Baaghi TV

Tag: فیض حمید

  • گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پاکستان سے فرار ہو گئے ہیں

    سینئر صحافی و خاتون اینکر غریدہ فاروقی نے ایکس پر پوسٹ کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار 7 اگست کو ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ ثاقب نثار پہلے دبئی اور وہاں سے اب لندن موجود ہیں۔

    ایک اور ٹویٹ میں غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید سے اب تک ہونے والی تفتیش کے مطابق اس بات کے ٹھوس شواہد ثابت ہو چکے ہیں کہ جنرل فیض اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا مضبوط گٹھ جوڑ تھا؛ جس میں ایک مخصوص سیاسی جماعت کو فائدے پہنچائے گئے، عدلیہ کو مینیج کیا گیا، ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور دیگر کئی سنگین نوعیت کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں،ان شواہد کی روشنی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بھی گرفت میں آنے والے ہیں اور عین ممکن ہے کہ اگلی گرفتاری عنقریب ان کی ہو

    صحافی حسن ایوب نے غریدہ فاروقی کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ غریدہ پھر یہ معاملہ صرف ثاقب نثار تک تو نہیں رکے گا کیونکہ اسکے بعد تو ایف بی آر کے سامنے والی عمارت میں موجود معزز یا معززین کو بھی اس میں شامل کرنا پڑیگا۔

    واضح رہے کہ فیض حمید کو کچھ دن قبل فوج نے حراست میں لیا تھا اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کی گئی تھی،آج دوبارہ مزید گرفتاریاں ہوئی ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیض حمید کے ساتھ تین دیگر ریٹائرڈ افسران بھی فوج نے تحویل میں لیے ہیں۔ تین ریٹائرڈ افسران فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے سلسلے میں گرفتار کئےگئے ہیں

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • فیض حمید کورٹ مارشل کے سلسلے میں مزید تین  ریٹائرڈ فوجی  افسران گرفتار

    فیض حمید کورٹ مارشل کے سلسلے میں مزید تین ریٹائرڈ فوجی افسران گرفتار

    جنرل ر فیض حمید سے تعلق کی بنا پر 3 سابق فوجی افسران کو بھی فوجی تحویل میں لے لیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیض حمید کے ساتھ تین دیگر ریٹائرڈ افسران بھی فوج نے تحویل میں لیے ہیں۔ تین ریٹائرڈ افسران فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے سلسلے میں گرفتار کئےگئے ہیں ریٹائرڈ افسران اور ان کے ساتھیوں سے مزید تفتیش جاری ہے، کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں،ریٹائرڈ افسران نے ملی بھگت سے سیاسی مفادات کے لیے عدم استحکام کو ہوا دی،ان افسران نے فوجی نظم و ضبط کے خلاف کام کیے۔

    گرفتار دو ریٹائرڈ بریگیڈیئر کا تعلق چکوال سے، تھے فیض حمیدکے کار خاص
    فیض حمید کیس میں کن ریٹائرڈ فوجی افسران کو حراست میں لیا گیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے نام ظاہر نہیں کئے،دوسری جانب صحافی عامر الیاس رانا نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ فوجی تحویل میں لئے گئے تینوں افسران کے نام سامنے آگئے،گرفتار افسران میں دو بریگئڈیر ایک کرنل شامل ہیں ،بریگیٖڈیئر ر غفار ،ر نعیم گرفتار فسران میں شامل تینوں افسران پیغام رسانی کا کام کرتے تھے ،تینوں افسران سیاسی جماعت اور لیفٹیننٹ جنرل (ر)فیض حمید کےدرمیان رابطہ کاری میں شامل تھے،دونوں ریٹائرڈ بریگیڈیئر کا تعلق چکوال سے ہے اور یہ جنرل فیض کے خاص اور منظور نظر افسران تھے جو ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی پیغام رسانی اور سہولت کاری میں بھی ملوث تھے

    واضح رہے کہ فیض حمید کو کچھ دن قبل فوج نے حراست میں لیا تھا اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کی گئی تھی،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے،سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی گئی، انکوائری پاک فوج نےفیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی درستگی کا پتا لگانے کیلئے کی گئی، فیض حمید کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی کئی خلاف ورزیاں ثابت ہوچکی ہیں، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    پانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ فوج جنرل ریٹائرڈ فیض حمید سے تفتیش کررہی ہے یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے مجھےاس سے کیا ہے،جنرل فیض حمید کا احتساب کررہے ہیں اچھی بات ہے،لیکن پھر یہ سب کا احتساب کریں ،آئی بی کی رپورٹس تھیں موجودہ اسپیکرپنجاب اسمبلی ہروقت جنرل باجوہ کے پاس بیٹھے رہتے تھے ،جنرل باجوہ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے کہنے پرجنرل فیض حمید کو ہٹایا تھا،جنرل فیض حمید کو ہٹانے پر میری جنرل باجوہ سے سخت تلخ کلامی ہوئی تھی، وزیردفاع نے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی بات کر کے میرے موقف کی تائید کی ہے، خواجہ آصف نے کہا ہے جنرل ریٹائرڈ باجوہ ایکسٹینشن چاہتے تھے، یہ میرے موقف کی تائید ہے،جنرل باجوہ نے اپنی ایکسٹینشن کے لیے میری حکومت گرائی،

    اگر 9 مئی فیض حمید نے کروایا تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیں،9مئی دراصل لندن پلان کا حصہ تھا،عمران خان
    مخصوص نشستوں کے فیصلہ پرعمل نہ کرکے یہ آئین کی تیسری مرتبہ خلاف ورزی کرینگے ،پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دینے اورآئین کی خلاف ورزی پرمیں پارٹی کوابھی سے تیارکررہا ہوں،خواجہ آصف نے کہا ہے فیض حمید کا 9 مئی کے واقعات سے براہ راست تعلق ہے، سارا معاملہ میری گرفتاری سے شروع ہوا، اس کی تفتیش کیوں نہیں کی جا رہی؟ اگر 9 مئی فیض حمید نے کروایا تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیں،9مئی دراصل لندن پلان کا حصہ تھا،جہاں جہاں آگ لگی، وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز غائب ہیں،سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے لائیں اور ہمیں قصوروار ثابت کریں،جس نے میری گرفتاری کا آرڈر دیا وہی سازش میں ملوث ہے،چیف الیکشن کمشنر، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ لندن پلان کا حصہ تھے،قاضی فائز عیسیٰ کو فیض آباد کمیشن اور بھٹو کا کیس یاد آگیا، ہماری پٹیشن نہیں سن رہے، ان کا مسئلہ یہ ہے 8 فروری کو پی ٹی آئی الیکشن جیت گئی،چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن اب فراڈ الیکشن کوچھپا رہے ہیں،پنڈی کے سابق کمشنر نے ایک ایک بات ٹھیک کہی تھی،یہ چاہتے ہیں پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ ملیں اور یہ آئینی ترمیم کر سکیں، یہ اب تیسری دفعہ آئین شکنی کر رہے ہیں،پہلے 90 روز میں انہوں نے الیکشن نہیں کروائے، پھر اکتوبر میں بھی الیکشن سے بھاگ گئے، اب یہ تیسری دفعہ آئین میں ترمیم کرنے جا رہے ہیں،سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں پارٹی کو تیار رہنے کو کہا ہے،

    گفتگو سے قبل جیل عملے نے عمران خان کو میڈیا سے گفتگو کرنے سے روک دیا، ڈپٹی سپریٹنڈنٹ جیل اور عمران خان کی آپس میں تلخی ہوئی، عمران خان نے کہا کہ مجھے نہ روکو، یہ اوپن کورٹ ہے، مجھے میڈیا سے بات کرنے دو،

    فیض حمید کو ہٹانے پر میری جنرل باجوہ سے سخت تلخی ہوئی تھی،عمران خان
    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی شرط تھی کہ فیض حمید کو ہٹائیں،فیض حمید کو ہٹانے پر میری جنرل باجوہ سے سخت تلخی ہوئی تھی،فیض حمید کو اس لیے میں نہیں ہٹانا چاہتا تھا کیونکہ وہ طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ انگیج تھا،وہ پاکستان میں دہشت گردی ختم کرنے کا سنہری موقع تھا،جنرل فیض نے ملک سے دہشتگردی ختم کرنے کا مکمل پلان بنا کر اپوزیشن کو دیا تھا،فیض حمید کے طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، وہ 3 سال تک طالبان کے ساتھ مذاکرات کرتا رہا،میں بار بار جنرل ریٹائرڈ باجوہ کو کہتا رہا فیض حمید کو نہ ہٹائیں،باجوہ نے اپنی ایکسٹینشن کے کیلئے فیض حمید کو ہٹایا اور آئی ایس آئی کو پی ٹی آئی کے پیچھے لگا دیا،یہ کہتے ہیں کہ ہم نے طالبان کے ساتھ معاہدے کیے اور انہیں واپس لا کر ٹھہرایا اگر ایسی بات ہے تو اب کراس بارڈر دہشت گردی کیوں ہو رہی ہے؟ ہمارے دور میں کیوں دہشت گردی نہیں ہوئی؟ جنرل فیض زلمے خلیل زاد اور طالبان کو میرے پاس لے کر آیا تھا، اب جتنی دہشت گردی ہو رہی ہے اس کا ذمہ دار جنرل ریٹائرڈ باجوہ کو ٹھہراتا ہوں،آج تمام طالبان ہمارے خلاف ہو چکے ہیں، روزانہ ہمارے فوجی شہید ہو رہے ہیں،آپ جو مرضی آپریشن کر لیں یہ سرحد کراس کر کے دوسری جانب چلے جائیں گے اور دوبارہ واپس آ جائیں گے،

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

  • فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ خبر آئی کہ جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل ہو رہا ہے، آئی ایس پی آر کا بیان بھی آ گیا اس ضمن میں،مختلف چیزیں ہو رہی ہیں مجھے ایک ایڈوانٹج ہے کہ میرا تعلق سولجر فیملی سے ہے کئی چیزیں جو عام تجزیہ کار کو سمجھ نہیں آتیں مجھے آسانی ہوتی ہے

    مبشر لقمان نے اپنے ڈیجیٹل میڈیا پر وی لاگ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سلمان غنی جو لاہور کے کور کمانڈ ر تھے، جناح ہاؤس پر حملے کے بعد انکو ہٹایا گیا ،ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے کورکمانڈر، دو جنرلز اور 14 افسروں کو اس جرم میں مرتکب پایا اور فارغ کر دیا،آپ کو یاد ہو گا کہ کورکمانڈر منگلا کا بھی آیا تھا کہ ان سے استعفیٰ لیا گیا ہے، کہا جا رہا تھا کہ وہ کرنا نہیں چاہ رہے تھے، انکی آڈیو کوئی لیک ہو گئی تھی،انہوں نے سنی تو کہا کہ میں استعفیٰ دے دیتا ہوں، آج فیض حمید والا کیس آیا، فوج میں جو سرونگ جنرل ہوتا ہے اسکی ویلیو ہوتی ہے، ریٹائرڈ آفیسر سمجھتا ہے اسکی ویلیو ہے لیکن ہوتی نہیں ہے، دوکور کمانڈر فارغ ہوئے ،اور لوگ فارغ ہوئے، اسکا اتنا بڑا ایشو نہیں بنایا گیا، آج فیض حمید کو پکڑا، آئی ایس پی آر نے پریس ریلیز جاری کی، اس کا مطلب ہے کہ فیض حمید "تو توگیا” تجھے تو مثال بنا کر چھوڑا جائے گا، جو حرکتیں ملک،قوم ، ریاست پاکستان کے خلاف کیں سب کا حساب دینا پڑے گا، جو مال بنایا ،بھائی نے کرپشن کی، زمین ہتھائی،ہاؤسنگ سوسائٹیز میں گند کیا، اب ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کو لانے والے دو لوگ تھے، بنوں میں سیٹل کرنے والے دو لوگ تھے عمران خان اور فیض حمید، نومئی والا واقعہ کوئی اس لیول کا نہیں بنا سکتا تھا،فیض حمید کے علاوہ کیوں کہ اسکو سب پتہ تھا کہ کیا چیز پکڑی جائے گی اور بیک وقت دو سو جگہوں پر ہونا کوئی مذاق نہیں لوگوں کو پلاننگ کروائی گئی ہو گی، ٹریننگ دی گئی ہو گئی، بتایا گیا ہو گا کہ کون کونسا پلان ہے،ناکے کیسے کراس کرنے ہیں،ہر چیز پلان ہوئی ہو گی، ابھی بھی جو سوشل میڈیا پی ٹی آئی کا کنٹرول کر رہا ہے میری کتاب میں وہ فیض حمید ہی ہے، فیض حمید ہی ہے جس نے آخری وقت میں عمران خان کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کی تھی،فیض حمید تو شہباز شریف کو ملا تھا، اور میسج دلوایا کہ مجھے آرمی چیف بنوا دیں کہ میں عمران خان کا تیا پانجا کر دوں گا میرے علاوہ کوئی اس کی زیادہ کمزوری نہیں جانتا، اللہ کرے شہباز شریف کو ہمت ہو او ر وہ سچ بتائیں، فیض حمید پر بڑے کاری الزامات ہیں، جب وہ ڈی جی آئی تھے اسوقت سے میرے اس سے بڑے اختلافات تھے، میں نے اسوقت ہی کہا تھا کہ اس کے سامنے جنرل باجوہ اس کے گواہ ہیں کہ تو بڑا گھٹیا آدمی ہے، جب اللہ کی پکڑ آئے گی تو پھر تو وڑ جائے گا، انسان کی حیثیت نہیں کہ غرور کرے، جس جس نے ا س سے ہاتھ ملایا اس نے نقصان ہی پہنچایا، جس نے اس کو فائدہ دیا اسکو بھی نقصان پہنچایا کیونکہ یہ اپنی ذات کے علاوہ کوئی سوچ نہیں سکتا تھا، یہ لوگوں کے گھروں کو ٹیپ کروایا تھا، دو دو نمبر لڑکیاں رکھی ہوئی تھیں کہ یہ اسکے ساتھ اٹیچ کرو اور ویڈیو بنا لو،اب سب کچھ ہو گیا، پکڑا گیا، آج خبر آئی ہے میری چھٹی حس کہتی ہے کہ یہ آج نہیں چار پانچ دن پہلے پکڑا گیا، آج خبر ریلیز ہوئی.اس کا جو دم بھرنے والے لوگ تھے آج اس کے لئے ایک جملہ بھی نہیں بول رہے، شیخ رشید، دو ٹانگوں والے کتے کو یاد کریں جب فیض حمید کے ہاں کسی کی ڈیتھ ہوئی تھی تویہ چکوال پہنچ گئے تھے اور نوکر بن کر کام کر رہے تھے آج اسکے لئے کوئی بولنے والا نہیں کیونکہ کرتوت سامنے آ گئے ہیں ،اب عمران خان کو کلیئر ہو جائے گا کہ کوئی ڈھیل نہیں ہے.

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

  • فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق ڈی جی آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو پاک فوج نے تحویل میں لے لیا ہے اور کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کر دی گئی ہے

    لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے بارے میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان اپنے وی لاگز میں اہم انکشافات کرتے آئے ہیں، ایک وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا لہذا اس پر انہیں آئین کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دی جائے، انہوں نے مزید کہا کہ جنرل فیض حمید ایک مکروہ اور ذلیل انسان ہے کیونکہ یہ لوگوں کو بلیک میل کرنے کیلئے خواتین کو استعمال کرکے ویڈیوز بناتا تھا.مبشر لقمان نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آرمی ہاؤس میں جب یہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے اس وقت فیض حمید سے ہاتھ تک نہیں ملایا اور سیدھا منہ پر کہا کہ تم اس قابل نہیں کہ تمہیں کوئی ہاتھ ملایا جائے اور ساتھ میں یہ بھی کہا تھا جب تم ریٹائرڈ ہوجاؤ گے تب تمہیں اپنی اوقات کا لگ پتا جائے گا۔

    ایک اور وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان حکومت کی طرف سے معاشی تباہی میں جنرل ریٹائرڈ کا بھی کردار ہے اس شخص کا بھی احتساب ہونا چاہیے، عمران خان نے ادارے تباہ کردیئے تھے ،اپنے مخالفین کو کھڈے لائن لگانے کی منصوبہ بندی کررکھی تھی

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس سارے منصوبے کو انجام تک پہنچانے کےلیے جنرل فیض حمید کردار ادا کررہے تھے،

    ایک اور وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب یہ خبر آئی تھی کہ فیض حمید کو بھی عدالت نے نوٹس دے دیئے، میرے ذہن میں آیا اب اللہ خیر کرے، عدالت نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے سنگین الزام لگائے، عدالت سمجھتی ہے جن پر الزام ہے انکو موقع دیا جائے، نوٹس جاری ہوا، عرفان رامے کو بھی نوٹس جاری ہوا، اس کیس میں عمران خان کا نام بھی آیا ، چیف جسٹس کا کہناتھا کہ فیض حمید یہ فیصلہ کیوں چاہتے تھے، اب یہ بات رکنی نہیں ہے،اس ملک میں کرپشن ہو رہی ہے، مجھے پتہ ہے کہ اعلیٰ حضرات نے کرپشن کی،لیکن اسکو ثابت کیسے کیا جائے، شوکت صدیقی کی بات میں وزن ہے لیکن وہ اس کو پروف کیسے کریں گے؟

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    ایک اور وی لاگ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید اور ان کا خاندان ارب پتی بن گیا۔ سابق جنرل کے خاندان نے، جس کا معاشی طور پر کوئی پس منظر نہیں تھا، نے پی ٹی آئی کے سربراہ کی مدتِ اقتدار کے دوران دولت کمائی۔ فیض نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا کیونکہ اس نے اپنے مفادات کے لیے کام کیا۔”اس خاندان کے پاس کل 120 ایکڑ زمین تھی جو بعد میں بڑھ کر 2,200 ایکڑ تک پہنچ گئی۔فیض حمید کے گھر کی قیمت بڑھ کر 2 ارب روپے سے زیادہ ہو گئی اسکا فارم ہاؤس 500 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔فیض حمید کے گھر جدید ترین سیکورٹی سسٹم نصب ہے،فیض حمید نے اپنے گھر کی طرف جانے والی سڑکیں بند کر رکھی تھیں، اور لوگوں کو اس علاقے میں آزادانہ نقل و حرکت سے روکا گیا تھا، فیض حمید کے رشتہ داروں نے بھی اس دوران تیزی سے دولت کمائی، اور وہ سابق وزیر اعظم عمران خاناور ان کی پارٹی کے سخت حامی رہے۔ فیض نے عمران کے علاوہ سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے بھی اچھی دوستی کی

    ایک اور وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک فوجی افسر جو کہ وزیراعظم ہاوس میں ہوتے تھے وہ بھی پکڑے گئے ہیں‌اور ان کے پاس بھی بہت کچھ ہے بیان کرنے کےلیے ، ان کا کہنا تھاکہ جنرل فیض حمید کا بھی احتساب ہونا چاہیے ، انہوں نے جو سڑکیں بنائیں.ہوا کچھ یوں تھا کہ جب فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا تو فیض حمید کو عمران خان پر اعتبار نہیں تھا ، انکا خیال تھا کہ عمران خان کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تو انہوں نے وہاں تعینات فوجی افسر کو یہ ذمہ داری سونپی تھی،اس فوجی افسر کے پاس ایک ایسا فون تھا جو ہر آنے والی اور جانےوالی کال کو ریکارڈ کرتا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ کسی کے خیرخواہ نہیں دوسروں کے کیسے بنیں‌ گے عمران خان سے اظہارمحبت بھی اور پھرعمران خان کی جاسوسی بھی ،بنی گالہ کو ریگولائزیشن کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ اس میں جنرل باجوہ کا کوئی کردار نہیں بلکہ اس کے پیچھے جنرل فیض حمید کا کردار ہے، ان کا کہنا تھا کہ جنرل فیض‌ حمید نے بہت کچھ کیا ،

  • بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    ٹاپ سٹی کیس،لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت کارروائی شروع کر دی گئی،فیض حمید کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے،سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی گئی، انکوائری پاک فوج نےفیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی درستگی کا پتا لگانے کیلئے کی گئی، فیض حمید کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی کئی خلاف ورزیاں ثابت ہوچکی ہیں، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    ن لیگی رہنما، رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ فیض حمید کو تحویل میں لینے سے لگ رہاہے کچھ چیزیں ثابت ہوچکی ہیں، یہ بات ثابت ہے پاک فوج میں احتساب کا عمل بہت مضبوط ہے،اینکر و تجزیہ نگار شاہزیب خانزادہ کا کہنا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد فیض حمید نے آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کی یہ بڑی بات ہے،تحقیقات ہوئی ہیں اور ثبوت سامنے آئے ہیں، فیض حمید کیا منصوبہ بندی کر رہے تھے، لابنگ کرنا، عہدے پر ہوتے ہوئے اور پھر ریٹائر ہونے کے بعد بھی، 9 مئی کا واقعہ بغاوت کی کوشش تھی، اگر اس طرح کا کوئی ثبوت ہے تو بہت اہم ہے، اس کو عوام کے سامنے رکھا جائے.

    فیض حمید نے سیاسی شخصیات اور صحافیوں کو قتل کرانے کی کوشش کی تھی،حامد میر
    صحافی و اینکر حامد میر کا کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید کے سیاسی اشرافیہ میں کافی تعلقات تھے،یہ آئی ایس آئی کے سربراہ رہے تھے، وہ محتاط رہ کر کام کرتے تھے ، وہ اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے تحقیقات سے بچتے رہے، شبہاز شریف سے ملاقات کی سر توڑ کوشش کی، کابینہ میں موجود لوگوں نے سفارش کی، شہباز شریف نے رابطہ سے انکار کیا، فیض حمید کی آزادی اُن کیلئے مشکلات بنی، 9 مئی 2023 کی پلاننگ میں کردار تھا، بغاوت میں اُن کے مشورے شامل تھے،ایک بہت بڑا بم شیل ہے جو پھٹا نہیں، شاید تھوڑے دنوں میں پھٹ جائے، فیض حمید نے سیاسی شخصیات اور صحافیوں کو قتل کرانے کی کوشش کی تھی، اس سلسلے میں باقاعدہ ثبوت بھی حاصل کئے گئے، جو لوگ تحریک انصاف کے جیل میں نہیں ہیں ان کے ساتھ بھی فیض حمید رابطے میں تھے جس کی وجہ سے انکو مشکلات پیش آئیں،حکومت کو کچھ دن پہلے پتہ چلا کہ وہ ابھی بھی پی ٹی آئی کے کچھ رہنماوں کیساتھ رابطہ میں ہیں، اس سلسلے میں ایک اہم رہنما نے پارٹی قیادت کو شکایت کی تھی جس پراُس رہنما کو کہا گیا آپ کو اُن کی بات سننے کی ضرورت نہیں، اس کے علاوہ 3 اور معاملات ہیں جس پر تحقیقات ہورہی ہیں.

    اصل ایشو ٹاپ سٹی نہیں بلکہ منتخب وزیراعظم کےخلاف سازش کرکےاسے نکالنا ہے،جاوید لطیف
    ن لیگی رہنما جاوید لطیف کہتے ہیں کہ فیض حمید کو فوجی تحویل میں لے کر کورٹ مارشل کا عمل شروع کرکے ادارے نےخود احتسابی کی اچھی مثال قائم کی ہے۔اصل ایشو ٹاپ سٹی نہیں بلکہ منتخب وزیراعظم کےخلاف سازش کرکےاسے نکالنا؛ ترقی کرتے ملک کو تباہی کی طرف لے کر جانا؛ اپنے ہی ادارے کےاندر بغاوت کی ناکام کوشش کی سہولت کاری کرنا ہے۔

    ٹاپ سٹی سکینڈل کیس میں جنرل فیض حمید کے خلاف انکوائری
    8 نومبر 2023 کو ٹاپ سٹی کے مالک معیز احمد خان نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی جس میں انہوں نے آرٹیکل 184/3 کے تحت فائل کی گئی پیٹیشن میں یہ الزام لگایا کہ سابقہ DG ISI لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے اپنی اتھارٹی کو ان کے اور ان کی فیملی کے خلاف غیر قانونی طور پر استعمال کیا،معیز احمد خان کی طرف سے جو پٹیشن سپریم کورٹ میں فائل کی گئی اس میں یہ کہا گیا کہ 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے کہنے پر آئی ایس آئی کے افیشلز نے ٹاپ سٹی آفس اور معیز احمد کے گھر پر چھاپہ مارا جس کے دوران اُن کے گھر سے قیمتی اشیاء جس میں گولڈ، ڈائمنڈ اور پیسے شامل ہیں، ریڈ کے دوران آئی ایس آئی آفیشلز اٹھا کر لے گئے – پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ سابقہ DG ISI لیفٹیننٹ جنرل حمید فیض حمید کے بھائی سردار نجف نے اس مسئلے کو بعد میں حل کرنے کے لیے ان سے رابطہ بھی کیا – اس پٹیشن میں یہ کلیم بھی کیا گیا کہ جنرل فیض نے بعد میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ان سے خود ملاقات بھی کی جس میں انہوں نے یہ یقین دہانی دلائی کہ ان میں سے کچھ چیزیں جو کہ ریڈ کے دوران آئی ایس آئی کے آفیشلز ساتھ لے گئے تھے وہ ان کو واپس کر دی جائیں گی البتہ 400 تولہ سونا اور کیش ان کو واپس نہیں کیا جائے گا – پٹیشن میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ آئی ایس آئی آفیشلز نے ان سے زبردستی چار کروڑ روپیہ کیش بھی لیا – پٹیشن میں مختلف آئی ایس آئی آفیشلز اور سابقہ DG ISI جنرل فیض حمید کے بھائی سردار نجف پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ ٹاپ سٹی کو غیر قانونی طور پر ٹیک اوور کرنا چاہتے تھے

    معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اور ان سنگین الزامات کی پاداش میں سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل بینچ جس میں چیف جسٹس اف پاکستان جسٹس قاضی فائض عیسی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین شامل تھے اس کیس کو سنا اور فیصلہ دیا کہ یہ کافی سنگین معاملہ ہے اور اس معاملے کی سنگین نوعیت ہونے کی وجہ سے ادارے کی عزت اور توقیر میں حرف آ سکتا ہے، اس لیے اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا – معاملے کی مزید انویسٹیگیشن کے لیے سپریم کورٹ نے پٹیشنر کو یہ کہا کہ وہ اس مسئلے کو وزارت دفاع کے ساتھ اٹھائے – اٹارنی جنرل آف پاکستان نے اعلی عدلیہ کو یہ یقین دہانی دلائی کہ اس معاملے پر مکمل تعاون کیا جائے گا اور قانون کے مطابق اس کے اوپر ایکشن لیا جائے گا ،اعلی عدلیہ کے احکامات کے مطابق اور وزارت دفاع کی ہدایات کی روشنی میں، پاکستان فوج نے اپنے احتساب کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے تمام معاملات کو ایک ہائی لیول ادارتی انکوائری کے ذریعے انویسٹیگیٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا،ان سنگین الزامات کی تحقیق کرنے کے لیے اعلی سطحی انکوائری کمیٹی ایک میجر جنرل کی سربراہی میں بنائی گئی تھی، پاک فوج میں خود احتسابی کا ایک کڑا اور انتہائی شفاف نظام موجود ہے اور اسی نظام کو آگے بڑھاتے ہوئے ایسے تمام الزامات کی بڑی سنجیدگی کے ساتھ تفتیش کی جاتی ہے اور ذمہ داران کو کڑی سزائیں بھی دی جاتی ہیں تاکہ پاک فوج کے خود احتسابی کے شفاف عمل پر کوئی آنچ نہ آ سکے.

    فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن، فیض حمید کو ملی کلین چٹ

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں زمین قبضے کے الزام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی سماعت ہوئی تھی،عدالت نے درخواست گزار معیز احمد خان کے وکیل کو وکالت نامہ جمع کرانے کیلئے وقت دیدیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں،کیا کیس میں خود پیش ہوں گے یا وکیل کے ذریعے، درخواست گزار نے کہا کہ میرے وکیل نے وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، ہمیں رات کو ہی کال آئی تھی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ کیس میں التوا دیا جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کیس کو ملتوی بھی نہیں کر سکتے،آپ وکالت نامہ جمع کرائیں، پھر کیس سنیں گے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بارہ مئی 2017 کو معیز خان اور انکے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کارروائی نہیں کی تھی،وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التواء ہے ،وکیل نے کہا کہ زاہدہ کا انتقال ہو چکا ہے، درخواست کی کاپی دیں تو جائزہ لے لیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جائزہ لے لیں تاریخ نہیں دے سکتے، چائے کے وقفے کے بعد سماعت کرینگے،

    سپریم کورٹ،فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو اب تک اس کیس سے ہم سمجھ پائے وہ آپ کو بتا رہے ہیں، برطانیہ کی شہری زاہدہ اسلم نے 2017 میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 تین کا کیس دائر کیا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں نومبر 2018 میں فریقین کو بلا کر کیس چلایا،کیا چیف جسٹس پاکستان چیمبر میں اکیلے سنگل جج کے طور پر فریقین کو طلب کر کے کیس چلا سکتا ہے؟ کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود ہی ایف آئی اے، پولیس اور سی ٹی ڈی وغیرہ کو نوٹس کیا، اسی نوعیت کی درخواست زاہدہ اسلم نے چیف جسٹس گلزار کے سامنے بھی رکھی،سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل میں آرٹیکل 184 تین کی درخواستیں دائر کی گئیں،جو درخواست ہمارے سامنے ہے یہ بھی 184 تین کے ہی تحت دائر کی گئی ہے،

    کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس سیل اور سپریم کورٹ میں فرق ہے،کیس کے حقائق میں نا جائیں، میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ہیومن رائٹس سیل غیر قانونی ہے،ہیومن رائٹس سیل کسی قانون کے تحت قائم نہیں ہے،ماضی میں ہیومن رائٹس سیل کے ذریعے بدترین ناانصافیاں ہوئی ہیں، کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جو معاملہ جوڈیشل دائرہ اختیار میں آیا ہی نہیں اس پر چیف جسٹس نے سماعت کیسے کی؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حفیظ الرحمان صاحب زاہدہ اسلم اور آپکی درخواست کیا آرٹیکل 184/3 میں آتے ہیں،وکیل نے کہا کہ زاہدہ اسلم کی درخواست 184/3 میں نہیں آتی کیونکہ وہ معاملہ سول عدالت میں زیر سماعت تھا،ہماری درخواست آرٹیکل 184/3 میں آتی ہے کیونکہ یہ معاملہ کسی اور فورم پر نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ چیمبر میں بیٹھا جج سپریم کورٹ نہیں ہوتا عدالت میں بیٹھے ججز سپریم کورٹ ہیں،چیمبر میں بیٹھ کر سپریم کورٹ کی کاروائی نہیں چلائی جاسکتی،چیمبر میں صرف چیمبر اپیلیں سنی جاسکتی ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینئر وکلا سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا چیمبر میں بیٹھ کر جج کسی کیس کو سن سکتا ہے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیمبر میں آرٹیکل 184/3 کے مقدمات نہیں سنے جاسکتے،چیمبر میں مخصوص نوعیت کی چند درخواستیں سنی جاسکتی ہیں،سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سلمان بٹ صاحب آپ نے بطور اٹارنی جنرل ہیومن رائٹس سیل کیخلاف بات کیوں نہیں کی،ہیومن رائٹس سیل حکومت کو غیر قانونی نوٹس بھجواتا رہا ہے،کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ہیومن رائٹس سیل کیخلاف عدالت میں سوال اٹھاتی،2010 سے ہیومن رائٹس سیل غلط طریقے سے چل رہا ہے کسی نے آواز نہیں اٹھائی،

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی، سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنےکا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کیخلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں،سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواست نمٹاتی ہے، درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے،متعلقہ فورم غیر موجود فریقین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے،درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار پر سنگین الزامات عائد کیے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے سابق عہدیدار کیخلاف رجوع کر سکتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ریٹائرڈ فوجی افسران کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے، آرٹیکل 184 تین کا استعمال اس طریقے سے نہیں ہونا چاہئے جس سے غیر موجود افراد کے بنیادی حقوق متاثر ہوں،

    فیض حمید کے حکم پر گھر اور آفس پر ریڈ کر کے قیمتی سامان ،سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کیا گیا،درخواست
    راولپنڈی کے شہری معیز احمد نے سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کیخلاف درخواست دائر کردی،جس میں کہا گیا کہ مجھے اور فیملی ارکان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، وفاقی حکومت کو ذمہ داران فریقین کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور آفس پر ریڈ کیا گیا،اس غیر قانونی ریڈ میں گھر کا قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کر لیا گیا،میرے خلاف غیر قانونی کارروائی کا مقصد ٹاپ سٹی ون کا کنٹرول حاصل کرنا تھا اور اس ریڈ کے بعد مجھے اور میرے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا گیا، وفاقی حکومت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید، ان کے بھائی نجف حمید پٹواری اور دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے

  • نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ،سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف انکوائری کا آغاز

    نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ،سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف انکوائری کا آغاز

    فوج نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کی درخواست پر فیض حمید کیخلاف انکوائری کمیٹی بنا دی۔

    ذرائع کے مطابق کمیٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کا جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کرے گی۔ انکوائری کمیٹی اعلی عدلیہ کے احکامات کی روشنی میں قائم کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی الزامات ثابت ہونے پر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔واضح رہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پر ہاؤ سنگ سوسائٹی کے حوالے سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے، ہاؤ سنگ سوسائٹی کے معاملات کی اعلی عدلیہ سماعت کرچکی ہے۔

    ٹاپ سٹی سکینڈل کیس میں جنرل فیض حمید کے خلاف انکوائری کا حکم
    8 نومبر 2023 کو ٹاپ سٹی کے مالک معیز احمد خان نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی جس میں انہوں نے آرٹیکل 184/3 کے تحت فائل کی گئی پیٹیشن میں یہ الزام لگایا کہ سابقہ DG ISI لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے اپنی اتھارٹی کو ان کے اور ان کی فیملی کے خلاف غیر قانونی طور پر استعمال کیا،معیز احمد خان کی طرف سے جو پٹیشن سپریم کورٹ میں فائل کی گئی اس میں یہ کہا گیا کہ 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے کہنے پر آئی ایس آئی کے افیشلز نے ٹاپ سٹی آفس اور معیز احمد کے گھر پر چھاپہ مارا جس کے دوران اُن کے گھر سے قیمتی اشیاء جس میں گولڈ، ڈائمنڈ اور پیسے شامل ہیں، ریڈ کے دوران آئی ایس آئی آفیشلز اٹھا کر لے گئے – پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ سابقہ DG ISI لیفٹیننٹ جنرل حمید فیض حمید کے بھائی سردار نجف نے اس مسئلے کو بعد میں حل کرنے کے لیے ان سے رابطہ بھی کیا – اس پٹیشن میں یہ کلیم بھی کیا گیا کہ جنرل فیض نے بعد میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ان سے خود ملاقات بھی کی جس میں انہوں نے یہ یقین دہانی دلائی کہ ان میں سے کچھ چیزیں جو کہ ریڈ کے دوران آئی ایس آئی کے آفیشلز ساتھ لے گئے تھے وہ ان کو واپس کر دی جائیں گی البتہ 400 تولہ سونا اور کیش ان کو واپس نہیں کیا جائے گا – پٹیشن میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ آئی ایس آئی آفیشلز نے ان سے زبردستی چار کروڑ روپیہ کیش بھی لیا – پٹیشن میں مختلف آئی ایس آئی آفیشلز اور سابقہ DG ISI جنرل فیض حمید کے بھائی سردار نجف پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ ٹاپ سٹی کو غیر قانونی طور پر ٹیک اوور کرنا چاہتے تھے

    معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اور ان سنگین الزامات کی پاداش میں سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل بینچ جس میں چیف جسٹس اف پاکستان جسٹس قاضی فائض عیسی، جسٹس عطر من اللہ اور جسٹس امین الدین شامل تھے اس کیس کو سنا اور فیصلہ دیا کہ یہ کافی سنگین معاملہ ہے اور اس معاملے کی سنگین نوعیت ہونے کی وجہ سے ادارے کی عزت اور توقیر میں حرف ا سکتا ہے، اس لیے اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا – معاملے کی مزید انویسٹیگیشن کے لیے سپریم کورٹ نے ا پٹیشنر کو یہ کہا کہ وہ اس مسئلے کو وزارت دفاع کے ساتھ اٹھائے – اٹارنی جنرل اف پاکستان نے اعلی عدلیہ کو یہ یقین دہانی دلائی کہ اس معاملے پر مکمل تعاون کیا جائے گا اور قانون کے مطابق اس کے اوپر ایکشن لیا جائے گا ،اعلی عدلیہ کے احکامات کے مطابق اور وزارت دفاع کی ہدایات کی روشنی میں، پاکستان فوج نے اپنے احتساب کے عمل کو اگے بڑھاتے ہوئے تمام معاملات کو ایک ہائی لیول ادارتی انکوائری کے ذریعے انویسٹیگیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان سنگین الزامات کی تحقیق کرنے کے لیے اعلی سطحی انکوائری کمیٹی ایک میجر جنرل کے نیچے بنا دی گئی ہے جو اس معاملے سے جڑے ہر پہلو کو تفصیل سے دیکھے گی،پاک فوج میں خود احتسابی کا ایک کڑا اور انتہائی شفاف نظام موجود ہے اور اسی نظام کو اگے بڑھاتے ہوئے ایسے تمام الزامات کی بڑی سنجیدگی کے ساتھ تفتیش کی جاتی ہے اور ذمہ داران کو کڑی سزائیں بھی دی جاتی ہیں تاکہ پاک فوج کے خود احتسابی کے شفاف عمل پر کوئی انچ نہ آ سکے

    فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن، فیض حمید کو ملی کلین چٹ

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں زمین قبضے کے الزام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی سماعت ہوئی تھی،عدالت نے درخواست گزار معیز احمد خان کے وکیل کو وکالت نامہ جمع کرانے کیلئے وقت دیدیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں،کیا کیس میں خود پیش ہوں گے یا وکیل کے ذریعے، درخواست گزار نے کہا کہ میرے وکیل نے وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، ہمیں رات کو ہی کال آئی تھی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ کیس میں التوا دیا جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کیس کو ملتوی بھی نہیں کر سکتے،آپ وکالت نامہ جمع کرائیں، پھر کیس سنیں گے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بارہ مئی 2017 کو معیز خان اور انکے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کارروائی نہیں کی تھی،وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التواء ہے،وکیل نے کہا کہ زاہدہ کا انتقال ہو چکا ہے، درخواست کی کاپی دیں تو جائزہ لے لیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جائزہ لے لیں تاریخ نہیں دے سکتے، چائے کے وقفے کے بعد سماعت کرینگے،

    سپریم کورٹ،فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو اب تک اس کیس سے ہم سمجھ پائے وہ آپ کو بتا رہے ہیں، برطانیہ کی شہری زاہدہ اسلم نے 2017 میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 تین کا کیس دائر کیا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں نومبر 2018 میں فریقین کو بلا کر کیس چلایا،کیا چیف جسٹس پاکستان چیمبر میں اکیلے سنگل جج کے طور پر فریقین کو طلب کر کے کیس چلا سکتا ہے؟ کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود ہی ایف آئی اے، پولیس اور سی ٹی ڈی وغیرہ کو نوٹس کیا، اسی نوعیت کی درخواست زاہدہ اسلم نے چیف جسٹس گلزار کے سامنے بھی رکھی،سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل میں آرٹیکل 184 تین کی درخواستیں دائر کی گئیں،جو درخواست ہمارے سامنے ہے یہ بھی 184 تین کے ہی تحت دائر کی گئی ہے،

    کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس سیل اور سپریم کورٹ میں فرق ہے،کیس کے حقائق میں نا جائیں، میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ہیومن رائٹس سیل غیر قانونی ہے،ہیومن رائٹس سیل کسی قانون کے تحت قائم نہیں ہے،ماضی میں ہیومن رائٹس سیل کے ذریعے بدترین ناانصافیاں ہوئی ہیں، کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جو معاملہ جوڈیشل دائرہ اختیار میں آیا ہی نہیں اس پر چیف جسٹس نے سماعت کیسے کی؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حفیظ الرحمان صاحب زاہدہ اسلم اور آپکی درخواست کیا آرٹیکل 184/3 میں آتے ہیں،وکیل نے کہا کہ زاہدہ اسلم کی درخواست 184/3 میں نہیں آتی کیونکہ وہ معاملہ سول عدالت میں زیر سماعت تھا،ہماری درخواست آرٹیکل 184/3 میں آتی ہے کیونکہ یہ معاملہ کسی اور فورم پر نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ چیمبر میں بیٹھا جج سپریم کورٹ نہیں ہوتا عدالت میں بیٹھے ججز سپریم کورٹ ہیں،چیمبر میں بیٹھ کر سپریم کورٹ کی کاروائی نہیں چلائی جاسکتی،چیمبر میں صرف چیمبر اپیلیں سنی جاسکتی ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینئر وکلا سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا چیمبر میں بیٹھ کر جج کسی کیس کو سن سکتا ہے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیمبر میں آرٹیکل 184/3 کے مقدمات نہیں سنے جاسکتے،چیمبر میں مخصوص نوعیت کی چند درخواستیں سنی جاسکتی ہیں،سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سلمان بٹ صاحب آپ نے بطور اٹارنی جنرل ہیومن رائٹس سیل کیخلاف بات کیوں نہیں کی،ہیومن رائٹس سیل حکومت کو غیر قانونی نوٹس بھجواتا رہا ہے،کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ہیومن رائٹس سیل کیخلاف عدالت میں سوال اٹھاتی،2010 سے ہیومن رائٹس سیل غلط طریقے سے چل رہا ہے کسی نے آواز نہیں اٹھائی،

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی، سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنےکا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کیخلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں،سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواست نمٹاتی ہے، درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے،متعلقہ فورم غیر موجود فریقین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے،درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار پر سنگین الزامات عائد کیے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے سابق عہدیدار کیخلاف رجوع کر سکتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ریٹائرڈ فوجی افسران کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے، آرٹیکل 184 تین کا استعمال اس طریقے سے نہیں ہونا چاہئے جس سے غیر موجود افراد کے بنیادی حقوق متاثر ہوں،

    فیض حمید کے حکم پر گھر اور آفس پر ریڈ کر کے قیمتی سامان ،سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کیا گیا،درخواست
    راولپنڈی کے شہری معیز احمد نے سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کیخلاف درخواست دائر کردی،جس میں کہا گیا کہ مجھے اور فیملی ارکان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، وفاقی حکومت کو ذمہ داران فریقین کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور آفس پر ریڈ کیا گیا،اس غیر قانونی ریڈ میں گھر کا قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کر لیا گیا،میرے خلاف غیر قانونی کارروائی کا مقصد ٹاپ سٹی ون کا کنٹرول حاصل کرنا تھا اور اس ریڈ کے بعد مجھے اور میرے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا گیا، وفاقی حکومت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید، ان کے بھائی نجف حمید پٹواری اور دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے

  • فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن، فیض حمید کو ملی کلین چٹ

    فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن، فیض حمید کو ملی کلین چٹ

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا فیض آباد دھرنا کمیشن کو دیا جانے والا بیان سامنے آ گیا ہے

    نجی ٹی وی جیو کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے کمیشن کو دیے گئے بیان میں کہا کہ 2017 میں حکومت نے وزیراعظم کی سربراہی میں دھرناختم کرنےکی ذمہ داری دی تھی اور معاہدے پر دستخط اسی لیے کیے کیونکہ تحریک لبیک معاہدے پر آرمی چیف کے دستخط چاہتی تھی،معاہدے پر دستخط کی اجازت آئی ایس آئی چیف اور آرمی چیف نے دی تھی،انہوں نے دھرنا منظم نہیں بلکہ ختم کرایا تھا جب کہ تحریک لبیک کے مالی معاملات کی تحقیق نہیں کی کیونکہ وہ ہمارے مینڈیٹ میں نہیں تھا

    قبل ازیں فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو کلین چٹ دے دی ہے،فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ 149 صفحات پر مشتمل ہے۔نجی ٹی وی جیو ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات پر 3 رکنی انکوائری کمیشن سابق آئی جی سید اخترعلی شاہ کی صدارت میں قائم تھا، سابق آئی جی طاہر عالم اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے سینئر افسر خوشحال خان کمیشن کے ارکان تھے، انکوائری کمیشن نے تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے سے جڑے محرکات کا جائزہ لے کر سفارشات تیار کیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں اسلام آباد پولیس، وزارت داخلہ، پنجاب حکومت، آئی ایس آئی اور آئی بی پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جبکہ رپورٹ میں سابق وزیرقانون زاہد حامد سے متعلق معاملات کی تفصیلات بھی درج ہیں۔

    حکومتی پالیسی میں خامیوں کی وجہ سے فیض آباد دھرنے جیسے واقعات کو ہوا ملتی ہے،فیض آباد دھرنا کمیشن رپورٹ
    ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ فیض حمید نے بطور میجر جنرل ڈی جی (سی) آئی ایس آئی معاہدے پر دستخط کرنے تھے، اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف نے فیض حمید کو معاہدے کی اجازت دی تھی،فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کے مطابق فیض حمید کے دستخط پر وزیراعظم شاہد خاقان، وزیرداخلہ احسن اقبال نے بھی اتفاق کیا تھا،رپورٹ میں کمیشن نے نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عملدر آمد یقینی بنانے پر زوردیا اور کہا کہ پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم میں کمزوریوں کا بھی احاطہ کیا جائے،رپورٹ میں کہا گیا کہ پالیسی سازوں کو فیض آباد دھرنے سے سبق سیکھنا ہوگا، حکومتی پالیسی میں خامیوں کی وجہ سے فیض آباد دھرنے جیسے واقعات کو ہوا ملتی ہے، پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی مارچ کو لاہور میں روکنے کے بجائے اسلام آباد جانے کی اجازت دی، جڑواں شہروں کی پولیس میں رابطے کے فقدان کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، سیکڑوں افراد زخمی ہوئے۔

    فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے مظاہرین کی قیادت تک رسائی کے لیے آئی ایس آئی کی خدمات حاصل کیں، 25 نومبر 2017 کو ایجنسی کے تعاون سے معاہدہ ہوا جس پر مظاہرین منتشر ہوگئے، دھرنے کے دوران فوجی افسروں، نوازشریف اور وزرا کو سوشل میڈیا پر دھمکیاں دی گئیں، سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے خلاف حکومت نے ایکشن لینے میں کوتاہی برتی، فیض آباد دھرنے کے دوران شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے، اس وقت کی ملکی قیادت نے کسی ادارے یا اہلکار کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا، سویلین معاملے میں فوج یا ایجنسی کی مداخلت سے ادارے کی ساکھ شدید متاثر ہوتی ہے، فوج کو تنقید سے بچنے کے لیے عوامی معاملات میں ملوث نہیں ہونا چاہیے، عوامی معاملات کی ہینڈلنگ آئی بی اور سول ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ہے، حکومت پنجاب غافل اور کمزور رہی جس کے باعث خون خرابہ ہوا، عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کیلئے امن کواسٹریٹجک مقصد بنانا ہوگا، ریاست آئین، انسانی حقوق،جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر سمجھوتہ نہ کرے،کمیشن نے تجویز دی کہ اسلام آباد تعیناتی سے قبل پولیس افسران کو دشوار علاقوں میں تعینات کیا جائے، امن عامہ حکومت کی ذمہ داری ہے،دیگر شعبوں کو مداخلت سے گریز کرنا چاہیے، پرتشدد انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے زیرو ٹالرینس پالیسی لازمی ہے

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

  • گرفتاری کے بعد فرار،دوسری بار ہو گئے نجف حمید گرفتار

    گرفتاری کے بعد فرار،دوسری بار ہو گئے نجف حمید گرفتار

    سابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے بھائی نجف حمید کو اینٹی کرپشن کی خصوصی میں عدالت پیش کردیا گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،

    راولپنڈی کی عدالت نے سابق نائب تحصیل دار چکوال نجف حمید کا جوڈیشل ریمانڈ منظور کرلیا،نجف حمید کو سینئر سول جج وقار حسین گوندل کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اینٹی کرپشن تفتیشی ٹیم نے نجف حمید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بجھوانے کی استدعا کی،عدالت نے نجف حمید کا جوڈیشل ریمانڈ منظور کرلیا اور اڈیالا جیل بھجوا دیا، عدالت نے نجف حمید کو یکم اپریل کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض کے بھائی کا اینٹی کرپشن حراست سے فرار ہونے کا معاملہ ،اینٹی کرپشن نے فرار ہونے والے ملزم نجف حمید کو دوبارہ گرفتار کر لیا ،

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے بھائی اور سابق تحصیلدار نجف حمید کو گرفتار کر لیا گیا، نجف حمید کو اینٹی کرپشن نے راولپنڈی کی عدالت سے گرفتار کیا گیا تھا،نجف حمید اینٹی کرپشن چکوال کو مالی فراڈ کے مقدمے میں مطلوب تھے، نجف حمید نے راولپنڈی کی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کرا رکھی تھی، عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری مسترد ہونے پرنجف حمید کو گرفتار کر لیا گیا، اینٹی کرپشن ٹیم نجف حمید کو لے کر چکوال روانہ ہو ئی تونجف حمید پولیس حراست سے فرار ہو گے،دوران حراست سابق تحصیلدار چکوال نجف حمید اینٹی کرپشن حکام کو چکمہ دے کر فرار ہوگئے

    نائب تحصیل دار محکمہ مال چکوال سردار نجف حمید لطیفال، سابق صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر وغیرہ کے خلاف تھانہ اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر راولپنڈی میں درج مقدمہ نمبر 16/23 میں نامزد تھے اور انہوں نے عبوری ضمانت کروا رکھی تھی، عدالت کی جانب سے نجف حمید کی ضمانت منسوخ ہونے پر ‏سرکل آفیسر اینٹی کرپشن چکوال ناصر عزیز خان کی قیادت میں ،اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاری تحقیقات میں الزامات ثابت ہونے پر عمل میں لائی گئی،محکمہ اینٹی کرپشن چکوال کی ٹیم نے سردار نجف حمید لطیفال کو گرفتار کیا تھا تاہم وہ پولیس حراست سے فرار ہو گئے تھے تا ہم اب انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    سپریم کورٹ،سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،لارجر بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں،خواجہ حارث روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ خواجہ حارث نے کہا کہ میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اور عرفان رامے کا وکیل ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے وکیل سے استفسارکیا کہ آپ نے کوئی جواب جمع کروایا ہے؟ کیا آپ نے اپنے اوپر لگے الزامات مانے ہیں ہیں مسترد کئے ہیں؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے اپنے سابق رجسٹرار کو بھی نوٹس جاری کیا تھا،

    وکیل وسیم سجاد روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ میں سابق چیف جسٹس انوار کانسی کی نمائندگی کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان سے استفسارکیا کہ خان صاحب اب اس کیس کو کیسے چلائیں ؟ حامد خان نے کہا کہ میرا کیس واضح ہے کہ جوڈیشل کونسل کو انکوائری کرنی چاہیے، جوڈیشل کونسل کی کاروائی کے دوران ہمیں ہمارے گواہان پیش کرنے کی اجازت دی جائے،فیض حمید الزامات کی تردید کر رہے ہیں، یہی ہمارا کیس ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو پہلے انکوائری کروانا چاہئے تھی، انکوائری میں ہمیں فیض حمید پر جرح کا موقع ملتا، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا انکوائری کی گئی تھی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب شوکت صدیقی نے تقریر تسلیم کر لی تھی تو انکوائری نہیں کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کہہ چکے حقائق کی انکوائری نہیں ہوئی،

    کیل حامد خان کی شوکت عزیز صدیقی کو ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس واپس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کی استدعا
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شوکت عزیز صدیقی کیس حل کیا ہے ؟ حامد خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیں ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کالعدم کر دیں تو پھر بغیر انکوائری یہ سمجھا جائے گا آپ کے الزامات درست ہیں ،حامد خان نے کہا کہ پھر آپ سپریم جوڈیشل کونسل کو ریمانڈ بیک کر دیں ، وکیل حامد خان نے شوکت عزیز صدیقی کو ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس واپس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کی استدعا کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس میں عدلیہ کی آزادی اور اداروں کی ساکھ کا معاملہ ہے، ہم ایک سکے کو ہوا میں پھینک کر فیصلہ نہیں کر سکتے ۔اگر شوکت صدیقی کے الزامات سچے نہیں تو کیا ہوگا؟شوکت صدیقی جو کہہ رہے ہیں مخالف فریق اسے جھٹلا رہے ہیں،کون سچا ہے کون نہیں یہ پتا لگانے کیلئے کیا کرنا ہوگا؟انکوائری میں اگر ثابت ہو آپ کے الزامات درست ہیں کیا پھر بھی عہدے ہٹایا جا سکتا ہے؟ہمیں مسئلے کا حل بھی ساتھ ساتھ بتایا جائے،اگر انکوائری کے بعد الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو کیا جج کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار رہے گا،جن پر الزامات لگایا گیا ہم نے انکو فریق بنانے کا کہا،اب سچ کی کھوج کون لگائے گا؟ہم مسئلے کا حل ڈھونڈ رہے ہیں، دوسری طرف سے یہ بات ہو سکتی ہے کہ الزامات کو پرکھا ہی نہیں گیا،

    مسئلہ شوکت عزیز صدیقی کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات کا ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آگے کیسے بڑھیں دونوں فریقین میں سے کوئی سچ سامنے نہیں لارہا،پوری قوم کی نظریں ہم پر ہیں ،یہاں آئینی اداروں کی تکریم کا سوال ہے،ان حالات میں سوال یہ ہے کہ ہم کیا حکمنامہ جاری کریں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر الزامات درست بھی ہیں تو کیا شوکت عزیز صدیقی کا بطور جج طریقہ کار مناسب تھا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر بھی دو طرح کی ہوتی ہیں،جج پر تقریر کرنے پر پابندی نہیں ہے، ایسا ہوتا تو بار میں تقاریر پر کئی ججز فارغ ہوجاتے،مسئلہ شوکت عزیز صدیقی کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات کا ہے،برطانیہ میں ججز انٹرویو بھی دیتے ہیں، امریکہ میں سپریم کورٹ ججز مباحثوں میں بھی حصہ لیتے ہیں،کیا عدالت خود اس معاملے کی تحقیقات کر سکتی ہے؟بلاوجہ الزام لگانا کسی حکومت کے ماتحت ادارے پر بھی اچھی بات نہیں، جس پر الزام لگایا گیا میں اسے ادارہ نہیں بلکہ حکومت کے ماتحت ادارہ کہوں گا،

    شوکت عزیز صدیقی پر ضابطہ اخلاق کی کس شق کی خلاف ورزی کا الزام لگا؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کو کیس آئینی طور پر ریمانڈ ہوسکتا ہے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو کیس واپس نہیں بھیجا جا سکتا، شوکت عزیز صدیقی ریٹائر ہوچکے، بطور جج بحال نہیں ہوسکتے،سپریم جوڈیشل کونسل اب شوکت عزیز صدیقی کا معاملہ نہیں دیکھ سکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم ہوئی تو الزامات درست تصور ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ فیض حمید پر تقریر میں کوئی الزام لگایا گیا نہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے، جوڈیشل کونسل نے کہا عزیز صدیقی نے عدلیہ کو بے توقیر کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدلیہ کی بے توقیری کا معاملہ کہاں سے آ گیا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جج کو پبلک میں جا کر تقریر نہیں کرنی چاہیے تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی پر ضابطہ اخلاق کی کس شق کی خلاف ورزی کا الزام لگا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جج کو عوامی اور سیاسی تنازع میں نہیں پڑنا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے شہرت حاصل کرنے کیلئے تو تقریر نہیں کی ہوگی،

    تقریر کر کے کیسے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی، متعلقہ شق دکھائیں،چیف جسٹس
    وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پوری انکوائری کالعدم قرار دیکر معاملہ دوبارہ کونسل کو بھیجا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ ایسا کر سکتی ہے، وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کونسل نے مکمل انکوائری ہی نہیں کی، وکیل فیض حمید نے کہا کہ معاملہ دوبارہ کونسل کو نہیں بھیجا جا سکتا، شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج مدت بھی ختم ہو چکی، جو الزامات لگائے گئے وہ باتیں نہ کونسل کے جوابات میں کہی گئیں نہ ہی تقریر میں آئیں، شوکت عزیز صدیقی کی اپنی تقریر ہی کافی ہے کہ انھوں نے مس کنڈکٹ کا مظاہرہ کیا،تقریر میں عدلیہ کی تضحیک کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر کر کے کیسے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی، متعلقہ شق دکھائیں، آپ ججز کا کوڈ آف کنڈکٹ پڑھ لیں،

    عدالت جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم قرار دے تو شوکت صدیقی ریٹایرڈ جج تصور ہونگے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان چیف جسٹس کے طلب کرنے پر کمرہ عدالت پہنچ گئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی چیلنج نہیں ہوسکتی،اگر عدالت جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم قرار دے تو شوکت صدیقی ریٹایرڈ جج تصور ہونگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کو تسلیم نہیں کیا گیا،سوال یہی ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کی اپیل منظور ہوجائے تو نتائج کیا ہونگے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جج کیخلاف ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ پہلے شکایت آئے اور بغیر انکوائری برطرفی کی سفارش ہو تو کیا ہوگا؟کیا جج کے پاس اپنی صفائی دینے کیلئے کوئی فورم نہیں ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس نکتے کو طے کرنے کی ضرورت ہے کہ جوڈیشل کونسل جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کیس سن سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تمام فریقین تسلیم کر رہے ہیں مکمل انکوائری نہیں ہوئی،جب کسی جج کیخلاف کارروائی ہوتی ہے تو پوچھا جاتا ہے اسکا شفاف ٹرائل کا حق کہاں جائے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کسی بغیر تحقیقات کیے کسی کو ہوا میں اڑا دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو بغیر انکوائری ہٹانا طے شدہ قانونی تقاضوں کے منافی ہے،

    جسٹس ر انور کاسی کے وکیل وسیم سجاد روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ سپریم کورٹ کو کیس ریمانڈ بیک کرنے سے آئین نہیں روکتا، عدالت مکمل انصاف کے دائرہ اختیار میں بھی جا سکتی ہے، حامد خان نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس تھا جہاں جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا گیا، ایک تفصیلی فیصلہ آنا چاہئے جج کو ہٹانے سے پہلے انکوائری کیوں ضروری ہے، 1956 اور 1962 کے آئین میں صدارتی ریفرنس کے بغیر جج کو ہٹایا نہیں جا سکتا تھا،1973 کے آئین میں بھی پہلے یہی شرط تھی ،2005 میں پہلی بار آئین میں صدارتی ریفرنس کے علاوہ طریقہ کار متعارف کرایاگیا،

    جب ایک جج کی تقریر واضح ہے اور موجود ہے کیا پھر بھی انکوائری کی ضرورت ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی
    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ شوکت صدیقی کیس میں سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیا،کیا جب کونسل ازخود کارروائی کرے تو بھی انکوائری کرنا ہو گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کونسل نے خود کیسے کارروائی کا آغاز کیا ہمیں رجسٹرار آفس کا نوٹ دکھائیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ سیکرٹری کونسل کیسے ہو سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کونسل نے ہی سیکرٹری کونسل کو کہا ہو، کونسل میں کتنی مرتبہ کیس لگا،حامد خان نے کہا کہ صرف ایک مرتبہ کیس لگا جس میں شوکت صدیقی کو بلایا گیا تھا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ جب ایک جج کی تقریر واضح ہے اور موجود ہے کیا پھر بھی انکوائری کی ضرورت ہے،شوکت عزیز صدیقی پر کرپشن کے الزامات بھی ہیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے کیس میں انکوائری لازم ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شوکت صدیقی کیخلاف شکایت کس نے کی یا رجسٹرار نے خود سب کچھ کونسل کو بھیجا،رجسٹرار کس حیثیت میں جج کے خلاف کونسل کو نوٹ لکھ سکتا ہے؟

    وکیل حامد خان نے کہا کہ جب شوکت صدیقی کے الزامات آئے تو جسٹس ر انور کاسی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی جاری تھی،شوکت صدیقی کے الزامات مسترد کرنے پر انور کانسی کو بری کر دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب ہم سپریم جوڈیشل کونسل پر ایسے انگلیاں نہیں اٹھائیں گے،

    سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں حرکت میں آ سکتی ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل پر واچ ڈاگ نہیں ہے،ہمیں آئین سازوں کے بنائے بیلنس کو برقرار رکھنا ہو گا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ کیخلاف ریفرنس کی بنیاد تقریر ہے، آپ اس تقریر کے متن سے انکار نہیں کر رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک مضبوط آئینی باڈی ہے، آپ کہہ رہے تھے انکوائری کمیشن بنا دیں لیکن جوڈیشل کونسل کی موجودگی میں کمیشن بنانے کی کیا ضرورت ہے؟آرٹیکل 210 پڑھیں تو سپریم جوڈیشل کے پاس وسیع آئینی اختیارات ہیں،ہر آئینی باڈی یا ادارے کے پاس آزادانہ فیصلے کا حق ہے، سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی آئینی ادارے کی نگران نہیں ہے، سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں حرکت میں آ سکتی ہے،موجودہ کیس میں بہت محتاط چلنا ہو گا کہ کہیں اداروں کے درمیان قائم آئینی توازن خراب نا ہو، شوکت صدیقی کیس کا فیصلہ بھی 50 سالوں تک عدالتی نظیر کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے،

    جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ریکارڈ دیکھیں تو یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ شوکت صدیقی کو موقع نہیں دیا گیا، دو ماہ سے زیادہ کارروائی چلی ، ان کے جوابات کا جائزہ بھی لیا گیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ پر الزام یہ نہیں تھا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں یا غلط،آپ پر الزام تھا کہ پبلک میں عدلیہ کو بدنام کیا، آپ نے اس تقریر سے انکار تو نہیں کیا تھا،

    کیا ججز کی قسمت کا فیصلہ ایس ایچ او کے ہاتھ میں دے دیں؟ چیف جسٹس
    سندھ بار کے وکیل صلاح الدین ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ کہتے ہیں شوکت صدیقی کے الزامات پر الگ سے انکوائری ہوسکتی ہے، اگر الزامات غلط ثابت ہوئے تو نتیجہ کیا ہوگا؟ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کا کالعدم شدہ فیصلہ بحال ہو جائے گا؟بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ الزامات غلط ثابت ہوئے تو شوکت صدیقی کیخلاف فوجداری کارروائی ہوسکتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے بغیر سابق جج کیخلاف فوجداری کارروائی کیسے ممکن ہے؟بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہججز قانون سے بالاتر نہیں ہوتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کوئی بھی انکوائری کمیشن کیسے قائم کر سکتی ہے؟ کیا ججز کی قسمت کا فیصلہ ایس ایچ او کے ہاتھ میں دے دیں؟مجھے تو یہ دلیل سمجھ نہیں آ رہی، کچھ آگے بڑھنے والی بات کریں، مناسب ہوگا اپنے نکات تحریری طور پر دیں،

    کیا ایک جج کے پنشن بحالی سے عدلیہ کی آزادی بحال ہو جائے گی؟ چیف جسٹس
    جسٹس عرفان سعادت خان نےکہا کہ کیا شوکت صدیقی مس کنڈکٹ کے مرتکب نہیں ہوئے؟ اس نکتے پر عدالت کی کوئی معاونت نہیں کی گئی، یہ تو سب کہ رہے ہیں کہ انکوائری نہیں ہوئی، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ اگر تقریر حقائق کے خلاف تھی تو شوکت صدیقی مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار محدود ہے، اگر عدالت چاہے تو کمیشن بنا کر شوکت صدیقی کے الزامات کی انکوائری کر سکتی ہے، سپریم کورٹ آرٹیکل 184 تین کے تحت معاملے کی انکوائری کر سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم گواہان کے بیانات اور ان پر جرح کریں؟ صلاح الدین نے کہا کہ ہائیکورٹ بھی آرٹیکل 199 کے تحت یہ اختیار استعمال کرتی ہے تو سپریم کورٹ بھی کر سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی رائے یا احساسات نہیں قانونی معاونت درکار ہے، آپ نے 184 تھری کی درخواست دائر کی تو صرف جج کی پنشن بحالی کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ریٹائرڈ جج کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف ایک نکتے کا جائزہ لے رہے ہیں کہ انکوائری کیوں نہیں ہوئی تھی، ہم پرانے کورس کو درست کر رہے ہیں،اگر آپ ایک جج کی ذاتی حثیت میں پنشن بحالی چاہتے ہیں تو پھر آپ کی 184 تھری کی درخواست خارج کر دیتے ہیں، آپ کی درخواست سے مفاد عامہ کا کیا معاملہ طے ہو گا؟کیا ایک جج کے پنشن بحالی سے عدلیہ کی آزادی بحال ہو جائے گی؟

    ایک جج کو ہٹانا اتنا ہی آسان ہے تو یہ عدلیہ کی آزادی کیلئے خطرے کا سبب ہے،چیف جسٹس
    حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ اصول طے کر چکی ہے کہ جج کو مکمل انکوائری کا موقع ملنا چاہئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 10اے شفاف ٹرائل کی بات کرتا ہے، کسی نائب قاصد کو بھی ہٹانے کیلئے پورا طریقہ کار طے شدہ ہے، ہم بنیادی انسانی حقوق کو نظر انداز نہیں کر سکتے،انکوائری کو نظر انداز کرکے کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ کو ایک لائن کھینچنی ہے، سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل کے درمیان فرق کی لکیر کھینچی ہے،اداروں کی تضحیک کا سوال ہے، سوال یہ ہے کہ جج نے جو کہا سچ ہے یا سچ نہیں ہے، ملاقاتوں کی نفی کی گئی ہے،ہم ہوا میں طے نہیں کر سکتے، ہوا میں طے نہیں کر سکتے کون سچ کہہ رہا ہے کون سچ نہیں کہہ رہا،ایک جج کو ہٹانا اتنا ہی آسان ہے تو یہ عدلیہ کی آزادی کیلئے خطرے کا سبب ہے،عوام کو سچ جاننے کا مکمل حق ہے، یہ عوامی معاملہ ہے، کیا ہم کونسل کو بھیج سکتے ہیں یا نہیں سوال یہ بھی اہم ہے، ہم فیصلہ محفوظ کر رہے ہیں، اگر ضرورت سمجھی تو کیس دوبارہ سماعت کیلئے مقرر بھی کر سکتے ہیں،

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا