Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور نے الیکشن ترمیمی بل  کی  منظوری دیدی

    قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور نے الیکشن ترمیمی بل کی منظوری دیدی

    اسلام آباد(محمداویس) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور نے الیکشن ترمیمی بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا بل کے حق میں 8 مخالفت میں 4 اور جے یو آئی کے رکن نے نہ بل کے حق میں نہ مخالفت میں حصہ لیا،کمیٹی میں ممبر علی محمد خان نے سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کا جھاڑ پلادی اور کہا کہ اگر آپ اتنے نازک ہیں کہ بل کے حوالے سے رائے نہیں دے سکتے تو آپ کو کمیٹی میں نہیں آنا چاہیے تھا علی محمد خان کا وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کے ساتھ بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس چیئرمین رانا ارادت شریف خان کی زیر صدارت ہوا۔وزیر پارلیمانی امور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید بھی اجلاس میں شریک ہوئے ۔وفاقی سیکرٹری پارلیمانی امور نے کہاکہ یہ بل کا ایوان میں پیش ہوا ہے اس میں مزید ترمیم مانگی ہیں ۔بل کے محرک بلال کیلانی نے بل کمیٹی میں پیش کرتے ہوئے کہاکہ الیکشن ایکٹ میں دو ترمیم مانگی ہیں ۔سیکشن 66میں ترمیم لائی ہیں جس میں ہے کہ ریٹرننگ آفسر کے پاس اس کو انتخابی نشان الاٹ ہونے سے پہلے ہارٹی کی وابستگی کا سرٹیفکیٹ دینا ہوگا ورنہ وہ آذاد تصور ہوگا ۔سیکشن 104میں دوسری ترمیم لائے ہیں جو تیسری ترمیم ہے ۔اگر کوئی سیاسی جماعت مقررہ وقت میں مخصوص نشستوں کی لسٹ نہ دے سکے تو محصوص نشستوں کی اہل نہیں ہوگی ۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ جب آزاد امیدوار قومی اسمبلی میں آئیں گے تو وہ تین دن میں سرٹیفکیٹ جمع کرائیں گے وہ کس جماعت میں شامل ہوئے ہیں ۔

    علی محمد خان مجھے ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے ہیں مجھے اپنا کام کرنا آتا ہے،وزیر قانون اور علی محمد خان میں تلخ کلامی
    علی محمد خان کہاکہ یہ پرائیویٹ ممبر بل ہے تو حکومت کیوں بل کے حوالے سے دلائل دے رہی ہے اس سے تولگ رہاہے کہ یہ حکومتی بل ہے پرائیویٹ ممبر تو خود بل کے حوالے سے دلائل دینا چاہیے ۔ وزیر کو ان کی وکالت نہیں کرنی چاہیے میں ان کی وکالت کروں گا ۔ اگر اتنا اچھا بل ہے تو بل حکومت خود لے کر آئے ۔
    چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ وزیر بل پر رائے دے رہے ہیں اس کے بعد ممبران اس پر موقف دیں گے ۔
    اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ علی محمد خان مجھے ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے ہیں مجھے اپنا کام کرنا آتا ہے ہم حکومت کی رائے دے رہے ہیں یہ پرائیویٹ ممبر بل ہے ،اس دوران علی محمد خان اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی آپس میں تلخ کلامی ہوئی،محمد بشیر ورک نے کہاکہ بل کمیٹی میں پہلے ممبر نے پیش کیا ہے علی محمد خان دیر سے آئے ہیں ان کو وقت پر آنا چاہیے ۔علی محمد خان نے کہاکہ میں تلاوت کے وقت کمیٹی میں تھا ۔چیئرمین کمیٹی ہمارے بھی چیئرمین ہیں آپ نیوٹرل رہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ ترمیم بل قانون کو ٹھیک کررہی ہیں۔ یہ بل عدالتی فیصلے کے حوالے سے ہے یہ پارلیمان کا فرض ہے کہ اس کے اختیارات میں مداخلت و تجاوزات ہے تو اس پر پارلیمان نے چیک رکھنا ہے ۔قانون میں کمی اضافی پارلیمان کا حق ہے ۔عدالت کا یہ کام نہیں ہے ۔ قانون سازی عدالت کا نہیں پارلیمان کا ڈومین ہے آئین میں تین دن میں آزاد امیدوار نے سیاسی جماعت جوائن کرنی ہے ،اگر اب وہ کسی دوسرے جماعت میں جائے گا تو نااہل ہوجائے گا اب سیاسی جماعت تبدیل نہیں ہوسکتی ہے ۔میں نے سینیٹ کا حلف لیا ہے کہ میں آئین پاکستان کے حلف کی حفاظت کرنی ہے ۔یہ ترمیم آئین کے مطابق ہے ۔ میں اس بل کی حمایت کرتا ہوں۔اپوزیشن بھی اچھی چیزیں لے کرآئے ہم حمایت کریں گے ۔

    بل کے محرک بلال کیانی نے کہاکہ آذاد امید وار کسی جماعت کا مقرہ وقت میں سرٹیفکیٹ نہیں دے گا تو وہ آذاد ہی رہے گا ۔محصوص نشستوں کی لسٹیں مقررہ وقت میں جمع نہ کرائی جائیں تو کوٹے کے مستحق نہیں ہوں گے اگر ایک مرتبہ بعد آب آذاد امیدوار بن گئے اور جیتنے کے بعد ایک جماعت جوائن کرلی تو آپ دوبارہ دوسری جماعت جوائن نہیں کرسکتے ہیں ۔

    علی محمد خان نے کہاکہ قانون سازی کرتے ہوئے ہماری خوش فہمی ہے کہ وزیر قانون نے سیاسی جماعت کے وزیر قانون کے تحت یہ بل نہیں لائے اس بل پر کیا ماضی میں جرم پر لگانا چاہتے ہیں یا مستقبل کے حوالے سے یہ بل ہے، ماضی کے جرم کی سزا ہوگی یا آے کو جرم ہوگا اس مستقبل کے لیے یہ بل لایا گیا ہے ۔

    کل ہماری حکومت ہوتو ہم بھی پارلیمنٹ کے فورم کو ان فیصلوں کے خلاف استعمال کریں گے ؟علی محمد خان
    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اس بل کا اطلاق ماضی سے ہوگا یہ پارلیمان کا اختیار ہے کہ اس کو ماضی سے اطلاق کیا جائے ۔ صرف کریمنل کیس کے حوالے سے نئے قانون کا ماضی سے نہیں ہوتا ہے ،علی محمد خان نے کہاکہ ماضی کے قانون سے مجھے فائدہ ہورہاہے تو نئے قانون بنا کر کیا مجھ اس سے محرومکیا جاسکتا ہے؟آرٹیکل 10 کے خلاف یہ قانون ہے ۔ جب اعلیٰ عدالت میں آپ کے خلاف فیصلہ آجائے تو اس کے خلاف اس فورم کو استعمال کیا جارہاہے کیا اس سے پاکستان کے آئین کو اچھا رنگ دے رہے ہیں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وقعت کیارہ جائے گی ۔ کل ہماری حکومت ہوتو ہم بھی پارلیمنٹ کے فورم کو ان فیصلوں کے خلاف استعمال کریں گے ؟کیا تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلٹ پیپر پر تھا؟ تین دن کے اندر وہ آذاد امید وار شامل ہوسکتا تھا مگر الیکشن کمشن نے کہاکہ وہ آپشن موجود نہیں ہے جبکہ اصل میں موجود نہیں تھا ۔ اس معاملے میں یہ تین دن کا وقت اس وقت شروع ہوا ہے جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے ۔ جس دن الیکشن ہو رہا تھا سپریم کورٹ کہتی ہے کہ تحریک انصاف تھی تو کس قانون کے تحت تحریک انصاف کا نشان چھپا اور نہ ہی امیدوار سے سرٹیفکیٹ لیئے ۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اس مقدمہ میں وفاقی حکومت فریق نہیں تھی سپریم کورٹ میں درخواست سنی اتحاد کونسل نے دی تھی ۔پاکستان تحریک انصاف کی خواتین ونگ نے بھی اس میں درخواست دی تھی ۔کنول شوزب نے کہ کہا سنی اتحاد کونسل کو تحریک انصاف کو ووٹ ملے ہیں جس کو میں قانون مفروضہ سمجھتا ہوں جبکہ حقیقت میں ایسا ہی ہوگا۔ سنی اتحاد کونسل اراکین کو تحریک انصاف کا ووٹ بھی پڑا ہوا ہے، بغیر کسی جبر کے ممبران نے سنی اتحاد کونسل سے رابطہ کیا، فیصلہ موجود ہے کہ اراکین نے کہا کہ ممبران نے کہا سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں، پشاور ہائی کورٹ میں بھی تحریک انصاف نہیں گئی سنی اتحاد کونسل اراکین گئے، آپ کا سوال کہ الیکشن کمیشن نے الاٹ کیوں نہیں کیا نشان؟ایک امیدوار نے چار حلقوں سے انتخاب لڑا اور چاروں جیت گیا، مگر وہ ایک حلقے کی ایک ہی سیٹ رکھے گا آپ نے تو رضاکارانہ طور پر اپنا نکاح سنی اتحاد کونسل سے کر لیا،علی محمد خان نے کہاکہ یہ تو دوسرا ہے اسلام میں چار کی اجازت ہے،الیکشن کمیشن نے کیوں تحریک انصاف کو بلے کا نشان نہیں دیا کیا آج ان کو کوئی شرمندگی ہے؟اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر سیاسی جماعتیں نظر ثانی میں گئی ہوئی ہیں کہ یہ سیٹیں ہماری بنتی ہیں،

    علی محمد خان کہاکہ الیکشن کمیشن کو کوئی شرمندگی ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی ہے ۔اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ قانون میں یہ بھی ہے کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھوتھو ،علی محمد خان نے کہاکہ کیا آپ کا اشاہ اس طرف تو نہیں ہے کہ ایک مرتبہ کہیں کہ آرٹیکل 6 لگائیں گے اگلے دن کہیے گے کہ ہمارے ساتھ مذاکرات کرو ۔اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ بل آئین کے سپرٹ کے مطابق ہے اس لیے اس بل کو منظور کیا جائے ۔ممبر راجہ قمر السلام نے کہاکہ ہم نے کمیٹی کو پریس کانفرنس بنا لیا ہے میڈیا کو مخاطب کیا جارہاہے ۔بشیر ورک نے کہاکہ یہ ترمیم آئین کے دائرہ کے اندر ہے یہ ترمیم اس آئین کے خلاف نہیں ہے ممبر کو بلیک میل کرنے سے بچانے کے لیے ہے ۔مخصوص نشستوں کی لسٹ کو بھی تبدیل نہیں کیا جاسکے گا ۔بل کے محرک نے اچھا اقدام کیا ہے ،شیخ آفتاب نے کہاکہ وزیر قانون نے اس بل کی وضاحت کرلی ہے یہ ترمیم سپریم کورٹ کے خلاف نہیں ہے عدالتوں کے فیصلوں پر اعتراض کرسکتے ہیں ۔اس بل کو منظور کرلینا چاہیے ،

    تحریک انصاف کے ممبر صاحبزادہ صبغت اللہ نے کہاکہ پارلیمنٹرین بلیک میل کرتے ہیں اس کی میں مذمت کرتا ہوں یہ صورت حال الیکشن کمیشن نے پیچیدہ بنایا ہے تحریک انصاف سے بلے کا نشان چھننا کس کا تھا میں جیل میں تھا ہمیں بتایا گیا تحریک انصاف چھوڑ دو کہ بیلٹ پیپرز پر تحریک انصاف کا نشان نہیں ہوگا۔تحریک انصاف کے ممبر خرم شہزاد ورک نے کہاکہ 39ممبران تحریک انصاف کے تھے باقی 41قومی اسمبلی کو کہاگیا کہ اپنے سرٹیفکیٹ جمع کیا جائے یہ ترمیم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف لائی گئی ہے یہ ترمیم ایوان میں نہیں آنی چاہیے تھی اس سے اداوں میں تکڑاؤ ہوگا ۔

    کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ کہ یہ آئی پی پی پیز کے حوالے سے ترمیم لاتے،شاہدہ اختر علی
    جے یوآئی کی ممبر شاہدہ اختر علی نے کہاکہ پارلیمان کی سپرمیسی پر آنچ آنے نہیں دیں گے ترمیم ہوتی رہتی ہیں ۔ سیاست عوام کی بھلائی کے لیے ہونی چاہیے کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ کہ یہ محرک آئی پی پی پیز کے حوالے سے ترمیم لاتے اور ایک دن میں وہ کمیٹی میں آتا اور یہاں سے پاس ہوتا اور عوام کو ریلیف مل جاتا ۔ الیکشن کمیشن ہمیشہ سینڈوچ ہوتا ہے ۔ ہمیں نظر آرہاہے کہ یہ ترمیم کا اطلاق ماضی سے کیا جارہاہے راتوں رات فیصلے کرنے سے پارلیمان کمزور ہوگا ۔اس طرح کی ترمیم کو تفصیل سے بحث ہونی چاہیے ۔ یہ ترمیم لیٹیگیشن میں جائے گی حکومت سامنے آئے اور ترمیم لے کر آئے کسی ایک پارٹی کا نقصان نہ دیکھیں ۔

    علی محمد خان نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو جھاڑ پلادی،بولے، سیکرٹری نازک مزاج ہیں توکمیٹی میں نہ بلائیں
    بلال کیانی نے کہاکہ ارکان ہماری نیت پر شک کررہے ہیں اس پر افسوس ہے، سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہاکہ ماضی سے بل کے اطلاق کے حوالے سے وزارتِ قانون سے بات کی جائے ۔ ہم اس پر کوئی رائے نہیں دے سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بل کا ماضی سے اطلاق ہونے پر رائے دینے سے انکارکر دیا،رائے نہ دینے پر علی محمد خان الیکشن کمیشن پر برس پڑے اور کہا کہ ان کو سوالات کا جواب دینا چاہئے، علی محمد خان نے کہاکہ آپ اس کے ماضی سے اطلاق پر حق میں ہیں یا نہیں،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہاکہ ہمارا یہ ڈومین نہیں ہے،علی محمد خان نے کہا الیکشن کمیشن نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے، یہاں جوابات کے ساتھ آئیں، آپ کو یہاں جواب دینا ہوگا،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ علی محمد خان صاحب آپ کمیٹی کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے،علی محمد خان نے کہاکہ ماضی سے اس بل کے اطلاق اگر سیکرٹری نازک مزاج ہیں توکمیٹی میں نہ بلائیں الیکشن کمیشن نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اس پر جواب دینا ہوگا ۔ جس کو سوال و جواب سے تکلیف ہے وہ کمیٹی میں نہ آئے ۔ 41ممبرقومی اسمبلی نے سرٹیفکیٹ جمع کردیئے ہیں تو ان کو کیوں تحریک انصاف مان نہیں رہے ہیں باقی 39 اکان کا سرٹیفکیٹ بھی تحریک انصاف کے انہی عہدیدار وں نے سرٹیفکیٹ دیئے ہیں۔ایم این اے فیاض صاحب کے بیٹے کو اغواء کیا گیا ہے کہ سرٹیفکیٹ جمع نہ کریں ان کے بیٹے پر تشدد کرکے کال سنائی گئی کہ آپ تحریک انصاف کا سرٹیفکیٹ جمع نہ کریں ،اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ سیاسی باتیں ہیں ۔علی محمد خان نے کہاکہ فیئر الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ڈیوٹی ہے تو یہ اپنا کام کیون نہیں کررہے ہیں ۔ کس قانون کے تحت انہوں کے تحریک انصاف کو الیکشن کے وقت بیلٹ پیپر سے ہٹایاہے ۔

    ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور ہوگیا تحریک انصاف نے مخالفت کی، جے یو آئی کے ممبر نے رائے نہیں دی ،بل کے حق میں 8 مخالفت میں 4 اراکین نے ووٹ دیئے.

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی اجلاس میں گزشتہ روز بلال اظہر کیانی نے انتخابات ایکٹ میں ترمیم کرنے کا بل پیش کردیا تھا،اسپیکر نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیاتھا،انتخابات ایکٹ 2017 میں ترمیم کے بل” انتخابات دوسری ترمیم بل”کے نکات سامنے آ گئے ہیں، بل کے مطابق کامیاب آزاد امیدوار کی جانب سے سیاسی جماعت میں شمولیت کی رضامندی ناقابل تنسیخ ہوگی،اگر کوئی جماعت مجوزہ مدت کے اندر مخصوص نشستوں کے لئے فہرست جمع کرانے میں ناکام رہتی ہے تو وہ نشستوں کی کوٹے کے لئے اہل نہیں ہوگی،الیکشن ترمیمی ایکٹ 2024 میں 2 ترامیم متعارف کرائی جارہی ہیں، پہلی ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 66 اور دوسری ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 104 میں متعارف کروائی گئی ہے، پہلی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اپنی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا اقرار نامہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا،دوسری ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جس پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن کو نہ دی ہو اسے مخصوص نشستیں نہیں دی جاسکتیں،ترمیمی ایکٹ 2024 کے مطابق یہ دونوں ترامیم منظوری کے بعد فوری طور پر نافذالعمل ہوں گی۔

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو،تصاویر بھی خاتون کے پاس موجود ہیں،دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر سے فون پر چیٹ،تصاویر کا تبادلہ،پھر اس نے ملنے کا کہا،ملزمہ کا بیان

    خواتین آدھے کپڑے پہن کر مردوں‌کو ہراساں کررہی ہیں خلیل الرحمان قمر

    سونیا کی جرائت کیسے ہوئی وہ کہے کہ اس نے میرے پاس تم ہو رد کیا خلیل الرحمان قمر

    اچھی بیوی کون ہوتی ہے خلیل الرحمان قمر نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر نے پہلا لو لیٹر کس کو اور کس عمر میں لکھا

    خلیل الرحمان قمر کو اپنے حسن کی اداؤں سے لوٹنے والی آمنہ کی تصاویر

    خلیل الرحمان قمر اور آمنہ کی نازیبا ویڈیوز؟ ڈاکٹر عمر عادل کی نس بندی ہونی چاہئے

    ہمارے پاس ویڈیوز،خلیل الرحمان قمر آمنہ سے فزیکل ہونا چاہتا تھا،حسن شاہ کا دعوٰی

  • قومی اسمبلی اجلاس، انتخابات ایکٹ میں ترمیم کرنے کا بل پیش

    قومی اسمبلی اجلاس، انتخابات ایکٹ میں ترمیم کرنے کا بل پیش

    قومی اسمبلی اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا

    قومی اسمبلی اجلاس میں مختلف حادثات و واقعات میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی،قومی اسمبلی اجلاس میں اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا،توجہ دلاو نوٹس رکن قومی اسمبلی آسیہ ناز تنولی نے پیش کیا ،وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم نذیر تارڑ نےتوجہ دلاؤ نوٹس پر جواب میں کہا کہ ہیپاٹائیٹس پروگرام 2005 میں شروع کیا گیا، کل وزیراعظم نے میگا پروگرام کا آغاز کیا ہے،ایک بہت بڑا پروگرام شروع ہونے جارہا ہے، اس میں علاج بھی شامل ہے،پمز میں ٹیسٹ کئے گئےجن میں ہیپاٹائیٹس ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 4 فیصد ہے، استعمال شدہ سرنج، بلیڈ استعمال نہیں کرنا چاہئے،وفاقی حکومت اس بارے میں میگا پروگرام لے کر آرہی ہے،

    اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ ہمارے معزز رکن حاجی امتیاز کو نا معلوم افراد کی گاڑی نے ٹکر ماری،ان پر تشدد کیا گیا،ہم نے پروڈکشن آرڈر کے لیے آپ سے درخواست کی،ہمارے 41 ممبرز پر ناجائز پرچے کیے گئے ہیں،اس پر اسپیکر صاحب نوٹس لیں،یہ چیز بند ہونی چاہئے،اسپیکر اس بات کا نوٹس لیں، ہم دو تین تحریک استحقاق پیش کریں گے

    ریاست پاکستان میں کسی شخص کو یہ حق نہیں دیا سکتا کہ وہ قتل کے فتوے جاری کرے،وزیر قانون
    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت پر ہمارا ایمان کامل ہے،عدالت کو آئین کی تشریح کا اختیار ہے لیکن آئین کو ری رائٹ کرنے اختیار نہیں ہے،اس معاملے کو لاء اینڈ جسٹس کمیٹی کو بھیجنا چاہتے ہیں تو اس کو ضرور دیکھیں،ریاست پاکستان میں کسی شخص کو یہ حق نہیں دیا سکتا کہ وہ قتل کے فتوے جاری کرے،یہ ذمہ دار ایوان ہے،ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے،یہاں سے بات مستند ہونی چاہئے

    حنیف عباسی نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر پارلیمانی کمیٹی بنائیں اور علماء کرام کو بلائیں،اس کا فوری حل نکالنا ہے اس وقت لوگوں کے دل دکھے ہوئے ہیں

    رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے سے ابہام پیدا ہوا ہے،کسی بھی صورت بھی ریاست اور حکومت کے علاوہ کسی کو سزا دینے کا اختیار نہیں،ہم مطالبہ کرتے ہیں حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے سپریم کورٹ اپنی زمہ داری پوری کرے ،اس معاملے پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنائیں

    آرٹیکل کو اگر ری رائٹ کیا ہے تو کیا وہ آرٹیکل چھ کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟قادر پٹیل
    قادر پٹیل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ انسانی حقوق کے نام پر مغرب سے پھیلایا جاتا ہے ،یہ مرتد وہاں جاتے ہیں اور کہتے ہیں پاکستان میں ہم پر بہت ظلم ہورہا ہے،یہ ہمارا ٹائٹل استعمال کرتے ہیں،یہ مرزا مرتد کا انگریزی میں ترجمہ نہیں کراتے،کوئی کمیٹی نہ بناؤ، اس مسئلے کو ڈسکس کرنے کی ضرورت نہیں ،ایک کمیٹی بناؤ جو اس قسم کے فیصلے دیتے ہیں ان لوگوں کی کیا سزا ہونی چاہئے؟آرٹیکل کو اگر ری رائٹ کیا ہے تو کیا وہ آرٹیکل چھ کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ بتایا جائے؟آپ ہمارے ایمان پر حملہ مت کرو

    ختم نبوت کی بات آتی ہے تو کمزور مسلمان بھی جان دینے کے لئے سڑک پر نکل آتا ہے،مولانا عبدالغفور حیدری
    مولانا عبدالغفور حیدری نےا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس پارلیمنٹ کو مقننہ کہتے ہیں ،جج صاحبان یہ بتائیں کہ انہیں آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار کہاں سے ملا ،آئین میں ترمیم وہ نہیں کرسکتے،جج صاحب کی اس قسم کی رائے کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں ،آج ہی قرار داد مذمت منظور ہونی چاہئے،جج صاحب کی اس رائے کو مسترد کرنا چاہئے،پارلیمنٹ کے فیصلے کے سب ادارے پابند ہوتے ہیں،جب ختم نبوت کی بات آتی ہے تو کمزور مسلمان بھی جان دینے کے لئے سڑک پر نکل آتا ہے،یہ جو رائے ہے یہ آئین قانون اور شریعت کے خلاف ہے،جج صاحبان نے جو رائے دی ہے خود سے واپس لے لیں،اس پر ڈٹے رہنا نقصان کا باعث بنے گا

    اسپیکر نے معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف کے سپرد کردیا،اسپیکر نے کل ہی کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کردی

    قومی اسمبلی اجلاس ،بلال اظہر کیانی نے انتخابات ایکٹ میں ترمیم کرنے کا بل پیش کردیا،اسپیکر نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا،امجد علی خان نے دستور ترمیمی بل 2024 پیش کردیا،آغا رفیع اللہ نے فیڈرل ایمپلائز بینوولینٹ فنڈ اینڈ گروپ انشورنس ترمیمی بل پیش کردیا،رانا قاسم نون نے پاکستان امتحانی بورڈ کے قیام کا بل پیش کردیا،عالیہ کامران نے دستور ترمیمی بل 2024 پیش کردیا،صاحبزادہ صبغت اللہ نے ویسٹ پاکستان مینٹیننس پبلک آرڈر تنسیخی بل 2024 پیش کردیا،قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے تمام بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیئے،قومی اسمبلی نے 6 بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دیئے جبکہ سینیٹ سے پاس ہونے والے ایک بل کو منظور کرلیا۔نیشنل ایکسیلینس انسٹی ٹیوٹ بل 2024 متفقہ طور پر منظور کیا گیا ۔

    قومی اسمبلی میں کاروائی اور طریق کار کے قواعد 2007 میں ترمیم پیش کر دی گئی،ترمیم رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے پیش کیں،ترمیم کے تحت تفویض کردہ قانون سازی کی جانچ پڑتال سے متعلق کمیٹی قائم کی جائے گی،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی تجویز دی، نفیسہ شاہ نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر کئی ایس آر اوز حکومت جاری کر دیتی ہے،تفویض کردہ قانون سازی کی جانچ پڑتال یہ کمیٹی اپنے پاس رکھے، کئی کئی سال لگ جاتے ہیں رولز نہیں بنتے،اسپیکر نے ترمیم متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردی

    انتخابات ایکٹ میں ترمیم کا بل،حکومت نے چال چل دی، تحریک انصاف مشکل میں
    انتخابات ایکٹ 2017 میں ترمیم کے بل” انتخابات دوسری ترمیم بل”کے نکات سامنے آ گئے ہیں، بل کے مطابق کامیاب آزاد امیدوار کی جانب سے سیاسی جماعت میں شمولیت کی رضامندی ناقابل تنسیخ ہوگی،اگر کوئی جماعت مجوزہ مدت کے اندر مخصوص نشستوں کے لئے فہرست جمع کرانے میں ناکام رہتی ہے تو وہ نشستوں کی کوٹے کے لئے اہل نہیں ہوگی،الیکشن ترمیمی ایکٹ 2024 میں 2 ترامیم متعارف کرائی جارہی ہیں، پہلی ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 66 اور دوسری ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 104 میں متعارف کروائی گئی ہے، پہلی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اپنی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا اقرار نامہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا،دوسری ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جس پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن کو نہ دی ہو اسے مخصوص نشستیں نہیں دی جاسکتیں،ترمیمی ایکٹ 2024 کے مطابق یہ دونوں ترامیم منظوری کے بعد فوری طور پر نافذالعمل ہوں گی۔

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو،تصاویر بھی خاتون کے پاس موجود ہیں،دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر سے فون پر چیٹ،تصاویر کا تبادلہ،پھر اس نے ملنے کا کہا،ملزمہ کا بیان

    خواتین آدھے کپڑے پہن کر مردوں‌کو ہراساں کررہی ہیں خلیل الرحمان قمر

    سونیا کی جرائت کیسے ہوئی وہ کہے کہ اس نے میرے پاس تم ہو رد کیا خلیل الرحمان قمر

    اچھی بیوی کون ہوتی ہے خلیل الرحمان قمر نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر نے پہلا لو لیٹر کس کو اور کس عمر میں لکھا

    خلیل الرحمان قمر کو اپنے حسن کی اداؤں سے لوٹنے والی آمنہ کی تصاویر

    خلیل الرحمان قمر اور آمنہ کی نازیبا ویڈیوز؟ ڈاکٹر عمر عادل کی نس بندی ہونی چاہئے

    ہمارے پاس ویڈیوز،خلیل الرحمان قمر آمنہ سے فزیکل ہونا چاہتا تھا،حسن شاہ کا دعوٰی

  • قومی اسمبلی سیکرٹریٹ،غیرقانونی بھرتیوں کی تحقیقات کے بعد 200 آسامیاں‌ختم

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ،غیرقانونی بھرتیوں کی تحقیقات کے بعد 200 آسامیاں‌ختم

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور ترقیوں کی تحقیقات کے بعد گریڈ 22 تک کی 200 اسامیاں ختم کردی گئی ہیں.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کے حوالہ سے جاری تحقیقات کے بعد بڑا فیصلہ لیا گیا ہے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی 1700 میں سے 200 آسامیاں ختم کی جا رہی ہیں، گریڈ 22 کی 3 آسامیوں سمیت حالیہ برسوں میں کی جانے والی متعدد غیرقانونی بھرتیاں اور ترقیاں ختم کردی گئی ہیں، سیکرٹریٹ میں گریڈ 21 کی صرف 10 اسامیاں باقی رکھی جائیں گی، مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور ترقیوں کی تحقیقات کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا گریڈ 22 کا ایک سیکرٹری مستعفی ہوگیا جبکہ ایک ایڈیشنل سیکرٹری کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ باغی ٹی وی نے خبر شائع کی تھی کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں غیر قانونی بھرتیاں کی گئی ہیں،سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور راجہ پرویز اشرف نے انت مچا دی، غیر متعلقہ اور اضافی افراد کو بھرتی کیا گیا ہے جو حکومت پاکستان کے خزانے کو قوی نقصان پہنچا رہے ہیں، اسد قیصر نے ملازمین کو بھرتی کیا تو وہیں راجہ پرویز اشرف بھی ان سے پیچھے نہ رہے ، قومی خزانے کا بے دردی سے اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کہ سیکرٹری قومی اسمبلی کا ڈرائیور بحریہ ٹاؤن فیز ایٹ سے سرکاری گاڑی پر دودھ لینے جاتا ہے، اسمبلی ہاؤس میں ملازمین کی بھر مار، میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں کی گئیں،راجہ پرویز اشرف نے اسد قیصر کے غیر قانونی کاموں کو اس لئے تحفظ دیا کیونکہ وہ خود اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتے تھے

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں‌غیر قانونی بھرتیوں بارے چیئرمین نیب کو بھی درخواست دی گئی تھی جس پر چیئرمین نیب نے نوٹس لیا اور تفصیلات طلب کر لی ہیں،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس  مالی سال 2024-25 پر فافن کی رپورٹ  جاری

    قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس مالی سال 2024-25 پر فافن کی رپورٹ جاری

    قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس مالی سال 2024-25 پر فافن نے رپورٹ جاری کر دی

    فافن کی رپورٹ کے مطابق بجٹ پیش کرنےسے منظوری تک اسمبلی اجلاس کے 48 گھنٹے 2منٹ صرف ہوئے ، 179 ارکان قومی اسمبلی نے بجٹ پر ہونے والی بحثوں میں حصہ لیا ، سنی اتحاد کونسل کے 69 ارکان نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیا، تقریباً 60 اراکین بجٹ اجلاس کی تمام نشستوں میں شریک ہوئے ، پانچ اراکین نے بجٹ اجلاس کی کسی بھی نشست میں شرکت نہ کی ، بحث میں حصہ لینے والوں میں سے 70 فیصد ارکان نے بجٹ تجاویز پر تنقیدی رائے کا اظہار کیا، بجٹ پر تنقید کرنیوالوں میں حکومت اور اسکی اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی شامل تھے، پیپلز پارٹی کے 40 ، مسلم لیگ (ن) کے 37، ایم کیو ایم کے 18 ارکان نے بجٹ پر بحث کی ،جے یو آئی کے 5 اور آزاد 5 اراکین نے بحث میں حصہ لیا ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، آئی پی پی ، مسلم لیگ ق اور ایم ڈبلیو ایم کے ایک ، ایک رکن نے حصہ لیا ، اپوزیشن نے 133 مطالبات زر میں سے 30 پر کٹوتی کی 422 تحاریک پیش کیں ، تمام مسترد ہوئیں ، موجودہ مالی سال کے لیے 103 مطالبات زر بغیر کسی کٹوتی تحریک کے منظور کرلئے گئے ، گزشتہ 2 مالی سالوں کے لیے ضمنی اوراضافی مطالبات زر بغیر کسی بحث کے منظور ہوئے ،بجٹ سیشن کے دوران پانچ حکومتی بلوں کی بھی منظوری دی گئی جن کے لیے قواعد معطل کیے گئے

    ایوان کی کارروائی کی زیادہ تر دستاویزات اسمبلی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں،اجلاس کی 13 نشستوں میں سے 5 کی حرف بحرف مباحث ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جاچکے ہیں،اسمبلی کے آفیشل یو ٹیوب چینل پر ایوان کارروائی کی ویڈیو کے بعض حصوں کی آڈیو بند کر دی گئی ،وزیراعظم اور وزرا نے بجٹ اجلاس میں کم از کم 09 یقین دہانیاں کروائیں

    موسمیاتی شعبے میں سرمایہ کاری سے ماحولیات کے تحفظ میں مدد ملے گی، صدر مملکت

    مارگلہ ہلز میں آتشزدگی،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کانوٹس

    موسمیاتی تبدیلی،پرواز میں ہچکولے،رخ موڈ دیا گیا، 30 مسافر زخمی

    سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • قومی اسمبلی میں نئے مالی سال25-2024 کا بجٹ منظور، اپوزیشن کا واک آوٹ

    قومی اسمبلی میں نئے مالی سال25-2024 کا بجٹ منظور، اپوزیشن کا واک آوٹ

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا

    قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ 25-2024 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ہے، قومی اسمبلی نے 18ہزار 887 ارب روپے کا وفاقی بجٹ منظور کر لیا ہے،بجٹ منظور ہونے سے قبل سنی اتحاد کونسل نے ایوان سے واک آؤٹ کر لیا، سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی غیر موجودگی میں فنانس بل منظورہوا.بجٹ منظور ہونے پر حکومتی اراکین نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو مبارکباد دی.

    قومی اسمبلی میں بین الاقوامی فضائی سفر کےلیے ٹکٹوں پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کی شق منظور کرلی گئی، یکم جولائی سے بین الاقوامی سفر کے لیے اکانومی اور اکانومی پلس ٹکٹ پر 12500 روپے ٹیکس دینا ہوگا،یکم جولائی سے امریکا اور کینیڈا کیلئے بزنس کلاس اور کلب کلاس ٹکٹ پر ٹیکس میں ایک لاکھ روپے تک اضافے کی منظوری دی گئی ،مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے سفر کےلیے بزنس، فرسٹ اور کلب کلاس پر ڈیڑھ لاکھ روپے ٹیکس دینا ہوگا، یورپ کے فضائی سفر کےلیے بزنس، فرسٹ اور کلب کلاس پر 2 لاکھ 10 ہزار روپے ٹیکس دینا ہوگا،مشرق بعید، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے فضائی سفر پر بزنس، فرسٹ اور کلب کلاس پر 2 لاکھ 10ہزار روپے ٹیکس دینا ہوگا۔

    ضروری نہیں کہ پیکجڈ دودھ کی حوصلہ افزائی کی جائے،ہمیں صحت مند قدرتی دودھ کی طرف جانا ہوگا۔وزیر خزانہ
    قومی اسمبلی اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے رکن علی محمد خان نے کہا ہے کہ بچوں کے دودھ، اسٹیشنری اور صحت کے آلات پر ٹیکس واپس لیا جائے،علی محمد خان نے ایل پی جی اور لیپ ٹاپس پر بھی ٹیکس واپس لینے کی ترمیم پیش کی، جس پر وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اسٹیشنری، دل کی بیماریوں سے متعلقہ آلات پر ٹیکس پہلے ہی واپس لیا جاچکا، ضروری نہیں کہ پیکجڈ دودھ کی حوصلہ افزائی کی جائے،ہمیں صحت مند قدرتی دودھ کی طرف جانا ہوگا۔

    اراکین کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ترمیم کثرت رائے سے منظور
    پیپلزپارٹی نے اراکین پارلیمنٹ کی مراعات بڑھانے سے متعلق ترمیم ایوان میں پیش کر دی،قومی اسمبلی نے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ترمیم کثرت رائے سے منظور کر لی،ارکان پارلیمنٹ تنخواہ و مرات ایکٹ میں ترمیم فنانس بل کے ذریعے کی جا رہی ہے ،پیپلز پارٹی کے عبد القادر پٹیل نے ترمیم پیش کی،اراکین اسمبلی کا سفری الاؤنس 10روپے کلومیٹر سے بڑھا کر25روپے کر دیا گیا،اراکین پارلیمنٹ کے بچ جانے والے سالانہ فضائی ٹکٹس استعمال نہ ہونے پر منسوخ کرنے کی بجائے اگلے سال قابل استعمال ہونگے، اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کا اختیار وفاقی حکومت سے لیکر متعلقہ ایوان کی فنانس کمیٹی کے سپرد کر دی گئی،اپوزیشن نے تنخواہوں اور مراعات سے متعلق پیپلز پارٹی کی ترمیم کی مخالفت کی،ترمیم کے مطابق سالانہ ٹریولنگ ووچرز 25سے بڑھا کر 30کردیا گیا،

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا نے فرنٹ لائن صوبے کا کردار ادا کیا،وزیراعظم
    قومی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری و دیگر اراکین شریک ہوئے.وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کے دوران اراکین سے ملتے رہے تو وہیں بلاول زرداری نے بھی اراکین سے ملاقاتیں کیں،وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو حصہ دیا گیا ہے، 2010 میں این ایف سی کا آخری ایوارڈ ہوا تھا، اس وقت دہشتگردی عروج پرتھی، اس میں صوبوں کےحصے میں کے پی کا حصہ ایک فیصد رکھا گیا ، کےپی کو590ارب روپےدہشتگردی کی روک تھام کی مدمیں ملے، دوسرےکسی صوبےکواس مد میں ایک روپیہ بھی نہیں ملا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا نے فرنٹ لائن صوبے کا کردار ادا کیا،اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کےلیے ایک فیصد حصہ کےپی کے کےلیے الگ سے رکھا گیا،وہ ایک فیصد حصہ آج تک مل رہا ہے۔چاروں صوبوں نے مل کر این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق کیا تھا ،اس وقت وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف زرداری تھے،میں خود اس این ایف سی ایوارڈ میں شریک تھا ، صوبوں کے حصوں سے پہلے خیبرپختونخواہ کا ایک فیصد شیئر رکھا گیا ،دوہزار دس سے اب تک دہشتگردی کی کاوشوں پر خیبر پختونخواہ کو 590 ارب دیے گئے ،ہم نے چیف سیکرٹری کے لیے تین ناموں کا پینل دیا خیبرپختونخواہ حکومت نے کسی کا انتخاب نہیں کیا ۔ اگر خیبرپختونخواہ حکومت چاہے تو ایک اور پینل دینے کو تیار ہیں ۔ اب تک خیبرپختونخواہ میں سی ٹی ڈی نامکمل ہے ۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے فنانس بل میں ترامیم ایوان میں پیش کردیں
    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حقیقت پر بات کرنی چاہیے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کیسا ہے، کرنسی مستحکم ہے اور یہ ایسے ہی رہے گی، سرمایہ کار واپس آرہے ہیں، پچھلے مہینے غذائی مہنگائی 2 فیصد پر تھی،وفاقی وزیر خزانہ نے فنانس بل میں ترامیم ایوان میں پیش کردیں،انہوں نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں اضافے کی ترمیم پیش کی،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فنانس بل میں دیگر ترامیم بھی ایوان میں پیش کیں جس کے بعد اپوزیشن نے فنانس بل کے خلاف ترامیم پیش کیں جن کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مخالفت کی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کرپشن اور چوری کو ٹھیک کرنا ہے، ایف بی آر کو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف لے کر جانا ہے نجکاری دو سے تین سال کا منصوبہ ہے، انرجی سیکٹر اور پاور سیکٹر کی ریفارم بجٹ کا حصہ ہیں۔

    ویگوڈالے پی ٹی آئی والوں کے پیچھے پھرتے ہیں اس سے بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئے گی ،عمر ایوب
    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے اظہار خیال کرتے ہوئے بجٹ 25-2024 کو پاکستان کےعوام کےخلاف اکنامک دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے لوگ عوام کے قاتل ہیں اور ان کے خون کے ذمہ دار ہیں،وزیر داخلہ محسن نقوی نے ساڑھے چار سو ارب روپے کی گندم امپورٹ کی، اب اس گندم کو ایکسپورٹ کرنے کی بات ہو رہی ہے، یہ کابینہ ہے یا سرکس ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، نیب گندم اسکینڈل کی تحقیقات کرے، اس بجٹ سے افراط زر بڑھے گی، یہ عقل کے اندھے ہیں، ان کو معیشیت کا پتہ ہی نہیں ہے، قیمتیں عارضی کم ہوئی ہیں اب دوبارہ بڑھیں گی، بجلی کی قیمت 70 روپے سے بڑھ کر 85 روپے پر جائے گی، اس بجٹ کے ساتھ کوئی اقتصادی گروتھ نہیں ہوگی، یہ عوام اور انڈسٹری مخالف بجٹ ہے، ہم پورے بجٹ کو مسترد کرتے ہیں،حکمران جماعت نے تسلیم کیا بجٹ (آئی ایم ایف) سے بنوایا گیا ہے، کسانوں کی کمرتوڑدی، اب گندم برآمدکرنےکی کوشش ہوگی، پہلےاربوں روپے بنائے اب پھراربوں روپے بنائیں گے۔ویگوڈالے پی ٹی آئی والوں کے پیچھے پھرتے ہیں اس سے بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئے گی ۔ وفاقی حکومت خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کو پورے فنڈز فراہم نہیں کررہی ۔وفاقی حکومت پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والوں سے بدلہ لے رہی ہے ۔ میڈیا پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں ۔

    خود وزیر اعظم نے یہ تسلیم کیا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف نے بنایا ہے،زرتاج گل
    زرتاج گل نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ فارم 47والی حکومت کا بجٹ ہے،موجودہ حکومت کو کوئی مینڈیٹ حاصل نہیں ہے،خود وزیر اعظم نے یہ تسلیم کیا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف نے بنایا ہے، اسد قیصر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آپ نے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا ہے ،وزیراعظم سے پوچھنا چاہتا ہوں خیبرپختونخواہ کو چیف سیکرٹری اور آئی جی اپنی مرضی سے لگانے کی اجازت کیوں نہیں ۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سنی اتحا د کونسل کے رکن علی محمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کےبجٹ کومسترد کرتےہیں عوام نے بجلی، گیس، پانی کےبل اورکرائےدینے ہیں

    کے پی کو اس بات پر ٹارگٹ کیا جارہا ہے کہ وہاں کے لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر علی خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فنانس بل میں کوئی کفایت شعاری پلان نہیں رکھا گیا، اس حکومت میں سب سے زیادہ لوگ بے روزگار رہے ہیں،کے پی کو اس بات پر ٹارگٹ کیا جارہا ہے کہ وہاں کے لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا ،پی آئی اے اور ڈسکوز کی نجکاری کی بات کی جارہی ہے، انکم ٹیکس آرڈیننس میں یہ لوگ ترامیم کرنا چاہ رہے ہیں، موجودہ حکومت میں مہنگائی سب سے زیادہ ہے، موجودہ حکومت میں ڈالرکاریٹ سب سےزیادہ ہے، بہت سےممالک میں انکم ٹیکس نہیں لیکن یہاں لگایا گیا ہے، حکومت نے سی سی آئی سےمنظوری نہیں لی۔

    بعد ازاں قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی شدیدنعرے بازی میں فنانس بل منظور کرلیاگیا،حکومتی ترامیم کی منظوری پر اپوزیشن نے ووٹنگ چیلنج کردی، جس پر اسپیکر نے گنتی کروانے کا حکم دے دیا اور کہا کہ مجھے نظر آرہا ہے کس کی اکثریت ہے پھر بھی گنتی کروا دیتا ہوں۔

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وزیراعظم شہبازشریف کی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات ہوئی ہے،دونوں رہنمائوں میں ملاقات قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران ہوئی،وزیراعظم نے بلاول بھٹو کے ساتھ ان کی نشست پر جاکر ملاقات کی ،وزیراعظم نے بلاول بھٹو سے مصافحہ کیا ،دونوں رہہنمائوں نے کچھ دیر تک تبادلہ خیال بھی کیا،وزیراعظم نے پیپلزپارٹی کی بجٹ کی حمایت پر بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کیا ، بلاول زرداری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک و قوم کے مفاد میں اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی حمایت کریں گے ،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • راجہ خرم نواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے چیئرپرسن منتخب

    راجہ خرم نواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے چیئرپرسن منتخب

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین کی تقرری کا سلسلہ جاری ہے

    سید مصطفی محمود قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے،سید مصطفی محمود کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے توانائی(پٹرولیم ڈویژن) کے اجلاس میں کیا گیا،قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ رائے حیدر علی خان اور تائید کنندہ محمد معین عامر پیرذادہ تھے،

    سید حسین طارق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے،سید حسین طارق کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے اجلاس میں کیا گیا،سید حسین طارق کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ سید جاوید علی شاہ اور تائید کنندہ ذوالفقار علی تھے

    ملک محمد افضل کھوکھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے رولز آف پروسیجر اینڈ پریولجز کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے، ملک محمد افضل کھوکھر کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے رولز آف پروسیجر اینڈ پریولجز کے اجلاس میں کیا گیا،ملک محمد افضل کھوکھر کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ ملک محمد عامر ڈوگر تھے

    راجہ خرم نواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے،انتخاب قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے اجلاس میں کیا گیا،راجہ خرم نواز کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ سید رفیع اللہ اور تائید کنندہ میں ڈاکٹر طارق فضل اور جمال احسن خان شامل تھے

    نواب زادہ افتخار احمد خان بابر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت ایوی ایشن کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے، نواب زادہ افتخار احمد خان بابر کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے وزارت ایویشن کے اجلاس میں کیا گیا،چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ حاجی امتیاز احمد چودھری اور تائید کنندہ جام عبد الکریم تھے

    محترم پولین بلوچ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین منتخب ہوگئے،محترم پولین بلوچ کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں کیا گیا،کیسو مل کھئیل داس تجویز کنندہ اور شرمیلا فاروقی تائید کنندہ تھے

    میر غلام علی تالپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے چیئرمین منتخب ہو گئے،میر غلام علی تالپور کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے اجلاس میں کیا گیا،محترمہ آصفہ بھٹو زرداری تجویز کنندہ اور طاہرہ اورنگزیب تائید کنندہ تھے

    مخدوم سید عبدالقار گیلانی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ ڈیویلپمنٹ اور خصوصی اقدامات کے چیئرمین منتخب ہو گئے،عبدالقادر گیلانی کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ ڈیویلپمنٹ اور خصوصی اقدامات کے اجلاس میں کیا گیا، معظم خان جتوئی نے سید عبدالقار گیلانی کا نام تجویز کیا جبکہ اور محترمہ ناز بلوچ سید عبدالقار گیلانی کے نما کی تائید کی۔

    فتح اللہ خان قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین منتخب ہو گئے،فتح اللہ خان کو ممبران قومی اسمبلی برائے دفاع کے ممبران نے کمیٹی اجلاس میں کیا گیا۔ ملک ابرار نام تجویز کیا جبکہ برگیڈیئر ریٹائر محمد اسلم گھمن نے فتح اللہ کے نام کی تائید کی۔

    ملک شاہ گورگیج چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے نارکوٹکس کنٹرول منتخب ہو گئے،ملک شاہ گورگیج کو ممبران قومی اسمبلی برائے نارکوٹکس کنٹرول کے ممبران نے کمیٹی اجلاس میں منتخب کیا۔ممبر قومی اسمبلی خالد حسین مگسی نے ملک شاہ گورگیج کا نام تجویز کیا جبکہ دیگر ممبران نے ملک شاہ گورگیج کے نام کی تائید کی۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

  • امریکی قرارداد  مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    امریکی کانگریس میں پاکستان کے حوالے سے منظور ہونے والی قرارداد پر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی اجلاس میں ردعمل دیا ہے

    اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی کانگریس میں منظور قرارداد کو پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ تعمیری بات چیت کا خواہاں ہے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی ملک کو مداخلت کی اجازت نہیں، امریکی قرارداد کے جواب میں ہم بھی قرارداد لائیں گے، قرارداد کا مسودہ تیار کرلیا ہے اپوزیشن سے بھی شیئر کریں گے، امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر دفتر خارجہ نے اپنا مؤثر ردعمل دیا ہے،پاکستان آزاد اور خودمختار دنیا کی پانچویں بڑی جمہوری قوت ہے۔ ہم بھی دیگرممالک کےحوالےسے50چیزوں پرتنقیدکرسکتےہیں،

    بجٹ اجلاس کے بعد خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے اجلاس بلا لیا جائے،وزیر خارجہ
    اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کی حکومت میں سی پیک پر کام کو روک دیا گیا تھا، وزیراعظم شہباز شریف نے سی پیک پرکام کو دوبارہ شروع کرایا، پاکستان 182 ووٹ حاصل کر کے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا، ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر کئی بار کام کرنے کی کوشش کی، ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکی پابندیاں بڑا مسئلہ ہے، پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار نہیں، ہم نے ماضی میں اپنے تعلقات دوسرے ملکوں سے خود خراب کیے، خارجہ پالیسی پر ایوان کا خصوصی اجلاس بلانے کی تجویز مناسب ہے، بجٹ اجلاس کے بعد خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے اجلاس بلا لیا جائے، موجودہ حکومت نے معاشی سفارت کاری کا آغاز کیا ہے،ہم چاہتے ہیں افغانستان مضبوط ہو ،افغانستان ہماری ترجیح ہے،انکےساتھ مذہبی ،ثقافتی رشتہ ہے ،دوحہ میں چند ہفتوں میں سمٹ ہونےجارہی ہے،اس سمٹ میں افغانستان اورہم بھی ہوں گے،ہم چاہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کوووٹ کاحق ملے،ایسانہیں ہوسکتاکوئی میانوالی،پشاورمیں جاکرووٹ کرے ،اوورسیز چاہتے ہیں کہ ان کی چندسیٹوں کی نمائندگی ہونی چاہئے،

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

  • وسائل میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے گی، وفاقی وزیر خزانہ

    وسائل میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے گی، وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ مہنگائی میں مزید کمی اور صنعتوں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اونگزیب کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ نے بجٹ بحث کے دوران مثبت تجاویز دیں، جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے، حکومت نے بجٹ نکات پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے، جس میں زراعت، تعلیم، اور صحت حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں،زراعت تعلیم اور صحت کے شعبے حکومت کے لیے اہم ہیں خیراتی ہسپتال کو سیلز ٹیکس سے استثنا پر غور کررہے ہیں جو دکاندار ایف بی آر کی تاجر دوست اسکیم کا حصہ نہیں بنتے ان کے خلاف سخت کاروائی ہوگی،ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے حکومت اقدامات کررہی ہے،ٹیکس اصلاحات کے ذریعے ٹیکس کا دائرہ کار بڑھارہے ہیں وقت آگیا ہے تاجر دوست اسکیم کا حصہ نہ بننے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے،قیمتوں میں بگاڑ پیدا کرنے والی سبسڈی کا خاتمہ کیا جائے گا،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کے اگلے پروگرام کے لیے پیش رفت کررہی ہے اور کوشش ہے کہ اگلا پروگرام پاکستان کے لیے آخری پروگرام ہو، مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے، ہمیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دینا ہوگا،وفاقی بجٹ کا مقصد مالی خسارے کو کم کرنا ہے، بجٹ میں ان تجاویز کو اہمیت دی گئی ہے جس کے تحت حکومت وسائل میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے گی، وفاقی حکومت کےحجم کو کم کرنے اور وسائل کے ضیاع کو کم کرنے کے اقدامات فوری طور پر کیے جائیں گے،وزیراعظم کی ہدایت پر رواں مالی سال کی طرح اگلے مالی سال میں بھی سرکاری اداروں میں سادگی اور کفایت شعاری کی پالیسی جاری رہے گی،وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مالی استحکام کی کوششیں جاری رکھے گی، حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر ملک کے مجموعی مالی وسائل میں اضافے کی خواہش مند ہے، اس سلسلے میں وفاقی اخراجات کی شیئرنگ پر بھی بات چیت جاری ہے، وفاقی حکومت کے بجٹ میں توازن کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومتیں قومی نوعیت کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈالیں، تمام ورائے اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس معاملے میں بات چیت کو آگے بڑھایا۔

    حکومت معاشی و اقتصادی بحالی میں قومی اتفاق رائے کو نہایت اہمیت دیتی ہے،وزیر خزانہ
    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ دفاعی بجٹ کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں کہ مسلح افواج ہر وقت قوم و ملک کی حفاظت اور دفاع کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے، ہمیں اپنی افواج کی کارکردگی اور قربانیوں پر فخر ہے، نیشنل سکیورٹی اہم ترین ترجیح ہے، تمام تر مالی مشکلات کے باوجود حکومت ملکی دفاع کے لیے تمام ضروری وسائل کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے اس میں کسی بھی رکاوٹ کو آڑے نہیں آنے دے گی،ارکان سینیٹ و قومی اسمبلی نے سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات پر زور دیا ہے، جس کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات کررہی ہے اور اس میں سرفہرست سی پیک فیز ٹو پر عمل درآمد کروانا ہے۔ حکومت چینی ماہرین کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات کررہی ہے۔ حکومت جامع منصوبے کے ذریعے اس بات کو یقینی بنائے گی کہ سازشی عناصر کا قلعہ قمع کیا جا سکے جو پاک چین تعلقات کو ٹھیس پہنچانا چاہتے ہیں، وزیراعظم اور ایس آئی ایف سی کی بدولت سعودی عرب، امارات اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آ رہی ہے اور مستقبل قریب میں اس حوالے سے اچھی خبریں سامنے آئیں گی،مہنگائی میں مزید کمی لانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت نے پہلے ہی کئی اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی کم اور افرط زر 38 سے کم ہوکر 11.8 تک آ چکی ہے۔ حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ مہنگائی کم سے کم ہو اور عوام کو اس کا فائدہ حاصل ہو۔ کچھ ارکان نے صنعتی شعبے کو سہولیات فراہمی پر بھی زور دیا، اس سلسلے میں وزیراعظم نے صنعتوں کے لیے بجلی کے ٹیرف میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ پالیسی ریٹ اور بجلی کی قیمت میں کمی سے صنعتی شعبے کو مدد ملے گی، بجٹ میں جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ 81 فی صد وسائل ایسے ہی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں تاکہ معیشت کو بروقت فائدہ حاصل ہو سکے، حکومتی ترجیحات میں سے ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بھی ہے، جسے فروغ دینے کے اقدامات کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ 1500 ارب میں سے 350 ارب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے لیے مختص کیے گئے ہیں،میں ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا کہ حکومت معاشی و اقتصادی بحالی میں قومی اتفاق رائے کو نہایت اہمیت دیتی ہے، اس کے لیے ہم سب کو ہرممکن تعاون جاری رکھنا ہوگا تاکہ پاکستان کو اس کا کھویا ہوا مقام ایک بار پھر واپس دلوا سکیں

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • آصفہ بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دے دیا

    آصفہ بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دے دیا

    اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے عوام دشمن قرار دے دیا۔

    قومی اسمبلی میں اپنا پہلا خطاب کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری کا کہناتھاکہ اس ایوان کا حصہ بننے پر فخر محسوس کرتی ہوں، اس وقت ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ مہنگائی اور بیروزگاری ہےپوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا یہ بجٹ عوامی امنگوں کے مطابق ہے؟ کسانوں، مزدوروں، غریبوں کے لیے اس بجٹ میں کچھ نہیں، نئے سال کا بجٹ عوام کی نمائندگی نہیں کرتا، بجٹ کی ترجیحات میں کسان، عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے تھا، کیا پاکستان کے لوگ اس عوام دشمن بجٹ کے مستحق ہیں؟ہمیں عام آدمی کے ریلیف کے لیے آگے بڑھنا ہوگا، ہمیں کسان کو مضبوط کرنا ہوگا، کسان کو کبھی سیلاب، کبھی گندم درآمد کا مسئلہ ہے ہمیں ملک کے غریب ترین شہریوں کوسہولیات فراہم کرنا ہوں گی، ہمیں پاکستان اور قوم کی خوشحالی کےلیےکام کرنا ہوگا۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ جذباتی لمحات ہیں کہ وہ اس ایوان سے خطاب کر رہی ہیں جس کا حصہ نانا نانی دادا والدین اور بھائی بھی رہے ہیں۔ہ وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، صدرآصف علی زرداری پارٹی کی سینیر قیادت اور خاص طور پر نواب شاہ کے پی پی کے جیالوں اور جیالیوں کی شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے عوام کی ترجمانی کرنے موقع فراہم کیا۔ اس وقت ہم ایک مرتبہ پھرچیلنجنگ حالات میں ہیں۔ حکومت اس سال کا بجٹ ایسے وقت میں پیش کر رہی ہے کہ ہم بدترین بیروزگاری افراط زر، غربت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہم سب اس شاندار ملک کے شہری ہیں اور ہمیں اس بجٹ سے بہت سی امیدیں تھیں۔ہم ایسا بجٹ کی امید کر رہے تھے کہ پاکستان کے عوام کی ضروریات کے مطابق ہوگا اور اس بجٹ میں ہمارے کسانوں، مزدوروں اور محنت کشوں کی فلاح و بہبود ہوگی۔ ہمیں ایسے بجٹ کی ضرورت تھی جو بڑی کارپوریشنوں کو فائدہ نہ پہنچائیں اور جس کی قیمت ہمارے معاشرے کے غریب لوگ ادا نہ کریں۔ ہم ایسے بجٹ کی توقع کر رے تھے جس میں سبسیڈیز غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور محنت کشوں کو دیکھ کر انہیں ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ ایک ایسے بجٹ کی ضرورت تھی کہ جو امیر کو اور امیر اور غریب کو اور غریب نہ بنائے۔ ہمیں ایک ایسے بجٹ کی ضرورت تھی جس میں غریب اور امیر کے درمیان فرق کم ہوتا۔ بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اسپیکر سے پوچھا کہ جو بجٹ ان کے سامنے ہے کیا وہ یہ سارے مقاصد پورے کرتے ہے؟ اور کیا پاکستان کے عوام اس بجٹ کے مستحق ہیں۔ پاکستان کے عوام اس سے بہتر بجٹ کے مستحق ہیں اور ہم سب کو متحد ہو کر اپنے شہریوں کے لئے بہتری کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے حالی ہی میں خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان نے اتحاد کے بارے بات کی۔ یہی اس وقت کی ضرورت ہے کہ اس وقت تقسیم کرنے والی سیاست سے ہماری قوم کو خطرہ ہے۔ ہم اپنے نظریات اپنے اصولوں اور اپنے اعمال میں تقسیم ہیں اور مخالفت کو ہتھیار بنا رہے ہیں اور اپنے اختلافات کو تشدد سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں منتخب نمائندوں کی حیثیت سے تمام چیزوں سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ برداشت اور تسلیم کرنے جیسے الفاظ صرف تقریروں تک محدود نہیں رہنے چاہیے بلکہ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ ہم نے ایک ہو کر تقسیم کی سیاست کو مسترد کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنا ہوگااور عوام کے لئے عوام کی ضروریات کے مطابق پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ ہم سب نے ایک ساتھ مل کر اپنے عوام کو ریلیف دینے کے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے کیونکہ عوام اس شدید گرمی میں 15-15 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ برداشت کر رہے ہیں۔ اس شدید گرمی میں 15 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تشدد کے مترادف ہے۔ ہمارا کسان مشکل سے فصل اگاتا ہے اور اسے سیلاب میں گنوا دیتا ہے اور جب اس فصل آتی ہے تو اسے فصلوں کے خریدار نہیں ملتے۔ ہمیں اپنے کسان کو مضبوط بنانا ہوگا جو سیلابوں، طوفانوں اور گندم درآمد کرنے جیسے فیصلوں کا سامان کر رہا ہے۔ ہمیں اپنے متوسط طبقے کی مدد کرنے کے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے جنہیں نوکریوں کا تحفظ بھی نہیں ہے۔ ہمیں اپنے انسانی وسائل کو ترقی دینا ہوگی اور سب سے غریب طبقات کو براہ راست ریلیف مہیا کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی ہم اپنے عوام کی جانب سے منتخب کرنے کا جواز حاصل کر سکیں گے۔ بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ سیاست کے ایک نئے دور کی ابتداءدیکھیں گی جس میں سب ایک ساتھ مل کر اس ملک اور اس کے شہریوں کی خوشحالی اور ترقی کے لئے کام کر یں گے۔

    پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے بینظیر بھٹو کے قتل پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا۔قومی اسمبلی میں کہا کہ جو بھی حکومت آتی ہے وہ کرنے والا کام نہیں کرتی، شازیہ مری کی تمام باتوں سے متفق ہوں، فوج اور سکیورٹی اداروں کے بغیر آپ کچھ نہیں ہیں 16جون 1948ء کو قائداعظم نے فوجی افسروں سے کہا پالیسیاں بنانا آپ کا کام نہیں، عوام نے لیاقت علی خان کو چنا، کیوں اسے چن دیا گیا، قوم کو بے نظیربھٹو کے قاتلوں کا اصل چہرہ دکھایا جائے۔

  • ثناءاللہ مستی خیل کی اسمبلی رکنیت معطل

    ثناءاللہ مستی خیل کی اسمبلی رکنیت معطل

    اسلام آباد: سنی اتحاد کونسل کے رکن قومی اسمبلی ثناءاللہ مستی خیل کی جانب سے غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال کرنے پر انہیں بجٹ سیشن تک معطل کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ثناء اللہ مستی خیل نے اپنے خطاب کے دوران خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’خواجہ صاحب ہم عوام کا ووٹ لے کر آتے، ٭٭٭٭ چُک کر نہیں آتے،ڈپٹی اسپیکر نے ثناء اللہ مستی خیل کے نامناسب الفاظ حذف کروا دئے،لیکن خواتین ارکان شکایت کیلئے اسپیکر کے چیمبر پہنچ گئیں، جہاں انہوں نےاسپیکر کے سامنے یہ مطالبہ کیا کہ ثناءاللہ مستی خیل کو فوری معطل کیا جائے-

    حکومتی خواتین نے مطالبہ کیا کہ ثناء اللہ مستی خیل کو مکمل سیشن کیلئے معطل کیا جائے، جبکہ اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ ثناء اللہ مستی خیل کو دو روز کیلئے معطل کیا جائےم حکومتی خواتین ارکان کا احتجاج رنگ لے آیا اور اسپیکر نے ثناء اللہ مستی خیل کو معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا،کچھ دیر بعد قومی اسمبلی اجلاس میں معطلی کی قرارداد پیش کی گئی اور انہیں بجٹ سیشن تک معطل کردیا گیا۔