Baaghi TV

Tag: فرانس

  • امریکہ منافقانہ طرزعمل سے کام لے رہا ہے،جوناقابل برداشت ہے:فرانسیسی صدر

    امریکہ منافقانہ طرزعمل سے کام لے رہا ہے،جوناقابل برداشت ہے:فرانسیسی صدر

    برسلز :فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکہ کے منافقانہ طرزعمل پر تنقیدکرتےہوئے کہا کہ وہ اپنی گیس یورپیوں کو اس قیمت پر فروخت کر رہا ہے جو کہ مقامی امریکی مارکیٹ میں گیس کی قیمت سے 2-4 گنا زیادہ ہے۔ برسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، فرانسیسی رہنما نے امریکہ کے اس طرز عمل کو "دوہرا معیار” قرار دیا۔

    میکرون نےاس موقع پر کہا کہ "امریکی گیس مقامی مارکیٹ میں اس قیمت سے 3-4 گنا سستی ہے جس قیمت پر وہ یورپیوں کو پیش کرتے ہیں۔ یہ دوہرے معیار ہیں،” ان کا کہنا تھا کہ یہ بحث کا مو

    عمران خان کا الیکشن کمیشن کے فیصلے پرعدالت جانے اوراحتجاج ختم کرنے کا اعلان

    ضوع بننا چاہیے، کیونکہ "اس کا تعلق بحر اوقیانوس کی تجارت میں اخلاص سے ہے”۔

    فرانسیسی رہنما نے کہا کہ میں دسمبر میں اپنے دورہ امریکہ کے دوران اس معاملے کو اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔میکرون نے یورپی یونین کے ممالک سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ 2023-2024 کے موسم سرما کو روسی گیس کے بغیر گزارنے کی تیاری کریں اور توانائی کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے کام کریں۔

    میکرون کا کہنا تھا کہ”ہمارے پاس ایک دوہرا چیلنج ہے: آج کے مقابلے میں قیمتوں کو کم کرنا اور اگلی سردیوں کی تیاری کے لیے ایک طریقہ کار فراہم کرنے کے لیے خود کو بااختیار بنانا۔ یہ اس سے زیادہ آسان نہیں ہوگا، اس کے برعکس – ہم اس بات کو مدنظر رکھتے ہیں کہ ہم روسی گیس کے بغیر بالکل بھی کرنا پڑے گا۔ لہٰذا، ہمیں جلد از جلد قیمتوں میں کمی لانی چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ 2023-2024 کے موسم سرما سے گزرنے کے قابل ہونا چاہیے۔”

    اس سلسلے میں، میکرون کے مطابق، سربراہی اجلاس کے شرکاء نے گیس کے لیے ایک نیا یورپی قیمت انڈیکس قائم کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔میکرون نے کہا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یورپ کے سب سے بڑے گیس ایکسچینج (ٹائٹل ٹرانسفر فیسیلٹی، TTF ورچوئل ہب) پر موجودہ انڈیکس "موجودہ گیس مارکیٹ کی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا” اور تاجروں کے اقدامات کے لیے بہت حساس ہے۔انہوں نے کہا، "ہم نے یوروپی کمیشن کی جانب سے ایک نیا قیمت انڈیکس بنانے کی تجویز کی حمایت کی، جس سے ہمیں ایک حقیقی وقتی اشارے ملے گا جو TTF انڈیکس سے زیادہ ایماندار ہو۔”

    صدر، وزیراعظم اور وزیرخارجہ کی پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکلنے پر قوم کو مبارکباد

    انہوں نے مزید کہا کہ "یہ پہلا نکتہ ہے۔ دوسرا نکتہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے قیمتوں کی راہداریوں کی ایک سیریز کی تخلیق ہے۔”

    اس سے قبل یورپی کمیشن نے یورپی یونین میں توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا نیا پیکج پیش کیا تھا۔ خاص طور پر، اس نے یورپی ٹی ٹی ایف ایکسچینج پر گیس کی متحرک قیمتوں کا تعین کرنے کی تجویز پیش کی۔ یہ اقدام اس وقت تک عارضی رہے گا جب تک کہ EC مارچ 2023 تک ایل این جی کی قیمت کا نیا بینچ مارک تیار نہیں کر لیتا۔

    ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کا آؤٹ لک مستحکم سے منفی کردیا

    EC کا بھی منصوبہ ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کی طرف سے گیس کی لازمی مشترکہ خریداری کو کل طلب کے 15% کی سطح پر متعارف کرایا جائے، اس کے ساتھ ساتھ ماہانہ توانائی کی کھپت میں 15% کی کمی کی جائے۔

  • روسی صدرکومکمل طورپرتنہا کردینا خطرناک ہو سکتا ہے، فرانسیسی وزیرخارجہ

    روسی صدرکومکمل طورپرتنہا کردینا خطرناک ہو سکتا ہے، فرانسیسی وزیرخارجہ

    فرانس کی وزیر خارجہ کیتھرین کولونا نے خبر دار کیا ہے کہ روسی صدر کو مکمل طور پر تنہا کر دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکی دورےکےدوران معروف امریکی تھنک ٹینک ‘سنٹر فار سٹریٹجک این انٹر نیشنل سٹڈیز’میں گفتگو کےدوران فرانسیسی ازیر خارجہ نے کہا کہ ضروری ہے کہ روس کے ساتھ رابطے کی لائنوں کو کھلا رکھا جائے۔

    ہمارے پاس ایرانی ڈرون کے استعمال کے اہم شواہد موجود ہیں،امریکا

    ان کا کہنا تھا اسی لیے فرانس کے صدر میکروں نے پیوٹن کے ساتھ 24 فروری کو یوکرین پرجارحیت تک روس کے ساتھ رابطے میں رہے۔ حتیٰ کہ حالیہ مہینوں میں بھی رابطہ بحال رکھا ہے وہ اس سے پہلے بھی پیوٹن کے ساتھ میرا تھن قسم کے روابط میں رہے۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ کولونا نے اس موقع پر امریکی صدر کے پیوٹن کے ساتھ دو طرفہ رابطوں کے مکمل منقطع کر دینے کا بھی ذکر کیا کہ فرانس کے صدر نے ایسا نہیں کیا۔

    کیتھرین کولونا نے کہا فرانسیسی صدر کی ان کوششوں کی وجہ سے امکان ہے کہ ‘زپوری زہزیا’ کے حوالے سے پیشرفت ہو جائے کہ اس جوہری پلانٹ کے ارد گرد کو غیر جنگی علاقہ قرار دلایا جاسکے۔

    روس کو ڈرونز فراہم کرنے پر برطانیہ نے ایران پر پابندیاں عائد کردی ہیں

    جیسا کہ عمانویل میکروں کے حالیہ مہینوں میں رابطوں کے نتیجے میں جوہری توانائی کے حوالے سے بین الاقوامی واچ ڈاگ ادارے ‘آئی اے ای اے’ کو اس اہم یوکرینی جوہری پلانٹ کے وزٹ کی روس نے اجازت دے دی ہے۔

    انہوں نے روس کے ساتھ ہر صورت رابطہ کاری بحال رکھنے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا خود امریکا نے بھی روس کے ساتھ نچلی سطح کے روابط جاری رکھے ہیں اور جمعہ کے روز امریکا دفائی سر براہ نے روسی دفاعی ذمہ دار سے بات کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا روسی صدر دنیا اور اس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے اپنے انوکھے ویژن کو بروئے کار لا رہے ہیں، ان حالات میں ان کے ساتھ رابطے منقطع کر دیئے گئے تو وہ اسی سمت میں اور اپنی عجب نگاہی کے ساتھ آگے بڑھتے جائیں جو کہ دنیا کے لیے اچھی آپشن نہیں ہو سکتی ہے۔

    روسی حملوں سے یوکرین میں بجلی کا نظام تباہ،ملک اندھیروں میں ڈوب گیا

  • فرانسیسی سفیر کا اہلیہ کےساتھ قائد اعظم میوزیم ہاوٴس کا دورہ

    فرانسیسی سفیر کا اہلیہ کےساتھ قائد اعظم میوزیم ہاوٴس کا دورہ

    کراچی: فرانس کے سفیر نکولس گیلے نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی اہم ہیں، اس مشکل گھڑی میں ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔تفصیلات کے مطابق فرانس کے سفیر نکولس گیلے نے اہلیہ کے ہمراہ قائد اعظم میوزیم ہاوٴس کا دورہ کیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ انتہائی دیرینہ تعلقات ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ یہاں آکر خوشی ہوئی، یہاں رہنے والے لوگ کافی ہنرمند ہیں، اس وقت پاکستان سیلابی صورت حال سے گزر رہا ہے، ہم پاکستان کے ساتھ ہیں، ہم نے مشینری منگوائی ہے جو یومیہ 50 ہزار لیٹر گندے پانی کو میٹھا کرے گی۔انھوں نے تقریب میں بتایا کہ فرانسیسی جامعات سے لوگ نومبر میں پاکستان کو دورہ کریں گے اور مستقبل میں پاکستان کے ساتھ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کام کریں گے۔

    نکولس گیلے نے تجارتی تعلقات کے حوالے سے کہا کہ دونوں ممالک کے چیمبرز کے مابین میٹنگ رکھی گئی ہے، جو دونوں ممالک کے باہمی تعلق کو مزید مضبوط کرے گی۔انھوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے اس جگہ کو اصل حالت میں بحال رکھنے کے لیے بہت کام کیا ہے، یہاں اسکولوں کے بچوں کو مختلف پروگرامات کروائے جائیں گے۔

    انھوں نے تقریب میں بتایا کہ یہاں جناح لائبریری کے نام سے پبلک لائبریری ایک سمعی و بصری مرکز کا قیام عمل میں لایا جائے گا، تقریب کے اختتام پر فرانسیسی سفیر کو اجرک اور شیلڈ پیش کی گئی۔

  • فرانس میں پٹرول کا شدید بحران،پٹرول پمپس پر عوام دست و گریباں

    فرانس میں پٹرول کا شدید بحران،پٹرول پمپس پر عوام دست و گریباں

    پیرس: فرانس میں آئل ریفائنریز کے ملازمین کی ہڑتال کے باعث پٹرول کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے،ملک بھر میں پٹرول کی قلت شدید ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق فرانس کی سات میں سے چھ آئل ریفائنریز کے ملازمین کی ہڑتال کے باعث ملک بھر میں پٹرول کا بحران شدید ہوگیا ہے مختلف شہروں میں پٹرول پمپس پر لمبی قطاریں لگی ہیں۔ پٹرول کے حصول کے لئے لوگ ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔

    سعودی عرب 2022 کے دوران شرح نمو کے لحاظ سےجی 20 ممالک میں سرفہرست ہے،آئی ایم ایف


    فرانسیسی حکومت نے ہڑتالی ملازمین کو فوری طور پر کام پر واپس پہنچنے کا حکم دیا ہے،فرانس کی حکومت نے ملازمت پر نہ پہنچنے والے ملازمین کو جرمانے اور قید کی سزا دینے کی دھمکی دی ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ریفائنریوں کو طلب کرے اور کارکنوں کو ہنگامی حالت میں اپنی ملازمتوں پر واپس جانے پر مجبور کرے، ان لوگوں کے ساتھ جو جرمانے یا جیل کے وقت کا خطرہ مول لینے سے انکار کرتے ہیں۔

    اقوام متحدہ میں روس کی یوکرین کےعلاقوں کی’غیرقانونی‘ الحاق کی مذمت،پاکستان اورچین…

    سخت گیر جنرل کنفیڈریشن آف لیبر (CGT) یونین سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے تنخواہ پر انتظامیہ اور دیگر یونینوں کے درمیان معاہدے کے باوجود شمالی فرانس میں واقع Gravenchon-port Jerome پلانٹ پر ہڑتال کر رکھی تھی۔

    CGT نے کہا کہ وہ درخواست کی اطلاع موصول ہونے کے بعد اسے عدالت میں چیلنج کرے گا۔

    آئل ریفائنریز کے ملازمین نے حکومت سے تنخواہوں میں اضافے اور بہتر سہولتوں کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

    آئل ریفائنریز ملازمین کی یونین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث اخراجات کا بوجھ اٹھانا مشکل ہوگیا ہے۔ آئل ریفائنریز اپنے منافع میں سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں اوردیگر سہولیات بھی فراہم کریں۔

    وائٹ ہاوس نے صدر جوبائیڈن کا نیشنل سیکیورٹی پلان جاری کر دیا

  • فرانسیسی صدر میکرون کے استعفیٰ کے لئے ہزاروں افراد کا مظاہرہ

    فرانسیسی صدر میکرون کے استعفیٰ کے لئے ہزاروں افراد کا مظاہرہ

    فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پلائیس شاہی چوک میں ہزاروں افراد نے فرانسیسی صدر کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرہ کی دعوت دائیں بازو کی وطن پرست جماعت نے دی تھی۔

    ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں دائیں بازو کی وطن پرست جماعت کی دعوت پر ہزاروں لوگ پلائیس شاہی چوک میں جمع ہوئے، وہ فرانسیسی صدر امانوئیل میکرون کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے، انہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور وہ میکرون کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

    اس سے پہلے 3 ستمبر کو بھی وطن پرست جماعت نے میکرون کے خلاف مظاہرے کئے تھے اور حالیہ مظاہرے ان کی میکرون مخالف تحریک کا حصہ ہیں۔ مظاہرین میکرون کے استعفی اور یورپی یونین سے علیحدگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

    فرانس میں ہوئے ایک سروے کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 40 فیصد فرانسیسی روس پر پابندیوں کے حامی ہیں، 27 فیصد کے مطابق وہ روس پر اقتصادی پابندیوں کے خلاف ہیں۔

    یورپ میں توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور فروری 2022ء سے روس یوکرین جنگ کے آغاز سے ماسکو کے خلاف لگائی گئی پابندیوں سے یہ توانائی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جس کے باعث کئی یورپی حکومتیں ہنگامی اقدامات کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔

    فرانسیسی پارلیمنٹ نے اس حوالے سے عوام کی قوت خرید کے تحفظ کے لئے دو خصوصی پیکج کی منظوری دی تھی جن کے مطابق سوشل سیکیورٹی، بجلی گیس کی قیمتوں میں استحکام، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور ایندھن کی قیمت میں 30 سینٹ کی کمی جیسے اقدامات شامل ہیں لیکن توانائی کے بحران اور مہنگائی کے باعث فرانسیسی عوام مظاہرے کر رہے ہیں۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • وزیراعظم سے فرانسیسی جمہوریہ کے سفیر کی ملاقات ،مدد پر فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کیا

    وزیراعظم سے فرانسیسی جمہوریہ کے سفیر کی ملاقات ،مدد پر فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کیا

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے پاکستان میں فرانسیسی جمہوریہ کے سفیر Nicolas Galey نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان فرانس کے ساتھ دوطرفہ اور یورپی یونین کے تناظر میں اپنے دیرینہ تعاون پر مبنی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔

    وزیراعظم نے پاکستان بھر میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی وسیع تباہی اور سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے یکجہتی اور مدد پر فرانسیسی صدر Emmanuel Macron کا شکریہ ادا کیا اور سیلاب متاثرین کے لیے خیمے، واٹر پمپ اور ڈاکٹروں اور نرسوں کی ٹیم پر مشتمل امدادی پرواز بھیجنے پر شکریہ ادا کیا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ نقصانات کا پیمانہ اور شدت اتنی زیادہ ہے کہ پاکستان تنہا اس کا سامنا نہیں کر سکتا ; بین الاقوامی برادری کی حمایت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

    وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کا گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے تاہم پاکستان موسمیاتی خطرات سے دوچار پہلے دس ممالک میں سے ایک ہے . انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوری امداد کے علاوہ، فرانس بحالی اور تعمیر نو کے مرحلے میں حکومت کی کوششوں میں ساتھ دے سکتا ہے .

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں فرانس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فرانسیسی سفیر دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اسٹارٹ اپس(start ups)، زراعت، پانی کے انتظام اور توانائی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرینگے ۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان باہمی فائدہ مند تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے فرانس کے ساتھ مسلسل روابط کا خواہاں ہے.

  • پاکستان کی تاریں سب میرین کیبل کے ذریعے فرانس سے جُڑگئیں

    پاکستان کی تاریں سب میرین کیبل کے ذریعے فرانس سے جُڑگئیں

    لاہور:پاکستان اینڈ ایسٹ افریقہ کنیکٹنگ یورپ (پی ای اے سی ای) کیبل انٹرنیشنل نیٹ ورک کمپنی لمیٹڈ نے کراچی سے مارسیلیا، فرانس تک کنیکٹیویٹی کی فراہمی کے لئے سب میرین کیبل انفراسٹرکچر کی تعمیر مکمل کر لی ہے۔

    پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کیبل کا پاکستان مصر سیگمنٹ کراچی اور ظفرانہ (مصر) کو ملاتا ہے جس کی کل لمبائی 5,800 کلومیٹر ہے۔ پاکستان سے فرانس تک کنیکٹیویٹی مکمل ہونے کے بعد سروس کے لیے تیار ہے۔

    بیان کے مطابق اس حوالے سے پیس کیبل کی انتظامیہ پر مشتمل سینئر عہدیداروں نے پی ٹی اے ہیڈ کوارٹرز میں چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل(ریٹائرڈ) عامر عظیم باجوہ سے آن لائن اور بالمشافہ ملاقات کے دوران آگاہ کیا۔ وفد میں پیس مینجمنٹ کے سی او او سن ژاؤہوا، پیس مینجمنٹ ڈائریکٹر ژانگ ڈونگہائی، کمرشل ڈائریکٹر کرس ژانگ، (آن لائن) اور پیس کیبل، کنٹری منیجر پاکستان، شعیب اشفاق قریشی، (بالمشافہ) شامل تھے۔

    وفد کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کے لئے بھرپور دلچسپی ظاہر کی گئی اور پاکستان کو ڈیجیٹل طور پر منسلک کرنے کے عمل میں مزید تیزی لانے کے لیے اختراعی ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی سلوشنز کی ترقی کے حوالے سے بھی مستقبل کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

    پیس کیبل ابتدائی طور پر پاکستان سے فرانس تک 15,000 کلومیٹر پر طویل زیر سمندر کیبل ہے، جو پاکستان سے سنگاپور تک 6,500 کلومیٹر تک کا اضافی پھیلاؤ رکھتی ہے، جس کا مین ٹرنک سنگاپور، پاکستان، کینیا، مصر اور فرانس میں ہے اور اس کی شاخیں مالدیپ، مالٹا، قبرص وغیرہ سے جڑی ہوئی ہیں۔

    پی ٹی اے کے مطابق یہ سب میرین کیبل پاکستان کے بین الاقوامی روابط میں انتہائی تیزتر، اعلیٰ صلاحیت، کم تاخیر اور ریڈنڈینٹ کنیکٹویٹی میں اضافے کا باعث ہو گی۔

  • پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ایفل ٹاور کا نام لیں تو ذہن میں پیرس آتا ہے۔ جسکے ویسے تو کئی ریپلیکا دنیا بھر میں موجود ہیں مگر مجھے اصلی ٹاور کے علاوہ بحریہ ٹاؤن لاہور کا "ایفل ٹاور” دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہے۔

    اصلی ایفل ٹاور جو پیرس میں واقع ہے، انسانی آرٹ سے زیادہ انجنئیرنگ کا خوبصورت نمونہ ہے۔ اتنا کہ لوگ اسے دیکھنے دنیا بھر سے آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر سے سالانہ 60 لاکھ سے زائد افراد اس ٹاور کی "زیارت” کو آتے ہیں۔

    ایفل ٹاور کی تاریخ دلچسپ ہے۔ خوبصورت انجنیرنگ کے اس شاہکار کی اونچائی تقریبا 330 میٹر ہے۔ تقابل میں لاہور کا مینارِ پاکستان تقریباً 70 میٹر ہے۔ مگر ایفل ٹاور کو بنایا کیوں گیا؟

    دراصل اسے 1889 میں پیرس میں ہونے والے ورلڈ فیئر کے لیے تعمیر کیا گیا۔ یہ ورلڈ فئیر 1789 میں آیے انقلاب ِفرانس کےصد سالہ جشن کی خوشی میں تھا۔ ایفل ٹاور جو پیرس کے دل میں دریائے سین کے کنارے ایستادہ ہے، اسے 2 سال کی قلیل مدت میں 1887 سے 1889 میں تعمیر کیا گیا۔ اسکا نام ایفل ٹاور اس لیے ہے کہ اسے فرانس کے ایک سویل انجنئیر الیکسینڈر گستاو ایفل کی کمپنی کے انجینئرز اور آرکیٹکٹس نے بنایا۔ شروع شروع میں جب یہ بنایا گیا تو اسکی فرانس کے کئی مشہور آرٹس اور دانشوروں نے مخالفت کی مگر آج یہ فرانس کی پہچان ہے۔

    اس ٹاور کے تین فلورز ہیں جو سیاحوں کے لئے کھلے ہیں۔ ان پر سیاحوں کے لیے ریستوران بھی موجود ہیں جہاں وہ لذیذ کھانے کھا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ پیرس کا نظارہ بھی۔ان فلورز پر جانے کے لئے سیڑھیاں بھی ہیں اور ایک لفٹ بھی، جنکا ٹکٹ ہوتا ہے۔ 600 قدم کی سیڑھیاں دوسرے فلور تک جاتی ہیں جبکہ لفٹ تیسرے فلور پر۔ سب سے اوپر کی فلور پر آپکو ٹاور سے مختلف ملکوں کے دارلحکومت کی سمت اور فاصلہ تحریر کی صورت لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ٹاور کی تیسرے فلور تک جانے کا لفٹ کا ٹکٹ تقریباً 25 یورو یعنی تقریباً ساڑھے پانچ ہزار پاکستانی روپے ہے۔ جبکہ سیڑھیوں کے ذریعے دوسرے فلور تک جانے کا ٹکٹ تقریباً سوا چار ہزار روپے ہے۔

    ٹاور سے متصل ایک بہت بڑا پارک ہے جہاں مقامی لوگ اور سیاح اکثر شام کو وقت بتانے آتے ہیں۔ ٹاور پر باقاعدہ لائیٹنگ کا انتظام ہے جس میں کل ملا کر 20 ہزار کے قریب برقی قمقمے اور بلب نصب ہیں۔ جو شام ہوتے ہی اس ٹاور کو روشنی سے سجا دیتا ہے اور دیکھنے والے اسکے حسن سے کھو سے جاتے ہیں۔

    اس ٹاور کو بنانے میں اُس دور میں تقریباً ڈیڑھ ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ مکمل طور پر لوہے کا بنا ہوا ہے۔ اسے زنگ سے بچانے کے لیے اس پر تقریباً ہر سات سال بعد رنگ کیا جاتا ہے۔ مختلف ادوار میں اسکا رنگ تبدیل کیا گیا۔ شروع شروع میں جب یہ بنا تو اسکا رنگ سرخی مائل بادامی تھا جبکہ آج اسکا رنگ بادامی سا ہے۔ اسے رنگنے کے لئے 3 ٹن پینٹ استعمال ہوتا ہے جبکہ ٹاور کا کل وزن کل وزن 10 ہزار ٹن سے بھی زائد ہے۔

    بحریہ ٹاؤن لاہور کا ایفل ٹاور 80 میٹر اونچا پے۔اسے 2013 میں بنایا گیا۔ اسکا ٹکٹ شاید ہزار روپے سے کم ہے۔ پاکستان میں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سٹارز کے لیے سٹوریز بنانے کے لیے اچھی جگہ ہے۔

  • فرانسیسی قانون سازوں کی برطانوی حکومت پرشدید تنقید

    فرانسیسی قانون سازوں کی برطانوی حکومت پرشدید تنقید

    پیرس :فرانسیسی قانون سازوں کی برطانوی حکومت پرشدید تنقید ،اطلاعات کے مطابق تین فرانسیسی قانون سازوں نے شمالی سمندر میں کچے سیوریج کو پھینکنے کی اجازت دے کر ماحولیات، ماہی گیروں کی زندگی اور صحت عامہ کو زیادہ خطرے میں ڈالنے پر برطانیہ پر تنقید کی ہے۔

    اس حوالے سے ایک مشترکہ بیان میں یورپی پارلیمنٹ کے فرانسیسی اراکین نے یورپی کمیشن پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر برطانیہ کے خلاف "سیاسی اور قانونی” اقدامات کرے۔

     

    وزیراعظم شہبازشریف کا سندھ حکومت کے لیے 15 ارب رو پے گرانٹ کا اعلان

     

    انہوں نے ماحولیات کے کمشنر ورجینیجس سنکیویسیئس کو ایک خط میں لکھا ہے کہ "ہم سمندری پانی کے معیار پر منفی نتائج سے خوفزدہ ہیں جو ہم اس ملک کے ساتھ بانٹتے ہیں اور اس کے نتیجے میں سمندری حیاتیاتی تنوع کے ساتھ ساتھ ماہی گیری اور شیلفش فارموں پر بھی پڑتے ہیں،”

    یہ احتجاج اس وقت ہوا جب حال ہی میں انگلینڈ اور ویلز کے متعدد ساحلوں کو نہانے والوں کے لیے آلودگی کا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

    برطانیہ اب یورپی یونین کے قوانین کا پابند نہیں ہے، لیکن یہ ملک مشترکہ پانیوں کے تحفظ سے متعلق اقوام متحدہ کے متعلقہ کنونشنز پر دستخط کرنے کے بعد بین الاقوامی صحت کے اصولوں کی پاسداری کرنے کے پابند ہیں ،فرانسیسی قانون سازوں نے دلیل دی کہ بلاک چھوڑنے کے بعد سے اپنے ماحولیاتی وعدوں کو نظر انداز کرنے پر برطانیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

     

    مریم نواز،رانا ثنا،مولانا فضل الرحمان اور دیگر کیخلاف توہین عدالت درخواست ناقابل سماعت قرار

    تینوں ایم ای پیز کا تعلق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی این مارچے پارٹی سے ہے۔ ان میں سے ایک، پیری کارلیسکنڈ، یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی ماہی گیری کمیٹی کے سربراہ ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ قلیل مدت میں سیوریج کے رساؤ سے فرانسیسی ساحل پر نہانے والے پانی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور اس سے سمندری حیاتیاتی تنوع، ماہی گیری اور شیلفش فارمنگ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    برطانیہ میں گندے پانی کے انتظام کے نظام کو پرائیویٹائز کر دیا گیا ہے، اس لیے بیت الخلاء سے گندے پانی کو سیوریج ٹریٹمنٹ کے لیے انہی پائپوں کے ذریعے لے جایا جاتا ہے جو بارش کے پانی کی طرح بالآخر دریاؤں اور انگلش چینل میں ختم ہو جاتا ہے۔

    ” قانون سازوں نے یہ بھی کہا ہے کہ شدید بارشوں کے بعد گھروں اور عوامی مقامات کو سیلاب سے بچانے کے لیے، نظام کو ایسا ڈیزائن کیا گیا ہے کہ بغیر ٹریٹمنٹ شدہ سیوریج کو دریاؤں اور سمندر میں خارج کیا جائے۔”یہ حکومت اور ریگولیٹرز کے لیے صحت عامہ کا ایک سنگین مسئلہ ہے اور یہ واضح ہے کہ پانی کی کمپنیاں کافی کام نہیں کر رہی ہیں۔ صحت عامہ کے خطرات ماحولیاتی اور ماحولیاتی اثرات کے علاوہ ہیں جو بہت زیادہ ضابطے کی بنیاد بناتے ہیں،

    بریکسٹ کے بعد سے انگلینڈ اور فرانس کے تعلقات خراب ہو گئے ہیں، برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے گزشتہ سال اکتوبر میں پیرس کے ساتھ تلخ ماہی گیری کے تنازعہ میں تجارتی تنازعہ کی کارروائی کو متحرک کرنے کی دھمکی دی تھی، جب کہ میکرون نے جانسن سے کہا کہ "قواعد کا احترام کریں۔”

  • فرانس کے جنگلات آتشزدگی،ہزاروں افراد  گھر چھوڑنے پر مجبور

    فرانس کے جنگلات آتشزدگی،ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور

    پیرس: فرانس کے جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی جس نے ہزارں ایکڑ رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    باغی ٹی وی : "الجزیرہ” کے مطابق فرانس میں جون سے اب تک خشک سالی اور گرمی کی لہر نے ملک کو شدید متاثر کیا ہے جب کہ دو بار جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

    برطانیہ میں بجلی چوری کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ

    فرانس کے جنوب مغربی علاقے میں موجود جنگلات میں بدھ کے روز آگ لگی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں ایکڑ رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جنگلات میں آتشزدگی کے بعد حکومت نے فوری طور پر آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کردی ہیں جب کہ اس سلسلے میں فائر فائٹرز کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کی حکومت کے پاس 2 لاکھ 50 ہزار فائر فائٹرز ہیں اور ان میں سے 79 فیصد رضاکار ہیں جب کہ اس وقت جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے 10 ہزار کے قریب فائر فائٹرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    یورپ میں شدید گرمی: جرمنی ،فرانس اور برطانیہ میں الرٹس جاری


    جنگلات میں آتشزدگی کے باعث قریبی آبادیوں کے 10 ہزار رہائشی اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے جب کہ جنگلات سے گزرنے والی ہائی وے کو بھی بند کردیا گیا ہے آگ سے اب تک 16گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    30 سالہ نوجوان نے ٹیلی فون پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ گاؤں میں ہر کوئی یہ دیکھنے کے لیے اپنی چھتوں پر چڑھ گیا کہ کیا ہو رہا ہے – 10 منٹ کے اندر اندر دھوئیں کا ایک چھوٹا سا موڑ بہت زیادہ ہو گیا۔

    امسال ریکارڈ کیا گیا جولائی اب تک کا گرم ترین مہینہ تھا،اقوام متحدہ

    مقامی گروندے اتھارٹی نے آگ کو "بڑھتی ہوئی” قرار دیا۔ فائر فائٹرزکا کہنا ہے کہ مزید انخلاء کا امکان ہےگیرونڈے میں جولائی میں جنگل میں بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی تھی جس نے 20,000 ہیکٹر (49,421 ایکڑ) سے زیادہ جنگل کو تباہ کر دیا تھا اور تقریباً 40,000 لوگوں کو عارضی طور پر اپنے گھروں سے بے گھر کر دیا تھا۔

    حکام کا خیال ہے کہ تازہ ترین آگ اس علاقے کی پیٹی مٹی میں اب بھی سلگتی ہوئی پچھلی آگ کا نتیجہ ہے لوزیر اور ایویرون کے جنوبی محکموں میں بھی آگ بھڑک رہی تھی۔ مغربی فرانس میں Maine-et-Loire کے محکمے میں، ایک اور آگ سے 1,200 ہیکٹر (2,965 ایکڑ) سے زیادہ رقبہ جھلس گیا ہے۔

    اٹلی : خشک ہونے والے دریا سے دوسری جنگ عظیم کا بم برآمد