Baaghi TV

Tag: غزہ

  • ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    اسرائیل نے غزہ کے ہسپتال پر حملے کا الزام اسلامک جہاد پر ڈال دیا

    الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق اسرائیل نے ہسپتال پر حملے کوتسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اسلامک جہاد نے راکٹ فائر کیا تھا جو غلطی سے ہسپتال میں گرا ،اس حملے کی ذمہ دار اسلامک جہاد ہے،اسرائیلی حملے کی دنیا مذمت کر رہی ہے، حملے میں 800 کے قریب شہریوں کی موت ہو چکی ہے،ایسے میں اسرائیل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسلامی جہاد نے راکٹ فائر کیا،جس نے غزہ کے ہسپتال کو نشانہ بنایا، اسرائیلی حکام نے فلسطینیوں کے اس دعوے کو کہ اسرائیل نے حملہ کیا جھوٹ قرار دے دیا

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آپریشنل سسٹم کے تجزے سے معلوم ہوا کہ دشمن نے ایک راکٹ اسرائیل کی طرف فائر کیا ، جو ہسپتال کے پاس سے گزار اور ہسپتال اسکا نشانہ بن گئی،ہمارے پاس کئی ذرائع ہیں،اس حملے کی ذمہ دار اسلامک جہاد ہے

    اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ہسپتال پر حملہ اسرائیل نے نہیں کیا، بلکہ اسلامک جہاد نے کیا،نتین یاہو کا کہنا تھا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ غزہ کے دہشت گرد ہی ہیں جنہوں نے ہسپتال پر حملہ کیا نہ کہ اسرائیل فورسز نے،جن لوگوں نے ہمارے بچوں کو قتل کیا، وہ انکے بچوں کو بھی قتل کرتے ہیں،

    حماس اور دنیا بھر میں بہت سے لوگوں نے اس دھماکے کے لیے اسرائیلی فضائی حملے کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جس میں سینکڑوں افراد کے مارے جانے کے بارے میں کہا جارہا ہے، جب کہ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ یہ فلسطینی اسلامی جہاد کا ناکام راکٹ لانچ تھا۔

    واضح ر ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں ایک ہسپتال پر بمباری کی ہے،وزارت صحت کے مطابق ایک اسرائیلی فضائی حملہ میں غزہ شہر کے ہسپتال کو نشانہ بنایا جو زخمیوں اور پناہ کے متلاشی دیگر فلسطینیوں سے بھرا ہوا تھا۔اسرائیل کی جانب سے متوقع زمینی حملے سے قبل شہر اور ارد گرد کے علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دینے کے بعد غزہ شہر کے کئی ہسپتال سینکڑوں لوگوں کے لیے پناہ گاہ بن گئے ہیں۔حملے میں پانچ سو سے زائد اموات ہوئی ہیں،

    غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین ن، مصر، اردن اور ترکی نے غزہ شہر کے العہلی عرب اسپتال پر بمباری کا الزام اسرائیل پر لگایا،سعودی عرب کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ "یہ خطرناک پیشرفت بین الاقوامی برادری کو دوہرے معیارات کو ترک کرنے پر مجبور کرتی ہے،بحرین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی”کی جائے،اور امن قائم کیا جائے،متحدہ عرب امارات کے صدر کے نے "غزہ میں ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

    متحدہ عرب امارات اور روس نے غزہ شہر کے ایک اسپتال میں ہونے والے دھماکے کے بعد کل اسرائیل فلسطین تنازع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے،

    اردن کے شاہ عبداللہ نے مصر کے ساتھ مل کر اسرائیل کو غزہ شہر کے ہسپتال پر راکٹ حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا،عبداللہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک گھناؤنا جنگی جرم ہے، جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا،سرائیل کو غزہ کے خلاف اپنی وحشیانہ جارحیت کو فوری طور پر روکنا چاہیے، جو کہ انسانی اور اخلاقی اقدار سے متصادم ہے اور بین الاقوامی انسانی قانون کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

  • غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک

    غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک

    غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ شہر کے ایک اسپتال کو نشانہ بنایا گیا جو زخمیوں اور پناہ کی تلاش میں موجود دیگر فلسطینیوں سے بھرا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے۔ اگر اس حملے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ 2008 کے بعد سے لڑی جانے والی پانچ جنگوں میں اسرائیل کا اب تک کا سب سے مہلک فضائی حملہ ہوگا۔ الاہلی اسپتال کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ نے اسپتال کے ہال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، شیشے ٹوٹے ہوئے ہیں اور جسم کے اعضاء پورے علاقے میں بکھرے ہوئے ہیں۔ جبکہ وزارت کا کہنا ہے کہ کم از کم 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ غزہ شہر کے متعدد ہسپتال سینکڑوں افراد کے لیے پناہ گاہ بن گئے ہیں، امید ہے کہ وہ بمباری سے بچ جائیں گے کیونکہ اسرائیل نے شہر اور آس پاس کے علاقوں کے تمام رہائشیوں کو جنوبی غزہ کی پٹی میں منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔

    اے پی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ آیا یہ اسرائیلی فضائی حملہ تھا یا نہیں۔ جنوب میں جاری حملوں میں درجنوں شہری اور حماس کے کم از کم ایک سینیئر رہنما ہلاک ہو گئے ہیں جن کے بارے میں حماس کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف عسکریت پسند ہیں۔ امریکی حکام نے اسرائیل کو اس بات پر قائل کرنے کے لیے کام کیا کہ وہ محصور شہریوں، امدادی گروپوں اور اسپتالوں کو رسد کی فراہمی کی اجازت دے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستانیوں کا بائیکاٹ میکڈونلڈ ویران
    ورلڈ کپ 2023: 256 رنز کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کے 8 کھلاڑی آؤٹ
    سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ میں اہم ہیشرفت
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت
    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے حماس کے وحشیانہ حملے کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں پانی، ایندھن اور خوراک کے داخلے پر پابندی کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس میں علاقے کے 2.3 ملین افراد کو امداد کی فراہمی کے طریقہ کار کی تشکیل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ فائدہ معمولی لگ سکتا ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم پھر بھی، منگل کی دیر تک، کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا. اسرائیل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز کہا کہ ان کا ملک اس بات کی ضمانت کا مطالبہ کر رہا ہے کہ حماس کے عسکریت پسند کسی بھی امدادی سامان پر قبضہ نہیں کریں گے۔ اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ طزہی حنگبی کا کہنا ہے کہ امداد کے داخلے کا انحصار حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی واپسی پر بھی ہے۔

    تاہم اس حملہ کی ترکیہ کے صدر طیب اردوان اور کنیڈا کے وزیر اعظم سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے سخت الفاظ میں مزمت ہے اور اسے قتل عام کہا ہے ، اور قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے غزہ کے اس ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت کی ہے جس میں سیکڑوں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں تمام انسانیت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ غزہ میں اس بے مثال بربریت کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ جبکہ جسٹن ٹروڈو نے کہا میں اس کی سخت مزمت کرتا ہوں اور اسرائیل کو چاہئے کہ جنگی اصول کا خیال رکھے.

    دوسری جانب فلسطین نیشنل انیشی ایٹو پارٹی (پی این آئی) کے رہنما مصطفی برغوتی نے کہا ہے کہ الاہلی عرب اسپتال پر حملے سے عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ فتح اور حماس فلسطینی سیاسی جماعتوں کے متبادل کے طور پر پی این آئی کے شریک بانی برغوتی نے کہا، "میرے خیال میں اب کسی بھی عرب حکومت کے لیے اپنے ملک میں اسرائیلی سفیر رکھنا انتہائی شرمناک ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ عرب حکومتوں اور اسرائیل کے درمیان معمول پر لانے کے تمام اقدامات کو ختم اور منسوخ کیا جانا چاہیے۔ یہ کم از کم اتنا ہی ہے جو وہ کر سکتے ہیں۔ لیکن انہیں امریکہ کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اب بہت ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی عرب دنیا میں بہت زیادہ دلچسپی ہے۔ بہت سے ممالک امریکہ کو تیل اور گیس اور مدد اور مارکیٹوں اور ہر چیز فراہم کرتے ہیں۔ اب امریکہ اس اسرائیلی جنگی جرم کی حمایت کر کے عملی طور پر ہمیں قتل کر رہا ہے۔ اور یہ بند ہونا چاہئے. جبکہ فلسطینی صدر نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور عالمی رہنماؤں سے کہا ہے اسرائیل کے ظلم کیخلاف آواز بلند کریں.

    خیال رہے کہ پاکستان نے بھی اس کی مزمت ہے اور وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان غزہ کے الاہلی الممدانی ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ ایک ہسپتال پر حملہ، جہاں شہری پناہ اور ہنگامی علاج کی تلاش میں تھے، غیر انسانی اور ناقابل دفاع ہے۔ شہری آبادی اور تنصیبات کو اندھا دھند نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ پر اسرائیلی بمباری اور محاصرے کے فوری خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے اور گزشتہ چند دنوں میں اسرائیلی حکام نے جس بے رحمی کے ساتھ کارروائیاں کی ہیں۔

  • اسرائیلی حملوں میں 1 ہزار بچوں سمیت 2800 اموات

    اسرائیلی حملوں میں 1 ہزار بچوں سمیت 2800 اموات

    حماس کے اسرائیل پرسات اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیل کی جوابی کاروائی میں غزہ پر مسلسل بمباری، حملے جاری ہیں، اسرائیلی حملوں میں 2800 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں

    اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے فلسطینی شہریوں کے لئے مشکلات بڑھ گئی ہیں، خوراک،پانی ،بجلی کی سہولیات ختم ہو چکی ہیں، کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں شہری اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لئے قیام کر سکیں،عمارتوں پر بمباری سے عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں،شہید ہوانے والوں میں ایک ہزار بچے اور چار سو سے زائد خواتین بھی شامل ہیں،اسرائیلی حملوں سے دس ہزار شہری زخمی بھی ہوئے ہیں، ایک ہزار کے قریب لاشیں عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جن کو نکالنے کا کام جاری ہے.

    امریکا اور اسرائیل کے درمیان امدادی سامان غزہ بھیجنے پر اتفاق
    اسرائیلی حملوں سے غزہ میں ہر طرف تباہی نظر آتی ہے، ہسپتال،سکول،کچھ بھی محفوظ نہیں ہر طرف لاشیں، زخمی، چیخ و پکار، اموات اتنی کہ لاشوں کو ٹرک میں ڈال کر اجتماعی قبریں بنا کر دفن کیا جا رہا،ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل سے غز ہ میں امداد بھجوانے کا کہا لیکن اسرائیل نہ مانا بلکہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں کام کرنے والی ایمبولینس گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا، طبی عملے کے ارکان بھی شہید ہو چکے ہیں تو کئی ایمبولینس گاڑیاں بھی تباہ ہو چکی ہیں،

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ امدادی سامان بھیجنے سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم سے 8 گھنٹے طویل ملاقات کی جس میں امدادی سامان غزہ بھیجنے پر اتفاق کیا گیاہے، امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کا دوسری بار دورہ کر رہے ہیں،پہلے دورے کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کا دورہ کیا تھا.

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا یہ دورہ اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کے لئےہو گا،اردن اور مصر بھی جائیں گے اور سربراہان مملکت سے ملاقات کریں گے،بلنکن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو حق حاصل ہے کہ وہ حماس سےلوگوں کو محفوظ بنائے،امریکی کمانڈر مائیکل کوریلا صدر جوبائیڈن کی آمد سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی شہر، تل ابیب پہنچ گئے ہیں،

    امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹویٹر پر کہا کہ وہ اسرائیل کا دورہ کریں گے، حماس کے اقدامات فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔کچھ بنیادی اقدار ہیں جن کا ہمیں بطور امریکی مل جل کر رہنا چاہیے اور ان بنیادی اقدار میں نفرت، نسل پرستی، تعصب اور تشدد کے خلاف کھڑا ہونا شامل ہے، نفرت کی کارروائیاں ہماری بنیادی اقدار کے خلاف ہیں اور امریکہ میں نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    سلامتی کونسل میں فسلطین،اسرائیل جنگ بندی کی قرارداد مسترد
    اسرائیل کی غزہ پر بمباری، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے لئے روس نے قرار داد پیش کی تھی جو چار ووٹوں سے مسترد کر دی گئی ہے،روس کو 15 رکنی باڈی میں نو ووٹ نہیں ملے، قرارداد کے حق میں چین، روس، متحدہ عرب امارات، میوزمبیق،گیبون نے ووٹ دیئے، قرارداد کی مخالفت میں امریکا، برطانیہ،فرانس ،جاپان نے ووٹ دیئے،روسی قرارداد پر چھ اراکین البانیہ، برازیل،گھانا، سوئٹزرلینڈ، مالٹا،ایکواڈو نے ووٹ ہی نہیں دیئے.

  • اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس کے جواب میں اسرائیل کے حملے ابھی تک جاری ہیں، 26 سو سے زائد اموات غزہ میں ہوچکی ہیں، اسرائیل پر حملے کا ماسٹر مائنڈ کون تھا؟ اس حوالہ سے کہا جا رہا ہے ماسٹر مائنڈ "محمد الضیف” ہے جس کی ابھی تک کوئی تصویر سامنے نہیں آ سکی.

    محمد الضیف حماس کی عسکری ونگ کی قیادت کر رہے ہیں، حماس کے اسرائیل پر حملے کا ماسٹر مائنڈ انہی کو مانا جا رہاہے، محمد الضیف کی چند تصاویر موجود ہیں مگر واضح کوئی بھی نہیں،ایک سایہ دار تصویر ہے جو کبھی کبھار احتجاجی مظاہروں میں شرکاء کتبوں پر بناکر اٹھاتے ہیں،

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، محمد الضیف غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکری ونگ کے اعلیٰ کمانڈر ہیں، جس کو القسام بریگیڈز کے نام سے جانا جاتا ہے۔2015 میں، امریکی حکومت نے الضیف کو ایک عالمی دہشت گرد کے طور پر نامزد کیا، اسے خودکش حملہ آوروں کی تعیناتی اور اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ محکمہ خارجہ نے کہا کہ 2014 میں غزہ جنگ کے دوران الضیف نے حماس کی جارحانہ حکمت عملی کی قیادت کی۔

    حماس کے حملوں میں ان کے اہم کردار کے باوجود،الضیف ایک پرکشش شخصیت بنی ہوئی ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق،الضیف کہاں رہتے ہیں اس بارے میں کسی کو معلوم نہیں ،وہ عوام کے سامنے نہیں آتے، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق آیا محمد الضیف اصلی نام ہے بھی سہی یا نہیں، اسکی بھی تصدیق نہیں ہو سکی

    رائٹرز کے مطابق، الضیف کی صرف چند تصاویر موجود ہیں،یہ تصویر اس سے قبل اگست 2014 میں ایک مظاہرے کے دوران استعمال کی گئی تھی، جس میں اسرائیلی افواج کے خلاف لڑنے والے حماس کے عسکریت پسندوں کی حمایت ظاہر کی گئی تھی۔

    ہفتے کے روز، حماس کے ایک ٹی وی چینل نے اعلان کیا کہ محمد الضیف ایک بیان جاری کرے گا، جس میں فلسطینیوں کو اشارہ دیا جائے گا کہ کچھ اہم ہونے والا ہے۔محمد الضیف کا بیان آڈیو ٹیپ پر چلایا گیا اور نشر پر پہلے سے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ریکارڈنگ میں محمد الضیف نے کہا کہ یہ حملے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں کا ردعمل ہیں، حماس کے آپریشن کو "آپریشن القصیٰ طوفان” کہتے ہیں۔نیویارک ٹائمز کے مطابق، الضیف نے آڈیو ریکارڈنگ میں کہا، "عسکریت پسندو، یہ آپ کا اس مجرم دشمن کو دفن کرنے کا دن ہے۔ اس کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ جہاں بھی آپ انہیں پائیں انہیں مار ڈالو”۔ "اس گندگی کو اپنی سرزمین اور اپنے مقدس مقامات سے ہٹا دو۔ لڑو ان سے،

    حماس کے ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ غزہ میں محمد الضیف کے ساتھ حماس کے ایک اور رہنما یحییٰ سنوار نے اسرائیل پر حملے کی تیاری کا کہا تھا۔ تاہم، الضیف اس آپریشن کا "ماسٹر مائنڈ” تھا،

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر

    غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے بیان کے مطابق اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 2670 ہو گئی ہے،حملوں میں نو ہزار چھ سو کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں، غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 730 بچے بھی شہید ہوئے ہیں،

    اسرائیل کی غزہ پر بمباری سے 11 صحافیوں کی بھی موت ہوئی ہے، فلسطین جرنلسٹ سینڈیکیٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب تک اسرائیلی حملوں میں 11 صحافی مارے جا چکے ہیں،صحافیوں کو فرائض کی ادائیگی کے دوران مشکلات کا سامنا ہے

  • جنگ اسرائیل اور حماس سے آگے بڑھ سکتی ہے،امریکہ

    جنگ اسرائیل اور حماس سے آگے بڑھ سکتی ہے،امریکہ

    امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اسرائیل اور حماس سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

    اعلیٰ امریکی حکام نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جنگ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے تنازعے کی شکل اختیار کر سکتی ہے، انہیں خدشہ ہے کہ لبنانی گروپ حزب اللہ اسرائیل کے شمال پر حملہ کر سکتا ہے،

    امریکی جنگی بحری جہازوں کا ایک اور بیڑہ طاقت کے مظاہرے میں خطے کی طرف روانہ کیا گیا تھا جس کا مقصد اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنا تھا۔اسرائیل نے آٹھ روز قبل حماس کے اسرائیل کے اندر غیر معمولی حملوں کے جواب میں غزہ پر زبردست بمباری کی ہے ،وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کا کہنا ہے کہ”اس تنازعہ کے بڑھنے، شمال میں دوسرا محاذ کھولنے اور یقیناً ایران کی شمولیت کا خطرہ ہے۔”

    ان تبصروں کی بازگشت وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کی، جنھوں نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وائٹ ہاؤس "اس تنازعہ کے ممکنہ اضافے یا وسیع ہونے” کے بارے میں فکر مند ہے۔

    ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے خبردار کیا کہ ان کا ملک کارروائی کر سکتا ہے، انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس نے اسرائیلی حکام کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ "اگر وہ غزہ میں اپنے مظالم بند نہیں کرتے تو ایران محض مبصر نہیں رہ سکتا۔”انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو امریکہ کو بھی بھاری نقصانات اٹھانا پڑیں گے۔

    دریں اثنا، ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے اتوار کو کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں دیگر سینیٹرز کے ساتھ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔گراہم نے کہا کہ وہ ایک ایسا بل پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو "امریکہ کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کو تیل کے کاروبار سے باہر کرنے کے لیے فوجی کارروائی کی اجازت دے گا” اگر ایران اسرائیل پر حملہ کرتا ہے۔

    امریکی حکومت کے اہلکاروں نے یہ بھی کہا کہ وہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے میں مدد کے لیے متحرک ہو رہے ہیں۔

    امریکہ نے ترکی میں سابق سفیر ڈیوڈ سیٹر فیلڈ کو مشرق وسطیٰ کے انسانی مسائل کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے۔ محکمہ خارجہ نے کہا کہ ان کی توجہ غزہ کے بحران پر مرکوز ہوگی، "سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو جان بچانے والی امداد کی فراہمی اور شہریوں کی حفاظت کو فروغ دینے کا کام بھی شامل ہے۔”

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر
    دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈین نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ حماس کا وجود مٹانا ہو گا، جلد اسرائیل کا دورہ کروں گا،اسرائیل کا غزہ پر قبضہ بہت بڑی غلطی ہو گی،امریکی صدر جو بائیڈن نے فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ حماس فلسطینیوں کی حق خود ارادیت کی ترجمانی نہیں کرتی جبکہ محمود عباس نے بھی امریکی صدر کی تائید کی،جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ حماس کو تباہ ہونا چاہیے لیکن فلسطینی ریاست کے لیے راستہ بھی ہونا چاہیے۔

    امریکہ حماس کے خلاف اسرائیل کا ابتدا سے ہی ساتھ دے رہا ہے، امریکہ اسرائیل کی حمایت میں دو جنگی جہاز اسرائیل کی سمندری سرحد کے قریب تعینات کر چکا ہے، تاہم اب امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ پر قبضہ نہ کرنے کے بارے میں بیان دے دیا،

    امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے امریکی ٹی وی چینل کو بتایا کہ اس تنازعے کے بڑھنے اور شمال میں دوسرا محاذ کھولنے کی وجہ سے ایران کی جنگ میں شمولیت کا خطرہ ہے،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جمعہ کو عمان، اردن میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے بھی ملاقات کی،امریکی سیکرٹری خارجہ نے سعودی ولی عہد، سعودی وزیر خارجہ سمیت دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی، اس سے قبل انہوں نے اسرائیل کا بھی دورہ کیا تھا،

    مصر میں فلسطینی سفیر دیاب اللوح کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 30 ہزار سے زائد مکانات تباہ ہوچکے ہیں، 12 لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہیں اور 14 سے زیادہ ہسپتال ملیامیٹ کر دیے گئے ہیں،غزہ کی پٹی کی صورتحال سنگین ہے، مرنے والوں کی لاشیں دفنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے،ہسپتال لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے ہیں،پانی و خوراک کی قلت کی وجہ سے بھی فلسطینی مسائل کا شکار ہیں،

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس نے اسرائیل پر حملہ کیوں کیا؟امریکہ میں مسلمان خاتون اور اسکے بیٹے پر چاقو سے مالک مکان کا حملہ
    امریکی ریاست الینواے میں ستر سالہ شخص نے ایک خاتون اور اسکے بیٹے پر چاقو سے وار کیا ہے ، جس سے دونوں زخمی ہو گئے ہیں،26 سالہ لڑکے کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم اسکی موت ہو گئی،71 سالہ جوزف کازوبا کے بارےمیں کہا جا رہا ہے کہ اس نے مسلم خاتون اور اسکے بیٹے کو نشانہ بنایا،خاتون اور اسکا بیٹا جہاں مقیم تھے وہ جوزف کا گھر تھا، پولیس نے اس کیس میں امریکی مالک مکان پر قتل اور نفرت پر مبنی جرائم کا الزام عائد کیا ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ جوزف نے مسلمان ہونے کی وجہ سے دونوں پر چاقو سے حملہ کیا،یہ واقعہ شکاگو سے 64 کلو میٹر دور مغرب میں پیش آیا،

    اس کیس کو اسرائیل اور حماس کی لڑائی سےجوڑا جا رہا ہے، امریکی میڈیا کے مطابق حماس نےا سرائیل پر حملہ کیا ،اسی کو لے کر جوزف نے مسلمان خاندان جو انکے گھر میں مقیم تھا پر حملہ کیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق مرنیوالا فلسطینی نژاد امریکی تھا،زخمی خاتون کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے

  • وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے دوران حماس نے اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا، اس دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ حماس کے لوگ ایک گاڑی میں پیچھے کسی شخص کو باندھ کر لے کر جا رہے ہیں، مسلح افراد بھی اس گاڑی میں بیٹھے تھے اور اللہ اللہ اکبر کی آوازیں آ رہی تھیں، حماس کی گاڑی میں وہ یرغمالی کون تھا، اس حوالہ سے خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک 22 سالہ جرمن لڑکی تھی جسے حماس نے یرغمال بنایا، جرمن لڑکی ایک میوزک فیسٹول میں گئی تھی جہاں حماس کے حملے کے بعد کئی افراد کو یرغمال بنایا گیا ہے ان میں سے ایک وہ لڑکی بھی شامل تھی

    22 سالہ جرمن لڑکی کا نام شانی لوک ہے اور اسکے پاس جرمنی کی شہریت ہے تاہم انہوں نے جرمنی چھوڑ دیا تھا،اسکے دادا دادی جرمنی میں ہیں انکو ملنے شانی کبھی کبھار جاتی تھی،شانی کی والدہ کیتھولک تھیں جنہوں نے بعد میں یہودیت اختیار کر لی اور اسکے بعد اسرائیل آ کر مقیم ہو گئیں، شانی کے والد بھی اسرائیلی یہودی ہیں، انکا خاندان غزہ کی پٹی سے تقریبا 80 کلومیٹر کے فاصلے پر رہائش پذیر تھا.

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شانی لوک کی والدہ نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ شانی اپنے دوستوں کے ساتھ میوزک فیسٹول میں گئی تھی، اسی دوران حماس نے حملہ کر دیا، اسکا بیٹی سے حملے کے دوران رابطہ ہوا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ پناہ کی تلاش میں ہے، اسکے بعد شانی سے کوئی رابطہ نہ ہو سکا،سوشل میڈیا پر جب ویڈیو وائرل ہوئی تو ہمیں شک ہوا کہ وہ شانی ہی ہے جسے باندھ کر لے جایا جا رہا ہے، بعد میں اسکا کریڈٹ کارڈ غزہ میں استعمال ہوا، جس سے ہمیں یقین ہو گیا کہ شانی کو حماس نے ہی یرغمال بنایا ہے، ہم نے ہسپتال تک چیک کر لئے لیکن یہاں اسکی کوئی اطلاع نہیں ،غزہ میں کریڈٹ کارڈ کے استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شانی یرغمالیوں میں شامل ہے،

    شانی لوک کی والدہ کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں کہ وہ ابھی تک زندہ بھی ہے یانہیں، اس نے بیٹی کی ویڈیو دیکھی، وہ امید نہیں کھونا چاہتی ،شانی کی والدہ کے ردعمل کے بعد شانی کے ایک دوست نے بھی تصدیق کی کہ شانی کو ہی حماس نے یرغمال بنایا اور یہ وائرل ویڈیو اسی کی ہے،

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

  • القسام بریگیڈ کے ترجمان کے اہلیہ اور بچوں کی اسرائیلی حملے میں موت کی تردید

    القسام بریگیڈ کے ترجمان کے اہلیہ اور بچوں کی اسرائیلی حملے میں موت کی تردید

    حماس کے ترجمان ابوعبیدہ کی اہلیہ او ر بچوں کی اسرائیلی حملے میں شہادت کی خبر درست نہیں، حماس کے پولیٹکل بیورو کے رکن نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے ترجمان ابوعبیدہ کے خاندان کے لوگ محفوظ ہیں،

    حماس رہنما عزت الرشق نے کہا کہ جو لوگ شہید ہوئے وہ میرے پیارے بھائی احمد سمیر قنیتہ ابو عبیدہ کی بیوی اور بچے تھے اللہ ان سب پر رحم کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ کنیت کی مماثلت کی وجہ سے کچھ لوگوں کو غلطی ہوئی، واضح رہے کہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ القسام بریگیڈ کے سرکاری ترجمان ابو عبیدہ کی بیوی اور بچے ان کے گھر پر اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اسرائیل سے شہریوں کو نکالیں گے،سفری اخراجات دینا ہوں گے،امریکہ
    دوسری جانب امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ وہ سمندر کے راستے اسرائیل میں مقیم شہریوں کو نکالے گا،امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں مقیم امریکی شہری کو اسرائیل چھوڑنا چاہتے ہیں انکو بحری راستے سے قبرص لے جایا جائے گا،وہاں سے چارٹر طیارے دستیاب ہوں گے، جو امریکی نکلنا چاہتے ہیں انکو سفر کے اخراجات خود ادا کرنا ہوں گے،امریکی جہاز کل پیر کو شمالی اسرائیل کی شہر حیفہ کی بندر گاہ سے روانہ ہو گا،جس میں امریکی شہری اور انکے اہلخانہ ہوں گے،قبرص میں رہائش اور سفری اخراجات شہریوں کے ہی ذمہ ہوں گے.

    نتین یاہو …شرم کرو،اسرائیلی شہریوں کا اسرائیل میں احتجاج
    حماس کے اسرائیل پر حملے کے دوران حماس نے اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا ہے جس میں سے 22 اسرائیلی شہری اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہو چکے ہیں، یرغمال شہریوں کے اہلخانہ نے تل ابیب میں احتجاجی مظاہرہ کیا، شرکاء اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے اسرائیلی وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ یرغمال شہریوں کی رہائی کے لئے کردار ادا کیا جائے،ورنہ وہ مارے جائیں گے، اگر مارے گئے تو ذمہ دار نتین یاہو ہوں گے، وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں، حماس اگر اپنے قیدی چھڑوانا چاہتا ہے تو انکی بات وقت ضائع کئے بغیر مانی جائے.

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

  • حماس کے تیسرے رہنما کو قتل کر دیا،اسرائیل کا دعویٰ

    حماس کے تیسرے رہنما کو قتل کر دیا،اسرائیل کا دعویٰ

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بمباری میں حماس کے تیسرے رہنما کو قتل کر دیا ہے

    اتوار کو اسرائیلی فوج کی جانب سے حماس کے ایک اور رہنما کی موت کی تصدیق کی گئی جو سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں ملوث تھا،اسرائیل نے حماس کے رہنما بلال القدرہ کی موت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلال حماس کے تیسرے رہنما ہیں جن کو نشانہ بنایا گیا، اسرائیلی فوج کے مطابق ہفتے کی شام غزہ پر بمباری کے دوران بلال القدرہ کی موت ہوئی، وہ اسرائیل پر حملے کے آپریشن کا ذمہ دار تھا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نیرم میں بلال کی موت پانچ ساتھیوں کے ہمراہ ہوئی،حماس رہنما گھر میں تھے جب ان پر حملہ کیا گیا،نیرم غزہ کی پٹی کی ان 20 رہائشی اور زرعی زمینوں میں سے ہے جہاں سے حماس نے سات اکتوبر کو حملہ کیا تھا،میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے حملوں میں 13 سو سے زائد اسرائیلی مارے جا چکے ہیں، 126 اسرائیلی افراد کو حماس نے حراست میں لیا ہے جن میں سے 22 اسرائیلی بمباری سے ہی ہلاک ہو گئے ہیں

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کے اندر کاروائیوں کے دوران حماس کے ہاتھوں یرغمال اسرائیلیوں کی لاشیں ملی ہیں،یرغمالیوں کے اہلخانہ نے اپیل کی ہے کہ یرغمالیوں کو رہا کروایا جائے اور اگر وہ زخمی ہیں تو انہیں دوائی دی جائے،تل ابیب میں یرغمالیوں اور لاپتہ افراد کے خاندانوں کے فورم کے سربراہ رونن زور کا کہنا ہے کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یرغمالیوں کو ادویات کی منتقلی کے لیے آدھی رات تک ایک معاہدہ طے پا جائے.

  • غزہ کاپانی بھی بند،فلسطینی گندہ پانی پینے سے بیماریوں کا شکار

    غزہ کاپانی بھی بند،فلسطینی گندہ پانی پینے سے بیماریوں کا شکار

    اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ میں خوراک کی قلت ہو گئی ہے تو وہیں پانی کی بھی قلت ہوگئی ہے، غزہ میں شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں،اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کے پانی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے

    اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جہاں غزہ کے محاصرے کے دوران خوراک بند کر دی ہے وہیں پانی کی سپلائی بھی روک دی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کے لئے پانی مسئلہ بن گیا ہے، دو ملین لوگوں کو پانی دسیتاب نہیں،ضروری ہے کہ غزہ میں خوراک اور پانی پہنچانے کی اجازت دی جائے،پانی نہ ہونے کی وجہ سے شہری گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں جسکی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں

    دوسری جانب اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ غزہ پر زمین، فضا اور سمند ر سے حملوں کی تیاری کر رہاہے،اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے فوجیوں کو اشارہ دیتے ہوئے کہا جنگ کا اگلا مرحلہ آرہا ہے جس میں اسرائیل کی طرف سے غزہ پر زمینی حملہ متوقع ہے

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

  • اسرائیلی فوج کی نقل مکانی کرنیوالوں پر بھی بمباری

    اسرائیلی فوج کی نقل مکانی کرنیوالوں پر بھی بمباری

    اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے، اسرائیلی بربریت دنیا نے دیکھ لی ہے، اسرائیلی بمباری سے تین ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،

    حماس کا حملہ،اسرائیلی اہلکار کا انٹیلی جنس ناکامی کا اعتراف
    حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے حوالہ سے ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے انٹیلی جس ناکامی کا اعتراف کیا ہے،سات اکتوبر ہفتہ کی صبح حماس نے غزہ کی تمام رکاوٹیں توڑ کر اسرائیلی کمیونٹیز اور اسرائیلی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا،کئی اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا، اسرائیل پر اتنے بڑے حملے کے حوالہ سے سوال اٹھ رہے تھے کہ اسرائیل کو حماس کی منصوبہ بندی کی کیسے خبر نہیں ہوئی اب عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی نامی سکیورٹی ایڈوائزر سے ایک پریس بریفنگ کے دوران سوال پوچھا گیا کہ کیا اس حملے سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو پتہ نہیں چلا؟ جس کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ میری غلطی ہے اور ان تمام لوگوں کی غلطیوں کی عکاسی کرتی ہے جن کا کام انٹیلی جنس اطلاعات کا تجزیہ کرنا تھا،ہمیں یقین تھا کہ حماس نے ماضی اور خاص طور پر 2021 کی جنگ سے سبق سیکھا ہوگا

    آج نودن ہو چکے ہیں ، اسرائیل کے مسلسل حملے جاری ہیں، سینکڑوں گھر مسمار ہو چکے ہیں، نو ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہیں،غزہ کے ہسپتال لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے ہیں، لاشیں محفوظ کرنے کے لئے گاڑیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے، اسرائیل نے غذہ سے نقل مکانی کرنے والوں‌پر بھی بمباری کی ہے،چار لاکھ فلسطینیوں نے گھر چھوڑ ا ہے

    عرب ٹی وی نے اسرائیلی فوج کے جھوٹ کا پول کھول دیاہے،تحقیقاتی رپورٹ سے ثابت کیا کہ جن چارفلسطینیوں کو جنگجو کہہ کر گولی ماری گئی تھی، وہ غیرمسلح تھے،لبنانی سرحد پر بھی اسرائیلی فوج کی گولہ باری اورفائرنگ سے ایک صحافی جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوگئے۔

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

    کہیں اور جانے سے مر جانا بہتر ہے، فلسطینی نوجوان
    اسرائیل نے غزہ کے شہریوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنوب کی جانب چلے جائیں جس پر ایک نوجوان محمد کا کہنا ہے کہ کہیں اور جانے سے مر جانا بہتر ہے، میں یہیں پیدا ہوا،یہیں مروں گا، کہیں نہیں جاؤں گا، کچھ بھی ہو جائے، غزہ میں مقیم فلسطینی نوجوان نے یہ بات اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہی.

    فلسطین اور اسرائیل تنازع کو روکنے کیلئے امریکہ نے چین سے مانگی مدد
    اسرائیل، فلسطین تنازع روکنے کے لئے امریکہ نے چین سے مدد مانگ لی ہے، اس ضمن میں امریکی وزیر خارجہ نے چینی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا ہےاورکہا ہے کہ چین ہماری مددکرے، جس پر چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ فوری بین الاقوامی کانفرنس بلائی جائے،تا کہ اس تنازعے کو روکنے کا حل نکالا جا سکےاگر ایسا نہ کیا تو تنازع کے قابو سے باہر نکلنے کا خدشہ ہے، چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں اور سویلین کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کے ہر عمل کی مذمت کرتا ہے

    چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کا سعودی ہم منصب کو ٹیلی فون
    چینی وزیر خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ کے فون کے بعد سعودی ہم منصب کو ٹیلی فون کیا ہے،چینی وزیر خارجہ نے اسرائیل فلسطین تنازع میں اضافے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی کارروائیاں دفاع کے دائرہ کار سے باہر ہوچکی ہیں۔چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اتوار کوکہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں کاروائیاں اسکے دفاع کے دائرہ کار سے باہر ہو گئی ہیں، اسرائیلی حکومت کو غزہ کے لوگو ں کو اجتماعی سزا دینا بند کر نا ہو گا،

    ایران نے اسرائیل سے غزہ میں جنگی جرائم روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے، اولین ترجیح اسرائیل کے جنگی جرائم کو روکنا ہے۔ اگر اسرائیل اپنے جنگی جرائم جاری رکھتا ہے تو مزاحمتی قوتیں کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ کوئی بھی ‘عقلمند’ شخص غزہ میں خواتین اور بچوں کے قتل کو برداشت نہیں کرسکتا۔ ایران نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے ذریعے اسرائیل کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وہ فلسطین اسرائیل جنگ میں مزید اضافہ نہیں چاہتا لیکن اگر غزہ میں اسرائیلی زمینی کارروائی شروع ہوئی تو وہ مداخلت کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

    حماس نے اسرائیل کو زمینی کارروائی سے خبردار کرتے ہوئے اپنی تیاریوں کی ویڈیو جاری کر دی ہے، حماس نے ویڈیو جاری کر کے اسرائیل کو خبردار کیا ہے،حماس کی جانب سے جاری کی گئی فرضی ویڈیو میں ٹینکوں کو نشانہ بناتے دکھایا گیا ہے۔

    اسرائیل کی غزہ پر بمباری سے بچوں سمیت حاملہ خواتین بھی شہید ہوئی ہیں،تازہ ترین حملے میں اسرائیل نے تین ایمبولینس گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے،15 طبی اہلکار شہید اور 27 زخمی ہوئے ہیں، اسرائیلی حملے میں اب تک 23 ایمبولینس گاڑیاں مکمل تباہ ہو چکی ہیں

    کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے،افغان طالبان
    اسرائیل کے غزہ پر حملے کے حوالہ سے افغان قیادت کا موقف سامنے آیاہے،افغان مرکزی قیادت کا موقف ہے کہ وہ کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ تاہم دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی مظالم روکنے کے لیے اقدامات کریں۔افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی مظالم پر مسلم ممالک کی خاموشی دیکھ کر دکھ ہوتا ہے مشکلات سے دو چار دنیا بھر کے مسلمانوں کو اللہ آزمائش میں سرخرو کرے۔ یہ ہماری غیرت ایمانی کے منافی ہے کہ مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہو اور ہم خاموش رہیں