Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • وہ نقاب پوش کون ہیں جو پارلیمنٹ میں گھسے؟ علی محمد خان کا سوال

    وہ نقاب پوش کون ہیں جو پارلیمنٹ میں گھسے؟ علی محمد خان کا سوال

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس ہوا

    پی ٹی آئی رکن اسمبلی علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات جنہوں نے پارلیمنٹ پردھاوا بولا ان پرآرٹیکل 6 لگناچاہیے،وہ نقاب پوش کون ہیں جو پارلیمنٹ میں گھسے، یہ جمہوریت پر حملہ ہے،پاکستان کے آئین پر حملہ ہے، افسوس ہے ہندوستان، اسرائیل،امریکہ سے نہیں میرے اپنے وطن کے نقاب پوش ایوان میں گھسے،یہ حملہ سپیکر صاحب آپ پر ہے، یہ حملہ شہباز شریف پر ہے یہ حملہ بلاول پر ہے،آپ اس معاملے پر کھڑے ہو جائیں ،اگر آپ کھڑے نہیں ہوتے تو پارلیمنٹ کو تالا لگا کے چلے جاتے ہیں ،جس طرح نو اپریل کو کھڑا تھا آج بھی کھڑا ہوں ،مریم نواز شریف میرے لیے بہن کی جگہ ہے ،ضرورت ہے قوم اور فوج یکجان ہوکر کھڑے ہوں ،درخواست ہے آپ اپنا کردار ادا کریں ،کل آپ کے بھائیوں کو یہاں سے اٹھایا گیا ،اراکین کو پارلیمنٹ کے سامنے اٹھایا گیا،اگر جناح ہاؤس پہ حملہ پاکستان پہ تھا تو پارلیمنٹ پہ حملہ پاکستان پہ حملہ نہیں ہے ؟

    صاحبزادہ حامد رضا نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل رات میں اپنے ساتھیوں کیلئے یہاں پر آیا تھا ،آج ہم یہاں پر اپنا آئینی کردار ادا کرنے آئے ہیں ،رات کو تین بجکر سولہ منٹ پر قومی اسمبلی میں نقاب پوش داخل ہوئے،ہم مختلف کمروں میں بیٹھے ہوئے تھے ،جب نقاب پوش داخل ہوئے تو کمروں کی لائٹیں بند کردی گئیں ،عامر ڈوگرزین قریشی، شیخ وقاص اکرم اور نسیم شاہ کو گرفتار کیا جاتا ہے ،احمد چھٹہ اور اویس جھکڑ کا پتہ نہیں کہاں پر ہیں ،میں بانی پی ٹی آئی کا اتحادی ہوں اور رہوں گا ،اس ایوان کی کازروائی کے بعد سارجنٹ ایٹ آرمز کو کہیں کہ مجھے گرفتار کریں ،اگر کہیں پر بھی میرے خلاف ایف آئی آر ہے تو مجھے وہاں پیش کریں،ایف آئی آر میں صرف چار لوگ نامزد تھے ،لوگوں کو گردن سے پکڑ کر گرفتار کیا گیا،بیرسٹر گوہر کو کالر سے پکڑ کر گرفتار کیا گیا،میں کوئی مجرم نہیں ہوں میرے والد نے طالبان کے خلاف تقریر کی ،ہمیشہ دہشت گردی کی خلاف بات کا اگر ریاست یہ صلہ دیتی ہے تو ٹھیک ہے

    پارلیمنٹ کے گیٹ کے اندر اراکین کو گرفتار کیا جاتا ہے تو کیا بچا ہے ،نوید قمر
    پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر گھس کر گرفتاریاں،یہ کیا ہے جو الزامات سامنے آرہے ہیں میرے پاس یقین کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ،یہ پارلیمنٹ اور آئین پر سراسر حملہ ہے ،پارلیمنٹ کے گیٹ کے اندر اراکین کو گرفتار کیا جاتا ہے تو کیا بچا ہے ،آپ کو سنجیدہ انکوائری کرکے کارروائی کرنا پڑے گی ،اگر کارروائی نہیں ہوگی تو سلسلہ نہیں رکے گا،تحقیقات کر کے سنجیدہ ایکشن لینا پڑے گا، ایک ہی راستہ ہے، پارلیمنٹ پر حملہ ادھر سے ہو یا کہیں اور سے ہمیں ایک ہونا ہو گا،

    پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا امتحان ہے ، آپ آئین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا نہیں، محمود اچکزئی
    محمود اچکزئی نے کہا کہ بینظیر اور میاں نواز شریف نے ہمیشہ جمہوریت کی بات کی،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پارلیمنٹ کی بالا دستی کیلئے معاہدہ کیا ، کل جس انداز سے پارلیمنٹ اور آئین کی بے عزتی کی گئی ، آپ سمیت سب نے بار بار آئین کا حلف لیا، یہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا امتحان ہے ، آپ آئین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا غیر جمہوری قوتوں کے دم چلے بننے کو ترجیح دیتے ہیں ، سپیکر نے محمود خان اچکزئی کے نامناسب الفاظ حذف کردیئے

    آپ اداروں کو سینگوں پر اٹھا لیں اور پھر کہیں آپ کو کچھ نہ کہا جائے ،رانا تنویر
    وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نےقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے اسلام آباد جلسے کے معاہدے کی پاسداری کی،کیا سٹیج پر ماوں بہنوں کو گالیاں دیا جانا انہوں نے کلچر نہیں بنادیا ،آپ رجوع کریں ،کیا نومئی کرکے انہوں نے خود یہ سب کچھ نہیں کیا ،کبھی بنگلہ دیش کا حوالہ دیا جاتا ہے ،یہی جو کررہے ہیں پھر وہی ہوگا،آج پارلیمان کی باتیں سب کو یاد آرہی ہیں ،بلاول نے ان کی حکومت کو قدم بڑھانے کا کہا تھا دیکھ لیا ان کا قدم ،قرآن اٹھاکر کہا گیا کہ رانا ثنا اللہ نے منشیات سمگل کی،ان کے لیڈر کو تو ایکسر سائز مشین ملی ہوئی ہے ،رانا ثنا اللہ کو کہاں رکھا گیا تھا ،آپ اداروں کو سینگوں پر اٹھا لیں اور پھر کہیں آپ کو کچھ نہ کہا جائے ،جب ان کا لیڈر سٹیج سے گرا تو نوازشریف نے اپنی الیکشن مہم دوروز کے لئے روک دی تھی

    جو ہوا قانون کے مطابق ہوا،اٹک پل پر انتظار کریں گے، وزیر دفاع
    وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات ریاست نے احتجاج کیا ،صحافیوں نے احتجاج کیا اِس پر کسی کو کیا اعتراض ہے،گزشتہ روز جوہوا وہ قانون کےمطابق ہوا،صوبہ وفاق پرحملے کی بات کرے گاتوردعمل توآئےگا،کیاپاکستان کا وجو د ایک شخص کےوجود سے نتھی کیاجاسکتاہے ؟ یہ الفاظ، اس قسم کا ری ایکشن جو کل آئے اسکو جسٹی فائی کرتے ہیں، یا یہ کہا جائے کہ پشتونوں کا حملہ لے کرپنجاب پرحملہ آور ہوں گے،پنجاب پرحملے کی بات ہوگی تو کیانتیجہ نکلے گا؟پاکستا ن کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیاگیا ، جب آپ کہیں کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں تو اس کا کیا ری ایکشن آئے گا؟جس قسم کی زبان استعمال کی گئی، اوپر والے بیٹھے ہوئے،ہمارے دوست،کولیگ، انہوں نے بھی احتجاج کیا،آپ بتائیں کہ کبھی بھی اس ایوان کی تاریخ مین اس ہاؤس کی،اور پریس گیلری والے ہرٹ ہوئے ہوں،پاکستان کے وجود کو پرسوں چیلنج کیا گیا، پاکستان کی سالمیت، اتحاد کے خلاف بات کی گئی، فیڈریشن کو چیلنج کیا گیا، اس کے بعد کیا توقع کرتے ہیں، اس قسم کی باتیں کل کے ری ایکشن کو جواز فراہم کرتی ہیں،کل کا عمل پرسوں کا ری ایکشن تھا، پاکستان کے وجود کو پرسوں چیلنج کیا گیا، پاکستان کے فیڈریشن کو چیلنج کیا گیا، اس کے بعد آپ کیا توقع رکھتے ہیں؟ ہم آپ کا اٹک پُل پر انتظار کرینگے،انکا لیڈر(عمران خان) گاڑی کی ڈگی میں بیٹھ کر باجوہ سے ملاقات کرنے گیا،میں نے علی محمد خان کی دم پر پیر رکھ دیا اب اس چیخیں نکل رہی ہیں ،رویئے درست نہیں ہوں گے یہ کہیں گے کہ ہم نے بات کرنی تو فوج سے، یہ کہاں لکھا ہے کہ فوج سے بات کرے،15 دن کا کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کروانے کا آج دوسرا دن ہے ہم انتظار کررہے کہ وہ آئے لشکر لیکر ،13 دن باقی ہیں،اس نے جو ہمارے بارے کہا ہے ہم اٹک کے پل پر انتظار کریں،انکا تو صرف چیئرمین گرفتار ہے جبکہ میرا لیڈر تو پورے خاندان سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے ضمیر بیچے ہوئے ہیں یہ ڈارمے بند کریں

    خواجہ آصف کی تقریر کے دوران علی محمد خان نے احتجاج کیا تو خواجہ آصف نے کہا کہ یہ اس کابینہ میں شامل تھا جس نے مجھ پر آرٹیکل 6 لگایا،یہ رنگ بازی کر رہا ہے یہ درود شریف پڑھ کر جھوٹ بولتا ہے پھر درود شریف پڑتا ہے،میں نے ان کی دم پر پیر رکھا ہے اس لیے یہ چیخ رہے ہیں

    پارلیمنٹ میں‌جو ہوا،تحقیقات کروا کر مقدمہ درج کروائیں گے،سپیکر ایاز صادق
    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے چیمبر میں تمام پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس طلب کرلیا،ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جو پارلیمنٹ میں ہوا اس پر ایکشن لینا ہوگا،تمام ویڈیوز منگا لی ہیں اور اس پر ذمہ دار کا تعین کرنا ہے،میں اپنے آپ کو بدقسمت سمجھتا ہوں کہ 2014 میں ایک شخص اور اس کے کزن نے حملہ کیا،میں نے ان کے خلاف ایف آئی آر کروائی ،آج بھی جو اس کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر دیں گے ،اجلاس میں تمام پارٹیوں کے اراکین شریک ہوں،

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • جلسوں سے متعلق بل بنیادی انسانی حقوق کا قتل عام ہے،جے یو آئی

    جلسوں سے متعلق بل بنیادی انسانی حقوق کا قتل عام ہے،جے یو آئی

    جے یو آئی ف نے جلسوں سے متعلق بل کو بنیادی انسانی حقوق کا قتل عام قرار دےدیا

    رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران کا کہنا تھا کہ آج ایوان کو بلڈوز کرکے بل منظور کرایا گیا،ہمیں ایوان میں موقف دینے کی اجازت نہیں دی گئی،یہ بل بنیادی انسانی حقوق کا قتل عام ہے، حکومت میں لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ جو قانون سازی کر رہے ہیں کل وہ ان کے گلے پڑ سکتی ہے، آپ کس طرح تمام اختیارات ایک کمشنر کے حوالے کر رہے ہیں؟ پر امن جلسے جلوس کرنا تمام جماعتوں کا بنیادی حق ہے،قانون سازی ہمیشہ بنیادی انسانی حقوق کو دیکھ کر کرنی چاہئے،

    واضح رہے کہ اسلام اباد میں جلسے اور احتجاج کے قوانین، پرامن اجتماع اورامن عامہ ایکٹ2024 سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی منظور کرلیا گیا،اسلام آباد میں بغیراجازت جلسے یااکٹھ پر تین سال اور دوسری بار خلاف ورزی پر 10سال قید کی سزا ہوگی،قومی اسمبلی سے منظور بل کو پرامن اجتماع اور امن عامہ ایکٹ2024 کا نام دیا گیا ہے جس کے مطابق عدالت سے 3 سال سزا پانے والے کو دوبارہ وہی جرم دہرانے پر 10 سال قید کی سزا ہو گی۔ حکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے سنگجانی یا کسی علاقے کو جلسوں کیلئے متعین کرے گی، جلسوں کیلئے متعین علاقے کا باقاعدہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، اسلام آباد میں کسی بھی اجتماع یا جلسے کیلئے کم ازکم 7 دن پہلے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دینا ہو گی، درخواست اس جلسے یا اجتماع کا کوئی کوآرڈینیٹر تحریری صورت میں درخواست دے گا، جلسے کے مقام، شرکاء کی تعداد اور جلسے یا اجتماع کاوقت اور مقاصد بتانا ہوں گے،ڈپٹی کمشنر  کے پاس جلسے پر پابندی کا اختیار ہو گا، جلسے یا اجتماع کی جائز وجوہات نہ دینے پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جلسےکی اجازت نہیں دےگا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جلسے کی اجازت نہ دینے کی تحریری وجوہات دے گا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جلسے کی اجازت دینے سے قبل امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لے گا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سکیورٹی کلیئرنس لے گا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مختص کردہ علاقے کے علاوہ کہیں اور جلسے کی اجازت نہیں دے گا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اپنے جاری اجازت نامے میں قومی سکیورٹی رسک کے خدشے پر ترمیم کر سکتا ہے، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد اجازت نامے میں تشددکے خدشے کی بنیاد پر بھی ترمیم کرسکتا ہے،حکومت اسلام آباد کے کسی مخصوص علاقے کو ریڈ زون یا ہائی سکیورٹی زون قرار دے سکتی ہے، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس اسمبلی پر پابندی کا اختیار ہوگا اگر وہ عوام کے تحفظ یا قومی سکیورٹی کیلئے رسک ہو، امن و امان کی خرابی کے خدشے کی مصدقہ رپورٹ ہو یا روز مرہ کی سرگرمیاں متاثر کرے، جلسے پر پابندی کی وجوہات تحریری طور پر دی جائیں گی اور متاثرہ شخص 15 روز کے اندر اپیل کر سکتا ہے،ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے انچارج کو جلسہ منتشر کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے، امن و امان خراب کرنے والا جلسہ منتشر نہیں ہوتا تو پولیس افسر طاقت سے منتشر کرا سکے گا۔

    حکومت پانچ سال پورے کرے گی یا نہیں میں نجومی نہیں ہوں،مولانا فضل الرحمان

    صدر مملکت آصف زرداری کی مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ آمد

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

  • ایوان میں وزرا  کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، پیپلز پارٹی کی رکن سحرکامران نے ایوان میں وزرا کی غیر حاضری کا معاملہ اٹھا دیا

    سحر کامران کا کہنا تھا کہ میں آپ کی توجہ ہاؤس کی طرف کروانا چاہتی ہیں،جس کی وجہ سے یہاں وزرا موجود نہیں ہوتے، سوالوں کے جواب نہیں ملتے یا غلط ملتے ہیں، ایوان میں وزراء کی مسلسل غیر حاضری اور ممبران کے اُٹھائے گئے سوالات پر وقت پر جواب نہ ملنے سے یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت قومی اسمبلی کی کاروائی میں دلچسپی نہیں رکھتی، وزرا جواب نہیں پڑھتے یا ان کی توجہ نہیں ہوتی،میں دو تین اس طرح کے سوال رکھتی ہوں اس طرح کے، میں نے سوال کیا تھا کہ سعودی عرب سے سو نرسیں جعلسازی کی وجہ سے واپس آئیں ،چھ مئی کو وزیراعظم کے پاس رپورٹ دی گئی،اس پر کیا ایکشن ہوا، اسکا جواب مجھے دیا گیا کہ ہم ٹریننگ کو بہتر کر رہے ہیں لوگوں کی، پھر سوال کیا کہ پاسپورٹ امیگریشن کے متعلق،کہ بیرون ملک میں ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملی،جس کا جواب دیا گیا کہ فنڈز کی کمی ہے 117 نئی آسامیاں بنائی گئی ہیں، اس میں پورا تضا د نظر آتا ہے، ،وزارتوں کی جانب سے صحیح جواب نہیں دیئے جا رہے،اسی طرح سوئی سدرن کے حوالہ سے بھی جواب صحیح نہیں دیا گیا ایک ادارہ تباہی کے دہانے پر ہے لیکن ادھر ایکسٹیشن دی جا رہی ہے، آج میرا سوال تھا جس افسر نے جواب دیا اسکے خلاف ایکشن لینا چاہئے،منسٹری آف کامرس ٹیکسٹائل کا جواب میں لکھا گیا حالانکہ ایسی کوئی منسٹری ہی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ انٹرسٹ ریٹ کم کرنے کی حکومت کوشش کر رہی ہے، حالانکہ یہ حکومت نہیں سٹیٹ بینک کی ایک کمیٹی کرتی ہے، اس طرح کے غیر سنجیدہ جواب دینا ہاؤس کی توہین ہے، یہ بہت اہم معاملہ ہے

    سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

    ارشدندیم کو قومی اسمبلی میں‌خراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش

     

  • قومی اسمبلی اجلاس،پانی کی قلت بارے جواب نہ آنے پر اسپیکر برہم

    قومی اسمبلی اجلاس،پانی کی قلت بارے جواب نہ آنے پر اسپیکر برہم

    اسپیکرایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کااجلاس ہوا

    ملک میں پانی کی قلت سے متعلق سوال کا جواب نہ آنے پر اسپیکر برہم ہو گئے، کہا سیکریٹری آبی وسائل کہاں ہیں؟ اسپیکرایاز صادق نے سیکریٹری آبی وسائل کو طلب کر لیا ، ایاز صادق نے کہا کہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لے رہے،ایک ماہ سے سوال کا جواب کیوں نہیں آیا؟ قرارداد پاس کریں گے کہ سیکریٹری آبی وسائل پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لیتے، بعد ازاں وزارت آبی وسائل کی جانب سے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کروایا گیا جس میں بتایا گیا کہ ملک بھر کے 29 شہروں کے 61 فیصد پانی غیر صحت بخش قرار دیئے گئے ہیں،

    قومی اسمبلی اجلاس،وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے وقفہ سوالات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 سال میں پن بجلی منافع کی مد میں خیبر پختونخوا کو 216 ارب روپے اداکئے ، پنجاب کو 73 ارب اور آزاد کشمیر کو 3 ارب 36 کروڑ روپے ادا کئے گئے ،فروری2024 تک پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں خیبر پختونخوا کے 36 ارب روپے واجب الادا ہیں،پنجاب کے 72 ارب اور آزاد کشمیر کے 37 کروڑ 90 لاکھ روپے واجب الادا ہیں، اعدادوشمار پر اعتراض ہے تو ساتھ بیٹھ کر جائزہ لینے کے لئے تیار ہیں

    کرتار پورطرز پر بھارت سےکوئی مذہبی راہداری شروع کرنے کی تجویز زیر غور نہیں،سالک حسین
    قومی اسمبلی اجلاس:وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین نےوقفہ سوالات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ کرتار پورطرز پر بھارت سےکوئی مذہبی راہداری شروع کرنے کی تجویز زیر غور نہیں،کرتار پور راہداری پر یاتریوں کی تعداد اتنی نہیں جتنی ہونی چاہیے،پاکستان سکھ یاتریوں کو تمام خدمات فراہم کر رہا ہے،بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کی گردوارہ دربار صاحب آمد کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں،پاکستان کرتار پور راہداری کے ذریعے یومیہ 5 ہزار سکھ یاتریوں کی میزبانی کی گنجائش رکھتا ہے، معاملہ بھارت کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھانے کی ضرورت ہے

    میر منور علی تالپور نے کہا کہ پہلے کراچی سے میرپورخاص کیلئے متعدد ٹرینیں چلا کرتی تھیں، اب ایک ہی ٹرین چلتی ہے اور وہ بھی کھٹارا ہے۔میرپورخاص سے پنجاب اور ملک کے دیگر شہروں کیلئے کوئی ٹرین کیوں نہیں چلائی جاتی ہے۔وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی رعنا انصر نے میرپور خاص سے کراچی جانے والی مہران ایکسپریس ٹرین سے متعلق سوال کیا کہ کب کھولی گئی جس پر وفاقی وزیر جام کمال خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مہران ایکسپریس کب کھولی گئی تاریخ وزارت بتا سکتی ہے لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ ٹرین چلا دی گئی ہے،ریلوے کے افسران سے تاریخ لے کر بتاتا ہوں،

    پمز کو سندھ کے سرکاری اسپتالوں کے طرز پر کیوں نہیں بنایا جاتا،ڈاکٹر مہرین بھٹو
    ڈاکٹر مہرین بھٹو نے کہا کہ پمز اسپتال میں کرپشن کا بازار گرم ہے، یہاں ادویات موجود نہیں، اگر کسی مریض کا آپریشن ہو تو اس کے رشتہ دار آپریشن کیلئے آلات،ادویات اپنی جیب سے خرید کر لاتے ہیں،پمز کو سندھ کے سرکاری اسپتالوں کے طرز پر کیوں نہیں بنایا جاتا،یہ واحد ہسپتال ہے پبلک سیکٹر کا اور اسکے پاس بہت بڑا علاقہ لگتا ہے، لیکن یہاں سہولیات نہیں ہیں، مریض اور انکے لواحقین رل رہے ہیں،

    گلی محلے میں گلی ڈنڈا کھیلنے والے نامور کرکٹر بنتے تھے،آج بھی وہی والی ٹیم چاہئے، طاہرہ اورنگزیب
    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکنِ اسمبلی طاہرہ اورنگزیب اور پی ٹی آئی کے رہنما نثار احمد جٹ کے درمیان دلچسپ مکالمے پر ہال قہقہوں سے گونج اٹھا،طاہرہ اورنگزیب نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم میں سیلیکشن کا طریقہ کار کیا ہے، پہلے بہت نامور کھلاڑی پیدا ہوا کرتے تھے، گلی محلے میں گلی ڈنڈا کھیلنے والے نامور کرکٹر بنتے تھے، آج کی ٹیم کی سمجھ ہی نہیں آتی، ہمیں وہی والی ٹیم چاہیے، آج اسی ٹیم کی ضرورت ہے، ضرورت ہے کہ اسکولوں اور کالجز سے لڑکے قومی ٹیم میں لیے جائیں، بصورتِ دیگر اس ٹیم اور کھیل پر پابندی لگا دینی چاہیے، وہ کھلاڑی کہاں چلے گئے جو پاکستان کو فتح سے ہمکنار کرتے تھے؟

    نثار جٹ نے طاہرہ اورنگزیب کو لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ جس کی بات کر رہی ہیں وہ آج جیل میں ہے،نثار جٹ کے طاہرہ اورنگزیب کو لقمہ دینے پر ایوان میں قہقے گونج اٹھے،طاہرہ اورنگزیب نے نثار جٹ کے اس جملے پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں نہیں وہ جاوید میانداد، مدثر نذر اور دوسرے کھلاڑی تھے، کرکٹر ماہانہ لاکھوں لیتے ہیں لیکن کسی قومی المیے میں کبھی انہوں نے عطیہ بھی دیا؟ پہلے تو کھلاڑی قومی سانحات میں حصہ لیتے تھے۔

    سکول میں بڑا جنسی سیکنڈل،طالبات سےزیادتی،بنائی گئیں برہنہ ویڈیو

    بھارت کا سب سے بڑا سیکس سیکنڈل،مودی کے اتحادی نے کی 400 خواتین سے زیادتی

    ایک اور مدرسہ، ایک اور جنسی سیکنڈل،ایک دو نہیں ،کئی بچوں سے بدفعلی

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    کوئٹہ نازیبا ویڈیو سیکنڈل،عدالت نے دو ملزمان کو بری کر دیا

    گیارہویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ 7 ملزمان کی 48 گھنٹے تک اجتماعی زیادتی

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

  • بجلی کی لوڈشیڈنگ، آصفہ بھٹو نے قومی اسمبلی میں معاملہ اٹھا دیا

    بجلی کی لوڈشیڈنگ، آصفہ بھٹو نے قومی اسمبلی میں معاملہ اٹھا دیا

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا.

    خاتون اول و ممبر قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے ملک میں جاری طویل لوڈشیڈنگ کا معاملہ ایوان میں اٹھادیا، پیپلز پارٹی کی رہنما خاتون اول اوررکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو نے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی، آصفہ بھٹو اجلاس کے دوران عوام کی آواز بن گئیں، آصفہ بھٹو نے وقفہ سوالات کے دوران سوال اٹھایا کہ پاکستان کے شہریوں کو طویل گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کیوں کرنا پڑرہا ہے؟ جبکہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداوار استعمال سے زیادہ ہے۔اس کے باوجود بھی پاکستان کے شہریوں کو طویل گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کیوں کرنا پڑرہا ہے؟آصفہ بھٹو کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے لوڈشیڈنگ اور بجلی کی پیداوار پر مکمل وضاحت کی،وزیر قانون کا کہنا تھا کہ جن ایریاز میں ری کوری 80 فیصد سے زیادہ ہے وہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ کم ہو رہی ہے شہریوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا،ریکوری کا مسئلہ ہے، ایوان کے توسط سے آگاہی دینی ہو گی، قیمت کی واپسی شہریوں کی ذمہ داری ہے،

    پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے قوائد و ضوابط اور آئین کے مطابق آئی پی پی پیز کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے پورے ایوان کی کمیٹی بنائے جائے جو تمام حقائق سامنے لائے اور پوری قوم کو درست حقائق سے آگاہ کرے۔

    حنیف عباسی اپنے ہی وزراء پر قومی اسمبلی میں برس پڑے
    ن لیگی رہنما حنیف عباسی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مصدق ملک اور اعظم نذیر تارڑ نے کیا ٹھیکہ لیا ہوا ہے کہ سب وزارتوں کا جواب اُنہوں نے دینا ہے ایسے بہتری نہیں آئے گی۔میں وفاقی وزرا کو دو کو چھوڑ کر سب کو کہتا ہوں کہ وہ ایوان میں آئیں، دس دس وزارتوں کا یہ جواب دے رہے ہیں، کیسے ممکن ہے کہ ایک بندہ دس وزارتوں کا جواب دے اور پھر کہیں کہ ہمیں کامیابی ہو گی، ایسا ممکن نہیں ہے، جھنگ میں پچاس میگاواٹ کا آئی پی پی کئی برسوں سے بند پڑا ہے لیکن دس کروڑ روپیہ ماہانہ لے رہا ہے۔ یہاں پر 42 آئی پی پیز بند پڑے ہوئے ہیں لیکن انکے ماہانہ پیسے لیے جارہے ہیں،

    جو بل دینے والے ہیں انکی بجلی بھی بند ہو رہی ہے،کیوں؟ مصطفیٰ کمال
    وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی سید مصطفی کمال نے باقاعدگی سے بجلی کے بلز ادا کرنے والے صارفین کو درپیش مشکلات سے متعلق آگاہ کیا۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ میرا سوال ہے جس میں بات کلیئر نہیں ہو رہی ،بات لوڈشیڈنگ کی ہو رہی، جہاں سے نقصان ہے، بجلی چوری ہو رہی ،یہ کیا کر رہے ہیں پورا فیڈر بند کر رہے ہیں، اس فیڈر میں جو بل دینے والے ہیں انکی بجلی بھی بند ہو رہی ہے، ایک فیڈر بند کرنے سے بل دینے والوں کی بجلی بھی بند ہو رہی ہے، ایسا کیوں ہو رہا، یہ سسٹم کیوں نہیں بناتے، اس رویئے کی وجہ سے بل دینے والا 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ برداشت کرے گا تو اگلے ماہ وہ بھی بل نہیں دے گا، پی ایم ٹیز کو یہ کیوں بند نہیں کرتے یہ پری پیڈ میٹرز پر کیوں نہیں جاتے، جو بل نہ دے اسکی بجلی بند کریں، بل دینے والے کی بجلی بند نہ کریں ابھی یہ پتہ نہیں چل رہا کہ چور کون ہے، یہ سسٹم کب بحال ہو گا،

    تنقید ضرور لیکن وطن عزیز کے چپے چپے کے لئے ہماری خدمات حاضر ہیں.مولانا فضل الرحمان
    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو ملک کیلئے غیر ضروری سمجھنے سے زیادہ بڑی حماقت کوئی نہیں،آج سیاسی لوگوں کی اہمیت ختم کی جا رہی ہے، سیاستدانوں کو بااختیار بناؤ اور معاملات سیاستدانوں کے حوالے کریں،یہ مفاد کی جنگ نہیں، یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ خطہ پاکستان پراکسی وار کا میدان جنگ بنا ہوا ہے، امریکہ چین، سی پیک،گوادر یہ سارے معاملات ہیں کہ ایک سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے جن کے ساتھ معاہدے ہیں لیکن ان منصوبوں میں رکاوٹیں کھڑی ہو گئی ہیں،بلوچستان میں یہی چاہ رہے ہیں کہ چین نکل جائے، حالات یہاں تک پہنچ چکے،بلوچستان میں ایک ہی دن مسلح افواج اور لوگوں پر حملے ہوئے، بلوچستان کے لوگوں سے بات چیت کریں، ریاست ناکام ہو جاتی ہے تو وہاں ہم جاتے ہیں اور صورتِ حال کو قابو کرتے ہیں، کچھ ایریازمیں پاکستان کا جھنڈا نہیں لہرایا جا سکتا، سکولوں میں پاکستان کا معاشرتی علوم نہیں پڑھایا جا سکتا، اس نازک صورتحال میں ہمیں اہم فیصلے کرنے ہوں گے، حکومت کو ذمہ داری ادا کرنی چاہئے، ہم تنقید کریں گے لیکن ملک کو اگر ہماری ضرورت پڑتی ہے وطن عزیز کے چپے چپے کے لئے ہماری خدمات حاضر ہیں.میں چاہتا ہوں کہ لوگ افواج پاکستان پر اعتبار کریں،مہنگائی بڑھتی جارہی ہے، لوگوں کو روزگار نہیں دے پارہے ہیں،یہ سب دیکھ کر سردار اختر مینگل نے استعفیٰ دے دیا ہے،18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے وسائل پر ان کا حق ہے،بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی کی وجہ سے حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے،مسلح قوتیں وہاں اسلحے کے ساتھ گاؤں گاؤں پھر رہی ہیں،

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

  • اختر مینگل نے استعفیٰ پر نظر ثانی کی یقین دہانی کرائی ہے،اسد قیصر

    اختر مینگل نے استعفیٰ پر نظر ثانی کی یقین دہانی کرائی ہے،اسد قیصر

    پاکستان تحریک انصاف کے وفد کی اختر مینگل سے پارلیمنٹ لاجز میں ملاقات ہوئی ہے

    وفد میں اسد قیصر عمر ایوب روف حسن و دیگر پارٹی قیادت شامل تھی،ملاقات میں سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا بھی شامل رہے،ملاقات کے بعد اسد قیصر نے پارلیمنٹ لاجز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اختر مینگل سے ملاقات کی ہے، پانچ بجے ہمارے اتحاد کا اجلاس ہے،اختر مینگل نے استعفیٰ پر نظر ثانی کی یقین دہانی کرائی ہے،

    دوسری جانب حکومتی رہنما رانا ثناء اللہ نے سردار اختر مینگل سے ملاقات کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار اختر مینگل نے فوری استعفیٰ واپس لینے سے معذرت کرلی ہے،سردار اختر مینگل نے سیاسی جماعتوں کے وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی استعفی واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،جبرو تشدد، بلوچستان کے استحصال کا مسئلہ ہر حکومت میں اٹھایا،حکومت ریاست بلوچستان کے مسائل سمجھ نہیں پا رہی

    علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے اختر مینگل سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اختر مینگل سے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا حصہ رہیں، اختر مینگل نے ہمیشہ بلوچستان کے حقوق کی بات کی ہے، اختر مینگل قانون اور آئین کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھیں،ہم نے اختر مینگل کے پاس ریویو پٹیشن دائر کردی ہے، اختر مینگل نے کہا ہے کہ ہماری ریویو پٹیشن پر غور کریں گے. امید ہے اختر مینگل ہماری نظرثانی کی درخواست منظور کریں گے،اختر مینگل نے جن تحفظات کا اظہار کیا وہ امانت ہیں، اختر مینگل کے تحفظات متعلقہ حکام تک پہنچائیں گے،زیراعظم تمام پارٹی لیڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد آگے بڑھیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بی این کے سربراہ، رکن قومی اسمبلی اختر مینگل نے اسمبلی رکنیت سےمستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختر مینگل کا کہنا تھا کہ میں آج اسمبلی سے استعفیٰ کا اعلان کرتا ہوں،میں اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کر سکا، بلوچستان کے حالات دیکھ کر فیصلہ کر کے آیا تھا، میں ریاست، صدر اور وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اعلان کرتا ہوں، پورے نظام پر عدم اعتماد کر رہا ہوں

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

  • سیاست سے بہتر پکوڑے کی دکان،اختر مینگل اسمبلی سے مستعفی

    سیاست سے بہتر پکوڑے کی دکان،اختر مینگل اسمبلی سے مستعفی

    بی این کے سربراہ، رکن قومی اسمبلی اختر مینگل نے اسمبلی رکنیت سےمستعفی ہونے کا اعلان کر دیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختر مینگل کا کہنا تھا کہ میں آج اسمبلی سے استعفیٰ کا اعلان کرتا ہوں،میں اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کر سکا، بلوچستان کے حالات دیکھ کر فیصلہ کر کے آیا تھا، میں ریاست، صدر اور وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اعلان کرتا ہوں، پورے نظام پر عدم اعتماد کر رہا ہوں،بلوچستان کے معاملے پرلوگوں کی دلچسپی نہیں، میں اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کرسکا، جب بھی اس مسئلے پربات کرو تو بلیک آؤٹ کردیا جاتا ہے، ملک میں صرف نام کی حکومت رہ گئی ہے، 65 ہزار ووٹرز مجھ سے ناراض ہونگے ان سے معافی مانگتا ہوں ،پاکستان میں سیاست سے بہتر ہے پکوڑے کی دکان لگالوں ،یہ نظام بلوچستان کا قاتل ہے،یہاں پر لوگ اپنے حق کے لئے آواز اٹھاتے ہیں تو ان کو بھی نہیں بولنے دیا جاتا، آج جو آئین کی بات کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں آئین کے مطابق بات کرے گا ان سے بات کریں گے، کیا اسمبلی آئین کے مطابق نہیں؟ ہم تو اسمبلی میں بات کر رہے تھے، ہمیں اسمبلی میں بات نہیں کرنے دیتے، ایپکس کمیٹی کی میٹنگ کوئٹہ میں بلائی گئی، ہمیں بھی دعوت دی گئی، 75سالوں میں ہم آپ کو سمجھا رہے ہیں لیکن آپ کو سمجھ نہیں آرہا، بلوچستان کے حالات کی نشاندہی میں کئی سال پہلے کر چکا ہوں لیکن کسی کو پرواہ نہیں،خود اس ریاست سے، اداروں سے اور سیاسی جماعتوں سے میں مایوس ہو چکا ہوں، محمود خان اچکزئی اس امید سے ہیں کہ شاید ان کو اس پارلیمنٹ سے ان کو کچھ ملے گا، ہم نے اس ملک کے ہر ادارے کے دروازے کھٹکٹائے لیکن ہماری بات نا سنی گئی، ہم کہاں جائیں اور کس کا دروازہ بجائیں، آئین کے بنانے والے نا خود کو بچا سکے نا آئین کو بچا سکے، 4 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے تو اختر مینگل کے پاس آجاتے ہیں،جب ضرورت ہوتی ہے تو محمود خان اچکزئی کو تحفظ آئین کا چئیرمین بنا دیا جاتا ہے،

    بعد ازاں ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے اختر مینگل کا کہنا تھا کہ میرے والد سردار عطاء اللہ مینگل کی تیسری برسی کے موقع پر، میں انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بطور رکن پارلیمنٹ استعفیٰ دیتا ہوں۔ میں، اختر مینگل، رکن قومی اسمبلی، بطور رکن پارلیمنٹ اپنے عہدے سے مستعفی ہوتا ہوں۔بلوچستان کی موجودہ صورتحال نے مجھے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہمارا صوبہ مسلسل اس ایوان کی جانب سے نظرانداز ہوتا رہا ہے۔ ہر روز، ہمیں دیوار سے مزید لگایا جاتا ہے، جس سے ہمیں اپنے کردار پر نظرثانی کرنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ اس اسمبلی میں بلوچستان کے عوام کی حقیقی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے، میری طرح کی آوازیں بھی کوئی معنی خیز تبدیلی نہیں لا سکتیں۔یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ہمارے احتجاج یا اظہار رائے کو ہمیشہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے لوگوں کو یا تو خاموش کر دیا جاتا ہے، غدار قرار دیا جاتا ہے، یا بدتر، قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان حالات میں، میں اس صلاحیت میں مزید کام کرنا ناممکن سمجھتا ہوں، کیونکہ یہاں میری موجودگی میرے نمائندہ عوام کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں رہی۔لہٰذا، میں درخواست کرتا ہوں کہ میرے استعفے کو قبول کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ بلوچستان کی حفاظت فرمائے اور اسے خوشحال کرے۔

    اختر مینگل این اے 256 خضدار سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے،اختر مینگل گزشتہ پی ڈی ایم حکومت کا حصہ رہ چکے ہیں، اختر مینگل عمران خان کی حکومت کا بھی حصہ رہ چکے ہیں.

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • سگریٹ کے اوپر جتنا ٹیکس لگا سکتے ہیں لگائیں،اسد قیصر کا قومی اسمبلی میں مطالبہ

    سگریٹ کے اوپر جتنا ٹیکس لگا سکتے ہیں لگائیں،اسد قیصر کا قومی اسمبلی میں مطالبہ

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    قومی اسمبلی اجلاس میں پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نےپوائنٹ آف آرڈر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں اسپیکر بھی رہا ہوں مجھے بزرگوں نے اخلاق کے اندر رہتے ہوئے بات کرنے کا کہا ہے، خواجہ آصف نہیں ہیں ایوان میں پھربھی میں خواجہ آصف کی دو باتوں کا جواب دینا چاہتا ہوں،خواجہ آصف نے کہا کہ میں تمباکو مافیا کا نمائندہ ہوں،صوابی میں 55 فیصد علاقے پر تمباکو کی کاشت کی جاتی ہے،جب سے پاکستان بنا ہے یہاں‌پر ہمارے لوگوں کی اکانومی، روزگار تمباکو ہی ہے، میرا تمباکو کے ساتھ ذاتی طور پر کوئی تعلق نہیں، نہ میرا کاروبار ہے، کوئی بتائے کہ میرا کہاں کاروبار ہے تمباکو کا؟ میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنے علاقے کی نمائندگی کروں، اور عوام کی آواز بنوں، جب میں اسپیکر تھا تو ہم نے ایک کمیٹی بنائی تھی، ہم نے شبر زیدی کو بلایا اور کہا کہ بتایا، تشبر زیدی کی سربراہی میں تمباکو کی کاشت پر ایک کمیٹی بنائی گئی، کمیٹی نے تمباکو کے خام مال پر 300 فیصد ٹیکس کااضافہ کیا، ہم نے اس پر وضاحت مانگی کہ یہ جو ٹیکس پر اضافہ ہوا اس سے ٹیکس ریونیو میں کوئی خاطر خواہ اضافہ ہوا یا نہیں، خام مال پر ٹیکس لگانے سے کسان کے نقصان ہوا، ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ خام مال کی بجائے سیگریٹ پر ٹیکس لگایا جائے، بڑی کمپنیاں اپنی اجارہ داری قائم کرتی ہیں،ٹیکس چوری کا خاتمہ ہونا چاہیے،ایف بی آر کے اعدادوشمار دیکھیں کہ ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا، ہم نے مطالبہ کیا کہ را میٹریل کی بجائے سگریٹ پر ٹیکس لگائیں، سگریٹ پر ٹیکس لگانے کی بجائے کسان کو متاثر کرتے ہیں، ہم نے مطالبہ کیا کہ سگریٹ کے اوپر جتنا ٹیکس لگا سکتے ہیں لگائیں لیکن کسان کو خوار نہ کریں، کے پی اسمبلی میں متفقہ قرارداد پاس کی گئی تھی کہ تمباکو کو زراعت میں شامل کیا جائے،

    اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ ہماری تقریروں کو سینسر کر دیا جاتا ہے، خیبر اور وزیرستان میں دھرنے بیٹھے ہیں، حکومت نے ان لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا،اسد قیصر نے فاٹا اور وزیرستان سے متعلق خصوصی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کر دیا،کہا کہ بلوچستان میں بہت سنجیدہ واقعات ہوئے ہیں، فوجی اور مزدور شہید ہوئے ہمیں اس کا افسوس ہے، حکومت بلوچستان کے حوالے سے مکمل خاموش ہے،

    ماضی میں ازخود نوٹس کے ذریعے سیاسی لوگوں کو نشانہ بنایا گیا،نورعالم خان
    قومی اسمبلی اجلاس:عدلیہ کے ازخود نوٹس کے اختیار سے متعلق آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا، اسپیکر ایاز صادق نے بل قائمہ کمیٹی انصاف میں بھیج دیا،بل جے یو آئی ف کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے پیش کیا۔نور عالم خان کا کہنا تھا کہ میرا بل ازخود نوٹس کے متعلق ہے، ازخود نوٹس کا ماضی میں بہت غلط استعمال ہوا ہے، ماضی میں ازخود نوٹس کے ذریعے سیاسی لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، 9 ججز بیٹھ کر ازخود نوٹس لینے کا فیصلہ کریں گے، ازخود نوٹس کے فیصلوں کی اپیل کا حق بھی دیا جائے گا،اگر سیاستدان دوہری شہریت کے حامل ہوں تو وہ ممبر اسمبلی، سینیٹر، وزیر، وزیراعظم نہیں بن سکتے تو پھر عدلیہ میں بیٹھ کر فیصلے کرنیوالے ججز جو دوہری شہریت کے حامل ہوں وہ کیسے جج بن کر بیٹھ سکتے ہیں؟وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 2023 میں اسی ایوان نے پریکٹس اینڈ پراسیجر ایکٹ بنایا، پریکٹس اینڈ پراسیجر ایکٹ پر فل کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا، سپریم کورٹ نے پارلیمان کے قانون سازی کے اختیار کو تسلیم کیا،پریکٹس اینڈ پراسیجر ایکٹ میں مزید ترمیم کی جا سکتی ہے،آرٹیکل 184 میں مزید ترمیم کا آئینی ترمیمی بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا

    نعرہ انصاف کا،رہائی ایک بندے کی چاہئے،54 ہزار مقدمات کا کیا کریں، بیرسٹر دانیال چوہدری
    سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کا بل موخر کر دیا ،بل مسلم لیگ ن رکن قومی اسمبلی بیرسٹر دانیال چوہدری نے پیش کیا،اور کہا کہ ہمارے اپوزیشن کے دوست یہاں ایک بندے کی رہائی کی بات تو کرتے ہیں لیکن ان 54 ہزار کیسز کی بات نہیں کرتے جو سپریم کورٹ میں پینڈنگ پڑے ہوئے ہیں،کافی دنوں سے کافی بحث اس بل پر ہو رہی تھی، روز نئی بات سامنے آتی تھی، ہماری آبادی بڑھ چکی ہے، 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی، سپریم کورٹ میں پینڈنگ کیسز ہیں، ہمارے بھائی انصاف کی بات کرتے ہیں لیکن ان پینڈنگ کیسز بارے بات نہیں کرتے، 54 ہزار بندوں کی رہائی کی بات نہیں ہوتی جن کے مقدمے پھنسے ہوئے ہیں،یہاں وکیل بھائی بھی بیٹھے ہیں، پچھلے دنوں ایک کیس سامنے آیا ایک بندے کی سزا 25 سال تھی اور اس کی اپیل کی باری 34 سال بعد آئی، یہ باری 34 سال بعد کیوں آئی، کیونکہ کیس پینڈنگ ہیں، ججز کی تعداد کم ہے

    فاقی وزیر مصدق ملک نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت بنجر علاقے کو زیر کاشت لایا جاتا ہے،پروگرام کے لیے 4.8 ملین ایکڑ زمین کی نشاندہی کی گئی ہے، 8 لاکھ 12ہزار ایکڑ زمین 2 صوبوں میں ایکوائر کی گئی ہے، پنجاب اور سندھ نے کانٹریکٹ کے تحت زمین ٹرانسفر کر دی ہے جبکہ باقی دو صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے بات چیت جاری ہے، گلگت بلتستان سے بھی گفتگو جاری ہے، منصوبے کے تحت صوبوں اور انویسٹرز کے درمیان شراکت داری ہو گی، صوبوں کو 40 فیصد اور انویسٹرز یا کمپنیوں کو 40 فیصد ملے گا، بنجر علاقوں میں تحقیق کے لیے 20 فیصد رقم آر اینڈ ڈی کے لیے مختص ہو گی، نگرانی کے لیے ایک کمپنی رجسٹرڈ کی گئی ہے، کسی صوبے میں درکار پانی اس صوبے کے حصے سے دیا جائے گا،اس سلسلے میں پہلی اسکیم چولستان کینال کی زمین ہے، ارسا اور وفاقی حکومت کا اصرار ہے کہ صوبہ اپنے حصے سے پانی دے گا، کسی دوسرے صوبے کا پانی نہیں لیا جائے گا۔

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • تین سال میں پہلی مرتبہ مہنگائی 9.6 فیصد پر آ گئی،عطا تارڑ

    تین سال میں پہلی مرتبہ مہنگائی 9.6 فیصد پر آ گئی،عطا تارڑ

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا

    شرمیلا فاروقی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ موجود ہے، تو دوسری طرف مئی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی بھی بنائی گئی ہے، دو ایجنسیز کا ہونا کیا یہ وسائل کا ضیاع تو نہیں۔

    وفاقی وزیراطلاعات ونشریات عطاءاللہ تارڑ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تین سال میں پہلی مرتبہ مہنگائی 9.6 فیصد پر آ گئی ہے،مہنگائی کی شرح کا کم ہونا وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے،بجلی بلوں میں عوام کوریلیف دیاجارہا ہے،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے،حکومتی اقدامات سے مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجیٹ میں آگئی ہے،زیریں اور بالائی جنوبی وزیرستان میں نادرا کے 5سینٹرز کام کر رہے ہیں،سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی ہےکہ تحصیل برمل اور مکین میں بھی نادرا سینٹرز قائم کریں،جنوبی وزیرستان میں مجموعی طور پر 8نادرا سینٹرز ہونگے،

    رواں سال منشیات بیرون ملک لے جانے کی 262 کوششیں ناکام بنائی گئیں
    وزارت انسداد منشیات نے قومی اسمبلی میں اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا ،اے این ایف نے رواں سال منشیات بیرون ملک لے جانے کی 262 کوششیں ناکام بنائیں، وزارت نے جمع کروائے گئے تحریری جواب میں بتایا کہ ایئرپورٹس، بندرگاہوں اور پارسلز کے ذریعے منشیات اسمگل کرنے کی کوشش کی گئی،رواں سال سعودی عرب منشیات اسمگل کرنے کی 31 مرتبہ کوشش کی گئی جبکہ یو اے ای منشیات اسمگل کرنے کی 44 مرتبہ کوشش کی گئی، سعودی عرب منشیات اسمگل کرنے کے 14 کیسز میں 16 افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان 29 کلو 640 گرام منشیات قبضے میں لی گئی، یو اے ای منشیات اسمگل کرنے سے متعلق 23 کیسز میں 28 افراد گرفتار ہوئے جبکہ ان سے 255 کلو منشیات تحویل میں لی گئی،

    ایک نمبر کا بدمعاش اور تلنگا ڈاکٹر ریاض،دہشتگردوں سے تعلق،ایجنسیوں پر الزام

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

  • رواں برس پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا

    رواں برس پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا

    رواں برس پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا،وزارت داخلہ نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کروا دیا

    24۔2023 کے دوران ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا اعتراف کیا گیا ہے،گزشتہ دو سال کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے 2075 واقعات میں 1215 افراد شہید ہوئے ،رواں سال اب تک ملک بھر میں دہشت گردی کے 561 واقعات میں 285 شہادتیں ہو چکی ہیں، گزشتہ برس دہشت گردی کے 1514 واقعات میں 930 افراد شہید ہوئے تھے۔ رواں سال خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی کے 282، بلوچستان میں 272 سندھ میں 5 واقعات ہوئے۔ رواں سال پنجاب اور اسلام اباد میں دہشت گردی کا ایک ایک واقعہ رونما ہوا،

    خیبر پختونخوا میں گزشتہ برس دہشتگردی کے 558 واقعات میں 580 افراد شہید اور 1447 زخمی ہوئے، خیبر پختونخوا میں گزشتہ برس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 402 اہلکار شہید اور 1054 زخمی ہوئے،خیبر پختونخوا میں گزشتہ برس 178 شہری شہید اور 393 زخمی ہوئے،بلوچستان میں 2023 میں دہشتگردی کے 626 واقعات میں 315 افراد شہید اور 477 زخمی ہوئے، قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے 148 اہلکار شہید اور 198زخمی ہوئے جبکہ 167 شہری شہید اور 279 زخمی ہوئے،سندھ میں گزشتہ برس دہشتگردی کے 19 واقعات میں 14 افراد شہید اور31 زخمی ہوئے۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے8 اہلکار شہید اور 26 زخمی ہوئے۔ صوبے میں 2023 میں دہشتگردی کے واقعات میں ایک شہری شہید اور 2 زخمی ہوئے،پنجاب میں 2023 میں دہشتگردی کے 8 واقعات میں 12 افراد شہید اور 11زخمی ہوئے۔ گزشتہ برس قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے 11 اہلکار شہید اور 9 زخمی ہوئے، جبکہ 2023 کے دوران ایک شہری شہید اور 2 زخمی ہوئے، 2023 کے دوران اسلام آباد میں دہشتگردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔گلگت بلتستان میں گزشتہ برس دہشتگردی کے 3 واقعات میں 9 افراد شہید اور 26زخمی ہوئے۔

    رواں برس چینی و جاپانی باشندوں پرسندھ میں 3،بلوچستان میں 2 ،خیبر پختونخواہ میں دو حملے ہوئے
    قومی اسمبلی میں 24-2020 کے درمیان چینی اور جاپانی باشندوں پر حملوں کی تفصیل پیش کر دی گئی، وزارت داخلہ نے تحریری جواب جمع کروایاجس میں کہا گیا کہ سندھ میں چینی اور جاپانی باشندوں پر 3 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 5 غیرملکی اور 5 مقامی افراد جاں بحق ہوئے، بلوچستان میں چینی باشندوں پر 2 حملے ہوئے، جن میں 3 افراد زخمی ہوئے، خیبر پختونخوا میں چینی باشندوں پر 2 حملے ہوئے،کے پی میں چینی اور جاپانی باشندوں پر حملوں میں 2 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، 17 چینی باشندے جان کی بازی ہار گئے جبکہ 19 مقامی لوگ شہید ہوئے، سال 2024 کی پہلی سہ ماہی میں خفیہ معلومات پر 2208 آپریشن کیےگئے، خفیہ آپریشنز میں 89 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور 328 کو گرفتار کیا گیا،عسکریت پسندوں کا داخلہ روکنے کےلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، دہشت گرد تنظیموں کےلیے اسلحہ اور مواد کی منتقلی روکنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    وزارت داخلہ کا پاکستان میں سائبر کرائم کے واقعات کی تعداد میں مسلسل اضافے کا اعتراف
    وزارت داخلہ نے پاکستان میں سے سائبر کرائم واقعات کی تعداد میں اضافے سے متعلق گزشتہ 3سالوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں،تحریری جواب میں کہا گیا کہ سال 2021 میں ایک لاکھ 15 ہزار 868 شکایات موصول ہوئیں،اسی ہزار آٹھ سو تین شکایات کی تصدیق ہوئی ،پندرہ ہزار سات سو چھیاسٹھ انکوائریاں کی گئیں ،،بارہ سو تئیس ایف آئی آرز کی گئیں ،38 کیسز میں سزائیں ہوئیں ،سال 2022 میں ایک لاکھ 36 ہزار 24 شکایات موصول ہوئیں،83 ہزار پانچ سو باون کیسز کی تصدیق ہوئی ،14 ہزار تین سو اسی کیسز کی انکوائریاں ہوئیں ،14سو 69 ایف آئی آرز ہوئیں ،اڑتالیس کیسز میں سزائیں ہوئیں ،سال 2023 میں ایک لاکھ 34 ہزار 710 شکایات موصول ہوئیں،82 ہزار تین سو چھیانوے کیسز کی تصدیق ہوئی،اٹھارہ ہزار بارہ کیسز کی انکوائریاں ہوئیں، 13سو 75کیسز کی ایف آئی آرز ہوئیں،92 کیسز میں سزائیں ہوئیں،

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا