Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے

    قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وثوق کیساتھ کہتا ہوں 70 فیصد پاکستان قیدی نمبر 804 کے اشارہ پر اُٹھتا ہے ، اگر اُس نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاو گے، پی ٹی آئی کو 70 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے، اس دن سے ڈرو جو بنگلہ دیش میں ہوا، اس نے اشارہ کیا کہ سڑکوں پر آ جاؤ تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ ، ہم چاہتے ہیں ماضی کو بھول جاؤ، پاکستان کو بہتر کرنا ہے، خدا کے لئے ایوان میں جو کرتے ہیں، آئین کے تحت حلف اٹھاتے ہیں تو اسکی پاسداری کرنی ہو گی، اقتدار آنی جانی چیز ہے، ہمارے ہار اور جیت میں پارلیمان ہار جائے گا، ہم ادھر کے ادھر رہ جائیں گے

    قبل ازیں سابق سپیکر قومی اسمبلی، پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام افواج پاکستان کے پیچھے چٹان کی طرح کھڑے ہیں، ہم اپنے آرمی چیف کی تضحیک نہیں کرنے دیں گے، کس کی بُولی بولتے ہو؟ جواب دینا پڑےگا،ہم پوچھیں گے، کیا یہ ٹویٹ آپ کے چیئرمین نے کی، اٹھ کر بتائیں کیا ہے یا نہیں، یہ سوال ہے میرا، ٹویٹ کا اگر یہ جواب نہیں دیتے، نومئی کا جواب نہیں دیتے، کرپشن کا جواب نہیں دیتے، پارلیمان کے اندر جواب نہیں دیتے کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہر چیز کو بلڈوز کر دیں گے، انہوں نے ماحول خراب کیا ہے

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

  • ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے جو ٹویٹ کیا اس کے بعد کوئی شک رہ گیا، لیکن اب بھی ڈبل گیم ہو رہی ہے

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اب ڈبل گیم علی امین کے ذریعے ہو رہی ہے، عمران خان کا قبلہ جی ایچ کیو ہے،پنڈی ہے، وزیراعلی خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور کو زبردستی نہیں لے جایا گیا تھا وہ اپنے مرضی سے وہاں گئے اور آٹھ گھنٹے رہے۔ عمران خان انکو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ انکے رابطے بحال رہیں۔ یہ عمران خان کی دوغلی پالیسی کے تحت ہے،بلاول بھٹو کی تجویز پر ایک کمیٹی بنائی گئی ہے، جو پیش گوئی تھی وہ سچ ثابت ہوئی،ہو سکتا ہے جنرل فیض حمید گانا گا رہے ہو آجائے میرے بالما تیرا انتظار ہے۔ عمران خان علی امین کو اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ آرمی چیف کےپاؤں گرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ٹویٹ بھی کرتے ہیں ،پاکستان کی سیاست میں بڑی دونمبری ہوئی لیکن ان سے بڑا کوئی دو نمبر نہیں، میثاق پارلیمنٹ کمیٹی کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہا، اِس کے ذمے دار عمران خان اور اُن کے فالوورز ہیں،عمر ایوب جو اب اور جتنے جوش سے تقریر کررہے ہوتے ہیں جب یہ نواز شریف کیساتھ تھے تب بھی جب یہ مشرف کیساتھ تھے تب بھی اور کسی اور جماعت کیساتھ تھے تب بھی ایسی اور ایسے ہی جوش کیساتھ کرتے تھے، مجھے بھی کوئی ایسا آرٹ سکھا دے۔

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ جنرل عاصم منیر اسٹیبلشمنٹ کے ھیڈ ھیں ایک طرف ان کو گالی نکالتے ھیں دوسری طرف ان کے پیر پڑتے ھیں،پھر قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس بھیجا پھر اس پر معافی مانگی،جنرل فیض حمید جس کی ایما پر یہ سب ھوتا تھا وہ اندر معلوم نہیں کونسا گانا گارھا ھوگا۔میڈیا سے معافی مانگ لی کیونکہ انکی آپ کو ضرورت ہے، پاکستان مخالف بیانیہ کو تقویت دینا چاہتے ہیں، عمران خان کے پی میں آگ کو بھڑکارہا ہے، وہاں یہ علیحدگی کی تحریک چلانا چاہتے ہیں، جلسے میں بھی تلخ زبان استعمال کی گئی، پنجاب میں سب قومیں بستی ہیں، یہاں کوئی غیر محفوظ نہیں ہے،

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

  • آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول زرداری کی تقریر پر ردعمل دیا ہے.

    عمر ایوب کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کی تقریر ایسی تھی جیسے ڈی جی آئی ایس پی آر نے 2 دن اپنے دفتر میں ٹریننگ دی ہے،ڈی جی آئی ایس آر صاحب اپنے شاگرد کو اچھی ٹریننگ دی ہے،جس طرح بات کررہے تھے جھلک نظر آرہی تھی بلاول بھٹو نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے دفتر میں 2 دن پریکٹس کی ہے،سینہ ٹھوک کر کہتا ہوں قاضی فائز عیسیٰ عمران خان کے کیسے نا سنیں، آئینی ترمیم کے لیے آپ کے پاس نمبر نہیں پورے، ہم بھرپور مخالفت کریں گے،وجہ کیا ہے جو پانی کو گدلا کیا جارہا ہے، بلاول نے میرے قائد کیلئے جو کہا اس کو مسترد کرتے ہوئے اسکی مذمت کرتا ہوں، بانی پی ٹی آئی آج بھی اپنی ایک ایک بات پر کھڑے ہیں،مجھے بلاول بھٹو کو دیکھ کر 1958 کی وہ تصویر یاد آگئی، اس تصویر میں بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو میرے دادا ایوب خان سے حلف لے رہے تھے۔

    واضح رہے کہ بلاول زرداری نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کی سٹیٹمنٹ ملک اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر وضاحت کریں ۔عمران خان کا اکاونٹ کون چلا رہا ہے؟ اس کی وضاحت آنا بہت ضروری ہے،کل قیدی نمبر 804 نے ایک بیان میں اپنے اپ کو فائدہ پہنچانے کے جمہوریت ہر حملہ کیا ، عمران خان کے اس بیان کے نتائج ہوں گے ، اگر انھوں نے یہ بیان دیا ہے تو ان کے لیےان کی جماعت کے لیے مسائل بنیں گے ۔

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

  • قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں شروع ہو گیا

    این اے 171 سے کامیاب ہونے والی پیپلزپارٹی کے طاہر رشید نے قومی اسمبلی میں حلف اٹھا لیا اس کے بعد آیئنی ترمیم کے لئے ایک اور حکومتی ووٹ کا اضافہ ہو گیا.قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ملتان کا ضمنی الیکشن ہو یا رحیم یار خان کا، میرے سپاہی ڈرتے نہیں، جُھکتے نہیں، وہ ہر فتنے کا مقابلہ کر کے، جھوٹ اور گالم گلوچ کی سیاست کا مقابلہ کر کے عوام اور ووٹ کی طاقت سے منتخب ہو کر یہاں پہنچے ہیں، پاکستان کے عوام قیدی نمبر 804 کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں، پاکستان کے عوام گالم گلوچ کی سیاست کے ساتھ نہیں ہیں، جتنے بھی ضمنی الیکشن ہوئے ہیں عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کیا ہے.ہمارے کارکن ہر فتنہ کا مقابلہ کرتے ہیں، عوام کی طاقت سے منتخب ہو کر یہاں پہنچے، رحیم یار خان کا ہمارا امیدوار ہر پولنگ اسٹیشن کا فارم 45 دکھا سکتا ہے،

    بلاول بھٹو نے عمران خان کے ٹویٹ کی قومی اسمبلی میں وضاحت مانگ لی
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی سٹیٹمنٹ ملک اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر وضاحت کریں ۔عمران خان کا اکاونٹ کون چلا رہا ہے؟ اس کی وضاحت آنا بہت ضروری ہے،کل قیدی نمبر 804 نے ایک بیان میں اپنے اپ کو فائدہ پہنچانے کے جمہوریت ہر حملہ کیا ، عمران خان کے اس بیان کے نتائج ہوں گے ، اگر انھوں نے یہ بیان دیا ہے تو ان کے لیےان کی جماعت کے لیے مسائل بنیں گے ۔

    بلاول بھٹو زرداری کی قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران اپوزیشن نے نعرے بازی کی، قیدی نمبر 804 کے نعرے لگائے.

    ابھی فارم 45 اور فارم 47 کے پراپیگنڈے پر بھی بہت بڑی کہانی سامنے آنے والی ہے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ چیف جسٹس کے خلاف بھی توہین عدالت کی گئی، انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کیسز میں ریلیف لینے کے لیے ہر آئینی ادارے پر حملہ کیا ہے،آرمی چیف پر بھی سیاسی الزامات لگائے گئے، اؑرمی چیف نے ڈی جی آئی ایس آئی ہوتے ہوئے عمران خان کی کرپشن پکڑی بعد میں انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ،عمران خان نے جنرل عاصم منیر کی تعیناتی کےخلاف سازش رچائی، میڈیا اینکرز اور سیاستدانوں کو لانچ کر کے اپنے ہی آرمی چیف کیخلاف لانچ کیا گیا، ابھی فارم 45 اور فارم 47 کے پراپیگنڈے پر بھی بہت بڑی کہانی سامنے آنے والی ہے،قیدی نمبر 804 نے اپنے بیان میں سیاست چمکانے کے لیے، ذاتی کیسز میں ریلیف لینے کے لیے ہر آئینی ادارے پر حملہ کیا، تحریک انصاف تحقیقات کرے واقعی بانی پی ٹی آئی کا بیان تھا، کل تک ہم بہت مثبت سمت میں چل رہے تھے، ہم نے ایسا فورم بنایا تھا کہ ہم جمہوریت اور اداروں کے فائدے کے لے قانون سازی کریں گے،کل رات ایک حملہ کیا گیا، جو ایک بار پھرجمہوریت پر حملہ ہے،موجودہ چیف جسٹس کے خلاف توہین عدالت کیا گیا، عہدے کو متنازع بنانے کے لیے آرمی چیف پر الزامات لگائے گئے،

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

  • اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج

    اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج

    اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت بڑ ھ گیا، حکومت آئینی ترامیم کرنے جا رہی، تحریک انصاف کی کوششوں کے باوجود انہیں ناکامی ہو گی اور حکومت پی ٹی آئی کے اراکین کو ہی توڑ کر ترامیم منظور کروائے گی.پاکستان کی پارلیمان آج ایک اہم سنگ میل عبور کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد ملک میں دائمی امن، سیاسی استحکام اور عوام کی خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ فیصلے پاکستان کی تقدیر بدلنے اور قوم کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچانے کا وعدہ ہیں۔عدلیہ سے متعلق آئینی ترمیم کل پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی

    آئینی ترامیم کل اتوار کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کئے جانے کا امکان
    عدلیہ سے متعلق آئینی ترامیم کل اتوار کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، دو اراکین اسمبلی کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے آج ترامیم پیش نہیں کی جائیں گے، ن لیگی رہنما حمزہ شہباز اور جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری آج پاکستان واپس پہنچیں گے ،حمزہ شہباز فرانس گئے ہوئے تھے جبکہ عبدالغفور حیدری چین گئے ہوئے تھے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اعلیٰ حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آئینی ترامیم کل پارلیمنٹ میں پیش کی جا سکیں گی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کل بروز اتوار بلائے جانے کا امکان ہے۔

    علاوہ ازیں پارلیمنٹ میں آئینی ترامیم پیش کیے جانے کا معاملہ ،رات گئے حکومتی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے،حکومتی وفد نے مولانا فضل الرحمان سے آئینی ترمیم میں تعاون کی درخواست کر دی، مولانا فضل الرحمان نے آج پارٹی سے مشاورت کے بعد جواب دینے کی یقین دہانی کروا دی، جے یو آئی ف کے پارلیمانی ایوانوں میں تیرہ ووٹ فیصلہ کن حیثیت اختیار کرگئے

    سپریم کورٹ کے ججوں کی مدتِ ملازمت 65 سال سے بڑھا کر 68 سال کرنے اور ہائی کورٹس کے ججوں کی مدتِ ملازمت 62 سال سے بڑھا کر 65 سال کرنے کی تجویز شامل ہوگی، ججز تقرری کے طریقۂ کار میں بھی تبدیلی کا امکان ہے،جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو ایک بنانے کی تجویز آئینی ترمیم کا حصہ ہوگی۔

    آئینی ترمیم، میثاق جمہوریت کے تحت آئینی عدالت کے قیام کا امکان
    حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کی جانے والی مجوزہ آئینی ترامیم کی تفصیلات سامنے آئی ہیں،ذرائع کے مطابق آئینی پیکج میں میثاق جمہوریت کے تحت آئینی عدالت کے قیام کا امکان ہے جبکہ نئے چیف جسٹس کے ساتھ نئی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز بھی زیر غور ہے، آئینی عدالت کے لئے الگ چیف جسٹس کی تعیناتی کی تجویز زیر غور ہے،نئی عدالت کا مقصد آئینی مقدمات اور مفاد عامہ کے مقدمات کو الگ الگ کرکے عدالت عظمیٰ پر بوجھ کم کرنا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی ذرائع کا بتانا ہے کہ نئی آئینی عدالت کے قیام کا معاملہ مجوزہ آئینی ترمیم کا حصہ ہو گا، مفاد عامہ کے دیگر کیسز موجودہ سپریم کورٹ میں سنے جائیں گے جبکہ آئینی عدالت 5 رکنی ہونے کی تجویز ہے، آئینی عدالت میں آئین کے آرٹیکل 184، 185 اور 186 سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہو گی، آئینی عدالت کی تشکیل میں چاروں صوبوں اور وفاق کے ججز کی نمائندگی کی تجویز بھی زیر غور ہے، آئینی عدالت میں صوبوں کی طرف سےآئین کی تشریح کےمعاملات بھی زیرغورآسکیں گے،پاکستان پیپلز پارٹی کے مطالبے پر میثاق جمہوریت کے تحت آئینی عدالت کے قیام کو آئینی پیکج کا حصہ بنایا جا رہا ہے

    وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کی تجویز زیرِ غور ہے، مگر اس سے کسی جج کی حق تلفی نہِیں ہوگی، ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے سے تمام موجودہ ججوں کا فائدہ ہوگا،آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کے نمبرز پورے ہوگئے ہیں۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس آج 3 بجے سہ پہر اور سینیٹ کا اجلاس آج شام ہی 4 بجے ہوگا،اسلام آباد میں سیاسی پارہ ہائی ہو چکا ہے، اراکین کو اسلام آباد سے باہر جانے سے روکا گیا ہے، پی ٹی آئی کے گرفتار اراکین بھی پارلیمنٹ لاجز میں ہیں اور اسمبلی اجلاس میں شریک ہوں گے،ہفتہ کو عمومی طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کیا جاتا کیونکہ ہفتہ اتوار کو اراکین اسمبلی اپنے حلقوں میں جاتے ہیں تا ہم اس بار قومی اسمبلی و سینیٹ کا اجلاس ہفتہ کو طلب کیا گیا ہے، مولانا فضل الرحمان نے اجلاس کی وجہ سے دورہ کراچی ملتوی کر دیا ہے،

    گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ آئینی ترمیم کے لیے حکومت کے پاس تعداد پوری ہو چکی ہے۔ تاہم وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کوئی آئینی ترمیم آنے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے

    دوتہائی اکثریت یعنی ایوان کے کل ممبران 336میں سے 224 ممبرز کی حمایت ضروری ہے، جے یو آئی (ف) سمیت حکومت کے پاس نمبر222تک پہنچ گیا، ترمیم کی منظوری کیلئے اسے صرف دو آزاد اراکین توڑنے ہونگے، اپوزیشن اراکین کی تعداد 111تک محدود ہے، پی ٹی آئی کےحمایت یافتہ 4 اراکین آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینگے

    حکومت اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے اہم آئینی ترمیم لانا چاہتی تھی ، جس کیلئے ایوان زیریں میں اسے دوتہائی اکثریت یعنی ایوان کے کل ممبران 336 میں سے 224 ممبرز کی حمایت ضروری تھی،قومی اسمبلی کے ایوان میں اس وقت 312 ممبران موجود ہیں جبکہ خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں سمیت 24 نشستیں یا تو متنازع ہیں یا ابھی خالی ہیں جن پر نوٹیفیکیشن ہونا ہے، حکومتی اراکین کی تعداد 213 بنتی ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی تعداد 111 ہے، پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 68، ایم کیو ایم کے 22 اراکین، ق لیگ کے پانچ، استحکام پاکستان پارٹی کے چار، مسلم لیگ ضیا، نیشنل پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہے، اسی طرح اپوزیشن اراکین کی تعداد 101 ہے جس میں سنی اتحاد کونسل کے 80، آزاد اراکین چھ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آٹھ اراکین، بی این پی، مجلس وحدت المسلمین اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہیں،جے یو آئی ف ملا کر حکومتی نمبر 222 تک پہنچ جائے گا اوراسے صرف دو آزاد اراکین توڑنے ہوں گے

    آئینی ترامیم،وزیراعظم کا پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ
    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آئینی ترامیم پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے،وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج شام 7 بجے وزیرِ اعظم ہاؤس میں طلب کر لیا ،وزیرِ اعظم آئینی اصلاحات کے بارے میں پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لیں گے اجلاس کے بعد ارکان کو عشائیہ بھی دیا جائے گا، اجلاس میں آئینی ترامیم بارے اراکین کو آگاہ کیا جائے گا، اجلاس میں ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اراکین شریک ہوں گے

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

  • پارلیمنٹ لاجز  سب جیل قرار

    پارلیمنٹ لاجز سب جیل قرار

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ لاجز کو سب جیل قرار دے دیا،

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے متعلقہ پولیس حکام کو ہدایت جاری کردی گئی ہے، تحریک انصاف کے گرفتار اراکین اب پارلیمنٹ لاجز میں رہیں گے،ہر گرفتار رکن کا اپنا لاج اس کے لیے سب جیل ہوگا،روایت ہے کہ گرفتار اراکین جن کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوتے ہیں ان کے لاجز کو سب جیل قرار دیا جاتا ہے، سپیکر نے بھی یہ فیصلہ اپوزیشن کے مطالبے پر کیا،گرفتار اراکین ایوان میں پہنچ چکے ہیں، گزشتہ روز بھی اراکین کو ایوان میں لایا گیا تھا، بعد ازاں رات گئے اراکین کو پولیس واپس لے گئی تھی

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے اسلام آباد جلسہ کے اگلے روز پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کو گرفتار کیا تھا، عدالت نے آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے آج جسمانی ریمانڈ معطل کر دیا، اراکین کی جانب سے اب ضمانت کی درخواستیں دائر کی جائیں گی.

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • کیا ہم مل کر کوئی میثاق جمہوریت سائن نہیں کرسکتے؟،اسپیکر قومی اسمبلی

    کیا ہم مل کر کوئی میثاق جمہوریت سائن نہیں کرسکتے؟،اسپیکر قومی اسمبلی

    اسلام آباد: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دس یا بیس آدمی بھی اگر مرجائیں تو اسے جواز بناکر پارلیمنٹ پر حملہ کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہاں جس انداز میں باتیں کی گئیں وہ ٹھیک نہیں تھا کہ فلانے آدمی (علی امین گنڈا پور) نے اخلاقیات سے بڑھ کر باتیں کی اگر کوئی اس سے بھی زیادہ باتیں کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پارلیمنٹ پر آکر حملہ کردیں یہ ناقابل قبول ہے،دس یا بیس آدمی بھی اگر مرجاتے تو اس کو جواز بناکر پارلیمنٹ پر حملہ کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اسپیکر صاحب آپ ن لیگ کے ممبر ہیں میں اپوزیشن کی جانب سے نمائندگی کرتے ہوئے حلفاً آپ سے کہتا ہوں کہ آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کو بااختیار بنانے اور ملک کے ہر ادارے کو آئین کی دائرے میں رکھنے کے لیے آپ جس حد تک جائیں گے ہم آپ کے ساتھ ہیں اور کسی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    خواجہ آصف نے محمود خان سے کہا کہ پارلیمنٹ پر حملے کے واقعے کی کوئی تعریف نہیں کرتا اگر پارلیمان کی بے توقیری کی گئی تو یہ ہم سب کا نقصان ہے انہوں نے بیرسٹر گوہر سے کہا کہ جب کوئی شخص مطالبہ کرے تو اس کے ہاتھ صاف ہونے چاہئیں، میں واضح کرتا ہوں پارلیمنٹ میں پولیس اور نقاب پوشوں کا آنا ہماری اجتماعی بے توقیری ہے لیکن اگر پارلیمنٹ میں نقاب پوشوں کے آنے کی مذمت کی جاتی ہے تو کوئی اس شخص کی بھی تو مذمت کرے جس نے اسلام آباد میں تقریر کی وفاق اور آئین کو چیلنج کیا اور جمہوریت کو گالیاں دیں، اس کی بھی مذمت کی جائے جب چار ماہ اسی ایوان کے باہر ڈیرے ڈالے گئے۔

    اسپیکر نے میثاق جمہوریت کی تجویز پیش کردی اور کہا کہ کیا ہم مل کر کوئی میثاق جمہوریت سائن نہیں کرسکتے؟ کیا ہم آئین میں رہتے ہوئے باہر کہنے کے بجائے اس فورم پر کوئی بات نہیں کرسکتے؟ ہمارے پاس ریکارڈ موجود ہے ہم نے اپوزیشن کو زیادہ بولنے کا موقع دیا میں نے کل وہ کیا جو میری ذمہ داری تھی اور میرے ضمیر نے کہا اس رات کو جو میں کرسکا میں نے کیا مگر الزام پر افسوس ہوا کہ میں اس جماعت کا حصہ ہوں۔

  • سٹیج پر میڈیا اور خواتین کو گالیاں دیناکسی صورت قابل قبول نہیں۔بلاول

    سٹیج پر میڈیا اور خواتین کو گالیاں دیناکسی صورت قابل قبول نہیں۔بلاول

    سلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آئین کی بالادستی کے بغیر پارلیمنٹ سمیت کوئی ادارہ نہیں چل سکتا۔

    باغی ٹی وی:قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سٹیج پر میڈیا اور خواتین کو گالیاں دیناکسی صورت قابل قبول نہیں ہمارا کنڈکٹ دیکھ کر یہ بچے سیاست دان نہیں بننا چاہیں گے، ہم نے سیاست کو ایک گالی بنا دیا ہے، ہم نے اسی سیاست سے ان نوجوانوں کو روزگار دلوانا ہے ہمیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں، اگروزیراعلی جلسے میں کھڑا ہوکر حکومت اور عدلیہ کو گالی دے تو وہ اپنے صوبے کے عوام کو روزگار نہیں دے سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ماحول خراب کیا تھا، وزیراعلی عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے جلسوں میں گالیاں دے تو وہ سیاست چمکارہا ہے، حکومت نے ٹارگٹ رکھا تھا کہ مہنگائی ایک سال میں بارہ فیصد تک لانی ہے ایک سال سے پہلے ہی مہنگائی نوفیصد تک آگئی ہے پی ٹی آئی کے چئیرمین کچھ مہینوں سے جیل میں ہیں، پی ٹی آئی اپنے چئیرمین کا کیس عدالتوں میں لڑیں اور یہاں عوام کی خدمت کریں، اس نہج پر سیاست کو پہنچایا گیا ہے کہ آج ہم ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کے روادار نہیں، اسی طرح مینگل صاحب کے فیصلے پر مجھے بڑا افسوس ہوا۔

    بلاول نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اسمبلی چھوڑنے سے بہت منع کیا، آج خود تو بھگت رہے ہیں ملک بھی بھگت رہا ہے، بلاول
    پی ٹی آئی عمران کا کیس لڑے لیکن پہلے ایوان میں آکر عوام کی خدمت کرے، حکومت لڑائی جھگڑے میں لگی رہی، آگ پر تیل ڈالتی رہی تو ملک کیسے چلے گ
    ا انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایسی کمیٹی بنائیں جس میں تمام جماعتوں کے ارکان ہوں گے جلسے یہ بھی کریں گے ہم بھی کریں گے اور معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔

  • سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کی گرفتاریوں کا معاملہ،اسپیکر قومی اسمبلی نے  بڑا ایکشن لےلیا

    سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کی گرفتاریوں کا معاملہ،اسپیکر قومی اسمبلی نے بڑا ایکشن لےلیا

    پارلیمنٹ کے احاطہ سے سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کی گرفتاریوں کا معاملہ ،اسپیکر نے سکیورٹی اسسٹنٹ سمیت چار اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کے احاطہ سے سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کی گرفتاریوں کے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی نے ایکشن لیتے ہوئے احکامات جاری کر دیئے،جن پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے-

    اس ضمن میں جاری نوٹیفییکشن کے مطابق اسپیکر نے سکیورٹی اسسٹنٹ سمیت چار اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم دے دیا چاروں کو 120 دن کےلےلئے معطل کیا گیا ہےمعطل ہونے والوں میں عبید اللہ،محمد وحید صفدر اور محمد ہارون شامل ہیں-

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود تمام پی ٹی آئی رہنماوں کو رات گئے حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق شیخ وقاص اکرم، زین قریشی، نسیم الرحمان، عامر ڈوگر، سید شاہ احد، شاہد خٹک، یوسف خٹک، لطیف چترالی گرفتار، صاحبزادہ حامد رضا کو بھی پارلیمنٹ ہاؤس سے حراست میں لے لیا گیا۔ بیرسٹر گوہر، شیرافضل مروت اور شعیب شاہین کے بعد ایم این اے زبیر خان کو بھی گرفتارکرلیا گیا تھا جبکہ شعیب شاہین کو ان کے دفتر سے حراست میں لیا گیا۔ ساتھ ہی عمر ایوب اور زرتاج گل پولیس کو چکمہ دے کر نکل گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق یہ گرفتاریاں گزشتہ روز جلسے میں قانون کی خلاف ورزی اور دیگر الزامات کے تحت کی گئیں۔

    جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نےپارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے سے اراکین پارلیمنٹ کی گرفتاری پر انسپکٹر جنرل ( آئی جی) اسلام آباد پولیس کی سرزنش کی اور انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا پارلیمنٹ سے ارکان کی گرفتاری سے متعلق اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس ہوا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں آئی جی اسلام آباد کو بھی طلب کیا گیا اور پارلیمنٹیرین کی گرفتاری کے معاملے پر ان کی سرزنش کی-

    ایاز صادق نے گرفتار ارکان پارلیمنٹ کو فوری رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق پارلیمنٹ سے باہرجس کو چاہیں گرفتارکریں، پارلیمنٹ سے ارکان کی گرفتاری ناقابل قبول ہے-

  • اسپیکر قومی اسمبلی کا  تمام گرفتار اراکین  کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا حکم

    اسپیکر قومی اسمبلی کا تمام گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا حکم

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اسپیکر چیمبر میں پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس ہوا

    اسپیکر سردار ایاز صادق سے قومی اسمبلی میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں، اراکین کی ملاقات ہوئی،ملاقات میں اراکین قومی اسمبلی کی پارلیمنٹ سے گرفتاریوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،تمام رہنماؤں نے کل رات کے واقع کی مذمت اور اسپیکر سردار ایاز صادق سے سخت سے سخت ایکشن لینے کی استدعا کی،اسپیکر سردار ایاز صادق نےمعاملے کو تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر حل کرنے کا عزم کیا،تمام جماعتوں کا ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے مکمل ضابطہ کار بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ کل رات کے واقع پر دل انتہائی رنجیدہ ہے،پارلیمنٹ کے تمام ممبران میرے لئے انتہائی قابل احترام ہیں ،پارلیمنٹ کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، پارلیمنٹ سے گرفتاریوں کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں، پارلیمنٹ سے گرفتاریوں کے حوالے سے فوری اور مکمل تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے،

    اسپیکر نے آئی جی اسلام آباد کو اپنے دفتر میں طلب کر کے واقعہ سے متعلّق معلوم کیا،اسپیکر قومی اسمبلی نے آئی جی اسلام آباد کو قانونی طریقہ کار کے مطابق گرفتار اراکین کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا،اسپیکر ایاز صادق نے آئی جی اسلام آباد کو تمام گرفتار اراکین سے مہذب برتاؤ اور بہترین سہولیات فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت کی اور کہا کہ کل رات کے واقع کی مکمل تحقیقات عمل میں لائی جائیں گی، کل رات کے واقع کی مکمل فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے، آئی جی اسلام آباد سے واقع کی فوری اور مکمل رپوٹ بھی طلب کر لی ہے، پارلیمنٹ کا تقدس اور احترام سب پر لازم ہے ،

    ملاقات میں وفاقی وزرا اور اراکین اسمبلی رانا ثناءاللہ ، اعظم نذیر تارڑ ، عبد العلیم خان، سید خورشید شاہ ، سید نوید قمر، طارق فضل چوہدری ، نور عالم خان ، شندانہ گلزار، خالد حسین مگسی چوہدری سالک حسین، سید امین الحق، امجد علی خان، شاہدہ اختر علی، علی محمد خان، صاحبزادہ حامد رضا اور دیگر نے شرکت کی،

    قبل ازیں علی محمد خان ،اعظم نذیر تارڑ ،نوید قمر اورمحمود خان اچکزئی اسپیکر چیمبر پہنچ گئے،گزشتہ را ت کے واقعے سے متعلق پارلیمانی رہنماؤں کی اسپیکر آفس میں مشاورت ہوئی،اسپیکر ایازصادق نے پارلیمنٹ کی داخلی و خارجی راستوں کی فوٹیج منگوا لیں،علی محمد خان نے بھی واقعے سے متعلق تمام فوٹیجز ا سپیکر کو فراہم کر دیں،

    گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سے پارلیمنٹیرین کی گرفتاری کا معاملہ،آئی جی اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے آئی جی اسلام آباد کی سرزنش کی،اور کہا کہ گرفتار ارکان پارلیمنٹ کو فوری رہا کیا جائے، پارلیمنٹ کی بے توقیری قبول نہیں،معاملے کی انکوائری ہوگی

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی نہیں، پروڈکشن آرڈر کی بات ہوئی،آئی جی اسلام آباد
    دوسری جانب آئی جی اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے گرفتار رہنماؤں کی رہائی سے متعلق تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نےہمیں گرفتار لوگوں کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے کا کہا ہے ،شعیب شاہین بازیابی کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی سے سوال کیا کہ آپ پارلیمنٹ سے ہو کر آئے ہیں؟ جس پر آئی جی پولیس نے چیف جسٹس کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی سر میں وہاں سے ہوکر آرہا ہوں،عدالت نے سوال کیا کہ وہاں کیا ہوا؟ کس سے مل کر آئے ہیں؟جس پر آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات ہوئی ہے،اراکین کو باہر سے گرفتار کیا گیا تھا ہمیں کہا گیا کہ گرفتار لوگوں کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے ہیں،اس سے متعلق بات ہوئی ہے

    پارلیمنٹ میں‌جو ہوا،تحقیقات کروا کر مقدمہ درج کروائیں گے،سپیکر ایاز صادق
    قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے چیمبر میں تمام پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس طلب کرلیا،ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جو پارلیمنٹ میں ہوا اس پر ایکشن لینا ہوگا،تمام ویڈیوز منگا لی ہیں اور اس پر ذمہ دار کا تعین کرنا ہے،میں اپنے آپ کو بدقسمت سمجھتا ہوں کہ 2014 میں ایک شخص اور اس کے کزن نے حملہ کیا،میں نے ان کے خلاف ایف آئی آر کروائی ،آج بھی جو اس کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر دیں گے ،اجلاس میں تمام پارٹیوں کے اراکین شریک ہوں،

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں