Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • قومی اسمبلی،اقلیتوں کے قومی دن پر قرارداد متفقہ طور پر منظور

    قومی اسمبلی،اقلیتوں کے قومی دن پر قرارداد متفقہ طور پر منظور

    قومی اسمبلی نے اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

    اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا، جہاں قرارداد رکن اسمبلی نوید عامر جیوہ نے پیش کی۔قرارداد کے متن میں مطالبہ کیا گیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ء کی تقریر کو پاکستان کے نصاب میں شامل کیا جائے۔ قرارداد کے مطابق قائداعظم نے تمام اقلیتوں کو مذہبی آزادی اور عبادات کا حق دیا، جبکہ ان کے خطاب کے مطابق مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔

    پیٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں کمی کا امکان

    رائٹ سائزنگ پالیسی، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے 4 ادارے بند

    پاکستانی حدود بندش،ایئر انڈیا کی واشنگٹن فضائی سروس معطل

    پاکستانی حدود بندش،ایئر انڈیا کی واشنگٹن فضائی سروس معطل

    بھارت نے جنگ چھیڑی تو نہ پیچھے ہٹیں گے نہ جھکیں گے، بلاول بھٹو

  • پاپولر ہونے کا مطلب بے گناہی نہیں ہوتا،طلال چوہدری

    پاپولر ہونے کا مطلب بے گناہی نہیں ہوتا،طلال چوہدری

    اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہےکہ،کوئی نیا آپریشن نہیں ہو رہا ہے مگر نیشنل ایکشن پلان کےتحت کارروائیاں کسی کا باپ بھی نہیں روک سکتا۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ شیطان بھی بہت مقبول ہے مگر وہ فرشتہ نہیں بن سکا، اگر اڈیالہ جانا تھا تو یہاں کیوں آئے تھے، بہانے بنائے جا رہے ہیں، مقبول ہونے کی بات بار بار کی جاتی ہے مگر پاپولر ہونے کا مطلب بے گناہی نہیں ،ہمیں معلوم ہے آپ کو درد کیا ہے؟ ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو یہاں لاکر کس نے بٹھایا تھا ، آپ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں یا ریاست کے ساتھ؟ جس صوبے میں 700 ارب این ایف سی سے لیا وہاں انہوں نے سی ٹی ڈی بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

    وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ کوئی نیا آپریشن نہیں ہو رہا ہے مگر نیشنل ایکشن پلان کےتحت کارروائیاں کسی کا باپ بھی نہیں روک سکتا، دہشتگرد حملے ان پر نہیں ہوتے باقی سب جماعتوں پر ہوتے ہیں، کوئی نیا آپریشن نہیں ہو رہا ہے مگر نیشنل ایکشن پلان کےتحت کارروائیاں کسی کا باپ بھی نہیں روک سکتا، زائرین بہت بڑی تعداد میں جاتے ہیں ، ایران، اسرائیل جنگ کے بعد کچھ سکیورٹی مسائل پیدا ہوئے ہیں، اس کے بعد زمینی راستے سے جانے پر پابندی لگائی گئی ہے ، اس متعلق مذاکرات کیے گئے ہیں۔

    امریکی سینیٹر لنزی گراہم کا ٹرمپ کے بھارت پر ٹیرف لگانے کے فیصلے کی بھرپور حمایت

    فیفا نے ویمن فٹبال کی نئی عالمی رینکنگ جاری کردی

    انڈونیشیا کا جزیرہ گالانگ پر غزہ کے زخمیوں کے لیےطبی سہولت قائم کرنے کا اعلان

  • قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی بحالی، حکومتی اتحاد کو واضح برتری حاصل

    قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی بحالی، حکومتی اتحاد کو واضح برتری حاصل

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے مخصوص نشستوں کی بحالی کے بعد قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن تبدیل ہو گئی ہے، جس سے حکومتی اتحاد کو قانون سازی میں مزید تقویت مل گئی ہے۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جسے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو موصول ہوتے ہی باقاعدہ اعلان کر دیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق مخصوص نشستوں کی بحالی کے بعد قومی اسمبلی میں مجموعی ارکان کی تعداد 333 ہو گئی ہے، تاہم 3 نشستیں تاحال خالی ہیں، جن میں ایک معطل رکن صدف احسان کی نشست اور دو مخصوص نشستیں شامل ہیں۔

    پارلیمانی پوزیشن کے مطابق حکومتی اتحاد کی مجموعی نشستیں 235 ہو گئی ہیں، جبکہ اپوزیشن اتحاد کی تعداد کم ہو کر 98 رہ گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو 13 نئی مخصوص نشستیں ملی ہیں، جس سے ان کی مجموعی تعداد 123 ہو گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو 4 نشستیں ملنے کے بعد ان کے ارکان کی تعداد 74 تک پہنچ گئی، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 2 مخصوص نشستیں ملنے کے بعد ان کے پاس 10 نشستیں ہو گئی ہیں۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں کی بحالی سے حکومتی اتحاد کو قانون سازی میں خاطر خواہ برتری حاصل ہو گئی ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس اقدام کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ قومی اسمبلی میں تبدیل ہوتی ہوئی پارلیمانی پوزیشن آئندہ دنوں میں اہم سیاسی فیصلوں اور قانون سازی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کل آذربائیجان روانہ ہوں گے

    سیالکوٹ: حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ، اسسٹنٹ کمشنرز پیرا کے سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر مقرر

  • وفاقی وزرا کی تنخواہوں کے نظام میں تبدیلی، تنخواہ ارکانِ اسمبلی کے برابر مقرر

    وفاقی وزرا کی تنخواہوں کے نظام میں تبدیلی، تنخواہ ارکانِ اسمبلی کے برابر مقرر

    قومی اسمبلی نے وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں میں اضافے کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے۔

    ترمیم رکن قومی اسمبلی زہرا ودود فاطمی کی جانب سے متعارف کروائی گئی، جسے کثرتِ رائے سے منظور کیا گیا۔ترمیم کی منظوری گزشتہ روز فنانس بل 2025-26 کی منظوری کے دوران دی گئی۔قومی اسمبلی سے منظور شدہ ترمیم کے مطابق وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت کی تنخواہیں اب ارکانِ قومی اسمبلی کے برابر ہوں گی۔

    وزرا کی تنخواہوں کو سرکاری افسران (سول سرونٹس) کی تنخواہوں سے غیر منسلک کر دیا گیا ہے۔1975 کے ایکٹ کے تحت، وزرا کی تنخواہوں میں اضافہ سول سرونٹس کی تنخواہوں میں اضافے کے بعد خودکار طور پر ہوتا تھا، اب یہ شرط ختم کر دی گئی ہے۔ترمیم میں "خود بخود” کا لفظ ختم کر کے "وقتاَ فوقتاَ” شامل کیا گیا ہے، یعنی اب اضافہ صرف باقاعدہ فیصلہ یا منظوری کے بعد ہو سکے گا۔

    ترمیم کا مقصد
    ترمیم کا بنیادی مقصد وزرا کی تنخواہوں میں شفافیت لانا اور انھیں پارلیمانی ارکان کے برابر کرنا ہے، تاکہ تنخواہوں کا فیصلہ قانون سازی یا پالیسی کے تحت ہو، نہ کہ خودکار نظام کے تحت۔یہ پیشرفت تنخواہوں اور مراعات کے نظام کو باقاعدہ بنانے کی ایک اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے۔

    کراچی میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار، انتظامیہ کی نااہلی سے سڑکیں زیرِ آب

    روس نے بھارت کو ایس-400 میزائل سسٹم کی ترسیل 3 سال کے لیے مؤخر کر دی

    بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے نئے سربراہ پراگ جین مقرر، روی سنہا کو توسیع نہ ملی

  • قومی اسمبلی میں 2025-26 کے بجٹ کی منظوری کا عمل جاری،مطالباتِ زر کی منظوری

    قومی اسمبلی میں 2025-26 کے بجٹ کی منظوری کا عمل جاری،مطالباتِ زر کی منظوری

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2025-26 کی منظوری کا عمل جاری ہے۔

    سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں مختلف وزارتوں اور شعبوں کے لیے مطالباتِ زر کی منظوری دی گئی، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔اجلاس کے دوران حکومتی اراکین کی تعداد 116 اور اپوزیشن کے اراکین 32 رہے.مطالباتِ زر کی منظوری کے دوران درج ذیل اہم شعبوں کے لیے بجٹ منظور کیا گیا.

    شعبہ موسمیاتی تبدیلی: 1 ارب 6 کروڑ 84 لاکھ

    مواصلات: 34 ارب 75 کروڑ 47 لاکھ

    پاکستان پوسٹ آفس: 24 ارب 44 کروڑ 85 لاکھ

    دفاعی پیداوار: 1 ارب 9 کروڑ 30 لاکھ

    اقتصادی امور: 94 کروڑ 35 لاکھ

    ایچ ای سی: 66 ارب 40 کروڑ 71 لاکھ

    وفاقی تعلیم و تربیت: 37 ارب 24 کروڑ 47 لاکھ

    رحمت اللعالمین اتھارٹی: 11 کروڑ 9 لاکھ

    نیو ٹیک: 1 ارب 14 کروڑ 70 لاکھ

    ثقافت و قومی ورثہ: 2 ارب 49 کروڑ 56 لاکھ

    امور خارجہ: 4 ارب 50 کروڑ 40 لاکھ

    فارن مشنز: 58 ارب 3 کروڑ 6 لاکھ

    ہاؤسنگ اینڈ ورکس: 7 ارب 11 کروڑ 21 لاکھ

    صنعت و پیداوار: 30 ارب 47 کروڑ 61 لاکھ

    اطلاعات و نشریات: 5 ارب 75 کروڑ 73 لاکھ

    متفرق اخراجات اطلاعات و نشریات: 14 ارب 71 کروڑ 56 لاکھ

    انفارمیشن ٹیکنالوجی: 19 ارب 43 کروڑ 25 لاکھ

    کابینہ سیکریٹریٹ: 151 ارب 63 کروڑ 23 لاکھ (29 مطالبات زر منظور)

    دفاع ڈویژن کے لیے 26 کھرب 8 ارب 72 کروڑ 95 لاکھ روپے کے 5 مطالبات زر منظور کیے گئے، اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی 22 کٹوتی کی تحاریک مسترد ہوئیں۔کامرس ڈویژن کے لیے 26 ارب 99 کروڑ 85 لاکھ کے دو مطالبات زر منظور ہوئے، اپوزیشن کی 69 کٹوتی تحاریک بھی مسترد کردی گئیں۔

    اجلاس کے اختتام پر اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا۔

  • خواتین کے کپڑوں کی بڑھتی قیمتوں کا معاملہ قومی اسمبلی تک پہنچ گیا

    خواتین کے کپڑوں کی بڑھتی قیمتوں کا معاملہ قومی اسمبلی تک پہنچ گیا

    ملک بھر میں خواتین کے کپڑوں کی بڑھتی قیمتوں کا معاملہ قومی اسمبلی تک پہنچ گیا۔

    ایوان کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے معاملہ اٹھا دیا،شگفتہ جمانی نے کہا کہ برینڈز کا نام دے کر لوکل ٹیکسٹائل نے اپنی قیمتیں بڑھا دی ہیں، جو لیڈیز سوٹ 7 سے 8 ہزار روپے میں ملتا تھا اب اس کی قیمت 20 ہزار ہے، ان پر چیک اینڈ بیلنس کون رکھے گا؟جو گھر سے اٹھتا ہے وہ ٹیکسٹائل کا بزنس شروع کر دیتا ہے اور اپنا نام رکھ لیتا ہے۔

    اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری تجارت ذوالفقار علی بھٹی نے کہا کہ لوکل مارکیٹ اور ریٹیل مارکیٹ پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے، لوکل مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے بجٹ تجاویز وزارت خزانہ کو پیش کردیں۔

    پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو خطوط ارسال کیے ہیں جس میں برآمدی نمو پر مبنی حکومتی ویژن برقرار رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔

    پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے اپنی بجٹ تجاویز میں برآمدی مسابقت، ویلیو ایڈیشن اور لاگت میں کمی پر زور دیتے ہوئے وزیر خزانہ کی اقتصادی استحکام کی کوششوں کو سراہا۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے احسن اقبال کی ای ایف ایس اسکیم کی قیادت اور اصلاحات کا بھی اعتراف کیا۔

    خط میں کہا گیا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل برآمدات کیلئے حکومتی سمت کی مکمل حمایت کرتے ہیں، یقین ہے بجٹ میں فنانس منسٹر توانائی کی بلند قیمت اور بھاری ٹیکسوں کے حوالے سے ضروری اقدامات کریں گے، ای ایف ایس اسکیم کی اصل روح کو بحال کرنا برآمدات کے لیے ناگزیر ہے۔

  • پاکستان کسی بھی بھارتی اقدام کا فیصلہ کن جواب دے گا، قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

    پاکستان کسی بھی بھارتی اقدام کا فیصلہ کن جواب دے گا، قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

    اسلام آباد:قومی اسمبلی نے پہلگام واقعے کے بعد بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بزنس ایڈوائزری کمیٹی نے پہلگام واقعے اور پانی کے معاملے کی مذمت کی، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان نے بار بار آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کیا، پاکستان سے زیادہ دہشت گردی کے نقصان سے کون واقف ہے۔

    پہلگام واقعے پر بحث کرانے کیلئے ایوان میں تحریک پیش کی گئی اور اس دوران قومی اسمبلی میں معمول کی کارروائی معطل کردی گئی یہ تحریک وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے پیش کی، بعد ازاں پہلگام واقعے کے بعد بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی گئی، وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے یہ قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے، پاکستان بھارتی الزامات کو مسترد کرتا ہے، پاکستان کسی بھی بھارتی اقدام کا فیصلہ کن جواب دے گا، پاکستان اپنی خودمختاری کا مکمل دفاع کرے گا۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا، کشمیری اپنے حق خودارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ پاکستان کا معاملہ ہے ہم سب پاکستانی ہیں، ہم اس قرارداد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، اگر پاکستان کا پانی روکا گیا تو یہ جنگ کے شروع کرنے کا مترادف ہوگا، پاکستان پر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔

  • قومی اسمبلی اجلاس، اسرائیلی مظالم کے خلاف قرارداد منظور

    قومی اسمبلی اجلاس، اسرائیلی مظالم کے خلاف قرارداد منظور

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسرائیلی جارحیت کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی، قرارداد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی۔

    باغی ٹی وی:قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا، اجلاس کے دوران ایران میں شہید ہونے والے پاکستانیوں، پروفیسر خورشید احمد، اور سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے ایوان میں فاتحہ خوانی کی گئی فاتحہ خوانی وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے کرائی۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے ایرانی حکومت کے سامنے 8 پاکستانیوں کےقتل کا معاملہ اٹھایا ہےایران کے شہر سیستان میں 8 پاکستانیوں کو قتل کردیا گیا، ان پاکستانیوں کا تعلق پنجاب کے علاقے بہاولپورسے تھا۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے عربی ٹی وی چینل "الحرہ” کی فنڈنگ روک دی

    اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ان پاکستانیوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کردیا گیا، حکومت پاکستان نےایرانی حکومت کے سامنے یہ معا ملہ اٹھایا ہے، ہم چاہتے ہیں واقعے کی تحقیقی رپورٹ ہمارے پاس بھی آئے، قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں وزارتوں کی جانب سے مختلف اہم امور پر تفصیلات پیش کی گئیں، جبکہ فلسطین کی سنگین صورتحال پر غور کے لیے وقفہ سوالات معطل کر دیا گیا۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں تحریک پیش کی جسے منظور کرتے ہوئے اسپیکر نے فلسطین کی سنگین صورتحال پر بحث کے لیے وقفہ سوالات معطل کر دیا۔

    دوستی سےانکارکیوں کیا؟ امیرزادے نے گریجویشن کی طالبہ کواغواء کرلیا

    اس موقع پر تمام جماعتوں کے وہیپس نے مسئلہ فلسطین پر بحث کا مطالبہ کیا، جب کہ پیپلزپارٹی نے اس کی مخالفت کی رکن اسمبلی نوید قمر نے مؤقف اختیار کیا کہ وقفہ سوالات کو معطل نہیں کیا جا سکتا، تاہم پی ٹی آئی کے چیف وہیپ عامر ڈوگر نے بھی اس معاملے پر بھرپور بحث کا مطالبہ کیا۔

    اسپیکر نے کہا کہ سیاست نہ کی جائے، تمام ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے وزیر قانون نے واضح کیا کہ حکومت مسئلہ فلسطین پر بحث کی مخالفت نہیں کرے گی۔

    وفاقی وزیر، اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ ممالک غزہ کی صورتحال پر خاموش ہیں، اسرائیلی جارحیت پر بعض ممالک کی خاموشی افسوسناک ہے، جنوبی افریقہ کا اسرائیلی جارحیت کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانا خوش آئند ہے، مسئلہ کشمیر و فلسطین کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہئے، پاکستان کا مسئلہ فلسطین کے حوا لے سے موقف دو ٹوک اور واضح ہے۔

    مجھے لگتا ہے میں والدہ ملکہ ترنم نورجہاں کی زندگی ری کری ایٹ کر رہی ہوں،نازیہ اعجاز

    انہوں نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہےفلسطین میں اسپتال، ایمبولینس تک غیر محفوظ ہیں، فلسطین میں عالمی انسانی رضاکار تک غیر محفوظ ہیں، پاکستان عالمی سطح پر فلسطینی بھائیوں کیلئے آواز اٹھا رہا ہے وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان کا دو ٹوک موقف پیش کیا، اسرائیلی جارحیت کا فل الفور خاتمہ ہونا چاہئے، نہتے فلسطینیوں کو اقوام متحدہ کے ساتھ کی ضرورت ہے۔

    اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات اطا تارڑ نے کہا کہ غزہ میں نہتے فلسطینیوں پرمظالم ڈھائے جا رہے ہیں، فلسطین کے معاملے پرہم سب متحد ہیں، سیاست نہیں ہونی چاہیے، پوائنٹ اسکورنگ کی بجائےعملی اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔

    عطاتارڑ نے کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ پر لکھا ہے کہ یہ اسرائیل کیلئے کارآمد نہیں، مجھے اپنے پاسپورٹ پر فخر ہے، جنوبی افریقا فلسطین کے معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے کر گیا، فلسطین کے معاملے پر پاکستان نے جنوبی افریقا کی مکمل حمایت کی، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

    اوورسیز کنونشن:آرمی چیف اور وزیرِ اعظم کیجانب سے کنونشن شرکاء کیلئے خصوصی عشائیے کا اہتمام

    انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، اسرائیل عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے، 200 فلسطینی طلبہ پاکستانی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، فلسطینی طلبہ کوتمام سہولیات مہیاکی گئی ہیں، فلسطین کیلئے امداد بیجھنے پرفلاحی اداروں کوخراج تحسین پیش کرتےہیں، مصر اور اردن کے ذریعے ہزاروں ٹن امدادی سامان غزہ بھجوایا گیا۔

    قومی اسمبلی اجلاس میں عبدالقادرپٹیل نے خطاب کہا کہ میں نے کہا کہ کچھ دیر نعرے نہ لگاؤ، ملک کی بقا کا مسئلہ ہے، ہمارے ارکان نے ان کی تھوڑیوں کو ہاتھ لگایا، کہا گیا کہ غیرآئینی طریقے سے ایک حکومت کو ختم کیا گیا۔ وہ تو واحد آئینی طریقہ تھا جس سے حکومت کو ختم کیا۔

    اپوزیشن کے شور شرابے پر عبدالقادر پٹیل نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ سر اب ان کی دوائی کا ٹائم ہوگیا تو میں کیا کروں، جب وہ لوگ یہاں موجود تھے تو آپ نے بات تک نہیں کی، آپ انہیں بتاتے نہ کہ ہمیں ڈی چوک سے اٹھالیا جاتا ہے، آپ کہتے ناں، لیکن آپ میں تو ہمت ہی نہیں تھی-

    وفاقی حکومت کا رواں سال گندم کی خریداری نہ کرنے کا فیصلہ

  • اراکین  قومی اسمبلی  کوسو فیصد اضافے کے ساتھ تنخواہیں ملنا شروع

    اراکین قومی اسمبلی کوسو فیصد اضافے کے ساتھ تنخواہیں ملنا شروع

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اراکین کوسو فیصد اضافے کے ساتھ تنخواہیں ملنا شروع ہو گئیں-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں کے اضافے کی منظوری پر عملدرآمد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے شروع کردیا ہے ، رکن اسمبلی کو 2لاکھ 18 ہزارکے بجائے اب ٹیکس کٹوتی کےبعد 5 لاکھ 19 ہزارروپےماہانہ تنخواہ ملنا شروع ہوگئی ہے ، مراعات اورالاؤنسز الگ ہیں سینیٹ اراکین تاحال اضافی تنخواہوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق رکن اسمبلی کو مراعات کی مد میں ڈیلی الاونس ، کنونینس الاونس اورہاوسنگ الاونس کی مد میں یومیہ 6 ہزار8 سو ملتا ہے ، ٹریول الاونس کی مد میں سالانہ 30 بزنس کلاس ائیرٹکٹ کے ساتھ ساتھ 3 لاکھ کے ٹریول واچر بھی فراہم کیے جائے ہیں۔

    پشاور:گھروں پر حملے کر کے ویڈیوز بنانیوالے ٹک ٹاکرز گرفتار

    اراکین پارلیمنٹ تنخواہ میں اضافے پرمطمئن توہیں لیکن کہتے ہیں ہم بھی مہنگائی کے ستائے ہوئے ہیں رکن قومی اسمبلی، سینیٹ کے اراکین تںخواہ میں اضافہ نہ ہونے پر شکوہ کررہے ہیں ،اراکین اسمبلی حالیہ تنخواہ کے اضافہ کو ناکافی بھی قراردے رہے کہتے ہیں تنخواہ 1974 کے ایکٹ اور اعلی عدلیہ کے ججزاوربیوروکریسی کی سیلری اورمراعات کے برابرہونی چا ہئے۔

    ملزم ارمغان نے وکیل کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں اعتراف جرم کرلیا

  • صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا،فاروق ستار

    صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا،فاروق ستار

    اسلام آباد: ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ وزیرا عظم سانحہ جعفر ایکسپریس پر اے پی سی بلائیں جو قومی ایجنڈا طے کرے۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ ایم کیو ایم بلوچستان واقعہ کی شدید مذمت کرتی ہے، تمام سیاسی جماعتیں صرف مذمت تک نہ رہیں عملی طورپر دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل سامنے لائیں، سیکیورٹی فورسز کے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں سیاسی نظام میں جو کمی ہے اسے دور کرنا چاہیے، ہمیں مل کر دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل سامنے لانا ہوگا، صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا آج قومی سلامتی کا ایشو ہمارے لئے اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

    فاروق ستار نے کہا کہ اے پی ایس پر حملے کی طرح قوم کو متحد کرنا ہوگا، اے پی ایس کے وقت فوجی و عسکری و اپوزیشن قیادت نے مشاورت کی، یہ نیشنل ایکشن پلان اسی قومی مشاورت یا اے پی سی کا نتیجہ تھا، بلوچستان میں امن و امان کا سب سے پہلا اثر کراچی پر ہوتا ہے نیشنل ایکشن پلان میں آرٹیکل 140پر ’’حقیقی عمل کیا جائے‘‘ لکھا ہے مگر آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم عوام سے رابطے میں نہیں ہیں آج پاکستان میں ریاست کے اندر ریاست بن رہی ہے، نیشنل ایکشن پلان کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

    مریم نواز کا گردےعطیہ کرنیوالے تمام افراد کو خراج تحسین

    انہوں نے کہا کہ آج حکومت اور اپوزیشن طے کریں کہ اگلے دس سال ملک کو کیسے چلانا ہے؟ قومی ایجنڈا بنانے کی ضرورت ہے سندھ میں بدترین حکمرانی ہوگی تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوگا بلوچستان میں آپریشن ہوگا تو وہاں سے دہشت گرد کراچی بھاگیں گے، اے پی ایس کے وقت کی طرح وزیر اعظم اے پی سی بلائیں اور اے پی سی قومی ایجنڈا طے کرے۔

    فاروق ستار کا کہنا تھا کہ بیوروکریٹس کو وائس چانسلر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، پورا صوبہ ایڈہاک ازم پر چلایا جارہا ہے، جب تک بلدیا تی بااختیار نظام نہیں بنے گا عوام کی جمہوریت میں موثر شرکت نہیں ہوگی، آج کراچی میں طلبا جو اسی فیصد پاس ہوتے تھے اب تیس فیصد پاس ہورہے ہیں آج کراچی میں میرٹ کا قتل عام ہورہا ہےہر زبان و علاقہ کا فرد کراچی میں رہتا ہے میثاق جمہوریت کے مطابق عدلیہ کے بارے میں 26 ویں آئینی ترمیم لائی گئی، میثاق جمہوریت کے مطابق مقامی حکومتوں کو کب بااختیار کیا جائے گا ؟-

    فیض کو آپ نے جیل میں ڈالا، اچھا کیا، باجوہ کو بھی ڈالو،شیر افضل مروت