Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • غزہ لہو لہو..انسانیت کی خاطر سوچیں. تجزیہ،شہزاد قریشی

    غزہ لہو لہو..انسانیت کی خاطر سوچیں. تجزیہ،شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ ،او آئی سی ، عرب لیگ دوسرے بین الاقوامی ادارے ، جمہوریت اور انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکیدارو ،سعودی عرب، قطر ، ایران ، مصر اورترکی ، مسلمان ملکوں میں بے گناہ انسانوں کو ذبح کرنے والو۔ امت مسلمہ کا درس دینے والو۔ آج اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 30دن ہو گئے ۔ نسل آدم کی لاشیں گر رہی ہیں آپ کا کردار کیا ہے ؟

    جمہوریت کی دوکانیں چلانے والو، بالخصوص جنت کے دعویدارو. تمہارے سامنے غزہ لہو لہو ہے ۔ جنت کے دعویدارو کیا تم موت کو بھول بیٹھے ہو مرنے کے بعد زندہ ہونا اور خدا کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ نیتن یاہو غزہ کے ساتھ اسرائیلی قوم کا بھی قاتل ہے اسرائیلی عوام بھی سراپا احتجاج ہے ۔ عرب ریاستوں کا کردار پہاڑ پر چڑھ کر جنگ کا نظارہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ کتنی عجیب بات ہے بھارت صدیوں سے بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث ہے ۔ بھارت میں عیسائی ، مسلمان ، غیر محفوظ ۔ عالمی ادارے تادم تحریر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔

    بوڑھے سیاستدان جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ دیکھ لیں، اہم ریاستوں کی امریکی کمیونٹیز ، بائیڈن کی اسرائیل کی پالیسی کے خلاف ہو رہی ہیں۔ سابق امریکی صدر اوباما نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو آپ کو سچائی کو اپنانا ہوگا۔ موجودہ تباہی کے بعد بائیڈن کے پاس مشرقی وسطی میں امن کی بحالی کے بعد فوری طورپر مردہ حالت میں واپس لانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ امریکہ اور عالمی دنیا کو فوری مداخلت کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے۔ حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف جا رہے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی خطے پر جنگ ہو تو بے گناہ انسانوں کا خون بہتا ہے ۔ عالمی طاقتیں تماشائی نہ بنیں اپنا کردار ادا کریں انسانیت کی خاطر۔

  • اسرائیلی فوج نے حماس کی سرنگوں تک پہنچنے کے لئے کتوں کا سہار ا لے لیا

    اسرائیلی فوج نے حماس کی سرنگوں تک پہنچنے کے لئے کتوں کا سہار ا لے لیا

    غزہ میں حماس کے ٹھکانے سرنگوں میں ہیں، اسرائیلی فوج کے لئے حماس کے ٹھکانوں تک پہنچنا ایک چیلنج ہے، اسرائیلی فوج نے اب ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے، حماس کے ٹھکانوں تک پہنچنے کے لئے کتوں کا سہارا لیا ہے

    اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حماس انسانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے، حماس لیڈر سرنگوں میں ہیں اور خود کو چھپا رکھا ہے، ایسے میں غزہ میں شہری مر رہے ہیں تا کہ حماس پروپیگنڈہ کر سکے کہ اسرائیلی حملوں میں شہری مارے جا رہے، ایسے میں حماس کے ٹھکانوں تک پہنچنے کے لئے اسرائیلی فوج نے کتوں کا استعمال کیا ہے،حماس نے کچھ یرغمالیوں کو بھی ان زیر زمین سرنگوں میں رکھا ہوا ہے

    اسرائیلی فوج کے حماس کی سرنگوں میں جانے والے کتوں کی ویڈیو سامنے آئی ہے،جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کتے سرنگ میں دوڑ رہے ہیں، اسی دوران وہ حماس کے اہلکاروں پر حملہ کرتے ہیں تو چیخ و پکار کی آوازیں بھی آتی ہیںَ،کتوں کے ساتھ اسرائیلی فوج نے کیمرے بھی نصب کر رکھے ہیں تا کہ سرنگوں کے اندرونی نظام کو مانیٹر کیا جا سکے،

    اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان اوفیر گینڈلمین نےبھی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں دکھایا گیا ہے کہ کتے کس طرح حماس کے ٹھکانوں‌تک پہنچے،کچھ لوگوں نے ویڈیو کے بارے میں سوال اٹھایا، لیکن موساد کے اکاؤنٹ نےردعمل دیا۔اور کہا کہ جنگ کے کتے

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    گزشتہ روز اسرائیل نے غزہ میں المغازی کیمپ پر فضائی حملہ کیا جس میں ترک خبر ایجنسی کے فوٹو گرافر محمد علاؤل کے 4 بچے، 4 بھائی اور ان کے بچے شہید ہو گئے، اسرائیلی بمباری میں اب تک 40 صحافیوں سمیت مختلف صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والے 60 کے قریب ملازمین شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں

  • سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی قطر کے دورے پر پہنچے جہاں سراج الحق نے دوحہ میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ سے ملاقات کی اور فلسطین کے ایشو پر اپنی حمایت کا اعادہ کیا.ملاقات میں فلسطین کی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا، اس موقع پر حماس قیادت نے فلسطینیوں کےلیے آواز بلند کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق چار روزہ دورہ پر ایران پہنچ گئے، ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف کے مطابق سراج الحق ایران کے سیاسی ومذہبی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے، سراج الحق ایران کے رہنماؤں سے مسئلہ فلسطین پر تبادلہ خیال کریں گے، امیر جماعت امت کے اتحاد سے متعلق پروگرامز میں شرکت اور خطاب کریں گے،نائب امیر کے پی صابر اعوان، ڈائریکٹر امور خارجہ آصف لقمان قاضی امیر جماعت کے ہمراہ ہیں، سراج الحق کی غیر موجودگی میں لیاقت بلوچ قائم مقام امیر جماعت ہوں گے،

    دوسری جانب امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے جاری سراج الحق کے بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکی صدر بائیڈن پچاسی سال کی عمر میں تل ابیب جا سکتا ہے تو اگر میں وزیراعظم ہوتا تو فلسطینی مسلمانوں کی مدد کے لیے غزہ ہوتا اور مسلمان حکم رانوں کو اکھٹا کر کے فلسطینی مسلمانوں کی پشت پر کھڑا کرتا۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیلی بمباری کو ایک ماہ ہو گیا،دس ہزار کے قریب شہادتیں

    اسرائیلی بمباری کو ایک ماہ ہو گیا،دس ہزار کے قریب شہادتیں

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملےکے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری کو ایک ماہ ہو گیا، اسرائیلی بمباری سے غزہ میں دس ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں.

    عالمی دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، امریکہ جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے لیکن اسرائیلی وزیراعظم جنگ بندی کی طرف نہیں آ رہے، غزہ قبرستان بن چکا ہے، خوراک، پانی سب کچھ ناپید، ہسپتالوں میں بمباری سے ہسپتال بھی ملیا میٹ ہو گئے، تعلیمی اداروں پر بھی بم برسائے گئے،مساجد، چرچ بھی اسرائیلی بمباری سے محفوظ نہ رہے،اسرائیلی حملوں کی وجہ سے غزہ میں تیسری مرتبہ مواصلات اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے 9770 افراد میں سے 4800بچے شامل ہیں جب کہ 26 ہزار فلسطینی زخمی ہیں

    دوسری جانب امریکی سی آئی اے چیف ولیم برنس اسرائیل پہنچ گئے ہیں، وہ اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کریں گے،

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہےکہ فلسطینی سرزمین کو 2 حصوں جنوبی اور شمالی غزہ میں تقسیم کردیا،اس کے علاوہ انہوں نے حماس کے خلاف اہم کامیابیوں کا دعویٰ بھی کیا، اسرائیلی بربریت کے جواب میں حماس کے تل ابیب پر راکٹ حملے کیے جارہے ہیں راکٹوں کو نشانہ بنانے والا آئرن ڈون کا میزائل خرابی کا شکار ہوگیا اور اسرائیل ہی میں گرگیا

    امریکی وزیر خارجہ جنہوں نے اسرائیل کا تیسرا دورہ کرنے کے بعد اردن میں عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اسکے بعد ترکی پہنچ گئے انکا کہنا ہے کہ امریکا ایران سے جنگ نہیں چاہتا اور اپنے فوجیوں پر حملے برداشت نہیں کریں گے،انٹونی بلنکن نے عراق کا بھی دورہ کیا،سائپرس بھی گئے اور اب ترکی میں ہیں،امریکی وزیر خارجہ کی آمد سے قبل ترکی میں انکے خلا ف بھر پور مظاہرے کئے گئے

    گزشتہ روز اسرائیل نے غزہ میں المغازی کیمپ پر فضائی حملہ کیا جس میں ترک خبر ایجنسی کے فوٹو گرافر محمد علاؤل کے 4 بچے، 4 بھائی اور ان کے بچے شہید ہو گئے، اسرائیلی بمباری میں اب تک 40 صحافیوں سمیت مختلف صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والے 60 کے قریب ملازمین شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس سے فلسطینی سیاسی جماعت الفتح کے رہنما رفت اولیان کو براہ راست انٹرویو کے دوران گرفتار کر لیا ، رفت اولیان مقبوضہ بیت المقدس میں اپنے گھر سے لائیو انٹرویو دے رہے تھے، اسرائیلی فوج نے توبس سے ایک خاتون صحافی کو بھی گرفتار کیا ہے،خاتون صحافی سمیہ سات ماہ کی حاملہ ہیں، انکو الفارع کیمپ سے حراست میں لیا گیا،

    اردن کی ملکہ رانیہ العبداللہ نے غزہ کی پٹی میں "تباہ کن انسانی صورت حال” کی مذمت کی اور تمام لوگوں سے فوری طور پر جنگ بندی کرنے کا مطالبہ کیا۔ملکہ رانیہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں،وہ علاقے بھی محفوظ نہیں ہیں جہاں اسرائیلیوں نے لوگوں کو پناہ لینے کے لیے کہا تھا۔ ملکہ رانیا نے نشاندہی کی کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ میں تقریباً 10,000 شہید ہو چکے ہیں،جس میں نصف بچے ہیں،

    زیادہ تر جنوبی سرحدی دیہاتوں میں الفا مواصلاتی نیٹ ورک کی مکمل بندش مسلسل دوسرے دن بھی جاری ہے۔ان علاقوں کے لوگوں نے وزیر مواصلات اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ نیٹ ورک کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کریں،

    غزہ، اردنی فیلڈ ہسپتال کو پیراشوٹ کے ذریعے امداد پہنچائی گئی
    غزہ میں اردن کے فیلڈ ہسپتال میں طبی سامان بھیجنے کے عمل کے لیے پیچیدہ لاجسٹک انتظامات کی ضرورت تھی، اور یہ آسان عمل نہیں ہے، پیر کے روز المبیدین نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اردن کےغزہ میں فیلڈ اسپتال کا مقام مشکل ہے لیکن جو چیز اردن کے لیے اہم ہے وہ غزہ کے لوگوں کے درد کو کم کرنا اور اس کی حمایت کرنا ، اسرائیل ہسپتالوں کے ارد گرد بمباری کر رہا ہے،

    شاہ عبداللہ دوم نے پیر کو کہا کہ مسلح افواج کے فضائیہ کے ارکان غزہ کی پٹی میں اردن کے فیلڈ ہسپتال کو فوری طبی اور دواسازی امداد پہنچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔غزہ میں اردنی فیلڈ ہسپتال کو پیراشوٹ کے ذریعے امداد پہنچانے کا عمل مکمل کیا گیا ،

    حماس کے کمپاؤنڈ‌پر ہم نے قبضہ کر لیا، اسرائیلی فوج کا دعویٰ
    اسرائیلی فوج نے حماس کے ایک کمپاؤنڈ کا کنٹرول سنبھال لیا اور رات بھر کی کارروائی میں 450 سے زیادہ فضائی اہداف کو نشانہ بنایا،اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق نشانہ بنائے گئے کمپاؤنڈ میں مشاہداتی چوکیاں، تربیتی علاقے اور زیر زمین سرنگیں شامل ہیں،حماس کے کارکن بھی حملے کے دوران مارے گئے ہیں.

    اقوام متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔انہوں نے حماس کے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کو "خوفناک” قرار دیا لیکن کہا کہ "غزہ میں اس سے بھی زیادہ شہریوں کی ہولناک ہلاکتیں ہوئی ہیں، اس کے بعدفلسطینیوں کو خوراک، پانی، ادویات، بجلی اور بجلی سے محروم کر دیا گیا ہے،

    ہمارے چالیس شہری مارے گئے اور سات لاپتہ ہیں، فرانس
    فرانسیسی وزیر اعظم نے پیر کو کہا کہ اسرائیل کے خلاف 7 اکتوبر کو حماس کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے چالیس فرانسیسی شہری مارے جا چکے ہیں۔جبکہ آٹھ لاپتہ ہیں انکے بارے میں امکان ہے کہ حماس نے انکو یرغمال بنایا ہوا ہے،پیرس نے پورے تنازع میں اسرائیل کی مضبوطی سے حمایت کی ہے، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے گزشتہ ماہ کے آخر میں اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل کا دورہ کیا تھا،

  • اسرائیل میں ہزاروں افراد کا نیتن یاہو کے خلاف احتجاج

    اسرائیل میں ہزاروں افراد کا نیتن یاہو کے خلاف احتجاج

    اسرائیل میں ہزاروں افراد اپنے ہی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی عوام کی جانب سے7 اکتوبر کے حملے اور یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے حکومتی حکمت عملی پر شدید تنقید کی جارہی ہے، اس کے علاوہ اسرائیل کے جنگی رد عمل پر احتجاج بھی جاری ہے مقبو ضہ بیت المقدس میں نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے باہر عوام کی بڑی تعداد کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا اور وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔

    دوسری جانب اسرائیلی حملوں کے خلاف امریکی شہر نیو یارک میں سینکڑوں افراد نے احتجاج کرکے ’فلسطین کو آزاد کرو‘ کے نعرے لگائے واشنگٹن میں بھی ہزاروں افراد کا فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے احتجاج کیا گیا احتجاج میں مظاہرین نے فلسطین کو آزاد کرو اور اسرائیل دہشتگرد ریاست کے نعرے لگائے اور احتجاج کی وجہ سے وائٹ ہاؤس کے گرد سکیورٹی بھی سخت کردی گئی۔

    اسرائیلی فوج کا رات کی تاریکی میں غزہ پر حملہ،51 فلسطینی شہید سینکڑوں زخمی

    ادھربرطانیہ میں بھی سینکڑوں افراد نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے لندن کے پکاڈلی سرکس پر دھرنا دیا اور غزہ میں فوری جنگ بندی کامطالبہ کیا،دھرنا دینے پر لندن پولیس کی جانب سے 29 مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیااس کے علاوہ پیرس میں بھی ہزاروں افراد نے غزہ میں جنگ بندی کے حق میں مارچ کیا گیا جبکہ برلن مظاہرے میں غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ناروے، آسٹریلیا، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، ایران، قطر اور عراق میں بھی مظاہرے کیے گئے جبکہ مظلوم فلسطینی عوام کے حق میں چلی اور وینیزیلامیں بھی احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

    جنگ بندی کی امریکی کوششیں ناکام،بلنکن کو شرمندگی کا سامنا

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک 3 ہزار 900 بچوں اور 2 ہزار 509 خواتین سمیت شہید فلسطینیوں کی تعداد 9 ہزار 488 ہو گئی ہے جب کہ 6 ہزار 360 بچوں اور 4 ہزار 891 خواتین سمیت زخمیوں کی تعداد 24 ہزار 158 سے تجاوز کر چکی ہے۔

  • مولانا فضل الرحمان کی قطر میں  حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    مولانا فضل الرحمان کی قطر میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان حماس کے رہنماوں سے اہم ملاقاتوں کے لیے قطر پہنچ گئے،جہاں ان کی فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان وفد کے ہمراہ گزشتہ روز قطر پہنچے جہاں ان کی حماس رہنماؤں سے ملاقات میں مسئلہ فلسطین پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

    مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے موقع پر حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف متحد ہوجائے،حماس رہنما خالد مشعل نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین پر عرصہ دراز سے مظالم انسانی حقوق کے دعویداروں کے منہ پر طمانچہ ہے، مولانا فضل الرحمان پاکستان میں فلسطین کےسفیرکاکردار ادا کر رہے ہیں اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کے دعویداروں کے ہاتھ معصوم بچوں اور خواتین کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ اور سابق سربراہ خالد مشعل سمیت دیگر حماس قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے،جمعیت علمائے اسلام کے امیر قطر کے بعد ترکیہ کا دورہ کریں گے مولانا فضل الرحمان ترکیہ اور قطر کی حکومتی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ جنگ بندی کرائی جاسکےمولانا فضل الرحمان غزہ میں پھنسے مظلوم فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل سمیت دیگر امور پر بھی عرب ممالک کی قیادت سے بات چیت کریں گے۔

    جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اسرائیل کے حملے کی زد میں آنے والے فلسطینیوں کی مدد کے لیے غزہ روانہ ہو گئے نجی خبررساں ادارے "جنگ” کے مطابق مولانا فضل الرحمان کسی بھی مسلم ملک کے پہلے مذہبی سیاسی رہنما ہیں جو جنگی علاقے کے سفر پر گئے ہیں مولانا فضل الرحمان کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھا گیا کیونکہ وہ تباہ حال لوگوں تک خاموشی سے پہنچ کر ان کی مدد کرنا چاہتے تھے، وہ اپنے ساتھ خوراک اور ادویات لے کر جا رہے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان کے قریبی ذرائع کے مطابق کراچی میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک بڑی ریلی سے خطاب کے بعد جسے طوفان الاقصیٰ مارچ اور سندھ امن کانفرنس کا نام دیا گیا تھا، مولانا اس منزل کی جانب روانہ ہوگئے جہاں سے وہ مظلوم لوگوں تک پہنچیں گے۔

    ذکا اشرف کو 3 ماہ کی توسیع مل گئی

    رپورٹ کے مطابق جب جے یو آئی ف کے ترجمان اسلم غوری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ مولانا فضل الرحمان غزہ کی طرف سفر کر رہے ہیں لیکن انہوں نے تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

    سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کے گھر پر چھاپہ

  • جنگ بندی کی امریکی کوششیں ناکام،بلنکن کو شرمندگی کا سامنا

    جنگ بندی کی امریکی کوششیں ناکام،بلنکن کو شرمندگی کا سامنا

    امریکی وزیر خارجہ اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کے لئے متحرک ہیں، انٹونی بلنکن نے اسرائیلی حکام سے ملاقات کے بعد عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے عرب وزراء خارجہ سے ملاقات کی، سعودی عرب، یو اے ای سمیت دیگر ممالک کے وزرا خارجہ اجلاس میں موجو د تھے،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے عرب رہنماؤں نے جنگ بندی کے لئے اور غزہ کی مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے تعاون طلب کیا ہے،امریکی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں عرب ممالک کا کردار اہم ہے،بلنکن نے عمان میں حکام سے ملاقاتیں کیں،انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ سے بھی ملاقات کی اور غزہ میں انسانی امداد فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا، اقوام متحدہ کے تقریبا 70 اہلکاروں کی اسرائیلی بمباری سے ہلاکت ہو چکی ہے، اقوام متحدہ کے پاس خوراک،ادویات کی کمی ہو چکی ہے،امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے عرب رہنماؤں سے ملاقات کی تو عرب رہنماؤں نے اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی عوام کو سزا نہ دی جائے،ایک طرف غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری ہے ایسے میں امریکی وزیر خارجہ کو عربوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑا ہے، اسرائیل حماس کو کچلنے کے لئے چار ہفتوں سے مسلسل حملے کر رہا مگر اسے ناکامی ہوئی،عرب رہنماؤں کے ساتھ ملاقات میں امریکہ کے وزیر خارجہ کو غصےکی بڑھتی لہر کا سامنا کرنا پڑا،بلنکن نے غزہ میں جنگ بندی کی بات کی تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے اسکو رد کر دیاہے، عمان میں بلنکن کا کہنا تھا کہ امریکہ کا خیال ہے کہ ان تمام کوششوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر توقف کے ذریعے سہولت فراہم کی جائے گی

    مصری وزیر خارجہ سامح شکری، جن کا ملک غزہ کی پٹی سے وہاں جانے کے لیے امداد کے واحد راستے کے طور پر کام کر رہا ہے، نے "فوری اور جامع جنگ بندی” کا مطالبہ کیا۔

    حماس نے ہفتے کو دیر گئے کہا کہ غزہ سے دوہری شہریوں اور غیر ملکیوں کا انخلاء اس وقت تک معطل رکھا جا رہا ہے جب تک کہ اسرائیل کچھ زخمی فلسطینیوں کو رفح پہنچنے کی اجازت نہیں دیتا تاکہ وہ مصر میں ہسپتال میں علاج کے لیے سرحد عبور کر سکیں۔

    اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی نے ہفتے کے روز غزہ کے سب سے بڑے شہر کا محاصرہ مکمل کرنے کے بعدعلاقے کا دورہ کیا اور اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کی۔وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ کے اندر لڑ رہی ہیں۔اسرائیلی فوج غزہ شہر کو "حماس کا مرکز” کے طور پر بیان کرتی ہے، لیکن امدادی معاونت کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ڈیوڈ سیٹر فیلڈ نے کہا کہ شہر اور ملحقہ علاقوں میں 350,000 سے 400,000 کے درمیان شہری مقیم ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے 7 اکتوبر سے لے کر اب تک فلسطینی سرزمین پر 12,000 اہداف کو نشانہ بنایا ہے،

    امریکی وزیر خارجہ ترکی بھی جائیں گے اور ترک صدر سے ملاقات کر یں گے،ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیاہے،ترک وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل حملوں کے بعد ترکی نے پنے سفیر کو مشاورت کے بعد واپس بلایا ہے، ترکی میں موجود اسرائیلی سفیر بھی سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے اسرائیل واپس جا چکا ہے،غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد امریکی ملک ہونڈرورس،چلی، کولمبیا اپنے سفیر اسرائیل سے واپس بلا چکے ہیں،سفیر واپس بلائے جانے کے اقدام کا فلسطین نے خیر مقدم کیا اور کہا کہ دیگر ممالک سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ ایسے فیصلے کریں

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کوبین الاقوامی جرائم کی عدالت میں لے کر جائیں گے،صحافیوں سے گفتگو میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کیلئے لکیرکھینچ دی ہے ان سے اب کوئی بات نہیں ہوسکتی، نیتن یاہو ناقابل بھروسہ ہیں نیتن یاہو جوکچھ کررہےہیں اس کی بائبل، توریت اورنہ ہی زبور اجازت دیتی ہے، نیتن یاہو اسرائیلی عوام کی حمایت کھوچکےہیں

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے کچھ دن قبل کے دورہ ایران کی خبر سامنے آئی ہے، اسماعیل ہنیہ نے دورہ تہران میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی،حماس کے عہدیدار اسامہ حمدان نے اسماعیل ہنیہ کے دورہ ایران کی مزید تفصیل نہیں بتائی

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حماس حملے کی ذمہ داری کیوں لینی چاہئے؟
    سات اکتوبر کو ہفتے کے دن حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا،اس حملے کو تقریبا چار ہفتے ہو چکے،حملے میں تقریبا 1400 اسرائیلی مارے جا چکے ہیں، سینکڑوں افراد کو حماس نے یرغمال بنا لیا، اب بھی حماس کے حملوں میں اسرائیلی فوجی جہنم واصل ہو رہے ہیں، دنیا جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہے تاہم اسرائیلی وزیراعظم جنگ بندی کی طرف نہیں جا رہے، یرغمالیوں کی رہائی کے لئے اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف تل ابیب میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں تاہم اسرائیلی وزیراعظم خاموش ہیں،

    یروشلم پوسٹ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو،انتہائی بے حس، لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،حماس کے حملوں میں چودہ سو اسرائیلیوں کی جانیں گئیں لیکن نیتن یاہو نے کسی ایک شخص کے جنازے میں شرکت نہیں کی، سینکٹروں یرغمال بنائے گئے ابھی تک اسرائیلی وزیراعظم نے یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلخانہ میں سے کسی ایک سے بھی ملاقات نہیں کی،حماس کے حموں میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے ان میں سے کئی اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں تا ہم نیتن یاہو نے کسی بھی زخمی کی ابھی تک عیادت نہیں کی،حماس کے مسلسل حملوں کے بعد اسرائیل میں 21 ہزار کے قریب افراد بے گھرہوئے لیکن اسرائیلی وزیراعظم نے کسی بھی بے گھر افراد کا حال تک نہیں پوچھا،نیتن یاہو نے یرغمال بنائے گئے افراد میں سے صرف 13 خاندانوں کے ساتھ دو ملاقاتیں کیں ،لیکن انکی رہائی کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا، 227 سے زائد افراد حماس کے قبضے میں ہیں، انکے خاندان اذیت کا شکار ہیں لیکن نیتن یاہو حملوں پر حملے کروا رہے ہیں

    یروشلم پوسٹ لکھتا ہے کہ نیتن یاہو کے پاس ابھی تک تین الفاظ ہیں: "میں ذمہ دار ہوں” – حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع سمیت فوجی حکام نے ناکامی کا سہرا اپنے سر لیا، اور کہا کہ ہم ناکام ہوئے،انٹیلی جنیس چیف، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ،اوسی سدرن کمانڈ سمیت سب نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا،یہاں تک کہ وزیرخزانہ تک نے بھی کچھ انٹرویو میں کہا کہ حماس کے حملوں کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن اب الزام تراشی کا وقت نہیں،نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ ہم سب کو فی الوقت جواب دینے کی ضرورت ہے

    نیتن یاہو کس طرح ایک اور سانحے کا الزام اپنے سر لینے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میں ذمہ دار ہوں لیکن اسکے ساتھ ہی کہا کہ اسرائیل کے مستقبل کی سلامتی کے لیے،نیتن یاہو واضح کر رہے تھے کہ وہ ماضی کے لئے نہیں بلکہ مستقبل کی بات کر رہے ہیں،اور سوچ رہے ہیں کہ جنگ ختم ہونے کے بعد اگلے دن کیا ہو گا،نیتن یاہو کی اپنے دور حکومت میں ہونے والی ہر آفت سے دور رہنے کی ایک طویل تاریخ ہے، جن میں سے تازہ ترین 2021 میں ماؤنٹ میرون پر مہلک ہجوم کا کچلنا تھا، جس میں 45 افراد کی جانیں گئیں۔ گزشتہ سال اس آفت کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے سرکاری کمیشن کے سامنے اپنی گواہی میں وزیر اعظم سے پوچھا گیا تھا کہ ‘جو شخص گزشتہ 12 سالوں سے حکومت کا سربراہ تھا، کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ عوامی اور اخلاقی طور پر ذمہ دار ہیں؟ اس آفت کے لیے؟” اس پر نیتن یاہونے جواب دیا، "کسی کو اس چیز کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔”

    اسی طرح کی ذہنیت میں، نیتن یاہو جنگ کے بعد کی انکوائری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اور اس لیے وہ "میں ذمہ دار ہوں” کے الفاظ کہنے سے گریز کر رہے ہیں تاکہ یہ مخصوص الفاظ کبھی بھی کسی پروٹوکول میں ریکارڈ نہ ہوں۔ نیتن یاہو کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک، نتن ایشیل نے اس ہفتے صحافیوں کو ایک تفصیلی پیغام بھیجا جس میں براہ راست ذمہ داری اور وزارتی ذمہ داری کے درمیان قانونی فرق کی وضاحت کی گئی،پیغام میں کہا گیا کہ "اگر کوئی سپاہی محافظ ڈیوٹی کے لیے حاضر ہونے میں ناکام ہو جاتا ہے اور دہشت گرد آرمی بیس میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا تو کیا وزیراعظم ذمہ دار ہیں؟

    اگرچہ نیتن یاہو ذمہ داری لینے سے گریز کرتے ہیں، اور ناکامیوں کا جائزہ لینے کے لیے جنگ ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن اس کی سیاسی پروپیگنڈہ ٹیم پہلے دن سے ہی ناکامی کو دوسروں پر ڈالنے کی کوشش میں کام کر رہی ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق، جنگ کے آغاز پر، وزیر اعظم کی اہلیہ سارہ نے اپنے قریبی ساتھیوں کو ہدایت کی کہ وہ آئی ڈی ایف اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سینئر رہنماؤں کے بیانات کے اقتباسات جمع کریں، دونوں عوامی ذرائع کے ساتھ ساتھ خفیہ سیکیورٹی میٹنگوں سے، جس میں انہوں نے خطرے کی شدت اور حماس کی صلاحیتوں اور ارادوں کو کم کیا۔ ان ذرائع کے مطابق، جن لوگوں کے بیانات اور گفتگو کو جانچنے کی ہدایت کی گئی تھی ان کی فہرست طویل ہے، اور اس میں آئی ڈی ایف کے موجودہ اور سابق چیف آف اسٹاف، جیسے بینی گانٹز اور گاڈی آئزن کوٹ شامل ہیں، جو دونوں اس وقت ہنگامی جنگ کا حصہ ہیں۔ماضی کے وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لاپڈ، وزرائے دفاع،اس طرح کے لوگ شامل ہیں جن کے بیانات کو دیکھا جا رہا ہے تا کہ کسی بھی طرح نیتن یاہو کو حماس کے حملوں کی ذمہ داری سے بچایا جا سکے اور اگر انکوائری ہو تو اس میں ان بیانات کو پیش کر کے فوج کی طرف اور انٹیلی جینس اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے جنہوں نے حماس کے حملوں‌کی وارننگ، اطلاع کو نظر انداز کیا .

    ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیلی نمائش منسوخ کر دی گئی،
    اسرائیلی فنکاروں کے فن پاروں کی نمائش استنبول میں ہونا تھی جسے منسوخ کر دیا گیا ہے، ترک منتظمین نے اسرائیلی فنکاروں کو اس حوالہ سے آگاہ کر دیا ہے،سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے اسرائیلی فنکاروں کے فن پاروں کی نمائش منسوخ کی گئی ہے،اسرائیلی فنکار گور ایری کی نمائش "شکل دی بیوٹی” کو ہٹا دیا گیا، تاہم، طالبان کے زیر اقتدار افغانستان کی فنکارہ لیلا احمد زئی، جو فی الحال جرمنی میں مقیم ہیں ، نمائش کی جگہ پر موجود ہیں۔فینارو نے دی یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ "تمام ترک فنکار جن سے ہم ملے وہ ایک ساتھ کام کرنا چاہتے تھے۔ پچھلے دو سالوں میں ہم ترک فنکاروں کو یہاں اسرائیللائے تھے، جسے ترک ثقافتی اسٹیبلشمنٹ نے سراہا تھا۔

    اسرائیلی فنکاروں بوز کازمین، انجلیکا شیر، اور فینارو، اور حنان ابو حسین کے فن پارے اس وقت نمائش کے لیے پیش ہونا تھا،فینارو نے کہا، "اسرائیل اور اس کے فنکاروں کو اب تنہائی کا سامنا ہے،” ہمیں اپنی آواز سنانے اور اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے ہر موقع کا استعمال کرنا چاہیے۔

    اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کی تجویز پاگل پن ہے،ریپبلکن سینیٹر
    فلوریڈا کے ریپبلکن سینیٹر رک سکاٹ نے اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ بندی کے کسی بھی مطالبے کی مذمت کرتے ہوئے ایسی تجویز کو "پاگل اور خطرناک” قرار دیا۔سکاٹ نے حماس کے ایک اہلکار کی ایک ویڈیو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ شیطانی دہشت گردانہ حملوں کو دہرائیں گے، جیسا کہ اکتوبر کے اوائل میں اسرائیلی شہریوں پر کیا گیا تھا، اس لیے جنگ بندی کا مطالبہ پاگل اور خطرناک ہے،‘‘ سکاٹ نے کہا۔ حماس کے ارکان دہشت گرد ہیں جو اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے اس گھناؤنے خطرے کو ختم کر دینا چاہیے۔‘‘

    اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ بندی کی تردید کی ہے کیونکہ اسرائیل غزہ میں حماس پرحملے جاری رکھے ہوئے ہے۔اسرائیل میں جنگ کے بارے میں، سکاٹ نے جی سیون ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اکتوبر کے ابتدائی دہشت گردانہ حملے کے لیے ایران پر پابندیاں لگائیں، جس میں مبینہ طور پر ایران کی پشت پناہی تھی۔سکاٹ نے ایک خط میں کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ حماس اور فلسطینی جہاد کے دہشت گردوں کی طرف سے معصوم شہریوں پر کیے جانے والے وحشیانہ حملوں کے پیچھے ایرانی حکومت کا ہاتھ ہے۔” "امریکہ اور ہمارے اتحادی اس حقیقت کو ایک سیکنڈ کے لیے نظر انداز نہیں کر سکتے۔”سکاٹ نے ستمبر میں امریکی-ایران قیدیوں کے تبادلے میں ایرانی حکومت کے 6 بلین ڈالر کے اثاثوں کو غیر منجمد کرنے پر بائیڈن انتظامیہ پر بھی تنقید کی ہے۔فلوریڈا کے سینیٹر نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی سب سے زیادہ "اسرائیل نواز” امریکی صدر قرار دیا تھا۔سکاٹ نے کہا، "امریکہ نےداعش کو شکست دی، امریکی سفارت خانے کو یروشلم میں اپنے صحیح گھر میں منتقل کیا.

    اسرائیلی ماں نے انکشاف کیا کہ اسکی بیٹی کو قتل کیا گیا اور شوہر کو لے جایا گیا
    ایک اسرائیلی ماں جس کی بیٹی کو حماس نے اس کے سامنے بے دردی سے قتل کر دیا تھا اور جس کے شوہر کو اغوا کر لیا گیا تھا، اس نے جو کچھ ہوا اس کا ایک ہولناک بیان شیئر کیا ہے۔خاتون نے فیس بک اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ حماس نے جب حملہ کیا تو اسکے سامنے اسکی بیٹی کو قتل کیا گیا اور اسکے شوہر کو حماس اہلکار ساتھ لے گئے، وہ خاموش تھی لیکن اب خاموش نہیں رہ سکتی، اسرائیلی وزیراعظم میرے شوہر کو بازیاب کروائیں

    اسرائیل کا حماس رہنما کے گھر پر میزائل حملہ
    اسرائیل نے حماس کے رہنما کے گھر پر میزائل داغا ہے،حماس سے وابستہ الاقصیٰ ریڈیو نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے غزہ کے گھر پر میزائل داغا ،یہ واضح نہیں تھا کہ آیا اس کے خاندان کا کوئی فرد اس وقت گھر میں موجود تھا جب حملہ کیا گیا،حماس کے سیاسی سربراہ ہنیہ 2019 سے غزہ کی پٹی سے باہر ہیں، جو ترکی اور قطر کے درمیان مقیم ہیں۔دوسری جانب غزہ شہر کے شمال میں اسامہ بن زید بوائز اسکول میں، اسرائیلی ٹینک کی گولہ باری کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے "دہشت گردوں کا خاتمہ” کیا ہے اور گزشتہ روز شمالی غزہ میں سرنگوں کی تلاش کے دوران حماس سے تعلق رکھنے والے ہتھیار برآمد کیے ہیں۔اسرائیلی فوجیوں نے 15 عسکریت پسندوں کا مقابلہ کیا، ان میں سے کئی کو ہلاک کیا اور حماس کے تین مشاہداتی مراکز کو تباہ کر دیا،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    برسوں تک نیتن یاہو نے حماس کو سہارا دیا،ٹائمز آف اسرائیل کا دعویٰ
    برسوں سے، بنجمن نیتن یاہو کی زیرقیادت مختلف حکومتوں نے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جس نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے درمیان طاقت کو تقسیم کر دیا – فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور ایسی حرکتیں کیں جس سے حماس گروپ کو تقویت ملی۔خیال یہ تھا کہ عباس یا فلسطینی اتھارٹی کی مغربی کنارے کی حکومت میں شامل کسی اور کو فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف پیش قدمی سے روکا جائے۔اس طرح، عباس کو نقصان پہنچانے کی اس کوشش کے دوران، حماس کو محض ایک عسکری گروپ سے ایک ایسی تنظیم میں تبدیل کر دیا گیا جس کے ساتھ اسرائیل نے مصر کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کیے، اور جس کو بیرون ملک سے نقد رقم وصول کرنے کی اجازت تھی۔
    حماس کو اسرائیل نے غزہ کے مزدوروں کو دیے گئے ورک پرمٹ کی تعداد میں اضافے کے بارے میں بات چیت میں بھی شامل کیا، جس سے غزہ میں پیسہ بہایا جاتا رہا،

    اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ یہ اجازت نامے، جو غزہ کے مزدوروں کو انکلیو سے زیادہ تنخواہیں حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں، امن برقرار رکھنے میں مدد کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہیں۔ 2021 میں نیتن یاہو کی پانچویں حکومت کے خاتمے کے بعد، تقریباً 2,000-3,000 ورک پرمٹ غزہ کے باشندوں کو جاری کیے گئے تھے۔ یہ تعداد 5,000 تک پہنچ گئی اور بینیٹ لیپڈ حکومت کے دوران تیزی سے بڑھ کر 10,000 تک پہنچ گئی۔جنوری 2023 میں نیتن یاہو کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد، ورک پرمٹس کی تعداد تقریباً 20,000 تک پہنچ گئی ہے۔

    مزید برآں، 2014 کے بعد سے، نیتن یاہو کی قیادت والی حکومتوں نے غزہ سے آگ لگانے والے غباروں اور راکٹ فائر کی طرف عملی طور پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔دریں اثنا، اسرائیل نے پٹی کے حماس کے حکمرانوں کے ساتھ اپنی نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے، 2018 سے لاکھوں قطری نقدی رکھنے والے کو اپنی کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔

    زیادہ تر وقت، اسرائیلی پالیسی فلسطینی اتھارٹی کو بوجھ اور حماس کو اثاثہ سمجھتی تھی۔ انتہائی دائیں بازو کے MK Bezalel Smotrich، جو اب سخت گیر حکومت میں وزیر خزانہ اور مذہبی صیہونیت پارٹی کے رہنما ہیں، نے 2015 میں خود ایسا کہا تھا۔

    مختلف رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے 2019 کے اوائل میں ایک اجلاس میں بھی ایسا ہی نقطہ نظر پیش کیا تھا، جب ان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ جو لوگ فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے ہیں انہیں غزہ میں رقوم کی منتقلی کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ فلسطینی اتھارٹی کے درمیان علیحدگی کو برقرار رکھنے کے لیے وہ غزہ میں ہیں۔ مغربی کنارے اور غزہ میں حماس فلسطینی ریاست کے قیام کو روکیں گے۔اگرچہ نیتن یاہو اس قسم کے بیانات عوامی یا سرکاری طور پر نہیں دیتے ہیں، لیکن ان کے الفاظ اس پالیسی کے مطابق ہیں جو انہوں نے نافذ کی تھی۔اسی پیغام کو دائیں بازو کے مبصرین نے دہرایا، جنہوں نے اس معاملے پر بریفنگ حاصل کی ہو یا لیکوڈ کے اعلیٰ افسران سے بات کی اور پیغام کو سمجھا۔

    اس پالیسی سے تقویت پا کر، حماس مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا، اسرائیل کا "پرل ہاربر”، جو اس کی تاریخ کا سب سے خونریز دن تھا – جب عسکریت پسندوں نے سرحد پار کی، سینکڑوں اسرائیلیوں کو ذبح کیا اور ہزاروں راکٹوں کو برسایا.بڑی تعداد میں شہریوں کو اغوا کر لیا۔

    ابھی چند روز قبل، کان پبلک براڈکاسٹر کے ایک رپورٹر اسف پوزیلوف نے مندرجہ ذیل ٹویٹ کیا: "اسلامک جہاد تنظیم نے سرحد کے بالکل قریب ایک شور مچانے والی مشق شروع کی ہے، جس میں انہوں نے میزائل داغنے، اسرائیل میں گھسنے اور فوجیوں کو اغوا کرنے کی مشق کی۔ ”

    اسلامی جہاد اور حماس کے درمیان فرق اس وقت زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ جہاں تک ریاست اسرائیل کا تعلق ہے تو یہ علاقہ حماس کے کنٹرول میں ہے اور وہاں کی تمام تر تربیت اور سرگرمیوں کی ذمہ دار وہی ہے۔حماس مضبوط ہو گئی اور اس نے امن کے ان خوابوں کو استعمال کیا جس کے لیے اسرائیلی اس کی تربیت کے لیے بہت زیادہ ترس رہے تھے، اور سینکڑوں اسرائیلیوں نے اس بڑے پیمانے پر کوتاہی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔اسرائیل میں شہری آبادی پر ہونے والی دہشت گردی اس قدر زبردست ہے کہ اس سے لگنے والے زخم برسوں تک مندمل نہیں ہوں گے، یہ ایک چیلنج غزہ میں اغوا ہونے والے درجنوں افراد کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہے۔

    نیتن یاہو نے گزشتہ 13 سالوں میں جس طرح سے غزہ کا انتظام کیا ہے، اس سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ آگے جا کر کوئی واضح پالیسی ہو گی۔

  • اسرائیل کی حمایت میں امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو کے دوران جنگ بند کرو کے نعرے

    اسرائیل کی حمایت میں امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو کے دوران جنگ بند کرو کے نعرے

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی، امریکی سینیٹ کمیٹی میں سیو فلسطین کے نعرے لگ گئے

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے امریکی سینیٹ کمیٹی میں اسرائیل کی حمایت میں بات کی تو اراکین پھٹ پڑے،امریکی وزیر خارجہ کے خطاب کے دوران سیو فلسطین اور جنگ بند کرو، کے نعرے لگائے گئے، امریکی وزیر خارجہ تقریر کرتے کرتے چپ ہو گئے، نعرے لگتے رہے تو سیکورٹی اہلکار متحرک ہوئے اور نعرے لگانے والوں کو ہال سے باہر نکالا

    اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکا غزہ میں قتل عام کی حمایت بند کرے، 66 فیصد امریکی شہری جنگ نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں،ایک نوجوان لڑکی کا کہنا تھا غزہ کے لوگ جانور نہیں انسان ہیں

    امریکی وزیر خارجہ کی تقریب کے دوران احتجاج کا یہ واقعہ واشنگٹن ڈی سی کیپیٹل ہل میں 31 اکتوبر کو پیش آیا تھا جس کی خبر آج سامنے آئی.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    امریکی وزیر خارجہ نے سات اکتوبر کے بعد گزشتہ روز تیسری بار اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کیں، امریکہ جنگ بندی چاہتا ہے تا ہم حماس اسکے لئے مشروط طور پر تیار ہے، اسرائیل امریکی شہہ کی وجہ سے جنگ بندی نہیں کر رہا،اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حماس نے جن افراد کو یرغمال بنایا ہوا ہے انکی رہائی تک جنگ بندی نہیں ہو گی،امریکی وزیر خارجہ نے غزہ میں معصوم شہریوں کے تحفظ کے حوالہ سے بات چیت کی،

    دوسری جانب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، مصر، اور قطر کے وزرائے خارجہ آج عمان میں امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے

  • حماس کا اسرائیلی فوج پر حملہ، 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ

    حماس کا اسرائیلی فوج پر حملہ، 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ

    فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے اسرائیلی فوج پر بڑا حملہ کرتے ہوئے 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ کردیں۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق حماس کے تازہ ترین حملے میں اسرائیلی افسر سمیت 19 ہلاکتیں ہوئیں ہیں، اس کے علاوہ مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیلی فوج کی بٹالین کے ہیڈکوارٹر پر بھی دھاوا اور شیبا فارمز کے علاقے میں بٹالین پر ڈرون حملے سے جانی نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔

    گزشتہ روز غزہ پر اسرائیلی بمباری کے جواب میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے لبنان سے اسرا ئیلی علاقے کریات شمونہ میں 12 راکٹ فائر کیےجس کی وجہ سے ہرطرف آگ ہی آگ لگ گئی،اس کے علاوہ لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کی 19 فوجی چوکیوں پر حملے کیے گئے ۔

    غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے،سربراہ حزب اللہ

    دوسری جانب اسرائیل نے غزہ کے ہزاروں فلسطینیوں کے نوکریوں کے پرمٹ منسوخ کر دئیے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق روزانہ 18 ہزار فلسطینی غزہ سے نوکری کرنے اسرائیل آتے تھے، 7 اکتوبر کو حملوں کے بعد اسرائیل میں موجود غزہ کے 3 ہزار محنت کش فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا،تاہم ان میں سے کئی کو رہا کرنے کا دعویٰ کیا گیا لیکن فلسطینیوں کے موبائل، رقم اور دیگر اشیا اسرائیلی حکام نے واپس نہیں کیں ،اب غزہ کے فلسطینیوں کے نوکریوں کے پرمٹ منسوخ کر دئیے گئے اور غزہ کے حکام سے مکمل طور پر رابطے بھی ختم کر دئیے-

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی بربریت جاری ہےفلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت سے مزید 166 فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے افراد کی تعداد 9227 ہوگئی ہے۔

    اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

  • اسرائیلی بمباری سے صحافی کی خاندان کے 11 افراد کے ہمراہ موت

    اسرائیلی بمباری سے صحافی کی خاندان کے 11 افراد کے ہمراہ موت

    سات اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، اب اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کا محاصرہ کر لیا ہے

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید ہو گئے ہیں، اسرائیل نے غزہ کے شہر یونس خان میں گھر پر بمباری کی،جس کے نتیجے میں فلسطینی صحافی محمد ابو حطب،انکی اہلیہ، بیٹے اور بھائی سمیت خاندان کے 11 افراد کی موت ہوئی ہے، اسرائیلی بمباری سے فلسطینی صحافی محمد البیاری بھی شہید ہو چکے ہیں

    فلسطینی صحافی کی موت کے بعد فلسطینی صحافیوں نے احتجاج کیا، محمد ابوحطب کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی جس میں بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی، اس موقع پر فلسطینی صحافی سلمان البشیر اسرائیل کے ہاتھوں صحافیوں کے قتل پر اپنے جذبات کااظہار کرتے ہوئے بے قابو ہوگئے اور دوران رپورٹنگ اپنی پریس جیکٹ اور ہیلمٹ کو اُتار پھینکا اور کہا کہ کوئی فائدہ نہیں،اسرائیل صحافیوں کا بھی قتل عام کر رہا ہے، دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا.یہ پریس جیکٹس جو ہم نے پہنی ہیں علامتی ہیں، ان سے کسی صحافی کو تحفظ نہیں مل رہا ہے، ایک کے بعد ایک صحافی کو اسرائیل کو قتل کر دیا ہے

    دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فوج کی رہائشی آبادیوں پر وحشیانہ بمباری کاسلسلہ جاری ہے اور اسرائیل پر غزہ کی جانب سے کی جانے والی بمباری اور بڑھتے محاصرے سے فلسطینیوں کے قتل عام تیز ہونے کا خدشہ ہے اسرائیلی جارحیت سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 9200 جب کہ زخمی فلسطینیوں کی تعداد 24 ہزار ہوچکی ہے

    دوسری جانب غزہ میں بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے منصوبے سے متعلق اسرائیلی ترجمان کی زبان پر آ گیا، اسرائیلی ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا نشانہ فقط فلسطینی عوام ہیں امریکی ٹی وی کو اپنے انٹرویو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کی ترجمان تل ہینرک بات چیت کے دوران سچ بول گئیں اور کہا کہ اسرائیل غزہ میں کسی اور کو نشانہ نہیں بنا رہا سوائے سویلینز کے لیکن پھر گڑبڑا کر اپنی بات کو گھماتے ہوئے کہنے لگی کہ نہیں، نشانہ دہشتگرد ہیں،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کی پٹی پر حماس حملوں میں بھارتی نژاد اسرائیلی فوجی کی موت
    حماس کے حملے میں بھارتی نژاد اسرائیلی فوج کی بھی موت ہوئی ہے، اس ضمن میں بھارت میں اسرائیل کے قونصل جنرل کوبی شوشانی نے تصدیق کی کہ بھارتی نژاد فوجی کی موت غزہ کی پٹی پر ہوئی،بھارتی نژاد اسرائیلی فوجی کی عمر بیس برس تھی اوراسکا نام ہیل سولومن تھا، جس واقعہ میں بھارتی نژاد فوجی کی موت ہوئی اس میں 17 مزید اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیںَ،بھارتی نژاد فوجی اسرائیلی شہر دیمونا کا رہائشی تھا

    ہیل کی موت پر بینی دیمونا کے میئر بٹن کا کہنا تھا کہ بہت افسوس کے ساتھ ہم غزہ کی جنگ میں دیمونا کے بیٹے ہیل سولومن کی موت کا اعلان کرتے ہیں۔پورا شہر ہیل سولومن کی موت پر غم زدہ ہے، ہیل کی آخری رسومات اسرائیلی پرچم کے ساتھ ادا کی جائیں گی

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ایک بار پھر اسرائیل پہنچ چکے ہیں وہ اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کریں گے، امریکی وزیر خارجہ کا سات اکتوبر کے بعد اسرائیل کا یہ تیسرا دورہ ہے،آخری دورے میں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم سے سات گھنٹے طویل ملاقات کی تھی،امریکی وزیر خارجہ آج ملاقاتوں کے بعد میڈیا ٹاک بھی کریں گے، امریکہ کو امید ہے کہ آج کے اس دورے کے بعد غزہ کو انسانی امداد بھیجنے کا راستہ کھل جائے گا،اسرائیل کا دورہ مکمل کرنے کے بعد امریکی وزیرخارجہ اردن جائیں گے جہاں وہ اپنے عرب اتحادیوں کے تحفظات پر بات چیت کریں گے،