Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • وزیر اعظم  کی  پاکستان میں فلسطین کے سفیر سے ملاقات

    وزیر اعظم کی پاکستان میں فلسطین کے سفیر سے ملاقات

    اسلام آباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان میں فلسطین کے سفیر ڈاکٹر ظہیر محمد حمد اللہ زید نے آج وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : فلسطینی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت، آزادی اور انصاف کے حصول کے لیے ان کی منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا،انہوں نے معصوم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی خصوصاً 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے بگڑتی ہوئی صورتحال جس کے نتیجے میں 43,000 سے زائد جانیں ضائع ہوئیں اور 105,000 سے زائد زخمی ہوئے، کے اقدامات کی پاکستان کی شدید مذمت کا اعادہ کیا.

    وزیراعظم نے اقوام عالم کی جانب سے اسرائیل کا سخت احتساب نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی اور مقبوضہ علاقوں میں مصیبت زدہ فلسطینی عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم نے فلسطینی سفیر کو یقین دلایا کہ پوری پاکستانی قوم بہادر فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی ہر ممکن حمایت جاری رکھے گی،وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ اور دیرپا حل کی ضرورت پر بھی زور دیا جس کی سرحدوں کا تعین 1967 سے پہلے کی بنیاد پر ہو اور جس کا دارالحکومت القدس ہو۔

    سفیر ڈاکٹر ظہیر محمد حمد اللہ زید نے فلسطینی عوام کی موجودہ مشکلات میں پاکستان کی ثابت قدم حمایت کے ساتھ ساتھ مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی موقف کو سراہا انہوں نے وزیراعظم کی ذاتی قیادت اور فلسطین کے لیے حمایت کے ساتھ ساتھ انتہائی ضروری انسانی امداد فراہم کرنے اور فلسطینی میڈیکل طلباء کو پاکستان میں تعلیم مکمل کرنے کے لیے وظائف کی فراہمی پر شکریہ ادا کیا۔

    وزیر اعظم نے فلسطینی سفیر کی پاکستان میں تعیناتی کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور انہیں ہر وقت اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

  • فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے فرانس اور سعودی عرب ایک پیج پر

    فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے فرانس اور سعودی عرب ایک پیج پر

    فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک مشترکہ کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ اس کانفرنس کا مقصد اسرائیل اور ممکنہ فلسطینی ریاست کے درمیان دو ریاستی حل کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    صدر میکرون کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وہ اس کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے، جو جون میں بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ ایک طویل عرصے سے عالمی سطح پر توجہ کا مرکز رہا ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مزید سفارتی کوششیں کی جائیں۔صدر میکرون نے کہا کہ وہ اور سعودی ولی عہد فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے اپنے سفارتی کوششوں کو مزید بڑھائیں گے، تاکہ اس بحران کو حل کرنے کی راہ پر گامزن ہوا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد عالمی شراکت داروں کو اس معاملے کے حل کی جانب متوجہ کرنا ہے۔

    صحافیوں کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آیا فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا؟ تو میکرون نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کریں گے جب یہ قدم دو طرفہ تسلیم کی تحریک کے آغاز کے طور پر اٹھایا جائے گا۔صدر میکرون نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فرانس اس بات کا خواہاں ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کی جانب قدم بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس یورپی اور غیر یورپی اتحادیوں کو اس معاملے میں شامل کرنا چاہتا ہے جو اس دو ریاستی حل کی سمت میں قدم بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی اور فلسطین کے مکمل آزاد ہونے تک اس کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے تعلقات قائم نہیں کیے جا سکتے۔ یورپی یونین کے بعض نمائندوں نے فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ سفارتکاری کو سراہا ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے بغیر فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کرنا پیچیدہ مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

    فرانسیسی صدر کا یہ اعلان عالمی سیاست میں اہم تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر یہ کانفرنس کامیاب ہوتی ہے اور دونوں طرف سے مذاکرات کی راہ ہموار ہوتی ہے، تو یہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دیرینہ تنازعہ کے حل کی سمت میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

  • فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن، صدر مملکت ،وزیراعظم کا پیغام

    فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن، صدر مملکت ،وزیراعظم کا پیغام

    فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر صدر مملکت آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بیانات جاری کیئے ہیں

    صدر آصف علی زرداری نے فلسطینی عوام کے حق ِخودارادیت کیلئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان فلسطینیوں کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔آزادی، وقار اور انصاف کیلئے فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔عالمی برادری فلسطینی عوام کی نسل کشی روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔ صدر مملکت نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان ان جارحانہ کاروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی نسل کشی روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں اسرائیل اور اس کی قیادت کے احتساب کے لیے تمام اقدامات کا خیرمقدم اور حمایت کرتا ہے۔

    آزادی اور حق خود ارادیت کے لیے فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کی پُر عزم طریقے سے حمایت جاری رکھیں گے،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے پاکستانی عوام اور حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے لیے بلا روک ٹوک انسانی امداد کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ تاریخ کے گھناؤنے ترین مظالم ڈھاتے ہوئے اسرائیل اب تک ہزار وں معصوم فلسطینی مردوں، خواتین اور بچوں کا قتل عام کر چکا ہے۔ پاکستان عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فلسطین میں اسرائیل کے مظالم کو فوری پر روکنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کرے۔ شہریوں، ہسپتالوں، اسکولوں اور انفراسٹرکچر پر حملوں کو روکا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم آزادی اور حق خود ارادیت کے لیے فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کی پُر عزم طریقے سے حمایت جاری رکھیں گے۔پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور دیرپا حل چاہتا ہے، جس میں ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو گا۔

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • ٹرمپ اور فلسطینی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، غزہ جنگ بندی کے حوالے سے گفتگو

    ٹرمپ اور فلسطینی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، غزہ جنگ بندی کے حوالے سے گفتگو

    واشنگٹن: نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ فون پر گفتگو ہوئی جس میں جس میں غزہ جنگ بندی کے حوالے سے بات ہوئی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ 2017 کے بعد امریکا اور فلسطین کا پہلا رابطہ ہے جہاں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے غزہ میں تنازعہ ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا، صدر ٹرمپ اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے، اور ٹرمپ کا جاری مسئلہ کو حل کرنے کا ارادہ براہ راست صدر عباس کو پہنچایا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی لگن کا اعادہ کیا اور خطے میں امن کے لیے صدر عباس اور دیگر علاقائی اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی، یہ عزم اسرائیل-فلسطین کے دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے، جو بین الاقوامی توجہ کا بڑا مرکز رہا ہے۔

    فلسطینی صدر محمودعباس نے نئے منتخب امریکی صدر ٹرمپ سے کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر کام کر کیلئے تیار ہیں،امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں جنگ کے خاتمے کیلئے کام کروں گا۔

    سرکاری فلسطینی خبر رساں ایجنسی، وفا نے عباس کے دفتر کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات کی اور انہیں اس ہفتے کے شروع میں انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی۔

    ٹرمپ نے منگل کے صدارتی انتخابات میں اپنے ڈیموکریٹک حریف نائب صدر کملا ہیرس کو شکست دی وہ صدر کا باقاعدہ حلف 20 جنوری 2025 کو اٹھائیں گے-

  • آئرلینڈ نے پہلی مرتبہ فلسطینی سفیر کی تقرری کی منظوری دیدی

    آئرلینڈ نے پہلی مرتبہ فلسطینی سفیر کی تقرری کی منظوری دیدی

    ڈبلن: آئرلینڈ نے پہلی مرتبہ فلسطینی سفیر کی تقرری کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی : اس سے قبل آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں فلسطینی مشن کو سفارتخانے کا درجہ دیا گیا تھا رواں سال کے شروع میں آئرلینڈ نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طورپر تسلیم کیا تھا، اس کے علاوہ اسپین اور ناروے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

    آئرش ٹائمزکے مطابق حکومت نے فلسطین سے جمہوریہ آئرلینڈ کے پہلے سفیر جیلان وہبہ عبدالمجید کی تقرری کی منظوری دے دی ہے، جس سے مئی میں جمہوریہ کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد ہو گا۔

    مصری فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ،2 پائلٹ جاں بحق

    آئرلینڈ اور ریاست فلسطین کے درمیان رسمی سفارتی تعلقات اس سال 29 ستمبر کو سفارتی نوٹوں کے تبادلے کے ذریعے قائم ہوئے تھے گزشتہ ماہ، ریاست فلسطین کی حکومت نے ویانا کنونشن کے تحت یہاں فلسطین کی نمائندگی کو ایک رہائشی سفارت خانے میں تبدیل کرنے کے اپنے ارادے کے بارے میں محکمہ خارجہ کو باضابطہ طور پر مطلع کیا-

    آلودہ ترین شہروں میں لاہور کا آج پھر پہلا نمبر ،متعدد بیماریاں پھیلنے لگیں

  • اسرائیلی حملے میں حماس کے دو سینئر رہنماؤں کی موت

    اسرائیلی حملے میں حماس کے دو سینئر رہنماؤں کی موت

    اسرائیلی فوج نے حماس کے سینئر رہنما عزالدین قصاب کو بھی شہید کر دیا

    حماس نے خان یونس میں گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں دو سینیئر ارکان کی شہادت کا اعلان کیا ہے، عزالدین قصاب انٹرنل کمیونیکیشن آفس کے رکن اور غزہ میں قومی اور اسلامی تحریکوں کی پیروی کی کمیٹی کے رکن تھے،ایمن عیاش غزہ کی پٹی میں قومی اور اسلامی تحریکوں کی فالو اپ کمیٹی کی رکن تھے۔اسرائیلی فوج نے بیت لاہیہ میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جہاں بمباری کے نتیجے میں پانچ فلسطینی شہید ہو گئے۔ نصیرت کیمپ کے اطراف بھی ٹینکوں سے گولہ باری کی گئی، جس کے باعث 26 فلسطینیوں کی جانیں گئیں۔

    واضح رہے کہ غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج کے 778 افسران اور اہلکار مارے جا چکے ہیں، جس کی تصدیق اسرائیلی حکام نے کی ہے،ہ غزہ میں حماس کے ساتھ جھڑپوں میں 366 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیل اور لبنان میں حملوں کے نتیجے میں 62 فوجی جان کی بازی ہار گئے، اور 58 اسرائیلی پولیس افسران بھی غزہ میں ہلاک ہوئے۔

    یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور انسانی جانوں کے نقصان پر گہری افسوس کا اظہار کیا جانا چاہیے۔ بین الاقوامی برادری کو اس تشدد کے سلسلے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ بے گناہ شہریوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔

  • امریکہ میں بھی فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر سخت پابندیاں ہیں،  فلسطینی  ہدایتکارہ

    امریکہ میں بھی فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر سخت پابندیاں ہیں، فلسطینی ہدایتکارہ

    کراچی آرٹس کونسل میں ورلڈ کلچر فیسٹیول میں فلسطینی ہدایتکارہ نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے ظلم جاری ہے جسے برطانیہ، امریکہ اور یورپی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

    باغی ٹی وی : ورلڈ کلچر فیسٹیول کے موقع پر پاکستان آنے والی فلسطینی ہدایتکارہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے ظلم جاری ہے جسے برطانیہ، امریکہ اور یورپی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ مغربی کنارے اور 1948 کے علاقوں میں فلسطینی عوام کو مسلسل نسل پرستی اور فوجی قبضے کا سامنا ہے۔ جنین کے مہاجر کیمپ میں، جہاں ان کے ڈرامے ”طوباسی کی زندگی“کا مرکزی کردار بھی رہتا ہے، اسرائیلی فوج ہر ہفتے حملے کرتی ہے، بمباری اور بچوں کا قتل کرتی ہے۔

    وفاقی وزارتوں اور محکموں میں مجموعی طور پر 6770 پوسٹیں ختم کر …

    ہدایتکارہ نے بتایا کہ اسرائیل میں فلسطینی صحافیوں اور فنکاروں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ ان کی آواز کو دبایا جا سکے ان کے تھیٹر کے پروڈیوسر کو قید کر دیا گیا ہے، اور شریک بانی کو قتل کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر ساتھی بھی مسلسل ظلم و ستم کا شکار ہیں، یورپ اور امریکہ میں بھی فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر سخت پابندیاں ہیں، یہاں تک کہ فلسطینی پرچم لہرانے پر بھی پولیس تشدد کرتی ہے۔

    وزیراعلی پنجاب کا صحافی برادری کے لیے تاریخی اقدام

    انہوں نے بتایا کہ ان کا نیا ڈرامہ ”طوباسی کی زندگی“ فلسطینی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے یہ ڈرامہ فلسطینی عوام کے اپنے حقوق کے حصول کے لیے مختلف طریقوں، جیسے کہ مسلح اور ثقافتی مزاحمت، کو پیش کرتا ہے ڈرامہ کسی بھی طریقے کو دوسرے پر فوقیت نہیں دیتا بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنی آزادی کے مختلف راستے تلاش کرتا ہے،ڈرامے ”And Here I Am“ میں ایک دل چسپ داستان پیش کی جس میں حقیقت اور تخیل، المیے اور مزاح کا خوبصورت امتزاج دکھایا گیا یہ داستان طوباسی کی ذاتی زندگی کے تجربات اور فلسطینیوں کی مشترکہ جدوجہد پر مبنی ہے-

    کینیڈا کی حکومت کی جانب سے امیت شاہ پر لگائے گئے الزامات تشویشناک ہیں،امریکا

  • فلسطینیوں کو بلڈوزر سے کچلنے والے اسرائیلی فوجی نے  خودکشی کر لی

    فلسطینیوں کو بلڈوزر سے کچلنے والے اسرائیلی فوجی نے خودکشی کر لی

    غزہ میں معصوم فلسطینیوں کو بلڈوزر سے کچلنے والے اسرائیلی فوجی نے اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کرلی، 40 سالہ ایلیران میزراہی کو 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد غزہ میں تعینات کیا گیا تھا ،ا اور اسے ڈی 9 بلڈوزر چلانے کا کام سونپا گیا، غزہ میں زخمی ہونے کے بعد اسے علاج کے لیے واپس بلالیا گیا تھا-

    باغی ٹی وی : امریکی نشریاتی ادارے سی این این سےگفتگو کرتے ہوئے اہلخانہ نے بتایا کہ غزہ سے واپس آنے کے بعد اس کی شخصیت بالکل بدل گئی وہ جنگ کی ہولناکی کے صدمے میں چلا گیا اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کا شکار ہوگیا، اس سے پہلے کہ اسے دوبارہ واپس محاذ پر تعینات کیا جاتا اس نے اپنی جان ہی لے لی۔

    اس کی ماں جینی میزراہی نے سی این این کو بتایا کہ وہ غزہ سے نکل گیا، لیکن غزہ اس سے نہیں نکلا اور اس کے بعد وہ صدمے کی وجہ سے مر گیا، جب وہ غزہ سے واپس آیا تو اکثر اپنے گھر والوں کو بتاتا تھا کہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس میں سے "نظر نہ آنے والا خون” نکل رہا ہے، اس کی بہن نے اپنے بھائی کی موت کا ذمہ دار اسرائیلی فوج کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس فوج کی وجہ سے اور اس جنگ کی وجہ سے میرا بھائی مرگیا، شاید وہ گولی یا راکٹ سے نہیں مرا، لیکن وہ ایک نظر نہ آنے والی گولی سے مر گیا،اس نے غزہ میں بہت سے لوگوں کو مرتے دیکھا اور شاید خود بھی اس نے بہت سے لوگوں کا قتل کیا ہوگا۔

    پاکستان میں سب سے پہلے آصفہ بھٹو کو پولیو ویکسین پلائی گئی،بلاول بھٹو

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی Ma’ale Adumim بستی میں رہنے والی جینی نے کہا، "وہ نہیں جانتے تھے کہ ان (فوجیوں) کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائےفوجیوں نے کہا کہ جنگ بہت مختلف تھی انہوں نے ایسی چیزیں دیکھی جو اسرائیل میں کبھی نہیں دیکھی گئیں۔

    اس کے اہل خانہ نے بتایا کہ جب میزراہی چھٹی پر تھا، وہ غصے، پسینے، بے خوابی اور سماجی انحطاط کا شکار تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس کے ساتھ غزہ میں تھے کہ وہ کیا کر رہا ہے اس کی بہن، شیر نے سی این این کو بتایا، "وہ ہمیشہ کہتا تھا، کوئی نہیں سمجھے گا کہ میں نے کیا دیکھا ہے۔”

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ہزاروں فوجی جنگ سے متعلق پی ٹی ایس ڈی اور دیگر ذہنی امراض میں مبتلا ہیں تاہم فوج نے خودکشیاں کرنے والے فوجیوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار فراہم نہیں کیے لڑائی سے واپس آنے والے ایک تہائی سے زیادہ اسرائیلی فوجی دماغی صحت کے مسائل سے دوچار ہوچکے ہیں۔

    ملائیشیا: 27 سال سروس کے دوران ایک بھی چھٹی نہ کرنے والا 70 سالہ ملازم

    اس کے فوجی دوست زکین نے بتایا کہ غزہ میں ہم نے بہت مشکل کام کیے جنہیں قبول کرنا بہت مشکل ہے، زندہ اور مردہ سینکڑوں فلسطینیوں کو اپنے بلڈوزروں سے کچلا، اتنا زیادہ خون خرابا اور لاشیں دیکھیں کہ اب گوشت کھانا ہی چھوڑ دیا کیونکہ گوشت دیکھ کر غزہ کے وہ مناظر اور فلسطینی شہدا کے جسد خاکی یاد آتے جنہیں اپنے بلڈوزر سے روندا تھا، راتوں کی نیند اڑ گئی اور دھماکوں کی آوازیں سونے نہیں دیتیں-

    غزہ میں چار ماہ تک تعینات رہنے والے ایک اسرائیلی فوجی طبیب نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی این این کو بتایا ہم میں سے بہت سے فوجی حکومت پر بھروسہ نہیں کرتے اور دوبارہ جنگ کے لیے بھیجے جانے سے بہت خوفزدہ ہیں، اسرائیلی فوجیوں نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے ایسی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا جسے باہر کی دنیا کبھی بھی صحیح معنوں میں نہیں سمجھ سکتی۔

    امریکی صدارتی الیکشن میں قبل از وقت ووٹنگ کیوں کی جاتی ہے؟

  • غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    مغرب کی حکومتیں اور ان کے حکمران ۔۔۔۔انسانیت اور جمہوریت کے جھوٹے دعویدار اور علمبردار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ا ن سے بڑا انسانیت کا دشمن اس وقت روئے زمین پر کوئی نہیں ۔یہ وہ درندے ہیں جن کے منہ کو انسانوں کا اور خاص کر مسلمانوں کا خون لگا ہوا ہے ۔یہ درندے دنیا میں کہیں نہ کہیں مسلمانوں کا خون بہاتے رہتے ہیں اور اس خون سے اپنی پیاس بجھاتے رہتے ہیں جس کی تازہ اور بدترین مثال غزہ ہے جس پر اسرائیل کی جارحیت کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے ۔ایک سال کا ایک ایک لمحہ غزہ کے مسلمانوں کیلئے قیامت بن کر گزرا ہے ۔ ایک سال میں کوئی دن ایسا نہیں آیا جو غزہ کے مسلمانوں نے آرام اور سکون سے گزارا ہو اور کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں وہ چین کی نیند سوئے ہوں ۔

    واضح رہے کہ غزہ کی پٹی دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آ باد علاقہ تھا جو365 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ساحلی پٹی پر مشتمل 24 لاکھ افراد کا مسکن ہے، جہاں ایک مربع کلومیٹر رقبے میں ساڑھے پانچ ہزار افراد رہائش پذیر تھے ۔دنیا کا سب سے گنجان آباد یہ علاقہ اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اسرائیل نے غزہ کی محدود جغرافیے کی حامل زیر محاصرہ گنجان آبادی پر جتنا بارود ایک سال کے دوران برسایا ، اس کی مثال دونوں عالمی جنگوں میں بھی نہیں ملتی ہے۔اسرائیل غزہ کی چھوٹی سی پٹی پر اب تک 85 ہزار ٹن سے بھی زیادہ بارود بموں کی شکل میں برسا چکا ہے۔ غزہ میں تاریخ انسانی کی بدترین تباہی ہوئی ہے جس کا اندازہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے کیا جاسکتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے طیاروں ، ٹینکوں اور توپوں نے بمباری سے جو تباہی مچائی ، رہائشی عمارتیں ، تعلیمی ادارے ، ہسپتال ، مساجد ، دکانیں اور مارکیٹیں جتنے بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی ہیں ان کا ملبہ اٹھانے پر 15 سال لگیں جائیں گے۔ جب کہ تباہ شدہ عمارتوں کی جگہ تعمیر نو پر 80 سال لگیں گے۔ آزاد ذرائع کے مطابق 2 لاکھ سے زائد فلسطینی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ زخموں سے چور ہیں، 20 لاکھ افراد ایسے ہیں جو مکمل طور پر گھر سے بے گھر اور در سے بے در ہوچکے ہیں ۔ان بیچاروں کے پاس معمولی چھت اور کھانے پینے کا معمولی سامان بھی دستیاب نہیں ہے ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے شب و روز کیسے گزرتے ہوں گے ؟

    ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی روپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں قائم انڈونیشیا ہسپتال، ترک ہسپتال اور القدس ہسپتال کو کئی بار نشانہ بنایا۔ ہر روز اوسطاً طبی عملے کے دو ارکان یا ڈاکٹروں کو موت کے گھاٹ اتارتاجاتا رہا ۔ اب تک کم سے کم 752 ڈاکٹر و طبی عملے کے ارکان قتل اور 782 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 128 زیر حراست ہیں۔اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے فراہم کردہ ڈیٹا اور اوپن سٹریٹ میپ کے جغرافیائی ڈیٹا بیس کے مطابق غزہ کی 80فیصد مساجد مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ ہوچکی ہیں ۔سات اکتوبر 2023 سے 31 دسمبر 2023 کے دوران 117 مساجد بشمول تاریخی گرینڈ مسجد عمری اور دو گرجا گھر بھی اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے۔ غزہ کے کل قابل کاشت رقبے کا 68 فیصد حصہ [102مربع کلومیٹر] اسرائیلی بمباری اور فوجی نقل وحرکت سے تباہ ہو چکا ہے۔ شمالی غزہ کی 78 فیصد زرعی زمین جبکہ رفح میں 57 فیصد زرعی رقبہ ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔اسرائیلی بمباری سے غزہ میں سڑکوں کا 68 فیصد ]119 کلومیٹر] نیٹ ورک تباہ ہو گیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیٹلائیٹ سینٹر کی جانب سے 18 اگست 2024 کو جاری کردہ ابتدائی ڈیٹا رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ ہونے والی شاہراؤں میں 415 کلومیٹر سڑکیں مکمل تباہ جبکہ 1440 کلومیٹر پر محیط سڑکیں جزوی طور پر تباہ ہوئی ہیں، ہسپتالوں کے محاصروں اور حملوں کے دوران اسرائیلی فوج ہزاروں فلسطینیوں کو 200سے زائد اجتماعی قبروں میں پھینک چکی ہے۔غزہ جنگ کے دوران 173 صحافی بھی اسرائیلی فوج کی بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کا نشانہ بن کر زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔جبکہ لاتعداد صحافی پابند سلاسل ہیں ۔ غزہ میں سب سے بری حالت بچوں کی ہے ۔ بچے جو کہ کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ قوموں کی تعمیر وترقی اور نشوونما کا دارومدار بچوں پر ہوتا ہے ۔ جب کسی قوم کے بچے موت کے گھاٹ اتار دیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے ۔ صہیونی اسی فارمولے پر عمل پیرا ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی درندے فلسطینی بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے اور جانوروں کی طرح ذبح کررہے ہیں ۔اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسیف ) کی رپورٹ انتہائی لرزہ خیز ، دلوں کو ہلادینے تڑپا دینے اور خون کے آنسو رولادینے والی ہے ۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کا کہنا ہے کہ یہ جنگ جو اسرائیل نے غزہ پر مسلط کررکھی ہے اس میں سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہورہا ہے ۔اس جنگ میں روزانہ ہی فلسطینی بچے اسرائیلی فوج کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ ایک سال کے دوران ہر روز تقریباََ 40 بچے شہید کیے گئے ہیں ۔ غزہ کا مختصر سا خطہ اپنے اندر موجود لاکھوں بچوں کے لئے گویا زمین پرجہنم بنادیا گیا ہے۔ صورت حال بہتر ہونے کی بجائے دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 ء کو اسرائیلی حملے کے بعد اب تک 14,100 سے زائد بچے موت کے گھاٹ اتارے جاچکے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ میں روزانہ 35 سے 40 کے درمیان بچے اور بچیاں شہید کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں لوگ مرنے کے بعد ملبے کے نیچے دب کر بھی لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جو لوگ روزانہ فضائی حملوں اور فوجی کارروائیوں میں بچ جاتے ہیں انہیں اکثر خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بچوں کو بار بار تشدد اور بار بار انخلا کے احکامات سے بے گھر کیا جاتا ہے یہاں تک کہ محرومیت نے پورے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ بچے اور ان کے اہلخانہ کہاں جائیں؟ وہ سکولوں اور پناہ گاہوں میں محفوظ نہیں ہیں، وہ ہسپتالوں میں محفوظ نہیں ہیں اور زیادہ بھیڑ والے کیمپوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

    ایک طرف غزہ میں اسرائیل کی بدترین جارحیت جاری ہے تو دوسری طرف دنیا کے نقشے پر57اسلامی ممالک موجود ہیں جو ہر قسم کے وسائل ،قدرتی ذخائر اور معدنیات سے مالال ہیں ۔57اسلامی ممالک کی ا فواج کی تعداد لاکھوں پر مشتمل ہے جو کہ ہر قسم کے جدید ترین اسلحہ سے لیس ہے بلکہ ان میں پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک بھی شامل ہے اس کے باوجود غزہ کے مسلمان بے یارومددگار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ تمام اسلامی ممالک سے صرف سعودی عرب ہی قدمے دامے درمے سخنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کررہا ہے ۔

    اب چاہئے تو یہ کہ دیگر اسلامی دنیا بھی غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ان کی جانی مالی اور عسکری مدد کرتی لیکن اسلامی دنیا خاموش تماشائی ہے جبکہ اسرائیلی درندے فلسطینی مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑے ہیں جس طرح بھوکے گدھ اپنے شکار پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس وقت غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے ۔۔۔۔وہ جنگ نہیں بلکہ یکطرفہ قتل عام ہے ۔ اسلامی ممالک نے غزہ میں بڑھکتی ہوئی آگ کو نہ بجھایا تو عین ممکن ہے کہ آگ کے یہ بڑھکتے ہوئے شعلے ان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں ۔
    اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
    یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا ہی گھر نہ ہو

  • خوراک نہیں کفن بھیج دیں، فلسطینی وزارت صحت کی دنیا سے اپیل

    خوراک نہیں کفن بھیج دیں، فلسطینی وزارت صحت کی دنیا سے اپیل

    غزہ میں اسرائیلی بربریت ،کفن کم پڑ گئے، فلسطینی وزارت صحت نے کفن بھجوانے کی اپیل کر دی

    فلسطینیوں پر اسرائیلی بربریت جاری ہے، سات اکتوبر کو گزشتہ برس حماس کے حملے کے بعد سے اب تک اسرائیلی غزہ پر بمباری کر رہا ہے، فلسطین میں کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں اسرائیل نے بمباری نہ کی ہو، گھر مسمار، سکول تباہ، ہسپتال ملیا میٹ کر دیئے گئے، لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، ہزاروں لاپتہ ہیں، لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، ایسے میں فلسطینی وزارت صحت نے عالمی دنیا سے اپیل کی ہے کہ اگر کچھ اور نہیں بھیج سکتے تو کم از کم کفن ہی بھیج دیں،فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہسپتالوں میں کفن ختم ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے لاشوں کو کمبل سے ڈھانپا جا رہاہے،ہمیں کفن بھجوائے جائیں،کھانے پینے کی اشیا کی ضرورت نہیں کیونکہ اسرائیل ہمیں بھی قتل کر دے گا، ہمیں اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے شہداء کی لاشیں ڈھانپنے کے لیے کچھ کفن بھیج دیں تاکہ آپ ہمارے خون اور زخم دیکھ کر بیزار نہ ہوں

    دوسری جانب آسٹریلوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے،غزہ میں لگ بھگ 2 لاکھ فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، غزہ کی 8 فیصد آبادی ماری جا چکی ہے،اسرائیلی بمباری سے غزہ کے اسپتال تباہ ہوچکے ہیں اور چند اسپتال جزوی طور پر فعال ہیں۔

    یحییٰ سنوار کی موت کیسے ہوئی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تفصیلات

    یحییٰ سنوار کی شہادت اسرائیل کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوگی،حماس

    یحییٰ سنوار کی موت پر وہی احساسات جو اسامہ بن لادن کی موت پر تھے،جوبائیڈن

    اذکار کے کتابچے،تسبیح، گھڑی،اسلحہ،شہید یحییٰ سنوار کا کل سامان

    حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار شہید،حماس کی تصدیق

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار