Baaghi TV

Tag: غزہ

  • اسرائیلی بمباری،چھ ہزار کے قریب اموات،23 سو سے زائد بچے شہید

    اسرائیلی بمباری،چھ ہزار کے قریب اموات،23 سو سے زائد بچے شہید

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، اسرائیلی بمباری سے چھ ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ 15 ہزار کے قریب زخمی ہیں، اسرائیلی بمباری سے 2300 سے زائد بچے بھی شہید ہو ئے ہیں، مرنیوالوں میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے،

    اسرائیلی فوج نے ہسپتال، سکولوں، مساجد، چرچ کو بھی نشانہ بنایا، پناہ گزینوں کے کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا، غزہ میں عمارتیں ملیامیٹ ہو چکی ہیں، ملبے تلے ابھی تک لاشیں دبی جنہیں نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اسرائیلی فوج نے جنین کیمپ کے قریب گزشتہ روز بمباری کی جس سے چار فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ 20 زخمی ہوئے،حماس کے حملے میں کئی اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے، تین اسرائیلی فوج کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا، حماس نے حملہ اس وقت کیا جب اسرائیلی فوج نے جنین کے قریب حملہ کیا،اسرائیلی فوج نےدعویٰ کیاہے کہ اس نے دو افراد کو گولی ماری ہے ،

    فلسطینی وزارت صحت نے اسرائیلی بمباری سے ہونیوالی اموات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اب تک چھ ہزار 55 شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے بعد لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیںَ،غزہ میں 6 لاکھ کے قریب بے گھر افراد نے عالمی ادارے کے مراکز میں پناہ لی ہوئی ہے

    غزہ کے ہسپتالوں میں لاشوں کے ڈھیر،زخمیوں کی آہ و بکا،پھر بھی طبی عملے کے حوصلے بلند
    اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ میں ہسپتالیں تباہ ہو چکی ہیں تو وہیں جو باقی رہ گئی ہیں ان میں ضروری طبی سامان کی قلت ہو گئی ہے، بمباری سے شہید و زخمیوں کو ہسپتال لایا جاتا ہے تا ہم ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ چکی ہے،اب تک فلسطینی ہسپتالوں میں 18 ہزار سے زائد شہریوں کو زخمی حالت میں لایا جا کا ہے،10 سے زائد ہسپتال بجلی کی بندش اور ادویات ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں،جو چل رہے ہیں ان میں ادویات کی قلت ہو چکی ہے،غزہ میں موجود ناصر ہسپتال نے ہنگامی منصوبے پر عمل شروع کرتے ہوئے صرف انتہائی نگہداشت کے مریضوں کو داخل کرنا شروع کیا ہے، معمولی زخموں والے مریضوں کو فوری طبی امداد کے بعد بھیج دیا جاتا ہے

    ہسپتالوں میں زخمیوں، لاشوں کے ڈھیر، پھر بھی طبی عملے کا حوصلہ بلند ہے، ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ گیت گا رہے ہیں،طبی عملے کا کہنا ہے کہ ہم زخمیوں کوچھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے،

    اسرائیل کی شام میں بمباری،آٹھ شامی فوجی ہلاک ہو گئے
    اسرائیل باز نہیں آ رہا، غزہ پر بمباری کے بعد اب شام میں بھی فوجی ٹھکانوں پر حملے کئے ہیں جس میں آٹھ شامی فوجی مارے گئے ہیں، شامی خبر رساں ادارے نے فوجی ذرائع کا حوالہ دے کر تصدیق کی کہ اسرائیلی حملوں میں ڈیرہ شہر کے قریب فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا،خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حملوں کو اسرائیلی جارحیت کہا گیا، اس حملے میں آٹھ فوجیوں کی ہلاکت اور سات زخمی ہوئے ہیں.گزشتہ شب اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسکے طیاروں نے شامی فوج کے اڈوں کو نشانہ بنایا

    israeli qaidi

    حماس کے اہلکاروں نے ہمارا خیال رکھا، برتاؤ اچھا تھا، رہا ہونے والی اسرائیلی خواتین
    حماس کے جانب سے رہا کی جانے والی اسرائیلی دو خواتین نے دوران قید حماس کے رویئے کی تعریف کی ہے، خواتین کا کہنا تھا کہ حماس نے ہماری ضروریات کا خیال رکھا،حماس نے سات اکتوبر کو حملے کے وقت دو اسرائیلی خواتین کو بھی یرغمال بنایا تھا جس میں سے ایک کی عمر 85 برس تھی، دونوں خواتین کو حماس نے رہا کیا تو انہوں‌نے میڈیا سے بات کی،85 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ جب حماس کے اہلکاروں نے انہیں اغوا کیا اسوقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا تا ہم دوران حراست انکے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی گئی اور اچھا سلوک کیا گیا،لفشٹز نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے اہلکار انہیں غزہ لے کر گئے اور وہاں جا کر ایک سرنگ میں بند کیا،دوران حراست انہیں طبی امداد بھی فراہم کی جاتی رہی، انکی حفاظت پر مامور لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ لوگ قرآن پر یقین رکھتے ہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے،ایک ڈاکٹر روز ہمارا طبی معائنہ کرتا تھا، حماس کے اہلکار اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ جو دوائیاں وہ اسرائیل میں لے رہے تھے قید میں بھی انہیں وہی دوائیاں ملیں

    حماس کی قید سے رہا ہونے والی خواتین کا کہنا تھا کہ دوران حراست انہیں شیمپو،کنڈیشنر وغیرہ بھی دیئے گئے، ہماری سب ضروریات کا خیال رکھا گیا،کھانے میں ہمیں بریڈ،پنیر، کھیرے دیئے گئے،حماس والوں کا رویہ نرم تھا، مجھے اور میرے ہم عمر ساتھیوں کو ہر دو یا تین دن بعد ڈاکٹر بھی دیکھنے آتا تھا،دوران قید ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی.

    دوسری جانب اقوام متحدہ، امریکا اور کینیڈا نے اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محصور پٹی غزہ میں خوراک، پانی، ادویات اور بجلی کی کمی سے متاثرہ شہریوں تک امداد کی محفوظ ترسیل کی اجازت دی جا سکے

    دبئی کی ایئر لائن کی اسرائیل کے لئے پروازیں منسوخ
    اسرائیل اور حماس میں جاری لڑائی طوالت اختیار کرتی جا رہی ہے، جنگ بندی کی تمام کوششیں ناکام ہوتی جا رہی ہے، خدشہ ہے یہ جنگ باقی علاقوں میں بھی پھیلے گی، اسی جنگ کی طوالت کو لے کر دبئی کی ایئر لائن نے تل ابیب کے لئے اپنی پروازیں معطل کی ہیں، ایئر لائن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، موجودہ صورتحال میں پراوزیں خطرے سے خالی نہیں، متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں تا ہم شہریوں، عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اسی لئے اسرائیل کے لئے تمام دو طرفہ پروازیں 14 نومبر تک منسوخ کی جا تی ہیں، 14 نومبر کو پروازوں بارے دوبارہ فیصلہ کیا جائے گا

    اسرائیل حماس جنگ، اب انسانیت کہاں گئی؟امریکی رکن کانگریس الہان عمر
    اسرائیلی بمباری پر امریکی بھی بول رہے ہیں،امریکی رکن کانگریس الہان عمر جو مسلمان ہیں نے امریکی صدر پر شدید غصت کا اظہار کیا ہے، الہان عمر کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن بتائیں حماس اور اسرائیل جنگ میں انسانیت کہاں ہے؟لاشوں کے ڈھیر سامنے ہیں، انکودیکھ کر کیسے دوستیاں برقرار رکھی جا سکتی ہیں،الہان عمر کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کو بہت نقصان پہنچایا، امریکہ نے افغانستان میں جتنی بمباری ایک برس میں کی تھی اسرائیل نے دس دن میں غزہ پر اتنی بمباری کی،اب آپ لوگوں کی ہمدردی کدھر گئی، کیا انسانیت مر گئی ہے،

    اسرائیل کے خلاف پوسٹ کرنے پر فلسطینی اداکار گرفتار
    دوسری جانب اسرائیل کے خلاف پوسٹ کرنے پر اسرائیلی پولیس نے مشہور فلسطینی اداکارہ میسا عبدالہادی کو گرفتار کیا ہے، میسا نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی تھی جس میں حماس کی حمایت کی تھی، اسرائیلی پولیس نے یہ الزام عائد کیا،میسا کو نارتھ سے اسرائیلی پولیس نے گرفتار کیا ہے، حکام کے مطابق میسا نے حماس کے حق میں پوسٹیں کیں،میسا نے اسرائیل اور غزہ کے مابین ٹوٹی ہوئی باڑ کی تصویر پوسٹ کی تھی جس کا عنوان رکھا گیا تھا چلو برلن کے انداز میں چلیں، واضح رہے کہ اسرائیل سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کر رہا ہے اور اسرائیل کے خلاف یا حماس کی حمایت میں پوسٹیں کرنے والوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے

    اسرائیل ،حماس جنگ، پاکستان کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ
    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں وسیع اور زیادہ خطرناک تنازع کی صورت اختیار کر سکتی ہیں،اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منیر اکرم کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہےپاکستان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، صورتحال کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو اس تنازع کو بڑھاوا دے رہے ہیں،

    حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو امریکہ، اسرائیل سب نے یہ کہا تھا کہ حماس اکیلے یہ نہیں کر سکتا ایران اس حملے میں ملوث ہے تا ہم ایران کے اس حملے میں ملوث نہ ہونے کے شواہد ملنے پر اب امریکہ نے پھر ایران پر الزام لگانا شروع کر دیئے ہیں،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایران پر الزام عائد کیا اور کہا کہ حماس اور حزب اللہ کو تہران کی حمایت حاصل ہے،امریکی وزیر خارجہ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ یہ جاری تنازع وسیع جنگ کی صورت اختیار کر سکتاہے،امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا، لیکن اگر ایران یا اسکی پراکسیز نے امریکیوں پر کبھی حملہ کیا تو اس کو واشنگٹن پر حملہ کو تصور کریں گے.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • مغرب صیہونی اسرائیلی انسانیت سوز جرائم میں برابر کا شریک. سینیٹر مشاہد حسین سید

    مغرب صیہونی اسرائیلی انسانیت سوز جرائم میں برابر کا شریک. سینیٹر مشاہد حسین سید

    انگولا کے شہر لوانڈا میں 147ویں IPU اسمبلی میں پاکستانی وفد کے سربراہ سینیٹر مشاہد حسین سید کا اہم اعلان کیا ہے جبکہ سینیٹر مشاہد حسین سید کا 147ویں آئی پی یو اسمبلی کی گورننگ کونسل سے خطاب ہوا ہے جس میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ غزہ کی صورت حال کے باعث اسلامو فوبیا کے مسئلے کو ہنگامی ایجنڈہ آئٹم کے طور پر لینے کی تجویز کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پاکستان اب غزہ پر جاری اسرائیلی وحشیانہ بمباری پر بحث کی وکالت کرتا ہے، کچھ مغربی ممالک بھی ان صیہونی اسرائیلی انسانیت سوز جرائم میں برابر کے شریک ہیں جبکہ فلسطین کے معاملے پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے مزید کہا کہ اسلامو فوبیا اور قرآن پاک کی حرمت کا مسئلہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی برطانیہ روانگی 26 اکتوبر سے شروع
    قاسم علی شاہ الحمرا آرٹس کونسل کی چیئرمین شپ سے مستعفی
    سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ
    ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا
    جبکہ سینیٹر مشاہد حسین سید نے مزید کہا کہ غزہ کی صورت حال نے پاکستان کو فوری بحران کو ترجیح دینے پر مجبور کر دیا ہے اور یہ فیصلہ عالمی مسائل سے نمٹنے اور انصاف اور امن کی وکالت کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

  • اسرائیل کے اقدامات الٹے پڑنے کا امکان. سابق امریکی صدر اوباما

    اسرائیل کے اقدامات الٹے پڑنے کا امکان. سابق امریکی صدر اوباما

    سابق امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے کچھ اقدامات مثلاً غزہ میں خوراک اور پانی کی بندش اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت کو کمزور کر سکتے ہیں اور کوئی بھی اسرائیلی فوجی تدبیر جو جنگ میں انسانی جانوں کے ضیاع کو نظر انداز کر دے آخر کار الٹی پڑ سکتی ہے جبکہ اسرائیل کی حکومت کی طرف سے یرغمال شہری آبادی کے لیے خوراک، پانی اور بجلی منقطع کرنے کے فیصلے سے نہ صرف بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے.

    انہوں مزید کہا کہ اسرائیل کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل سکتا ہے، اور خطے میں امن اور استحکام کے حصول کے لیے طویل المدتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے تاہم اوباما نے حماس کے حملے کی مذمت کی اور اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا ہے لیکن ایسی جنگوں میں شہریوں کو لاحق خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ اپنی صدارت کے دوران اوباما غزہ میں فلسطینی اسلامی گروپ حماس کے ساتھ تنازعات کے آغاز میں اکثر اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کرتے تھے لیکن فضائی حملوں میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے بعد انہوں نے فوراً اسرائیل سے تحمل کا مطالبہ کیا اور اوباما انتظامیہ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات میں امن معاہدے کی کوشش کی تھی لیکن بالآخر معاملات طے کروانے میں ناکام رہی تھی۔

  • اسرائیلی حملے،31 مساجد شہید،20 صحافیوں سمیت 5200 اموات

    اسرائیلی حملے،31 مساجد شہید،20 صحافیوں سمیت 5200 اموات

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے تاحال جاری ہیں ،اسرائیلی حملوں میں پانچ ہزار دو سو فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں دو ہزار سے زائد سے بچے اور 1100 خواتین شامل ہیں، اسرائیلی حملوں میں زخمیوں کی تعداد 15 ہزار سے بڑھ چکی ہے، غزہ میں آٹھ سو بچوں سمیت 15 سو افراد لاپتہ بھی ہے جن کے بارے میں امکان ہے کہ وہ اسرائیلی بمباری کے بعد عمارتوں کی تباہی کے دوران ملبے تلے دب گئے ہوں گے

    اسرائیلی بمباری سے گزشتہ روز مزید 436 فلسطینی شہید ہوئے، الشاتی کیمپ پر بمباری کے نتیجے میں میں 182 بچوں اور درجنوں خواتین سمیت 436 فلسطینی شہیدہوئے، شیخ رضوان کے علاقے میں گھر کے باہر بم گرنے سے فلسطینی صحافی کی موت ہو گئی، اسرائیلی حملوں میں اب تک 20 صحافی مارے جا چکے ہیں،اسرائیل کی جانب سے مساجد پر بھی بمباری کی جا رہی ہے، اب تک 31 مساجد شہید کی جا چکی ہیں،

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس سارے یرغمالی افراد کو چھوڑ دے تب بھی غزہ کو ایندھن کی فراہمی نہیں ہونے دیں گے، اگر ایندھن جانے دیا تو حماس اسے جنگ کے لئے استعمال کرے گا، اقوام متحدہ کا اس بارے کہنا ہے کہ غزہ میں 14 دن سےبجلی بند ہے،جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،

    امریکی صدر جوبائیڈن نے جنگ بندی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حماس تمام یرغمالیوں کو رہا نہیں کرے گا، جنگ بندی نہیں ہو گی، امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی ہوئی تو اس کا فائدہ حماس اٹھائے گی،امریکی صدر جوبائیڈن کے جنگ بندی نہ ہونے کے بیان کے بعد غزہ کے باسیوں کے لئے امن کا قیام مشکل تر ہو گیا ہے،

    دوسری جانب اسرائیل سے اظہار یکجہتی کے لیے فرانسیسی صدر میکرون اسرائیل پہنچ گئے ہیں جہاں اسرائیلی وزیراعظم سے انہوں نے ملاقات کی اور اسرائیل کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا.

    سابق امریکی صدر بارک اوباما بھی اسرائیل کے غزہ پر حملوں کو دیکھ کر خاموش نہ رہ سکے، بارک اوباما کا کہنا تھا کہ حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے کچھ اقدامات جیسے غزہ کے لیے خوراک اور پانی کی بندش فلسطینیوں کے رویوں کو نسلوں کے لیے سخت کر سکتے ہیں،بارک اوباما کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے اسرائیل اپنی بین الاقوامی حمایت کھو بیٹھے گا،ایسے اقدام سے الٹا ردعمل بھی آ سکتا ہے، تاہم بارک اوباما نے اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا.

    دوسری جانب حماس نے مزید دو اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، رہا کی جانے والی دونوں خواتین ہیں جن کی عمر تقریبا 80 سال ہے، دونوں خواتین کو رفاہ کراسنگ سے اسرائیل منتقل کردیا گیا ، میڈیا رپورٹس کے مطابق خواتین کو رہا کیا گیا البتہ انکے شوہروں کو رہا نہیں کیا گیا وہ ابھی تک یرغمالیوں میں ہی شامل ہیں، اس سے قبل حماس نے ایک امریکی خاتون اور اسکی بیٹی کو رہا کیا تھا،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    ان دنوں مشرق وسطی تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں ہے سنگین خطرہ ہے کہ یہ معرکہ جو بلاشبہ حق و باطل کا معرکہ ہے عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ بظاہر یہ جنگ دو ہفتے قبل حماس کی جانب سے اسرائیل پر یک وقت 5 ہزار میزائل فائر کرنے سے شروع ہوئی مگر اس بات میں ہرگز دو آراء نہیں کہ حماس کا یہ رد عمل اسرائیل کے ان مظالم کے جواب میں سامنے آیا ہے جو اسرائیل نصف صدی سے فلسطین کے نہتے عوام پر ڈھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ طے ہے کہ اسرائیل کا وجود مشرق وسطی کے لیے خطرہ ہے تو کیا اقوام متحدہ کا فرض نہیں کہ وہ اس مسئلے کو اپنی ہی قراردادوں کے مطابق حل کرے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کو پرامن زندگی بسر کرنے کے مواقع میسر آسکیں ۔دوسری مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی اپیلوں یا مسلم ممالک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے حل نہیں ہوگا اس کے لیے جارحیت کرنے والے کا ہاتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک پکڑنا ضروری ہے ۔ اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا وہ بگڑا بچہ ہے جس نے خطے کا امن دائو پر لگا رکھا ہے ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسرائیل کے مظالم پر دنیا خاموش ہے اگر کوئی بات کرتا بھی ہے تو وہ بے اثر رہتی ہے ان حالات میں حماس کی جانب سے جو قدم اٹھایا گیا وہ حالات کے تناظر میں ’’ تنگ آمد جنگ آمد ‘‘ کے مترادف ہے اس پر اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا سیخ پا ہونا کسی طور پر بھی درست نہیں۔ اگر امریکہ اور برطانیہ واقعی انسانی حقوق کے علم بردار ہیں تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ مسئلہ فلسطین کو حل کرائیں تاکہ یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رہ سکے ۔ یہاں یہ حقیقت بھی امریکہ اور برطانیہ کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ اب اسرائیل مظالم کے نتیجے میں بہت سے ممالک فلسطینیوں کی حمایت میں کھڑے ہو چکے ہے ۔روس چین اور شمالی کوریا امریکہ کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی حمایت سے باز رہے ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

    ایران اور ترکی کا موقف اس حوالے سے پہلے ہی واضح ہے چنانچہ اب جب کہ یہ جنگ غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان اور شام تک پھیل چکی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کا ’’ شیطان ثلاثہ ‘‘ ہوش کے ناخن لے اور جارح اسرائیل کی حمایت کرنے کے بجائے اسے راہ راست پر لانے کے لیے مثبت اقدام اٹھائے ۔ سعودی عرب جو اس خطے میں اثر و رسوخ رکھنے والا اہم ملک ہے وہ بھی حالیہ تناؤ کے نتیجے میں اسرائیل پر واضح کر چکا ہے کہ اسے فلسطینیوں کے لیے آزاد ریاست کے کام میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے ۔ چند ماہ قبل یہ خبر زبان زد عام تھی کہ مشرق وسطی کے بعض ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں مگر حقائق نے اس خبر کو فیک ثابت کر دیا ہے ۔ اسرائیل کو جان لینا چاہئے کہ اگر اس نے تباہی کا راستہ اختیار کیا تو وہ محفوظ خود بھی نہیں رہ سکے گافلسطنینوں کی شہادتوں کے نتیجے میں وہ خود بھی کھنڈر بنے گا ۔ دنیا بھر کے امن پسندوں کو ا نہی حقائق کی روشنی میں جاری جنگ رکوانے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ رہی بات ان کی دھمکیوں کی جو اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو دے رہا ۔۔۔۔تو فلسطینی مسلمان ان دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں۔ اسلئے کہ جو سرفروش سر پر کفن باندھ کر میدان جنگ میں اترتا ہے وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ اسرائیل نے غزہ پر بمباری کر کے اسے کھنڈر بنا دیا ہے اگر فلسطینی شہادت کے مرتبے پر فائز ہو رہے ہیں تو محفوظ اسرائیل بھی نہیں۔

    البتہ فرق یہ پڑا ہے کہ اب بہت سے انصاف پسند یہودی بھی اسرائیل کی صیہونی لیڈر شپ کے خلاف سراپا احتجاج نظر آتے ہیں ۔ امریکہ میں ہزاروں یہودیوں نے اسرائیل کی جارح صیہونی لیڈر شپ کے خلاف جلوس نکالا ۔ مظاہرین واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت میں گھس گئے ۔ مظاہرین ’’ غزہ کو جینے دو کے نعرے لگارہے تھے ‘‘ مظاہرین نے جنگ بندکرنیکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نام پر لڑائی نہ کریں، فلسطینیوں کی نسل کشی بندکریں۔مظاہرین نے صدر جوبائیڈن سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طاقت فلسطینیوں پر مظالم رکوانے کے لیے استعمال کریں۔ان بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں صیہونی ریاست کی قیادت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مکمل تباہی ان کا مقدر بن سکتی ہے ۔

    یہاں ایک سوال انتہائی توجہ طلب ہے کہ نصف درجن کے قریب اہم ممالک کی جانب سے فلسطین کی حمایت کے باوجود پاکستان کھل کر کیوں نہیں بات کر رہا جبکہ پاکستان کو نہ صرف اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے بلکہ جب سے پاکستان ایٹمی طاقت بنا ہے اسلام دشمن طاقتیں ہماری ایٹمی طاقت کو اسلامی بم کے نام سے تعبیر کرتی چلی آرہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمزور اسلامی ممالک درپیش خطرات کے مواقع پر پاکستان کی طرف دیکھتے اور امید ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ہماری مدد کو آئے گا مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو اس سے جہاں کمزور مسلم مبارک مایوسی کا شکار ہوتے ہیں وہاں اسلام دشمن طاقتیں بھی اظہار مسرت کرتی ہیں ۔ گو یہ حقیقت کے قریب صورتحال ہے مگر حقائق کو اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ اہل پاکستان کے دل اہل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اہل پاکستان ہر مشکل وقت میں اہل فلسطین سے اظہار ہمدردی اور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ چنانچہ اسرائیل کو کسی خوش فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہیے ۔ پاکستان میں عوامی سطح پر تو احتجاج ہوہی رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے صرف فلسطین پر مظالم کے خلاف ہی احتجاج نہیں ہو رہا بلکہ امید ہے کہ حکومت بھی اس حوالے سے ۔ اسلئے کہ پاکستان کا بچہ بچہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے ان فرمودات کو پیش نظر رکھتا ہے جو وہ فلسطین کو تسلیم نہ کرنے کے پس منظر میں کہہ چکے ہیں۔ قائد اعظم علی جناح نے ہمیشہ فلسطینی مسلمانوں کے موقف کی دوٹوک حمایت کی تھی اور اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا تھا اس اعتبار سے دیکھا جائے تو فلسطینی مسلمان بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ معاشی مسائل اور سیاسی مصلحتیں اپنی جگہ لیکن پاکستان کے حکمرانوں کو اس حوالے سے چشم کشا رہنا چاہیے کہ امت مسلمہ جسم واحد کی مانند ہے اگر جسم کا ایک حصہ متاثر ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہی نہیں عالم اسلام کا مسئلہ ہے لہذا پاکستان کو اسی تناظر میں فیصلہ کرنا ہوگا ۔اس حوالے سے کوئی بھی مصلحت وقتی تو ہو سکتی ہے مستقل نہیں ۔ جہاں تک ہمارے ہاں درپردہ اسرائیل کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی بات ہے تو یہ عناصر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ان عناصر کو جان لینا چاہئے کہ اگر یہ اپنی مذموم روش سے باز نہ آئے تو انھیں عوام کے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مشرق وسطی کے لمحہ بے لمحہ بدلتے حالات عالم اسلام کو دعوت فکر دے رہے ہیں کہ وہ حق و باطل کے اس معرکہ میں متحد ہو جائیں اگر قبلہ اول کی آزادی کے لیے فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو پھر گزرا وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ غزہ کے محصور مسلمان مزید ظلم برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ غزہ سے اشیائے ضرورت اور ادویات تک ختم ہو چکی ہیں۔ اہل غزہ اس وقت مادی امداد کے ساتھ ساتھ افرادی اور عسکری امداد کے بھی منتظر ہیں ۔ ان حالات میں امت مسلمہ کو ہر وہ ممکن قدم اٹھانا ہوگا جس سے اہل فلسطین کے مصائب کم ہوں اور وہ نسل کشی سے محفوظ رہ سکیں ۔
    شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات !

  • اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 4700 سے زائد اموات

    اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 4700 سے زائد اموات

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، دو ہفتے سے جاری بمباری میں چار ہزار سات سو سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے ہیں

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 15ہزار کے قریب شہری زخمی ہیں،زخمیوں میں ستر فیصد بچے اور خواتین شامل ہیں،غزہ میں عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں، ہسپتالوں، سکولوں پر بمباری کی گئی ہے، بجلی، پانی بند ہے، خوراک کی کمی ہو چکی ہے،

    غزہ میں اموات اتنی ہو رہی ہیں کہ شہریوں نے لاشوں کی شناخت کے لئے اپنے بچوں کے جسم پر انکے نام لکھوانا شروع کر دیئے ہیں تا کہ اسرائیلی بمباری سے انکی موت کی صورت میں بچوں کو نام سے پہچان سکیں،اسرائیل نے ہسپتالوں پر بھی بمباری کی وارننگ دی ہے،عالمی دنیا کے احتجاج کے باوجود اسرائیل غزہ پر حملے نہیں روک رہا،امریکہ،برطانیہ سمیت کئی ممالک کی اسرائیل کو شہہ حاصل ہے،اسرائیلی بمباری سے اقوام متحدہ پناہ گزین ایجنسی کے لئے کام کرنے والے اساتذہ سمیت 29 اقوام متحدہ اہلکار بھی مارے جا چکے ہیں، غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 31 مساجد بھی شہید ہو چکی ہیں.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی معروف مصنفہ، شاعرہ اور ناول نگار حبا کمال ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئیں ہیں اور حبا ابو ندا 1991 میں سعودی عرب میں مقیم بیت جرجا کے ایک فلسطینی پناہ گزین خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔


    ان کا خاندان 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران صیہونیوں کی جانب سے جبری طور پر بےگھر کیا گیا تھا۔ حبا نے غزہ یونیورسٹی سے کلینیکل نیوٹریشن میں ماسٹر کیا تھا اور یونیورسٹی سے بائیو کیمسٹری میں بھی ماسٹر ڈگری لی تھی انہوں نے اب تک شادی نہیں کی تھی ۔
    32 سالہ حبا ابو ندا نے” آکسیجن از ناٹ فار دا ڈیڈ” نامی ناول لکھا تھا۔ حبا ابو ندا نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ اگر ہم مرجائیں تو جان لیں کہ ہم ثابت قدم ہیں اور ہم سچے ہیں۔

    هبة أبو ندى کی آخری فیس بک پوسٹ
    سپریم کورٹ نے ملک ریاض نوٹس جاری کر دی
    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان
    پارلیمنٹ 2سے 3ماہ میں وجود میں آ جائے گی. خواجہ محمد آصف
    نحنُ في غزة عند الله بين شهيد وشاهد على التحرير وكلنا ننتظر أين سنكون.
    كلنا ننتظر اللهم وعدك الحق.
    جبکہ 2 روز قبل انگریزی میں پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ہم نہ چیخ اور چلا سکتے ہیں ہم اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں سے نہ مل سکتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں اور ہم موت کے دہانے پر کھڑے ہیں اور کسی بھی وقت مر سکتے ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • کمپنی کا اسرائیلی پولیس کیلئے یونیفارمز بنانے سے انکار

    کمپنی کا اسرائیلی پولیس کیلئے یونیفارمز بنانے سے انکار

    ملبوسات بنانے والی ایک ہندوستانی کمپنی نے غزہ میں شہریوں پر اسرائیل کے مہلک حملوں کے بعد تناظر میں اسرائیلی پولیس کیلئے یونیفارمز بنانے سے انکار کردیا جبکہ جنوبی ریاست کیرالہ کے کنور ضلع میں قائم میریان اپیرل پرائیویٹ لمیٹڈ“ 2015 سے اسرائیلی پولیس افسران کے لیے ملبوسات فراہم کر رہی ہے اور اس ہفتے اس نے اپنے اتنے بڑے گاہک سے تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    خیال رہے کہ کمپنی کے ڈائریکٹر تھامس اولیکل نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ معصوم عام لوگوں کا قتل ہے اور کمپنی نے اس فیصلے کا اعلان وسطی غزہ کے العہلی العربی اسپتال پر بمباری کے بعد کیا ہے جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بوڑھے شامل تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان
    عون چودھری کی نواز شریف کے استقبال کرنے پر وضاحت
    ایوارڈ شوز میں‌ریما ریشم نرگس سے گانوں پر پرفارم کروانا چاہیے یاسر حسین

    جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک نے اس بمباری کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے حالانکہ اس نے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا ہے واضح رہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں مریض اور وہ لوگ بھی شامل تھے جو روزانہ ہو رہے اسرائیلی فضائی حملوں سے بچنے کیلئے اسپتال کے احاطے میں پناہ لیے ہوئے تھے، اولیکل نے کہا کہ اسپتال پر حملے اور 500 بے گناہ لوگوں کی ہلاکت نے واقعی ہمیں پریشان کر دیا ہے۔

  • ایندھن کی کمی؛ غزہ ،    انکیوبیٹرز میں  120 نوزائیدہ بچے خطرے میں

    ایندھن کی کمی؛ غزہ ، انکیوبیٹرز میں 120 نوزائیدہ بچے خطرے میں

    اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف کے ترجمان نے غزہ میں بچوں کی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے اسپتالوں میں 120 نوزائیدہ بچے انکیوبیٹرز میں ہیں، ایندھن کی کمی سےاسپتالوں کا آپریشن معطل ہونے پر ان بچوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے جبکہ یونیسیف کے ترجمان جوناتھن کریکس نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ہمارے پاس اس وقت 120 نوزائیدہ بچے ہیں جو انکیوبیٹرز میں ہیں، جن میں سے 70 نوزائیدہ بچے میکینکل وینٹیلیشن پر ہیں، اور اسی وجہ سے ہم انتہائی فکر مند ہیں۔


    جبکہ انہوں نے کہا کہ اگر مکینیکل وینٹیلیشن انکیوبیٹرز بچے میں رکھے ہوں اور بجلی کٹ جائے تو ہمیں ان کی زندگیوں کے بارے میں فکر ہے اور غزہ کی وزارت صحت نے ایک روز قبل کہا تھا کہ ایندھن کی کمی کی وجہ سے 130 قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی موت کا خطرہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف کیس، نو مزید ملزمان نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا
    عون چودھری کی نواز شریف کے استقبال کرنے پر وضاحت
    ایوارڈ شوز میں‌ریما ریشم نرگس سے گانوں پر پرفارم کروانا چاہیے یاسر حسین
    تاہم اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق، غزہ میں ہر روز تقریباً 160 خواتین بچے کو جنم دیتی ہیں، جس کے اندازے کے مطابق 2.4 ملین آبادی والے علاقے میں 50,000 حاملہ خواتین ہیں اور اقوام متحدہ کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں صرف 3 دن کا ایندھن بچا ہے، ایندھن کے بغیر نہ پانی ہوگا اور نہ خوراک، اسپتال بھی کام کرنا بند کردیں گے، انسانی امداد رک جائے گی۔

  • اسرائیلی حملے، غزہ میں 43 سو سے زائد اموات ہو گئیں

    اسرائیلی حملے، غزہ میں 43 سو سے زائد اموات ہو گئیں

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی کاروائیاں جاری ہیں، اسرائیل مسلسل غزہ پر حملے کر رہا ہے، اسرائیل کی جانب سے گھروں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں پر بھی بمباری کی جا رہی ہے، غزہ کے قدیم ترین چرچ پر بمباری کے نتیجے میں 10 فلسطینی شہید ہوئے ہیں

    اسرائیلی حملوں میں اب تک 15 سو بچوں سمیت 4300 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ 14 ہزار سے زائد زخمی ہیں،غزہ میں 30 فیصد سے زائد مکانات ملیا میٹ ہو چکے ہیں، اسرائیلی حملوں کے بعد سے اب تک تقریبا 10 لاکھ شہری بے گھر بھی ہو چکے ہیںَ

    حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے سبب تنازعہ علاقائی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہےاوراس صورت میں یہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کے قابو سے باہر ہوجائے گا

    دوسری جانب مصر سے غزہ کی رفاح کراسنگ جمعے کو بھی نہ کھل سکی غزہ میں محصور فلسطینی امداد کے منتظر ہی رہ گئے، امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہ مل سکی،پاکستان کی جانب سے بھجوائی گئی امداد بھی مصر میں موجود ہے جو پاکستان نے ہلال احمر سوسائٹی کے حوالے کی تھی،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ