Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • متروکہ وقف املاک بورڈ نے لال حویلی کو ایک بار پھر نوٹسز جاری کردیا

    متروکہ وقف املاک بورڈ نے لال حویلی کو ایک بار پھر نوٹسز جاری کردیا

    راولپنڈی، متروکہ وقف املاک بورڈ نے لال حویلی کو ایک بار پھر نوٹسز جاری کرتے ہوئے شیخ رشید کے بھائی شیخ صدیق کو 4 مئی کو وقف املاک بورڈ لاہور پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر وقف املاک راولپنڈی نے لال حویلی کی مستقل ٹرانسفر ڈیڈ کا کیس بنا کر چئیرمین کو بھیجا تھا، متروکہ وقف املاک بورڈ نے 30 جنوری کو لال حویلی کے سات یونٹ سر بمہر کردیے تھے۔

    شیخ رشید کی جانب سے دائر پٹیشن پر لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ نے لال حویلی سے متصل سربمہر کی گئی پراپرٹی ڈی سیل کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ متروکہ وقف املاک کو پندرہ دن کے اندر لال حویلی کے تنازعہ کو حل کرنے کا حکم دیا تھا۔ایڈمنسٹریٹرمتروکہ وقف املاک راولپنڈی نے شیخ رشید کی دائرکردہ اپیل پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ لیا تھا۔وقف املاک راولپنڈی کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر آصف خان نے لال حویلی کے خلاف ریفرنس چئیرمین بورڈ کو بھجوا دیا۔چیئرمین وقف املاک بورڈ لاہور نے شیخ رشید اور ان کے بھائی شیخ صدیق کو پیش ہونے کے 2 نوٹسز جاری کردیے۔

    ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر کے مطابق لال حویلی کے 3 یونِٹس ڈی 156، ڈی 157 اور ڈی 158 کی مستقل ٹرانسفر ڈیڈ شیخ رشید اور ان کے بھائی شیخ صدیق پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    لال حویلی خالی کرانے کا نوٹس، شیخ رشید کو عدالت سے ریلیف مل گیا

    اکیلی عورت لفٹ لے کر فرنٹ سیٹ پر کیسے بیٹھ گئی، عدالت کے ریمارکس

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    واضح رہے کہ متروکہ وقف املاک کی طرف سے شیخ رشید احمد کو یہ جگہ جھوڑے یعنی بے دخلی کا نوٹس بھیجا ہے لیکن شیخ رشید قبضہ چھوڑنے کےلیے تیار نہیں ہیں ، اس سرکاری زمین کے اصل رہائشی، سالوں سے انصاف کے منتظرہیں لیکن شیخ رشید اثرورسوخ استعمال کرکے اس جگہ کو چھوڑنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں شیخ رشید احمد کو سرکاری زمین خالی کرنے کا حکم پہلی مرتبہ نہیں کیا گیا بلکہ اس سے قبل 2014 میں متروکہ وقف املاک بورڈ نے اراضی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا مقدمہ کیا تھا لیکن شیخ رشید اس وقت سے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے اب تک ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں اور یہ کیس ابتک التوا کا شکار ہے

  • بغاوت کے قانون کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر عملدرآمد کیس ،نوٹس جاری

    بغاوت کے قانون کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر عملدرآمد کیس ،نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں بغاوت کے قانون کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ،عدالت نے درخواستگزار کو درخواست میں ترامیم کی ہدایت کر دی ،درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ عدالت نے بغاوت کے قانون سکیشن 124 اے کو کالعدم قرار دیے دیا تھا ۔حکومت ابھی تک عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کر رہی ۔لاہو رہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے درخواست پر سماعت کی

    درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ بغاوت کا قانون 1860 میں بنایا گیا جو انگریز دور کی نشانی ہے.بغاوت کا قانون غلاموں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا. آئین پاکستان ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے،اب بھی بغاوت کے قانون میں حکمرانوں کے خلاف تقاریر کرنے پر دفعہ 124 اے لگادی جاتی ہے،بغاوت کے قانون کو اب بھی سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے.عدالت پی پی سی 1860 کی دفعہ 124-A کو خلاف آئین قرار دینے کے اہنے فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دے،

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے محفوظ شدہ مختصر فیصلہ سناتے ہوئے بغاوت کے قانون کو کالعدم قرار دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ بغاوت کا قانون 1860 میں بنایا گیا جو انگریز دور کی نشانی ہے.بغاوت کا قانون غلاموں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا. کسی کے کہنے پر بھی مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے،آئین پاکستان ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے،اب بھی بغاوت کے قانون میں حکمرانوں کے خلاف تقاریر کرنے پر دفعہ 124 اے لگا دی جاتی ہے، بغاوت کے قانون کو اب بھی سکیشن 124 اے کے ذریعے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے.حکومت وقت کے خلاف تقاریر پر غداری کا سیکشن 124 اے لگانا آزادی رائے کے سیکشن دس اے کے خلاف ہے، عدالت پی پی سی 1860 کی دفعہ 124-A کو خلاف آئین قرار دے کر کالعدم قرار دے ،

  • عمران خان نے 121 مقدمات کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    عمران خان نے 121 مقدمات کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    لاہور:چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے اپنے اوپر 121 مقدمات کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، وزارت قانون، دفاع، سیکرٹری کیبنیٹ ڈویژن، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، اینٹی کرپشن، نیب، ایف آئی اے، وزیر اعظم، پیمرا اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

    جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں مجھ پر 121 ایف آئی آر درج کی گئیں، مقدمات کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں درج کیےگئے ہیں، نگران صوبائی حکومت کی جانب سے انتقامی کاروائیاں کی گئی ہیں تحریک انصاف کے سپورٹرز اوررہنماؤں کو نظربند اور گرفتار کیا جا رہا ہے-

    چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ درخواست کےفیصلے تک عدالت درج مقدمات میں کارروائی روکنےکا حکم دے پہلے سے درج مقدمات میں تادیبی کارروائی سے روکا جائے، عدالت بغیرنوٹس فوجداری کارروائی کرنے سے روکنےکا حکم جاری کرے۔

    مستحکم افغانستان خطے میں امن کیلئے ضروری

  • میاں اسلم اقبال کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل پرفیصلہ محفوظ

    میاں اسلم اقبال کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل پرفیصلہ محفوظ

    تحریک انصاف کے رہنما میاں اسلم اقبال کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے اپیلوں پر سماعت کی ،لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے بطور الیکشن ٹربیونل تحریک انصاف کے رہنما میاں اسلم کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا ریٹرننگ افسر نے میاں اسلم اقبال کے پی پی 170 سے کاغذات نامزدگی منظور کئے،جس کیخلاف ٹربیونل میں اپیل کنندہ نے موقف اختیار کیا کہ ریٹرننگ آفیسر نے درخواست گزار وں کے اعتراضات کو قواعد وضابطہ کے مطابق نہیں سنا ، میاں اسلم اقبال کو 9 کروڑ روپے سے زائدرقم چیک کے ذریعے دی اوراس رقم کو میاں اسلم اقبال نے اپنے اثاثوں میں چھپایا اور اس رقم پر ٹیکس بھی ادا نہیں کیا اس بنیاد پر میاں اسلم اقبال کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا حکم دیا جائے اور میاں اسلم اقبال کو پی پی 170 سے نااہل قرار دیا جائے

    دوسری جانب پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا آر او کا حکم کالعدم قرار دے دیا گیا، لاہور ہائیکورٹ میں پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے آراو کے حکم کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس شہرام سرور نے پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کی درخواست پر سماعت کی ۔ ٹربیونل نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا آر او کا حکم کالعدم قرار دے دیا،ٹربیونل نے پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،عدالت نے پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کی اپیلوں کو منظور کرلی

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

  • عبوری ضمانت کیلئےعثمان بزدار کوعدالت میں پیش ہونے کا حکم

    عبوری ضمانت کیلئےعثمان بزدار کوعدالت میں پیش ہونے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کوعبوری ضمانت کے لئے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ میں عثمان بزدار کی ممکنہ گرفتاری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی ، جسٹس طارق سلیم شیخ نےعثمان بزدار کی درخواست پر سماعت کی دوران سماعت عثمان بزدار کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے۔

    عدالت نے مراد سعید کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی کا کیس نمٹا دیا

    دوران سماعت سابق وزیراعلیٰ کےوکیل نےکہا کہ ڈی جی خان میں عثمان بزدار کے خلاف 10 انکوائریز اینٹی کرپشن میں جاری ہیں، عثمان بزدار کو اینٹی کرپشن کی جانب سے گرفتاری کا خدشہ ہے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اینٹی کرپشن کوعثمان بزدار کو ہراساں اور گرفتار کرنے سے روکا جائے۔

    دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ عثمان بزدار خود کہاں ہیں؟وکیل نے کہا کہ عثمان بزدار سے بذریعہ فون رابطہ ہوا ہے وہ عدالت آنے کو تیار ہیں لیکن اس وقت دوسرے شہر موجود ہیں اور ان کی طبیعت ناساز ہے۔

    بلاول بھٹو نے اتحادیوں کو سیاسی مذاکرات پر راضی کرنے کیلئے 3 رکنی کمیٹی قائم …

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر گرفتاری کا خدشہ تھا تو عدالت آنا چاہیئے تھا، عدالت چاہتی ہے کہ آپ سب سسٹم کے اندر آئیں، قانون سب کے لئے برابر ہے، اگر ضمانت لینی ہے تو عدالت پیش ہوں ،عثمان بزدار کے وکیل نے استدعا کی کہ عثمان بزدار کو عدالت پیشی کے لئے مناسب وقت دیا جائے۔

    عدالت نے عثمان بزدار کو عبوری ضمانت کے لئے پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 17 اپریل تک ملتوی کردی۔

    پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی …

  • پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکر دی

    پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکر دی

    پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) نے لاہور ہائیکورٹ میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی :چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے دائر کی پی ٹی آئی کی جانب سے یہ درخواست چیف الیکشن کمشنر کےخلاف 22 بیورو کریٹس کوعہدوں سے نہ ہٹانے پر دائر کی گئی۔

    عمران خان کی عبوری ضمانت اور ویڈیولنک حاضری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کو 22 بیوروکریٹس کے خلاف 7 یوم میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا، عدالتی حکم کے باوجود پرنسپل سیکرٹری، کمشنر،سی سی پی اولاہورعہدوں پر برقرار ہیں، الیکشن کمیشن نے آج تک تحریک انصاف کی اس درخواست کا فیصلہ نہیں کیا-

    درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام واضع طور پر توہین عدالت ہے، وزیراعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری و دیگرسیاسی وابستگی رکھتے ہیں۔

    پروسیجر اینڈ پریکٹس بل: حکومتی اتحاد نے سپریم کورٹ کے بینچ کا قیام مسترد کر …

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سیاسی وابستگی رکھنے والے بیورو کریٹس کو ہٹانے کا حکم دے، عدالتی حکم نظرانداز کرنے پر چیف الیکشن کمشنرکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

  • عدالت نے عمران خان کو 4 مئی تک گرفتار کرنے سے روک دیا،ویڈیولنک حاضری کی استدعا بھی منظور

    عدالت نے عمران خان کو 4 مئی تک گرفتار کرنے سے روک دیا،ویڈیولنک حاضری کی استدعا بھی منظور

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی 2 مقدمات میں ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے ایک دن کے لیے ویڈیو لنک حاضری کی استدعا منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی: انسداد دہشت گردی عدالت میں عمران خان کے خلاف 3 مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی عدالتی طلبی پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عبدالجبار ڈوگر پیش ہوئے دورانِ سماعت عدالت نے عمران خان کی عدم پیشی پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے سوال کیا کہ عمران خان کہاں ہیں؟ ابھی تک شریک ملزم عمران خان پیش نہیں ہوئے، اگر لیڈر شپ لیٹ آئے گی تو عام لوگوں کا کیا حال ہو گا؟

    عمران خان کے وکیل اظہر صدیق کے گھر پر نا معلوم افراد کا پٹرول بم …

    عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان ابھی کچھ دیر میں پیش ہو جائیں گے، مجھے 5 منٹ دے دیں، کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، عمران خان سابق وزیرِ اعظم ہیں، ان کی جان کو خطرہ ہے، عمران خان کے کیس کی سماعت بذریعہ کیمرہ کر لی جائے۔

    عدالت نے کہا کہ عدالتی عملے سے عمران خان کو کوئی خطرہ نہیں بیرسٹر سلمان صفدر نے جواب دیا کہ عمران خان کی وجہ سے عدالتی عملے کو خطرہ ہے عدالت نے استفسار کیا کہ مجھے آپ کے دلائل سننے کے بعد ضمانت خارج کرنا پڑی تو ملزم کو کیسے گرفتار کریں گے؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ گارنٹی دیتے ہیں کہ کوئی ایسا فیصلہ آیا تو عمران خان شاملِ تفتیش ہوں گے، تعاون بھی کریں گے –

    عدالت نے سوال کیا کہ عمران خان نے ایسا کون سا کام کیا ہے جو ان کی جان کو خطرہ ہے؟نواز شریف ، شاہد خاقان عباسی اور باقی سابق وزیر اعظم بھی ہیں وہ تو چل پھر رہے ہیں عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کہ یہ تو وزیر آباد حملہ کرانے والے ہی بتا سکتے ہیں، خدا نخواستہ کوئی واقعہ ہو گیا تو ملک میں حالات کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے-

    پروسیجر اینڈ پریکٹس بل: حکومتی اتحاد نے سپریم کورٹ کے بینچ کا قیام مسترد کر …

    دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ حالات ایسے ہوں تو ویڈیو لنک پر حاضری ہو سکتی ہے آپ کو کیا اعتراض ہے؟ ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نےکہا کہ مجھے 10 سے 15 منٹ دے دیں،میں عدالت کی معاونت کردیتا ہوں،سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف کوئی حوالہ ملا توپیش کروں گا۔

    عدالت نے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سے سوال کیا کہ کیا خطرے کا لیول وہی ہے جو عمران خان کے وکیل بتا رہے ہیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نےکہا کہ پولیس فائل کے مطابق عمران خان کو کوئی خطرہ نہیں جس پر عدالت نے کہا کہ تو آپ کہہ رہے ہیں کہ تھریٹ لیول ایسا نہیں جس کا دوسرے فریق نے اظہارکیا؟ اس پر پراسیکیوٹر نےکہا کہ جی میرے علم کے مطابق ایسا نہیں ہے۔

    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نےکہا کہ ہمارے پاس پوری معلومات ہیں، تاریخ کو دہرانےکا موقع نہیں دینا چاہیے، بینظیر بھٹو کا واقعہ سامنے ہےایک حکومتی وزیر ٹی وی پر کہتے ہیں کہ ہم رہیں گے یا عمران خان رہے گا۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وہ تو سیاسی بیان ہے، البتہ بے نظیر واقعے کا حوالہ غور طلب ہے ہمارے پاس قتل کے ملزمان آتے ہیں، ان کو اس سے بھی زیادہ خطرات ہوتے ہیں، آپ کی سکیورٹی نے تو مبینہ طور پر لوکل پولیس پر بھی ہتھیار سیدھے کرلیے تھے، عمران خان زندگی کا حق انجوائے کرنا چاہتے ہیں تو آزادانہ پھرنے کے حق پر سمجھوتہ کرلیں-

    شمالی کوریا کا ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ

    سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان جب بھی باہر نکلتے ہیں ان کے خلاف ایک مقدمہ ضرور درج ہوتا ہے، ان کی جان کو جب تک خطرہ نہیں تھا تو وہ عدالتوں میں پیش ہوتے رہے، ہمارے پاس اسنائپر شوٹرز کی رپورٹس ہیں، عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔

    وکیل نے کہا کہ عمران خان کو گولیاں لگی تھیں عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ عمران خان کا ایم ایل سی بنا تو ہے لیکن یہ وزیر آباد سے بنا ہونا چاہیے تھا عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شامل تفتیش ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ایک بیان ریکارڈ کروا دیا تو ختم، شامل تفتیش ہونے کا مطلب ہےکہ جب پولیس طلب کرے پیش ہونا لازم ہے۔

    عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت اور ویڈیو لنک حاضری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا بعد ازاں دوبارہ سماعت شروع ہو ئی جس میں عدالت نے عمران خان کو ویڈیو لنک پر حاضری کی اجازت دے دی۔ عدالت نے ایک دن کے لیے استدعا منظور کرتے ہوئے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری لگائی بعد ازاں مزید سماعت کے بعد عدالت نے 2 مقدمات میں ضمانت میں توسیع کردی اور عمران خان کو 4 مئی تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔

    عدالت نے فرخ حبیب، فواد چوہدری، حماد اظہر، میاں محمودالرشید اور اعجاز چودھری کی عبوری ضمانت میں بھی توسیع کردی۔

    بھارتی ریاست پنجاب میں فائرنگ سے ایک اور فوجی ہلاک</h

  • درخواست گزار پی ٹی آئی رہنماوں کی عدم پیشی پر عدالت کا اظہار برہمی

    درخواست گزار پی ٹی آئی رہنماوں کی عدم پیشی پر عدالت کا اظہار برہمی

    لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان وزیر آباد حملہ کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی کی تشکیل کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست گزار پی ٹی آئی رہنماوں کی عدم پیشی پر اظہار برہمی کیا، عدالت میں ایڈوکیٹ جنرل پنجاب پیش ہوئے ، عدالت نے کیس کی سماعت 18 مئی تک ملتوی کردی، عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر فاروق کہاں ہیں ،درخواست گزار موجود ہیں اور نہ انکے وکلا کی جانب سے کوئی پیش ہوا ،جونیئر وکیل نے کہا کہ برہان معظم ملک صاحب یہیں ہیں اگر عدالت کہتی ہے تو بلا لیتے ہیں ،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیا طریقہ ہیں درخواست گزار کے وکیل کو یہاں ہونا چاہیئے تھا ،ایسے تولگتا ہے کہ درخواست گزار اس کیس کا فیصلہ ہی نہیں ہونےدینا چاہتے،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ممبران کو تبدیل کیا گیا ہے نہ کوئی نئی جے آئی ٹی بنائی گئی ہے،

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    لاہور ہائیکورٹ میں چیرمین تحریک انصاف عمران خان کوپارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نےرجسٹرار آفس کا دفتری اعتراض ختم کردیا ،عدالت نے درخواست کو سماعت کےلئے مقرر کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا نااہلی کا معاملہ دیکھنا تو الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں ۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اس پر مزید دلائل کے لئے وقت دیاجائے۔ جسٹس عابد حسین چٹھہ نے کیس کی سماعت کی ،دائر درخواست میں عمران خان،چیف الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا یے، درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ توشہ خانہ کے حقائق چھپانے پر الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دیا،نظیر موجود ہے نااہلی کے بعد نواز شریف بھی عدالت نااہل کر پارٹی صدر نہ رہے،قانونی طور پر نااہلی کے بعد کوئی پارٹی ہیڈ نہیں رہ سکتا،الیکشن کمیشن سے رجوع کیا مگر عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی عدالت عمران خان کو چیئرمین تحریک انصاف کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دے،

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 بل کے خلاف درخواستیں دائر

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 بل کے خلاف درخواستیں دائر

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 بل کے خلاف درخواستیں دائر کر دی گئی

    درخواست میں وفاقی حکومت، صدر مملکت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، راجہ عامر اور عبداللہ ملک ایڈووکیٹ کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی ہیں ۔درخواستیں خواجہ طارق رحیم جانب سے دائر کی گئی ہیں۔درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا کہ پارلیمان کو سپریم کورٹ کے معاملات میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار نہیں، آئین کے آرٹیکل 191 اور 142، 70 اور انٹری 55فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے تحت پارلیمان کو سپریم کورٹ کے معاملات میں اختیار نہیں، سپریم کورٹ کے رولز 1980 سے بنے ہوئے ہیں، قومی اسمبلی، سینیٹ اور باقی سب کے اپنے رول ہیں جو انہوں نے خود بنائے ہیں، آئین کے آرٹیکل 184/ 3 کے تحت اپیل کا حق نہیں دیا گیا تو ایکٹ کے تحت بھی نہیں دیا جا سکتا،بینچ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کا ہے،سپریم کورٹ اپنے فیصلوں اور از خود نوٹس کے معاملے کے حوالے سے معیارات طے کر چکی ہے،یہ قانون بنیادی حقوق کے متصادم ہے،بل بدنیتی پر مبنی ہے،یہ بل آئین کے ساتھ دھوکہ ہے، موقف بل کو کالعدم قرار دیا جائے، صدر مملکت کو بل پر دستخط سے روکا جائے،عدالتی کارروائی تک بل کو معطل رکھا جائے،

    علاوہ اذیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 4 کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ لاہورہائیکورٹ میں شہری مشکور حسین نے ندیم سرور ایڈووکیٹ کی وساطت سےدائر درخواست میں وفاقی حکومت اورصدر کوبذریعہ پرنسپل سیکرٹری فریق بنایا ہے۔

    سردار تنویرالیاس کی نا اہلی کے بعد خواجہ فاروق آزاد کشمیر کے قائم مقام …

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ دونوں ایوانوں سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل منظور ہوکر ایکٹ بن چکا ہے اور ایکٹ کے سیکشن 4 کے ذریعے سوموٹو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیاگیا ہے البتہ سوموٹو کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینا آرٹیکل 184 اور 185 کے منافی ہے اپیل کا حق صرف آرٹیکل 184 اور 185 میں ترمیم کرکے ہی دیا جاسکت ہے۔

    درخواست گزار نے استدعا کی ہےکہ عدالت سپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجر ایکٹ کے سیکشن 4کوکالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست کے حتمی فیصلے تک سیکشن 4 پر عملدرآمد روکے۔

    بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر مار گرانے کا واقعہ،گروپ کیپٹن کی کورٹ مارشل …

    قبل ازیں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا سپریم کورٹ میں محمد شافع منیر ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی ہے جس میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا جبکہ وکیل سعید آفتاب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کو چیلنج کیا گیا-

    نیشنل ڈائیلاگ ہوں تو معاملہ حل ہونے میں دیر نہیں لگے گی. وفاقی وزیرداخلہ رانا …

  • توشہ خانہ کا 1947 سے 2001 تک کے ریکارڈ سے متعلق رپورٹ طلب

    توشہ خانہ کا 1947 سے 2001 تک کے ریکارڈ سے متعلق رپورٹ طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں وفاقی حکومت کی 1990 سے 2001 کی توشہ خانہ کی تفصیلات اور تحائف دینے والے ممالک کا ریکارڈ پبلک کرنے کے سنگل بنچ کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    عدالت نے وفاقی حکومت سے توشہ خانہ کا 1947 سے 2001 تک کے ریکارڈ سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ،عدالت نے فریقین کو 17 اپریل کے لیے نوٹس بھی جاری کر دیے جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت کی، جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے وزارت پارلیمان اور وزارت داخلہ کو فریق نہیں بنایا ۔ وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ میں میمو میں یہ فریق ایڈ کر دوں گا ۔ سنگل بنچ نے تحائف دینے والے ممالک کا ریکارڈ پبلک کرنے کا کہا ہے ۔حکومت نے توشہ خانہ کے تحائف کا ریکارڈ پبلک کر دیا ہے ۔اگر تحائف دینے والے سورس کا بتاتے ہیں تو خارجی تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ جسٹس محمد رضا قریشی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی اپیل سے کیا ایسے نہیں لگتا کہ جو ہے وہ بھی لٹانے آ گئے ہیں ۔اب تو معاملہ اس سے آگے جانا ہے ۔ وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ حکومت نے سب کچھ ویب سائٹ پر ڈال دیا ہے صرف تحائف کے سورسز کی حد تک ریلیف مانگا ہے ۔

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    جسٹس رضا قریشی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تحائف لینے والے ڈیکلئیر بھی کر رہے تھے کہ نہیں ۔ اگر ہمیں کوئی گفٹ دے تو ہم بھی تحائف ڈکلییر کرنے کے پابند ہیں۔ وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ ریاست کی نمائندگی کرنے والوں پر تحائف ڈکلییر کرنے لازم ہے 1990 سے 2001 تک کا ریکارڈ چھپانے کی کوشش نہیں کر رہے ،جسٹس شاہد بلال حسن نے استفسار کیا کہ 1990 سے پہلے کا ریکارڈ کدھر ہے ۔ وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ 1990 سے پہلے کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں ہے ۔۔جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ اپکے پاس ہونا چاہیے آپ حکومت ہیں ،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ ایک خاص خطے کے لوگ بہت مہنگے گفٹ دیتے ہیں ۔جب مہنگے گفٹ ملتے ہیں تو باتیں ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ جسٹس رضا قریشی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاص خطے کے لوگ خاص لوگوں کو خاص گفٹ کیوں دیتے ہیں ۔وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ ہم صرف خارجہ پالیسی کی وجہ سے کہ رہے ہیں یہ سورسز پبلک نہ کیے جائیں حکومت پھنس رہی تھی اس لیے توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کیا گیا ۔جسٹس شاہد بلال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو بڑے بڑے پھنسیں گے عوام کی حکومت عوام کے لیے ہے ۔

    وکیل درخواست گزار کی جانب سے ایک ملک کا نام لینے پر وفاقی حکومت کے وکیل نے اعتراض کیا،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ یہی وجہ ہے جب نام سامنے آتا ہے تو باتیں شروع ہو جائیں ہیں جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ ہم فریقین کو مکمل سن کر فیصلہ کریں گے ۔

    عدالت میں ایف آئی اے کی جانب سے جواب جمع 

    توشہ خانہ کیس میں نیب کی تحقیقات جاری ہیں، نیب نے سابق وزیراعظم عمران خان سے سوالات پوچھے