عمران خان کی اڈیالہ جیل میں سہولت کاری کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف کاروائی جاری ہے، گزشتہ روز خبر آئی تھی کہ سابق آئی جی جیل خانہ جات شاہد سلیم کو حراست میں لیا گیا ہے تا ہم بعد میں شاہد سلیم کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے اپنی ہی گرفتاری کی خبر سن رہے ہیں، ویڈیو میں شاہد سلیم کا کہنا تھاکہ اپنے ہی بارے میں اپنے گھرپر چائے پیتے ہوئے جھوٹی خبردیکھنا کیسا لگتا ہے؟ اسے کہتے ہیں یلو جرنلزم۔
شاہدسلیم کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے تحقیقات کی گئی تھیں، تحقیقات کے بعد کلیئر ہونے پر شاہد سلیم کو رہا کیا گیا ہے جس کے بعد گھر پہنچ کر انہوں نے ویڈیو بنائی اور وائرل کی.
سینئر صحافی و اینکر مزمل سہروردی نے مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر بات کرتے ہوئے اس حوالہ سے کہا کہ سابق آئی جی جیل شاہد صاحب، کل انہوں نے چائے پیتے ہوئے اپنی ویڈیو جاری کی، گرفتاری کیخبر چلا کر، وہ 12 گھنٹے حراست میں رہے،ہم سب کو پتہ ہے، ان پر اتنا ہی تھا کہ وہ فیض کے دور میں آئی جی جیل تھے، انکے دور میں ن لیگی جیلوں میں تھے، فیض حمید ان سے بات چیت کیا کرتے تھے، فیض حمید نے شاہد سلیم کو رابطہ کیا، چھ آٹھ ماہ پہلے اور کہا کہ میں عمران خان سے بات کرنا چاہتا ہوں کوئی بندوبست کروا دیں تا کہ میری بات ہو جائے،میں ملنے جیل نہیں جانا چاہتا، اب شاہد نے جیل میں اکرم سے رابطہ کروایا اور پھر اکرم نے فیض حمید کی عمران خان سے بات کروا دی،اب جب تحقیقات کل کی گئیں تو انکی اور فیض کی ایک ہی کال ریکارڈ پر آئی جو عمران خان سے رابطے کے لئے کی گئی تھی اسکے بعد فیض نے آئی جی سے رابطہ نہیں کیا، کیونکہ فیض اکرم سے ڈائریکٹ تھے، 12 گھنٹے تحقیقات کے بعد حکام کو پتہ چل گیا کہ فیض سے ایک ہی رابطہ تھا، چھوڑ دیا، موصوف نے آ کر ویڈیو بنا دی، وہ یہ ویڈیو بنا کر کہیں کہ 12 گھنٹے تحقیقات بھگت کر نہیں آئے، بنائیں، کیا اکرم کو فیض سے متعارف انہوں نے نہیں کروایا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ فیض حمید کا فیلڈ کورٹ مارشل ہو رہا ہے، اس میں کوئی معافی نہیں ہے،میرا خیال ہے کہ 14 سال سزا تو ہو گی،
مزمل سہروردی نے مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہر اقتدار مستحکم ہوتا نظر آ رہا ہے، اقتدار کے باسیوں کو اقتدار مستحکم اور اپنے مخالفین کی شہہ مات نظر آ رہی ہے، اطمینان اور مسکراہٹ اقتدار کے باسیوں کی شکلوں پر نظر آتی ہے،سب کچھ صحیح سمت میں چل رہا تھا، یہ سوچ بڑے عرصے تھی کہ خان صاحب کو سسٹم کے اندر سے حمایت حاصل ہے،ورنہ ایسا نہیں ہو سکتا، اسٹیبلشمنٹ کو اپنی منجی تلے ڈانگ پھیرنی چاہئے،پہلے اسٹیبلشمنٹ نے اپنا ان ہاؤس آرڈر کرنا تھا، دیر آید درست آید، اب کاروائی شروع ہوئی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب آپ ایک ایسے آدمی کے خلاف کاروائی کرتے جو کورکمانڈر ہو، ڈی جی آئی ایس آئی ہو، اتنا ہم ہو پھر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اسکو پکڑنے کے بعد اسکے مخالفین بھارت،و دیگر کیا الزامات لگاتے ہیں،لوگ اس کو مختلف ڈائریکشن میں دیکھتے ہیں، سوچ بچار کرنی پڑتی ہے،یہ پوری فوج کا فیصلہ تھا اب اس میں کوئی بچت نہیں ہونی، مجھ سے لکھوا لیں کہ فیض حمید کو سزا ہو گی او ر کڑی سزا ہو گی
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ میں فیض حمید کو سزا کے بیان پر متفق ہوں، لیکن سوچ بچار کی بات پر کہتا ہوں کہ ادارے کو نقصان ہوا ہے، اس نے ادارے کا نقصان کیا، اگر یہ سٹیپ ایک ماہ یا چھ ماہ پہلے لیا ہوتا تو ادارے کا اتنا نقصان نہ ہوتا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دفاتر پر ریڈ کئے گئے وہاں سے کمپیوٹر لے کر گئے، رؤف حسن کا ریمانڈ ملا، وہاں سے تانے بانے ملے، ڈیٹا ملا ہوا سے تو کچھ نہیں کیا جا سکتا، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ بچے بچے کو پتہ ہے کہ وہ سہولت کاری کر رہا تھا، فیض نیازی گٹھ جوڑ چل رہا تھا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پیرنی جادو ٹونے کرنے والی ہے لیکن پھر بھی اسکے فالور ہیں،مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ جو ہو رہا ہے اچھا ہو رہا ہے ، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فیض کی وجہ سے اور بڑے لوگ انڈر سکروٹنی ہو گئے ہیں، لوگ واٹس ایپ پر جواب نہیں دے رہے، جن کو میں جانتا ہوں وہ مجھے بھی جواب نہیں دے رہے، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ فیض حمید کے ساتھ سابق آفیسر موجود تھے وہ آئی ایس آئی ،ایم آئی کے مقابلے میں اپنی ایجنسی چلا رہے تھے جو پی ٹی آئی کی مدد کر رہی تھی، وہ انکا پرائیویٹ نیٹ ورک تھا ،جو سہولت کاری کر رہا تھا، جس طرح آپ ذاتی بینک نہیں چلا سکتے، اس طرح ذاتی انٹیلی جنس ایجنسی بھی نہیں چلا سکتے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فیلڈ کورٹ مارشل ہو رہا ہے، اس میں کوئی معافی نہیں ہے،میرا خیال ہے کہ 14 سال سزا تو ہو گی،چار قسم کے کورٹ مارشل ہوتے ہیں،فیلڈ مارشل سب سے اہم ہے، ریاست اور افواج کے بدترین دشمن کا یہ فیلڈ کورٹ مارشل ہوتا ہے.میں جب یہ حاضر سروس تھا تب اسکے منہ پر بھی بات کرتا تھا،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ویڈیو یاد ہے جس میں آصف زرداری سنجرانی کو کہہ رہے ہیں کہ فیض تو گیا اب تیرا کیا بنے گا اس وقت سنجرانی کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ فیض نہیں گیا، پاکستان کے سیاسی کلچر میں لوگ کہتے نہیں لیکن دبے لفظوں میں کہتے ہیں کہ فوج اپنا بندہ قابو نہیں کر سکی، ہم کیا کہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ باجوہ صاحب کو ہم بھی کہتے تھے، ایک آدمی کی کارستانیوں کی وجہ سے پورے ادارے کو برا نہیں کہہ سکتے،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ سابق آئی جی جیل شاہد صاحب، کل انہوں نے چائے پیتے ہوئے اپنی ویڈیو جاری کی، گرفتاری کیخبر چلا کر، وہ 12 گھنٹے حراست میں رہے،ہم سب کو پتہ ہے، ان پر اتنا ہی تھا کہ وہ فیض کے دور میں آئی جی جیل تھے، انکے دور میں ن لیگی جیلوں میں تھے، فیض حمید ان سے بات چیت کیا کرتے تھے، فیض حمید نے شاہد سلیم کو رابطہ کیا، چھ آٹھ ماہ پہلے اور کہا کہ میں عمران خان سے بات کرنا چاہتا ہوں کوئی بندوبست کروا دیں تا کہ میری بات ہو جائے،میں ملنے جیل نہیں جانا چاہتا، اب شاہد نے جیل میں اکرم سے رابطہ کروایا اور پھر اکرم نے فیض حمید کی عمران خان سے بات کروا دی،اب جب تحقیقات کل کی گئیں تو انکی اور فیض کی ایک ہی کال ریکارڈ پر آئی جو عمران خان سے رابطے کے لئے کی گئی تھی اسکے بعد فیض نے آئی جی سے رابطہ نہیں کیا، کیونکہ فیض اکرم سے ڈائریکٹ تھے، 12 گھنٹے تحقیقات کے بعد حکام کو پتہ چل گیا کہ فیض سے ایک ہی رابطہ تھا، چھوڑ دیا، موصوف نے آ کر ویڈیو بنا دی، وہ یہ ویڈیو بنا کر کہیں کہ 12 گھنٹے تحقیقات بھگت کر نہیں آئے، بنائیں، کیا اکرم کو فیض سے متعارف انہوں نے نہیں کروایا، اسکے بعد عمران خان کے پاس موبائل فون موجود تھا، وائی فائی لگا ہوا تھا، واٹس ایپ میسج بھی کرتے تھے، باتھ روم سے میسج کرتے تھے، فون باتھ روم میں رکھا ہوا تھا کیونکہ وہاں کیمرے نہیں لگے ہوئے تھے، واٹس ایپ پر ہی وہ رابطے میں رہتے تھے، زیادہ وقت عمران خان باتھ روم میں گزارتے اور کمبوڈ پر بیٹھ کر میسج کال کرتے، اسی لئے تو پیٹ خرابی کا کہتے تھے اب انکا پیٹ ٹھیک ہو گیا ہے.
مزمل سہروردی کا مزید کہنا تھا کہ ایک سال تو جیل تھی ہی نہیں عمران خان کو ، وہ اپنا پورا نیٹ ورک چلا رہےتھے اس کو جیل تھوڑا ہی کہتے ہیں ،کہتے تھے کرنل جیل پر قبضہ کیا ہوا ہے، کرنل کا جیل پر قبضہ ہوتا تو واٹس ایپ کا استعمال ہوتا، کرنل نے پہلے دن ہی سہولت کاروں کو پکڑ لینا تھا، عمران خان نے واویلا اسلئے کیا کہ ہم یہی سمجھیں کہ آئی ایس آئی نے جیل پر قبضہ کیا، عمران کے دور میں ایسا ہوتا تھا سیکٹر کمانڈر جیل ہوتا تھا، جیل میں عمران خان جمائما سے بھی بات چیت کرتے رہے ہیں،حماد اظہر کیوں بھاگ گیا ہے، یہ فیض کے سارے بچے بھاگ جائیں گے، یہ فیض کا بچہ ہے،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان کہہ رہا تھا کہ دو ماہ بعد حکومت چلی جائے گی اب وہ کہے ناں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی باتوں کو سیریس نہ لیا کریں وہ ہر بات پر یوٹرن لیتا ہے،میں نے ایک بار کہا تھا اور وی لاگ بھی کیا تھا کہ فیض ہر ایک کا فون ٹیپ کرتا تھا، بشریٰ اسکے قریب تھی وہ بشریٰ کو پہلے بتاتا تھا کہ کل فلاں یہ کرنے والے ہیں، کل یہ ہو گا، اب بشریٰ بی بی عمران خان کو کہہ کر سوتی تھی کہ اللہ مجھے کوئی مخبری دے گا، پھر صبح اٹھ کر بات بتاتی تھی اور دن کو وہ ہو جاتا تو شام کو خان کہتا دیکھو کتنی اللہ والی ہے، یہ سب بتا تو فیض رہا ہوتا، بشریٰ فیض کے ساتھ اینڈ اینڈ تھی، بزدار،گوگی، احسن،یہ سب فیض حمید کے لوگ تھے، فیض حمید کا جو فارم ہاؤس ہے، سڑک ہے اسکا تخمینہ لگوائیں وہ کتنا بنتا ، وہ ایسے نہیں بنتا،مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان ضعیف الاعقتاد آدمی تھا، اگر اسکو جیل جا کر کہیں کہ یہ عمل کریں تو دوبارہ وزیراعظم بن جائیں گے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ بڑا کینہ پرور آدمی ہے، اب تو شاید مجھے نہ ملے، میری دوستی حفیظ اللہ نیازی نے کروائی تھی، وہ ہمیں لے کر جاتے تھے، وہاں سے ہماری دوستی ہوئی، جب حفیظ کی لڑائی ہوئی عمران خان سے تو میں نے اتنی کوشش کر لی کہ دو تین سال کہ عمران خان مان لے لیکن وہ نہیں مانا کیونکہ وہ مغرور تھا،
سینئر صحافی و تجزیہ کار محسن جمیل بیگ نے پروگرام کھرا سچ میں انکشاف کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے معیز خان کو اس وقت بچایا جب کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔
365 نیوز پر پروگرام کھرا سچ کے میزبان سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے محسن بیگ کا کہنا تھا کہ موجودہ آرمی چیف اس وقت ڈی جی ایم آئی تھے۔ جب ہم نے ٹاپ سٹی پر فالو اپ کہانیاں شائع کیں تو موجودہ آرمی چیف نے مجھ سے رابطہ کیا اور اس کے بارے میں پوچھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں اس شخص (معیز خان) کو نہیں جانتا لیکن اس کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ انتہائی ناانصافی ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایم آئی کے ایک افسر کو بھیجا اور میں نے معیز خان کے بھائی سے ان کی ملاقات کا بندوبست کیا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے معیز خان کو اس وقت بچایا جب کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ معیز خان نے کوئی جرم کیا تھا تو اسے پولیس کے حوالے کرنا چاہیے تھا۔ اسلام آباد پولیس معیز خان پر کیے جانے والے تشدد کی وجہ سے اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تھی۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید چاہتے تھے کہ معیز اپنے بھائی کے نام پر ٹاپ سٹی کے شیئرز پر دستخط کرے۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی ٹیم معیز کے گھر کے سی سی ٹی وی اپنے ساتھ لے گئی لیکن وہ فوٹیج پہلے ہی بیک اپ کمپیوٹرز میں محفوظ ہو چکی تھی جس کا انہیں علم نہیں تھا، اس غلطی نے انہیں بے نقاب کر دیا،
*موجودہ آرمی چیف اس وقت ڈی جی ایم آئی تھے۔ جب ہم نے ٹاپ سٹی پر فالو اپ کہانیاں شائع کیں تو موجودہ آرمی چیف نے مجھ سے رابطہ کیا اور اس کے بارے میں پوچھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں اس شخص (معیز خان) کو نہیں جانتا لیکن اس کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ انتہائی ناانصافی ہے۔ آرمی… pic.twitter.com/4dvTS45s3l
میں نے ڈیڑھ برس قبل فیض حمید کے احتساب کا مطالبہ کیا تو لوگ کہتے تھے ایسا نہیں ہوتا، مبشر لقمان
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے پروگرام کھراسچ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فیض حمید اور انکے حواریوں کے حوالہ سے اہم پیشرفت ہو رہی ہے،لوگوں نے اپنی انگلیاں دانتوں میں دبائی ہوئی ہیں کسی کو یقین نہیں آ ریا، ڈیڑھ برس قبل جب پروگرام کھرا سچ میں میں نے مطالبہ کیا تھا کہ فیض حمید کا احتساب ہونا چاہئے تو لوگ کہتے تھے جنونی ہے، ایسا نہیں ہوتا،لیکن قانون سب سے بڑا ہوتا ہے، قانون اور آئین افضل ہوتے ہیں، جب کوئی ماورائے آئین کام کرے گا تو اسکو جواب دینا پڑے گا، فیض حمید کے بے شمار کارنامے ہیں، کیا کیا بتائیں،انکا فیلڈ کورٹ مارشل ہو رہا ہے.
پروگرام کھرا سچ میں بات کرتے ہوئے خاتون صحافی و اینکر کرن ناز کا کہنا تھا کہ فوج میں ادارے کے اندر خود احتسابی کے معاملات چلتے رہتے ہیں، فیض حمید پچھلے کچھ سالوں میں 2014 سے لے کر اب تک اتنا گونجتا رہا ہے کہ جو پتھر اٹھائیں اس کا نام نکلتا رہا، شوکت صدیقی کی طرف سے بھی الزامات لگائے جاتے رہے، ن لیگ کی جانب سے الزامات لگائے جاتے رہے، فیض حمید کے دور میں کیا کچھ ہو رہا تھا سب سامنے آ رہا تھا، ٹاپ سٹی کا معاملہ سامنے آیاکوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف کاروائی ہو گی مدعی کو عدالتوں کی جانب سے بھی یہ کہا گیا تھا کہ وہ متعلقہ فورم پر جائیں،
جنرل باجوہ کو جنرل فیض کی سرگرمیوں کا بتایا تو۔۔مبشر لقمان نے آرمی آڈیٹوریم کی کہانی بتا دی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر پاک فوج نے عمل کیا،اس کیس میں سپریم کورٹ کی بڑی کلیئر ہدایات ہیں جو وہ فالو کر رہے ہیں،اطہر کاظمی نے کہا کہ وزیر دفاع ٹی وی پر بتارہے ہیں کہ فیض حمید ہمیں حکومت آفر کرتے رہے، وہ کس کیسپٹی میں کرتے رہے اس پر بھی تحقیقات ہونی چاہئے، دوران سروس فیض حمید پر بہت سے الزامات لگے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے خود الزام لگائے فیض حمید جب حاضر سروس تھے، اینکر موجود تھے، ارشد شریف مرحوم بھی موجود تھے،حامدمیر،کاشف عباسی،ندیم ملک موجود تھے، جب جنرل باجوہ نے بات کی تو میں نے کہا کہ عمران خان بات نہیں سنتا تو آپ ہماری بات نہیں سنتے، فیض حمید کو نہیں بدلتے، یہ بات آرمی آڈیٹوریم میں ہوئی، سب کے سامنے ہوئی،کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں،
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اس ملک میں دہشتگردوں کو واپس گٹھ جوڑ کرکے عمران نیازی واپس لیکر آیا اور انکو یہاں بسایا گیا جس کی وجہ سے آج ملک کا امن و امان خراب ہوا اور انتشار پھیلا۔ عمران خان کا فیض حمید سے رابطہ جیل سے بھی بحال تھا اور پیغام رسانی ملک میں انتشار پھیلانے کیلئے جاری تھی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا رابطہ بحال تھا،گٹھ جوڑ کے نتیجے میں جوڑ توڑ کی سیاست کی گئی، دہشتگردوں کو واپس کون لے کر آیا ،کیا وہ بھی گٹھ جوڑ نہیں تھا،مہنگائی اس دور میں شروع ہونا شروع ہوئی جس دور میں 190 ملین پاونڈز کا کیس ہوا، جس دور میں توشہ خانہ کیس ہوا، جس دور میں سائفر کیس ہوا، جس دور میں فرح گوگی اور پنجاب کا پورا سسٹم تھا جس میں بیڈ گورنس اور کرپشن عام تھی،دیکھنا چاہئے کہ مہنگائی کس کے دور میں ہوئی،اب مہنگائی میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے، پٹرول کی قیمت کم ہوئی،یوم آزادی پر وزیراعظم نے قوم کو تحفہ دیا،یہ تمام اقدامات حکومت نے کئے، بجلی کے بلوں میں بھی حکومت نے سبسڈی دی جو تین ماہ کے لئے ہے،
کسی ملک میں یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ گٹھ جوڑ کر کے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچایا جائے، عطا تارڑ
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے ٹھیک کہا مہنگائی اس دور میں ہوئی جب ان کاسیٹ اپ تھا،فوج کا ادارہ دنیا کے بہترین اداروں میں اس لئے جانا جاتا ہے کہ وہ خود احتسابی پر یقین رکھتے ہیں، تحقیقات کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، مزید گرفتاریاں بھی ہوں گی، تحریک انتشار کے لیڈر عمران نیازی نے اس ملک کےاندر انتشار ،تقسیم، نفرت کی سیاست کی، ان لوگوں کے ساتھ گٹھ جوڑ، الحاق کر رکے اس ملک میں بدامنی پھیلانے، ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی،جنرل فیض کی گرفتاری کے بعد معاملات آگے چلے، فوج نے شفاف تحقیقات کیں، اندرونی تحقیقات کا فوج کا اپنا میکنزم ہے، تحقیقات کا دائرہ کار بڑھتا نظر آ رہا ہے،تمام سازشوں کے سرغنہ بانی پی ٹی آئی تھے، بانی پی ٹی آئی کی سہولت کاری فیض حمید اور باقی افسران کر رہے تھے، شواہد سامنے آرہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کا رابطہ بحال تھا، جیل سے پیغام رسانی جاری تھی، جو انتشار پھیلائے گا اس کا انجام یہی ہوگا، باقی اداروں کو بھی خود احتسابی کرنی چاہیے، ثاقب ہو نثار ہو یا جو بھی ہو معاملات آگے بڑھیں گے،شفافیت سے چلیں گے، کسی ملک میں یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ گٹھ جوڑ کر کے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچایا جائے، طالبا ن کو کون واپس لایا، ملک کا امن کس نے خراب کیا،یہی ذمہ دار ہیں، ابھی جس طرح شواہد سامنے آ رہے ہیں، نہ صرف تحریک عدم اعتماد کے دوران انکا آپس میں رابطہ رہا بلکہ اب جیل سے بھی پیغام رسانی جاری تھی جو ملک میں انتشار پھیلانے کے لئے تھی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں دو لوگوں کی چائے مشہور ہے، بچے بچے کو انکے چائے کے کپ کا پتہ ہے، ایک ابھینندن تھا اور ایک کابل ایئر پورٹ پر فیض حمید کی تصویر سامنے آئی تھی
مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر اپنے وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ فیض حمید کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف میں استعفوں کا سیزن شروع ہو گیا ہے،نئے نئے انکشافات،کہانیاں سامنے آ رہی ہے، ابصار عالم اور فیض حمید کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آ گئی جس میں فیض حمید اس وقت کے چیئرمین پیمرا ابصار عالم پر دباؤ ڈال رہے تھے،مجھ سے کئی لوگوں نے پوچھا کہ کونسے چینل تھے میں نے کہا کہ میں واضح تونہیں بتا سکتا لیکن اندازہ ہے کہ اس وقت آفتاب اقبال کے لئے یہ فون کال ہوئی ہوں گی کیونکہ وہ اس وقت آپ ٹی وی کا لائسنس لا رہے تھے، غالبا یہ وہی ہے، اب ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ وطن واپس اؤں گا موجودہ حالات کا مجھے سے کوئی تعلق نہیں، انصار عباسی نے جنرل ر قمر جاوید باجوہ کے بارے میں دعویٰ کیا کہ انکے خلاف کوئی کاروائی زیر غور نہیں ہے،سابق آرمی چیف کے بارے میں ممکنہ کاروائی کے بارے سوشل میڈیا قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا گیا کیونکہ یہ کہا جا رہا تھا کہ مستقبل میں کوئی کاروائی ہو،یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اضافی سیکورٹی جنرل ر قمر جاوید باجوہ کے گھر لگائی گئی تا ہم یہ جعلی پوسٹ تھی، جنرل ر قمر جاوید باجوہ بیرون ملک اور دبئی ہیں جو چند دن میں واپس آئیں گے،سوشل میڈیا پر جعلی پوسٹ ریتائرڈ جعلی افسران نے شیئر کی جو بیرون ملک مقیم ہے اور پروپیگنڈے کے لئے مشہور ہے اسکو سزا بھی سنائی جا چکی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان اور خواجہ آصف جنرل باجوہ کے احتساب کے مطالبے پر متفق ہیں، یہ واضح نہیں کہ وہ خود کر رہے ہیں، حکومت یا کون کر رہا، سپیکر پنجاب اسمبلی نے خواجہ آصف کے بیان کی تردید کی ہے، یہ بھی بتایا جا رہا کہ درجنوں گرفتاریاں ہوں گی، کچھ ریٹائرڈ،کچھ سول،کچھ ورکر، یوٹیوبر، ججز کے نام بھی ہوں گے، کچھ صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ فیض حمید نے ملک پر 30 سال تک قبضے کا منصوبہ بنا رکھا تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ فیض حمید کے جرائم کی تفصیل بہت لمبی ہے، ایک اشار ے پر ٹی وی کی ہیڈ لائن تبدیل،چلتے پروگرام بند ہو جاتے تھے، آج وہ خود خبر بن گئے، جو رابطے میں تھے وہ بھی زیر حراست باقی انڈر گراؤنڈ،سبق ہے ان لوگوں کے لیے جن کے پاس طاقت ہے کہ لوگوں کے ساتھ ظلم نہیں کرنا چاہئے، کل فیض حمید شکاری تھا آج شکار ہو چکا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آرمی کورٹ میں کیس جلد نمٹا دیئے جاتے ہیں، فوج کا عدالتی نظام ہے، شعبہ ہے جو بہت متحرک ہے، جو الزام فیض حمید پر لگائے گئے انکو عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد کی سرگرمیوں کا الزام بہت سنگین ہے اس میں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے
فیض نیازی گٹھ جوڑ سے متعلق اہم حقائق سامنے آگئےہیں، فیض حمید اور عمران نیازی گٹھ جوڑ کو سابق آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ اور موجودہ آرمی قیادت نے توڑا
عمران خان آئی ایس آئی کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ فیض حمید نے ان کی ہدایت پر عمران خان کے مخالفین کے لئے مشکلات کھڑی کیں،اپوزیشن کو عمران خان کے کہنے پر رگڑا دینے میں پیش پیش رہے، جس کے بعد فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا گیا،فیض حمید کو ہٹانے کے بعد اس وقت آرمی میں بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا،اس وقت کے آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ فیض نیازی گٹھ جوڑ میں اس وقت رکاوٹ بنے جب انہوں نے فیض حمید کو عہدے سے ہٹایا، تاہم فیض حمید کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان کے لئے سہولت کاری جاری رہی، پیغامات اور مراسلات بھجوانے میں بھی فیض حمید کااہم کردار تھا
عمران خان فیض حمید کے ساتھ ملکر اپوزیشن کو لتاڑ رہے تھے اور وہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی اس قسم کی توقع کر رہے تھے، جنرل ر قمر جاوید باجوہ کو جب صورتحال کا پتہ چلا کہ فیض نیازی گٹھ جوڑ کس طرح چل رہا تو انہوں نے اس گٹھ جوڑ کو توڑا،15 اگست کو نیازی نے اڈیالہ میں خود تسلیم کیا کہ وہ ایسا نہیں چاہتا تھا اور فیض کو ہٹائے جانے پر ناراض تھا، فیض نے اپنی ٹیمیں بنائی ہوئی تھیں جو نیازی کی سہولت کاری کے لئے کام کر رہی تھیں، فیض کی یہ ٹیمیں سارے پیغام رسانی کا کام کر رہی تھیں،یہ تحریک انصاف کے معاملات کو بھی چلا رہے تھے، فوج نے ستر سال میں پہلی بار ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کی تو یہ معاملہ بہت ہی سنگین ہے.اگر فوج نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی پر ہاتھ ڈال دیا ہے تو پاکستان میں پھر کسی اور کی بچت کیسے ممکن ہے؟
مسلم لیگ ن کے رہنما،نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی گرفتاری معجزہ قرار دے دی
پارلیمنٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میں بھی جنرل فیض حمید کے متاثرین میں ہوں، اُنہوں نے اکتوبر میں مجھ سے معافی مانگی، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک معجزہ تھا، اس معجزے پر حیران ہوں، پہلی مرتبہ اس طرح چیزیں ہوئی ہیں،یہ 2011 کا پراجیکٹ تھا جس کا اختتام ہوا، 2014 کا دھرنا بھی ناکام ہوا اور معیشت بھی خراب ہوئی، ہم آج تک اس کے نقصانات بھگت رہے ہیں
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ اللہ کرے ہم بطور قوم سیدھے راستے پر چلیں، غلط چیزوں کے ہمیشہ سے خلاف ہوں انہیں کنٹرول کیا جانا چاہیے، گندی سیاست نے اس ملک کا برا حال کردیا ہے، دھرنوں، گندی سیاست کے نتیجے میں دنیا کی 24 ویں معشیت 47 نمبرپرآگئی،بلوچستان ہمشہ سے میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کے دل کے نزدیک رہا ہے، بلوچستان میں خوشحالی ور ترقی ہو تو ملک ترقی کریگا ہم سب نے مل کر بلوچستان کے مسائل کی حل کو نکالنا ہوگا،
آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی گرفتاری پر میرا فوری ردعمل یہ تھا کہ "عمران خان کے گلے میں پھندا تنگ ہو گیا ہے”۔آئی ایس پی آر کے ابتدائی بیان میں دو اہم پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی۔ سب سے پہلے ٹاپ سٹی سے متعلق کرپشن کے الزامات شامل تھے۔ دوسرا فیض حمید کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی ایکٹ کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا۔ پریسر نے واضح طور پر کہا کہ یہ خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے فیض حمید کو فوجی تحویل میں لیا گیا،فیض حمید کے خلاف فیلڈ کورٹ مارشل کی کارروائی جاری ہے۔ تیزی سے سامنے آنے والے واقعات اب اس گرفتاری کو 9 مئی 2023 کو پاک فوج کی تنصیبات پر حملوں سے جوڑتے نظر آتے ہیں۔
یہ بات مشہور ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا پی ٹی آئی سے گہرا تعلق تھا۔ برسوں کے دوران، پانچویں نسل کی جنگ کے ذریعے، پی ٹی آئی نے معاشرے اور اپنی مسلح افواج کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس سے فوج کو نقصان پہنچا ہے۔ اس نے بہت سے دلوں میں فوج کے خلاف نفرت کا بیج بو دیا ہے،
موجودہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔ انہیں اس عہدے سے اچانک برطرف کر دیا گیا تھا جب انہوں نے عمران خان کے قریبی لوگوں کی کرپشن کی اطلاع دی تھی۔عمران خان ڈی جی آئی ایس کو ہٹانا نہیں چاہ رہے تھے جب فیض حمید تھے ،آرمی چیف بننے کے لیے فیض حمید کو کمانڈ کا تجربہ درکار تھا، کیونکہ ان کا نام مستقبل کے آرمی چیف کے عہدے کے لیے زیر غور تھا۔
ایک نظریہ بتاتا ہے کہ 9 مئی کے حملے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو بطور آرمی چیف ہٹانے کی کوشش تھی۔ فوج کی تنصیبات پر حملوں سے توقع کی جا رہی تھی کہ زبردست جواب دینے پر اکسائیں گے، شاید مجرموں پر فائرنگ بھی کر دی جائے تاہم فوج نے ایک مختلف طریقہ اختیار کیا۔ پھر بھی، اس طرح کا کھلا تشدد یا بغاوت دنیا میں کہیں بھی ناقابل قبول ہے، اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
اس میں شامل افراد کے لیے فوائد واضح ہیں اور اس میں کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ 9 مئی کے نتیجے میں دو کور کمانڈرز، ایک لاہور اور ایک منگلا سے برطرف کر دیا گیا۔ یہ نظریہ کتنا درست ہے، اور ہر فریق کی شمولیت کی حد کا تعین عدالتوں کو کرنا ہے۔تاہم جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ فوج کے اعلیٰ افسران اس معاملے پر متحد ہیں۔ نظریاتی طور پر، آرمی چیف اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ معاشرے کے تانے بانے کو تباہ کرنے اور ملک کو نقصان پہنچانے والے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان نفرت پیدا کرنے والے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کا اطلاق نہ صرف پی ٹی آئی کے اراکین پر ہوتا ہے بلکہ معاشرے کے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے دیگر سہولت کاروں پر بھی ہوتا ہے۔آگے چل کر مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں.
سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید اور اسکے ساتھی ریٹائرڈ فوجی افسران کی گرفتاریوں پر امریکا کا ردعمل سامنے آیاہے
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نےکہا کہ پاکستان میں سابق فوجیوں کی گرفتاری پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، پینٹاگون کے ترجمان میجر جنرل پیٹرک رائیڈر کاکہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مستحکم شراکت داری ہے،سابق فوجیوں کی گرفتاری کی رپورٹ سے آگاہ ہیں،پاکستان میں سابق فوجیوں کی گرفتاری پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، امریکا پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے،علاقائی سلامتی اور مشترکا اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کی مدد کرتے رہیں گے،دونوں ممالک کی فوجی اور سیاسی قیادت میں دو طرفہ امور پر بات ہوتی رہتی ہے۔
واضح رہے کہ فیض حمید کو کچھ دن قبل فوج نے حراست میں لیا تھا اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کی گئی تھی،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے،سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی گئی، انکوائری پاک فوج نےفیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی درستگی کا پتا لگانے کیلئے کی گئی، فیض حمید کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی کئی خلاف ورزیاں ثابت ہوچکی ہیں،گزشتہ روز آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ فیض حمید سے تعلق کی بنا پر 3 سابق فوجی افسران کو بھی فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے، تین ریٹائرڈ افسران فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے سلسلے میں گرفتار کئےگئے ہیں ریٹائرڈ افسران اور ان کے ساتھیوں سے مزید تفتیش جاری ہے، کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں،ریٹائرڈ افسران نے ملی بھگت سے سیاسی مفادات کے لیے عدم استحکام کو ہوا دی،ان افسران نے فوجی نظم و ضبط کے خلاف کام کیے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بڑی اہم پیشرفت ہوئی ہے، چار افسر ابھی مزید پکڑے گئے ہیں، فیض حمید کے کیس کے حوالے، جب سے فیض حمید کی گرفتاری کی خبر آئی دو لوگ بہت خوش ہیں خلیل الرحمان قمر اور عمر عادل کیونکہ انکی سٹوری اب پیچھے رہ گئی ہے
مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر وی لاگ کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فیض حمید کیس میں جو لوگ پکڑے گئے وہ چکوال سے ہیں اور فیض حمید کے گرائیں ہیں،جب سے فیض حمید کی گرفتاری کی خبر عمران خان پربجلی بن کر گری ہے،عمران خان تڑپ رہا ہے،اڈیالہ جیل کا ڈپٹی سپریڈنڈنٹ اکرم بھی گرفتار ہو گیا ہے، اسکے بعد اسکے اور ساتھی بھی گرفتار ہوئے ہیں انکے واٹس ایپ ڈیٹا موبائل سے شواہد ملے کہ وہ عمران خان کا یورپین کنٹریز سے رابطہ کرواتا رہا،یہ بھی قیاس آرائی ہے کہ جو دو آرٹیکل باہر نکلے تھے اڈیالہ جیل سے وہ اسی اکرم کی وجہ سے نکلے تھے، ابصار عالم کہہ رہے تھے کہ 52 کے قریب افسران کو گرفتار کیا گیا میں نے اسکو کراس چیک کیا اتنے افسران گرفتار نہیں ہوئے،یہ کوئی معمولی ڈیولمپنٹ نہیں ہے، نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی میڈیا اس پر فوکس ہوا ہوا ہے.جن کو یہ نہیں پتہ ریاست پاکستان کی سروائیول کے لئے ایسے لوگوں کو پکڑنا، سزا دینا بہت ضروری ہے، فیض حمید کے تو بہت جرائم ہیں کئی سو صفحات پر کتاب شائع ہو سکتی ہے یہ جتنا کرپٹ تھا ہر آدمی کو پتہ ہے،نہ صرف کرپٹ بلکہ کینہ پرور انسان ہے، چڑیل ایک اور مخبری لے کر آئی ہے چڑیل کا یہ کہنا ہے کہ اب ہو سکتا ہے کچھ دن میں یہ پردہ بھی ہٹ جائے کہ ارشد شریف کے قتل کے پیچھے کون کون لوگ تھے ،جب ہائی پروفائل قتل ہو تو یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اسکا فائدہ کس کو ہوا، ارشد شریف ہمارا کولیگ، اچھا بندہ، بے دردی سے مارا گیا، مجھے وہ حادثہ نہیں لگتا جب پتہ چلے گا کہ شاید ان میں سے ہی کوئی ایک ہوکوئی اور بھی ہو سکتا سب کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے، کیا اس میں عمران خان، فیض حمید کوئی اور ملوث ہے یہ آنے والے دنوں میں سامنے آ جائے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فوج میں کوئی ہلچل نہیں ہے وہ ملک کی خدمت کر رہے ہیں، فوج ،ریاست کے خلاف کوئی سازش کر کے بچنا ناممکن ہے، اب یہ تصور بھی کیا جا رہا ہے کہ اگلے مہینے کے آخر سے پہلے سزا ہو جائے گی، انکا رینک،پنشن ضبط ہو سکتی ہے، غیر قانونی جائیدادیں جو بنائیں وہ بھی ضبط ہو سکتی ہے، ٹاپ سٹی کیس صرف ایک کیس ہے جس میں پکڑا گیا،یہ ایک سرا نظر آ رہا ہے نیچے بہت لمبی فہرست ہے، ایک کتاب چھپ سکتی ہے، فلم بن سکتی ہے اسکے کالے کرتوتوں کے اوپر، عمران خان نے فیض حمید سے خود کو الگ کرنا شروع کر دیا اور کہا کہ یہ فوج کا اندرونی معاملہ ہے،حالانکہ عمران خان کی لڑائی ہی فیض کی وجہ سے ہوئی تھی.