Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • قومی اسمبلی میں 2025-26 کے بجٹ کی منظوری کا عمل جاری،مطالباتِ زر کی منظوری

    قومی اسمبلی میں 2025-26 کے بجٹ کی منظوری کا عمل جاری،مطالباتِ زر کی منظوری

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2025-26 کی منظوری کا عمل جاری ہے۔

    سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں مختلف وزارتوں اور شعبوں کے لیے مطالباتِ زر کی منظوری دی گئی، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔اجلاس کے دوران حکومتی اراکین کی تعداد 116 اور اپوزیشن کے اراکین 32 رہے.مطالباتِ زر کی منظوری کے دوران درج ذیل اہم شعبوں کے لیے بجٹ منظور کیا گیا.

    شعبہ موسمیاتی تبدیلی: 1 ارب 6 کروڑ 84 لاکھ

    مواصلات: 34 ارب 75 کروڑ 47 لاکھ

    پاکستان پوسٹ آفس: 24 ارب 44 کروڑ 85 لاکھ

    دفاعی پیداوار: 1 ارب 9 کروڑ 30 لاکھ

    اقتصادی امور: 94 کروڑ 35 لاکھ

    ایچ ای سی: 66 ارب 40 کروڑ 71 لاکھ

    وفاقی تعلیم و تربیت: 37 ارب 24 کروڑ 47 لاکھ

    رحمت اللعالمین اتھارٹی: 11 کروڑ 9 لاکھ

    نیو ٹیک: 1 ارب 14 کروڑ 70 لاکھ

    ثقافت و قومی ورثہ: 2 ارب 49 کروڑ 56 لاکھ

    امور خارجہ: 4 ارب 50 کروڑ 40 لاکھ

    فارن مشنز: 58 ارب 3 کروڑ 6 لاکھ

    ہاؤسنگ اینڈ ورکس: 7 ارب 11 کروڑ 21 لاکھ

    صنعت و پیداوار: 30 ارب 47 کروڑ 61 لاکھ

    اطلاعات و نشریات: 5 ارب 75 کروڑ 73 لاکھ

    متفرق اخراجات اطلاعات و نشریات: 14 ارب 71 کروڑ 56 لاکھ

    انفارمیشن ٹیکنالوجی: 19 ارب 43 کروڑ 25 لاکھ

    کابینہ سیکریٹریٹ: 151 ارب 63 کروڑ 23 لاکھ (29 مطالبات زر منظور)

    دفاع ڈویژن کے لیے 26 کھرب 8 ارب 72 کروڑ 95 لاکھ روپے کے 5 مطالبات زر منظور کیے گئے، اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی 22 کٹوتی کی تحاریک مسترد ہوئیں۔کامرس ڈویژن کے لیے 26 ارب 99 کروڑ 85 لاکھ کے دو مطالبات زر منظور ہوئے، اپوزیشن کی 69 کٹوتی تحاریک بھی مسترد کردی گئیں۔

    اجلاس کے اختتام پر اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا۔

  • خواتین کے کپڑوں کی بڑھتی قیمتوں کا معاملہ قومی اسمبلی تک پہنچ گیا

    خواتین کے کپڑوں کی بڑھتی قیمتوں کا معاملہ قومی اسمبلی تک پہنچ گیا

    ملک بھر میں خواتین کے کپڑوں کی بڑھتی قیمتوں کا معاملہ قومی اسمبلی تک پہنچ گیا۔

    ایوان کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے معاملہ اٹھا دیا،شگفتہ جمانی نے کہا کہ برینڈز کا نام دے کر لوکل ٹیکسٹائل نے اپنی قیمتیں بڑھا دی ہیں، جو لیڈیز سوٹ 7 سے 8 ہزار روپے میں ملتا تھا اب اس کی قیمت 20 ہزار ہے، ان پر چیک اینڈ بیلنس کون رکھے گا؟جو گھر سے اٹھتا ہے وہ ٹیکسٹائل کا بزنس شروع کر دیتا ہے اور اپنا نام رکھ لیتا ہے۔

    اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری تجارت ذوالفقار علی بھٹی نے کہا کہ لوکل مارکیٹ اور ریٹیل مارکیٹ پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے، لوکل مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے بجٹ تجاویز وزارت خزانہ کو پیش کردیں۔

    پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو خطوط ارسال کیے ہیں جس میں برآمدی نمو پر مبنی حکومتی ویژن برقرار رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔

    پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے اپنی بجٹ تجاویز میں برآمدی مسابقت، ویلیو ایڈیشن اور لاگت میں کمی پر زور دیتے ہوئے وزیر خزانہ کی اقتصادی استحکام کی کوششوں کو سراہا۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے احسن اقبال کی ای ایف ایس اسکیم کی قیادت اور اصلاحات کا بھی اعتراف کیا۔

    خط میں کہا گیا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل برآمدات کیلئے حکومتی سمت کی مکمل حمایت کرتے ہیں، یقین ہے بجٹ میں فنانس منسٹر توانائی کی بلند قیمت اور بھاری ٹیکسوں کے حوالے سے ضروری اقدامات کریں گے، ای ایف ایس اسکیم کی اصل روح کو بحال کرنا برآمدات کے لیے ناگزیر ہے۔

  • پاکستان کسی بھی بھارتی اقدام کا فیصلہ کن جواب دے گا، قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

    پاکستان کسی بھی بھارتی اقدام کا فیصلہ کن جواب دے گا، قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

    اسلام آباد:قومی اسمبلی نے پہلگام واقعے کے بعد بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بزنس ایڈوائزری کمیٹی نے پہلگام واقعے اور پانی کے معاملے کی مذمت کی، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان نے بار بار آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کیا، پاکستان سے زیادہ دہشت گردی کے نقصان سے کون واقف ہے۔

    پہلگام واقعے پر بحث کرانے کیلئے ایوان میں تحریک پیش کی گئی اور اس دوران قومی اسمبلی میں معمول کی کارروائی معطل کردی گئی یہ تحریک وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے پیش کی، بعد ازاں پہلگام واقعے کے بعد بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی گئی، وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے یہ قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے، پاکستان بھارتی الزامات کو مسترد کرتا ہے، پاکستان کسی بھی بھارتی اقدام کا فیصلہ کن جواب دے گا، پاکستان اپنی خودمختاری کا مکمل دفاع کرے گا۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا، کشمیری اپنے حق خودارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ پاکستان کا معاملہ ہے ہم سب پاکستانی ہیں، ہم اس قرارداد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، اگر پاکستان کا پانی روکا گیا تو یہ جنگ کے شروع کرنے کا مترادف ہوگا، پاکستان پر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔

  • قومی اسمبلی اجلاس، اسرائیلی مظالم کے خلاف قرارداد منظور

    قومی اسمبلی اجلاس، اسرائیلی مظالم کے خلاف قرارداد منظور

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسرائیلی جارحیت کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی، قرارداد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی۔

    باغی ٹی وی:قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا، اجلاس کے دوران ایران میں شہید ہونے والے پاکستانیوں، پروفیسر خورشید احمد، اور سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے ایوان میں فاتحہ خوانی کی گئی فاتحہ خوانی وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے کرائی۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے ایرانی حکومت کے سامنے 8 پاکستانیوں کےقتل کا معاملہ اٹھایا ہےایران کے شہر سیستان میں 8 پاکستانیوں کو قتل کردیا گیا، ان پاکستانیوں کا تعلق پنجاب کے علاقے بہاولپورسے تھا۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے عربی ٹی وی چینل "الحرہ” کی فنڈنگ روک دی

    اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ان پاکستانیوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کردیا گیا، حکومت پاکستان نےایرانی حکومت کے سامنے یہ معا ملہ اٹھایا ہے، ہم چاہتے ہیں واقعے کی تحقیقی رپورٹ ہمارے پاس بھی آئے، قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں وزارتوں کی جانب سے مختلف اہم امور پر تفصیلات پیش کی گئیں، جبکہ فلسطین کی سنگین صورتحال پر غور کے لیے وقفہ سوالات معطل کر دیا گیا۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں تحریک پیش کی جسے منظور کرتے ہوئے اسپیکر نے فلسطین کی سنگین صورتحال پر بحث کے لیے وقفہ سوالات معطل کر دیا۔

    دوستی سےانکارکیوں کیا؟ امیرزادے نے گریجویشن کی طالبہ کواغواء کرلیا

    اس موقع پر تمام جماعتوں کے وہیپس نے مسئلہ فلسطین پر بحث کا مطالبہ کیا، جب کہ پیپلزپارٹی نے اس کی مخالفت کی رکن اسمبلی نوید قمر نے مؤقف اختیار کیا کہ وقفہ سوالات کو معطل نہیں کیا جا سکتا، تاہم پی ٹی آئی کے چیف وہیپ عامر ڈوگر نے بھی اس معاملے پر بھرپور بحث کا مطالبہ کیا۔

    اسپیکر نے کہا کہ سیاست نہ کی جائے، تمام ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے وزیر قانون نے واضح کیا کہ حکومت مسئلہ فلسطین پر بحث کی مخالفت نہیں کرے گی۔

    وفاقی وزیر، اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ ممالک غزہ کی صورتحال پر خاموش ہیں، اسرائیلی جارحیت پر بعض ممالک کی خاموشی افسوسناک ہے، جنوبی افریقہ کا اسرائیلی جارحیت کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانا خوش آئند ہے، مسئلہ کشمیر و فلسطین کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہئے، پاکستان کا مسئلہ فلسطین کے حوا لے سے موقف دو ٹوک اور واضح ہے۔

    مجھے لگتا ہے میں والدہ ملکہ ترنم نورجہاں کی زندگی ری کری ایٹ کر رہی ہوں،نازیہ اعجاز

    انہوں نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہےفلسطین میں اسپتال، ایمبولینس تک غیر محفوظ ہیں، فلسطین میں عالمی انسانی رضاکار تک غیر محفوظ ہیں، پاکستان عالمی سطح پر فلسطینی بھائیوں کیلئے آواز اٹھا رہا ہے وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان کا دو ٹوک موقف پیش کیا، اسرائیلی جارحیت کا فل الفور خاتمہ ہونا چاہئے، نہتے فلسطینیوں کو اقوام متحدہ کے ساتھ کی ضرورت ہے۔

    اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات اطا تارڑ نے کہا کہ غزہ میں نہتے فلسطینیوں پرمظالم ڈھائے جا رہے ہیں، فلسطین کے معاملے پرہم سب متحد ہیں، سیاست نہیں ہونی چاہیے، پوائنٹ اسکورنگ کی بجائےعملی اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔

    عطاتارڑ نے کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ پر لکھا ہے کہ یہ اسرائیل کیلئے کارآمد نہیں، مجھے اپنے پاسپورٹ پر فخر ہے، جنوبی افریقا فلسطین کے معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے کر گیا، فلسطین کے معاملے پر پاکستان نے جنوبی افریقا کی مکمل حمایت کی، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

    اوورسیز کنونشن:آرمی چیف اور وزیرِ اعظم کیجانب سے کنونشن شرکاء کیلئے خصوصی عشائیے کا اہتمام

    انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، اسرائیل عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے، 200 فلسطینی طلبہ پاکستانی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، فلسطینی طلبہ کوتمام سہولیات مہیاکی گئی ہیں، فلسطین کیلئے امداد بیجھنے پرفلاحی اداروں کوخراج تحسین پیش کرتےہیں، مصر اور اردن کے ذریعے ہزاروں ٹن امدادی سامان غزہ بھجوایا گیا۔

    قومی اسمبلی اجلاس میں عبدالقادرپٹیل نے خطاب کہا کہ میں نے کہا کہ کچھ دیر نعرے نہ لگاؤ، ملک کی بقا کا مسئلہ ہے، ہمارے ارکان نے ان کی تھوڑیوں کو ہاتھ لگایا، کہا گیا کہ غیرآئینی طریقے سے ایک حکومت کو ختم کیا گیا۔ وہ تو واحد آئینی طریقہ تھا جس سے حکومت کو ختم کیا۔

    اپوزیشن کے شور شرابے پر عبدالقادر پٹیل نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ سر اب ان کی دوائی کا ٹائم ہوگیا تو میں کیا کروں، جب وہ لوگ یہاں موجود تھے تو آپ نے بات تک نہیں کی، آپ انہیں بتاتے نہ کہ ہمیں ڈی چوک سے اٹھالیا جاتا ہے، آپ کہتے ناں، لیکن آپ میں تو ہمت ہی نہیں تھی-

    وفاقی حکومت کا رواں سال گندم کی خریداری نہ کرنے کا فیصلہ

  • اراکین  قومی اسمبلی  کوسو فیصد اضافے کے ساتھ تنخواہیں ملنا شروع

    اراکین قومی اسمبلی کوسو فیصد اضافے کے ساتھ تنخواہیں ملنا شروع

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اراکین کوسو فیصد اضافے کے ساتھ تنخواہیں ملنا شروع ہو گئیں-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں کے اضافے کی منظوری پر عملدرآمد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے شروع کردیا ہے ، رکن اسمبلی کو 2لاکھ 18 ہزارکے بجائے اب ٹیکس کٹوتی کےبعد 5 لاکھ 19 ہزارروپےماہانہ تنخواہ ملنا شروع ہوگئی ہے ، مراعات اورالاؤنسز الگ ہیں سینیٹ اراکین تاحال اضافی تنخواہوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق رکن اسمبلی کو مراعات کی مد میں ڈیلی الاونس ، کنونینس الاونس اورہاوسنگ الاونس کی مد میں یومیہ 6 ہزار8 سو ملتا ہے ، ٹریول الاونس کی مد میں سالانہ 30 بزنس کلاس ائیرٹکٹ کے ساتھ ساتھ 3 لاکھ کے ٹریول واچر بھی فراہم کیے جائے ہیں۔

    پشاور:گھروں پر حملے کر کے ویڈیوز بنانیوالے ٹک ٹاکرز گرفتار

    اراکین پارلیمنٹ تنخواہ میں اضافے پرمطمئن توہیں لیکن کہتے ہیں ہم بھی مہنگائی کے ستائے ہوئے ہیں رکن قومی اسمبلی، سینیٹ کے اراکین تںخواہ میں اضافہ نہ ہونے پر شکوہ کررہے ہیں ،اراکین اسمبلی حالیہ تنخواہ کے اضافہ کو ناکافی بھی قراردے رہے کہتے ہیں تنخواہ 1974 کے ایکٹ اور اعلی عدلیہ کے ججزاوربیوروکریسی کی سیلری اورمراعات کے برابرہونی چا ہئے۔

    ملزم ارمغان نے وکیل کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں اعتراف جرم کرلیا

  • صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا،فاروق ستار

    صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا،فاروق ستار

    اسلام آباد: ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ وزیرا عظم سانحہ جعفر ایکسپریس پر اے پی سی بلائیں جو قومی ایجنڈا طے کرے۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ ایم کیو ایم بلوچستان واقعہ کی شدید مذمت کرتی ہے، تمام سیاسی جماعتیں صرف مذمت تک نہ رہیں عملی طورپر دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل سامنے لائیں، سیکیورٹی فورسز کے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں سیاسی نظام میں جو کمی ہے اسے دور کرنا چاہیے، ہمیں مل کر دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل سامنے لانا ہوگا، صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا آج قومی سلامتی کا ایشو ہمارے لئے اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

    فاروق ستار نے کہا کہ اے پی ایس پر حملے کی طرح قوم کو متحد کرنا ہوگا، اے پی ایس کے وقت فوجی و عسکری و اپوزیشن قیادت نے مشاورت کی، یہ نیشنل ایکشن پلان اسی قومی مشاورت یا اے پی سی کا نتیجہ تھا، بلوچستان میں امن و امان کا سب سے پہلا اثر کراچی پر ہوتا ہے نیشنل ایکشن پلان میں آرٹیکل 140پر ’’حقیقی عمل کیا جائے‘‘ لکھا ہے مگر آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم عوام سے رابطے میں نہیں ہیں آج پاکستان میں ریاست کے اندر ریاست بن رہی ہے، نیشنل ایکشن پلان کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

    مریم نواز کا گردےعطیہ کرنیوالے تمام افراد کو خراج تحسین

    انہوں نے کہا کہ آج حکومت اور اپوزیشن طے کریں کہ اگلے دس سال ملک کو کیسے چلانا ہے؟ قومی ایجنڈا بنانے کی ضرورت ہے سندھ میں بدترین حکمرانی ہوگی تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوگا بلوچستان میں آپریشن ہوگا تو وہاں سے دہشت گرد کراچی بھاگیں گے، اے پی ایس کے وقت کی طرح وزیر اعظم اے پی سی بلائیں اور اے پی سی قومی ایجنڈا طے کرے۔

    فاروق ستار کا کہنا تھا کہ بیوروکریٹس کو وائس چانسلر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، پورا صوبہ ایڈہاک ازم پر چلایا جارہا ہے، جب تک بلدیا تی بااختیار نظام نہیں بنے گا عوام کی جمہوریت میں موثر شرکت نہیں ہوگی، آج کراچی میں طلبا جو اسی فیصد پاس ہوتے تھے اب تیس فیصد پاس ہورہے ہیں آج کراچی میں میرٹ کا قتل عام ہورہا ہےہر زبان و علاقہ کا فرد کراچی میں رہتا ہے میثاق جمہوریت کے مطابق عدلیہ کے بارے میں 26 ویں آئینی ترمیم لائی گئی، میثاق جمہوریت کے مطابق مقامی حکومتوں کو کب بااختیار کیا جائے گا ؟-

    فیض کو آپ نے جیل میں ڈالا، اچھا کیا، باجوہ کو بھی ڈالو،شیر افضل مروت

  • فیض کو آپ نے جیل میں ڈالا، اچھا کیا، باجوہ کو بھی ڈالو،شیر افضل مروت

    فیض کو آپ نے جیل میں ڈالا، اچھا کیا، باجوہ کو بھی ڈالو،شیر افضل مروت

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ باجوہ خوشی میں آزاد پھر رہا ہے، کشمیر کا سودا اس شخص نے کیافیض کے ذریعے اس نے آپ کو جیلوں میں ڈلوایا، پی ٹی آئی کی پیٹھ میں بھی اس نے چھرا گھونپا، فیض کو آپ نے جیل میں ڈالا، اچھا کیا، باجوہ کو بھی ڈالو-

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ بلوچستان واقعے کے بعد آج یہاں تقاریر سنیں، بےنظیر بھٹو کی جس دن شہادت ہوئی اس دن بھی انہوں نے ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن بلوچستان مسئلہ کا حل نہیں ہے ، ہم اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں، علی وزیر آج بھی سکھر جیل میں ہے، ماہ رنگ بلوچ یہاں آئی تو پانی پھینکا گیا، اگر یہ حالات ایسے ٹھیک ہونے ہوتے تو ہوجاتے، حکومتی مشینری لگی ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی نے دہشتگرودں کے حق میں ٹوئٹ کیے۔

    شیر افضل مروت نے کہا کہ باجوہ خوشی میں آزاد پھر رہا ہے، کشمیر کا سودا اس شخص نے کیا، فیض کے ذریعے اس نے آپ کو جیلوں میں ڈلوایا، پی ٹی آئی کی پیٹھ میں بھی اس نےچھرا گھونپا،فیض کو آپ نےجیل میں ڈالا، اچھا کیا، باجوہ کو بھی ڈالو، اس لیے کوئی کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ سابق آرمی چیف ہے، جرنیلوں نے اس ملک کا بیڑا غرق کر دیا۔

    ٹانک میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام،10 دہشت گرد ہلاک

    شیر افضل مروت نے کہا کہ کب تک صرف مزمتیں اور قراردادیں پیش کرتے رہیں گے، سروسز چیفز کو بلائیں اور ان سے پوچھیں، 2 دو ماہ کے لیے پالیسیاں بناتے ہیں، تمام ایجنسیوں کی جانب سے سیاستدانوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، کشمیر کا سودا کرنے پر قمر جاوید باجوہ کو انصاف کے کٹہرے میں کیوں نہیں لایا جاتا، جرنیلوں کے اثاثوں کی چھان بین کیوں نہیں کی جاتی۔

    انہوں نے کہا کہ طالبان کو واپس بسانے کے ذمے دار تمام سیاسی جماعتیں ہیں، فیض حمید کے ساتھ قمر جاوید باجوہ کو بھی جیل میں ڈالا جائے، جب صوبوں کو ان کے حقوقِ نہ دیئے جائیں گے تو دہشتگردی ہوگی، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے طویل مدتی پالیسی لانا ہوگی، پا کستانی عوام کو اداروں کی ناکامی کی وجہ سے ان اداروں سے نفرت ہوگئی ہے۔

    پی آئی اے کی پرواز کا ایک پہیے پر لینڈنگ کا انکشاف

    شیر افضل مروت نےکہا کہ بلوچستان کے لوگوں کو ان کے عزیزوں کی لاشیں بھی نہیں دی جاتی، جب تک عوام فوج کے پیچھے کھڑی نہیں ہوگی فوج جنگ نہیں جیت سکتی، تمام ادارے آئین اور قانون کا حترام کریں، دہشتگردی کیخلاف پالیسی فوج نہیں اس ایوان کو بنا نا ہوں گی، خارجہ پالیسی فوج نہیں اس ایوان کو بنانا ہوگی۔

    انکا کہنا تھا کہ ضرب عزب اور ردالفساد سےہم نےکچھ حاصل نہیں کیاہم کوئی دہشتگردی کےخلاف جنگ نہیں جیتے ہر اسٹیبلشمنٹ نئی پالیسی لاتی ہے، کبھی گڈ طالبان کبھی بیڈ طالبان بن جاتے ہیں، بلوچستان میں ہتھیار اٹھانے والے کہہ رہے ہیں کہ اپنے پیاروں کی ہڈیاں تو دیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کے رمضان پیکج کے پیسے سرکاری افسران خود ہڑپنے لگے

    پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے کہا کہ ان سروسز چیف کو بلائیں اور کٹہرے میں کھڑا کریں، ان کو بتائیں کہ لوگ تنگ آ چکے ہیں، جنگ فوج نے جیتنی ہوتی تو جیت چکے ہوتے، اس دفعہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر نہ چھوڑو، اس ملک کی پالیسی اس ایوان پر چھوڑو، خار جہ پالیسی، داخلہ پالیسی اور افغانستان سے متعلق پالیسیاں وہ بناتے ہیں، آپ کو کہہ دیتے ہیں کہ آپ وزیر ہو اور آپ پھدکتے رہتے ہو۔

    شیر افضل نے کہا کہ بلوچستان میں ہتھیار اٹھانے والے کہہ رہے ہیں کہ اپنے پیاروں کی ہڈیاں تو دیں، پاکستانی ہونے کی وجہ جان کے لالےپڑے ہوتے ہیں انکو بتائیں کہ لوگ تنگ آ چکے ہیں، جنگ فوج نےجیتنی ہوتی تو جیت چکےہوتےاس دفعہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر نہ چھوڑو اس ملک کی پالیسی اس ایوان پر چھوڑو۔

    پی ٹی آئی اقتدار کی بھوکی، ملک دشمن پروپیگنڈا کر رہی ہے: خواجہ آصف

    بعد ازاں پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج اسمبلی میں تقریر کی ہے جس میں دل کی باتیں کیں، 24 سال ہوگئے پاکستانی مر رہے ہیں ، بے گناہ لوگ مر رہے ہیں، اس جنگ کو ختم کرنا ہے بڑھانا نہیں ہے، دہشت گردی کی یہ جنگ افواجِ پاکستان کی جنگ نہیں ہے پورے پاکستان کی جنگ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے لوگ اتنے پریشان نہیں ہوں گے کیونکہ اس وقت کے پی اور بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، جب انسان اتنا گر جائے کہ اے پی ایس کے بچوں کو مارنا جذبہ ہو تو یہ سفاکیت کی مثال نہیں ملتی، دہشتگردوں نے اس وقت قلعہ قمع کیا ہوا ہےاختر مینگل اس ایوان سے مستعفی ہوگیا ، علی وزیر کا خاندان طالبان نے مار دیا، پاکستانی سوچ رہے ہیں کہ فوجی شہید ہوگئے ہمارا کیا، یہ جنگ آپ کے گھر تک پہنچنے والی ہے، یہ کیسی جیت ہے جس میں لوگ مر رہے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کے رمضان پیکج کے پیسے سرکاری افسران خود ہڑپنے لگے

    شیر افضل مروت نے کہا کہ میں نے آج تجویز دی ہے کہ پاکستانی قوم جنگ میں فوج کے ساتھ کھڑے ہوں، ایک پالیسی بناؤ جس میں واپسی کا راستہ نہ ہو، ہفتہ وار پالیسی ملک کی سلامتی کے لیے مثبت ثابت نہیں ہوگی۔

  • قومی اسمبلی کااجلاس کل ہوگا، ایجنڈا جار ی

    قومی اسمبلی کااجلاس کل ہوگا، ایجنڈا جار ی

    قومی اسمبلی کااجلاس کل ساڑھے11بجے ہوگا جس کے لئے 17 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ٹیکس ڈیجیٹلائزیشن کیلئے میکنسی فرم کی خدمات حاصل کرنے پرتوجہ دلاؤ نوٹس ایجنڈےکا حصہ ہوگا،وزیر تجارت جام کمال مانع اغراق محصولات ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کرینگے۔وزیرداخلہ محسن نقوی تحویل ملزمان ترمیمی بل 2024،پاکستان شہریت ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کریں گے،اس کے علاوہ مختلف قائمہ کمیٹیوں کی معیادی رپورٹس بھی قومی اسمبلی اجلاس میں پیش کی جائیں گی،قومی اسمبلی میں صدر مملکت کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی نقول بھی پیش کی جائیں گی۔

    وزیر پارلیمانی امور صدر مملکت کے مشترکہ اجلاس پر اظہار تشکر کی تحریک پیش کرینگے،این اے 86 میں نئے گیس کنکشنز کی عدم فراہمی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس ایجنڈے کاحصہ ہوگا۔

    بھارت کا انٹرنیٹ کیلئے اسپیس ایکس کے ساتھ معاہدہجعفر ایکسپریس حملہ، 13دہشت گردوں کو ہلاک ، 80 مسافر بازیاب

  • سولہویں قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل

    سولہویں قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل

    اسلام آباد: سولہویں قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل ہو گیا-

    باغی ٹی وی: ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی دانشمندانہ قیادت میں پہلے پارلیمانی سال میں کئی اہم سنگ میل عبور کر لیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنے آفس اور گھر کے دروازے اراکین کےلیے کھول دئیے ، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر بٹھانے کے لیے پل کا کردار ادا کیا ۔

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق حکومت اپوزیشن اختلافات کم کرنے میں بھی سپیکر کا کردار غیر معمولی تھا ، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کےلیے قائم خصوصی کمیٹی کے چار اجلاسوں کی صدارت کی ،سپیکر سردار ایاز صادق نے جمہوریت اور پارلیمانی اقدار کے فروغ کےلیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں ۔

    رمضان المبارک:شاہ سلمان نے بڑے اعلانات کر دیئے

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کی خاطر سپیکر نے خصوصی کمیٹی کو برقرار رکھنے کے احکامات جاری کیے،اسپیکر قومی اسمبلی کی صدرات میں ایوان کی کارروائی کو غیر جانبداری اور خوش اسلوبی سے چلایا گیا، پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے علاقائی اور عالمی سطح پر رابطوں کو فروغ اور پاکستان کا سافٹ امیج اجاگر کیا گیا-

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں کفایت شعاری مہم کے تحت قومی اسمبلی کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی گئی، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اخراجات میں کمی لا کر قومی خزانے کیلئے ایک ارب روپے کی بچت کی گئی اسپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں ہی پہلے پارلیمانی سال کے دوران 18 ویں اسپیکرز کانفرنس کامیاب انعقاد ہوا-

    گورنر سندھ کا ڈمپرز حادثات میں جاں بحق ہونیوالوں کے اہلخانہ کو پلاٹ دینے کا اعلان

    قومی اسمبلی کے پہلے پارلیمانی سال میں 13 اجلاس منعقد ہوئے اور پارلیمانی سال کے 130 لازمی دن مکمل کیے گئے، پہلے پارلیمانی سال میں اپوزیشن اراکین کو 66 جبکہ حکومتی اراکین کو 71 گھنٹے بولنے کا موقع ملا،پہلے پارلیمانی سال کے دوران51 بلز منظور کیے گیے جن میں 40 حکومتی اور 11 پرائیویٹ ممبر بلز شامل تھے،پہلے پارلیمانی سال کے دوران 51 میں سے 42 بلز باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر گئے –

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق پہلے پارلیمانی سال کے دوران 26 قراردادیں بھی منظور کی کی گئی ،پارلیمانی سال کے دوران 1059 نشاندار جبکہ 264 غیر نشان دار سوالات کے جوابات دیے گئے، پہلے پارلیمانی سال میں 69 توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب دیے گئے جبکہ 4 تحریکوں کو قاعدہ 258 کے تحت زیر بحث لایا گیا، پہلے پارلیمانی سال میں قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے بعد ان کے 213 اجلاس منعقد ہوئے-

    اپنی موت کی پیشگوئی کرنیوالے نجومی کو محبوبہ نے زہر دے دیا

    پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا معاملہ بھی خوش اسلوبی سے حل کیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر سیکرٹریٹ کی تزئین و آرائش اور صفائی کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے، قومی اسمبلی کی ڈیجٹلائزیشن اور عملے کی تربیت کے ذریعے استعداد کار کو بڑھانے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے۔

  • انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے،عطااللہ تارڑ

    انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے،عطااللہ تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ اور گجرات میں انسانی اسمگلنگ کا مسئلہ زیادہ ہے، 3 کشتیاں حادثے کا شکار ہوئیں اور لوگ اپنے پیاروں کے جنازوں کا انتظار کرتے رہے۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں اصلاحات کی جا رہی ہیں اور انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، اب تک 436 انسانی اسمگلرز گرفتار ہوچکے ہیں۔

    وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے سخت ایکشن لیا، اسمگلرز کی جائیدادیں ضبط اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے ہیں، انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں انسانی اسمگلرز کو چھپنے کی جگہ کہیں نہیں ملے گی اور ایف آئی اے میں اصلاحات انسانی اسمگلنگ روکنے کا ہی ایک حصہ ہے، انسانی اسمگلنگ میں منظم گینگز شامل تھے انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے، انسانی اسمگلرز کو قرارواقعی سزا دی جائے گی۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ 2 سالوں میں جرائم کی شرح میں کمی کا انکشاف ہوا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحریری جواب قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا، جس میں بتایا کہ 2023 کے مقابلے میں 2024 میں 11 فیصد کم جرائم ہوئے۔

    قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کا تحریری جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ سال 2024 میں 1596 مجرموں پر مشتمل 686 گینگز کو پکڑا گیا، 2024 میں 80 کروڑ 26 لاکھ سے زائد مالیت کی چوری شدہ اشیا کو برآمد کیا گیا، ڈالفن فورس، موبائل پیٹرولنگ یونٹس اور 15 کے زریعے شہریوں کو محفوظ بنایا جا رہا ہے۔

    وزیر داخلہ نے بتایا کہ سال 2024 میں کل 231 سرچ آپریشنز منعقد کیے گئے، ہوٹل آئی ایپ کے ذریعے 200 ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی، اس وقت دارالحکومت میں مختلف لوکیشنز پر 3159 سی سی ٹی وی کیمرہ لگائے گئے ہیں جبکہ 2024 میں مشتبہ افراد کے خلاف 5000 سی ڈی آرز کا تجزیہ کیا گیا۔

    علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں حکومت نے 12 منٹ میں پانچ بل منظور کروا لیے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون نے سب سے پہلے سول سرونٹ ترمیمی بل 2025 پیش کیا جس کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں دیوانی عدالتیں ترمیمی بل 2024، پاکستان کوسٹ گارڑ ترمیمی بل 2024، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام ترمیمی بل 2025 بھی منظور ہوگیا۔

    قومی اسمبلی میں مہاجرین کی اسمگلنگ کا تدارک ترمیمی بل 2025 منظوری کیلئے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، جس کو ایوان نے منظور کرلیا اس کے علاوہ امیگریشن ترمیمی بل 2025 بھی منظور کرلیا گیا۔ بلوں کی منظوری کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کیا، پی ٹی آئی کے یوسف خان نے کورم کی نشاندہی کی جس پر اجلاس روکا گیا اور پھر کورم پورا ہونے پر اجلاس کی کاروائی دوبارہ شروع ہوئی۔