Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • یحییٰ السنوار حماس کے نئے سربراہ مقرر

    یحییٰ السنوار حماس کے نئے سربراہ مقرر

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد حماس نے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا ہے

    حماس کی جانب سے نئے سربراہ کے حوالہ سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یحییٰ السنوار حماس کے سیاسی دفتر کے نئے سربراہ ہوں‌گے،ہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد اب یحییٰ السنوار حماس کے سیاسی دفتر کی سربراہی کریں گے،یحییٰ السنوار اس سے قبل غزہ میں حماس کی سربراہی کررہے تھے۔

    یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے، ایران اور اس کے حامیوں نے ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے، جس کا الزام وہ اسرائیل پر لگاتے ہیں۔ اسرائیل نے کوئی جواب نہیں دیا۔یحییٰ سنوار اس وقت اسرائیل کو مطلوب ترین فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ اسرائیل کی سکیورٹی فورسز کا خیال ہے کہ اس نے 7 اکتوبر کے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔یحییٰ سنوار کو اکتوبر کے حملوں کے بعد سے عوام میں نہیں دیکھا گیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ غزہ میں "10 منزلہ زیر زمین” چھپا ہوا ہے،

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ 31 جولائی کو تہران میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے تھے،اسماعیل ہنیہ نومنتخب ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری کے لیے تہران میں موجود تھے جب ان پر رات کو حملہ کیا گیا، اس حملے میں اسماعیل ہنیہ اور انکا محافظ شہید ہو گیا تھا، اسماعیل ہنیہ کی تہران میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد دوحہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور دوحہ میں ہی تدفین کی گئی

    نئے حماس سربراہ یحییٰ السنوار کون ہیں؟
    یحییٰ السنوار 19 اکتوبر 1962 کو خان یونس کے ایک کیمپ میں پیدا ہوے، انہوں نے ابتدائی تعلیم خان یونس کے ہی اسکول میں حاصل کی، اس کے بعد غزہ کی اسلامک یونیورسٹی سے عربی میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی، یحییٰ السنوارنے 5 برس تک یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ کونسل میں خدمات انجام دیں اور پھر کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین بھی رہے،یحیٰ النسوار طویل عرصہ تک تقریبا 22 برس گرفتار بھی رہے،اسرائیل نے سنوار کو 1988 میں اس نیٹ ورک کے پاس ہتھیار رکھنے کا انکشاف کرنے کے بعد کئی ہفتوں کے لیے جیل بھیج دیا تھا،اگلے سال، اسے اسرائیل کے ساتھ کام کرنے کے الزام میں فلسطینیوں کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا اور اسے چار عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ 2011 میں شالت ،اسرائیلی فوجی کے رہائی، ڈیل کے بدلے اسرائیل کی جیل سے انہی رہائی ملی تو اسکے بعد غزہ کی ایک مسجد میں انکا نکاح ہوا، اسکے بعد یحییٰ السنوار کا شما رحماس کے سرکردہ رہنماؤں میں ہونے لگا،یحیٰ السنوار کو حماس کے سیاسی ونگ اور عزالدین القسام بریگیڈ کی لیڈرشپ کے درمیان روابط قائم رکھنے کا ٹاسک دیا گیا اور پھر 2014 میں اسرائیلی جارحیت کے اختتام پر انہوں نے حماس کے فیلڈ کمانڈرز کی کاکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے تحقیقات کروائیں جس کے نتیجے میں حماس کے کئی بڑے رہنماؤں کو عہدوں سے بھی ہٹایا گیا،ستمبر 2015 میں امریکا نے القسام بریگیڈ کے کمانڈر انچیف محمد الضیف اور سیاسی ونگ کے رہنما راہی مشتہا سمیت یحیٰ السنوارکا نام بھی بین الاقوامی دہشتگردوں کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا تھا.

    13 فروری 2017 کو یحیٰ النسوار اسماعیل ہنیہ کی جگہ غزہ پٹی میں حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے خلیل الحیا کو اپنا نائب مقرر کیا تھا،بعد ازاں یحیٰ النسوار کو پارٹی انتخابات کے ذریعے غزہ پٹی میں حماس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا اور اسماعیل ہنیہ کو خالد مشعال کا جانشین بنا دیا گیا تھا،

    مئی 2018 میں یحیٰ النسوار نے الجزیرہ پر آکر غیر متوقع اعلان کر دیا کہ حماس پرامن عوامی مزاحمت کی پالیسی اپنائے گی جس کا مقصد ممکنہ طور پر حماس پر بہت سے مملک کی جانب سے لگا دہشتگرد تنظیم کا ٹیگ اتارنا اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کیلئے کردار ادا کرنا تھا، اس اعلان سے ایک ہفتہ قبل یحیٰ النسوار نے غزہ کے شہریوں سے کہا تھا کہ اسرائیلی زنجیریں توڑ دیں، ہم دب کر مرنے سے شہید ہونے کو ترجیح دیں گے، ہم مرنے کے لیے تیار ہیں اور ہزاروں لوگ ہمارے ساتھ مریں گے،مارچ 2021 میں یحیٰ النسوار دوسری مدت کے لیے غزہ میں حماس کے سربراہ منتخب ہوئے اور انہیں غزہ کا ڈی فیکٹو حکمران تصور کیا جانے لگا اور انہیں حماس میں اسماعیل ہنیہ کے بعد دوسرا طاقتور ترین شخص تصور کیا جاتا تھا،

    مئی 2021 میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے خان یونس میں یحیٰ السنوارکے گھر پر بمباری کی گئی تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور پھر حملے کے اگلے ہفتے یحیٰ النسوارکئی بار عوام میں دیکھے گئے اور پھر 27 مئی 2021 کو انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینتز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے قدموں پر چل کر اپنے گھر جاؤں گا، تمھارے پاس مجھے قتل کرنے کے لیے 60 منٹ ہیں اور پھر وہ اگلے گھنٹے غزہ کی گلیوں میں گھومتے رہے اور سلیفیاں لیتے رہے،

    غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کو 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حملے اور قتل عام کے پیچھے ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے، جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا،حماس کے اس حملے کے بعد غزہ میں جاری جنگ شروع ہوئی،فلسطین میں ہزاروں شہادتوں کے باوجود حماس اسرائیل کی تباہی کے لیے پرعزم ہے۔حملے کی منصوبہ بندی کے بعد سے یحییٰ سنوار غزہ میں روپوش ہے۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز نے فروری میں فوٹیج جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر سنوار کو 10 اکتوبر کو غزہ کی ایک سرنگ میں اس کے اہل خانہ کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ یکم اگست کو، آئی ڈی ایف نے حماس کے عسکری ونگ کے کمانڈر محمد الضیف کی گزشتہ ماہ جنوبی غزہ میں ایک فضائی حملے میں شہادت کی تصدیق کی تھی تا ہم حماس نے اس کی تردید کی ہے،غزہ میں جاری حالیہ جنگ کے ابتدائی تین ہفتوں کے بعد یحیٰ السنوارنے اسرائیل کو پیشکش کی تھی کہ یرغمال بنائے گئے تمام اسرائیلیوں کے بدلے قید بنائے گئے تمام فلسطینیوں کو رہا کر دیا جائےلیکن اسرائیلی وزیراعظم نے حماس کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے زمینی کارروائی کا فیصلہ کیا جس کا نقصان انہیں مزید اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت اور فوجی گاڑیوں کی تباہی کی صورت میں برداشت کرنا پڑا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • چین نے فلسطین کے ناراض دھڑوں میں مصالحت کروا دی

    چین نے فلسطین کے ناراض دھڑوں میں مصالحت کروا دی

    چین نے فلسطین کے ناراض دھڑوں میں مصالحت کروا دی

    مختلف فلسطینی دھڑوں نے چین میں بیجنگ اعلامیے پر دستخط کر کے اختلافات ختم کرنے اور فلسطینی اتحاد کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ، چین کے سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی کے مطابق فلسطینی دھڑوں کے درمیان بیجنگ میں 21 سے 23 جولائی تک جاری رہنے والے مصالحتی مذاکرات کی اختتامی تقریب کے دوران اعلامیے پردستخط کیے گئے، الفتح اور حماس کے رہنماؤں سمیت مجموعی طور پر 14 فلسطینی دھڑوں نے میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کی اور اس موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ یی بھی موجود تھے،چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے 14 فلسطینی دھڑوں کی طرف سے جنگ کے بعد غزہ پر حکومت کرنے کے لیے عبوری قومی مفاہمتی حکومت کے قیام کے معاہدے کو سراہا ہے۔

    حماس اور الفتح سمیت فلسطینی دھڑوں نے مصالحت کی نئی کوشش کے لیے رواں ہفتے بیجنگ میں ملاقات کی۔ چین کے اعلیٰ سفارت کار نے بتایا کہ فریقین نے مفاہمت کا عہد کیا ہے، بیجنگ اعلامیے پر دستخط کرنے کے بعد وانگ یی نے کہا کہ سب سے نمایاں بات جنگ کے بعد غزہ کی گورننس کے لیے ایک عبوری قومی مفاہمتی حکومت کی تشکیل کا معاہدہ ہے،مفاہمت فلسطینی دھڑوں کا اندرونی معاملہ ہے لیکن یہ بین الاقوامی برادری کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں، چین مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے

    2006 کے انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد عسکریت پسندوں نے الفتح گروپ کو غزہ کی پٹی سے بے دخل کر دیا تھا جس کے بعد سے حماس اور الفتح بدترین حریف ہیں،2007 میں کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے اسلامی تحریک حماس نے غزہ پر حکومت کی ہے،سیکولر تحریک فتح فلسطینی اتھارٹی کو کنٹرول کرتی ہے جس کا اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں جزوی انتظامی کنٹرول ہے

  • قطر میں کانفرنس،32 سے زائد ممالک کے مندوبین کی شرکت،علامہ راشد محمود سومرو شریک

    قطر میں کانفرنس،32 سے زائد ممالک کے مندوبین کی شرکت،علامہ راشد محمود سومرو شریک

    ھیئۃ العلماء فلسطین کی جانب سے قطر میں مندوبین کی بڑی بیٹھک ہوئی

    دنیا بھر کے 32 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے نامور علماءکرام مفتیان عظام اور مشائخ نے شرکت کی،قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان کے نمائندے کی حیثیت سے علامہ راشد محمود سومرو کی کانفرنس میں شرکت کی، جن مسلم رہنماؤں نے فلسطین کے مظلوموں کی آواز بننے کے ساتھ ساتھ انکو میدان میں نہتا نہیں چھوڑا۔ اہل فلسطین کی نمائندگی کرنے والے رہنماؤں کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے پاکستان سے صرف جمعیت علماء اسلام کے قائد حضرت مولانا فضل الرحمن کو خصوصی دعوت دی گئی ۔قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن مظفرگڑھ میں عوامی اسمبلی میں شرکت کی وجہ سے اس بیٹھ میں شرکت سے قاصر رہے ۔

    علامہ راشد محمود سومرو نے اسماعیل ھنیہ اور خالد مشعل سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقات کرکے مولانا فضل الرحمن کا خصوصی پیغام پہنچایا ،قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی جانب سے علامہ راشدمحمود سومرو نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم فلسطین کے علماء کرام کے شکر گزار ہیں ،ہم کانفرنس میں شرکت کی دعوت پر ممنون ہیں جمعیت علماء اسلام روز اول سے اھل فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے۔جمعیت علماء اسلام نے پاکستان مین اب تک طوفان اقصی کے نام سے نو ملین مارچ کئے ہیں ، رمضان المبارک میں مکہ عالمی کانفرنس میں اھل فلسطین کے لئے سب سے پہلی اور توانا آواز حضرت مولانا فضل الرحمن نے بلند کی تھی ۔ جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن پاکستان کے پارلیمنٹ میں بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے حکومت و افواج پاکستان کو بھی اس بات پر قائل کرنے کی بارہا کوشش کی ہیکہ فلسطین پر جاری بربریت اور جارحیت کے خلاف حکومت و افواج پاکستان کو کسی صورت خاموش نہیں رہنا چاہئے ۔مولانا فضل الرحمن کی اپیل پر کارکنان جمعیت نے اھل غزہ کی جو مالی مدد کی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اسکو مزید بڑھانے کے لئے کوشش کریں گے ۔ مولانا فضل الرحمن اور جمعیت علماء اسلام کی جانب سے اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے کی سزا امریکی ایما پر انتخابات میں ہمارے امیدواران کو ہروا کر دیا گیا،جمعیت علماء اسلام پاکستان نہ صرف اھل فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے بلکہ ھر حال میں مالی اخلاقی اور سیاسی تعاون جاری رکھے گی ، فلسطین میں انشاءاللہ فتح حق کی ہی ہوگی اور باطل کا منہ کالا ہوگا ۔

    اس موقع پر اسماعیل ھانیہ اور خالد مشعل سمیت فلسطین کی مکمل لیڈر شپ نے مولانا فضل الرحمن کی صحت یابی کے لئے دعاکی اور انکے بھرپور تعاون پر انکا شکریہ ادا کیا

    سائفر سیکیورٹی کا مقصد یہی ہے کہ سائفر کو کسی غیر متعلقہ شخص کے پاس جانے سے روکا جائے،

    سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

    ثابت کریں کہ جو پبلک ریلی میں لہرایا گیا وہ سائفر تھا ،عدالت کا پراسیکیوٹر سے مکالمہ

    سائفر کیس، عمران خان، قریشی کو سزا سنانے والے جج بارے اہم فیصلہ

    سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،وکیل عمران خان

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

  • کار حملے سمیت حماس کے ساتھ جھڑپ میں 3  صہیونی فوجی ہلاک

    کار حملے سمیت حماس کے ساتھ جھڑپ میں 3 صہیونی فوجی ہلاک

    فلسطین: مقبوضہ فلسطین کے علاقے مغربی کنارے میں کار حملے میں 2 جب کہ غزہ میں حماس کے ساتھ جھڑپ میں 1 صہیونی فوجی ہلاک ہو گئے

    باغی ٹی وی : ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بدھ کی رات نابلس شہر کے نزدیک ایک شخص نے اسرائیلی فوجیوں پر تیز رفتار کار چڑھادی جس کے نتیجے میں دو فوجی شدید زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

    ہلاک فوجیوں کی شناخت اسٹاف سارجنٹ ایلیا ہلیل اور اسٹاف سارجنٹ ڈیاگو شویشا ہرساج کے نام سے ہوئی۔ دونوں کا تعلق کفیر بریگیڈ سے تھا، مشتبہ حملہ آور واقعے کے بعد نابلس شہر فرار ہوگیا جہاں اس نے خود کو فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا۔

    میکسیکو سٹی میں اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے رفح آپریشن کیخلاف احتجاج، بوتل بموں …

    دوسری جانب شمالی غزہ کی پٹی میں حماس کے حملے میں ایک اسرائیلی فوجی مارا گیا جس کی شناخت اسٹاف سارجنٹ یدیدیا ازوگی کے نام سے ہوئی جس کا تعلق پیراٹروپر بریگیڈ سے تھا،ازوگی کی ہلاکت کے بعد حماس کے خلاف زمینی کارروائی میں ہلاک اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 292 ہو گئی۔

    غزہ میں اسرائیلی حملے،برازیل نے احتجاجاً اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیا

    دوسری جانب اسرائیلی کابینہ کے رکن اور سابق فوجی سربراہ گاڈی ایسنکوٹ نے نیتن یاہو حکومت کو بری طرح ناکام قرار دے کر نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے۔

    ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کی جنگی کابینہ کے رکن گاڈی ایسنکوٹ نے سال کے اختتام تک نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو سکیورٹی اور معیشت کے معاملات میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں، غزہ جنگ کو شروع ہوئے 8 ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ جنگ کی پیچید گیوں سے متعلق بتانے کے بجائے لوگوں کو حماس کے خلاف ’مکمل فتح‘ جیسے نعروں سے گمراہ کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی کابینہ کے رکن نے نیتن یاہو حکومت کو بری طرح ناکام قرار دیا

    انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو ایرانی نیوکلیئر پروگرام روکنے، معیشت کے استحکام کیلئے سعودی عرب سے سفارتی تعلقات کے قیام جیسے 2022 کی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں بھی بری طرح ناکام ہو گئے ہیں-

  • اسپین نے باضابطہ طور پر فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کر لیا

    اسپین نے باضابطہ طور پر فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کر لیا

    اسپین نے باضابطہ طور پر فلسطین کو آزاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرلیا،جس کے بعد فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 146 ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ”اے ایف پی“ کے مطابق ہسپانوی وزیراعظم نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنےکا باضابطہ اعلان کیا، انہوں نے کہا کہ امن فلسطین کا بنیادی حق ہے،فلسطین کوتسلیم کرناتاریخ سازلمحہ ہے-

    واضح رہے کہ آئر لینڈ اور ناروے کی جانب سے بھی آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کا اعلان متوقع ہے، اسپین، آئرلینڈ اور ناروے کا ماننا ہے کہ ان کے اقدام سے ایک مضبوط علامتی اثر پیدا ہوگا جو دیگر ممالک کے لیے حوصلے کا باعث بنے گاناروے نے فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفیٰ کو مطلع کیا تھا کہ منگل کے روز فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔

    دہلی سے وارنسی جانے والی ’انڈیگو‘ کی فلائٹ میں ’بم کی افواہ‘

    اگرچہ سلووینیا نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے لیکن اس معاملے نے 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے اندر شدید اختلاف بھی ہے،اسرائیل فلسطین امن کوششوں کے لیے ناروے اور اسپین کا کردار تاریخی اہمیت کا حامل ہے، دونوں فریقین نے اسپین کے شہر میڈرڈ میں 1991 میں ملاقات کی تھی جس کےنتیجے میں اوسلو معاہدہ کی بنیاد پڑی تھی۔

    ایٹمی پروگرام پاکستان کے مضبوط دفاع کی علامت ہے، وزیراعلیٰ پنجاب

  • اسرائیل کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ،خواتین ،بچوں سمیت 75 شہید

    اسرائیل کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ،خواتین ،بچوں سمیت 75 شہید

    اسرائیل باز نہ آیا، اسرائیل نے غزہ میں بمباری کی، اسرائیلی حملہ رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ پر کیا گیا، حملے میں 75 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، شہدا میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں

    اسرائیل نے آج پیر کی صبح رفح پر حملہ کیا، اسرائیل کی جانب سے بمباری کے بعد رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ میں آ گ لگ گئی، حملے میں 75 شہادتیں ہوئی ہیں، زیادہ شہادتیں جھلس جانے کی وجہ سے ہوئی ہیں، متعدد افراد زخمی ہیں، شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، رفح میں پناہ گزین کیمپ میں شمالی غزہ سے بے دخل فلسطینیوں کی بڑی تعداد میں مقیم ہے

    میڈیا پورٹس کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں اقوام متحدہ کے کیمپوں پر دسویں بار حملہ کیا ہے نو حملے پہلے ہو چکے ہیں،اسرائیل نے 24 گھنٹوں میں 230 سے زائد فلسطینیوں کا قتل عام کیا اس سے قبل اسرائیل نے جبالیہ، نصیرت اور غزہ سٹی میں کیمپوں پر حملوں میں 160 فلسطینیوں کا قتل کیا

    اسرائیل نے رفح پر حملے کے بعد دعویٰ کیا کہ اسرائیلی طیاروں نے رات رفح میں حماس کے ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، حملےکے مقام پر حماس کے اہم ارکان ٹھہرے ہوئے تھے ،غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 36 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ رفح میں بے گھر افراد کے لیے ایک کیمپ قائم کیا گیا جہاں اسرائیل نے حملہ کیا۔ شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ النجلہ میں ایک گھر پر اسرائیلی فوج کے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    قبل ازیں گزشتہ روز حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، حماس نے تل ابیب پر میزائل حملہ کیا تھا، حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر دعویٰ کیا کہ یہ راکٹ صیہونی شہریوں کے قتل عام کے جواب میں داغے گئے ہیں، راکٹ غزہ کی پٹی سے فائر کیے گئے۔ تاہم ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی کوئی خبر نہیں ملی

    حماس مجاہدین نےمتعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا

    اسرائیل کا عالمی عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو جرمنی میں داخل ہوئے تو گرفتار کرلیا جائے گا،جرمن چانسلر

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

  • فلسطین  سے اظہاریکجہتی : ہارورڈ  کے طلبہ کا گریجویشن کی تقریب سے واک آؤٹ

    فلسطین سے اظہاریکجہتی : ہارورڈ کے طلبہ کا گریجویشن کی تقریب سے واک آؤٹ

    فلسطین سے اظہاریکجہتی کےلیے ہارورڈ کے طلبہ نےگریجویشن کی تقریب سے واک آؤٹ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یونیورسٹی میں فلسطینیوں سے اظہار کیجہتی کیلئے احتجاجی کیمپ لگانے پر انتظامیہ نے 13 طلبہ کو گریجویشن کی تقریب میں شرکت سے روکا جس پر ہارورڈ یونیورسٹی کے سینکڑوں گریجویٹ طلبہ نے تقریب سے واک آؤٹ کر دیا۔

    Ivy League اسکول کے طلبہ گریجویشن تقریب کے دوران کھڑے ہوئے اور فلسطین کو آزاد کرو کے نعرے بھی لگائے،ادھر جرمنی میں پولیس تشدد، گرفتاریوں کے باوجود طلبہ کا فلسطین کے حق میں احتجاج نہ تھما اور بڑی تعداد میں طالب علموں نے سڑکوں پر نکل کر فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    واضح رہے کہ امریکی نائب صدر کاملہ ہیرس کے فلاڈیلفیا میں ٹریڈ یونین کے کنونشن سے خطاب کے دوران فلسطین کی حمایت میں احتجاج کیا گیا۔

    وفاق میں گریڈ ایک سے 16 کی 70 ہزار اسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ

    احتجاج کرنے والے یونین اراکین نے فلسطینی پرچم تھام کر ’ہیرس ہیرس، تم چھپ نہیں سکتیں، ہم تمہیں نسل کشی کا ذمہ قرار دیتے ہیں‘ کے نعرے لگاتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ یونین اراکین نے فلسطین کی آزادی کے حق میں بھی نعرے لگائے کاملہ ہیرس نے اس دوران اپنا خطاب جاری رکھا تاہم سکیورٹی نے مظاہرین کو روکے رکھا اور اسٹیج کے قریب جانے نہ دیا۔

    واضح رہے کہ یونین اراکین نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو مکمل مسترد کرتے ہوئے امریکا اور کینیڈا میں 1.9 ملین ورکرز اراکین پر مشتمل یونین پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار اور موجودہ امریکی صدر کی حمایت سے انکار کر دے،امریکی نائب صدر کاملہ ہیرس کے فلاڈیلفیا میں ٹریڈ یونین کے کنونشن سے خطاب کے دوران فلسطین کی حمایت میں احتجاج کیا گیا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج کو واٹس ایپ پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے …

    احتجاج کرنے والے یونین اراکین نے فلسطینی پرچم تھام کر ’ہیرس ہیرس، تم چھپ نہیں سکتیں، ہم تمہیں نسل کشی کا ذمہ قرار دیتے ہیں‘ کے نعرے لگاتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا یونین اراکین نے فلسطین کی آزادی کے حق میں بھی نعرے لگائےکاملہ ہیرس نے اس دوران اپنا خطاب جاری رکھا تاہم سکیورٹی نے مظاہرین کو روکے رکھا اور اسٹیج کے قریب جانے نہ دیا۔

    یاد رہے کہ یونین اراکین نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو مکمل مسترد کرتے ہوئے امریکا اور کینیڈا میں 1.9 ملین ورکرز اراکین پر مشتمل یونین پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار اور موجودہ امریکی صدر کی حمایت سے انکار کر دے۔

    آنے والے دنوں میں مہنگائی کم اور روٹی مزید سستی ہوگی

  • برطانوی حزب اختلاف رہنما کا  فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ

    برطانوی حزب اختلاف رہنما کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ

    لندن: برطانیہ کے حزب اختلاف کے رہنما کیئر سٹارمر نے آئندہ عام انتخابات میں فتح کے بعد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے-

    باغی ٹی وی :"روئٹرز” کے مطابق برطانیہ کے حزب اختلاف کے رہنما کیئر سٹارمر نے جمعہ کو کہا کہ اگر وہ آئندہ عام انتخابات میں اقتدار حاصل کرتے ہیں تو وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ امن کے عمل میں ایسا اقدام صحیح وقت پر ہونا چاہیے۔

    آئرلینڈ، اسپین اور ناروے نے اس ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ 28 مئی کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے، جس پر اسرائیل کی طرف سے غصے کا ردعمل سامنے آیا جس نے کہا کہ یہ "دہشت گردی کا انعام” ہے اور تینوں دارالحکومتوں سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔

    دنیا بھر میں 3کروڑ 70 لاکھ بچے تمباکو کی لت میں مبتلا

    لیبر پارٹی 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے غزہ میں جنگ سے متعلق اپنی پالیسی پر اندرونی لڑائی میں گھری ہوئی ہے،سٹارمر کو کچھ روایتی لیبر ووٹروں کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی حمایت کی طرف پارٹی کی پوزیشن کو بتدریج تبدیل کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    سٹارمر نے بی بی سی کو بتایا کہ "ہاں، میں تسلیم کرتا ہوں، اور میں سمجھتا ہوں کہ فلسطین کو تسلیم کرنا انتہائی ضروری ہے ہمیں ایک محفوظ اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کی ضرورت ہے، اور اس کو تسلیم کرنا ایک حصہ ہونا چاہیے۔

    شاہین آفریدی کا نائب کپتان بننے سے انکار

    سٹارمر نے کہا کہ امن کے عمل میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے مناسب وقت پر آنے کی ضرورت ہوگی، لیکن "میں اس پر مکمل یقین رکھتا ہوں”، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے دو ریاستی حل ضروری ہے۔

    دو ریاستی حل طویل عرصے سے برطانوی خارجہ پالیسی اور تنازع کو حل کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کا فریم ورک رہا ہے لیکن امن عمل برسوں سے مفلوج ہے، موجودہ قدامت پسند حکومت اور دیگر بڑی یورپی ریاستوں جیسے فرانس اور جرمنی نے بھی فلسطینی ریاست کے لیے اصولی طور پر حمایت کا اظہار کیا ہے، لیکن تسلیم کرنے کے وقت کے ساتھ ایک وسیع تر امن عمل کا حصہ ہے۔

    دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی سے اجازت خلاف اسلام،درخواست دائر

    اس ہفتے، لیبر نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی آزادی کی حمایت کی جب اس نے جنگی جرائم کے لیے حماس اور اسرائیلی حکام دونوں کے لیے گرفتاری کے وارنٹ طلب کیے، جس سے حکمران کنزرویٹو پارٹی کے ساتھ اختلافات کھل گئے،کنزرویٹو حکومت نے کہا کہ آئی سی سی کے پاس گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست کرنے کا دائرہ اختیار نہیں ہے اور اس سے اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ سے باہر نکالنے، انسانی امداد پہنچانے یا پائیدار جنگ بندی کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔

  • آئرلینڈ، ناروے اور سپین نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کر لیا

    آئرلینڈ، ناروے اور سپین نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کر لیا

    آئرلینڈ، ناروے اور اسپین نے باضابطہ طور پر فلسطین کو ایک علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے، جس کے بعد اسرائیل کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے، اسرائیل نے دو یورپی ریاستوں سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔

    بدھ کو خطاب کرتے ہوئے آئرلینڈ کے وزیر اعظم سائمن ہیرس نے کہا: "آج آئرلینڈ، ناروے اور اسپین اعلان کر رہے ہیں کہ ہم فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں، ہم میں سے ہر ایک اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قومی اقدامات کرے گا،”مجھے یقین ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مزید ممالک اس اہم قدم کو اٹھانے میں ہمارا ساتھ دیں گے۔”

    سکائی نیوز کے مطابق آئرش حکومت کا استدلال ہے کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنا دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے، جو اس کے بقول خطے میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے، آئرلینڈ کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "یہ دو ریاستی حل کے لیے غیر واضح حمایت کا بیان ہے، جو اسرائیل، فلسطین اور ان کے لوگوں کے لیے امن اور سلامتی کا واحد معتبر راستہ ہے۔”

    ڈبلن میں ہیرس کے بیان کے فوراً بعد اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز اور ناروے کے وزیر خارجہ ایسپین بارتھ ایدے نے کہا کہ دونوں ملک 28 مئی سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے،اسپین کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ” اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے پاس فلسطین کے لیے امن کا کوئی منصوبہ نہیں ہے”۔ناروے کے وزیر اعظم جوناس گہر اسٹور کا کہنا ہے کہ اگر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم نہ کیا جائے تو مشرق وسطی میں امن نہیں ہو سکتا۔”فلسطین کو ایک آزاد ریاست کا بنیادی حق حاصل ہے۔”

    ناروے،سپین اور آئرلینڈ کے اس اعلان کے بعد اسرائیل کے وزیر خارجہ نے آئرلینڈ اور ناروے سے اسرائیل کے سفیروں کو فوری طور پر اسرائیل واپس بلا لیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ غزہ میں قید اسرائیل کے یرغمالیوں کی واپسی کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے . "اسرائیل اپنی خودمختاری کو نقصان پہنچانے اور اس کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کے سامنے خاموش نہیں رہے گا۔”

    فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا خیرمقدم کیا اور دیگر ممالک سے بھی اس کی پیروی کرنے کا مطالبہ کیا۔فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے "فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت” کو تقویت ملے گی اور اسرائیل کے ساتھ دو ریاستی حل لانے کی کوششوں کی حمایت کی جائے گی۔

  • برطانوی میڈیا  کی اسرائیل کے اسپتالوں میں غزہ کے قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کی تصدیق

    برطانوی میڈیا کی اسرائیل کے اسپتالوں میں غزہ کے قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کی تصدیق

    مقبوضہ بیت القدس:برطانوی میڈیا نے اسرائیلی اسپتالوں میں فلسطینیوں سے انسانیت سوز سلوک کی تصدیق کی ہے-

    باغی ٹی وی : بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں طبی کارکنوں نے بتایا کہ غزہ سے گرفتار کیے جانےوالےفلسطینیوں کو اسپتال کے بسترو ں پر بیڑیوں میں جکڑا جاتا ہے، آنکھوں پر پٹیاں باندھی جاتی ہیں، برہنہ کیا جاتا ہے اور ڈائپر پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے،اسپتالوں میں دردکش ادویات کے بغیر فلسطینی مریضوں کے آپریشن کیے جاتے ہیں، جس سے قیدی “ناقابل برداشت تکلیف و اذیت سے گزرتے ہیں، سرکاری ہسپتال فلسطینی قیدیوں کو داخل کرنےاور ان کا علاج کرنے سے انکار کررہے ہیں جس کی وجہ سے انتہائی نازک حالت والے مریضوں کو بھی عارضی فوجی مراکز میں رکھا جارہا ہے جہاں وہ مناسب علاج سے محروم ہیں۔

    آئرلینڈ رواں ماہ کے آخر تک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر سکتا ہے،آئرش وزیراعظم

    اسرائیلی فوج کی جانب سے پوچھ گچھ کے لیے غزہ سے لے جانے والے اور بعد میں رہا ہونے والے ایک قیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے پوچھ گچھ کے لیے انہیں غزہ سے گرفتار کیا خان یونس سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ ٹیکسی ڈرائیور سفیان ابو صلاح کو ایک فوجی اڈے پر لے جایا گیا اس دوران فوجیوں نے ان پر بہیمانہ تشدد کیا، ان کے پاؤں پر ایک معمولی زخم ہوگیا جس کا فوجیوں نے علاج کرانے سے انکار کردیا، اس زخم میں پھر انفیکشن ہوگیا،میری ٹانگ میں انفیکشن ہو گیا اور وہ نیلی ہو گئی اور کسی فوم کی طرح نرم ہو گئی ایک ہفتے بعد گارڈز مجھے اسپتال لے گئے اور راستے میں میری زخمی ٹانگ پر بھی مارا گیا، جہاں ڈاکٹر نے میری ٹانگ کاٹ کر مجھے واپس فوجی اڈے پر بھیج دیا جہاں سے بعد میں غزہ میں واپس رہا کر دیا گیا۔

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    اسرائیل فوجی اسپتال میں کام کرنے والے سینئر ڈاکٹر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تشدد کا اقرار کرتے ہوئے قیدیوں کو بیڑیوں میں جکڑنے اور دیگر پابندیوں کو “غیر انسانی” قرار دیااسرائیل میں ’فزیشنز فار ہیومن رائٹس‘ کی فروری میں شائع رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی شہری اور فوجی جیلیں انتقام لینے کا ایک ذریعہ بن چکی ہیں جہاں قیدیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، خاص طور پر ان کی صحت تباہ و برباد کی جارہی ہے۔

    چین: پرائمری سکول میں بچوں اور اساتذہ پر خاتون کا چاقو سے حملہ،2 افراد …

    بیمار اور زخمی قیدیوں کے علاج کے حوالے سے خدشات جنوبی اسرائیل میں Sde Teiman فوجی اڈے پر واقع ملٹری فیلڈ ہسپتال پر مرکوز ہیں یہ فیلڈ ہسپتال اسرائیل کی وزارت صحت کی طرف سے حماس کے حملوں کے بعد خاص طور پر غزہ کے قیدیوں کے علاج کے لیے قائم کیا گیا تھا، جب کچھ سرکاری ہسپتالوں اور عملے نے حماس کے حملوں کے دن گرفتار کیے گئے جنگجوؤں کے علاج سے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تھا۔

    اس کے بعد سے، اسرائیلی فورسز نے غزہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو پکڑ کر تفتیش کے لیے Sde Teiman جیسے اڈوں پر لے جایا ہے۔ حماس کے لیے لڑنے والے مشتبہ افراد کو اسرائیلی حراستی مراکز میں بھیجا جاتا ہے۔ بہت سے دوسروں کو بغیر کسی چارج کے غزہ واپس چھوڑ دیا گیا ہے،فوج اپنے زیر حراست افراد کی تفصیلات شائع نہیں کرتی ہے۔