Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • آصفہ بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دے دیا

    آصفہ بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دے دیا

    اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے عوام دشمن قرار دے دیا۔

    قومی اسمبلی میں اپنا پہلا خطاب کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری کا کہناتھاکہ اس ایوان کا حصہ بننے پر فخر محسوس کرتی ہوں، اس وقت ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ مہنگائی اور بیروزگاری ہےپوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا یہ بجٹ عوامی امنگوں کے مطابق ہے؟ کسانوں، مزدوروں، غریبوں کے لیے اس بجٹ میں کچھ نہیں، نئے سال کا بجٹ عوام کی نمائندگی نہیں کرتا، بجٹ کی ترجیحات میں کسان، عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے تھا، کیا پاکستان کے لوگ اس عوام دشمن بجٹ کے مستحق ہیں؟ہمیں عام آدمی کے ریلیف کے لیے آگے بڑھنا ہوگا، ہمیں کسان کو مضبوط کرنا ہوگا، کسان کو کبھی سیلاب، کبھی گندم درآمد کا مسئلہ ہے ہمیں ملک کے غریب ترین شہریوں کوسہولیات فراہم کرنا ہوں گی، ہمیں پاکستان اور قوم کی خوشحالی کےلیےکام کرنا ہوگا۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ جذباتی لمحات ہیں کہ وہ اس ایوان سے خطاب کر رہی ہیں جس کا حصہ نانا نانی دادا والدین اور بھائی بھی رہے ہیں۔ہ وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، صدرآصف علی زرداری پارٹی کی سینیر قیادت اور خاص طور پر نواب شاہ کے پی پی کے جیالوں اور جیالیوں کی شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے عوام کی ترجمانی کرنے موقع فراہم کیا۔ اس وقت ہم ایک مرتبہ پھرچیلنجنگ حالات میں ہیں۔ حکومت اس سال کا بجٹ ایسے وقت میں پیش کر رہی ہے کہ ہم بدترین بیروزگاری افراط زر، غربت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہم سب اس شاندار ملک کے شہری ہیں اور ہمیں اس بجٹ سے بہت سی امیدیں تھیں۔ہم ایسا بجٹ کی امید کر رہے تھے کہ پاکستان کے عوام کی ضروریات کے مطابق ہوگا اور اس بجٹ میں ہمارے کسانوں، مزدوروں اور محنت کشوں کی فلاح و بہبود ہوگی۔ ہمیں ایسے بجٹ کی ضرورت تھی جو بڑی کارپوریشنوں کو فائدہ نہ پہنچائیں اور جس کی قیمت ہمارے معاشرے کے غریب لوگ ادا نہ کریں۔ ہم ایسے بجٹ کی توقع کر رے تھے جس میں سبسیڈیز غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور محنت کشوں کو دیکھ کر انہیں ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ ایک ایسے بجٹ کی ضرورت تھی کہ جو امیر کو اور امیر اور غریب کو اور غریب نہ بنائے۔ ہمیں ایک ایسے بجٹ کی ضرورت تھی جس میں غریب اور امیر کے درمیان فرق کم ہوتا۔ بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اسپیکر سے پوچھا کہ جو بجٹ ان کے سامنے ہے کیا وہ یہ سارے مقاصد پورے کرتے ہے؟ اور کیا پاکستان کے عوام اس بجٹ کے مستحق ہیں۔ پاکستان کے عوام اس سے بہتر بجٹ کے مستحق ہیں اور ہم سب کو متحد ہو کر اپنے شہریوں کے لئے بہتری کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے حالی ہی میں خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان نے اتحاد کے بارے بات کی۔ یہی اس وقت کی ضرورت ہے کہ اس وقت تقسیم کرنے والی سیاست سے ہماری قوم کو خطرہ ہے۔ ہم اپنے نظریات اپنے اصولوں اور اپنے اعمال میں تقسیم ہیں اور مخالفت کو ہتھیار بنا رہے ہیں اور اپنے اختلافات کو تشدد سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں منتخب نمائندوں کی حیثیت سے تمام چیزوں سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ برداشت اور تسلیم کرنے جیسے الفاظ صرف تقریروں تک محدود نہیں رہنے چاہیے بلکہ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ ہم نے ایک ہو کر تقسیم کی سیاست کو مسترد کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنا ہوگااور عوام کے لئے عوام کی ضروریات کے مطابق پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ ہم سب نے ایک ساتھ مل کر اپنے عوام کو ریلیف دینے کے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے کیونکہ عوام اس شدید گرمی میں 15-15 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ برداشت کر رہے ہیں۔ اس شدید گرمی میں 15 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تشدد کے مترادف ہے۔ ہمارا کسان مشکل سے فصل اگاتا ہے اور اسے سیلاب میں گنوا دیتا ہے اور جب اس فصل آتی ہے تو اسے فصلوں کے خریدار نہیں ملتے۔ ہمیں اپنے کسان کو مضبوط بنانا ہوگا جو سیلابوں، طوفانوں اور گندم درآمد کرنے جیسے فیصلوں کا سامان کر رہا ہے۔ ہمیں اپنے متوسط طبقے کی مدد کرنے کے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے جنہیں نوکریوں کا تحفظ بھی نہیں ہے۔ ہمیں اپنے انسانی وسائل کو ترقی دینا ہوگی اور سب سے غریب طبقات کو براہ راست ریلیف مہیا کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی ہم اپنے عوام کی جانب سے منتخب کرنے کا جواز حاصل کر سکیں گے۔ بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ سیاست کے ایک نئے دور کی ابتداءدیکھیں گی جس میں سب ایک ساتھ مل کر اس ملک اور اس کے شہریوں کی خوشحالی اور ترقی کے لئے کام کر یں گے۔

    پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے بینظیر بھٹو کے قتل پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا۔قومی اسمبلی میں کہا کہ جو بھی حکومت آتی ہے وہ کرنے والا کام نہیں کرتی، شازیہ مری کی تمام باتوں سے متفق ہوں، فوج اور سکیورٹی اداروں کے بغیر آپ کچھ نہیں ہیں 16جون 1948ء کو قائداعظم نے فوجی افسروں سے کہا پالیسیاں بنانا آپ کا کام نہیں، عوام نے لیاقت علی خان کو چنا، کیوں اسے چن دیا گیا، قوم کو بے نظیربھٹو کے قاتلوں کا اصل چہرہ دکھایا جائے۔

  • ثناءاللہ مستی خیل کی اسمبلی رکنیت معطل

    ثناءاللہ مستی خیل کی اسمبلی رکنیت معطل

    اسلام آباد: سنی اتحاد کونسل کے رکن قومی اسمبلی ثناءاللہ مستی خیل کی جانب سے غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال کرنے پر انہیں بجٹ سیشن تک معطل کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ثناء اللہ مستی خیل نے اپنے خطاب کے دوران خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’خواجہ صاحب ہم عوام کا ووٹ لے کر آتے، ٭٭٭٭ چُک کر نہیں آتے،ڈپٹی اسپیکر نے ثناء اللہ مستی خیل کے نامناسب الفاظ حذف کروا دئے،لیکن خواتین ارکان شکایت کیلئے اسپیکر کے چیمبر پہنچ گئیں، جہاں انہوں نےاسپیکر کے سامنے یہ مطالبہ کیا کہ ثناءاللہ مستی خیل کو فوری معطل کیا جائے-

    حکومتی خواتین نے مطالبہ کیا کہ ثناء اللہ مستی خیل کو مکمل سیشن کیلئے معطل کیا جائے، جبکہ اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ ثناء اللہ مستی خیل کو دو روز کیلئے معطل کیا جائےم حکومتی خواتین ارکان کا احتجاج رنگ لے آیا اور اسپیکر نے ثناء اللہ مستی خیل کو معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا،کچھ دیر بعد قومی اسمبلی اجلاس میں معطلی کی قرارداد پیش کی گئی اور انہیں بجٹ سیشن تک معطل کردیا گیا۔

  • میری بڑی بیٹی کو گھسیٹا گیا ، میری بیوی کو لاتیں ماری گئیں،شہر یار آفریدی پھٹ پڑے

    میری بڑی بیٹی کو گھسیٹا گیا ، میری بیوی کو لاتیں ماری گئیں،شہر یار آفریدی پھٹ پڑے

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری بڑی بیٹی کو گھسیٹا گیا اور میری بیوی کو لاتیں ماری گئیں اور پھر ہمیں 24 گھنٹوں تک مختلف تھانوں میں گھماتے رہے.

    شہر یار آفریدی کا کہنا تھا کہ بطور پاکستانی درخواست ہے کہ مجھے سنا جائے، آج شاید میرا آخری دن ہو اس ایوان میں، اللہ نہ کرے ان کی ماؤں بیٹیوں کے ساتھ اس طرح ہو، گھر میں جو ہوا،24 گھنٹے ایک تھانے میں مجھے، میری اہلیہ اور بیٹی کو رکھا گیا، انکو 24 گھنٹے تک یہ نہیں پتہ تھا کہ اٹھایا کیوں، پھر کہا گیا کہ تھری ایم پی او کے تحت اڈیالہ جیل لے کر جا رہے ہیں،مجھے ہر طرح کا ٹارچر کیا گیا۔ اب میرے ٹکرے ٹکڑے کر دو میں یہی کہوں گا عمران خان زندہ باد.

    شہر یار آفریدی کے ایوان میں خطاب کے بعد کہا جا رہا ہے وہ پارٹی میں اختلافات کی وجہ سے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے رہے ہیں.

    شہر یار آفریدی پارٹی رہنماؤں سے ناراض تھے، انکی ناراضگی والی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی ،جس میں وہ غصے میں نظر آ رہے ہیں، شہر یار آفریدی نے تحریک انصاف کی قیادت کو دھمکی آمیز لہجے میں‌ مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندر اس وقت کچھ منافق اور آستین کے سانپ موجود ہیں، چند لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اب تک خاموش ہوں، مجھے پھٹنے پر مجبور نہ کریں،یہ پارٹی ان لوگوں کی ہے جن کی ماؤں اور بہنوں کی بےعزتی ہوئی، علی امین گنڈا پور سمیت پوری پارٹی قیادت کو پیغام دیتا ہوں کہ کارکنان کو اوپر لائیں، پارٹی میں پیراشوٹ سے آئے ہوئے لوگوں کو مسترد کرتے ہیں، جنہوں نے پیٹھ میں چھرے گھونپے ان کو پھر سے گلے لگانے نہیں دیں گے

    ایک اور مدرسہ، ایک اور جنسی سیکنڈل،ایک دو نہیں ،کئی بچوں سے بدفعلی

    واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

    پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

    دولہا کے سب ارمان مٹی میں مل گئے، دلہن نے کیوں کیا اچانک انکار؟

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

  • نوازشریف رائیونڈ محل،   زرداری بلاول ہاؤس،عمران خان بنی گالہ عطیہ کریں،مصطفیٰ کمال

    نوازشریف رائیونڈ محل، زرداری بلاول ہاؤس،عمران خان بنی گالہ عطیہ کریں،مصطفیٰ کمال

    اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی بجٹ پر بحث جاری ہے، ایم کیو ایم کے رہنما ،رکن قومی اسمبلی سید مصطفیٰ کمال نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو بجٹ پیش کرتے ہیں وہ اس کی تعریف کرتے ہیں، جو اپوزیشن میں ہوتے ہیں وہ بجٹ پر تنقید کرتے ہیں، ایوان میں موجود لوگ باری باری اپوزیشن اور حکومتی بینچز پر بیٹھ چکے ہیں ، ہر بار ایک جیسا ہی بجٹ پیش کیا جاتا ہے، وفاقی بجٹ نارمل بجٹ ہے، بجٹ میں آدھا پیسہ آئی ایم ایف اور دیگرملکوں کا ہے، پاکستان میں معاشی ایمرجنسی نافذ کی جائے، ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے نواز شریف، آصف زرداری، فضل الرحمان پہل کریں، کیا ہی بہتر ہو ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے سیاسی رہنما 1000 روپے جمع کرائیں۔

    سید مصطفیٰ کمال نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے قرض اتارنے کا نسخہ بتاتے ہوئے کہا کہ نواز شریف رائے ونڈ محل، عمران خان بنی گالہ اور آصف زرداری صاحب بلاول ہاؤس عطیہ کر دیں، جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ اعلان کریں کہ 25 فیصد جائیدادیں پاکستان کو عطیہ کرتے ہیں، اراکین اسمبلی اپنی تنخواہ کا 25 فیصد ملک کیلئے عطیہ کریں،تمام ریٹائرڈ فوجی افسران، حاضر سروس جرنیل 50، 50 کروڑ روپے پاکستان کو عطیہ کریں، ہم ایک ہزار ارب روپے اپنے پاس سے جمع کریں تو پاکستانی عوام 78 ہزار ارب روپے بھی ادا کر دیں گے، بجٹ کے مطابق ایف بی آر 13 ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرے گا، جو منظر نامہ پیش کیا یہ نارمل نہیں غیر معمولی حالات ہیں، پیراسٹامول سے یہ کینسر ختم ہونے والا نہیں، سرجری کی ضرورت ہے۔

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں امن کرنے کا ہر کوئی دعویٰ کرتا ہے، اسٹریٹ کرائم تو ان سے کنٹرول ہو نہیں رہا کراچی کا امن وہاں کے نوجوانوں نے قائم کیا ہے، جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہو رہا ہے اتنا ہلکا ہاتھ تو کسی جماعت کے ساتھ نہیں رکھا گیا، رانا ثناء اللہ کی گاڑی میں منشیات رکھی گئی، ان کا ایک بھی آدمی لاپتہ نہیں ہمارے 900 لوگ لاپتہ ہیں،ا کراچی پاکستان کو اس معاشی دلدل سے نکال سکتا ہے، ہم اپنے پاس پیسہ نہیں رکھتے، ہم پورے پاکستان کو بانٹتے ہیں،میں ایم کیو ایم کی جانب سے مطالبہ کرتا ہوں کہ پاکستان میں معاشی ایمرجنسی کا اعلان کیا جائےِ پاکستان کی معیشت کا جو ٹیومر ہے اس کا علاج کرنے کی ضرورت ہے،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • قومی اسمبلی، بجٹ اجلاس میں بجٹ پیش،بلاول شریک نہ ہوئے

    قومی اسمبلی، بجٹ اجلاس میں بجٹ پیش،بلاول شریک نہ ہوئے

    اسلام آباد: اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہو گیا ہے، اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا.

    پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا، بلاول زرداری نے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت کے بعد روانہ ہو گئے،اسحاق ڈار بلاول کو منانے گئے تا ہم بلاول نہ مانے،تاہم اسحاق ڈار خورشید شاہ اور نوید قمر کو ایوان میں لے آئے.وزیراعظم شہباز شریف بھی اجلاس میں پہنچ گئے.تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی ایوان میں پہنچ گئے، پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی. اراکین نے عمران خان کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں،اور عمران خان کی رہائی کے لئے نعرے لگا رہے تھے،

    آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہونے کا امکان ہے،وزیر خزانہ
    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ مئی میں مہنگائی کم ہو کر 12 فیصد تک آ گئی ، اشیائے خورونوش اب عوام کی پہنچ میں ہیں،آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہونے کا امکان ہے، درپیش چینلجز کے باوجود یہ معمولی کامیابی نہیں،

    پاکستان جلد ہی پائیدار ترقی کی جانب لوٹ آئے گا ،وزیر خزانہ
    اپوزیشن اراکین نے وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کی کاپیاں پھاڑ دیں.قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کے صرف چار اراکین شریک ہیں،سید غلام مصطفی شاہ، سید خورشید شاہ، سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی اجلاس میں شریک ہیں،وزیر خزانہ محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ معیشت بہتر ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری ہو رہی ہے ،ماضی میں ریاست پر غیر ضروری ذمہ داریوں کا بوجھ دالا گیا ، غیر ضروری ذمہ داریوں کی وجہ سے حکومتی اخراجات ناقابل برداشت ہوگئے ،ملک بحران کی صورتحال سے نکل چکا ہے، دیر پا ترقی کے سفر کا آغاز ہوچکا ہے پاکستان جلد ہی پائیدار ترقی کی جانب لوٹ آئے گا ،ہمیں ٹارگٹڈ سبسڈی کے ذریعے عوامی ریلیف پر توجہ دینا ہوگی،بہتر حکمت عملی کے تحت مہنگائی میں خاطر خواہ کمی ہوئی، بد قسمتی سے پاکستان ٹیکس نظام میں دوسرے ممالک سے پیچھے ہے، وزیر اعظم کی ہدایت ہے ٹیکس نیٹ میں موجود لوگوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے،کفالت پروگرام کے تحت مستفید افراد کی تعداد ایک کروڑ کی جائے گی آبی وسائل کیلئے 206 ارب مختص کئے گئے ہیں،کراچی میں آئی ٹی پارک کیلئے 8 ارب روپے فراہم کریں گے ،حکومتی آمدن کو بڑھائیں گے اور اخراجات میں کمی کرینگے ،پی آئی ایس پی میں مزید 5 لاکھ خاندانوں کو شامل کیا جائے گا ،بجلی چوری کی روک تھام سے 50 ارب روپے کی بچت ہوگی، پی آئی اے کی نجکاری کو تیز تر بنایا جائے گا،

    ماہانہ اجرت 36 ہزار، دفاع کیلئے2 ہزار 122 ارب مختص،ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1500 ارب تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ
    کم از کم ماہانہ اجرت 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزار کردی آئندہ مالی سال مہنگائی میں اضافے کی شرح کا ہدف 12 فیصد رکھا گیا ،9 ہزار 775 ارب روپے سود کی ادائیگی ہوگی ،دفاع کیلئے 2 ہزار 122 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،وفاق کے مجموعی اخراجات 18 ہزار 270 ارب روپے ہوں گے ،پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کیلئے 1500 ارب رکھے ہیں ،ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1500 ارب تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کیلئے 839 ارب روپے رکھے ہیں ،آزاد کشمیر ، جی بی، ضم اضلاع اور دیگر کیلئے 1777 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،الیکٹرانک بائیکس کیلئے 4 ارب ، انواٹر پنکھوں کیلئے 2 ارب روپے مختص کئے گے ہیں،50 ہزار ڈالر مالیت کی درآمدی گاڑی پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،نئے پلاٹوں،رہائشی اور کمرشل پراپرٹی پر پانچ فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے،فائلرز اور نان فائلرز پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز ہے ،فائلرز کیلئے شرح 15 فیصد اور نان فائلرز کیلئے 45 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے.

    توانائی کے شعبے میں ڈسٹری بیوشن اورپرفارمنس منیجمنٹ سسٹم کےلئے65ارب روپے مختص
    وفاقی وزیر خزانہ محمد اونگزیب نے بجٹ اجلاس سے خطاب میں مزید کہا کہ 9بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا منصوبہ ہے، توانائی کے شعبے میں ڈسٹری بیوشن اورپرفارمنس منیجمنٹ سسٹم کےلئے65ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،جامشورو کول پاور پلانٹ کے لئے 21ارب اور این ٹی ڈی سی کی بہتری کےلئے 11ارب روپے،
    آبی وسائل کے لئے206ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں،مہمند ڈیم ہائیڈروپاور پراجیکٹ کےلئے 45ارب روپے ،دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 40ارب روپے ، چشمہ رائٹ بینک کینال کے لئے 18ارب روپے ،بلوچستان میں پٹ فیڈر کینال کےلئے 10ارب روپے ،کراچی میں آئی پارک کے قیام کےلئے 8ارب روپے ،ٹیکنالوجی پارک اسلام آباد منصوبے کے لئے 11ارب روپے، ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کے لئے 20ارب روپے مختص ہونگے،

    نان کسٹم پیڈ سگریٹ بیچنے پر دکان سیل ہو گی،بجٹ دستاویزات
    موبائل فون پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے،ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات مہنگی ہوں گی ،سیلز ٹیکس پندرہ سے بڑھا کر اٹھارہ فیصد کر دیا گیا،تانبے، کوئلے، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا ہے، نان کسٹم پیڈ سگریٹ بیچنے پر دکان سیل ہو گی،فاٹا اور پاٹا کیلئے دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،سگریٹ فلٹر میں استعمال ہونے خام مال پر چوالیس ہزار روپے فی کلو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگے گی،ٹیکس سٹیمپ کے بغیر سگریٹ بیچنے والے ریٹیلز پر سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی،

    پنشن اخراجات کیلئے 1014 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،سولر پینل، انورٹرز اور بیٹریوں کی تیاری میں استعمال خام مال کی درآمد پر رعایت دینے کی تجویز دی گئی،آئرن اور سٹیل سکریپ پر سیلز ٹیکس سے چھوٹ کی تجویز دی گئی،گریڈ ایک یا 16 تک تمام خالی اسامیاں ختم کرنے کی تجویز 45 ارب روپے سالانہ بچت ہوگی

    مالی سال 25-2024 کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے. افراط زر کی اوسط شرح 12 فیصد متوقع ہے،بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.9 فیصد جبکہ پرائمری سر پلیس جی ڈی پی کا ایک فیصد ہوگا، ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 12 ہزار 970 ارب روپے ہے.وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,877 ارب روپے ہے، صوبوں کا حصہ سات ہزار چار سو اڑ تیسں (7.438) ارب روپے ہو گا،وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف تین ہزار پانچ سوستاسی (3,587) ارب روپے ہو گا.وفاقی حکومت کی خالص آمدنی نو ہزار ایک سو انیس (9,119) ارب روپے ہو گی،

    بجٹ اجلاس، نواز شریف، بلاول، مولانا فضل الرحمان،اختر مینگل شریک نہ ہوئے
    بجٹ اجلاس سے اہم ترین سیاستدان اور سینئر ارکان غائب رہے،بجٹ اجلاس سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف غیر حاضر رہے، بلاول بھٹو زرداری بھی بجٹ اجلاس میں شریک نہ ہوئے ،بی این پی مینگل کے سربراہ اختر جان مینگل بھی بجٹ اجلاس سے لا تعلق، شریک نہ ہوئے ،سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان بھی بجٹ اجلاس میں شرکت کیلئے نہ آئے

    وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

  • وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 25-2024 کیلئے 18 ہزار ارب روپے سے زائد مالیت کا وفاقی بجٹ آج پارلیمنٹ ہاؤس میں پیش کرے گی

    وزارت خزانہ نے بجٹ تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے، وفاقی کابینہ بجٹ کی حتمی منظوری دے گی جس کے بعد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سالانہ وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کریں گے،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات ہوں گے، اپوزیشن کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کے موقع پر ہنگامہ آرائی کا امکان ہے.

    مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں موجودہ اتحادی حکومت کا یہ پہلا وفاقی بجٹ ہے، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب آج اپنا پہلا بجٹ پیش کریں گے،بجٹ میں‌نئے مالی سال کیلئے ایف بی آر کے محصولات کا ہدف 12 ہزار ارب روپے سے زائد رکھنے اور وفاق اور صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 3.792 ٹریلین روپے رکھنے کا امکان ہے جس سے مجموعی قومی پیداوار کی شرح میں اضافہ ممکن ہو سکے گا جو جاری مالی سال کے دوران 2.4 فیصد رہا،نئے مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کا ہدف 3.6 فیصد سے زائد جبکہ وفاقی بجٹ میں وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 1221 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق بجٹ میں ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 12 ہزار970 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ قرض اور سود ادائیگیوں پر 9 ہزار 700 ارب روپے تک خرچ کئے جانے کا تخمینہ ہے،وفاقی بجٹ کا خسارہ ساڑھے 9 ہزار ارب روپے سے زائد ہونے کا تخمینہ ہے، بجٹ میں وفاق کی آمدن کا تخمینہ 15 ہزار 424 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے،وفاقی بجٹ میں ٹیکس آمدن کا تخمینہ 13 ہزار 320 ارب روپےلگایاگیاہے، براہ راست ٹیکسوں کا حجم 5 ہزار 291 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے جبکہ نان ٹیکس آمدن کا تخمینہ 2103 ارب روپے لگایا گیا ہے ، آئندہ مالی سال مرکزی بینک کے منافع کی مد میں 11 سو ارب ‏روپے اکٹھے ہونےکا تخمینہ ہے جبکہ آئندہ برس مجموعی اخراجات کا تخمینہ 24 ہزار 710 ارب روپے لگایا گیا ہے اور جاری اخراجات کے لئے 22 ہزار 37 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،بجٹ میں دفاع کے لئے 1252 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ صوبائی و وفاقی حکومت کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 3 ہزار595 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔

    آئندہ بجٹ میں سبسڈی کا حجم ایک ہزار 509 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 7 ہزار ارب روپے جاری کیے جائیں گے،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پنشن بل کا تخمینہ 960 ارب تک ہونے کا امکان ہے جبکہ بی آئی ایس پی کو 593 ارب روپے کا بجٹ فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    حکومت کاغیر منقولہ جائیداد اور شیئرز پر بھی ٹیکس لگانے کا فیصلہ
    آئندہ بجٹ میں جائیداد کے خریدنے پر ایڈوانس ٹیکس 3 سلیب میں لینے کی تجویز بھی شامل ہے جبکہ فائلر کو 5 کروڑ کی جائیداد خریدنے پر 3 فیصد ٹیکس لگانے کا امکان ہے،مالی سال 25-2024 ٹیکس تجاویز میں جائیداد خریدنے پر ایڈوانس 3 سلیب میں ٹیکس لینے کی تجویز بھی زیر غور ہے،بجٹ میں پانچ سے 10کروڑ کی جائیداد پر 4 فیصد ٹیکس جبکہ نان فائلر کی ٹیکس کی شرح 12 فیصد طے کرنے کا امکان ہے، 10کروڑ سے زائد کی جائیداد پر 5 فیصد ٹیکس جبکہ نان فائلر کے لیے ٹیکس کی شرح 15فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔حکومت نےغیر منقولہ جائیداد اور شیئرز پر بھی ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے،غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر 15 فیصد کیپٹل گین ٹیکس متعارف کرانے کی تجویز ،شیئرز کی فروخت پر نان فائلر 35 اور فائلرکےلیے 15 فیصد تک ٹیکس متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے.

    تنخواہ دار طبقے کے لیے5ٹیکس سلیب متعارف
    حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے5ٹیکس سلیب متعارف کروا دیئے،6لاکھ تک سالانہ انکم والوں کے لیے چھوٹ برقرار رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے،6سے 12 لاکھ روپے والوں کے لیے ٹیکس بڑھا کر 2500 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے،12لاکھ سے 22 لاکھ سالانہ تنخواہ دار کے لیے ٹیکس ریٹ 15 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے کی تجویز دی گئی ہے،22سے 32 لاکھ تنخواہ لینے والوں کے لیے 35 ہزار 8 سو 34 روپے ماہانہ ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،32سے 41 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں کے لیے ماہانہ 58 ہزار سے زائد ٹیکس مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے،14لا کھ سے اُوپر تنخواہ لینے والوں پر 35 فیصد ٹیکس مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے

    نکوٹین پاؤچ اور ای سگریٹ پر فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی گئی ہے،ای سگریٹ پر ایف ای ڈی ریٹ در آمدی ڈیوٹی کے مطابق لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے،نکوٹین پاؤچ پر ایف ای ڈی 2 ہزار روپے فی کلو گرام کرنے کی تجویز دی گئی ہے، نشہ آوور ادویات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،

    موبائل فون کے ایس کے ڈی اور کٹس پر 18 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،850سی سی گاڑی پر 25 ہزار روپےود ہولڈنگ ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،850سے 1000 سی سی گاڑیوں پر 40 ہزار روپے ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،1000سی سی 1300 سی سی تک گاڑیوں پر 67500 روپے ٹیکس، 1300سے 1800 سی سی گاڑیوں پر ایک لاکھ 20ہزار روپےٹیکس،18000سے 2000سی سی گاڑیوں پر4 لاکھ 50 ہزار ٹیکس،2000سے 2500 سی سی گاڑیوں پر 8 لاکھ 75 ہزار روپے ٹیکس،2500سے 3000 سی سی گاڑیوں پر 13 لاکھ 50 ہزار روپے ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے.

    آئندہ مالی سال کیلئے پاور سیکٹر کے 19 منصوبے مکمل ہونے کا تخمینہ
    مکمل ہونے والے منصوبوں سے ایک ہزار 962 میگاواٹ بجلی سسٹم میں آئے گی. بجٹ دستاویزات کے مطابق 660میگاواٹ صلاحیت کاجامشورو پاور پراجیکٹ جولائی میں مکمل ہوگا،221میگاواٹ کا سکی کناری پاور پروجیکٹ یونٹ ون جولائی میں مکمل ہوگا ،221میگاواٹ کا سکی کناری یونٹ ٹو بھی اگست 24 میں مکمل ہوگا،221میگاواٹ کا سکی کناری یونٹ 3 ستمبر 2024 میں مکمل ہوگا ،221میگاواٹ یونٹ 4 سکی کناری منصوبہ اکتوبر 24 میں مکمل ہوگا،بہاولپور میں 110 میگاواٹ سولر پراجیکٹ اکتوبر 24 میں مکمل ہوگا،بجٹ دستاویز
    لوئرچترال میں 69 میگاواٹ کا پن بجلی منصوبہ جنوری 2025 میں مکمل ہوگا،جون 2025 تک بجلی کی پیداوار میں ایک ہزار 962 میگاواٹ اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،جون 2025 تک بجلی کی پیداواری صلاحیت کو 43 ہزار 310 میگاواٹ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے،جون 2025 تک سولر سے بجلی کی پیداوار 782 میگاواٹ ہو جائے گی،آئندہ سال ہوا سے بجلی کی پیداوار 1 ہزار 845 میگاواٹ ہو جائے گی، آئندہ سال پانی سے بجلی کی پیداوار 11 ہزار 820 میگاواٹ ہو جائے گی، آئندہ سال ایل این جی سے بجلی کی پیداواری صلاحیت 8 ہزار 125 میگاواٹ ہو جائے گی

    ایوی ایشن ڈویژن کیلئے7ارب 25 کروڑروپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ
    دفاعی ترقیاتی بجٹ میں66 فیصد کااضافہ کیاگیا ،دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال دفاعی پیداوارکے ترقیاتی بجٹ میں89 فیصدکا اضافہ کیا گیا،آئندہ مالی سال دفاع کا ترقیاتی بجٹ 5 ارب63کروڑ60لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں،رواں مالی سال دفاع کا ترقیاتی بجٹ 3ارب 40 کروڑ روپے رکھا گیا تھادفاعی پیداوارکا ترقیاتی بجٹ 3ارب77 کروڑ60 لاکھ روپے مختص کیا گیا ہے،رواں مالی سال کیلئے دفاعی پیداوارکاترقیاتی بجٹ 2ارب روپے مختص کیا گیاتھا،ایوی ایشن ڈویژن کیلئے7ارب 25 کروڑروپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ ،ایوی ایشن ڈویژن کے11جاری منصوبوں کیلئے 4 ارب روپےسے زائد،ایوی ایشن ڈویژن کے2 نئے منصوبوں کیلئے3ارب روپے سے زائد کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے.نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے 3 ارب روپے سے زائد کا بجٹ تجویزکیا گیا ہے،آئندہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف 3 ارب 70کروڑڈالرمقررکیا گیا ہے،تجارتی خسارے کا ہدف 24 ارب 94 کروڑڈالرمقرر کیا گیا ہے،آئندہ مالی سال ملکی برآمدات کا ہدف 32 ارب 34 کروڑ ڈالرمقررکیا گیا ہے،درآمدات کا ہدف 57 ارب 27 کروڑ ڈالر مقررکیا گیا ہے،ترسیلات زر کا ہدف 30 ارب 27 کروڑ ڈالر مقررکیا گیا ہے.

    تنخواہوں میں 25 فیصد، پنشن میں 15 فیصد اضافہ کی وزیراعظم نے دی منظوری
    وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دے دی،گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی،گریڈ 17 سے 20 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی،گریڈ 21 سے 22 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی،ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی

    بجٹ اجلاس، سنی اتحاد کونسل نے حکمت عملی طے کر لی
    پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل نے بجٹ25-2024 کے اجلاس کیلئے حکمت عملی طےکر لی ہے،پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں آج ہونے والے بجٹ اجلاس کیلئے حکمت عملی طے کی گئی،باخبر ذرائع کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ بجٹ اجلاس کے دوران شورشرابا کیا جائے گا، عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی جائے گی.بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بجٹ جب پیش ہو گا تو یقینی طور پر ہم اس پر بات کریں گے، بظاہر یہی لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن آئی ایم ایف کو الزام دے گی اور پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن پر الزام عائد کرے گی، آج پیش ہونے والا بجٹ ایک بلیم گیم ہے، اس بجٹ میں عوام کے لیےکچھ نہیں ہو گا،

    حکومت نے شعبہ زراعت اورکاشتکار کے ساتھ سوتیلی ماں کاسلوک روا رکھا ہواہے.سردارظفرحسین خاں
    کسان بورڈپاکستان کے مرکزی صدرسردارظفرحسین خاں نے کہاہے کہ حکومت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اقتصادی سروے 2023-24 کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران گندم پیداوار 3کروڑ14 لاکھ ٹن رہی جبکہ19سال میں پہلی مرتبہ کپاس کی پیداوار میں 108فیصد کا اضافہ ہوا، ایک کروڑ دو لاکھ گانٹھ روئی پیدا ہوئی۔ چاول کی پیداوار34 فیصد بڑھی، چاول کی پیداوار95 لاکھ70 ہزار ٹن رہی،اس کے باوجود حکومت نے شعبہ زراعت اورکاشتکار کے ساتھ سوتیلی ماں کاسلوک روا رکھا ہواہے۔حکومت کے گندم نہ خریدنے کے فیصلہ سے کسان کو30 ہزارروپے سے زائد فی ایکڑ نقصان اٹھانا پڑا جس سے اگلی فصلوں کی کاشت پر منفی اثر پڑے گا اور آئندہ زراعت کا شعبہ بھی ترقی نہیں کر سکے گا۔۔انہوں نے کہاکہ ملک کی70 فیصد آبادی براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہونے کے باوجود حکومت زراعت کی ترقی کے لیے کسانوں کو سہولیات دینے کی بجائے انہیں زندہ درگور کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ افسر شاہی کی غلط پالیسیوں اور کمیشن مافیا کی ملی بھگت کے باعث آج کسان در بدر ہے۔ حکومت نے اپنے ملک کے کسانوں سے گندم خریدنے کی بجائے ایک ارب ڈالر کی گندم باہر سے امپورٹ کر لی اور اپنے کسانوں کو900 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ فصلوں کی بہتر پیداوار کے لئے جدید اور معیاری پیچ ستے نرخوں پرفراہم کئے جائیں، ملاوٹی کھادوں، جعلی ادویات اور جعلی بیچ فروخت کرنے والے ڈیلروں کو عمر قیدکی سزائیں دی جائیں،ملک میں زرعی ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے زراعت کیلئے کسانوں کے نمائندوں کی مشاورت سے زرعی پالیسی کا اعلان کیا جائے، زرعی اور زرخیز زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے پر پابندی عائد کی جائے،زرعی اجناس کی پیدواری لاگت کم کرنے کے لیے زرعی ان پٹس جن میں کھاد اور زرعی ادویات شامل ہیں پر سبسڈی دی جائے،بجلی، گیس اور ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی کی جائے۔

  • قومی اسمبلی کے ابتدائی 100 دنوں میں قانون سازی کا عمل سست روی کا شکار  رہا،فافن

    قومی اسمبلی کے ابتدائی 100 دنوں میں قانون سازی کا عمل سست روی کا شکار رہا،فافن

    اسلام آباد: فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے قومی اسمبلی کے ابتدائی 100 دنوں کی کارکردگی پر رپورٹ جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی : فافن کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے ابتدائی 100 دنوں میں قانون سازی کا عمل سست روی کا شکار رہا، قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیر سے اسمبلی کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی، سکیورٹی خدشات کی آڑ میں قومی اسمبلی کی گیلری تک شہریوں کی رسائی پر پابندی بھی کارکردگی پر اثر انداز ہوئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ایوان نے 66 گھنٹے اور 33 منٹ پر محیط 23 اجلاس کیے، ہاؤس کے موجودہ 310 ممبران میں سے 159 (51 فیصد) ممبران نے فعال ہوکر اجلاسوں میں شرکت کی، ایوان میں ارکان کی اوسط حاضری 231 رہی جس میں سب سے زیادہ 302 اور سب سے کم 176 ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے 23 میں سے صرف 2 اجلاسوں کی کارروائی میں شرکت کی جو کہ 10فیصد بنتا ہے، جبکہ ماضی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف 26 فیصد اور عمران خان 29 فیصد اجلاسوں کا حصہ بنے۔

    توانائی بچاؤ مہم کے تحت 8 کروڑ 80 لاکھ پرانے پنکھے بدلنے کا فیصلہ

    لکی مروت میں بارودی سرنگ دھماکے کے شہدا مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ …

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: امریکا اور بھارت سے میچ ہارنے پر ٹیم اراکین کیخلاف …

  • قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    قومی اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں اور سنگین بے ضابطگیوں پر سپیکر ایاز صادق نے ایکشن لے لیا، سپیکر قومی اسمبلی نے سپیشل سیکرٹری چودھری مبارک کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے

    قومی اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات جاری ہیں،اس ضمن میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی متحرک ہو چکے ہیں، ایڈیشنل سیکرٹری یاسین سلیمی کو معطل کر دیا گیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق یاسین سلیمی نے بغیر کسی ٹریننگ اور ضابطے پورے کیے بغیر ترقی حاصل کی تھی، وہیں قومی اسمبلی میں غیر قانونی طور پر مستقل کیے جانے والے 17 افسران کو دوبارہ کنٹریکٹ پر کر دیا گیا ہے اور ان افسران کے گریڈ کی تنزلی بھی کر دی گئی ہے

    مینجر بھرتی کیے جانے والے بعض افسران کی تنزلی کر کے انھیں ڈپٹی منیجر بنا دیا گیا ہے،سابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے قریبی عزیز کی مستقل ملازمت بھی کنٹریکٹ میں تبدیل کردی گئی ہے. ایڈیشنل سیکرٹری یاسین سلیمی کے پی ایس سمیع کی بھی تنزلی کر دی گئی ہے، تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ کئی ملازمین کو بغیر دستاویزات اور تعلیمی اسناد کے بھرتی کیا گیا ہے،صرف ان کی فائلز میں آفر لیٹر لگے ہوئے ہیں،سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اس ضمن میں کوئی بھی دباؤ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے،سپیکر نے ترقیوں کے عمل میں متاثرہ ملازمین کےلیے شکایات سیل بھی بنا دیا،متاثرہ ملازمین کو سیل میں شکایات کے اندراج کا حکم دیدیا گیا

    واضح رہے کہ باغی ٹی وی نے خبر شائع کی تھی کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں غیر قانونی بھرتیاں کی گئی ہیں،سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور راجہ پرویز اشرف نے انت مچا دی، غیر متعلقہ اور اضافی افراد کو بھرتی کیا گیا ہے جو حکومت پاکستان کے خزانے کو قوی نقصان پہنچا رہے ہیں، اسد قیصر نے ملازمین کو بھرتی کیا تو وہیں راجہ پرویز اشرف بھی ان سے پیچھے نہ رہے ، قومی خزانے کا بے دردی سے اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کہ سیکرٹری قومی اسمبلی کا ڈرائیور بحریہ ٹاؤن فیز ایٹ سے سرکاری گاڑی پر دودھ لینے جاتا ہے، اسمبلی ہاؤس میں ملازمین کی بھر مار، میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں کی گئیں،راجہ پرویز اشرف نے اسد قیصر کے غیر قانونی کاموں کو اس لئے تحفظ دیا کیونکہ وہ خود اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتے تھے

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں‌ غیر قانونی بھرتیوں بارے چیئرمین نیب کو بھی درخواست دی گئی تھی جس پر چیئرمین نیب نے نوٹس لیا اور تفصیلات طلب کر لی ہیں،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • قومی اسمبلی اجلاس،نماز جمعہ کیلیے وقفہ نہ کرنے پر مولانا عبدالغفورحیدری کا واک آؤٹ

    قومی اسمبلی اجلاس،نماز جمعہ کیلیے وقفہ نہ کرنے پر مولانا عبدالغفورحیدری کا واک آؤٹ

    اسلام آباد(محمداویس ) قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہلی بار نماز جمعہ کیلئے وقفہ نہیں کیا گیا .

    ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں سوا گیارہ بجے شروع ہونے والے اجلاس بغیر وقفے کی جاری رہا اور پارلیمنٹ ہاؤس کی مسجد میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی بھی کر لی گئی رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے نماز کا وقفہ نہ کرنے پر ایوان میں احتجاج کیا اور کہا کہ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جمعہ کے دوران اجلاس چلایا جائے، اس پر جے یوآئی کے مولانا عبدالغفور حیدری ایوان سے احتجاجا واک آؤٹ کر گئے احتجاج کے باوجود بھی ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس جاری رکھا حیران کن طور پر مولانا عبد لغفور حیدری کے علاؤہ ایوان میں موجود کسی بھی رکن نے نماز جمعہ کے لیے باجماعت ادائیگی کے آواز نہیں اٹھائی اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے رہنما نے کورم کی نشان دہی کر دی جس پر کورم پورا نہیں تھا ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس پیر شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا

    اجلاس کے دوران ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ آج بھی ممبرز کے سوالات کےجواب نہیں آئے، آج بھی وقفہ سوالات کو موخر کرتے ہیں،ممبرز بڑی محنت سے سوالات بناتے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے جواب نہیں آتا، عامر ڈوگر نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی،وقفہ سوالات معطل کرنے تحریک کثرت رائے سے منظور کر لی گئی،جے یو آئی ف کی رکن اسمبلی عالیہ کامران نے تحریک کی مخالفت کی.نومنتخب رکن زینب محمود بلوچ نے اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھا لیا.نو منتخب رکن علی قاسم گیلانی نے اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھا لیا

    کراچی کربلا بنا ہوا ، مسئلہ سول نافرمانی کی طرف جا رہا .نبیل گبول
    کراچی میں لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کی جانب سے اووربلنگ کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا،وزیر مملکت علی پرویز ملک نےتوجہ دلاؤ نوٹس پر جواب میں کہا کہ کے الیکٹرک میں 2 ہزار 109 فیڈر موجود ہیں،1502 فیڈرز پر کوئی لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی، ہائی لاس فیڈر پر چھ سے دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے،نیٹ میٹرنگ پر منسٹر پاور بیان دے چکے ہیں،کنٹریکٹس میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی، اسد عالم نیازی نے کہا کہ کے الیکٹرک اور نیپرا کا آڈٹ کب ہوا ہے، یہ اووربلنگ کرتے ہیں، نبیل گبول نے کہا کہ کراچی کربلا بنا ہوا ہے مسئلہ سول نافرمانی کی طرف جا رہا ہے،سب بڑے جو یزید ہیں ان کا بھی احتساب ہونا چاہئے،جو بل دیتے ہیں ان کا کیا قصور ہے،

    ہمارے ساتھی رہا ہورہے اور ان کو پھر گرفتار کر کے لے جایا جارہا ہے.عمر ایوب
    اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا کہ سرگودھا میں ہمارے بہت سارے ساتھیوں پر پرچے ہوئے ہیں .ہمارے ساتھی رہا ہورہے ہیں اور ان کو پھر گرفتار کر کے لے جایا جارہا ہے.یہ کیا جمہوریت ہے اس ملک میں؟مجھے ایف آئی اے سے نوٹس آرہا ہے.یہ کیسے ہمیں لیٹر لکھ سکتے ہیں، یہ کوئی عقل کے اندھے ہیں؟کل حکومت نے بانی پی ٹی کے سیل کے تصویریں دکھائیں.بشری بی بی کے پاس کوئی سہولیات نہیں ہیں، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں

    خواجہ شیراز محمود نے بات کی اجازت کا مطالبہ کیا،ڈپٹی اسپیکر نے سید علی قاسم گیلانی کو بات کرنے کا موقع دے دیا.سید علی قاسم گیلانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نواز شریف شہباز شریف اور مریم نواز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری سپورٹ کی ہے،جس سیٹ پر میں بیٹھا ہوا وہ یوسف رضا گیلانی کی سیٹ ہے.ملتان کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں.آئی ٹی ایمرجنسی نافذ کرنی چاہئے.ہمیں ہر فورم پر غزہ کے لئے آواز اٹھانی چاہئے.میں ملتان کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے نفرت، تقسیم اور پروپیگنڈہ کی سیاست کو دفن کرکے ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کو چنا ہے۔

    وزیر داخلہ سے ذمہ د اری واپس لے لیں انہیں کھیل کی ذمہ داری دے دیں. خواجہ شیراز محمود
    خواجہ شیراز محمود نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لوگ اس وقت ڈاکوؤں نے اغوا کئے ہوئے ہیں، ایک ماہ سے ہمارے علاقے کے تین لوگ ڈاکوؤں کے پاس اغوا ہوئے ہیں.وہ غریب لوگ ہیں، وہ تاوان کی رقم بھی تیار کئے بیٹھے ہیں، وہ رقم دینے روانہ ہوچکے ہیں.ہمارے ادارے اگر پی ٹی آئی کا کوئی کارکن سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ ڈال دیتا ہے اس کو ڈھونڈ لیتے ہیں.ریاستی اداروں کو کہہ رہا ہوں مہربانی کرکے ہماری جان و مال کی ذمہ داری کو پورا کیجئے.وزیر داخلہ سے ذمہ د اری واپس لے لیں انہیں کھیل کی ذمہ داری دے دیں. وزیر داخلہ ہماری باتوں کا جواب ہی نہیں دے رہے

    یورپی کمیشن کے ایئر سیفٹی کمیشن کی لسٹ میں 14 مئی کو پاکستان کو ڈی لسٹ کر دیا گیا .علی پرویز ملک
    عالیہ کامران نے کہا کہ ہم بھی پارلیمان کا حصہ ہیں ہم بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں،جب سوالات کو معطل کررہے تھے تو ہم سے کسی نے نہیں پوچھا، عالیہ کامران نے پی آئی اے کی پروازوں پر یورپی یونین میں پابندی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کردیا.وزیر مملکت علی پرویز ملک نے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب میں کہا کہ یورپی کمیشن کے ایئر سیفٹی کمیشن کی لسٹ میں 14 مئی کو پاکستان کو ڈی لسٹ کر دیا گیا ہے، جلد از جلد فلائیٹس بحال ہو جائیں گی، جنوری میں تفصیلی ایکشن پلان جمع کرا دیا گیا تھا،

    آج ہماری باری پھر آپ کی باری جن کی وجہ سے یہ ہو رہا ہے ان کی باری کب ہوگی؟علی محمد خان
    علی محمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل بانی پی ٹی کے سیل کی تصویریں چلائی گئیں آج ہماری باری ہے پھر آپ کی باری ہوگی جن کی وجہ سے یہ ہو رہا ہے ان کی باری کب ہوگی؟ڈیتھ سیل میں ایک طرف واش روم اس کے ساتھ نماز کی جگہ.یہ توہین برداشت نہیں! تمہاری باری بھی آئے گی.یہ توہین صرف عمران خان کی نہیں، ملک کا سابق وزیراعظم ہے، اسکو کس سیل میں رکھا ہوا.ایسا کیوں کیا جا رہا. کل نواز شریف کے ساتھ آج عمران خان کے ساتھ یہ ہو رہا، بینظیر کے ساتھ ہوا، بھٹو کے ساتھ ہوا،عدالتوں میں خواتین جا رہیں، انکو ٹارچر کیا جا رہا. آج ہماری باری، کل آپ کی باری،جن کی وجہ سے یہ سب ہوا، ان کی باری کب آئے گی، ملکر سوچیں کہ یہ جو ہو رہا نہیں ہونا چاہئے.

    قبائلی محب وطن امن چاہتے ہیں، بھائی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے، مبارک زیب خان
    مبارک زیب خان نے کہا کہ میں ضلع باجوڑ سے ہوں، ہمارے بھائی کو بے دردی سے شہید کیا گیا، اسے انصاف دلوائیں،باجوڑ کے لوگ محب وطن اور امن پسند ہیں، لیکن آئے روز دھماکے ،ٹارگٹ کلنگ ہو رہی، میرا بھائی الیکشن لڑ رہا تھا اسکو گولی ماری گئی، ہمیں انصاف دلوائیں.ہمیں امن دیا جائے، ہمیں روزگار،تحفظ دیا جائے. ریاستی ادارے وہاں امن و امان قائم کرنے میں کردار ادا کریں، دہشت گردی ختم کی جائے.ہم امن پسند اور محب وطن ہیں،امن چاہتے ہیں آگے بڑھنا چاہتے ہیں.علاقے کی تعمیر و ترقی کا مطالبہ کرتا ہوں.

    وزیرستان کے لوگوں کے گھر تباہ،لوگ اسلام آباد بیٹھے انکی بات سنی جائے، مصطفیٰ کمال
    ایم کیو ایم کے مصطفیٰ کمال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیرستان سے ایک جرگہ آیا ہوا ہے، ان کے گھر تباہ ہیں وہ اپنے گھروں میں جا نہیں سکتے،وہ پریس کلب کے پاس بیٹھے ہیں، یہ 80 ہزار خاندان ہیں، کوئی جا کر ان سے بات کرے،چار لاکھ فی گھر ان کو ملنے ہیں، انہوں نے احتجاج کیا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، وہ حکومت کی توجہ چاہتے ہیں، بزرگ بیٹھے ہیں، ان سے بات کی جائے اور انکے مطالبات پورے کئے جائیں، وہاں سروے ہو چکا لیکن رقم نہیں مل رہی، فائل وزیراعظم کے پاس پڑی ہوئی ہے ،ان سے بات کی جائے، ان کی بات سنی جائے .کراچی میں جو بل دے رہا ہے اس کے گھر بھی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، بل نہ دینے والوں کی سزا بھی ان کو مل رہی ہے جو بل دے رہے ہیں .شرمیلا فاروقی نے کہا کہ روز سوالات موخر ہو جاتے ہیں، میرا کل کا سوال پولیو سے متعلق ہے، اس وقت 44 ضلع میں پولیو دوبارہ سامنے آیا ہے،

    ہمیں بندوق نہیں، قلم ، کتاب اور بچوں کے لئے روزگار چاہئے.اسد قیصر
    اسد قیصر نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل مولانا فضل الرحمان اور عمر ایوب خان نے چمن کے حوالے سے بات کی.اس وقت پشتون بیلٹ سراپا احتجاج ہے،کیونکہ کاروبار بند ہےاسمبلی میں کوئی اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لے رہا.چمن کے لوگوں کے ساتھ بات کرو.ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے .چمن میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں.ہمیں بندوق نہیں، قلم ، کتاب اور بچوں کے لئے روزگار چاہئے

    شازیہ مری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا .20،20گھنٹے سندھ میں بجلی نہیں ہے.ہم پر بجلی گر رہی ہے لیکن سندھ میں بجلی نہیں ہے.یہاں پر جواب دینے کے لئے کوئی موجود نہیں ہے

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

  • زرتاج گل سے لڑائی،طارق بشیر چیمہ کو رواں سیشن کے لئے معطل کرنے کی قرارداد منظور

    زرتاج گل سے لڑائی،طارق بشیر چیمہ کو رواں سیشن کے لئے معطل کرنے کی قرارداد منظور

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ کل ایک واقعہ ہوا جس سے بہت سے ممبران کی دل آزاری ہوئی، طارق بشیر چیمہ کو معطل کرنے کا سب کا متفقہ فیصلہ تھا،طارق بشیر چیمہ کو رواں سیشن کے لئے معطل کرنے کی قرارداد منظور کر لی گئی،اسپیکر نے طارق بشیر چیمہ کو معطل کرنے قرارداد پیش کی.

    پارلیمنٹ ڈی چوک ہے نہ موچی دروازہ،خواجہ آصف اسمبلی میں برس پڑے
    وزیر دفاع خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے داخلی راستے 100 ڈیڑھ سو بندا کھڑا ہوتا ہے،یہاں سے دروازے سے باہر نہیں نکل سکتے،لفٹوں کے آگے لوگ کھڑے ہوتے ہیں،کوریڈور میں جلوس کی شکل میں لوگ کھڑے ہوتے ہیں،کسی وقت کوئی بندا پارلیمنٹ میں داخل ہو سکتا ہے،ہمیں سیکیورٹی کے خدشات ہیں، یہاں پر گیلری میں تعداد کو کم سے کم رکھیں ،نہ یہ موچی دروازہ ہے، نہ ڈی چوک ہے،اتنا رش ہوتا ہے آپ گاڑی میں نہیں بیٹھ سکتے

    قومی اسمبلی کی راہداریوں میں ٹک ٹاکرز، یوٹیوبرز اور میڈیا کی طرف سے ویڈیو بنانے پر پابندی عائد
    اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ میں نے 14 تاریخ کو ہدایات دی ہیں،جہاں گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں وہاں انٹرویو کےلئے روکا جاتا ہے،ہم سخت ایکشن لیں گے،اسپیکر ایاز صادق نے قومی اسمبلی کی راہداریوں میں ٹک ٹاکرز، یوٹیوبرز اور میڈیا کی طرف سے ویڈیو بنانے پر پابندی عائد کر دی۔اسپیکر قومی اسمبلی قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا

    ” میں تمہاری ماں بہن کے کپڑے اتاروں گا”طارق بشیر چیمہ کی قومی اسمبلی میں زرتاج گل کو دھمکی

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی اجلاس میں شدید تلخی ہوئی ہے، زرتاج گل اور طارق بشیر چیمہ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے، طارق بشیر چیمہ زرتاج گل کی نشست کی جانب لپکے ,اپوزیشن کے اراکین طارق بشیر چیمہ کی جانب دوڑ پڑے ,سیکیورٹی اہلکار اور حکومتی اراکین بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کرتے رہے, آغا رفیع اللہ طارق بشیر چیمہ کو ایوان سے باہر لے گئے

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم