Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • مجھے معلوم ہے پولیس کیا کارنامے انجام دے رہی ہے،عدالت کے ریمارکس

    مجھے معلوم ہے پولیس کیا کارنامے انجام دے رہی ہے،عدالت کے ریمارکس

    لاہور ہائیکورٹ میں خاتون کی حبس بے جا کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    عدالتی حکم پر سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی اور اے آئی جی لیگل پیش ہوئے، عدالت نے سی سی پی او لاہور کی رپورٹ مسترد کردی ،عدالت نے سی سی پی او لاہور کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش دیدیا، جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ لاہور پولیس کیا کارنامے انجام دے رہی ہے، سائلین کو عدالتی حکم پر عمل درآمد کیلئے دوبارہ درخواست دائر کرنا پڑتی ہے، عدالت کو اپنے ہی حکم پر عمل درآمد کیلئے دوبارہ کارروائی کرنا پڑتی ہے، پولیس عدالت اور سائل کا وقت ضائع کرتی ہے،

    عدالت نے حکم دیا کہ آج تک جتنے ہائیکورٹ کی جانب سے احکامات جاری ہوئے ان کی رپورٹ پیش کریں، عدالت نے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 19 اپریل تک ملتوی کردی ،جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے خاتون نذیراں بی بی کی درخواست پر سماعت کی

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    واضح رہے کہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، پولیس جرائم کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف مگر ناکام دکھائی دے رہی ہے، دن دہاڑے ڈکیتیاں ہو رہی ہیں تو خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات بھی مسلسل پیش آ رہے ہیں،

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • عمران خان نے پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    عمران خان نے پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    لاہور: تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: سابق وزیراعظم کی جانب سے دائر درخواست میں چیئرمین پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پیمرا کی پابندی کا نوٹیفکیشن معطل کر رکھا ہے نوٹیفکیشن معطلی کے باوجود ٹی وی چینلز پر نشر نہ کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے-

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    چئیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ٹی وی چینلز پرعمران خان کی تقاریر نشر نہ کرنے کیلئے دباؤڈالا جارہا ہے پیمرا کی جانب سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ چیئرمین پیمرا کو ذاتی حیثیت میں طلب کرے اور چیئرمین پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے۔

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

    یاد رہےکہ پیمرا نےتمام ٹی وی چینلز پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تقاریربراہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کردی تھی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان کی تقریر پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لگائی گئی ہے-

  • عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی حد تک عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نےعمران خان کی مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی درخواست پرسماعت کی اس موقع پر وکلا کی جانب سے عدالت پہنچنے میں دشواری کی شکایت کی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں بھی اسی طرح آیا ہوں آپ کے پارٹی لیڈر آرہے ہیں، انہی کے لیے سیکیورٹی لگائی ہوئی ہے۔

    عدالت میں پیشی کیلئے عمران خان لاہور سے اسلام آباد روانہ

    وکیل فیصل فرید نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے گزشتہ روز کے بیان کی کاپی عدالت کے سامنے پیش کی اور کہا کہ صورت حال یہ ہے یہاں پر ضمانت کرا کے نکلتے ہیں تو فیک ایف آئی آر میں اٹھا لیا جاتا ہے۔

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے درخواست منظور کرنے کی استدعا کی جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ کہ آپ نے درخواست کر رکھی ہے کہ غیرقانونی گرفتاری روکیں، آپ کی درخواست منظور کروں تو آپ کے کلائنٹ گرفتار ہوجائیں گے، کیا میں کہہ دوں غیرقانونی نہیں تو قانونی گرفتار کرلیں؟ اپنے کلائنٹ کے ساتھ یہ نہ کریں، میں صرف اس عدالت کے دائرہ اختیار تک احکامات دے سکتا ہوں۔

    فیصل چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اسی عدالت نے نوازشریف کی صحت کی ضمانت مانگی تھی، اس پر عدالت نے کہا کہ میں کسی ایسی چیز میں نہیں جانا چاہتا، بائی بک ہی چلتا ہوں۔

    حسان نیازی کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج

    بعد ازاں عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی حد تک تفصیلات طلب کرلیں اور کل تک عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

  • عمرا ن خان کی دو مقدموں میں ضمانت منظور،زمان پارک آپریشن کیس کی سماعت بھی ملتوی

    عمرا ن خان کی دو مقدموں میں ضمانت منظور،زمان پارک آپریشن کیس کی سماعت بھی ملتوی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمرا ن خان لاہورہائیکورٹ پہنچ گئے

    عمران خان کی گاڑی کے پاس سے پسٹل برآمد کر لیا گیا، عمران خان کمرہ عدالت پہنچ گئے، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی گاڑی کے پاس سے پستول برآمد کیا گیا ہے،پولیس نے پستول قبضے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ پسٹل ممکنہ طور پر کسی پولیس اہلکار کا ہے جو گاڑی پاس گرا،

    پی ٹی آئی کارکن بھی عمران خان کے ہمراہ ہیں،جو عمران خان کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے،عمران خان 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کیلئے ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے پولیس نے عمرا ن خان کو گیٹ پر روک لیا، بعد ازاں عمران خان دوسرے دروازے کی جانب گئے، عمران خان جوڈیشل اکیڈمی کے سامنے والے دروازے سے لاہور ہائیکورٹ میں داخل ہوئے،عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ پہنچ کر فواد چودھری کو گاڑی کے اندر بلا لیا ، بعد ازاں عمران خان گاڑی سے عدالت جانے کے لئے اترے تو عمران خان کو گاڑی سے اترنے اور عدالت جانے سے قبل بلٹ پروف جیکٹ پہنائی گئی ایک شخص مسلسل بکتر بند ڈھال سامنے لے کر چلتا رہا

    عدالت نے عمران خان کے گارڈز کو باہر جانے کا حکم دے دیا
    دہشت گردی کے 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہو گئے ،عمران خان جسٹس طارق سلیم شیخ کے روبرو پیش ہوئے ،فواد چودھری اورایڈووکیٹ اظہر صدیق عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ یہ گارڈز کس کے ہیں عمران خان کے ساتھ،اگر پولیس کے ہیں تو ٹھیک پرائیویٹ گارڈز ہیں تو باہر جائیں،فواد چودھری نے عدالت میں کہا کہ سر یہ خان صاحب کی ذاتی سکیورٹی ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کے ذاتی گارڈز کو کمرہ عدالت سے باہر نکالنے کا حکم دے دیا،

    میری بیوی پردہ کرتی ہے شیشے کے پیچھے تھیں پولیس نے شیشے توڑ دئیے میری بیوی نے شیشے ٹوٹنے پر چیخیں ماریں،عمران خان کا عدالت میں بیان
    دوسری جانب عمران خان کی رہائش گاہ پر پولیس آپریشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نےعمران خان کی درخواست پر سماعت کی ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان روسٹرم پر آگئے ،عمران خان نے عدالت میں کہا کہ اسلام آباد میں تھا زمان پارک میں آپریشن کر دیا، عدالتی حکم کے باوجود میرے گھر پر آپریشن کیا گیا میری بیوی پردہ کرتی ہے شیشے کے پیچھے تھیں پولیس نے شیشے توڑ دئیے میری بیوی نے شیشے ٹوٹنے پر چیخیں ماریں، اس سے متعلق ویڈیوز میں بھی موجود ہے گھر کی ساری فوٹیج ریکارڈ پر موجود ہے، عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ،عدالت نےسرکاری وکیل کو زمان پارک آپریشن سے متعلق ہدایات لیکر پیش ہونے کی ہدایت کر دی،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو عدلیہ کو مذاق بنا رہے ہیں انکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کروں گا،اگر فریقین نے عدلیہ کی عزت نہ کی تو پھر توہین عدالت کی کارروائی کروں گا ، عمران خان نے عدالت میں کہا کہ چار دیواری کا تقدس پامال ہوا ،میرے 5 گارڑز کو پکڑ کر لے گئے اور تشدد کیا ،آج چھپ کرعدالت پہنچا ہوں ،اس گاڑی میں آیا جس کو کوئی نہیں جانتا ،میں اسلام آباد ٹول پلازہ پر پہنچا تو انہیں نے میرے گھر پر حملہ کردیا حکومت نے دنیا کو یہی پیغام دیا کہ یہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے قانون کے مطابق کارروائی کرنا ہوتی ہے ، صرف قانون کی بات کرتے ہیں،

    وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ عمران خان پر درج مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کے لیے مہلت دے، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں کوئی حکم جاری کرتا ہوں تو آپکو مسئلہ ہوگا ،میرے پاس صرف مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی حد تک درخواست ہے وہ دیں ،عدالت نے مقدمات کی تفصیل کے حوالے سے وفاق کے وکیل سے بیان حلفی طلب کرلیا ، عالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ دو دن میں تفصیل اکٹھی کرلیں اور ساتھ درخواست گزار کو ریلیف دیں ،یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ تاخیر بھی کریں اور ریلیف بھی نہ دیں ،

    کمرہ عدالت سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان واپس جانے لگے تو عدالت نے روک لیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا کیس ہے اور آرڈر سن کر جائیں، عمران خان نے عدالت میں کہا کہ جی میں حاضر ہوں، لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کر دی

    پنجاب حکومت کے وکیل کا جسٹس طارق سلیم شیخ پرعدم اعتماد کا اظہار
    پنجاب حکومت کے وکیل کی جانب سے جسٹس طارق سلیم شیخ پر عدم اعتماد کا اظہارکر دیا گیا،اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے استدعا کی کہ کیس دوسری عدالت میں منتقل کیا جائے ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس بات پر آپکو عدالت پر اعتماد نہیں ہے، یہ تو پہلے کا فیصلہ ہے اگر اس طرح کا آئندہ معاملہ ہوا تو میں توہین عدالت کی کارروائی کروں گا ازخود نوٹس لیکر بھی کارروائی کی جاسکتی ہے یہ کیس پہلے کا چل رہا ہے عدالتی حکم بھی پہلے کا ہے ،جسٹس طارق سلیم شیخ نے پنجاب حکومت کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدلیہ کی توہین نہ کریں، ہم نے بار بار آپکو مقدمات کے ریکارڈ کے لیے نوٹسز کیے آپ مہلت مانگ رہے ہیں، واٹس ایپ کا جدید دور ہے آپ کاپی واٹس کے ذریعے مانگوا لیں، لاہور ہائیکورٹ میں زمان پارک آپریشن کے خلاف درخواست پر سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی،

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی 2 مقدمات میں 27 مارچ تک ضمانت منظور کر لی
    بعد ازاں عمران خان دوسری عدالت میں پیش ہوئے، لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی دونوں مقدمات میں 27 مارچ تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی، وکیل نے کہا کہ عدالت نے حکم دیا تھا عمران خان وقت سے پہلے عدالت میں پہنچے ، جسٹس شہباز رضوی نے ہدایت کی کہ درخواستوں پر عمران خان کے دستخط کرائیں ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواستوں پر دستخط کر دیئے، جسٹس فاروق حیدر نے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ حلف نامے پر بھی دستخط کرائیں ،عمران خان نے حلف نامے بھی پر دستخط کر دیئے،عدالت نے عمران خان کی دونوں مقدمات میں 27 مارچ تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی ،عمران خان تھانہ گولڑہ اور سی ٹی ڈی کے مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے پیش ہوئے تھے

    پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست میں چیف سیکرٹری اورآئی جی پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پولیس نے چادر اور چادیواری کا تقدس پامال کیا، پولیس نے توڑ پھوڑ کی،املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس نے 18 مارچ کو زمان پارک آپریشن قانون کے منافی کیا، پولیس نے بنیادی حقوق کی خلاف وزری کی ،لاہور ہائیکورٹ کے 17 مارچ کے احکامات کی خلاف وزری کی گئی، عدالت متعلقہ فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے ،

    سابق وزیراعظم کی عدالت پیشی سے قبل لاہور ہائیکورٹ کے ارد گرد سکیورٹی سخت کی گئی ہے، پولیس کی بھاری نفری نے عدالتی احاطے کو گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ غیر متعلقہ افراد کا عدالت میں داخلہ بند کر دیا گیا ہے،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    گزشتہ روز عمران خان نے اسلام آ باد میں درج مزید 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائرکی درخواست میں عمران خان کی جانب سے 15 روز کی حفاظتی ضمانت دینے کی استدعا کی گئی ہے درخواست میں موقف اختیار کیا جارہا ہے کہ متعلقہ عدالت میں پیشی کیلئے حفاظتی ضمانت منظور کی جائے، درخواست پر سماعت کے بعد عدالت نے عمران خان کو سوا 2 بجے تک کمرہ عدالت میں پہنچنے کی ہدایت کی تھی، جسٹس شہباز رضوی نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہوگا کہ وہ آ رہے ہیں، راستے میں ہیں،کیا درخواستوں پر دستخط عمران خان کے ہیں ؟ درخواستوں پر عمرا ن خان کے دستخط تو سکین لگتے ہیں ، وکیل نے عدالت میں جواب دیا کہ دونوں دستخط عمران خان کے ہیں لیکن اسکینڈ ہیں ، جسٹس شہباز رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے لوگوں کو روکتے کیوں نہیں؟ ایک ہزار آدمی کیوں ساتھ جاتے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ کل تک عمران خان کی درخواست پر کاروائی ملتوی کی جائے، عمران خان موجود نہیں ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپکو ریلیف چاہیے تو کل سوا 2 بجے تک کمرہ عدالت میں موجود ہونے چاہیے،

  • عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیل فراہمی پر آپ کو ایشو کیا ہے؟ عدالت

    عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیل فراہمی پر آپ کو ایشو کیا ہے؟ عدالت

    لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف پنجاب میں درج مقدمات کی تفصیلات جاری کر دیں-

    باغی ٹی وی: ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پنجاب میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف مجموعی طور پر 6 مقدمات درج ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو2 مقدمات میں ڈسچارج کیا جا چکا ہے جبکہ 4 مقدمات میں تفتیش زیر التوا ہے-

    عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھ دیا

    پنجاب پولیس کے مطابق عمران خان کیخلاف تھانہ سرور روڈ اور ریس کورس میں تفتیش جاری ہے،عمران خان کیخلاف مدینہ ٹاون اور نیوائیر پورٹ راولپنڈی میں مقدمات خارج کیے جا چکے ہیں-

    عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حصول سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ پنجاب میں عمران خان کے خلاف 6مقدمات درج ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمات کی تفصیلات کون سی تاریخ تک ہیں؟ جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس لیے پوچھا آپ روز عمران خان کے خلاف نئے مقدمات درج کرتے ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ جو رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی یہ مقدمات 20 مارچ تک کی رپورٹ ہے، لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف درج مقدمات کا مکمل چارٹ طلب کر لیا، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے بھی مکمل رپورٹ فائل کرے،عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیل فراہمی پر آپ کو ایشو کیا ہے؟آج کل تو واٹس ایپ کا زمانہ ہے ایک منٹ میں سب کچھ مل جاتا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے کارروائی دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دی

    دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں عمران خان کی قتل کی سازش، بربریت، ریاستی دہشتگردی واقعات کی تحقیقات کی استدعاکی ہے۔

    جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر …

    عمران خان نے خط میں کہاہے کہ خود پر 90 سے زائد مقدمات میں مسلسل ویڈیو لنک سے پیروی کی درخواست کر رہاہوں ،حکومت میری سلامتی سے متعلق غیر سنجیدہ، سکیورٹی کی فراہمی سے گریزاں ہے،وزیرآباد میں ایک مہلک قاتلانہ حملے کا شکار ہو چکا ہوں ، حملے میں بچ جانے کے بعد عدالتی پیشیوں پر میری زندگی مسلسل خطرے میں ہے۔

    اسلا م آباد سمیت ملک کےمختلف شہروں میں بارش کا امکان

  • عمران خان کو پارٹی سربراہی سے ہٹانے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان کو پارٹی سربراہی سے ہٹانے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    لاہور:سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو پارٹی سربراہی سے ہٹانے کے لیے الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: عمران خان کی جانب سے دائر درخواست پر جسٹس شاہد بلال حسن کی زیرِسربراہی لاہور ہائی کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ کل بروزمنگل 21 مارچ کوسماعت کرےگا بینچ کےدیگرارکان میں جسٹس شمس محمود مرزا ،جسٹس جواد حسن ،جسٹس شاہد کریم اورجسٹس شہرام سرور شامل ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کوئٹہ پہنچ گئے،کیسز کی سماعت شروع

    واضح رہے کہ رواں برس 4 جنوری کو عمران خان نے پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کے لیے الیکشن کمیشن کا نوٹس لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ الیکشن کمیشن دائرہ اختیار سے تجاوز کر کے الیکشن ٹربیونل کا اختیار استعمال نہیں کر سکتا، الیکشن کمیشن قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر کسی رکن اسمبلی کو نااہل نہیں کر سکتا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عمران خان کخلاف مقدمات کی تفصیلات طلب

    درخواست میں دعوٰی کیا گیا تھا کہ عمران خان کو نااہل کہنا بلاجواز اور غیر قانونی ہے عمران خان کو پاکستان کی سیاست سے دور رکھنے کےلیےنوٹس جاری کیا گیا آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت عمران خان کو کہیں بھی جھوٹا قرار نہیں دیا درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کا نوٹس غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور درخواست پر حتمی فیصلے تک نوٹس معطل کرکے الیکشن کمیشن کو عمران خان کے خلاف کارروائی سے روکا جائے۔

    خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت میں 11 بجے تک وقفہ

  • زمان پارک آپریشن:پی ٹی آئی کا آئی جی پنجاب اور دیگر پر توہین عدالت کا کیس کرنے کا اعلان

    زمان پارک آپریشن:پی ٹی آئی کا آئی جی پنجاب اور دیگر پر توہین عدالت کا کیس کرنے کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کہا ہے کہ پولیس نے عمران خان کے باورچی سفیر کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے مطابق پولیس نے زمان پارک آپریشن میں گھریلو ملازمین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور عمران خان کے باورچی سفیر کو گرفتار کرلیا۔

    سیکیورٹی کمپنیوں کا اسکارٹ سروس بند کرنے کا اعلان

    پی ٹی آئی کا کہنا تھاکہ پولیس نے ڈرائیور شوکت کو مارا پیٹا اور 10 ہزار روپے چھین لیے،اس کے علاوہ پولیس کے اہلکاروں نے سوئیپر اسحاق پر بھی تشدد کیا، اس کا موبائل فون چھین کر لے گئے۔

    واضح رہے کہ لاہور میں پولیس نے زمان پارک میں آپریشن کیا۔ پولیس کے ہمراہ موجود اینٹی انکروچمنٹ کی ٹیم نے کرین کے ذریعے عمران خان کےگھر کا دروازہ اور دیوار توڑی، رہائش گاہ کے باہر موجود مورچوں اور تجاوزات کو بھی ہٹادیا گیا پی ٹی آئی کے 60 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا اور کیمپس اکھاڑ دیئے-

    پولیس نے آپریشن کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 40 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا۔

    پنجاب پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ سے اجازت کے بعد زمان پارک کے اطراف اور عمران خان کے گھر میں آپریشن کیا،سی سی پی او لاہور نے خود تمام آپریشن کی نگرانی کی، پولیس اہلکاروں نے عمران خان کی رہائش گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی تو اندر موجود کارکنان نے مزاحمت کی، جس پر پولیس نے شیلنگ کر کے انہیں منتشر کیا۔

    پی ٹی آئی نے پونے چار سال بحران در بحران پیدا کیے۔سراج الحق

    پولیس نے گھر سے اسلحہ برآمد کیا، جن میں 16 رائفلیں شامل ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر یہ اسلحہ سرکاری نظر آرہا ہے، بطور وزیراعظم عمران خان کو یہ اسلحہ دیا گیا تھا لیکن انہوں نے منصب سے ہٹنے کے بعد یہ اسلحہ واپس نہیں کیا پولیس نے دعویٰ کیا کہ زمان پارک سے شراب کی بوتلیں بھی برآمد ہوئیں ہیں۔

    پولیس کی جانب سے وضاحت سامنے آئی کہ آپریشن سرچ وارنٹ کے بعد کیا گیا۔ سرچ وارنٹ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ابہر گل نے جاری کیا تھا۔

    عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پولیس سے وارنٹ مانگے تو دکھائے نہیں گئے جبکہ اہلکار اُن کے شوہر کو بھی گرفتار کر کے لے گئیعمران خان کے گھر کے باہر اور اندر سے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ کارکنوں کی طرف سے مزاحمت کرتے ہوئے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔ پولیس نے کارکنوں کو قابو کرنے کےلیے شیلنگ کی۔


    پولیس کے مطابق لاہور پولیس پر حملہ کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے والے افراد کو گرفتار کیا گیا جن کی شناخت سی سی ٹی وی اور تصاویر سے کی جائے گی۔

    گرفتاری کی صورت میں پارٹی کون چلائے گا،عمران خان کا بیان سامنے‌آ گیا

    آپریشن کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے اطراف میں جمع ہوکر احتجاج کیا جبکہ قائدین بھی زمان پارک پہنچے جنہیں پولیس نے عمران خان کے گھر جانے کی اجازت نہیں دی مگر اُس کے باوجود فواد چوہدری، شہباز گل، میاں محمود الرشید بغیر اجازت روانہ ہوگئے۔


    ضلعی انتظامیہ نے عمران خان کے گھر کے باہر گرین بیلٹ میں پانی چھوڑا، اس مقام پر پی ٹی آئی کارکنان کے خیمے نصب تھے۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے پانی اس لیے چھوڑا تاکہ کارکن خمیے نا لگا سکیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے زمان پارک آپریشن پر انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب اور دیگر افسران پر توہین عدالت کا کیس کرنے کا اعلان کیا ہے

    فواد چوہدری سمیت دیگر رہنماؤں نے لاہور میں پریس کانفرنس کی اور کہا کہ جو زمان پارک میں ہوا وہ واضح طورپر دہشت گردی ہے۔

    فواد چوہدری کا کہناتھاکہ ہم پر کارکنوں کا دباؤ ہے کہ ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے، کارکن فائنل تحریک کے لیے تیاری پکڑیں، شیر عدالت میں پیشی کے لیے جارہا تھا اور ان گیدڑوں نے گھر پر حملہ کیا ، اس وقت پاکستان میں جو ہو رہا ہے اس کی نہ آئینی اور قانونی توجیح ہے۔

    وقت کی ضرورت ہے تمام سیاستدان یکجا ہوں،عارف علوی

    شیریں مزاری نے کہا کہ ریاست کو بتانا پڑے گا کہ کیوں اپنے لوگوں کے خلاف دہشتگردی کررہی ہے؟ یہ ایک لندن پلان ہے دوسری طرف مریم کو اقتدار میں لانے کی اسکیم ہے، مریم نواز کس حیثیت سے عمران خان کی گرفتاری کی بات کرتی ہے، بی بی مریم بتاؤ آپ کون ہوتی ہو یہ بات کرنے والی ؟-

    پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے عمران خان کو زمان پارک واپس نہ آنے کا مشورہ دے دیا۔ زمان پارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمود الرشید نے کہا کہ عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ موجودہ حالات میں زمان پارک نہ آئیں مگر انہوں نے بات ماننے سے انکار کیا اور ہر حال میں گھر واپس آنے کا کہا ہے انہوں نے بتایا کہ ٹھوکر پر قافلے موجود ہیں، جو عمران خان کے ساتھ زمان پارک آئیں گے۔

    وزیراعلی پنجاب نے فوری طور پر لاہور کی سڑکوں سے کینٹینر ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو کسی بھی صورت تنگی نہیں ہونی چاہیے، پولیس اور ضلعی انتظامیہ پی ٹی آئی کی مقامی لیڈر شپ کے ساتھ بیٹھ کر زمان پارک کے شہریوں کے مسائل حل کرے اور کینال کی ٹریفک کو یقینی بنائے۔

    وزیراعلیٰ کی ہدایت پر انتظامیہ نے کنٹینرز ہٹا کر سڑکوں کو ٹریفک کیلیے کھول دیا عمران خان کی اسلام آباد سے زمان پارک واپسی کا سُن کر ایک بار پھر لوگ جمع ہونا شروع ہوئے، لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بینئرز اورلائٹیں لگانا شروع کیے، عمران خان کی آمد سے قبل ایک مرتبہ پھر لوگوں نے زمان پارک کے باہر معاملات کو معمول پر لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

    شبلی فراز کی طبیعت ناساز ،اسپتال منتقل

    لاہور میں زمان پارک کی رہائشی خواتین نے پولیس آپریشن پراظہارتشکر کیا ہے خواتین نے کہا کہ پولیس کا شکریہ جس نے حوصلے سے کام کیا اور ہمیں نجات دلائی، نہ گھر سے نکل سکتے ہیں نہ کہیں آنا جانا ہوتا ہے –

    خاتون کا کہنا تھاکہ میں کالج میں پڑھاتی ہوں، کالج بھی نہیں جاسکتی، اکتوبر کے اختتام سے پریشانی کا سامنا ہے پولیس آپریشن سے سکون محسوس ہورہا ہے، آئی جی پنجاب سے بہت خوش ہیں یہ لوگ کہیں باہر سے آئے تھے، گنڈا پور نے بھیجے تھے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی اور پنجاب حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جو آج زمان پارک میں ہونے والے آپریشن کے دوران ٹوٹ گیا ذرائع کا بتانا ہے کہ پی ٹی آئی اور پنجاب پولیس کا معاہدہ عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک کی چھت سے مبینہ فائرنگ کے بعد ٹوٹ گیا۔

    کل لاہور ہائیکورٹ کی نگرانی میں ہوئے معاہدے میں پی ٹی آئی نے تفتیش میں پولیس سے تعاون کا وعدہ کیا تھا،پولیس نے کریک ڈاؤن ایک پولیس اہلکار کا بیان سامنے آنے کے بعد شروع کیا، جس نے کہا کہ اس پر زمان پارک کی چھت سے سیدھا فائر کیا گیا۔

    عمران نیازی کی گزشتہ چند دنوں کی حرکات سب کے سامنے ہیں، وزیراعظم

    ذرائع کے مطابق کارروائی اس وقت ہوئی جب عمران خان اسلام آباد کے لیے نکل چکے تھے اور پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کی اہلیہ گھر پر اکیلی تھیں۔

    اسی حوالے سے مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے سوال اٹھایا ہے کہ جب ایک خاتون گھر پر اکیلی تھی تو پولیس والوں پر فائرنگ کون کر رہا تھا-

  • زمان پارک، 3 واٹر کینن، 8 تھانوں کی گاڑیاں، 2 پی آر یو کی گاڑیوں کو پہنچا نقصان

    زمان پارک، 3 واٹر کینن، 8 تھانوں کی گاڑیاں، 2 پی آر یو کی گاڑیوں کو پہنچا نقصان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر اسلام آباد پولیس عملدرآمد کے لئے آئی تو تحریک انصاف کے کارکنان نے پولیس پر پتھراؤّ کیا، پٹرول بم چلائے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا

    اس حوالہ سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے لئے کئے گئے آپریشن کےد وران سرکاری نقصان کی تفصیلات سامنے آئی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق کارکنوں نے 3 واٹر کینن، 8 تھانوں کی گاڑیاں اور 2 پی آر یو کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ایک بس کو جزوی نقصان اور واٹر ٹینکر کو مکمل طور پر جلا دیا ،تین واٹر کینن کا ساڑھے 58 لاکھ کا نقصان ہوا، 42 لاکھ 50 ہزار مالیت کا واٹر ٹینکر مکمل جلا دیا، تمام گاڑیوں کا ایک کروڑ 10 لاکھ 90 ہزار کا نقصان ہوا، ٹریفک سیکٹر شادمان میں 8 موٹرسائیکلز 125 اور 2 اڑھائی سو سی سی بائیکس جلائی گئیں۔ موٹرسائیکلوں کی مالیت 23 لاکھ روپے تھی ،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کارکنان کی جانب سے وائرلیس سیٹ اور کمیونیکیشن سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا گیا،کیمرے کمپیوٹر سسٹم اور کونز کی مد میں 11 لاکھ کا نقصان ہوا۔ پٹرول بم لگنے سے روزنامچے کا 2 سال کا ریکارڈ جل گیا۔ جولائی 2020 سے دسمبر 2022 تک تمام چالان بکس کا ریکارڈ بھی جل کر راکھ ہو گیا

    دوسری جانب عمران خان نے ملک بھر میں مقدمات میں گرفتاری سے روکنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ،دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کے آتے ہی ملک بھر میں روزانہ مقدمات درج ہورہے ہیں وزیر آباد میں قاتلانہ حملہ ہوا، جان کو شدید خطرات ہیں، درج مقدمات کا ریکارڈ دیں،پولیس کو عدالت کی اجازت کے بغیر گرفتاری سے روک دیں، درخواست میں سیکریٹری داخلہ، صوبوں کے آئی جی پولیس اور ڈی جی ایف آئی اے فریق بنائے گئے ہیں،

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • پولیس کو زمان پارک آپریشن روکنے کا عبوری تحریری حکم جاری

    پولیس کو زمان پارک آپریشن روکنے کا عبوری تحریری حکم جاری

    لاہورہائیکورٹ نے پولیس کو زمان پارک آپریشن روکنے کا عبوری تحریری حکم جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے تحریری حکم میں کہا ہےکہ عدالت کے علم میں لایا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا ہوا ہے، اس معاملے کو دیکھتے ہوئے آئی جی کو فوری آپریشن روکنے کی ہدایت کی ہے۔

    کراچی:الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کی درخواست خارج ، یو سی 4 لیاقت …

    تحریری حکم میں ہدایت کی گئی کہ آئی جی پنجاب پولیس فورس کوزمان پارک سے فوری واپس بلائیں اور پولیس واپس بلا کرمال روڈ پر نہرکے پل، دھرم پورہ پل اور ٹھنڈی سڑک پرتعینات کی جائے۔

    عدالت نے کہا ہے کہ زمان پارک آپریشن سے متعلق درخواست پر سماعت کل صبح 10 بجے ہوگی۔

    واضح رہے کہ دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونےکے بعد اسلام آباد پولیس کی ٹیم لاہور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ گزشتہ روز سے زمان پارک پر موجود ہے جہاں اسے پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا رہا۔

    پنجاب اسمبلی کے انتخابات :حمزہ شہباز نے 3 حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے

    پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکنوں نے پتھراؤ کیا، غلیلیں چلائیں، ڈنڈے برسائے ، مارو مارو کے نعرے لگائے، پیٹرول بم پھی پھینکے پی ٹی آئی کارکنوں کے پتھراؤ سے درجنوں پولیس اور رینجرز اہلکار زخمی ہوچکے ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ میں زمان پارک آپریشن کے خلاف دائر درخواست کی سماعت جسٹس طارق سلیم نے کی تھی دوران سماعت شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر یہ گرفتاریاں بند کردیں سب ٹھیک ہوجائے گا جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ وہ گرفتاریاں نہیں روک سکتے-

    آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا تھا کہ پیٹرول بم سے ہماری گاڑیاں جلادی گئیں، پی ایس ایل کی سکیورٹی کو دیکھنا ضروری تھا، رینجرز کی گاڑیوں پر پیٹرول گرایا گیا، صبح صورتحال یہ ہے ساری گرین بیلٹ خراب کردی، سرکاری چیزیں بربادکردیں،عدالت وارنٹ ختم کردیتی ہم واپس آجاتے، جنہوں نےخرابی کی ہے انہیں پکڑنا ہے ہمارے پاس ویڈیوز موجود ہیں، ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل از خود نوٹس کو سماعت کیلیے مقرر

  • ظل شاہ کی ہلاکت پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے درخواست دائر

    ظل شاہ کی ہلاکت پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے درخواست دائر

    لاہور:پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ کی ہلاکت پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے درخواست دائر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں ظل شاہ کی موت کی تحقیقات کےلیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست ایڈووکیٹ ندیم سرور کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں پنجاب حکومت، آئی جی پولیس اور ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    ظل شاہ کے کیس میں عمران خان اور یاسمین راشد بھی گرفتار ہوں گے،وزیر اطلاعات …

    درخواست میں عدالت سے ظل شاہ کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ علی بلال عرف ظل شاہ کی موت کو ٹریفک حادثہ قرار دیتے ہوئے دوسرا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ظل شاہ کے قتل کا مقدمہ تفتیشی افسر کی مدعیت میں تھانہ سرور روڈ میں درج کیا گیا۔ پولیس نےعلی بلال کواسپتال منتقل کرنےوالےملزمان کےبیان پرمقدمہ درج کیا۔

    لاہور میں پولیس نے علی بلال عرف ظلِ شاہ کی موت کو ٹریفک حادثہ قرار دے کر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور یاسمین راشد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا،مقدمے میں ٹریفک حادثہ، قتل بالسبب اور ثبوت و حقائق کو چھپانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    ظل شاہ کی موت چھپانے پر عمران خان ،یاسمین راشد پر مقدمہ درج