Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • آئینی اور جمہوری انداز میں تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں، شاہ محمود قریشی

    آئینی اور جمہوری انداز میں تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں، شاہ محمود قریشی

    تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کے لئے اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے اپوزیشن لیڈرشہبازشریف اوربلاول بھٹو آصف زرادری سمیت تمام عیاسی رہنما پارلیمنٹ میں موجود ہیں-

    باغی ٹی وی :سپریم کورٹ کی طرف سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیئے جانے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے-

    اجلاس کے شروع میں تلاوت قرآن پاک اور نعت شریف کے بعد رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ کی والدہ کی مغفرت کے لیے دعا کرائی گئی-

    بعد ازاں اپوزشین لیڈر شہباز شریف نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج پارلیمان نئی تاریخ رقم کرنے جارہا ہے اور آئینی و قانونی طریقے سے سلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جارہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ہم سب اور پوری قوم اللہ تعالیٰ کے ہاں سربسجود ہے، اس کے لیے قوم پوری متحدہ اپوزیشن کی قیادت سلام پیش کرتی ہے جن کی جدوجہد کے نتیجے میں آج قوم کو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا پرسوں پاکستان کی تاریخ میں تابناک دن تھا نظریہ ضرورت کا سہارا لیاگیا،عدالت نے اس کو دفن کردیا سپریم کورٹ نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے غیر آئینی کام کو کالعدم قرار دیا،آج پارلیمان سلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جارہاہے-

    شہباز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اسپیکر یہ کارروائی چلائیں،آج آپ آئین اورقانون کے تحت سپریم کورٹ کے حکم پر کھڑے رہیں،آج پارلیمانی نئی تاریخ رقم کرنے جارہا ہے، آئینی و قانونی طریقے سے سلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جارہا ہے، آج آئین و قانون و عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے لیے کھڑے ہوجائیں،

    انہوں نے کہا کہ یہ کہنا چاہتا ہوں جو ماضی میں ہوا خدارا آج آپ اسپیکر کا کردار ادا کر کے تاریخ میں نام لکھوا لیں ہمارے سینوں میں بھی پاکستانی دل دھڑکتا ہے-

    شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ اگر آپ سازش کی بات کریں گے تو بات بہت دور تک جائے گی، آپ سپریم کورٹ کے حکم کی عدولی کر رہے ہیں –

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزارش کرتا ہوں سپریم کورٹ کا جو حکم ہے اس کے تابع آج ہاؤس کی کارروائی چلائیں، وہ ہوا،شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا پیرا بھی پڑھ کر سنایا-

    اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کروں گا بیرونی سازش پر بھی آج ایوان میں بات ہونی چاہیئے-

    حکومت کی جانب سے سابق وزیر خارجہ شاہ مھحمود قریشی نے کہا کہ تحریک سے متعلق اپوزیشن لیڈر نے جو بات کی تسلیم کرتاہوں تحریک عدم اعتماد کا دفاع کرنا ہمارا فرض ہے تحریک کو پیش کرنا اپوزیشن کا حق ہے آئین میں تحریک عدم اعتماد کی گنجائش موجود ہے آئینی اور جمہوری انداز میں تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں-

    انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ آئین شکنی سے بھری پڑی ہے 12 اکتوبر 1999 کو آئین شکنی ہوئی جس کی قوم گواہ ہے اور اسی اعلیٰ عدلیہ نے ایک آمر کو آئین میں ترمیم کا اخیار کیا جس کی تاریخ بھی گواہ ہے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف نے بیانات دیے کہ کوئی نظریہ ضرورت قبول نہیں کریں گے، میں خوش ہوں کہ ہماری جمہوریت پروان چڑھی ہے اور کوئی نظریہ ضرورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کی پاسداری کے لیے خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، 3 اپریل کو جو کچھ ہوا اسے دہرانا نہیں چاہتا لیکن عدلیہ نے اس کا نوٹس لیا، اتوار کو دروازے کھولے گئےکارروائی کا آغاز ہوا اور متفقہ طور پر رولنگ کو مسترد کیا –

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کئی سال سے نئے انتخابات کا مطالبہ کررہی ہے متحدہ اپوزیشن عدالت کیوں گئی اورسوموٹو کیوں لیا گیا اس کا پس منظر ہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر دوستوں کو اعتراض تھا عدالت نے فیصلہ سنا دیا-

    وزیر خارجہ نے کہا کہ ازخود نوٹس کیوں لیا گیا؟ اس کا ایک پس منظر ہے، قاسم سوری نے آئینی عمل سے انکار نہیں کیا،ایک نئی صورتحال آئی ہے، بیرون سازش کی بات ہو رہی ہے اس لیے اجلاس کا غیرمعینہ مدت تک ملتوی ہونا ضروری ہے۔

    مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کے حوالے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جہاں بیرونی سازش ہورہی ہے اس کی تحقیق ہونی چاہیے نیشنل سیکیورٹی کونسل اعلی ٰترین فورم ہے نیشنل سیکیورٹی کونسل میں لیٹر کا بھی ذکر ہوا قومی سلامتی کمیٹی نے مراسلہ دیکھ کر اسے سنگین مسئلہ قرار دیا اور پھر دفتر خارجہ امریکی سفیر کو ڈی مارش کرنے کا حکم دیا دفتر خارجہ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن میں احتجاج کیا جائے ہم نے اسلام آباد اور واشنگٹن دونوں جگہ احتجاج کیا-

    شاہ محمود قریشی نے دھمکی آمیز مراسلے پر بات شروع کی تو اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور کہا کہ وزیر خارجہ پھر اس مراسلے سے متعلق بات کر رہے ہیں، آج کے ایجنڈے میں صرف تحریک عدم اعتماد شامل ہے۔

    اپوزیشن کے شور شرابے کے بعد حکومتی بینچز سے بھی نعرے بازی شروع ہو گئی اور اسی دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کر دیا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ موصول ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے ڈپٹی سپیکر کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا حکم نامہ واپس لے لیا تھا جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتے کو دوبارہ ساڑھے 10 بجے ہو گا اجلاس کا چھ نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے-

    امپورٹڈ حکومت تسلیم نہیں کریں گے عوام میں جائیں گے:وزیراعظم کا قوم سے خطاب

    قومی اسمبلی کے چھ نکاتی ایجنڈے میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ شامل ہے،آرٹیکل 95 کے تحت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی قرارداد پر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو گی ایجنڈے میں وقفہ سوالات، دو توجہ دلاؤ نوٹس اور ایک نکتہ اعتراض شامل ہے۔

    پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان کو دی گئی اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز

    قومی اسمبلی اجلاس کے اہم سیشن کے موقع پر سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ریڈ زون جانے والے تمام راستے سیل کر دیئے گئے ہیں، غیر متعلقہ افراد کا پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلہ بند رہے گا جبکہ منحرف اراکین اسمبلی کے لیے اضافی سکیورٹی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ دو روز قبل سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی 3 اپریل کی رولنگ کوکالعدم قرار دیتے ہوئے 9 اپریل کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا حکم دیا تھا۔

    وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے

  • پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان کو دی گئی اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز

    پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان کو دی گئی اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز

    پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان کو دی گئی اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیراعظم نے موجودہ صورتحال پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لیا پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم عمران خان کے فیصلوں پر اعتماد کا اظہارکیا،پی ٹی آئی اراکین نے کہا کہ وزیراعظم آپ جو حکم کریں گے ہم آپ کے ساتھ ہیں، ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم سے موجودہ صورتحال میں آپشنز پر سوالات کیے،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میری بات سنیں، شہباز شریف اچکن نہیں پہن سکے گا،

    باخبر ذرائع کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے سخت اپوزیشن کرنے کی تجویز بھی اجلاس میں سامنے آئی،اراکین نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو اپوزیشن لیڈر ہونے کا حق ادا کیا جائے، جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم کہیں نہیں جا رہے، آپ دیکھتے جائیں کسی صورت حکومت گرانے کی سازش کوکامیاب نہیں ہونے دوں گا،وزیراعظم عمران خان نے اراکین کو ہدایت کی کہ آپ لوگ حلقوں میں جائیں، اپنے لوگوں کو اس سازش سے آگاہ کریں یہ سارے ملکر بھی ہمیں نہیں روک سکتے، قوم ہمارے ساتھ ہے،

    علاؤہ ازیں وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے سیاسی کیمٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔سیاسی کمیٹی نے وزیراعظم کو اجتماعی استعفوں کی تجویز پیش کردی۔وزیراعظم عمران خان کو سیاسی کمیٹی نے وفاق، پنجاب اور کے پی سے مستعفی ہونے کی تجویز دے دی۔اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔اجلاس میں عوامی رابطہ مہم  تیز کرنے اور تمام اضلاع میں جلسے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جلسوں میں عوام کو حکومت کے خلاف سازش سے متعلق اعتماد میں لیا جائےگا۔اجلاس  میں مراسلے میں مبینہ سازش کوپبلک کرنے یا نہ کرنے سے متعلق تجاویزلی گئیں، ارکان نے مراسلےکی سیکریسی اور عدالتی حکم کی روشنی میں تجاویز دیں

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن  کی بیرونی سازش کا آلہ کار بننے کو بے نقاب کرچکے ہیں ۔سیاسی کمیٹی نے اجلاس میں کہا کہ عوام کا دباؤ ہے لہٰذا خط کو پبلک کیا جائے،خط کے معاملے میں ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے،ہماری حکومت کو گرانے کے لیے بیرونی سازش کی گئی،

    قبل ازیں ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ امید ہے عمران نیازی کھلے دل سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تسلیم کریں گے امید ہے عمران خان بحیثیت قائد حزب اختلاف اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے، توقع ہے حکومت اور اپوزیشن ملکر معیشت کی بحالی کے لیے کام کریں گے

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز از خود نوٹس کا فیصلہ سنا دیا ہے، اسمبلی کی تحلیل ختم کر دی گئی ہے قومی اسمبلی بحال کر دی گئی ہے تحریک عدم اعتماد برقرار رہے گی،فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ بحال کر دی گئی ہے صدر کا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔عدالت نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری وزیراعظم کو الیکشن کروایا جایے حکومت کسی صورت اراکین کو ووٹ دینے سے نہیں روک سکتی .

    وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پریشان ہیں، ایک کے بعد ایک کوشش کرسی بچانے کی کر رہے ہیں مگر اب انہیں ہر طرف مایوسی دکھائی دے رہی ہے، تمام تر کوششیں ناکام ہو رہی ہیں اور اپوزیشن کا پلڑا ہر آئے روز بھاری پڑ رہا ہے، اپوزیشن اراکین کی تعداد بڑھ چکی ہے، عدم اعتماد کی کامیابی یقینی ہے، حکومتی اتحادی حکومت کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں، تحریک انصاف کے کئی اراکین منحرف ہو چکے ہیں،یہ بھی خبریں آ رہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان ممکنہ طور پر استعفیٰ دے دیں تا ہم اپوزیشن کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان استعفے دینے والے نہیں انہیں کل خود گھر بھیجنا پڑے گا

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار

    وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے

  • قومی اسمبلی اجلاس طلب، ایجنڈہ جاری،کل ہو گا وزارت عظمیٰ کی کرسی کا فیصلہ

    قومی اسمبلی اجلاس طلب، ایجنڈہ جاری،کل ہو گا وزارت عظمیٰ کی کرسی کا فیصلہ

    قومی اسمبلی اجلاس طلب، ایجنڈہ جاری،کل ہو گا وزارت عظمیٰ کی کرسی کا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے

    قومی اسمبلی اجلاس کل ہفتہ کو صبح ساڑھے دس بجے شروع ہوگا قومی اسمبلی اجلاس کیلئے چھ نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ایجنڈے میں دو توجہ دلاؤ نوٹس بھی شامل ہے ایجنڈے میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ شامل ہے 6 نکاتی ایجنڈے میں تحریک عدم اعتماد چوتھے نمبر پرہے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز از خود نوٹس کا فیصلہ سنا دیا ہے، اسمبلی کی تحلیل ختم کر دی گئی ہے قومی اسمبلی بحال کر دی گئی ہے تحریک عدم اعتماد برقرار رہے گی،فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ بحال کر دی گئی ہے صدر کا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔عدالت نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری وزیراعظم کو الیکشن کروایا جایے حکومت کسی صورت اراکین کو ووٹ دینے سے نہیں روک سکتی .

    وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پریشان ہیں، ایک کے بعد ایک کوشش کرسی بچانے کی کر رہے ہیں مگر اب انہیں ہر طرف مایوسی دکھائی دے رہی ہے، تمام تر کوششیں ناکام ہو رہی ہیں اور اپوزیشن کا پلڑا ہر آئے روز بھاری پڑ رہا ہے، اپوزیشن اراکین کی تعداد بڑھ چکی ہے، عدم اعتماد کی کامیابی یقینی ہے، حکومتی اتحادی حکومت کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں، تحریک انصاف کے کئی اراکین منحرف ہو چکے ہیں،یہ بھی خبریں آ رہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان ممکنہ طور پر استعفیٰ دے دیں تا ہم اپوزیشن کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان استعفے دینے والے نہیں انہیں کل خود گھر بھیجنا پڑے گا

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ٫ رولنگ کالعدم۔ کابینہ بحال٫ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    آسمان اس وقت گرا جب اسمبلی تحلیل کر دی گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

    مولانا یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا،چودھری شجاعت

    ن لیگ نے پرویز الہیٰ کیخلاف بڑا قدم اٹھا لیا

    پوری دنیا جانتی ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری ہے، لطیف کھوسہ

    کوئی سمجھتا ہے کہ ہم ہتھیار ڈال دیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے،شیخ رشید

  • ہم ایک قوم بن کر مسائل کے طوفانوں کا زور توڑیں گے،شہباز شریف

    ہم ایک قوم بن کر مسائل کے طوفانوں کا زور توڑیں گے،شہباز شریف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم ایک قوم بن کر مسائل کے طوفانوں کا زور توڑیں گے

    شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کے مطالبے پر پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کل انشاءاللہ پاکستان کو مایوسیوں اور مسائل کے اندھیروں سے نکالنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ پاکستان کو اجتماعی دانش، یک جہتی اور اتفاق رائے کے مرہم کی ضرورت ہے۔ ہم ایک قوم بن کر مسائل کے طوفانوں کا زور توڑیں گے

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ معیشت کو درست سمت استوار کرکے مہنگائی کے ستائے عوام کی دادرسی کرنی ہے، روزگار کی فراہمی سے غریبوں کے چولہے پھر سے جلانے ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان کے مقام اور تعلقات کو قومی وقار اور مفادات کی بنیاد پر بحال کرنا ہے۔ قیادت کا امتحان ہی مشکل ترین حالات میں ہوتا ہے اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے پاکستان اس امتحان میں سرخرو ہوگا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز از خود نوٹس کا فیصلہ سنا دیا ہے، اسمبلی کی تحلیل ختم کر دی گئی ہے قومی اسمبلی بحال کر دی گئی ہے تحریک عدم اعتماد برقرار رہے گی،فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ بحال کر دی گئی ہے صدر کا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔عدالت نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری وزیراعظم کو الیکشن کروایا جایے حکومت کسی صورت اراکین کو ووٹ دینے سے نہیں روک سکتی .

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ٫ رولنگ کالعدم۔ کابینہ بحال٫ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    آسمان اس وقت گرا جب اسمبلی تحلیل کر دی گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

    مولانا یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا،چودھری شجاعت

    ن لیگ نے پرویز الہیٰ کیخلاف بڑا قدم اٹھا لیا

    پوری دنیا جانتی ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری ہے، لطیف کھوسہ

  • کوئی سمجھتا ہے کہ ہم ہتھیار ڈال دیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے،شیخ رشید

    کوئی سمجھتا ہے کہ ہم ہتھیار ڈال دیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے،شیخ رشید

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کوئی سمجھتا ہے کہ ہم ہتھیار ڈال دیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ آخری آپشن یہ ہے کہ استعفیٰ دیدیں ہار جیت کا مسئلہ نہیں اس کیس میں ہر کوئی ایکسپوز ہو گیا ہے تمام طاقتیں اس کیس میں بے نقاب ہو چکی ہیں، کوئی سمجھ رہا ہے کہ ہم ہتھیار پھینکنے جارہے ہیں تو ایسا نہیں ہے ، چوروں ،لٹیروں کے خلاف آخری بال تک لڑیں گے ،

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ بیرونی قوتوں کو شکست ہو گی، تمام طاقتیں ایکسپوز ہو چکی ہیں، مجھے امید ہے کہ شام تک اچھے فیصلے آئیں گے، تین ماہ پہلے کہتا تھا کہ استعفے دے دو، مجھے پتہ تھا کہ مسئلے کیا ہیں، میں اسوقت بھی ٹھیک تھا جب میں کہتا تھا گورنر راج لگا دو وہ بھی ٹھیک تھا، اب بھی کہتا ہوں کہ مستعفی ہو کر قوم کے پاس جانا چاہئے، عمران خان آج خطاب کرنے جا رہا ہے تین ماہ پہلے بھی کہا تھا کہ مسئلہ کیا ہے اس وقت بھی کہتا تھا کہ استعفے دیدو، سپریم کورٹ کے فیصلے سے قوم میں مایوسی کی لہر اٹھی ہے صحت کا بہانہ بنوا کر چوروں کو باہر بھگایا جاتاہے قوم کو بتانا چاہیے کہ ان کے اصل چہرے کیا ہیں، یہ غیر سامراجی سنڈیاں ہیں جو اس ملک کی آزاد خارجہ پالیسی کو کھا جائیں گی، اگر کوئی یہ سمجھ رہاہے کہ قوم کو سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیا ہو رہاہے اور کس نے کیا ہے تو جان لے کہ قوم کو سب سمجھ ہے کہ کس نے کیا کیا ہے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز از خود نوٹس کا فیصلہ سنا دیا ہے، اسمبلی کی تحلیل ختم کر دی گئی ہے قومی اسمبلی بحال کر دی گئی ہے تحریک عدم اعتماد برقرار رہے گی،فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ بحال کر دی گئی ہے صدر کا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔عدالت نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری وزیراعظم کو الیکشن کروایا جایے حکومت کسی صورت اراکین کو ووٹ دینے سے نہیں روک سکتی .

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ٫ رولنگ کالعدم۔ کابینہ بحال٫ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    آسمان اس وقت گرا جب اسمبلی تحلیل کر دی گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

    مولانا یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا،چودھری شجاعت

    ن لیگ نے پرویز الہیٰ کیخلاف بڑا قدم اٹھا لیا

    پوری دنیا جانتی ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری ہے، لطیف کھوسہ

  • عمران خان جھوٹا اور فراڈیا ،پاکستان کو بچانا ہے تو آئین کو بچانا ہو گا ،شہباز شریف

    عمران خان جھوٹا اور فراڈیا ،پاکستان کو بچانا ہے تو آئین کو بچانا ہو گا ،شہباز شریف

    عمران خان جھوٹا اور فراڈیا ،پاکستان کو بچانا ہے تو آئین کو بچانا ہو گا ،شہباز شریف
    مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج کی کارروائی کو سننے کیلئے عدالت عظمیٰ آئے ہیں،

    سپریم کورٹ پیشی کے موقع پر شہباز شریف نے لیگی رہنماؤن کے ہمراہ پریس کنانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امید کرتے ہیں عدالت عظمیٰ اس کیس کے بارے میں جلد فیصلہ دے گی پوری قوم جو اس وقت انتظار کر رہی ہے، زندگی کا ہر شعبہ جامد ہو گیاہے قوم کو معاشی نقصان ہو چکاہے ، عمران خان کی معاشی بربادیاں اور تباہیوں نے پاکستان کو دنیا کے نقشے میں ایک ایسا ملک بنا کر کھڑا کر دیا ہے جس میں گورننس کا نام و نشان نہیں اور کرپشن انتہا کو پہنچ چکی ہے ،ملک دہائیوں پیچھے چلا گیا ہے

    شہبازشریف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی مثال ہٹلر سے مختلف نہیں تھا ہٹلر نازی تھا اور یہ عمران نیازی ہے 1933 میں جب جرمن پارلیمنٹ میں آ گ لگی تھی تو ہٹلر نے کمیونسٹ پر آگ لگانے کا الزام لگایا اس کی آڑمیں ہٹلر نے آئن توڑا ، جس کے بعد پارلیمنٹ خاتمہ ہوا، اس طرح آئین کا خاتمہ کر کے نازی جرمنی میں خود کو مسلط کر دیا یہی کام عمران نیازی نے تین اپریل کو کیا ، اپنے حواری ڈپٹی سپیکر کے ذریعے ایک لکھا ہوا فیصلہ جو کہ آئین کے خلا ف تھا ، ڈپٹی سپیکر نے ایک آئین کے خلاف فیصلہ دے کر عمران خان کو غیر آئنی طور پر سٹے آرڈر دینے کی کوشش کی، پوری قوم ورطہ حیرت میں ہے ۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جس طرح غداری اور بغاوت کے الزامات لگائے گئے قومی سلامتی کمیٹی میں ہونے والے فیصلوں کو قوم کے سامنے لایا جائے عمران خان اور ان کے حواریوں نے 197 ممبرز کو غداری کا سرٹیفکیٹ بانٹا ہے یہ معاشرے میں ایک اور زہر گھولا گیا ہے جس کا خاتمہ آسان کام نہیں، ہم ہر جگہ اس کا مقابلہ کریں گےعمران خان جھوٹا اور فراڈیا ہے آج پاکستان کو بچانا ہے تو آئین کو بچانا ہو گا آئین کی حکمرانی کو بالادست کرنا ہو گا شفا ف الیکشن کو یقینی بنانا ہو گا پارلیمنٹ کی عظمت کو بحال کرنا ہو گا ججز انتہائی قابل احترام ہیں وہ پاکستان کی آئین کی حفاظت کریں گے

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

  • عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے سینئر صحافی سلیم صافی نے عمران خان پر کڑی تنقید کی ہے

    ٹویٹ کرتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کے خلاف پارٹی فنڈنگ کیس(انڈین،امریکیوں اورحتیٰ کہ اسرائیلیوں سے فنڈزلینے کا الزام) انتخابات سے قبل چل رہا تھا۔ اس کی وجہ سے انہیں الیکشن سے منع کیا گیا اورنہ حکومت کرنے سے۔اسی اصول کے تحت سفارتی کیبل کے معاملے کا الگ فیصلہ ہواورعدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھے۔

    ایک اور ٹویٹ میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکرکوالیکشن ٹریبیونل ہزاروں ووٹوں کی چوری کا مرتکب قراردے کر نااہل قراردے چکا۔2 سال سے وہ اعلیٰ عدلیہ کی سٹے پرچل رہے ہیں۔ اب وہ جج بن کرآئین شکنی کررہا ہے۔ عدلیہ وقت پر فیصلہ کرتی تو قوم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اس لئے عدم اعتماد کے فیصلے میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

    ایک اور ٹویٹ میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ دو باخبرترین صحافیوں نجم سیٹھی اورحامد میرکا دعویٰ ہےکہ امریکہ میں سابق پاکستانی سفیراسدکی کیبل میں مرضی کی ترمیم کی گئی ہے۔اب ضروری ہوگیاہےکہ عدالت قریشی،سیکرٹری خارجہ اوراسد کوبلا کر حقیقت معلوم کرے۔ کیونکہ جعلی الیکشن سے سیلیکٹ ہونے والی حکومت کوئی بھی جعل سازی کرسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے،گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

  • ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت شروع ہو گئی ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل لارجر بینچ کا حصہ ہیں

    عدم اعتماد کا معاملہ،سپریم کورٹ میں فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے درخواست پیپلز پارٹی نے فاروق ایچ نائیک کے توسط سے دائر کی ،سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی

    بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ آپ کی اجازت سے میں گزشتہ روز پیش ہوا تھا آج میں پی ٹی آئی کی طرف سے پیش ہورہا ہوں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کو بعد میں سن لیں گے ،بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ میں دوباتیں کرنا چاہتا ہوں اسکی اجازت چاہیے، صدارتی ریفرنس میں 31مارچ کا جو حکم جاری ہوا وہ اہم ہے،عدالت کے 21 مارچ کے حکم کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں،21 مارچ کو سپریم کورٹ بار کی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے حکمنامہ جاری کیا تھا،جو کچھ بھی ہوا سب ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں ،الیکشن کیلئے تیار ہیں، سارا مسئلہ جلدی الیکشن کا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی بیان ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے سیاسی باتیں نہ کریں ،ہم آج کوئی مناسب حکم جاری کریں گے،ایڈووکیٹ نعیم بخاری اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے،

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس وقت ساری جماعتوں کے وکلا یہاں موجود ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں سب کو سنیں گے، آپ ہمیں کیس سمجھائیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت اہم نوعیت کے معاملے پر فل کورٹ بنائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو بینچ میں موجود کسی جج پر اعتراض ہے تو بتائیں،اگر کسی کو ہم پر اعتماد نہیں تو ہم یہاں سے چلے جائیں گے،قومی اسمبلی میں جو کل ہوا ہے اُسکا آئینی جائزہ لینا ہوگا۔عدالت نے پیپلز پارٹی کے وکیل کی فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کردی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بھی فل کورٹ کی وجہ سے 10 ہزار مقدمات کا اضافہ ہوا،فل کورٹ کی وجہ سے تمام دیگر مقدمات متاثر ہوتے ہیں

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانا سیاسی جماعتوں کا حق ہے،عدم اعتماد جمع کرنے کیلئے وجوہات بتانا ضروری نہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آرٹیکل 95 وزیراعظم پر کسی چارج یا الزام کی بات نہیں کرتا عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے کوئی وجہ ہونا ضروری نہیں ،اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد پر بھی وزیراعظم والا طریقہ کار لاگو ہوتا ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا اسکی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اپوزیشن نے 8 مارچ کو اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن دی جب ریکوزیشن قوائد کے مطابق جمع ہو تو 14دن میں اجلاس بلانے کا پابند ہے اسپیکر نے تیرہویں دن اجلاس بلایا ،20 تاریخ تک بلانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ریکوزیشن کے بعد ایسا نہیں سمجھا جاتا کہ اجلاس 14 دنوں میں بلایا جانا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کے بعد اسپیکر نے 25 مارچ کو اجلاس بلانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، 28 مارچ کو ایم این اے کی فوتگی کی وجہ سے دعا کے بعد اجلاس ملتوی کیا گیا،جسٹس جمال مندو خیل نے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ کیس ہم نہیں سن رہے،آپ کا کیس وہ نہیں جو آپ بول رہے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے اجلاس تاخیر سے بلانے کی وجوہات بھی جاری کی تھیں، وجوہات درست تھیں یا نہیں اس پر آپ موقف دے سکتے ہیں،کیا آرڈر آف دی ڈے تب جاری ہوتے ہیں جب اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہو ؟کیا اسپیکر کو اسمبلی اجلاس بلانا ہوتا ہے؟ کیا 10 مارچ آرڈر آف دی ڈے جاری کرنے کا نہیں؟کیا 10 مارچ آرڈرز سرکولیٹ کرنے کا دن تھا؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے عدم اعتماد پر بحث ہوتی ہے،50 ارکان کہتے ہیں تحریک پیش ہو اور 50 کہتے ہیں نہ ہوتو کیا تحریک پیش ہوگی؟ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اگر اسپیکر عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر اسمبلی نے قرارداد کی اجازت دے کر 3 اپریل تک اجلاس ملتوی کیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں، چھوڑیں یہ سب، اور مقدمے کے حقائق کی طرف آئیں،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ قومی اسمبلی ضابطہ کارروائی میں یہ درج ہے کہ سپیکر کوئی بھی تحریک مسترد کر سکتا ہے اب آپ یہ بتائیں کہ اسپیکر نے صحیح کیا یا غلط؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے عدم اعتماد پر بحث ہوتی ہے، رولز کے مطابق تین دن بحث ہونا تھی ،تحریک عدم اعتماد پر ڈائریکٹ ووٹنگ کا دن کیسے دیا جا سکتا ہے. فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدم اعتماد پر بحث کی اجازت ہی نہیں دی گئی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا بحث کی تاریخ مختص نہ کرنے پر اعتراض کیا؟ فاروق نائیک نے کہا کہ ہم تو صرف بٹن دبا سکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ بحث کرائے بغیر ووٹنگ پر کیسے چلے گئے؟

    پیپلزپارٹی وکیل فاروق ایچ نائیک نے اسپیکر کی رولنگ عدالت میں پیش کر دی، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اجلاس شروع ہوا تو فواد چودھری نے آرٹیکل 5 کے تحت خط کے حوالے سوال کیا فواد چودھری کے پوائنٹ آف آرڈر پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ جاری کر دی،عدالت نے استفسار کیاکہ کیا تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت اسپیکر دیتا ہے کہ ایوان ؟ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اسپیکر کا اختیار ہے کہ وہ تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے؟ اگر اسپیکر تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوتا ہے ؟ فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دی اجلاس 3 اپریل تک ملتوی کردیا گیا، 27مارچ کو عمران خان نے جلسہ میں غیر ملکی خط لہرایا عمران خان نے الزام لگایا کہ اپوزیشن بیرونی لوگوں کی سازش کا حصہ ہے،31مارچ کو نیشنل سیکیورٹی کونسل اور کابینہ کا اجلاس ہوا،اسپیکر نے اختیارات سے تجاوز کر کے ملک کو آئینی بحران میں دھکیل دیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو حقائق سے آگاہ کریں

    وکیل نے کہا کہ گزشتہ روز فواد چودھری نے بیرون ملک سے موصول ہونے والے خط پر تقریر کی 31مارچ کو رولنگ میں بھی تحریک پر بحث کا نہیں کہا گیا اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی کوشش بھی کی عمران خان نے 27 مارچ کو عوامی جلسے میں ایک کی سازش سے آگاہ کیا تین اپریل کو اجلاس اس لئے بلایا گیا کہ اس دن بحث ہوگی، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ رولز میں وہ کونسی پرویژن ہے جس کے تحت اسپیکر بحث کی اجازت دیتا ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رول 28 میں ہے کہ اسپیکر رولنگ دے سکتا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اگر کوئی سوال پیدا ہوجاتا ہے تو اس پر بحث ایوان میں کرانی لازم تھی جو رولنگ دی گئی تھی وہ غیر قانونی ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا ایسی کوئی رولنگ جو اسپیکر کا اختیار ہے وہ اس پر رولنگ دے سکتا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ دینے وقت اسپیکر موجود نہیں تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ رولنگ غیر قانونی ہے،ایوان میں اگر کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس پر ایوان میں بحث لازمی ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فواد چودھری کے سوال پر بحث نہ کرانا پروسیجرل غلطی ہو سکتی ہے،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ نہیں یہ پروسیجرل ایشو نہیں ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کو رولز کے مطابق ایسی رولنگ دینے کا اختیار ہے؟ رول 28 کے تحت ا سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے،اسپیکر رولنگ ایوان میں یا اپنے آفس میں فائل پر دے سکتا ہے، کیا اسپیکر اپنی رولنگ واپس لے سکتا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ واپس لینے کے حوالے سے اسمبلی رولز خاموش ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو اختیارات کی منتقلی ایسے ہی ہے جیسے قائم مقام چیف جسٹس کے اختیارات ہوں،جس رولنگ کو آپ چیلنج کررہے ہیں آپ کے مطابق وہ ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات میں نہیں رول 28 کے تحت ا سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے، جسٹس مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں جب 198 ووٹرز موجود تھے تو پھر کیا ووٹنگ ہونا چاہیے تھی،ایوان میں فیصلہ تو ووٹنگ کے تحت ہونا ہے، فاروق ایچ نائک نے کہا کہ ممبر کیریکٹر پر ایوان میں بات نہیں ہوتی صرف ووٹنگ ہوتی ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر رولز کے مطابق اسپیکر کی عدم موجودگی میں اجلاس کو چلاتا ہے میرے خیال میں ڈپٹی اسپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر صرف اجلاس کی صدارت کر رہے تھے،قائمقام سپیکر کیلئے نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے،جس خط کا ذکر ہوا وہ اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا، ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ سے ارکان کو غدار قرار دیدیا،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدم اعتماد کے معاملہ پر ووٹنگ ہونا تھی،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ 3اپریل کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھا،دوسرا کوئی ایجنڈا کارروائی کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا، ایوان میں ووٹنگ کیلئے اپوزیشن کے 198 ارکان موجود تھے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ 198ارکان میں کیا پی ٹی آئی کے ارکان بھی شامل تھے؟ فاروق نائک نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان نے ووٹ تو نہیں ڈالا،اپوزیشن کے 175 ارکان موجود تھے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 اکثریت کی بات کرتا ہے، کیا ووٹنگ کیلئے اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے؟ فاروق ایچ نائک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد 3 منٹ سے بھی کم وقت میں مسترد کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی نکتے پر بات کریں، یہ جذباتی گفتگو ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کس طرح غیرآئینی ہے یہ بتائیں؟ اسپیکر کیطرف سے ارکان اسمبلی کو غدار قرار دینے کی رولنگ غیر قانونی کیسے ہوئی؟ اگر ہم سمجھیں کہ دی گئی رولنگ غیر قانونی ہے تو وہ کیوں ؟ اس بارے میں بتائیں .آپ کہتے ہیں کہ ایک بار موشن ایوان میں پیش ہوجائے تو اسکا فیصلہ جو بھی ہو، ایوان میں پیش ہونے کے بعد موشن کے قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا نہیں جاسکتا، آپ کا مطلب ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرا یہ موقف یہی ہے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو عدم اعتماد مسترد کرنے کا اختیار نہیں،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن اسکی حیثیت پر فیصلہ نہیں ہو سکتا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پروسیجرل غلطی آرٹیکل 69 میں کور نہیں ہوگی،پارلیمان کی کارروائی کو آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ وہ کون سی اسٹیج ہے جہاں اسپیکر قرارداد کی ویلیڈیٹی کو دیکھ سکتا ہے ؟ فاروق ایچ نائک نے کہا کہ صرف آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی پر۔ جس پر عدالت نے کہا کہ یعنی آپکے مطابق اسپیکر کے پاس کوئی گراؤنڈ موجود نہیں تھا کہ وہ قرارداد کو ختم کرتے اور انکا یہ عمل بدنیتی پر مبنی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اس معاملے میں درخواست گزاروں سے زیادہ جلدی میں ہے ہم اس فیصلے میں تاخیر نہیں کرنا چاہتے-

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج بھی ہو سکتی اور کالعدم بھی، اپوزیشن کو آج ہی فیصلے کا انتظار مگر ان کی وکیل نے عدالتی سوالات پر جواب کیلئے کل تک کی مہلت مانگ لی ،فاروق نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج ہو سکتی ہے، عدالت نے کہا کہ اپنے اس نکتے پر عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیں،فاروق نائک نے کہا کہ کل تک کا وقت دیں تو مطمئن کر سکتا ہوں،عدالت نے کہا کہ آپ وقت مانگ رہے ہیں ہم تو آپ سے زیادہ کام کر رہے ہیں فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد منظور یا مسترد کرنے کا اختیار ایوان کا ہے،کوئی عدالتی فیصلہ بتائیں جس میں عدالت نے آرٹیکل 69 کی تشریح کی ہو، آرٹیکل 69 پر عدالتی دائرہ اختیار کیا ہے،غیر قانونی غیر آئینی اقدام اور بد نیتی سے متعلق عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اگررولنگ کو غیر آئینی قرار نہ دیا گیا تو یہ مستقبل میں ہمارے لیے مسائل پیدا کریگا رولنگ دینے سے پہلے اپوزیشن کا موقف نہیں سنا گیا،تمام اپوزیشن ارکان کو غداری کا ملزم بنا دیا گیا،محب وطن ہونے اور مذہب کارڈز سے ابھی تک جمہوریت باہر نہیں نکل سکی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ منحرف ارکان کے حوالے سے بھی اپنا موقف دونگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کو کل تک ملتوی کر دیتے ہیں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کیس کو عدالت آج مکمل کرے اس پر ملکی اور غیرملکی آنکھیں لگی ہوئی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ رضا ربانی آپ اور مخدوم علی خان کتنا وقت دلائل کے لیے لینگے؟ بابر اعوان نے کہا کہ ممکن ہوسکے تو کل تک سماعت ملتوی کریں آج ہی سماعت مکمل کرکے آج فیصلہ دیں ایسا ممکن نہیں یہ بڑا حساس معاملہ ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخودنوٹس پر سماعت کل 12بجے تک ملتوی کر دی گئی ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس فیصلے کے اثرات مستقبل پر پڑیں گے،فاروق نائک نے کہا کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی کو توڑ چکے ہیں اور عمران خان کو وزیر اعظم رکھا گیا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ اگر اپنے دلائل تحریری کے طور پر دیتے تو 2 گھنٹے میں سارے وکلا کو سن لیتے،ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،

    قبل ازیں اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ عدالت کے سامنے رکھیں گے، جو بھی عدالتی فیصلہ ہوگا اس پر عملدرآمد کیا جائے گا

    قبل ازیں صدر پاکستان مسلم لیگ ن شہباز شریف سپریم کورٹ پہنچ گئے ،ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب بھی شہباز شریف کے ہمراہ تھیں، پی ٹی آئی اور متحدہ اپوزیشن کے رہنما کمرہ عدالت میں موجود تھے

    سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کی ڈپٹی اسپیکر رولنگ پر اٹارنی جنرل سے جواب طلب کیا ہے، عدالت نے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے وکلاء کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دیا تھا صدر مملکت، سیکریٹری دفاع و داخلہ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کیا گیا جبکہ عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل سے ازخود نوٹس میں معاونت طلب کر رکھی ہے

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل اور دوسرے اقدامات اب عدالت عظمی کے حتمی فیصلے سے مشروط ہے تاہم اگر گذشتہ روز کے اقدامات برقرار رہنے کی صورت میں 1973ء کے آئین کے تحت بنے والی یہ آٹھویں اسمبلی ہو گی جو اپنے مدت پوری کئے بغیر تحلیل ہوئی، جب 1973ء کا آئین بنا اور اس پر عمل شروع ہوا تو اس وقت کام کرنے والی اسمبلی کو قبل ازوقت انتخابات کے لئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحلیل کیا تھا، اس کی تحلیل پر کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا، 1977ء کے انتخابات ہوئے اور بننے والی اسمبلی کو ما رشل لا لگنے کے بعد توڑ دیا گیا ،

    1985 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کو صدر نے آٹھویں ترمیم کے تحت توڑ دیا ۔ 1988ء میں بننے والی اسمبلی بھی اس ترمیم کا شکار ہوئی، 1990اور 1993 میں بننے والی اسمبلیاں بھی مدت پوری نہیں کر سکیں 1997 میں بننے والی اسمبلی بھی مارشل لاء کی نذر ہوئی، 2002ء سے2018ء تک بننے والی تین اسمبلیوں نے مدت پوری کی جبکہ 2018ء میں بننے والی موجودہ اسمبلی اس وقت تحلیل کی گئی ہے تاہم معاملہ عدالت عظمی میں ہے جہاں سے جو بھی فیصلہ ہو گا اس کے مطابق اس کی حتمی پوزیشن سامنے آئے گی

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

  • عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز
    اگر ہم بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں تو تختہ دار پر لٹکا دیں پرعدم اعتماد پر ووٹنگ ہونے دیں، بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ گزشتہ دن ملکی تاریخ میں سیاہ دن تھا

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا گزشتہ دن تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر لکھا جائے گا عمران خان اور حواریوں نےآئین کی واضح خلاف ورزی کی ،24 مارچ کو اسپیکر نےعدم اعتماد کی تحریک کو جمع کیا اگر اعتراض تھا تو اسے اپنے دفتر میں ہی مسترد کرتے،تحریک کو ہر صورت ووٹنگ کے لیے پیش کیا جانا تھا عمران نیازی کی فسطائی سوچ غالب آئی اور ڈپٹی اسپیکر کو استعمال کیا گیا ،عمران خان اور ٹولے نے گزشتہ روز آئین شکنی کی 24مارچ کو اسپیکر نے عدم اعتماد کو ایجنڈا میں شامل کیا اگر آرٹیکل 5 کے زمرہ میں کوئی چیز آرہی توایجنڈا میں کیوں شامل کیا،24مارچ کو تحریک جمع کراتے وقت اعتراض کیوں نہیں اٹھایا،عمران خان اور ٹولے نے آئین کو توڑا اور جمہوریت کو مسخ کردیا عمران نیازی ،صدراورڈپٹی اسپیکر ماورائے عدالت اقدام اٹھاچکے تھے،عدالت عظمٰی نے کہا کوئی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھایا جائے،ماورائے آئین اقدام تو وزیراعظم، صدراوراسپیکر اٹھا چکے تھے،چند روز پہلے اٹارنی جنرل نے کہا تھا ووٹرز کو جانے دیں گے،ٹی وی پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹنگ ہوگی،

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 16مارچ کو امریکا میں سفیر اسدخان نے ڈونلڈ لو کی دعوت کی،دھمکی کے بعد 16مارچ کو دعوت کیوں دی گئی اورشکریہ کیوں ادا کیا گیا ،اگر 7 مارچ کو کوئی میٹنگ ہوئی تو 16 مارچ کی دعوت کا شکریہ کس بات کا؟

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں جو ہوا غیر آئینی ہوا 1973 آئین کی بنیاد سیاسی جماعتوں نے رکھا عدم اعتماد جمہوری اور آئینی طریقہ تھا حکومت سے نجات ملنے پر کارکن خوش ہیں ،ہم سب نے ملکر 3ماہ حکومت کا جینا حرام کردیا،ہم جیسی جماعتیں آئین کا دفا ع چاہتی ہیں،ہمیں آئین کوتوڑےجانےپرزیادہ تشویش ہے، وزیراعظم کواندازہ نہیں کہ ہوا کیا ہے ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ کوئی غیر آئینی کام کیا جائے عمران خان نے دباو میں آکر سیاسی خود کشی کرلی،وزیراعظم خود اگر استعفیٰ دیتے تو آئینی ہوتا،اسپیکر ،ڈپٹی اسپیکر نے عمران خان کی انا کو سنبھالا حکومت گئی تو وزیراعظم جشن منا رہے ہیں،ذوالفقارعلی بھٹو کو آج تک انصاف نہیں مل سکا،یہ قائدِ عوام کی عظمت کا ثبوت ہے کہ ان کے بدترین مخالفوں کو بھی عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیئے ان کے نام کے پیچھے چھپنا پڑتا ہے یہ قائدِ عوام تھے، جنہوں نے تختہ دار پر چڑھ کر دنیا کو ایک پیغام دیا

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ آئین کا تحفظ یقینی بنائے،معاملے پر فل بینچ تشکیل دیا جائے اور جلد فیصلہ سنایا جائے،عدم اعتماد تحریک کا عمل مکمل ہونا چاہیے عدالت کا فیصلہ طے کرے گا کہ کیا آئین صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے ؟ اگر ہم بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں، تو سزا دیں عدم اعتماد کا سلسلہ تو مکمل ہونے دیں جمہوریت چلنے دیں،عدلیہ کے فیصلے سے ملک کی قسمت لکھی جائے گی اگر ہمیں سزا دینی ہے دے دیں تختہ دار پر لٹکانا ہے لٹکا دیں پر عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونے دیں یہ پاکستان کے آئین کا معاملہ ہے ہم نے ثابت کیا کہ اپنے ووٹوں سے عمران خان کو پارلیمنٹ سے باہر کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان اپنے ووٹوں کی طاقت سے ہم آپ کو الیکشن میں بھی شکست دیں گے،

    جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا اسد الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے197 افراد کو غدار کہا جاتا ہے اگر پارلیمنٹ کو اس کا حق واپس نہیں دیا جاتا تو پھر یہ فیصلہ گلی گلی میں ہوگا کہ کون غدارہےاورکون وفادار ہے سپریم کورٹ پارلیمان کو اس کا حق واپس کرے پارلیمان فیصلہ کرے گی کہ کون غدار ہے اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھرافرا تفری پید اہو گی اور گلی گلی میں فیصلہ ہوگا کہ کون غدارہے اورکون وفادارکل ڈپٹی سپیکر نے جس طرح آئین کو توڑا اس نے آئین کی کئی شقیں معطل کرنے کی کوشش کیں

    ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے شکست سے بچنے کے لیے سیاسی خود کشی کرلی عمران خان بیانیہ بنا چکے ہیں کہ انکے خلاف عالمی سازش ہورہی ہے، سازش ہورہی ہے تو ایک کمیشن بنائیں اور سچ ثابت کریں ،میں آپکے ساتھ ہوں،اگرعمران خان جھوٹ سڑکوں پر لیکر آئیں گے تو ہم اپنا سچ لیکرآئیں گے الیکشن میں ہم سے 14 سیٹیں جیتیں وہ عمران خان نے ہم سے چھینی تھیں ہم نے عمرا ن خان سے حکومت چھین لی ہے،

    ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عمران خان نےآئین سے کھلواڑ کیا ،عمران خان خط کو عدالت میں پیش کریں جاننا چاہتےہیں کون سی سازش عمران خان کے خلاف ہورہی ہے،

    واضح رہے کہ قومی اسمبی تحلیل ہو چکی ہے،گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

  • ابھی تک اپوزیشن کوسمجھ نہیں آرہی ہواکیاہے: اللہ نےآسانیاں پیدافرمائیں:وزیراعظم عمران خان

    ابھی تک اپوزیشن کوسمجھ نہیں آرہی ہواکیاہے: اللہ نےآسانیاں پیدافرمائیں:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد:ابھی تک اپوزیشن کو سمجھ نہیں آرہی ہوا کیا ہے:وزیراعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد مسترد ہونے پر کہا ہے کہ کل رات اگر سب کو بتا دیتا تو اپوزیشن آج صدمے میں نہ ہوتی، ابھی تک اپوزیشن کو سمجھ نہیں آ رہی ہوا کیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے پارٹی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل شام کو اراکین اسمبلی سے کہا تھا ’گھبرانا نہیں‘،ابھی تک اپوزیشن کوسمجھ نہیں آرہی ہوا کیا ہے، بیرون ملک سے حکومت تبدیلی کی سازش کی گئی، نیشنل سیکیورٹی کونسل کو بیرونی سازش سے تفصیل سے آگاہ کر دیا تھا، نیشنل سکیورٹی کونسل نے واضح کہہ دیا عدم اعتماد میں بیرونی مداخلت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جب قومی سلامتی کمیٹی نے کنفرم کر دیا تو عدم اعتماد غیر متعقلہ تھی، بیرونی طاقتیں کسی آزاد ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتیں، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف سمیت تمام سروسز چیف موجود تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے منٹس جاری کیے گئے، یہ ایک باہرسے پلان کیا گیا تھا، کمیٹی نے واضح طور پر کہا خط میں بیرونی سازش ہے، اپوزیشن کو سمجھ نہیں آرہی ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔