Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح دس بجے طلب

    قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح دس بجے طلب

    قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا گیا،

    قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 10 بجے طلب کر لیا گیا،قومی اسمبلی اجلاس قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے طلب کرلیا ،قومی اسمبلی اجلاس آرٹیکل 91 کی سب کلاز 2 کے تحت طلب کرلیا گیا ،شام 5 بجے تک صدر مملکت کے احکامات کا انتظار کیا گیا، قومی اسمبلی کا اجلاس صدر کی جانب سے طلب نہ کیے جانے پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے طلب کرلیا ،قومی اسمبلی اجلاس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا،
    qomi

    قومی اسمبلی اجلاس میں نو منتخب اراکین حلف اٹھائیں گے، اسپیکر راجہ پرویز اشرف حلف لیں گے،یکم مارچ کواسپیکر اور ڈپٹی ا سپیکر کے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائیں گے، 2مارچ کوا سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگا، 3مارچ کو وزیراعظم کے انتخاب کیلئے امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کروائیں گے،4مارچ کو قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کا انتخاب ڈویژن کے ذریعے کرے گی،مسلم لیگ ن نے ایاز صادق کو سپیکر کا امیدوار نامزدکر رکھا ہے

    دوسری جانب نگراں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ اور قومی اسمبلی ہال کا دورہ کیا، وفاقی وزیر نے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے انتظامات کا جائزہ لیا،قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے حکام نے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے متعلق انتظامات کے بارے میں نگراں وفاقی وزیر کو بریفنگ دی،نومنتخب اراکین قومی اسمبلی کی سہولت کے لئے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں ،نومنتخب اراکین کو اسمبلی ہال تک رسائی کے لئے خصوصی پاس جاری کئے جائیں گے، اراکین کے لئے اسمبلی ہال میں نشستوں کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات نے پارلیمنٹ ہاﺅس میں قائم فیسلی ٹیشن سینٹر کا دورہ بھی کیا اور وہاں موجود عملہ سے ملاقات کی.اس موقع پر وفاقی وزیر کو فیسلی ٹیشن سینٹر کے امور اور نومنتخب اراکین اسمبلی کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق بریفنگ دی گئی

    قومی اسمبلی کااجلاس طلب کرنے کے معاملے پر وفاقی حکومت نے صدرمملکت کے اعتراضات کا جواب دیدیا

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • خواہش ہے ہر اسمبلی،وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے،نواز شریف

    خواہش ہے ہر اسمبلی،وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے،نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے،شہباز شریف اور اسحاق ڈار نواز شریف کے ہمراہ تھے

    اس موقع پر صحافیوں نے نواز شریف سے سوال کیا جس پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت اکانومی کو ٹھیک کرےگی، خواہش ہے ہر اسمبلی اپنی مدت پوری کرے ہر سینیٹ اپنی مدت پوری کرے، وزیر اعظم اپنی مدت پوری کرے، انشاءاللہ یہ حکومت معیشت کو ٹھیک کرے گی، معیشت سے ساری معاملات جڑے ہوئے ہیں، سیاسی عدم استحکام کی کوئی بات نہیں ہے، انشاءاللہ حکومت معیشت کو ٹھیک کرے گی تو سب ٹھیک ہوگا،

    پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شروع ہو گیا،اجلاس کے آغاز پر قائد مسلم لیگ ن کی آمد پر ارکان نے پرتپاک استقبال کیا،شہباز شریف تمام ارکان کو فردا فردا سب سے ملے ،اجلاس کی صدارت نواز شریف اور شہباز شریف کررہے ہیں ،اجلاس میں مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی اور سینیٹ ارکان شریک ہیں،پارلیمانی پارٹی اجلاس میں مسلم لیگ ن کے تقریبا 100 سے زائد ارکان شریک ہیں،نومنتخب ارکان نے پارٹی قیادت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،پارلیمانی پارٹی نےملک کو مشکلات سے نکالنے میں قیادت کا ہر قدم پر ساتھ دینے کا عزم کیا،

    وزیر اعظم شہباز شریف ،اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ہوں گے، نواز شریف کا اعلان
    نواز شریف نے وزیرِ اعظم کے لئے شہباز شریف کا نام پارلیمانی پارٹی کے سامنے رکھ دیا،پارلیمانی پارٹی نے شہباز شریف کے نام کی توثیق کر دی،سپیکر قومی اسمبلی کے لئے نواز شریف نے ایاز صادق کا نام دے دیا،پارلیمانی پارٹی نے قیادت کے فیصلے پر مکمل اعتماد کا اظہار کر دیا،وفاقی کابینہ کی تشکیل سمیت تمام فیصلوں کا اختیار پارٹی قیادت کو سونپ دیا گیا ،پارلیمانی پارٹی نے ملک کی بہتری ،عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی .جمہوریت کی بالادستی ،پارلیمان کے استحکام کے لئے کردار ادا کے کا عزم کیا گیا، ملک اور قوم کو ملکر مشکلات سے نکالنے کے عزم کا اعادہ کیا،

    پاکستان کو تبدیلی کی نہیں تعمیری سیاست کی ضرورت ہے،نواز شریف
    نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ نے پہلے بھی ملک اور قوم کی بہتری کے لئے کام کیا ،پاکستان کو بھنور سے نکالنے کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،شہباز شریف کی قیادت میں ملک کو واپس پٹڑی پر چڑھائیں گے ،تبدیلی لانے والوں نے ملک کا بیڑہ غرق کیا،اسے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہو گا ،ملک اب مزید کسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا ،پاکستان کو انتشار کی نہیں،اتحاد کی ضرورت ہے ،پاکستان کو تبدیلی کی نہیں تعمیری سیاست کی ضرورت ہے،نومنتخب ارکان اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،بھرپور مقابلے کے بعد آپ لوگ یہاں پہنچے ہیں ،
    ہمارے ارکان بہت سخت لڑائی لڑ کر قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں،بانی پی ٹی آئی جب گرے تو میں سب سے پہلے اسپتال پہنچا،ملک کے وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا،ایسے لگتا تھا جیسے غصے میں مجھے نااہل کیا گیا،قوم آج جو دن دیکھ رہی ہے وہ اسی فیصلے کا نتیجہ ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار نے میرے خلاف فیصلے دیئے، کہاں ہے وہ آج ؟ ثاقب نثار کے بیٹے کس کی ٹکٹ کیلئے پیسے وصول کررہے تھے ،وہ جج جہاں ہیں جنہوں نے ہمیں سسلین مافیا کہا،ہم نے کیا بگاڑا تھا ہمارے خلاف اتنا غصہ کیوں تھا ،اس سارے کھیل میں اور بھی پلیئر تھے ،مجھے جن ججوں نے فارغ کیا عوام کو پتہ چل گیا کہ انہوں نے کس لئے مجھے نکالا ،مجھے ہٹانے سے نہ میرا نقصان ہوا تھا اور نہ ہی میری پارٹی کا نقصان ہوا تھ تو صرف پاکستان کا ہوا تھا،

    آنے والے ڈیڑھ 2 سال تھوڑے مشکل،مجھے یقین ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے،نواز شریف
    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ دھرنے ہوتے رہے اور ہم بجلی کے کار خانے لگاتے رہے۔2013 میں وزیراعظم بنا تو بنی گالہ عمران خان کے گھر گیا اور کہا کہ سیاسی قوتوں کو مل کر چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔مگر چند ہفتے بعد لندن میں میٹنگ کرکے طے کیا کہ دھرنے ہوں گے،2017 میں لگ رہا تھا کہ مسلم لیگ ن دوبارہ الیکشن جیتے گی۔ساری سیاسی جماعتوں کو سیاسی ایجنڈے کے تحت کام کرنا چاہئے۔قوم کے بچوں کو تو بدتمیزی اور بدتہذیبی نا سکھاو،ملک کے وزیراعظم کی یہ زبان ہوتی ہے؟4سال میں آپ نے کیا کیا کون سا منصوبہ لگایا۔ عمران خان کے کسی بھی الزام سے نہ ڈرنا چاہیے نہ گھبرانا چاہئے کیونکہ اس نے ہمیشہ ایسے ہی رونا ہے کہ میرے ساتھ دھاندلی ہو گئی ،آپ کچھ بھی کر لیں جب بھی آپ جیتیں گے انکا رویہ ایسا ہی ہوگا۔پاکستان کے ہر بڑے منصوبے پر مسلم لیگ ن کی مُہر لگی ہوئی ہے اگر کسی اور نے کوئی منصوبے لگائے ہیں تو سامنے آئیں ہم تسلیم کریں گے،ہم نے پہلے بھی ڈیلیور کیا اب بھی ڈیلیور کریں گے۔میں تو شہباز شریف صاحب کو داد دیتا ہوں پچھلے 16 ماہ میں جس قدر مسائل تھے یہ انہی کا کام ہے جو ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا گئے، آنے والے ڈیڑھ 2 سال تھوڑے مشکل ہوں گے ہم نے ایک ساتھ رہ کر کام کرنا ہے،مجھے یقین ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے،ہم نے مل کر زخم بھرنے ہیں پاکستان اس وقت بہت زخمی ہے اس سے پہلے میں نے اتنا زخمی پاکستان نہیں دیکھا،ہم نے روپے کی قیمت کو کم کرنا ہے، بجلی اور گیس کے بل کم کرنے ہیں،اگر ہم ایک سوچے سمجھے منصوبے کیساتھ چلیں گے تو یقیناً ہم کامیاب ہو جائیں گے

    نو مئی والوں نے ملک کادیوالیہ نکال دیا تھا ،شہباز شریف
    ن لیگ کے صدر شہباز شریف نےبڑے بھائی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پارٹی نے جب بھی جو زمہ داری احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کی پی ڈی ایم حکومت میں بھی ملک کو مشکلات سے نکالا ،نو مئی والوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا تھا ،پی ڈی ایم حکومت نے انتہائی جانفشانی سے ملک کے لئے کام کیا ، پاکستان کو واپس اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے،سب کو محنت کرنا ہو گی،ن لیگ ،نواز شریف کی قیادت میں آپ کی بہت بڑی کامیابی ہے ،ہمارے ارکان اسمبلی اپنے بل بوتے پر جیت کر آئے،جو آزاد اراکین پارٹی میں شامل ہوئے انہیں خوش آمدید کہتا ہوں ،نواز شریف نے کراچی کا امن بحال کیا، آزاد اراکین کی قوت کے ساتھ ہماری تعداد 104 ہوگئی ہے،سی پیک کے منصوبے لیکر آئے اس کی پوری قوم گواہ ہے ،7 ہزار میگا واٹ بجلی قوم کو مہیا کی، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ،چاروں صوبوں کو موٹرویز کے ذریعے جوڑا،بھٹو کو پھانسی ہوئی، بے نظیر شہید ہوئیں، مگر کسی نے جی ایچ کیو کی طرف نہیں دیکھا، جب نواز شریف بیمار ہوئے تو غلیظ زبان استعمال کی گئی مگر انہوں نے صبر کیا،

    آرٹیکل 6 کی کاروائی صدر کے خلاف ہونی چاہیے ،خواجہ آصف
    پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ اور فیض ہم سے قانون سازی کرواتے تھے ،اس ماحول میں کیا ہو سکتا تھا ،اس وقت کا بگاڑ ہم بھگت رہے ہیں،اداروں سے اختلافات نہیں کرنا چاہیے، صدر اس ادارے سے اختلاف کر رہا ہے ،آرٹیکل 6 کی کاروائی صدر کے خلاف ہونی چاہیے ،دو بار آئین کی خلاف ورزی کی گئی،پاکستان کا پاور اسٹرکچر کو مل کر بیٹھنا چاہیے کوئی حل نکالنا چاہیے ،اپنی ذاتی انا کو پس پشت ڈالنا چاہیے.

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کی صدارت ہمارے قائد نواز شریف نے کی، نواز شریف نے باضابطہ شہباز شریف بطور وزیراعظم اور ایاز صادق کو اسپیکر نامزد کیا،نوازشریف کی پارٹی اور ملک کے لئے خدمات ہیں جن پر خراج تحسین پیش کیا گیا،شہباز شریف کو ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے پر خراج تحسین پیش کیا گیا،ہم نے جوعوام کی فلاح و بہبود کے لئے ترقیاتی کام کئے اس پر پارلیمانی پارٹی میں روشنی ڈالی، پارٹی جو ذمہ داریاں دے گی ان کو نبھاؤں گا،اتحادیوں جماعتوں کے ساتھ آج شام کو مشترکہ پارلیمانی میٹنگ ہے، مشترکہ اجلاس اور عشائیہ پنجاب ہاوس میں ہوگا،

    وزیراعلیٰ مریم نواز کی پنجاب اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب سے ملاقات

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    مریم نواز کی غیر آئینی ’سلیکشن‘ سے صوبے میں استحکام نہیں آئے گا،بیر سٹر گوہر

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

  • نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 فروری  کو طلب

    نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 فروری کو طلب

    اسلام آباد: نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 فروری کو طلب کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے 29 فروری کو قومی اسمبلی اجلاس کا وقت مقرر کر دیا اور اجلاس صبح دس بجے ہو گا، آئین کے آرٹیکل 91 کےتحت انتخابات کے 21 ویں روز قومی اسمبلی کااجلاس ہونا لازم ہےحکام قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطا بق صدر اجلاس 21ویں روز سے قبل بلا سکتے ہیں مگر انہوں نےنہیں بلایا، 21 ویں روز اجلاس ہونا لازم، صدر یا اسپیکر کے نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں۔

    واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی سمری مسترد کرکے واپس بھیج دی تھی، عارف علوی نے موقف اختیارکیا کہ پہلےخواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کو مکمل کیا جائے، صدر کے فیصلے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں قومی اسمبلی میں ہنگامی اجلاس بلانےکا فیصلہ کیا تھا۔

    نگران وزیراعظم نے تمام سرکاری کام روکتے ہوئے سمریاں واپس بھیج دیں

    وفاقی وزیرتعلیم و تربیت مستعفی

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

  • صدر کی جانب سے سمری مسترد،سپیکر نے 29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا

    صدر کی جانب سے سمری مسترد،سپیکر نے 29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا

    صدر کی جانب سے سمری مسترد ہونے کے بعدقومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری صبح دس بجے بلا لیا گیا

    قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ سپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت اجلاس میں ہوا،قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 91 شق دو کے تحت کیا گیا

    قبل ازیں 16 ویں قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کی طلبی ، صدر نے سمری مسترد کردی ،صدر مملکت نے سمری واپس بھجوا دی ہے، صدر کے مطابق پہلے خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کو مکمل کیا جائے.صدر عارف علوی کو 5 دن پہلے وزارتِ پارلیمانی امور نے سمری بھیجی تھی،صدر کا کہنا تھا کہ ایوان ابھی مکمل نہیں، کچھ مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہونا باقی ہے

    قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس 29 فروری کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،آئین کے آرٹیکل 91 کی کلاز ٹو کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اعلی افسران اور آئینی ماہرین سے مشاورت کی،صدر مملکت ڈاکٹر علوی کی جانب سے سمری پر دستخط نہ کرنے سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا ،آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کے سمری پر دستخط نہ کرنے سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں طلبی میں کوئی رکاوٹ نہیں ،صدر کا اختیار اکیسویں دن سے پہلے اجلاس طلب کرنے کا ہے ۔ آئین کے مطابق ہر صورت انتخابات کے 21 روز بعد قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس منعقد ہونا ہے ۔صدر کے سمری مسترد کرنے کے باوجود قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو ہوگا ،

    نئی قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کا معاملہ،صدر کے اجلاس نہ بلانے کی صورت میں متبادل پلان تیار کر لیا گیا،نگران حکومت اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے تیاری مکمل کرلی ،صدر 29 فروری تک اجلاس نہیں بلاتے تو بھی اجلاس 29 کو ہی ہوگا،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اجلاس کی طلبی کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا،سپیکر قومی اسمبلی کو اس حوالے سے نگراں وزیراعظم کی طرف سے سمری بھی بھجوائی جاسکتی ہے،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا شعبہ قانون سازی اس بارے آج سپیکر کو بریفنگ بھی دے گا

    آئین کے آرٹیکل 91 کی شق دو کے تحت 29 فروری تک اجلاس ہونا آئینی تقاضا ہے ،صدر اکیس دن میں اجلاس نہ بلا کرآئینی خلاف ورزی کے مرتکب ہونگے،آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ صدر نئی قومی اسمبلی کے اجلاس کی سمری روک سکتا ہے ،صدر مخصوص نشستوں کو بنیاد بنا کر بھی اجلاس نہیں روک سکتا،پنجاب اور سندھ اسمبلی کے اجلاس بلائے جاچکے ہیں گورنرز نے ایسی کوئی شرط نہیں لگائی،حکومت آئینی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہوسکتی

    دوسری جانب مسلم لیگ ن سینیٹر اور سینیئر رہنما اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ صدر عارف علوی نے سمری پر قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا تو 29 فروری کو اسپیکر آئین کے مطابق خود اجلاس بلاسکتا ہے، آئین میں واضح ہےکہ 21ویں روز اسپیکر کو اجلاس بلانے کا اختیار ہے، 21دن کی آئینی مہلت کے حساب سے 29فروری آخری تاریخ بنتی ہے۔

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق انتخابات کے 21 روز کے اندر اجلاس بلایا جانا لازم ہے، 21 روز 29فروری کو مکمل ہونا ہیں۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے پنجاب اسمبلی میں میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے وقت پر اجلاس بلوانا ہوتا ہے، آئین سے روگردانی کی ہے صدر نے،اگر صدر نے اجلاس نہیں بلانا تو 21 ویں روز تو اجلاس ہونا ہی ہونا ہے ، آپ ملک کے صدر ہیں سیاسی جماعت کے نہیں ،نامکمل اسمبلی کا تصور آئین میں نہیں ہے،جب استعفی دے کر گئے تھے تب بھی اسمبلی کی کاروائی ہوئی، صدر کے پاس کافی لوگ ہیں مشورہ دینے والے, اس لیے اس حال تک پہنچے ہیں،

    صدر آئین کا احترام نہ کرکے اپنی میراث تباہ کر رہے،صدارتی منصب چھوڑ دیں،شازیہ مری
    پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی سیکریٹری اطلاعات،سابق وفاقی وزیر شازیہ مری کا کہنا ہے کہ صدر کا قومی اسمبلی اجلاس نہ بلانا آئینی عمل سے انحراف ہے،صدر آئین کا احترام نہ کرکے اپنی میراث تباہ کر رہے ہیں، وہ آئین پر عمل کریں یا صدارتی منصب چھوڑ دیں، آمر ضیاء نے آئین سے جو شق نکالی اسے جمہوری حکومت نے بحال کیا، ضیاء نےالیکشن کے 30 دن پورے ہونے تک اجلاس بلانے کی شق ہی نکال دی تھی،18ویں آئینی ترمیم کے تحت صدر 21 دن کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں آج پھر صدر عارف علوی آمر ضیاء کی سوچ پر عمل پیرا ہوکر آئین سے کھلواڑ کر رہے ہیں،صدر آئینی بحران پیدا کرکے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں

    پنجاب اسمبلی اجلاس، اراکین پہنچ گئے

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • قومی  اسمبلی ، افتتاحی  اجلا س کیلئے نئے  پریس گیلری کارڈز جاری کئے جائیں گے

    قومی اسمبلی ، افتتاحی اجلا س کیلئے نئے پریس گیلری کارڈز جاری کئے جائیں گے

    16ویں قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلا س کیلئے نئے پریس گیلری کارڈز جاری کئے جائیں گے ۔

    16ویں قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر اور قائد ایوان کے انتخابات کیلئے منعقد ہونے والے اجلاس کیلئے میڈیا کے نمائندوں کیلئے نئے پریس گیلری کارڈ جاری کئے جائیں گے ، پریس گیلری کیلئے جاری کئے گئے پرانے کارڈ منسوخ ہو چکے ہیں ،لہذا پرانے کارڈ پر پارلیمنٹ ہاوس میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی، میڈیا کے نمائندوں سے گزارش ہے کہ وہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے اپنے نئے کارڈ کے اجرا کیلئے رابطہ کریں ۔ پریس گیلری میں صرف نئے کارڈ کے حامل میڈیا کے نمائندوں کو داخلے کی اجازت ہو گی ۔

    پریس گیلری میں محدود نشستیں موجود ہیں لہذا کسی بد نظمی سے بچنے اور سیکورٹی ایشو ز کے پیش نظر پریس گیلری میں موجود نشستوں کے مطابق کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ تمام میڈیا نمائندوں سے درخوست ہے کہ وہ پارلیمنٹ ہاوس میں داخلےکے موقع پر اپنے کارڈ اویزاں رکھیں اور سیکورٹی پر مامور عملے سے تعاون کریں ۔

    پنجاب اسمبلی اجلاس، اراکین پہنچ گئے

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں نو منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی کی سہولت کے لیے کمیٹی روم نمبر 2 میں سہولت سینٹر قائم کر دیا گیا ہے، فیسیلیٹیشن سینٹر میں نو منتخب معزز ممبران کی رجسٹریشن کے علاؤہ کارڈز اور دیگر ضروری دستاویزات کے لیے فوٹو بنائے جائیں گے ،فیسیلیٹیشن سینٹر 22 فروری سے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس تک صبح 10 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک نو منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی کی رجسٹریشن کیلئے خدمات سر انجام دیتا رہے گا،نو منتخب معزز ممبران سے درخواست ہے کہ وہ رجسٹریشن کے سلسلے میں کسی دشواری سے بچنے کیلئے 22 فروری سے اپنی رجسٹریشن کیلئے تشریف لائیں،نو منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی رجسٹریشن کے لیے اپنے قومی شناختی کارڈ سمیت دیگر ضروری دستاویزات ہمراہ رکھیں،

  • مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ ہوں گے، بلاول نے اعلان کر دیا

    مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ ہوں گے، بلاول نے اعلان کر دیا

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مراد علی شاہ وزیر اعلٰی سندھ کا عہدہ سنبھالیں گے

    بلاول زرداری کاکہنا تھا کہ اسپیکر اویس قادر شاہ جبکہ انتھونی نوید ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی ہوں گے،ہم صرف عوام کی طرف دیکھتے ہیں،پیپلز پارٹی نے سندھ میں تاریخی کامیابی حاصل کی،پیپلز پارٹی نے گزشتہ دور حکومت میں کافی کامیابیاں حاصل کی اب ہم اس سلسلے کو مزید بڑھائیں گے،ہم صوبے یا وفاق میں بیٹھ کر فنڈنگ کا بندوبست کر سکتے ہیں، ٹیچر ٹریننگ پروگرام سے بہتری لے کر آنی ہے،ہم عوام کے لئے کام کریں گے، خدمت کی سیاست ہمارا مشن ہے، تعلیمی اداروں میں طلبا کو سہولیات دیں گے، اساتذہ کو بھی سہولیات ملیں گی،پاکستان کے عوام کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہو گا، اس وقت مہنگائی، بے روزگاری کی وجہ سے عوام مشکل میں ہیں.پاکستان میں خدمت کی نئی سیاست کا آغاز ہوگا، باقی صوبوں کےمقابلے میں سندھ کی کارکردگی بہتر رہی،صوبہ بلوچستان سے آپ کا مقابلہ ہوگا، امید ہےکہ مقابلے میں کارکردگی بہتر رہے گی،سندھ کے عوام کی تو قعات ہم سے بڑھ گئی ہیں،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سے وزارت مانگی نہ حکومت کا حصہ بنیں گے،کرپشن روکنے کیلئے بہت سختی کرنا ہوگی ،عوام نے ہمیں کامیاب کرایا اب سب سے زیادہ کام کرنا ہے،

    دوسری جانب چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے این اے 196 کی نشست قمبر شہدادکوٹ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا, بی بی آصفہ بھٹو زرداری ضمنی الیکشن میں این اے 196 قمبر شہداد کوٹ سے امیدوار ہوں گی.

    بلاول بھٹو کا اپنے خلاف دھاندلی کا الزام لگانے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کا فیصلہ

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

  • قومی وصوبائی پر جیتنے والے ن لیگی رہنماؤں کو  مریم کے علاوہ صوبائی سیٹ چھوڑنے کی ہدایت

    قومی وصوبائی پر جیتنے والے ن لیگی رہنماؤں کو مریم کے علاوہ صوبائی سیٹ چھوڑنے کی ہدایت

    پنجاب اسمبلی میں واضح اکثریت ملنےکے بعد ن لیگی رہنماؤں کو پنجاب اسمبلی کی سیٹیں چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے

    ن لیگی رہنما جو قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر جیتے تھے انکو کہا گیا ہے کہ وہ پنجاب کی سیٹیں چھوڑ دیں اور قومی اسمبلی کی سیٹیں برقرار رکھیں،پنجاب سے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کو وزیراعلیٰ کےلیے نامز دکیا گیا ہے، مریم نواز پنجاب کی سیٹ نہیں چھوڑیں گی بلکہ قومی کی سیٹ چھوڑیں گی،مریم نواز کے علاوہ ن لیگ کی قیادت جس میں شہباز شریف، حمزہ شہباز و دیگر شامل ہیں وہ صوبائی اسمبلی کی سیٹ چھوڑ دیں گے

    شہباز شریف قصور اور لاہور کی صوبائی نشستیں چھوڑ دیں گے، حمزہ شہباز لاہور کی صوبائی نشست چھوڑیں گے،سردار غلام عباس تلہ گنگ کی صوبائی نشست چھوڑیں گے، رانا تنویر شیخو پورہ کی صوبائی نشست سے دستبردار ہوں گے، احسن اقبال نارووال کی صوبائی نشست چھوڑیں گے، سردار اویس لغاری ڈیرہ غازی خان کی صوبائی نشست چھوڑیں گے.

    ان تمام نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے،ضمنی انتخابات میں ن لیگ دیگر رہنما جو ہارے انکو متوقع طور پر ٹکٹ دے گی.

    ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق ایسے تمام کامیاب امیدواران جو دو یا دو سے زیادہ نشستوں پر کامیاب قرار پائے ہیں، کے لیے لازم ہے کہ وہ کوئی بھی ایک نشست اپنے پاس رکھ سکتے ہیں لہذا آئین کے آرٹیکل (3)223 کے تحت کسی بھی اسمبلی کی نشست لینے سے قبل ما سوائے ایک نشست کے باقی تمام نشستوں سے استعفا دینے کے حوالے سے کامیاب امید وار بذات خود یا اپنے مجاز نما ئندہ جس کی تصدیق اوتھ کمشنر کے ذریعے کی گئی ہو، نشست یا نشستوں سے دستبردار ہونے کی درخواست بنام چیف الیکشن کمشنر ، الیکشن کمیشن پاکستان سیکرٹریٹ اسلام آباد یا صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب، سندھ، خیبر پختونحوا اور بلوچستان کے دفتر میں جمع کرواسکتے ہیں بصورت دیگر آرٹیکل (2) 223 کے تحت 30 دن گزرنے کے بعد تمام نشستیں خالی تصور کی جائیں گی ماسوائے اس نشست کے جس پر امید وار سب سے آخر پر کامیاب قرار پایا ہے۔

    قومی اسمبلی اجلاس 26 سے 28 فروری تک بلانے کی تجویز

    پنجاب اسمبلی اجلاس، اراکین پہنچ گئے

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • قومی اسمبلی اجلاس 26 سے 28 فروری تک بلانے کی تجویز

    قومی اسمبلی اجلاس 26 سے 28 فروری تک بلانے کی تجویز

    عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لئے قومی اسمبلی کے اجلاس کی متوقع تاریخ سامنے آ گئی

    قومی اسمبلی کا اجلاس 26 سے 28 فروری تک بلانے کی تجویز سامنے آئی ہے،قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی تاریخ کے حوالے سے سمری صدرمملکت کوبھیج دی گئی ہے، صدر مملکت قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کریں گے جس میں سپیکر قومی اسمبلی نو منتخب ممبران سے حلف لیں گے، اسکے بعد سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہو گا،

    دوسری جانب اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی تینوں نشستوں پر کامیاب امیدواروں کے نوٹی فکیشن کو بحال کردیا گیا ہے، لیگی امیدواروں انجم عقیل، طارق فضل چوہدری اور راجہ خرم کے نوٹی فکیشن جاری کردیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابی عذر داریوں کی درخواستیں مسترد کردی ہیں،

    پنجاب اسمبلی اجلاس، اراکین پہنچ گئے

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں نو منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی کی سہولت کے لیے کمیٹی روم نمبر 2 میں سہولت سینٹر قائم کر دیا گیا ہے، فیسیلیٹیشن سینٹر میں نو منتخب معزز ممبران کی رجسٹریشن کے علاؤہ کارڈز اور دیگر ضروری دستاویزات کے لیے فوٹو بنائے جائیں گے ،فیسیلیٹیشن سینٹر 22 فروری سے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس تک صبح 10 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک نو منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی کی رجسٹریشن کیلئے خدمات سر انجام دیتا رہے گا،نو منتخب معزز ممبران سے درخواست ہے کہ وہ رجسٹریشن کے سلسلے میں کسی دشواری سے بچنے کیلئے 22 فروری سے اپنی رجسٹریشن کیلئے تشریف لائیں،نو منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی رجسٹریشن کے لیے اپنے قومی شناختی کارڈ سمیت دیگر ضروری دستاویزات ہمراہ رکھیں،

  • قومی اسمبلی میں  ن لیگ  کو 20، پی پی  کو 13  اور ایم کیو ایم کو 5 مخصوص نشستیں ملنے کا امکان

    قومی اسمبلی میں ن لیگ کو 20، پی پی کو 13 اور ایم کیو ایم کو 5 مخصوص نشستیں ملنے کا امکان

    اسلام آباد: قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو 20، پیپلز پارٹی کو 13 اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو 5 مخصوص نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن کے مطابق 13 سیاسی جماعتیں مخصوص نشستوں کی دوڑ سے باہر ہوگئیں، ان سیاسی جماعتوں میں جماعت اسلامی، جے یو آئی ف، تحریک لبیک، اے این پی، آئی پی پی شامل ہیں، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور مسلم لیگ ضیاء بھی مخصوص نشستوں کی فہرست میں موجود نہیں ہوں گی اسی طرح مسلم لیگ ق کو بھی مخصوص نشستوں کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں، پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین، مرکزی مسلم لیگ، نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی بھی مخصوص نشستوں سے محروم رہیں گی-

    اسد قیصر کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 27 مخصوص نشستوں کا مستقبل الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے،دیگر بڑی جماعتوں کی بات کی جائے تو ن لیگ کو قومی اسمبلی میں 16 خواتین، 4 اقلیتی نشستیں اور پیپلز پارٹی کو 11 خواتین، 2 خواتین کی مخصوص نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

    اسد عمر کی عبوری ضمانت خارج

    دھاندلی کے الزامات،سابق کمشنر راولپنڈی نے بیان ریکارڈ کرا دیا

  • قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں نو منتخب اراکین قومی اسمبلی کے لیے سہولت سینٹر قائم

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں نو منتخب اراکین قومی اسمبلی کے لیے سہولت سینٹر قائم

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں نو منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی کے لیے سہولت سینٹر قائم کر دیا گیا ہے

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں نو منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی کی سہولت کے لیے کمیٹی روم نمبر 2 میں سہولت سینٹر قائم کر دیا گیا ہے، فیسیلیٹیشن سینٹر میں نو منتخب معزز ممبران کی رجسٹریشن کے علاؤہ کارڈز اور دیگر ضروری دستاویزات کے لیے فوٹو بنائے جائیں گے ،فیسیلیٹیشن سینٹر 22 فروری سے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس تک صبح 10 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک نو منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی کی رجسٹریشن کیلئے خدمات سر انجام دیتا رہے گا،نو منتخب معزز ممبران سے درخواست ہے کہ وہ رجسٹریشن کے سلسلے میں کسی دشواری سے بچنے کیلئے 22 فروری سے اپنی رجسٹریشن کیلئے تشریف لائیں،نو منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی رجسٹریشن کے لیے اپنے قومی شناختی کارڈ سمیت دیگر ضروری دستاویزات ہمراہ رکھیں،

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سابق رکن اسمبلی کے بیٹے کے ہاتھوں خاتون کی عصمت دری،بنائیں فحش ویڈیو

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    شہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    یونیورسٹی میں فحش ویڈیوز اور مبینہ نشے کی فروخت،عدالت میں درخواست دائر

    کالج کی طالبات نے ساتھی طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل کردیں

    محکمہ صحت لاہور کا کمال،سیمینار کے دوران فحش ویڈیو چل گئی