Baaghi TV

Tag: فیض حمید

  • فیض حمید نے فیض آباد دھرنا کمیشن کے سامنے بیان ریکارڈ کرا دیا

    فیض حمید نے فیض آباد دھرنا کمیشن کے سامنے بیان ریکارڈ کرا دیا

    فیض آباد دھرنا کمیشن،لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض حمید نے کمیشن کو بیان رکارڈ کرادیا ،

    فیض حمید نے کمیشن کی طرف سے دیے گئے سوالوں کے جواب دے دیئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق
    فیض حمید نے جواب میں کہا حکومت کی ہدایت پر تحریک لبیک پاکستان سے مذاکرات کیے ،فیض حمید نے حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزامات کی تردید کردی ہے، فیض حمید کے لئے ایک سوال نامہ تیار کیا گیا تھا، فیض حمید نے تمام سوالوں کے جواب جمع کروا دیئے ہیں، فیض حمید نے حکومت کیخلاف سازش کے الزام کا انکار کیا اور کہا کہ دھرنا دینے والوں کے ساتھ مذاکرات حکومت کے کہنے پر کئے تھے، اسوقت شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے، احسن اقبال وزیر داخلہ تھے، کابینہ اجلاس میں مشترکہ ہدایت کے بعد دھرنے والوں سے فیض حمید نے مذاکرات کئے تھے

    لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو دسمبر کے دوسرے ہفتے میں بھی طلب کیا گیا تھا ،پہلا نوٹس بر وقت وصول نہ ہونے سے فیض حمید کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہو سکے، کمیشن کی جانب سے جنوری کے دوسرے ہفتے اپنی رپورٹ مکمل کیے جانے کا امکان ہے، اس سے قبل سابق وزیر داخلہ احسن اقبال , فواد حسن فواد اور اس وقت کے ایس ایس پی اسلام آباد بھی اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں ۔سپریم کورٹ کی ہدایت پر وزارت قانون و انصاف کے نوٹیفکیشن کے بعد کمیشن اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    جنرل رقمر جاوید باجوہ، فیض حمید پر مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    واضح رہے کہ نومبر 2023ء میں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا,

  • فیض آباد دھرنا کیس ،شہباز شریف کی طلبی ہو گئی

    فیض آباد دھرنا کیس ،شہباز شریف کی طلبی ہو گئی

    فیض آباد دھرنا کیس ،سابق وزیراعظم شہباز شریف کو انکوائری کمیشن نے تحقیقات کے لئے طلب کر لیا

    انکوائری کمیشن نے شہباز شریف کو 3 جنوری کو طلب کیا ہے،نجی ٹی وی جیو کےمطابق شہباز شریف کو سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے طلب کیا گیا ہے،انکوائری کمیشن شہباز شریف سے بیان قلمبند کرے گا، انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ 22 جنوری کو سپریم کورٹ میں جمع کرانی ہے

    اس سے قبل سابق وزیر داخلہ احسن اقبال , فواد حسن فواد اور اس وقت کے ایس ایس پی اسلام آباد بھی اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں ۔سپریم کورٹ کی ہدایت پر وزارت قانون و انصاف کے نوٹیفکیشن کے بعد کمیشن اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے,شاہد خاقان عباسی اس وقت وزیراعظم تھے جب فیض آباد دھرنا ہوا تھا، وہ اگست 2017 سے 31 مئی 2018 تک وزیراعظم رہے ،راولپنڈی میں فیض آباد دھرنا کیس میں انکوائری کمیشن نے شاہد خاقان عباسی کو طلب کیا گیا تھااور وہ پیش ہو گئے تھے،

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    جنرل رقمر جاوید باجوہ، فیض حمید پر مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    واضح رہے کہ نومبر 2023ء میں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا,وفاقی حکومت نے ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل  اختر علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا، جن میں سابق آئی جی طاہر عالم اور ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ خوشحال خان بھی شامل ہیں

  • فیض آباد دھرنا کیس میں فیض حمید کی طلبی ہو گئی

    فیض آباد دھرنا کیس میں فیض حمید کی طلبی ہو گئی

    فیض آباد دھرنا کیس، سابق ڈی جی آئی ایس آئی آئی فیض حمید کو طلب کر لیا گیا

    فیض آباد دھرنا کمیشن میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اگلے ہفتے طلب کئے گئے ہیں، فیض حمید کو کمیشن میں ٹی ایل پی فیض آباد دھرنا کیس میں دوسری بار طلب کیا گیا،سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو طلبی کا نوٹس وزارت دفاع کے ذریعے بھجوایا گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق اگلے ہفتے جنرل فیض حمید کمیشن کے سامنے فیض آباد دھرنا کیس میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے، فیض حمید سابق سرکاری افسر کی حیثیت سے فیض آباد دھرنا کیس اور وجوہات پر شواہد اکٹھے کرنے میں کمیشن کی معاونت کریں گے،

    لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو دسمبر کے دوسرے ہفتے میں بھی طلب کیا گیا تھا ،پہلا نوٹس بر وقت وصول نہ ہونے سے فیض حمید کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہو سکے، کمیشن کی جانب سے جنوری کے دوسرے ہفتے اپنی رپورٹ مکمل کیے جانے کا امکان ہے، اس سے قبل سابق وزیر داخلہ احسن اقبال , فواد حسن فواد اور اس وقت کے ایس ایس پی اسلام آباد بھی اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں ۔سپریم کورٹ کی ہدایت پر وزارت قانون و انصاف کے نوٹیفکیشن کے بعد کمیشن اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے

    شاہد خاقان عباسی اس وقت وزیراعظم تھے جب فیض آباد دھرنا ہوا تھا، وہ اگست 2017 سے 31 مئی 2018 تک وزیراعظم رہے ،راولپنڈی میں فیض آباد دھرنا کیس میں انکوائری کمیشن نے شاہد خاقان عباسی کو طلب کیا گیا تھااور وہ پیش ہو گئے تھے،

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    جنرل رقمر جاوید باجوہ، فیض حمید پر مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جج شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت ہوئی،
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت خان بینچ کا حصہ ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق سماعت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ، یوٹیوب پر براہ راست نشر کی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کیا درست ہیں؟ شوکت عزیز صدیقی کو ان الزامات پر مبنی کی گئی تقریر پر برطرف کیا گیا،سوچ کر جواب دیں کہ کیا آپ کے الزمات درست ہیں، کیا وہ جنرل جن کو آپ فریق بنانا چاہتے ہیں وہ خود 2018 کے انتخابات میں اقتدار میں آنا چاہتے تھے؟اگر شوکت عزیز صدیقی کے الزامات درست ہیں تو وہ جنرلز کسی کے سہولت کار بننا چاہ رہے تھے،جس کی یہ جنرل سہولت کاری کر رہے تھے وہ کون تھا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ میرے لگائے گئے الزامات درست ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے آرٹیکل 184 تین کے تحت آئے ہیں،یہ بھی یاد رکھیں کہ اصل دائرہ اختیار کے تحت کیا ہو سکتا ہے،

    شوکت عزیز صدیقی نے جو سنگین الزامات لگائے انکے نتائج بھی سنگین ہونگے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کون تھا؟ جس کیلئے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے سہولت کاری کی،آپ سہولت کاروں کو فریق بنا رہے ہیں، اصل بنیفشری تو کوئی اور ہے،آپ نے درخواست میں اصل بنیفشری کا ذکر ہی نہیں کیا، آپ نے لوگوں کی پیٹھ پیچھےالزامات لگائے،جن پر الزامات لگائے گٸے وہ کسی اور کیلئے سہولت کاری کر رہے تھے، سہولت کاری کرکے کسی کو تو فائدہ پہنچایا گیا،آئین پاکستان کی پاسداری نہ کرکے وہ اس جال میں خود پھنس رہے ہیں،سہولت کاروں کو فریق بنا لیا ہے تو فائدہ اٹھانے والے کو کیوں نہیں بنایا؟ وکیل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فائدہ کس نے لیا ایسی کوئی بات تقریر میں نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کی درخواست میں عدالت کا اختیار شروع ہوچکا ہے،فوجی افسر کسی کو فائدہ دے رہے تو وہ بھی اس جال میں پھنسے گا، وکیل حامد خان نے کہا کہ فوج شاید مرضی کے نتائج لینا چاہتی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک امیدوار کو سائیڈ پر اسی لیے کیا جاتا ہے کہ من پسند امیدوار جیتے، وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فوج نے اپنے امیداواروں کو جیپ کا نشان دلوایا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کبھی تو ملک میں سچ کی جان جانا ہی ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ ستر سال سے ملک میں یہی ہو رہا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ستر سال سے جو ہورہا ہے اس کا ازالہ نہ کریں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فوج ایک آزاد ادارہ ہے یا کسی کے ماتحت ہے؟ فوج کو چلاتا کون ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ فوج حکومت کے ماتحت ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومت فرد نہیں ہے، جو شخص فوج کو چلاتا ہے اس کا بتائیں،جب آپ ہمارے پاس آئیں گے تو ہم آئین کے مطابق چلیں گے، یہ آسان راستہ نہیں ہے،شوکت عزیز صدیقی نے جو سنگین الزامات لگائے انکے نتائج بھی سنگین ہونگے،سپریم کورٹ کو کسی کے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے کندھے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی ایک سائیڈ کی طرف داری نہیں کریں گے،وکیل بار کونسل صلاح الدین نے کہا کہ سابق جج نے اپنے تحریری جواب میں جن لوگوں کا نام لیا ہم انکو فریق بنا رہے،شوکت عزیز صدیقی نے بانی پی ٹی آئی سمیت کسی اور کو فائدہ دینے کی بات نہیں کی،مفروضے پر ہم کسی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کسی کا نام نہیں لے سکتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات بھی مفروضے ہیں،

    نوٹس جاری کر کے بلاوجہ لوگوں کو تنگ بھی نہیں کرنا چاہیے، کس سیاسی جماعت کو نکالنے کے لیے یہ سب ہوا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بار ایسوسی ایشن کے وکیل صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کسی کا بھی نام لکھ دیں تو اسے نوٹس کر دیں،کیا شوکت صدیقی بیرسٹر صلاح الدین کا نام لکھ دیں تو آپ کو بھی نوٹس کر دیں؟ کیا ہمارے کندھے استعمال کرنا چاہ رہے ہیں؟نوٹس جاری کر کے بلاوجہ لوگوں کو تنگ بھی نہیں کرنا چاہیے، کس سیاسی جماعت کو نکالنے کے لیے یہ سب ہوا؟ وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ جوڈیشل سسٹم پر دباو ڈال کر نواز شریف کو نکالا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس سے فائدہ کس کا ہوا؟ کیا سندھ بار یا اسلام آباد بار کو فائدہ دینے کے لیے یہ ہوا؟ بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ ہم نے انکوائری کی درخواست کی تا کہ حقائق سامنے آئیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ اگر سندھ بار شوکت صدیقی کی ہمدردی میں آئی کہ ان کو پنشن مل سکے تو یہ 184 تھری کا دائرہ کار نہیں بنتا، ہمیں نا بتائیں کہ انکوائری کریں یا یہ کریں، آپ معاونت کریں جو کرنا ہے ہم کریں گے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ مسئلہ یہ کہ عدالتی نظام کو استعمال کرنے کا الزام ہے، ہمارے بندے کو استعمال کر کے کیوں کہا گیا کہ نواز شریف انتخابات سے پہلے باہر نا آئے؟ وکیل صلاح الدین احمد نے کہا کہ یہ الزام فیض حمید پر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بار کونسلز کیوں اس کیس میں آئیں؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ہم تحقیق چاہتے ہیں کہ کیا واقعی شوکت صدیقی کی برطرفی عمران خان کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہم طریقے سے چلیں گے، شوکت صدیقی کو پنشن تو سرکار ویسے بھی دے دے گی، شوکت صدیقی 62 سال سے اوپر ہو چکے واپس بحال تو نہیں ہو سکتے،سسٹم میں شفافیت لا رہے ہیں 10 سال پرانے کیسز مقرر کر رہے ہیں،

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر مسئلہ صرف پنشن کا ہے تو سرکار سے پوچھ لیتے ہیں آپ کو دے دیں گے، اگر پاکستان کی تاریخ درست کرنا چاہتے ہیں تو بتا دیں ہم آپ کی مدد کرنے کو تیار ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہتے ہیں یہاں لوگ آلے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، آلے کے طور پر استعمال کون کرتا ہے؟ ماضی میں جو ہوتا رہا وہ سب ٹھیک کرنا ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ آپ نے اسٹیبلشمنٹ کا نام لینے سے روکا جب کہ اس ملک کی حقیقت یہی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہمارے منہ میں الفاظ نا ڈالیں، یہ آئینی عدالت ہے یہاں آئینی زبان استعمال کریں،ہمارا موقف واضح ہے کہ کہاں سیاسی دائرہ اختیار ختم اور عدالتی دائرہ شروع ہوتا ہے،آپ کا کیس کب سے مقرر نہیں ہوا یہ الزام ہمارے سامنے کھڑے ہو کر لگائیں ہم معذرت کریں گے، الیکشن کی تاریخ سے متعلق سیاسی جماعت آئی تو 12 روز میں ہم نے فیصلہ کیا،ملک میں کب اتنی جلدی کیس کا فیصلہ ہوا ہے؟ ہم نے آئینی اداروں کو حکم دیا کہ انتخابات کرانے کی زمہ داری پوری کریں، مسئلہ یہ ہے کوئی ادارہ اپنا کام کرنے کو تیار نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر میں فیض آباد دھرنے کو سپانسرڈ قرار دیا گیا ہے،فیض آباد دھرنا سپانسر کس نے کیا تھا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آپ نے خود دھرنا کیس کا فیصلہ دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلے کو چھوڑیں جو شوکت صدیقی نے لکھا وہ بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی سے کس قسم کا حکم چاہتے تھے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ بریگیڈیئر فیصل مروت نے بول ٹی وی کو آئی ایس آئی پروجیکٹ قرار دیتے ہوئے شعیب شیخ کی بریت کا کہا، بریگیڈئیر عرفان رامے نے بھی بول کے حوالے سے بات کی تھی، ایڈیشنل سیشن جج پرویز القادر میمن کو پچاس لاکھ رشوت دیکر شعیب شیخ کو بری کروایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے صرف اتنا ہی کہا گیا ہے کہ وہ ناراض ہیں، اس سنی سنائی بات پر قمر جاوید باجوہ کو کیوں نوٹس کر دیں ؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے زیادہ نام فیض حمید کا لیا ہے،قمر باجوہ سے متعلق گفتگو تو سنی سنائی ہے، قمر باجوہ نے شوکت عزیز صدیقی سے براہ راست کوئی بات نہیں کی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا چیف جسٹس ہائی کورٹ نے وہ بنچ بنایا تھا جو فیض حمید چاہتے تھے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ جو فیض حمید چاہتے تھے وہ ہوا، فیض حمید چاہتے تھے الیکشن 2018 سے پہلے نوازشریف کی ضمانت نہ ہو، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب آپ خود معاملہ الیکشن 2018 تک لے آئے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نوازشریف کی اپیل پر کیا فیصلہ ہوا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ اپیلوں پر ابھی فیصلہ ہوا اور نوازشریف بری ہوگئے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جنرل باجوہ سے تو کڑی نہیں جڑ رہی،آپ کہتے ہیں کہ فیض حمید جنرل باجوہ کے کہنے پر آئے، جنرل قمر جاوید باجوہ پر تو براہ راست الزام ہی نہیں،آج کل تو لوگ کسی کا نام استعمال کر لیتے ہیں،رامے بھی اس کیس سے غیر متعلقہ ہیں،زیادہ تر فیض باجوہ کی بات کی ہے آپ نے۔ آپ نے جن کے نام دئیے ہیں ان کا کیا کردار تھا یہ ثبوت کے ساتھ دیں۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں،شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ جتنے جذبات تھے پانچ سال میں ٹھنڈے ہوگئے،

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ریٹائرڈ عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری کر دیا، بریگیڈئر ریٹائرڈ عرفان رامے کو بھی نوٹس جاری کر دیا،سپریم کورٹ کے سابق رجسٹرار ارباب عارف کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا،تین افراد جنہیں شوکت عزیز صدیقی نے فریقین بنایا تھا ان کا براہ راست تعلق نہیں، جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ، طاہر وفائی، بریگئیڈیئر فیصل مروت کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا،کیس کی سماعت چھٹیوں کی تعطیلات کے بعد ہوگی،در خواست گزاروں کی ایڈریسز کے ترمیمی درخواستیں ایک ہفتے میں دائر کی جائیں، ترمیمی درخواستیں آنے کے بعد سپریم کورٹ آفس نوٹس جاری کرے گا، کیس کی آئندہ حتمی تاریخ ججز کی دستیابی کے بعد طے کریں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز شوکت عزیز صدیقی کیس میں سابق فوجی افسران کوفریق بنانے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی،درخواست میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی، بریگیڈئیر ریٹائرڈ عرفان رامے، بریگیڈیئر ریٹائرڈ فیصل مروت، بریگیڈیئر ریٹائرڈ طاہر وفائی کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی،سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی،سابق رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف کو فریق بنانے کی استدعاکی گئی،سابق جج شوکت عزیز نے درخواست اپنے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • فیض حمید کیخلاف کیس،معیز احمد کی درخواست پر 8 نومبر کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری

    فیض حمید کیخلاف کیس،معیز احمد کی درخواست پر 8 نومبر کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ر فیض حمید کیخلاف کیس،معیز احمد کی درخواست پر 8 نومبر کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا

    سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ میں کہا کہ درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار فیض حمید سنگین الزامات عائد کیے،درخواست گزار کے مطابق ٹاپ سٹی پر قبضہ کیلئے انکو اور اہلخانہ کو اغوا کیا گیا،جنرل ر فیض حمید پر درخواست گزار کے آفس اور گھر پر چھاپے کا الزام ہے، جنرل ر فیض حمید پر درخواست گزار کے گھر کا سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کرنے کا بھی الزام ہے،درخواست گزار کے وکیل نے کہا سپریم کورٹ کے علاوہ کاروائی کیلئے کوئی متعلقہ فورم نہیں بنتا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے رجوع کر سکتے ہیں، درخواست گزار کے الزامات پر قانون کے مطابق کاروائی کی جائے،سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے معیار پر پورا نہ اترنے پر فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی،عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کے خلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں،سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواستیں نمٹاتی ہے

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے زاہدہ جاوید اسلم کی معیز احمد کیخلاف درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا،سپریم کورٹ نے زاہدہ جاوید اسلم کیس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ زاہدہ جاوید اسلم کیس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،چیف جسٹس یا کوئی جج جج ان چیمبر آرٹیکل 184 تین کے مقدمات کے فیصلے نہیں کر سکتا،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد آرٹیکل 184 تین کے مقدمات کے فیصلے کا اختیار اکیلے چیف جسٹس کے پاس بھی نہیں رہا.

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    سپریم کورٹ میں زمین قبضے کے الزام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی سماعت ہوئی،

    عدالت نے درخواست گزار معیز احمد خان کے وکیل کو وکالت نامہ جمع کرانے کیلئے وقت دیدیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں،کیا کیس میں خود پیش ہوں گے یا وکیل کے ذریعے،درخواست گزار نے کہا کہ میرے وکیل نے وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، ہمیں رات کو ہی کال آئی تھی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ کیس میں التوا دیا جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کیس کو ملتوی بھی نہیں کر سکتے،آپ وکالت نامہ جمع کرائیں، پھر کیس سنیں گے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بارہ مئی 2017 کو معیز خان اور انکے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کارروائی نہیں کی تھی،وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التواء ہے،وکیل نے کہا کہ زاہدہ کا انتقال ہو چکا ہے، درخواست کی کاپی دیں تو جائزہ لے لیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جائزہ لے لیں تاریخ نہیں دے سکتے، چائے کے وقفے کے بعد سماعت کرینگے،

    سپریم کورٹ،فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو اب تک اس کیس سے ہم سمجھ پائے وہ آپ کو بتا رہے ہیں، برطانیہ کی شہری زاہدہ اسلم نے 2017 میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 تین کا کیس دائر کیا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں نومبر 2018 میں فریقین کو بلا کر کیس چلایا،کیا چیف جسٹس پاکستان چیمبر میں اکیلے سنگل جج کے طور پر فریقین کو طلب کر کے کیس چلا سکتا ہے؟ کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود ہی ایف آئی اے، پولیس اور سی ٹی ڈی وغیرہ کو نوٹس کیا، اسی نوعیت کی درخواست زاہدہ اسلم نے چیف جسٹس گلزار کے سامنے بھی رکھی،سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل میں آرٹیکل 184 تین کی درخواستیں دائر کی گئیں،جو درخواست ہمارے سامنے ہے یہ بھی 184 تین کے ہی تحت دائر کی گئی ہے،

    کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس سیل اور سپریم کورٹ میں فرق ہے،کیس کے حقائق میں نا جائیں، میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ہیومن رائٹس سیل غیر قانونی ہے،ہیومن رائٹس سیل کسی قانون کے تحت قائم نہیں ہے،ماضی میں ہیومن رائٹس سیل کے ذریعے بدترین ناانصافیاں ہوئی ہیں، کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جو معاملہ جوڈیشل دائرہ اختیار میں آیا ہی نہیں اس پر چیف جسٹس نے سماعت کیسے کی؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حفیظ الرحمان صاحب زاہدہ اسلم اور آپکی درخواست کیا آرٹیکل 184/3 میں آتے ہیں،وکیل نے کہا کہ زاہدہ اسلم کی درخواست 184/3 میں نہیں آتی کیونکہ وہ معاملہ سول عدالت میں زیر سماعت تھا،ہماری درخواست آرٹیکل 184/3 میں آتی ہے کیونکہ یہ معاملہ کسی اور فورم پر نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ چیمبر میں بیٹھا جج سپریم کورٹ نہیں ہوتا عدالت میں بیٹھے ججز سپریم کورٹ ہیں،چیمبر میں بیٹھ کر سپریم کورٹ کی کاروائی نہیں چلائی جاسکتی،چیمبر میں صرف چیمبر اپیلیں سنی جاسکتی ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینئر وکلا سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا چیمبر میں بیٹھ کر جج کسی کیس کو سن سکتا ہے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیمبر میں آرٹیکل 184/3 کے مقدمات نہیں سنے جاسکتے،چیمبر میں مخصوص نوعیت کی چند درخواستیں سنی جاسکتی ہیں،سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سلمان بٹ صاحب آپ نے بطور اٹارنی جنرل ہیومن رائٹس سیل کیخلاف بات کیوں نہیں کی،ہیومن رائٹس سیل حکومت کو غیر قانونی نوٹس بھجواتا رہا ہے،کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ہیومن رائٹس سیل کیخلاف عدالت میں سوال اٹھاتی،2010 سے ہیومن رائٹس سیل غلط طریقے سے چل رہا ہے کسی نے آواز نہیں اٹھائی،

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی، سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنےکا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کیخلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں،سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواست نمٹاتی ہے، درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے،متعلقہ فورم غیر موجود فریقین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے،درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار پر سنگین الزامات عائد کیے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے سابق عہدیدار کیخلاف رجوع کر سکتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ریٹائرڈ فوجی افسران کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے، آرٹیکل 184 تین کا استعمال اس طریقے سے نہیں ہونا چاہئے جس سے غیر موجود افراد کے بنیادی حقوق متاثر ہوں،

    فیض حمید کے حکم پر گھر اور آفس پر ریڈ کر کے قیمتی سامان ،سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کیا گیا،درخواست
    راولپنڈی کے شہری معیز احمد نے سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کیخلاف درخواست دائر کردی،جس میں کہا گیا کہ مجھے اور فیملی ارکان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، وفاقی حکومت کو ذمہ داران فریقین کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور آفس پر ریڈ کیا گیا،اس غیر قانونی ریڈ میں گھر کا قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کر لیا گیا،میرے خلاف غیر قانونی کارروائی کا مقصد ٹاپ سٹی ون کا کنٹرول حاصل کرنا تھا اور اس ریڈ کے بعد مجھے اور میرے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا گیا، وفاقی حکومت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید، ان کے بھائی نجف حمید پٹواری اور دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، فیض حمید کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، فیض حمید کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کو نوٹس جاری کر دیئے

    جنرل باجوہ ، جنرل فیض حمید اور دیگر کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ اندراج کی درخواست پر سماعت ہوئی،مقدمہ اندراج کی درخواست پر ہائیکورٹ نے ایف آئی اے ، جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کو نوٹس جاری کردیا ،صحافی جاوید چوھدری ، شاہد میتلا ، پیمرا ، پریس ایسوسی ایشن آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا،

    چیف جسٹس عامر فاروق نے شہری عاطف علی کی درخواست پر تحریری حکم جاری کردیا ، تحریری حکم میں عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کے مطابق ایف آئی اے کو مقدمہ اندراج درخواست کے بعد بار بار استدعا کی کوئی ایکشن نہیں ہوا ، درخواست گزار کے وکیل نے کہا ایف آئی اے کو حکم دیا جائے کہ مقدمہ درج کرکے کاروائی کرے ،جاوید چوھدری اور شاہد میتلا نے صرف ویورشپ کے لئے دو آرٹیکل لکھے جس کا سوسائٹی پر نیگیٹو اثر ہوا ، جاوید چوھدری اور شاہد میتلا کے آرٹیکلز کو پٹیشن کا حصہ بنایا گیا

    درخواست میں کہا گیا کہ جب میں نے آرٹیکلز دیکھے تو حیران رہ گیا کیسے مافیا سوسائٹی کو پرگندا کر رہا ہے۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کرمنل رویہ سامنے آیا اس سے مقدمہ اندراج کی درخواست دی ، کرمنل ایکٹ باجوہ اور فیض حمید کی ملی بھگت سے ہوا ایف آئی اے سخت ایکشن لے ، جنرل باجوہ اور جنرل فیض قانونی رکاوٹ عبور کرکے سنگین جرم کے مرتکب ٹھہرے ہیں ، غلط اور من گھڑت طریقہ سے مختلف ایونٹس کو ظاہر کرکے داغدار کیا گیا ،توجہ حاصل کرنے کے لیے صحافت کی آڑ میں آرٹیکلز سے ریاستی ادارے کی نگیٹیو تصویر پیش کی گئی۔ ان واقعات کے تناظر میں جاری مہم عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش ہے ،

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے گرد گھیرا مزید تنگ

    فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے گرد گھیرا مزید تنگ

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی کے گرد گھیرا مزید تنگ کر لیا گیا

    اینٹی کرپشن نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نائب تحصیلدار نجف حمید خان کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں، اراضی کے انتقالات کی فیسوں کی خورد برد کے حوالہ سے اینٹی کرپشن نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، نجف حمید کی تعیناتی کے دوران چکوال کے پانچ موضع جات میں کروڑوں روپے مالیت کی اراضی کے ساٹھ سے زائد انتقالات کی فیسوں میں بے ضابطگیوں کے شواہد مل گئے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چکوال کے نو موضع جات میں نجف حمید کی تعیناتی کے دوران انتقالوں کی فیس کا آڈٹ شروع کیا گیا ہے،جون 2021 سے لے کر فروری 2023 تک نجف حمید تعینات رہے،تمام انتقالات کی تحقیقات کی جا رہی ہے، اس دوران اینٹی کرپشن حکام کو اشٹام ڈیوٹی، رجسٹری فیس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتیوں میں خورد برد کے شواہد ملے ہیں، اینٹی کرپشن حکام کو ابتدائی سکروٹنی کے دوران ساٹھ سے زائد انتقالات کی فیسوں کے چالان ریکارڈ میں موجود نہیں ملے، اینٹی کرپشن کی چھان بین کے بعد 18 سے 21 جولائی تک 5 پٹواریوں نے خورد برد کی گئی فیسوں میں سے 20 لاکھ روپے جمع کروا دیے ہیں

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے گھر ہوئی واردات

    فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے گھر ہوئی واردات

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی لفیٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے گھر چوری کی واردات ہوئی ہے

    پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے، پولیس حکام کے مطابق نجف حمید نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں کہا کہ انہوں نے گھر میں ملازم رکھے تھے، ملازمین گھر سے ایک کروڑ سات لاکھ روپے نقد اور آئی فون موبائل چوری کر کے لے گئے، نجف حمید کا کہنا تھا کہ جس دن واردات ہوئی وہ گھر میں نہیں تھے اور علاج کے لئے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہو رگئے ہوئے تھے، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے، مقدمہ تھانہ نیلہ میں درج کیا گیا ہے،ملازمین کے نام عاشق حسین اور مقصود بتائے گئے ہیں جن کا تعلق لیہ اورچکوال سے ہے واقعہ 6 اپریل سے 24اپریل کے درمیان کاہے اور مقدمہ 13جولائی کو ہوا

  • نو مئی کے واقعات میں مبینہ کردار،فیض حمید گھر میں نظر بند

    نو مئی کے واقعات میں مبینہ کردار،فیض حمید گھر میں نظر بند

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی، فیض حمید کو نو مئی کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا تعلق چکوال سے ہے، وہ عمران خان کے انتہائی قریبی ساتھی تھے ،عمران خان کی گرفتاری کے بعد نو مئی کو ہونیوالی ہنگامہ آرائی میں فیض حمید کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا کردار سامنے آیا تھا، عمران خان حکومت کے ہی وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے ہی انکشاف کیا تھا کہ فیض حمید کا بھی ان حملوں میں مبینہ طور پر کردار ہے، فیض حمید اور عمران خان نے ہی مبینہ حملے، تشدد، ہنگامہ آرائی کی منصوبہ بندی کی تھی، اس احتجاج کے دوران فوجی تنصیبات پر حملہ کیا گیا، کور کمانڈر ہاؤس لاہور، جی ایچ کیو، آئی ایس آئی دفاتر پر ہنگامہ آرائی کی گئی،

    صحافی اسد علی طور نے مارچ 2023 کی اپنی سابقہ رپورٹ کا اعادہ کیا جس میں بتایا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو ممکنہ طور پر جلد گرفتار کیا جا سکتا ہے جنہوں نے جون 2019 سے نومبر 2021 تک عمران خان کی حکومت کے دوران پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں اسد طور نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض کو گرفتار کرنے کے فیصلے کے بارے میں ان کے دعوے کے بعد پاک فوج کے ریٹائرڈ جنرل کی کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثوں کے خلاف نیب میں دائر کی جانے والی شکایت کے حوالے سے ایک خبر منظر عام پر آئی تھی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، سابق آئی ایس آئی سربراہ کی “خصوصی تربیت یافتہ” ٹیم 9 مئی کو پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ ملک بھر میں متعدد مقامات پر آتش زنی اور توڑ پھوڑ کا ارتکاب کر رہی تھی۔ چونکہ آتش زنی اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد زیر حراست ہیں اسی لیے پاکستان آرمی کے کسی بھی اعلیٰ افسر کے خلاف اب تک عوامی سطح پر مقدمہ درج نہیں کیا گیا

    فیض حمید ریٹائر منٹ کے بعد سے چکوال اپنے آبائی علاقے میں ہیں، انہیں سرکاری سطح پر بتا دیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر سے باہر نہیں جا سکتے، شہریوں سے ملاقات نہیں کر سکتے، وہ تب تک گھر میں ہی رہیں گے باہر نہیں جائیں گے جب تک انہیں دوبارہ کوئی حکم نہیں دیا جاتا اور پاک فوج کے اعلیٰ حکام کی جانب سے انکے خلاف کاروائی کیلئے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاتا، فیض حمید اپنے گھر میں الگ ہیں وہ کسی سے نہیں مل سکتے اور نہ ہی کوئی ان سے ملنے آ سکتا ہے ،صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ فیض حمید کسی شادی یا جنازے میں شرکت بھی نہیں کر سکتے

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟