اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں.
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدامات وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی کفایت شعاری مہم کے تحت کیے گئے ہیں،حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے ہیں، مہم کے تحت 70 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اراکین قومی اسمبلی کی 2 ماہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی اسی طرح پارلیمانی وفود کے بیرون ملک دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران یا وہ افسران جن کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ روپے یا اس سے زائد ہے، ان کی 2 دن کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی،قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تمام نئی خریداری فوری طور پر بند کر دی گئی ہے اور صرف ناگزیر روزمرہ ضروریات کے لیے محدود خریداری کی اجازت ہوگی۔
ایران کے اربیل، تل ابیب اور بحرین میں امریکی و اسرائیلی مراکز پر حملے
روایتی اخراجات میں کمی کے لیے سیکریٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ اپنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہےقومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس غروب آفتاب سے پہلے شیڈول کیے جائیں گے جبکہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کو محدود رکھنے اور انہیں ورچوئل یا آن لائن طریقے سے منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے،اسی طرح قومی اسمبلی میں ہفتے میں 4 ورکنگ ڈیز ہوں گے۔
امریکا کراچی کی سڑکیں دکھا کر کہہ رہا ہے کہ ہم نے ایران کو تباہ کر دیا ،فیصل قریشی
نوٹیفکیشن کے تحت قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا 80 فیصد عملہ گھر سے ورچوئل ڈیوٹی سر انجام دے گا اور گھر سے کام کرنے والے ملازمین کو اضافی الاؤنس نہیں دیا جائے گا کفایت شعاری پالیسی کے تحت بجلی کے استعمال میں 70 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ میں غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اسی طرح قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے کیفے ٹیریاز کے یوٹیلیٹی بلز میں بھی 70 فیصد تک بچت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ان اقدامات کا مقصد حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی لانا اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔
ایران جنگ :ٹرمپ نےحملے کی ذمہ داری اپنے داماد سمیت مشیروں پر ڈال دی







