Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • ہم سب کو سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہو گا۔ راجہ پرویز اشرف

    ہم سب کو سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہو گا۔ راجہ پرویز اشرف

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان ہے اور کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ایوان میں کھڑے ہوکر پاکستان کی سلامتی کے خلاف بات کرے یا پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کرے، فاٹا سے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کیا ہم اپنے ملک میں دہشتگردی کے ناسور کو قبول کر لیں، کیا اس ملک میں ہم باجوڑ جیسے واقعات کو تسلیم کرتے رہیں گے؟ ہماری سکیورٹی فورسز بڑی بہادری کے ساتھ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں اس ملک کو بچانے کے لیے ہم سب کو اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہو گا۔

    رکن قومی اسمبلی محمد ابو بکر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ لوگ غربت سے تنگ ہیں،لوگوں کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں ہے جس کی وجہ سے جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے ہمیں ایسے اقدمات کرنے چاہئیں جن سے غربت کا خاتمہ ہو اور اُن لوگوں کی بہتری ہو جو غربت کی چکی میں پس رہے ہیں ۔

    رکن قومی اسمبلی نصیبہ چنا نے قومی اسمبلی اجلاس میں چائلڈ لیبر کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ چائلڈ لیبر پہ کئے جانے والے سوال کا جواب کب دیا جائے گا؟ دن بہ دن بچوں پہ ظلم کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، چند دن قبل بچی رضوانہ پر ظلم کا واقع پیش آیا،متاثرہ بچوں کو کیوں انصاف فراہم نہیں کیا جاتا،

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    باغی ٹی وی کی ویڈیو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکن قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ کی جانب سے "چیرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ وفاقی عدالتی کارروائی کی خدمت قائم کرنے کے بل [ وفاقی عدالتی کارروائی کی خدمت بل 2023 ] پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی،

    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور
    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب
    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر

  • حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور

    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت نے اپنی مدت کے آخری دنوں میں جاتے جاتے بھی مزید قوانین منظور کرا لیے، ارکان پارلیمنٹ کا مؤقف ہے کہ بلز کی کاپیاں بھی ارکان کو نہیں دی جا رہیں۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہوا، وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے گیس چوری کی روک تھام اور وصولی ترمیمی بل 2023ء منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ بل پر مولانا عبدالاکبر چترالی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گیس چوری میں 80 فی صد ملازمین شامل ہوتے ہیں۔ ان کے خلاف کیا کارروائی کی جا رہی ہے۔ بعد ازاں گیس چوری کی روک تھام اور وصولی ترمیمی بل 2023 ء قومی اسمبلی سے منظور ہوگیا۔

    وفاقی وزیر تخفیفِ غربت شازیہ مری نے زکوٰۃ و عشر ترمیمی بل 2023ء پیش کیا، جسے قومی اسمبلی سے منظور کرلیا گیا۔ علاوہ ازیں ٹریڈ آرگنائزیشن ترمیمی بل 2023 پیش کرنے کی تحریک کثرت رائے سے مسترد کردی گئی۔قومی اسمبلی نے ٹریڈ آرگنائزیشن ترمیمی بل 2023ء مشترکہ اجلاس کو منظوری کے لیے بھیج دیا ۔ دریں اثنا ایپوسٹائل ترمیمی بل 2023ء بھی قومی اسمبلی سے منظور ہوگیا۔غیر ملکی عوامی دستاویزات کے لیے قانونی حیثیت کی شرط ختم کرنے سے متعلق بل منظور کیا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گواہ طلبی کی درخواست مسترد ، چاروں گواہوں غیر متعلقہ …

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2023ء پیش کیا، جسے اضافی ترامیم کے ساتھ قومی اسمبلی نے منظور کرلیا۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی نے پریس کونسل آف پاکستان ترمیمی بل 2023ء بھی منظور کرلیا۔ علاوہ ازیں قائداعظم انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز سرگودھا بل 2023ء بھی ایوان سے منظور ہوگیا۔

    ایوان نے اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2023ء بھی منظور کرلیا۔ قومی اسمبلی میں اسلام آباد یونیورسٹی ایمرجنگ ٹیکنالوجی بل 2023ء بھی منظور کرلیا گیاکنگز انسٹیٹیوٹ آف ہائیر ایجوکیشن بل 2023ء ، مونارک انسٹیٹیوٹ آف حیدرآباد بل 2023ء ، فیلکن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ترمیمی بل 2023ء منظور کرلیے گئے۔

    ارکان پارلیمنٹ کا موقف ہے کہ نئی قانون سازی کے بلز متعلقہ کمیٹیوں کو بھی نہیں بھیجے جا رہے اور نئی قانون سازی پر ایوان میں بحث بھی نہیں کرائی جا رہی ممبران اسمبلی کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد بازی میں کی گئی قانون سازی کے اثرات ہوں گے صرف ایک روز میں قومی اسمبلی نے ایک درجن سے زائد بل منظور کیے اور بعض شقوں میں تو ایسے بل بھی پاس کروائے گئے جو ایجنڈے پر موجود ہی نہیں تھے۔

    پاکستان میں یوٹیوب میوزک اور یوٹیوب پریمیم کے آغاز کا اعلان

    جمعرات 27 جولائی کو قومی اسمبلی نے 24 بل منظور کیے جبکہ جمعہ 28 جولائی کو قومی اسمبلی نے 29 بل منظور کیے، گزشتہ روز بھی قومی اسمبلی سے 6 بل پاس کروائے گئے اور اسی قانون سازی کو لے کر حکومتی اراکین میں جھگڑا ہو گیا جس کی وجہ سے اسپیکر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنا پڑ گیا۔

    اس کی مثال نگران حکومت کی مدت کے حوالے سے بل ہے جس کا ایجنڈا نا تو وقت پر جاری کیا گیا اور نا ہی اس کا مسودہ ارکان کو فراہم کیا گیا تھا، اس کے علاوہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ بل بھی ایجنڈے میں شامل نہیں تھا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کے بل بغیر بحث کے منظور کروائے گئے اس قانون سازی کے حوالے سے اراکین قومی اسمبلی کی جانب سے شدید احتجاج بھی کیا گیا اور جماعت اسلامی کے رکن عبدالاکبر چترالی کا کہنا تھا اسمبلی کی مدت ختم ہو رہی ہے تو گھوڑے پر بیٹھ کر قانون سازی کی جا رہی ہے۔

    باجوڑ دھماکا: جاں بحق افراد کی تعداد 63 ہوگئی

    اسی طرح سینیٹ کے 24 جولائی سے جاری اجلاس میں بھی اب تک 13 بل منظور کروائے جا چکے ہیں جس میں سے کچھ بل تو ایوان بالا میں براہ راست پیش کر کے منظور کروائے گئے جیسے آرمی ایکٹ ترمیمی بل، ڈی ایچ اے بل اور کنٹونمنٹ بل کو سینیٹ نے فوری طور پر ایجنڈا میں پیش کیا گیا اور اسی وقت منظور کر لیا گیا۔

  • سیاسی لبادہ اوڑھنے والے ملک دشمنوں کی نشاندہی کی جائے، رانا تنویر

    سیاسی لبادہ اوڑھنے والے ملک دشمنوں کی نشاندہی کی جائے، رانا تنویر

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر کی زیر صدارت ہوا،

    وفاقی وزیر برائے تعلیم رانا تنویر حسین نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ باجوڑ خودکش حملے کی پر زور مذمت کرتے ہیں،غم اور دکھ کی اس گھڑی جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ کھڑے ہیں،دہشتگردی کی اس جنگ میں ہزاروں سے زائد پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں،ان واقعات کو رونما ہونے سے اب تک نہیں روکا جا سکا،2014 میں جب چین کے صدر پاکستان آئے تھے تب بھی کچھ ملک دشمن قوتوں نے پاکستان کو سیاسی و معاشی طور پر غیر مستحکم بنانے کی کوشش کی،اس ایوان سے گزارش کرتا ہوں کہ ایسی غیر دشمن قوتوں اور عناصر کے پیچھے جو ذہنیت اور سوچ ہے اس کی نشاندھی کی جائے۔ایک ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے جس سے پاکستان اس دہشتگردی کے مسئلے سے نبرد آزما ہو سکے اور ایسی ملک دشمن قوتوں کی نشاندہی کی جا سکے جنہوں نے سیاسی لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔

    رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کب تک دہشتگردی کا افسوس کرتے رہیں گےاور کب تک ہم لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟9 مئی کا واقعہ ایک ادارے کو کمزور کرنے کی سازش تھی جس سے پاکستان کمزور ہوا، جس ادارے نے ہماری حفاظت کا ذمہ لیا اس کو تباہ کرنے کی سازش کی گئی، باجوڑ کا واقعہ نو مئی کے واقعے کی کڑی ہے، وزیر قانون قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کریں،آج وقفہ سوالات کو مؤخر کیا جائے اور گزشتہ روز ہونے والے واقعے پہ بحث کی جائے۔

    رکن قومی اسمبلی قادر خان مندوخیل نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں "اسلام آباد کے سیکڑ G-14 کے ذیلی سیکڑ ون اور ٹو میں حاصل کردہ 4880 کنال اراضی کے مکینوں کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضے کی عدم ادائیگی” پر اظہار تشویش کیا،ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے قادر خان مندوخیل کے توجہ دلاؤ نوٹس میں سیکٹر جی /14 کے زیلی سیکٹرز کی زمین کے رہائشیوں کو موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضہ نہ دینے پر رولنگ جاری کی ،رکن قومی اسمبلی قادر خان مندوخیل کے "اسلام آباد کے سیکڑ G-14 کے ذیلی سیکڑ ون اور ٹو میں حاصل کردہ 4880 کنال اراضی” کے حوالے سے توجہ دلاو نوٹس پر پارلیمانی سیکرٹری محمود شاہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2005 میں اسلام آباد سیکٹر G-14 کی زمین کے بدلے میں معاوضہ دیا گیا اور 2019 میں بھی ان بلڈنگز کی قیمت ادا کی گئی۔ یہ قیمت اس وقت کے مارکیٹ ریٹ سے زیادہ تھی اور کابینہ کے فیصلے کے مطابق ان افراد کو ایک ایک پلاٹ بھی دیا گیا۔1200 افراد وفات پا گئے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ دیر کا شکار ہوا،دو سال پہلے عدالت نے کمیٹی تشکیل دی تھی اور اس کمیٹی نے بھی یہ فیصلہ دیا تھا کہ مالکان کو ادا کی گئی رقم مارکیٹ سے زیادہ تھی،

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے پرانے اسلحہ لائسنس کی رینیول سے متعلق رولنگ دی،ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے وزات داخلہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ پرانے اسلحہ لائسنس کینسل نہیں ہونگے اور ان کی رینیول کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

    ممبر قومی اسمبلی ،وفاقی وزیر برائے مواصلات مولانا اسد محمود نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں گزشتہ روز باجوڑ میں ہونے والے خود کُش حملے کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے کل کے دردناک اور اذیت ناک واقعے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا اور شہداء کے درجات کی بلندی ،پسماندگان کے لئے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی،جمیعت علماء اسلام پاکستان کے رہنماء مولانا اسد محمود نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پورے ملک کو افسردہ اور رنجیدہ کر دیا ،یہ حملہ پاکستان پر حملہ ہے، پاکستان کے امن پر حملہ ہے، جمہوریت پر حملہ ہے ، معیشت پر حملہ ہے، یہ بے گناہ مسلمانوں اور امت مسلمہ پر حملہ ہے۔
    بیان نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں موجود لوگ کس کرب میں مبتلا ہوئے ہیں ایک ایک خاندان کے تین تین لوگ شہید ہوئے ہیں

  • قائمہ کمیٹی نے گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کا نوٹس لے لیا

    قائمہ کمیٹی نے گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کا نوٹس لے لیا

    رضوانہ کی صحت کل کے مقابلے میں بہتر ہو گئی ہے،سربراہ میڈیکل بورڈ

    سول جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی رضوانہ جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے،سربراہ میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم کا کہنا ہے کہ رضوانہ کی صحت کل کے مقابلے میں بہتر ہو گئی ہے ، سانس لینے میں جو مشکلات آرہی تھیں اور آکسیجن لگائی گئی اس کی ضرورت اب کم ہو رہی ہے ،رضوانہ کو جن انفکیشن کی وجہ سے مشکلات تھیں اب ان کے رزلٹ میں بہتری آئی ہے ، بچی نے آج ٹھوس غذا کھانے کے لیے مانگی ہے ،رضوانہ نے آج نرم غذا بھی شروع کر دی ہے۔ رضوانہ کو جوسز اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ رضوانہ کے ہوش و حواس میں تھوڑی بہتری آئی ہے اور وہ بات چیت کر رہی ہے ،رضوانہ سرجیکل آئی سی یو میں رہے گی،رضوانہ کو سانس لینے میں تکلیف ہے، رضوانہ کو آکیسجن لگائی گئی ہے،آکسیجن کی مقدار کو کم کر دیا ہے،ٹوٹے ہوئے بازوؤں پر فل الحال پلاسٹر لگا دیا ہے،زخموں کی نوعیت جانچنے کے لیے فرانزک والوں سے ٹیسٹ کروا رہے ہیں،

    دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے سول جج کی اہلیہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والی کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کا نوٹس لے لیا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس بدھ کو طلب کیا گیا ہےدوسری جانب لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج تشدد کا شکار گھریلو ملازمہ بچی کی حالت بدستور تشویشناک ہے میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد سول جج کی اہلیہ پر درج مقدمے میں اقدام قتل اور جسم کے بیشتر اعضا کی ہڈیوں کو توڑنے کی دفعات شامل کرلی گئیں۔

    واضح رہے کہ 24 جولائی کو تشدد کی شکار 14 سالہ بچی رضوانہ کا معاملہ سامنے آيا تھا، بچی کی ماں نے جج کی اہلیہ پر تشدد کا الزام لگایا تھا، جب بچی کو اسپتال پہنچایا گیا تو اس کے سر کے زخم میں کيڑے پڑ چکے تھے اور دونوں بازو ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ خوف زدہ تھی تشدد کا شکار گھریلو ملازمہ بچی رضوانہ 7 روز سے لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جس کی حالت تشویش ناک ہے –

    برصغیر کی ایک بے مثال و باکمال اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج پروفیسر الفریدظفر کا کہنا ہے کہ بار بار طبیعت بگڑنے پر آکسیجن لگانا پڑتی ہے،رضوانہ کے جگرکے انفیکشن میں معمولی کمی آئی ہے جب کہ گردوں کی انفیکشن ختم ہو چکی ہے، سائیکولوجسٹ بھی رضوانہ کے علاج میں شامل ہے اس کی روازانہ کونسلنگ کی جارہی ہے۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ بچی کے خون میں انفکیشن کی بیماری ہے جو سارے جسم میں پھیل چکی ہے، رضوانہ کے پلیٹ لیٹس 12ہزار سے بڑھ کر 24 ہزار ہوگئے ہیں اور جسم میں خون کی شرح 7 ہےرضوانہ کی والدہ نے اپنی بیٹی کو زہر دینے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس پر زہر کا ٹیسٹ بھی کروا لیا ہے، رپورٹس آنے پر ہی کچھ واضح ہوگا۔

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کے نہ آنے پر سماعت میں وقفہ

  • نگران وزیراعظم،پانچ نام شارٹ لسٹ کر لئے،وزیر دفاع

    نگران وزیراعظم،پانچ نام شارٹ لسٹ کر لئے،وزیر دفاع

    کون بنے گا نگران وزیراعظم، اس حوالہ سے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ نگران وزیراعظم کے لئے پانچ ناموں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے، پانچ نام کون سے ہیں وہ نہیں بتائے البتہ یہ کہا کہ نگران وزیراعظم کے لئے سیاستدان کو ہی منتخب کیا جائے گا

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعت پی پی اور ن لیگ نے ملکر چار سے پانچ نام شارٹ لسٹ کر لئے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہفتے میں نام فائنل کر لیں گے، اتحادی جماعتوں سے مشاورت ہو گی، یہ میری ذاتی رائے ہے کہ الیکشن 90 روز میں ہوں، میرے خیال سے اسمبلیاں مدت پورے ہونے سے دو روز قبل تحلیل کردی جائیں گی

    وزیردفاع خواجہ آصف نے ایک بار پھر واضح کیا کہ نگران وزیراعظم کے لیے اسحاق ڈار کا نام تجویز نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی انہوں نے خود ایسی کوئی خواہش ظاہر کی ہےاسحاق ڈار نے کسی بھی فورم پر ایسا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ نگران وزیراعظم بننے کے خواہش مند ہیں

    واضح رہے کہ اسحاق ڈار کا نام نگران وزیراعظم کے طور پر آیا تو پیپلز پارٹی نے اسکی مخالفت کی تھی، نگران وزیراعظم کا نام طے کرنے کے لئے قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کی بھی وزیراعظم سے رواں ہفتے ملاقات کا امکان ہے،راجہ ریاض نے نگران وزیراعظم کے لیے پہلے اسحاق ڈار کے نام کی مخالفت کی تھی تاہم بعد میں اس کی حمایت بھی کی، لاہور کے تاجروں کا بھی کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کو ہی نگران وزیراعظم بنایا جائے،

    موجودہ حکومت کی مدت اگست میں ختم ہو رہی، وزیراعظم شہباز شریف اعلان کر چکے ہیں کہ حکومت وقت پر ختم ہو گی، اسمبلی وقت پر یا کچھ دن قبل تحلیل ہو جائے گی، ایسے میں نگران وزیراعظم کے لئے سیاسی جماعتوں نے مشاورت شروع کر رکھی ہے، سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے تا ہم ابھی تک کسی نام پر اتفاق نہیں ہو سکا

    اسحاق ڈار کا گزشتہ روز نام سامنے آیا تو پیپلز پارٹی نے علی الاعلان کہہ دیا کہ اس نام پر اتفاق نہیں ہو سکا،پی پی رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا ہےکہ پیپلزپارٹی نے ابھی تک نگران وزیراعظم کے لیے کوئی نام فائنل نہیں کیا، نگران وزیراعظم کے لیے ناموں پربات چیت ہورہی ہے، حتمی لسٹ جلد سامنے آجائےگی، دو چار روز میں پیپلزپارٹی نگران وزیراعظم کے لیے نام تجویز کرلے گی وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھی کہتے ہیں کہ اسحق ڈار کے نگران وزیراعظم بننے سے الیکشن کے پراسس پر سوالیہ نشان آجائے گا۔ میڈیا میں ایک معتبر صحافی نے خبر لیک کی اس کے علاوہ کچھ نہیں ،اسحاق ڈار کو نگران وزر اعظم بنانے کیلئے کام بھی شروع نہیں ہوا، خواہش ہے اسحاق ڈار کو نگران وزیر اعظم بنایا جاسکتا ہے تو اچھی بات ہے ،معلومات کے مطابق اسحاق ڈار کے نام پر اعتراضات شروع ہوگئے ہیں ،سندھ کے صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن کہتے ہیں کہ نگران وزیراعظم پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تین رکنی کمیٹی بنائی ہے مخدوم یوسف رضا گیلانی خورشید شاہ سید نوید قمر اس میں شامل ہیں

    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس
    روپے کی قدر میں 0.47 فیصد کی تنزلی ریکارڈ
    عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔
    عراق؛ سویڈن سفارتخانہ نذرآتش، قرآن کی بے حرمتی پر سفیر کو نکلنے کا حکم
    عالمگیر ترین کی موت بارے فرانزک رپورٹ جاری

  • عالمی مالیاتی اداروں، حکومتوں نے سیلاب سے نمٹنے کیلئے وعدوں پر کتنا عملدرآمد کیا

    عالمی مالیاتی اداروں، حکومتوں نے سیلاب سے نمٹنے کیلئے وعدوں پر کتنا عملدرآمد کیا

    عالمی مالیاتی اداروں اور حکومتوں نے سیلاب سے نمٹنے کے لئے وعدوں پر کتنا عملدرآمد کیا، تحریری تفصیلات قومی اسمبلی میں جمع کروا دی گئی

    عالمی مالیاتی اداروں اور حکومتوں کی جانب سے پاکستان کے لئے ڈونرز کانفرنس میں 10953.6 ملین ڈالرز کے وعدے کئے گئے، 10330 ملین ڈالرز بطور قرض جبکہ 550.4 بطور گرانٹ فراہم کئے گئے،سب سے ذیادہ عالمی بینک کی جانب سے 2199.9 ملین ڈالرز قرض دیا گیا،ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 1544 ملین ڈالرز قرض جبکہ 13.28 ملین ڈالرز بطور گرانٹ موصول ہوئی، ایشیائی انفراسٹرکچر و انویسٹمنٹ بینک نے 1000 ملین ڈالرز قرض فراہم کیا،اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے 4200 ملین ڈالرز قرض فراہم کیا گیا،اقوام متحدہ کی جانب سے 5.5 ملین ڈالرز امداد فراہم کی گئی،

    تحریری جواب میں کہا گیا کہ سعودی عرب کی جانب سے 1000 ملین ڈالرز قرض ملا،فرانس نے 360 ملین ڈالرز قرض جبکہ 10 ملین ڈالرز امداد فراہم کی، یورپی یونین کی جانب سے 94.35 ملین ڈالرز امداد فراہم کی گئی، چین اور امریکہ نے سو سو ملین ڈالرز کی گرانٹ دی،جاپان نے 92.6 ملین ڈالرز، کینیڈا نے 18.21 ملین ڈالرز گرانٹ فراہم کی،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • قومی اسمبلی میں  29 بل کثرت رائے سے منظور

    قومی اسمبلی میں 29 بل کثرت رائے سے منظور

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا ۔قومی اسمبلی میں حکومت اوراپوزیشن کے مختلف ارکان کے 29 بل کثرت رائے سے منظور کر لیے گئے۔ منظور ہونے والے اہم بلوں میں تحفظ خاندانی زندگی و ازدواج بل2023 اور پاکستان میں داخلے کے مقامات صحت عامہ بل شامل ہیں۔ آج کی قانون سازی کی اہم بات اجلاس میں 26 نئی یونیورسٹیوں اور مختلف تعلیمی انسٹیٹیوٹ کے قیام کے بلوں کی منظوری دینا شامل تھا۔ اجلاس کے دوران ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری سعد وسیم نے کہا کہ ملک میں قدرتی گیس کی کمی ہے، خیرپور اقتصادی زون کو قدرتی گیس کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید شاہ نے اجلاس میں ای او بی آئی کے متاثرہ ملازمین کو مستقل نہ کرنے کا معاملہ اٹھایا۔تاہم نورعالم خان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔وقفہ سوالات میں گیلری میں سرکاری اداروں کے حکام کی عدم موجودگی پر اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے نوٹس لیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا اور رولنگ دی کہ وقفہ سوالات میں تمام سرکاری اداروں کے حکام گیلری میں موجود رہیں۔قومی اسمبلی کا اجلاس 31 جولائی شام 5 بجے تک کے لیے ملتوی ہوگیا۔

  • اتنی مہنگی بجلی ہوگی تو لوگ چوری نہیں کریں گے؟ نور عالم خان پھٹ پڑے

    اتنی مہنگی بجلی ہوگی تو لوگ چوری نہیں کریں گے؟ نور عالم خان پھٹ پڑے

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو یہ بتائیں کہ اگر ملک میں بجلی آٹا اور دیگر اشیاء مہنگے کریں گے تو یہاں پہ لوگوں کا گزارا کیسے ہوگا ٹیکس نیٹ ضرور بڑھائیں مگر غریبوں اور متوسط طبقوں کا خیال رکھیں ، نور عالم خان کا کہنا تھا کہ کبھی تعلیمی نظام سے پوچھا گیا کہ بچوں کو سکھایا کیا جا رہا ہے؟ یونیورسٹیوں کے بل دھڑا دھڑ منظور کئے جا رہے ہیں،قومی اسمبلی کو کون سنجیدہ لیتا ہے؟ بجلی مہنگی ہو رہی ہے کسی نے مہنگائی پر بات نہیں کی، اتنی مہنگی بجلی ہوگی تو لوگ چوری نہیں کریں گے؟،صحت کا کیا حال ہے، جا کر دیکھیں کسی کو سوئی بھی لگانی آتی ہے؟ منشیات کا کاروبار کرنے پر سزائے موت ختم کر دی گئی،جب ہیروئن بیچی جاتی ہے تو آپ نسلیں ختم کر رہے ہیں،جو بندہ یہ کاروبار کر رہا ہے وہ آپ کی نسلیں برباد کر رہا ہے،کونسے قانون کے تحت یہ سزائیں ختم کی گئیں، منشیات کے کیس میں پھانسی کی سزا ہونی چاہیے ورنہ ملک کے کونے کونے میں منشیات کاروبار عام ہو گا اور پاکستان کا نام بدنام ہو گا ،شریعت کے خلاف کوئی بات نہیں کی جانی چاہئیے، مہنگائی کے باعث مشکل سے گزارا ہو رہا ہے،

    قومی اسمبلی نے مفتی اعظم یونیورسٹی اسلامی بل 2023 کی منظوری دے دی ،بل عالیہ کامران کی جانب سے پیش کیا گیا ، کلام بی بی بین الاقوامی ادارہ برائے خواتین بنوں ترمیمی بل 2023 بھی قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا،بل عالیہ کامران نے پیش کیا مقومی اسمبلی نے اسلام آباد بین الاقوامی یونیورسٹی بل 2023 منظور کرلیا ،بل طاہرہ اورنگزیب کی جانب سے پیش کیا گیا ،پاکستان میں داخلے کے مقامات (صحت عامہ) بل 2023 بھی منظور کر لیا گیا،بل جام عبد الکریم بجار کی جگہ طاہرہ اورنگزیب نے پیش کیا ،اسلام آباد ادارہ برائے جدید علوم بل 2023 بھی قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا، بل ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی کی جانب سے پیش کیا گیا،

    بطور وزیر احتجاج کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کو عزت دلوائی جائے،خورشید شاہ
    قومی اسمبلی اجلاس سے سید خورشید شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے آنے والی اسمبلی میں قانون سازی کو ذیادہ سنجیدہ لیا جائے گا، بطور وزیر احتجاج کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کو عزت دلوائی جائے، ان وزارتوں کے سیکرٹریز کے خلاف ایکشن لیں جنہوں نے پارلیمان کے احکامات نہیں مانے،خورشید شاہ نے برطرف ملازمین کی بحالی میں تاخیر پر اظہار تشویش اور سپیکر کو معاملے کا نوٹس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ 2010-11 میں اسی طرح کی کمیٹی کے تحت ہم نے 2 لاکھ 10 ہزار ملازمین کو بحال کیا اور ان کو تین سال کی تنخواہیں بھی دلوائیں ،مگر افسوس کہ وزیراعظم کی طرف سے قارد مندوخیل کی سربراہی میں برطرف ملازمین کی بحالی کے لیے جو کمیٹی بنائی گئی اس کے احکامات کی تکمیل نہیں ہو رہی باوجود اس کے کہ پارلیمان نے اس حوالے سے قرارداد بھی پاس کی اور بارہا عمل درامد کی ہدایات بھی جاری کی مگر افسوس ہے کہ ان پر عمل درامد نہیں ہو رہا

    گیس کی عدم دستیابی کا مسئلہ اس ایوان میں موجود سب اراکین کا ہے،سعد وسیم
    پارلیمانی سیکرٹری سعد وسیم نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آفس بورڈ آف انوسمنٹ اور وزارت توانائی پیٹرولیم ڈویژن نے 3.5 ایم ایم سی ایف ٹی قدرتی گیس سندھ کے شہر خیر پور کے لیے منظور کی ہے، جس سے 140 ایکڑ اور 85 انڈسٹری یونٹ مستفید ہوں گے، گیس کی کمی کی وجہ سے ایک خط جاری کیا گیا جس میں اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی کہ کس فارمولے کے تحت گیس مہیا کی جائے گی، گیس کی عدم دستیابی کا مسئلہ اس ایوان میں موجود سب اراکین کا ہے،

    ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ،ایوان کی توجہ ضلع خیرپور میں گیس کی عدم دستیابی کی طرف دلاتے ہوئے کہا کہ خیر پور اکنامک زون ایک انڈسٹریل زون ہے جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری ہے خیر پور ضلع ایک خوش قسمت ضلع ہے جس نے پورے ملک کو ایندھن فراہم کیا پورے ملک میں جتنی گیس جا رہی ہے اس کا بہت بڑا حصہ ضلع خیر پور پورا کر رہا ہے ،ہمارا مطالبہ ہے کہ ضلع خیر پور کو جو گیس وہ پورے ملک کو دے رہا ہے اس میں سے 1فیصد دیں تاکہ انڈسٹریز بند نہ ہوں اور نوجوان نقل مکانی نا کریں۔

    آبادی کا 67 فیصد حصہ نوجوان،35 فیصد سے 40 فیصد نوجوان بے روزگار
    قومی اسمبلی کے اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ بہت افسوس ہے کہ ہماری آبادی کا 67 فیصد حصہ نوجوان ہیں،35 فیصد سے 40 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں،سابقہ حکومت نے ملک کے نوجوانوں کے ساتھ مذاق کیا تھا،نوجوان کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے منصوبوں کو لایا گیا،میرا سوال ہے کہ سابقہ حکومت نے نوجوانوں کو جو خواب دیکھائے وہ کہاں تک پہنچے

    واقعہ کسی مدرسے میں ہوتا تو ہاؤس کا ہر بندہ چیخ چیخ کر بات کر رہا ہوتا،عالیہ کامران
    جمعیت علماء اسلام کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے بہاولپور یونیورسٹی کے واقعے پر میڈیا اور ممبران قومی اسمبلی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کو پروموٹ کرنے کے لئے انہیں ہراساں کیا گیا، لالچ دیا گیا اور غلط کام کیا گیا ، یہ انتہائی الارمنگ صورتحال ہے، اگر ایکشن نہ لیا تو مستقبل پرکاری ضرب ہے، تحقیقاتی رپورٹ منگوائی جائیں اور کاروائی بھی کی جائے، اگر یہ واقعہ کسی مدرسے میں ہوتا تو ہاؤس کا ہر بندہ چیخ چیخ کر بات کر رہا ہوتا، لیکن یہ یونیورسٹی کا معاملہ تو سب خاموش ہیں

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • اسٹیٹ بنک کی رپورٹس ہیں کہ ملک میں مہنگائی کم ہوگی. اسحاق ڈار

    اسٹیٹ بنک کی رپورٹس ہیں کہ ملک میں مہنگائی کم ہوگی. اسحاق ڈار

    وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اسٹینٹ برائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کی دستاویز قومی اسمبلی میں پیش کردی ہیں۔ جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت میں جاری ہے، اس موقع پر اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف معاہدے کی دستاویز ایوان میں پیش کیں۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت سےمتعلق دستاویز پیش کروں گا، جس ممبر کو دستاویز پڑھنی ہو وہ پڑھ سکتاہے، اور دستاویز اسمبلی کی لائبریری میں رکھوانے کی بھی درخواست کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے سے متعلق دستاویز شیئر کرنی ہیں، آئی ایم ایف پروگرام 2019 میں شروع ہوا جسے 2022 میں ختم ہونا تھا۔

    اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ کریڈیبیلٹی کے گیپ کی وجہ سے 9واں ریویو تاخیر کا شکار ہوا، بجٹ 24-2023 آگیا لیکن نواں جائزہ نہیں ہوا تھا، گزشتہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے ذخائر 14 بلین ڈالر پر پہنچ چکے ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں، 5 اشاریہ 3 بلین پرائیویٹ بینکوں جب کہ 8 اشاریہ 7 بلین ڈالر اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں موجود ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کو سائفر کے سیاسی استعمال کی قیمت چکانا پڑے گی۔ خواجہ آصف
    بھتہ طلبی پر ایس ایچ او سول لائن کو ساتھیوں سمیت مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا
    ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں. امریکہ
    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 8 اگست تک توسیع
    اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ کوشش ہے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرکے چھوڑ کر جائیں، اسٹیٹ بینک کی رپورٹس ہیں کہ ملک میں مہنگائی کم ہوگی۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کوشش ہےکہ ایسی پالیسیاں بنائیں جس سے مہنگائی کم ہو، البتہ زراعت، رئیل اسٹیٹ کسی بھی شعبے پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

  • اسمبلیاں12 اگست کو تحلیل ہوئیں تو عام انتخابات 11 اکتوبر تک

    اسمبلیاں12 اگست کو تحلیل ہوئیں تو عام انتخابات 11 اکتوبر تک

    اسمبلیاں12 اگست کو تحلیل ہوئیں تو عام انتخابات 11 اکتوبر تک کرا دیں گے، سیکریٹری الیکشن کمیشن

    اسلام آباد،عام انتخاب میں تاخیر کے ساتھ نئے آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا سیکرٹری الیکشن کمیشن عمرحمید نے کہاہے کہ ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں چاہے 60دن میں ہوں یا 90دن میں ہوں اگر حکومت نے نئی مردم شماری کی منظوری دے دی تو نئی حلقہ بندیوں میں 4ماہ لگیں گے ۔

    جمعرات کو سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے ای سی پی بیٹ رپورٹرز سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ عام انتخابات سے قبل آپ لوگوں سے ملاقات ہوتی رہے گی کوشش ہے کہ میڈیا سے رابطے میں رہیں انتخابی اصلاحات کمیٹی کو الیکشن کمیشن نے 60 سے زائد سفارشات دی تھیں میری معلومات کے مطابق ہماری تقریبا ساری سفارشات مان لی گئی ہیں جب تک باضابطہ ہماری سفارشات منظور نہیں ہوجاتیں اس وقت تک کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔الیکشن کے حوالے سے سوالات پر جواب دیتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے کہاکہ الیکشن کمیشن عام انتخابات کے انعقاد کے لئے تیار ہےاگر اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں تو 60دن یا پہلے تحلیل ہوتی ہے تو پھر 90 روز میں الیکشن ہوں گے ہم الیکشن کے لئے تیار ہیں اگر نئی مردم شماری کی منظوری ہو جاتی ہے تو ہمیں حلقہ بندیوں کے لئے 4 ماہ لگیں گے۔

    سپیشل سیکر ٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے کہاکہ اگر اسمبلیاں بارہ اگست کو تحلیل ہوتی ہیں تو عام انتخابات 11 اکتوبر تک کرا دیں گے۔ایڈیشنل ڈی جی الیکشن کمیشن مسعود شیروانی نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے اندر پولیٹیکل فنانس ونگ کی خاص ذمے داری ہے قانون کے مطابق ہر سیاست دان اپنے اثاثے الیکشن کمیشن کو بتانے کا پابند ہے ہر الیکشن میں امیدوار اپنی مہم پر کئے گئے خرچہ بتانے کا بھی پابند ہوتا ہے پولیٹیکل فنانس ونگ کسی بھی سیاسی جماعت میں انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان الاٹ کرتا ہےالیکشن کمیشن کے پاس 168 سیاسی پارٹیاں رجسٹرڈ ہیں تمام ڈیٹا ہماری ویب سائٹ پر موجود ہے پارلیمنٹیرینز کے سالانہ گوشوارہ کا ریکارڈز ہمارے موجود ہوتا ہے۔
    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    باغی ٹی وی کی ویڈیو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    اسمبلیوں کی تحلیل۔۔۔ آئین کیا کہتا ہے؟