انجام دیں گی، اسرائیلی ذرائع نے فوجیوں سے بھرے ٹرکوں کے بارڈر کی طرف جانے کے بارے میں لکھا اور موساد نے پیغامات اور تصاویر بھی شائع کیں، جن میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ غزہ کے اندر ٹینک ڈیوٹی پر ہیں۔ اور پھر علاقے سے مختلف اطلاعات آنا شروع ہو گئیں۔ اطلاعات موصول ہوئیں کہ اسرائیلی ٹینک جن کی تعداد 1 سے 30 تک تھی، تباہ ہو گئے۔

    حماس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیل ایک جال میں پھنس گیا، ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، اور یہاں تک کہ اس کے کچھ فوجی پکڑے بھی گئے۔حماس کے رہنماؤں نے بھی ان کی تصدیق کرتے ہوئے پیغامات شائع کی،الجزیرہ اور اے ایف پی غزہ سے مسلسل براہ راست نشریات کر سکتے ہیں لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ نہیں کر پا رہے، القسام بریگیڈز نے بار بار زمینی، سمندری اور فضائی بمباری کے باوجود سرحد پار پیش قدمی کی کوشش کرنے والی اسرائیلی قابض افواج کو پسپا کردیا ہے

    فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف نیویارک میں احتجاجی مظاہرہ
    فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف نیویارک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، نیویار کے گرینڈ سنٹر ل سٹیشن کو مظاہرین نے بند کر دیا ، سینکڑوں شہری گرینڈ سنٹرل سٹیشن کے پاس جمع ہوئے اور اسرائیلی بربریت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج جیوش وائس فار پیس نے کیا، مظاہرین نے احتجاج کے دوران کالے رنگ کی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں، مظاہرین نے جنگ بند ی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ کو بند کیا جائے، مظاہرین نے فلسطین کی آزادی کے لئے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے، مظاہرین نے مزید ہتھیار نہیں، مزید جنگ نہیں کےنعرے بھی لگائے،

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالہ سے قراردادمنظور
    دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالہ سے قراردادمنظور کر لی گئی،اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں اردن نے 22 عرب ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے جنگ بندی کی قراردادپیش کی،قرار داد کے حق میں 195 میں سے 120 ووٹ حق میں آئے، اراکین نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا،فرانس نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، اسرائیل، امریکا،آسٹریا سمیت 14 اراکین نے قرارداد کی مخالفت کی، جرمنی، برطانیہ، اٹلی سمیت 45 اراکین غیر حاضر تھے،

    جنرل اسمبلی میں جنگ بندی قرارداد منظور ہونے پر اسرائیل سیخ پا
    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالہ سے قرار داد منظور ہوئی ، اس قرارداد میں حماس کا ذکر نہیں تھا جس پر اسرائیل سیخ پا ہو گیا، اسرائیل نے جنگ بندی کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے دوبارہ دھمکیاں دیں، اسرائیلی مندوب گیلاد ایردن کا کہنا تھا کہ آج کا دن اقوام متحدہ کے لئے ایک بدنما دھبہ ہے،اقوام متحدہ کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہی، اسرائیل حماس کے خلاف ہر حد تک جائے گا اور ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے،جنرل اسمبلی اجلاس میں امریکی نمائندے نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد میں سا ت اکتوبر کے حماس کے حملے کا جہاں ذکر نہیں وہیں یرغمالی کا لفظ بھی قرارداد سے غائب ہے،

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی حملہ قابل مذمت ہے، اسرائیلی فوج غزہ کے عام شہریوں پر حملے کر رہی ہے، اسرائیل غزہ پر حملے فی الفور بند کرے .اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوراک،امداد پہنچائی جائے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • غزہ  پر اسرائیل کا بڑا حملہ؛ دنیا سے رابطہ مکمل کٹ گیا

    غزہ پر اسرائیل کا بڑا حملہ؛ دنیا سے رابطہ مکمل کٹ گیا

    غزہ میں اسرائیلی زمینی افواج کی کارروائیوں میں توسیع کی گئی ہے اور اطلاعات ہیں کہ غزہ پر اسرائیل نے بہت بڑا حملہ کیا ہے جبکہ دنیا سے مکمل طور پر رابطہ کٹ آوٹ ہونے کی وجہ سے صحیح معلومات نہیں مل پارہی ہیں، الجزیرہ کے مطابق ان کے نمائندہ خصوصی طارق ابو عزوم غزہ میں خان یونس سے سیٹلائٹ کے ذریعے وقفے وقفے سے براہ راست نشریات بھیجنے کے قابل ہیں، لیکن الجزیرہ کا نیوز ڈیسک بمباری سے متاثرہ علاقے میں تقریبا مواصلاتی بلیک آؤٹ کی وجہ سے ان سے براہ راست رابطہ کرنے سے قاصر ہے۔

    الجزیرہ لکھتا ہے کہ اس وقت زمینی اور فضائی آپریشن جاری ہے اور بڑے پیمانے پر بمباری کی جارہی ہے لہذا غزہ کی پٹی اس وقت جو کچھ دیکھ رہی ہے وہ بڑے پیمانے پر بگاڑ ہے۔ ہم 2.3 ملین سے زیادہ فلسطینیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو اب دنیا سے الگ تھلگ ہیں۔ وہ اپنے رشتہ داروں یا ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے سے قاصر ہیں۔ اب ہم غزہ میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ بہت غیر متوقع ہے اور صورتحال ایک نظر میں بدل سکتی ہے۔ براہ مہربانی دوستو، اگر آپ ہمیں سن سکتے ہیں، تو ہم ابھی نیوز ڈیسک کے ساتھ کسی بھی قسم کا رابطہ کیے بغیر بات کر رہے ہیں اور صرف ان کے بات چیت کا انتظار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. ہمارے پاس کسی بھی قسم کے فون رابطے نہیں ہیں – ہم کسی بھی وقت یہ [کنکشن] کھو سکتے ہیں۔


    پی آئی اے کے لیے 8 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری
    جبکہ زمین پر جو کچھ ہو رہا ہے اسے 23 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے لیے اجتماعی سزا سمجھا جاتا ہے۔ غزہ کی پٹی اس وقت دنیا سے مکمل طور پر الگ تھلگ ہے جبکہ اسرائیل نے غزہ پر اپنی بمباری تیز کر دی ہے جس کے نتیجے میں مواصلاتی بلیک آؤٹ ہو گیا ہے جبکہ محصور علاقے میں زمینی کارروائیوں کو وسعت دینے کا عہد کیا گیا ہے۔ یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رکن ممالک تنازعے کے حل پر ووٹنگ کا انتظار کر رہے ہیں۔

  • مسلم فوجوں کی ذمہ داری ہے غزہ کو بچانے کےلئے آگے بڑھے،سراج الحق

    مسلم فوجوں کی ذمہ داری ہے غزہ کو بچانے کےلئے آگے بڑھے،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے منصورہ میں نماز جمعہ کے بعد فلسطین ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان بچوں نے فلسطینیوں کو پیغام دیا کہ کس طرح وہ فلسطینی بچوں کے ساتھ ہیں۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ بیس دن ہو گئے چھ ہزار سے زائد بم غزہ پر گرائے گئے،بمباری سے بچوں کے بستے، پانی کی بوتلیں، اور ان کے والدین کو خون میں نہلایا گیا۔ اسرائیلی دہشت گردی پر دنیا سو رہی ہے اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہے اس لئے سو رہی کیونکہ مسلمان ہیں، مسلمانوں کا خون بہانا گھروں کو جلانا اور کھلونوں کو جلانا ظالم اسرائیل جائز سمجھ رہے ہیں ،دنیا نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہے امریکہ نے اسرائیل کو قتل عام کا لائسنس دیا ہے،مسلم امہ مسلم فوجوں کی ذمہ داری ہے غزہ کو بچانے کےلئے آگے بڑھے،بیانات یا قرار دادیں پاس کرنے سے اسرائیلی ٹینکوں یا توپوں کے گولوں کا رخ نہیں موڑ سکتے،

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ اگر غیرت ہے تو چوہتر لاکھ افواج سے یہی تقاضا کرتے ہیں امریکہ برطانیہ جاپان اگر اسرائیلی ریاست میں آگے بڑھ سکتے تو پاکستانی فوج کیوں آگے نہیں بڑھ سکتی ،مسلمانوں کے حکمران اپنی ذمہ داری پوری کریں سب مل کر عالمی سطح پر فلسطین و غزہ کے بچائو کےلیے اقدامات کریں، غزہ کو دوبارہ آباد کرنے کےلئے اقدامات کریں،اسرائیلی فوج نے کھانا بجلی ادویات کی سہولیات ختم کر دی ہیں،ڈاکٹروں کے گھروں کو جلایا گیا صحافیوں کوشہید کیاگیا ظلم و جبر کا سلسلہ جاری ہے،لاہور کی مائوں بہنوں بیٹیوں کو شاباش دیتا ہوں فلسطینی پرچم کے ساتھ یکجہتی کےلئے جمع ہیں ،بچوں نے اپنی جیب خرچ فلسطینیوں کےلئے دیا۔آپ نے مائوں کے ساتھ آج اعلان کیا ہم فلسطینی بچوں کے ساتھ کھڑے ہیں ،فلسطینی بچے آگ میں جل رہے ہیں اس آگ کو بجھانا انسانیت کا تقاضا ہے،دنیا آخری فلسطینی کی شہادت تک انتظار کررہی ہے انسانیت دم توڑ جائے آخری ہچکی بھی ختم ہوجائے تو ہم نے فلسطینیوں کو اکیلا نہیں چھوڑنا ہے،ہم قبلہ اول کے پاسپان ہیں 29 اکتوبرکو اسلام آباد امریکی سفارت خانے کے سامنے غزہ مارچ کررہے ہیں،

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین

  • حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا اس کے کئی اسباب موجود تھے،حافظ نعیم

    حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا اس کے کئی اسباب موجود تھے،حافظ نعیم

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر باضمیر انسان اسرائیل اور امریکا کے مظالم دیکھ رہا ہے، غزہ میں پانی بند ہے بجلی بند ہے محاصرہ کیا گیا ہے،

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیلی دباؤ پر آدھا سچ کہا،اقوام متحدہ نے عراق ، ویتنام، افغانستان کے مسائل بھی حل نہیں کیے، غزہ میں انسانی المیہ شروع ہو چکا ہے بیماریاں پھوٹ رہی ہیں,حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا اس کے کئی اسباب موجود تھے،حماس کو خبر ملی تھی کہ اسرائیل بڑا حملہ کرنے والا ہے، 76سالوں سے اسرائیل حملےکررہا ہے، عورتوں کے ساتھ بدتمیزی کررہا ہے، اسرائیل مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے نہیں دیتا، ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی جوان جیل میں ہیں، ہر سال کم از کم 100 فلسطینی بچے اسرائیل قتل کردیتا ہے،

    حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ گنتی کے چند ممالک کو چھوڑ کر کسی کی حمایت کھل کر سامنے نہیں آرہی، فلسطین کا مسئلہ عرب و عجم کا معاملہ نہیں، یہ نظریہ کا معاملہ ہے، ہم اگر وہاں جاکر لڑ نہیں سکتے تو کم از کم حماس کے مجاہدین کے ساتھ تو کھڑے ہوسکتے ہیں، ہم انکی حوصلہ افزائی کے لیے آئے ہیں،جہاں سے یہ صیہونی آئے ہیں بہتر ہے کہ وہی چلیں جائیں، ورنہ انکا حال وہی ہونا ہے جو حماس نے کیا ہے، تمام ممالک کو کھڑے ہونا چاہیے، ایک ہوکر اسرائیل کے سامنے یہ کہنا ہے کہ اسرائیل تم فلسطین پر مزید دہشت گردی نہیں کرسکتے،

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین

  • غزہ میں 50 ہزار حاملہ خواتین،خوراک،ادویات کی کمی کا شکار

    غزہ میں 50 ہزار حاملہ خواتین،خوراک،ادویات کی کمی کا شکار

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری مسلسل جاری ہے، اسرائیلی حملوں میں سات ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 19 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں،مرنیوالوں میں تین ہزار سے زائد بچے اور 1700 سے زائد خواتین بھی شامل ہیں،

    اسرائیلی بمباری سے عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں، ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہیں جن کو نکالنے کا کام جاری ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق دو ہزار کے قریب شہری لاپتہ ہیں، امکان ہے وہ ملبے تلے دبے ہوں گے.اسرائیل نے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، گزشتہ شب حملوں میں مزید 21 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا،غزہ کے الزیتون محلے میں چار منزلہ مکان پر بمباری سے 10 افراد کی موت ہوئی،خان یونس مہاجر کیمپ میں گھر پر بمباری سے تین شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے،

    اسرائیل جنگ بندی کریگا تو اسرائیلی شہری رہا کریں گے، حماس
    حماس نے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کو غزہ کے ساتھ جنگ بندی کے لئے مشروط کر دیا،خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق روسی دارالحکومت ماسکو میں حماس کا وفد موجود ہے، وفد میں شامل ابو حامد کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کو اسوقت تک رہا نہیں کیا جا سکتا جب تک اسرائیل جنگ بندی نہ کرے،اسرائیلی شہریوں کو مختلف گروپس لے کر آئے ہیں، سب اسرائیلی شہریوں کو ڈھونڈنے میں بھی وقت لگے گا

    حماس کا ایک وفد 26 اکتوبر کو روسی دارالحکومت ماسکو پہنچا تھا، ابو حامد کا کہنا 200 سے زائد اسرائیلی شہریوں کو پکڑا گیا ہے جن میں فوجی بھی شامل ہیں،اسرائیلی شہری غزہ میں مختلف مقامات پر قید ہیں، ہمیں انکو تلاش کرنا ہے اسکے بعد رہائی ہو گی،اگر بمباری جاری رہی تو تلاش نہیں ہو سکتی، قیدیوں کی تلاش کے لئے امن کی ضرورت ہے،ابو حامد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسرائیلی بمباری سے اب تک 50 قیدی جو اسرائیلی شہری تھے ہلاک ہو چکے ہیں، اگر اسرائیل نے بمباری نہ روکی تو دیگر کی ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے،حماس نے اب تک چار قیدیوں کو رہا کیا ہے،

    تل ابیب اور دیگر شہروں پر حماس کے راکٹ حملے
    دوسری جانب اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور دیگر شہروں پر حماس نے راکٹ حملے کیے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے پہلی بارمسلسل تین دن تک کئی بار تل ابیب کو نشانہ بنایاہے،حماس کے حملوں سے تل ابیب، یافا اور دیگر اسرائیلی شہروں میں تباہی ہوئی، حماس نے حملے اسوقت کئے جب اسرائیل عسکری کونسل کا اجلاس جاری تھا، حملوں کی وجہ سے اجلاس کو تھوڑی دیر کے لئے روکنا پڑا،القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر تازہ حملے اسرائیلی بمباری کا جواب ہیں.

    اسرائیلی بمباری سے ایک طرف اموات ہیں تو دوسری طرف جو لوگ زندہ ہیں انکی زندگیاں بھی اجیرن بن چکی ہیں، خوراک، پانی کی قلت،ادویات کی کمی بڑے مسائل ہیں تو وہیں کسی بھی وقت اسرائیلی بمباری کا خطرہ بھی سر پر منڈلاتا رہتا ہے،لاکھوں لوگ کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں، ان میں خواتین، بوڑھے بچے سب شامل ہیں، ریلیف کیمپوں میں خواتین کی حالت بارے الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گہا ہے کہ خواتین زیادہ پریشان ہیں، غزہ میں 50 ہزار سے زائد حاملہ خواتین ہیں جنہیں علاج، خوراک کی سہولیات میسر نہیں،حاملہ خواتین زیادہ تکلیف اور خوف میں رہتی ہیں، گھر ملیامیٹ ہو چکے ، ریلیف کیمپوں میں انکو وہ سہولیات نہیں مل رہیں جو ملنی چاہئے،33 سالہ خاتون نیوین الباری جو حاملہ ہیں اور ماں بننے والی ہیں، وہ شدید پریشان ہیں، مسلسل بمباری کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہیں کہ انکے بچے کا کیا بنے گا، انکی کمر اور پیٹ میں درد رہتا ہے مگر کوئی انکا علاج کروانے والا نہیں، وہ کیمپ میں رہ کر کسی کو بتا بھی نہیں سکتیں،نیوین کا کہنا ہے کہ میں صرف اس امید سے جی رہی ہوں کہ میرا بچہ محفوظ رہے،نیوین کے مطابق اسے ہائی بلڈ پریشر اور شوگر ہے تاہم یہاں اسے ادویات نہیں مل رہیں.اسرائیلی حملوں سے قبل وہ باقاعدگی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتی تھیں اور اپنا علاج کروا رہی تھیں لیکن اب تو اپنے خاندان سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہے، خاندان کے باقی افراد کہاں ہیں کس حال میں ہیں وہ کچھ نہیں جانتی،

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین
    غزہ کے ریلیف کیمپ میں زندگی گزارے والی نیوین کہتی ہیں کہ میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی، کسی بھی وقت اور کہیں بھی بمباری ہو رہی ہے، کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں،ہمیں نہیں معلوم کب کہاں بم گرے اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے،میں یقینی بنانے کی کوشش کروں گی کہ میں اور میرا بچہ محفوظ رہے،

    الجزیرہ کے مطابق نیوین اکیلی اس مسئلے کا شکار نہیں بلکہ جنگ زدہ علاقوں میں 50 ہزار حاملہ خواتین ہیں، کئی ایسی ہیں جو حمل کے آخری ماہ میں ہیں اور انکا باقاعدگی سے معائنہ بھی نہیں کیا جا رہا، اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق تقریبا 50 ہزار حاملہ خواتین علاج معالجہ اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں،

    نیوین کا کہنا ہے کہ زخمیوں لاشوں کو دیکھتی ہوں تو خوفزدہ ہو جاتی ہوں، روز دعا کرتی ہوں کہ جنگ ختم ہو جائے تا کہ میرے دنیا میں آنے والے بچے کو میزائل حملوں سے بچایا جا سکے،خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ امراض نسواں کے میڈیکل کنسلٹنٹ ولید ابو حاتب کے مطابق نقل مکانی کی وجہ سے صحت کے مراکز تک رسائی بہت مشکل ہو گئی ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    سات اکتوبر کر حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی بمباری سے آٹھ سو کے قریب شہریوں کی موت ہو ئی ہے، غزہ میں اسرائیلی بمباری سے الجزیرہ ٹی وی کے بیوروچیف کا خاندان بھی چل بسا، وائل الدوحاح کا خاندان غزہ میں مقیم تھا،اسرائیلی بمباری سے صحافی کی بیوی، بیٹا اور بیٹی شہید ہو گئے، الجزیرہ چینل کے نمائندے کا خاندان النصیریہ کے پناہ گزین کیمپ میں موجود تھا،صحافی کی شہیدبیٹی کو گود میں اٹھائے ہسپتال سے نکلنے او ر بیٹے کی لا ش کو دیکھنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں

    دوسری جانب حماس ے اسرائیلی شہر ایلات میں اسرائیلی فوجی کیمپ پر حملے کئے ہیںَ، حماس کے القسام بریگیڈ کی جانب سے راکٹ کے ذریعے غزہ سے 220 کلو میٹر دور واقع ایلات میں اسرائیل کی فوجی چھاؤنی کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا

    امریکی ایوان نمائندگان نے حماس کیخلاف جنگ میں اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کرلی ہے، اسرائیل کے حق میں امریکی ایوان نمائندگان میں 10 ڈیموکریٹس کے علاوہ تمام ارکان نے ووٹ دیا، پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل حماس اور دیگر مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں اپنا دفاع کر رہا ہے اس لیے اسرائیل کےساتھ کھڑے ہیں، امریکی صدر جوبائیڈن، امریکی وزیر دفاع، امریکی سیکرٹری خارجہ اسرائیل سے یکجہتی کے لئے اسرائیل کا دورہ بھی کر چکے ہیں،

    دنیا حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ کو لے کر جنگ بندی پر زور دے رہی ہے تا ہم اسرائیل مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اسرائیل نے ایک بار پھر فلسطینیوں کو غزہ خالی کرنے کی دھمکی دی ہے،اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بیان میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پر زمینی حملے کا وقت اتفاق رائے سے طے کیا جائے گا یرغمالیوں کو واپس لانے کیلئے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں

    دوسری جانب اقوام متحدہ، امریکا اور کینیڈا نے اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محصور پٹی غزہ میں خوراک، پانی، ادویات اور بجلی کی کمی سے متاثرہ شہریوں تک امداد کی محفوظ ترسیل کی اجازت دی جا سکے

    اسرائیل ،حماس جنگ، پاکستان کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ
    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں وسیع اور زیادہ خطرناک تنازع کی صورت اختیار کر سکتی ہیں،اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منیر اکرم کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہےپاکستان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، صورتحال کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو اس تنازع کو بڑھاوا دے رہے ہیں،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • اسرائیلی بمباری،چھ ہزار کے قریب اموات،23 سو سے زائد بچے شہید

    اسرائیلی بمباری،چھ ہزار کے قریب اموات،23 سو سے زائد بچے شہید

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، اسرائیلی بمباری سے چھ ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ 15 ہزار کے قریب زخمی ہیں، اسرائیلی بمباری سے 2300 سے زائد بچے بھی شہید ہو ئے ہیں، مرنیوالوں میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے،

    اسرائیلی فوج نے ہسپتال، سکولوں، مساجد، چرچ کو بھی نشانہ بنایا، پناہ گزینوں کے کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا، غزہ میں عمارتیں ملیامیٹ ہو چکی ہیں، ملبے تلے ابھی تک لاشیں دبی جنہیں نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اسرائیلی فوج نے جنین کیمپ کے قریب گزشتہ روز بمباری کی جس سے چار فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ 20 زخمی ہوئے،حماس کے حملے میں کئی اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے، تین اسرائیلی فوج کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا، حماس نے حملہ اس وقت کیا جب اسرائیلی فوج نے جنین کے قریب حملہ کیا،اسرائیلی فوج نےدعویٰ کیاہے کہ اس نے دو افراد کو گولی ماری ہے ،

    فلسطینی وزارت صحت نے اسرائیلی بمباری سے ہونیوالی اموات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اب تک چھ ہزار 55 شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے بعد لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیںَ،غزہ میں 6 لاکھ کے قریب بے گھر افراد نے عالمی ادارے کے مراکز میں پناہ لی ہوئی ہے

    غزہ کے ہسپتالوں میں لاشوں کے ڈھیر،زخمیوں کی آہ و بکا،پھر بھی طبی عملے کے حوصلے بلند
    اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ میں ہسپتالیں تباہ ہو چکی ہیں تو وہیں جو باقی رہ گئی ہیں ان میں ضروری طبی سامان کی قلت ہو گئی ہے، بمباری سے شہید و زخمیوں کو ہسپتال لایا جاتا ہے تا ہم ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ چکی ہے،اب تک فلسطینی ہسپتالوں میں 18 ہزار سے زائد شہریوں کو زخمی حالت میں لایا جا کا ہے،10 سے زائد ہسپتال بجلی کی بندش اور ادویات ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں،جو چل رہے ہیں ان میں ادویات کی قلت ہو چکی ہے،غزہ میں موجود ناصر ہسپتال نے ہنگامی منصوبے پر عمل شروع کرتے ہوئے صرف انتہائی نگہداشت کے مریضوں کو داخل کرنا شروع کیا ہے، معمولی زخموں والے مریضوں کو فوری طبی امداد کے بعد بھیج دیا جاتا ہے

    ہسپتالوں میں زخمیوں، لاشوں کے ڈھیر، پھر بھی طبی عملے کا حوصلہ بلند ہے، ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ گیت گا رہے ہیں،طبی عملے کا کہنا ہے کہ ہم زخمیوں کوچھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے،

    اسرائیل کی شام میں بمباری،آٹھ شامی فوجی ہلاک ہو گئے
    اسرائیل باز نہیں آ رہا، غزہ پر بمباری کے بعد اب شام میں بھی فوجی ٹھکانوں پر حملے کئے ہیں جس میں آٹھ شامی فوجی مارے گئے ہیں، شامی خبر رساں ادارے نے فوجی ذرائع کا حوالہ دے کر تصدیق کی کہ اسرائیلی حملوں میں ڈیرہ شہر کے قریب فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا،خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حملوں کو اسرائیلی جارحیت کہا گیا، اس حملے میں آٹھ فوجیوں کی ہلاکت اور سات زخمی ہوئے ہیں.گزشتہ شب اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسکے طیاروں نے شامی فوج کے اڈوں کو نشانہ بنایا

    israeli qaidi

    حماس کے اہلکاروں نے ہمارا خیال رکھا، برتاؤ اچھا تھا، رہا ہونے والی اسرائیلی خواتین
    حماس کے جانب سے رہا کی جانے والی اسرائیلی دو خواتین نے دوران قید حماس کے رویئے کی تعریف کی ہے، خواتین کا کہنا تھا کہ حماس نے ہماری ضروریات کا خیال رکھا،حماس نے سات اکتوبر کو حملے کے وقت دو اسرائیلی خواتین کو بھی یرغمال بنایا تھا جس میں سے ایک کی عمر 85 برس تھی، دونوں خواتین کو حماس نے رہا کیا تو انہوں‌نے میڈیا سے بات کی،85 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ جب حماس کے اہلکاروں نے انہیں اغوا کیا اسوقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا تا ہم دوران حراست انکے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی گئی اور اچھا سلوک کیا گیا،لفشٹز نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے اہلکار انہیں غزہ لے کر گئے اور وہاں جا کر ایک سرنگ میں بند کیا،دوران حراست انہیں طبی امداد بھی فراہم کی جاتی رہی، انکی حفاظت پر مامور لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ لوگ قرآن پر یقین رکھتے ہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے،ایک ڈاکٹر روز ہمارا طبی معائنہ کرتا تھا، حماس کے اہلکار اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ جو دوائیاں وہ اسرائیل میں لے رہے تھے قید میں بھی انہیں وہی دوائیاں ملیں

    حماس کی قید سے رہا ہونے والی خواتین کا کہنا تھا کہ دوران حراست انہیں شیمپو،کنڈیشنر وغیرہ بھی دیئے گئے، ہماری سب ضروریات کا خیال رکھا گیا،کھانے میں ہمیں بریڈ،پنیر، کھیرے دیئے گئے،حماس والوں کا رویہ نرم تھا، مجھے اور میرے ہم عمر ساتھیوں کو ہر دو یا تین دن بعد ڈاکٹر بھی دیکھنے آتا تھا،دوران قید ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی.

    دوسری جانب اقوام متحدہ، امریکا اور کینیڈا نے اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محصور پٹی غزہ میں خوراک، پانی، ادویات اور بجلی کی کمی سے متاثرہ شہریوں تک امداد کی محفوظ ترسیل کی اجازت دی جا سکے

    دبئی کی ایئر لائن کی اسرائیل کے لئے پروازیں منسوخ
    اسرائیل اور حماس میں جاری لڑائی طوالت اختیار کرتی جا رہی ہے، جنگ بندی کی تمام کوششیں ناکام ہوتی جا رہی ہے، خدشہ ہے یہ جنگ باقی علاقوں میں بھی پھیلے گی، اسی جنگ کی طوالت کو لے کر دبئی کی ایئر لائن نے تل ابیب کے لئے اپنی پروازیں معطل کی ہیں، ایئر لائن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، موجودہ صورتحال میں پراوزیں خطرے سے خالی نہیں، متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں تا ہم شہریوں، عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اسی لئے اسرائیل کے لئے تمام دو طرفہ پروازیں 14 نومبر تک منسوخ کی جا تی ہیں، 14 نومبر کو پروازوں بارے دوبارہ فیصلہ کیا جائے گا

    اسرائیل حماس جنگ، اب انسانیت کہاں گئی؟امریکی رکن کانگریس الہان عمر
    اسرائیلی بمباری پر امریکی بھی بول رہے ہیں،امریکی رکن کانگریس الہان عمر جو مسلمان ہیں نے امریکی صدر پر شدید غصت کا اظہار کیا ہے، الہان عمر کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن بتائیں حماس اور اسرائیل جنگ میں انسانیت کہاں ہے؟لاشوں کے ڈھیر سامنے ہیں، انکودیکھ کر کیسے دوستیاں برقرار رکھی جا سکتی ہیں،الہان عمر کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کو بہت نقصان پہنچایا، امریکہ نے افغانستان میں جتنی بمباری ایک برس میں کی تھی اسرائیل نے دس دن میں غزہ پر اتنی بمباری کی،اب آپ لوگوں کی ہمدردی کدھر گئی، کیا انسانیت مر گئی ہے،

    اسرائیل کے خلاف پوسٹ کرنے پر فلسطینی اداکار گرفتار
    دوسری جانب اسرائیل کے خلاف پوسٹ کرنے پر اسرائیلی پولیس نے مشہور فلسطینی اداکارہ میسا عبدالہادی کو گرفتار کیا ہے، میسا نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی تھی جس میں حماس کی حمایت کی تھی، اسرائیلی پولیس نے یہ الزام عائد کیا،میسا کو نارتھ سے اسرائیلی پولیس نے گرفتار کیا ہے، حکام کے مطابق میسا نے حماس کے حق میں پوسٹیں کیں،میسا نے اسرائیل اور غزہ کے مابین ٹوٹی ہوئی باڑ کی تصویر پوسٹ کی تھی جس کا عنوان رکھا گیا تھا چلو برلن کے انداز میں چلیں، واضح رہے کہ اسرائیل سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کر رہا ہے اور اسرائیل کے خلاف یا حماس کی حمایت میں پوسٹیں کرنے والوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے

    اسرائیل ،حماس جنگ، پاکستان کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ
    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں وسیع اور زیادہ خطرناک تنازع کی صورت اختیار کر سکتی ہیں،اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منیر اکرم کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہےپاکستان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، صورتحال کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو اس تنازع کو بڑھاوا دے رہے ہیں،

    حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو امریکہ، اسرائیل سب نے یہ کہا تھا کہ حماس اکیلے یہ نہیں کر سکتا ایران اس حملے میں ملوث ہے تا ہم ایران کے اس حملے میں ملوث نہ ہونے کے شواہد ملنے پر اب امریکہ نے پھر ایران پر الزام لگانا شروع کر دیئے ہیں،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایران پر الزام عائد کیا اور کہا کہ حماس اور حزب اللہ کو تہران کی حمایت حاصل ہے،امریکی وزیر خارجہ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ یہ جاری تنازع وسیع جنگ کی صورت اختیار کر سکتاہے،امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا، لیکن اگر ایران یا اسکی پراکسیز نے امریکیوں پر کبھی حملہ کیا تو اس کو واشنگٹن پر حملہ کو تصور کریں گے.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • مغرب صیہونی اسرائیلی انسانیت سوز جرائم میں برابر کا شریک. سینیٹر مشاہد حسین سید

    مغرب صیہونی اسرائیلی انسانیت سوز جرائم میں برابر کا شریک. سینیٹر مشاہد حسین سید

    انگولا کے شہر لوانڈا میں 147ویں IPU اسمبلی میں پاکستانی وفد کے سربراہ سینیٹر مشاہد حسین سید کا اہم اعلان کیا ہے جبکہ سینیٹر مشاہد حسین سید کا 147ویں آئی پی یو اسمبلی کی گورننگ کونسل سے خطاب ہوا ہے جس میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ غزہ کی صورت حال کے باعث اسلامو فوبیا کے مسئلے کو ہنگامی ایجنڈہ آئٹم کے طور پر لینے کی تجویز کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پاکستان اب غزہ پر جاری اسرائیلی وحشیانہ بمباری پر بحث کی وکالت کرتا ہے، کچھ مغربی ممالک بھی ان صیہونی اسرائیلی انسانیت سوز جرائم میں برابر کے شریک ہیں جبکہ فلسطین کے معاملے پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے مزید کہا کہ اسلامو فوبیا اور قرآن پاک کی حرمت کا مسئلہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی برطانیہ روانگی 26 اکتوبر سے شروع
    قاسم علی شاہ الحمرا آرٹس کونسل کی چیئرمین شپ سے مستعفی
    سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ
    ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا
    جبکہ سینیٹر مشاہد حسین سید نے مزید کہا کہ غزہ کی صورت حال نے پاکستان کو فوری بحران کو ترجیح دینے پر مجبور کر دیا ہے اور یہ فیصلہ عالمی مسائل سے نمٹنے اور انصاف اور امن کی وکالت کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

  • اسرائیل کے اقدامات الٹے پڑنے کا امکان. سابق امریکی صدر اوباما

    اسرائیل کے اقدامات الٹے پڑنے کا امکان. سابق امریکی صدر اوباما

    سابق امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے کچھ اقدامات مثلاً غزہ میں خوراک اور پانی کی بندش اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت کو کمزور کر سکتے ہیں اور کوئی بھی اسرائیلی فوجی تدبیر جو جنگ میں انسانی جانوں کے ضیاع کو نظر انداز کر دے آخر کار الٹی پڑ سکتی ہے جبکہ اسرائیل کی حکومت کی طرف سے یرغمال شہری آبادی کے لیے خوراک، پانی اور بجلی منقطع کرنے کے فیصلے سے نہ صرف بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے.

    انہوں مزید کہا کہ اسرائیل کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل سکتا ہے، اور خطے میں امن اور استحکام کے حصول کے لیے طویل المدتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے تاہم اوباما نے حماس کے حملے کی مذمت کی اور اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا ہے لیکن ایسی جنگوں میں شہریوں کو لاحق خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ اپنی صدارت کے دوران اوباما غزہ میں فلسطینی اسلامی گروپ حماس کے ساتھ تنازعات کے آغاز میں اکثر اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کرتے تھے لیکن فضائی حملوں میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے بعد انہوں نے فوراً اسرائیل سے تحمل کا مطالبہ کیا اور اوباما انتظامیہ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات میں امن معاہدے کی کوشش کی تھی لیکن بالآخر معاملات طے کروانے میں ناکام رہی تھی۔