Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • زمان پارک آپریشن:پی ٹی آئی کا آئی جی پنجاب اور دیگر پر توہین عدالت کا کیس کرنے کا اعلان

    زمان پارک آپریشن:پی ٹی آئی کا آئی جی پنجاب اور دیگر پر توہین عدالت کا کیس کرنے کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کہا ہے کہ پولیس نے عمران خان کے باورچی سفیر کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے مطابق پولیس نے زمان پارک آپریشن میں گھریلو ملازمین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور عمران خان کے باورچی سفیر کو گرفتار کرلیا۔

    سیکیورٹی کمپنیوں کا اسکارٹ سروس بند کرنے کا اعلان

    پی ٹی آئی کا کہنا تھاکہ پولیس نے ڈرائیور شوکت کو مارا پیٹا اور 10 ہزار روپے چھین لیے،اس کے علاوہ پولیس کے اہلکاروں نے سوئیپر اسحاق پر بھی تشدد کیا، اس کا موبائل فون چھین کر لے گئے۔

    واضح رہے کہ لاہور میں پولیس نے زمان پارک میں آپریشن کیا۔ پولیس کے ہمراہ موجود اینٹی انکروچمنٹ کی ٹیم نے کرین کے ذریعے عمران خان کےگھر کا دروازہ اور دیوار توڑی، رہائش گاہ کے باہر موجود مورچوں اور تجاوزات کو بھی ہٹادیا گیا پی ٹی آئی کے 60 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا اور کیمپس اکھاڑ دیئے-

    پولیس نے آپریشن کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 40 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا۔

    پنجاب پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ سے اجازت کے بعد زمان پارک کے اطراف اور عمران خان کے گھر میں آپریشن کیا،سی سی پی او لاہور نے خود تمام آپریشن کی نگرانی کی، پولیس اہلکاروں نے عمران خان کی رہائش گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی تو اندر موجود کارکنان نے مزاحمت کی، جس پر پولیس نے شیلنگ کر کے انہیں منتشر کیا۔

    پی ٹی آئی نے پونے چار سال بحران در بحران پیدا کیے۔سراج الحق

    پولیس نے گھر سے اسلحہ برآمد کیا، جن میں 16 رائفلیں شامل ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر یہ اسلحہ سرکاری نظر آرہا ہے، بطور وزیراعظم عمران خان کو یہ اسلحہ دیا گیا تھا لیکن انہوں نے منصب سے ہٹنے کے بعد یہ اسلحہ واپس نہیں کیا پولیس نے دعویٰ کیا کہ زمان پارک سے شراب کی بوتلیں بھی برآمد ہوئیں ہیں۔

    پولیس کی جانب سے وضاحت سامنے آئی کہ آپریشن سرچ وارنٹ کے بعد کیا گیا۔ سرچ وارنٹ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ابہر گل نے جاری کیا تھا۔

    عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پولیس سے وارنٹ مانگے تو دکھائے نہیں گئے جبکہ اہلکار اُن کے شوہر کو بھی گرفتار کر کے لے گئیعمران خان کے گھر کے باہر اور اندر سے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ کارکنوں کی طرف سے مزاحمت کرتے ہوئے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔ پولیس نے کارکنوں کو قابو کرنے کےلیے شیلنگ کی۔


    پولیس کے مطابق لاہور پولیس پر حملہ کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے والے افراد کو گرفتار کیا گیا جن کی شناخت سی سی ٹی وی اور تصاویر سے کی جائے گی۔

    گرفتاری کی صورت میں پارٹی کون چلائے گا،عمران خان کا بیان سامنے‌آ گیا

    آپریشن کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے اطراف میں جمع ہوکر احتجاج کیا جبکہ قائدین بھی زمان پارک پہنچے جنہیں پولیس نے عمران خان کے گھر جانے کی اجازت نہیں دی مگر اُس کے باوجود فواد چوہدری، شہباز گل، میاں محمود الرشید بغیر اجازت روانہ ہوگئے۔


    ضلعی انتظامیہ نے عمران خان کے گھر کے باہر گرین بیلٹ میں پانی چھوڑا، اس مقام پر پی ٹی آئی کارکنان کے خیمے نصب تھے۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے پانی اس لیے چھوڑا تاکہ کارکن خمیے نا لگا سکیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے زمان پارک آپریشن پر انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب اور دیگر افسران پر توہین عدالت کا کیس کرنے کا اعلان کیا ہے

    فواد چوہدری سمیت دیگر رہنماؤں نے لاہور میں پریس کانفرنس کی اور کہا کہ جو زمان پارک میں ہوا وہ واضح طورپر دہشت گردی ہے۔

    فواد چوہدری کا کہناتھاکہ ہم پر کارکنوں کا دباؤ ہے کہ ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے، کارکن فائنل تحریک کے لیے تیاری پکڑیں، شیر عدالت میں پیشی کے لیے جارہا تھا اور ان گیدڑوں نے گھر پر حملہ کیا ، اس وقت پاکستان میں جو ہو رہا ہے اس کی نہ آئینی اور قانونی توجیح ہے۔

    وقت کی ضرورت ہے تمام سیاستدان یکجا ہوں،عارف علوی

    شیریں مزاری نے کہا کہ ریاست کو بتانا پڑے گا کہ کیوں اپنے لوگوں کے خلاف دہشتگردی کررہی ہے؟ یہ ایک لندن پلان ہے دوسری طرف مریم کو اقتدار میں لانے کی اسکیم ہے، مریم نواز کس حیثیت سے عمران خان کی گرفتاری کی بات کرتی ہے، بی بی مریم بتاؤ آپ کون ہوتی ہو یہ بات کرنے والی ؟-

    پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے عمران خان کو زمان پارک واپس نہ آنے کا مشورہ دے دیا۔ زمان پارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمود الرشید نے کہا کہ عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ موجودہ حالات میں زمان پارک نہ آئیں مگر انہوں نے بات ماننے سے انکار کیا اور ہر حال میں گھر واپس آنے کا کہا ہے انہوں نے بتایا کہ ٹھوکر پر قافلے موجود ہیں، جو عمران خان کے ساتھ زمان پارک آئیں گے۔

    وزیراعلی پنجاب نے فوری طور پر لاہور کی سڑکوں سے کینٹینر ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو کسی بھی صورت تنگی نہیں ہونی چاہیے، پولیس اور ضلعی انتظامیہ پی ٹی آئی کی مقامی لیڈر شپ کے ساتھ بیٹھ کر زمان پارک کے شہریوں کے مسائل حل کرے اور کینال کی ٹریفک کو یقینی بنائے۔

    وزیراعلیٰ کی ہدایت پر انتظامیہ نے کنٹینرز ہٹا کر سڑکوں کو ٹریفک کیلیے کھول دیا عمران خان کی اسلام آباد سے زمان پارک واپسی کا سُن کر ایک بار پھر لوگ جمع ہونا شروع ہوئے، لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بینئرز اورلائٹیں لگانا شروع کیے، عمران خان کی آمد سے قبل ایک مرتبہ پھر لوگوں نے زمان پارک کے باہر معاملات کو معمول پر لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

    شبلی فراز کی طبیعت ناساز ،اسپتال منتقل

    لاہور میں زمان پارک کی رہائشی خواتین نے پولیس آپریشن پراظہارتشکر کیا ہے خواتین نے کہا کہ پولیس کا شکریہ جس نے حوصلے سے کام کیا اور ہمیں نجات دلائی، نہ گھر سے نکل سکتے ہیں نہ کہیں آنا جانا ہوتا ہے –

    خاتون کا کہنا تھاکہ میں کالج میں پڑھاتی ہوں، کالج بھی نہیں جاسکتی، اکتوبر کے اختتام سے پریشانی کا سامنا ہے پولیس آپریشن سے سکون محسوس ہورہا ہے، آئی جی پنجاب سے بہت خوش ہیں یہ لوگ کہیں باہر سے آئے تھے، گنڈا پور نے بھیجے تھے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی اور پنجاب حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جو آج زمان پارک میں ہونے والے آپریشن کے دوران ٹوٹ گیا ذرائع کا بتانا ہے کہ پی ٹی آئی اور پنجاب پولیس کا معاہدہ عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک کی چھت سے مبینہ فائرنگ کے بعد ٹوٹ گیا۔

    کل لاہور ہائیکورٹ کی نگرانی میں ہوئے معاہدے میں پی ٹی آئی نے تفتیش میں پولیس سے تعاون کا وعدہ کیا تھا،پولیس نے کریک ڈاؤن ایک پولیس اہلکار کا بیان سامنے آنے کے بعد شروع کیا، جس نے کہا کہ اس پر زمان پارک کی چھت سے سیدھا فائر کیا گیا۔

    عمران نیازی کی گزشتہ چند دنوں کی حرکات سب کے سامنے ہیں، وزیراعظم

    ذرائع کے مطابق کارروائی اس وقت ہوئی جب عمران خان اسلام آباد کے لیے نکل چکے تھے اور پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کی اہلیہ گھر پر اکیلی تھیں۔

    اسی حوالے سے مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے سوال اٹھایا ہے کہ جب ایک خاتون گھر پر اکیلی تھی تو پولیس والوں پر فائرنگ کون کر رہا تھا-

  • زمان پارک، 3 واٹر کینن، 8 تھانوں کی گاڑیاں، 2 پی آر یو کی گاڑیوں کو پہنچا نقصان

    زمان پارک، 3 واٹر کینن، 8 تھانوں کی گاڑیاں، 2 پی آر یو کی گاڑیوں کو پہنچا نقصان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر اسلام آباد پولیس عملدرآمد کے لئے آئی تو تحریک انصاف کے کارکنان نے پولیس پر پتھراؤّ کیا، پٹرول بم چلائے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا

    اس حوالہ سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے لئے کئے گئے آپریشن کےد وران سرکاری نقصان کی تفصیلات سامنے آئی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق کارکنوں نے 3 واٹر کینن، 8 تھانوں کی گاڑیاں اور 2 پی آر یو کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ایک بس کو جزوی نقصان اور واٹر ٹینکر کو مکمل طور پر جلا دیا ،تین واٹر کینن کا ساڑھے 58 لاکھ کا نقصان ہوا، 42 لاکھ 50 ہزار مالیت کا واٹر ٹینکر مکمل جلا دیا، تمام گاڑیوں کا ایک کروڑ 10 لاکھ 90 ہزار کا نقصان ہوا، ٹریفک سیکٹر شادمان میں 8 موٹرسائیکلز 125 اور 2 اڑھائی سو سی سی بائیکس جلائی گئیں۔ موٹرسائیکلوں کی مالیت 23 لاکھ روپے تھی ،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کارکنان کی جانب سے وائرلیس سیٹ اور کمیونیکیشن سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا گیا،کیمرے کمپیوٹر سسٹم اور کونز کی مد میں 11 لاکھ کا نقصان ہوا۔ پٹرول بم لگنے سے روزنامچے کا 2 سال کا ریکارڈ جل گیا۔ جولائی 2020 سے دسمبر 2022 تک تمام چالان بکس کا ریکارڈ بھی جل کر راکھ ہو گیا

    دوسری جانب عمران خان نے ملک بھر میں مقدمات میں گرفتاری سے روکنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ،دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کے آتے ہی ملک بھر میں روزانہ مقدمات درج ہورہے ہیں وزیر آباد میں قاتلانہ حملہ ہوا، جان کو شدید خطرات ہیں، درج مقدمات کا ریکارڈ دیں،پولیس کو عدالت کی اجازت کے بغیر گرفتاری سے روک دیں، درخواست میں سیکریٹری داخلہ، صوبوں کے آئی جی پولیس اور ڈی جی ایف آئی اے فریق بنائے گئے ہیں،

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • پولیس کو زمان پارک آپریشن روکنے کا عبوری تحریری حکم جاری

    پولیس کو زمان پارک آپریشن روکنے کا عبوری تحریری حکم جاری

    لاہورہائیکورٹ نے پولیس کو زمان پارک آپریشن روکنے کا عبوری تحریری حکم جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے تحریری حکم میں کہا ہےکہ عدالت کے علم میں لایا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا ہوا ہے، اس معاملے کو دیکھتے ہوئے آئی جی کو فوری آپریشن روکنے کی ہدایت کی ہے۔

    کراچی:الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کی درخواست خارج ، یو سی 4 لیاقت …

    تحریری حکم میں ہدایت کی گئی کہ آئی جی پنجاب پولیس فورس کوزمان پارک سے فوری واپس بلائیں اور پولیس واپس بلا کرمال روڈ پر نہرکے پل، دھرم پورہ پل اور ٹھنڈی سڑک پرتعینات کی جائے۔

    عدالت نے کہا ہے کہ زمان پارک آپریشن سے متعلق درخواست پر سماعت کل صبح 10 بجے ہوگی۔

    واضح رہے کہ دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونےکے بعد اسلام آباد پولیس کی ٹیم لاہور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ گزشتہ روز سے زمان پارک پر موجود ہے جہاں اسے پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا رہا۔

    پنجاب اسمبلی کے انتخابات :حمزہ شہباز نے 3 حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے

    پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکنوں نے پتھراؤ کیا، غلیلیں چلائیں، ڈنڈے برسائے ، مارو مارو کے نعرے لگائے، پیٹرول بم پھی پھینکے پی ٹی آئی کارکنوں کے پتھراؤ سے درجنوں پولیس اور رینجرز اہلکار زخمی ہوچکے ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ میں زمان پارک آپریشن کے خلاف دائر درخواست کی سماعت جسٹس طارق سلیم نے کی تھی دوران سماعت شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر یہ گرفتاریاں بند کردیں سب ٹھیک ہوجائے گا جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ وہ گرفتاریاں نہیں روک سکتے-

    آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا تھا کہ پیٹرول بم سے ہماری گاڑیاں جلادی گئیں، پی ایس ایل کی سکیورٹی کو دیکھنا ضروری تھا، رینجرز کی گاڑیوں پر پیٹرول گرایا گیا، صبح صورتحال یہ ہے ساری گرین بیلٹ خراب کردی، سرکاری چیزیں بربادکردیں،عدالت وارنٹ ختم کردیتی ہم واپس آجاتے، جنہوں نےخرابی کی ہے انہیں پکڑنا ہے ہمارے پاس ویڈیوز موجود ہیں، ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل از خود نوٹس کو سماعت کیلیے مقرر

  • ظل شاہ کی ہلاکت پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے درخواست دائر

    ظل شاہ کی ہلاکت پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے درخواست دائر

    لاہور:پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ کی ہلاکت پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے درخواست دائر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں ظل شاہ کی موت کی تحقیقات کےلیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست ایڈووکیٹ ندیم سرور کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں پنجاب حکومت، آئی جی پولیس اور ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    ظل شاہ کے کیس میں عمران خان اور یاسمین راشد بھی گرفتار ہوں گے،وزیر اطلاعات …

    درخواست میں عدالت سے ظل شاہ کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ علی بلال عرف ظل شاہ کی موت کو ٹریفک حادثہ قرار دیتے ہوئے دوسرا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ظل شاہ کے قتل کا مقدمہ تفتیشی افسر کی مدعیت میں تھانہ سرور روڈ میں درج کیا گیا۔ پولیس نےعلی بلال کواسپتال منتقل کرنےوالےملزمان کےبیان پرمقدمہ درج کیا۔

    لاہور میں پولیس نے علی بلال عرف ظلِ شاہ کی موت کو ٹریفک حادثہ قرار دے کر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور یاسمین راشد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا،مقدمے میں ٹریفک حادثہ، قتل بالسبب اور ثبوت و حقائق کو چھپانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    ظل شاہ کی موت چھپانے پر عمران خان ،یاسمین راشد پر مقدمہ درج

  • پی ٹی آئی نے دفعہ 144کے نفاذ کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    پی ٹی آئی نے دفعہ 144کے نفاذ کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کا شیڈول جاری ہونے کے بعد دفعہ 144کے نفاذ کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست تحریک انصاف کے حماد اظہر نے اظہر صدیق کی وساطت سے دائر کی، جس میں الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا-

    ظل شاہ کی والدہ نے پی ٹی آئی کو بیٹے کا قاتل قرار دے دیا

    درخواست گزار کے مطابق الیکشن کا شیڈول جاری ہونے کے بعد دفعہ 144نافذ نہیں کی جا سکتی لیکن نگراں پنجاب حکومت نے الیکشن کا شیڈول جاری ہونے کے بعد دفعہ 144نافذ کی۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت نگراں پنجاب حکومت کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے اور مستقبل میں بھی دفعہ144 کے حوالے سے گائیڈ لائن جاری کرے۔

    ظل شاہ کے کیس میں عمران خان اور یاسمین راشد بھی گرفتار ہوں گے،وزیر اطلاعات …

  • لاہور: سول جج فاروق احمد نوکری سے برطرف

    لاہور ہائیکورٹ نے سول جج فاروق احمد کو نوکری سے برطرف کردیا۔

    باغی ٹی وی : رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نےسول جج فاروق احمد کی نوکری سے برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس میں بتایا گیا کہ سول جج فاروق احمد کیخلاف پنجاب سول سرونٹ رولز 1999 کے تحت ڈسپلنری کارروائی کی گئی۔

    سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب زبیر احمد خان گرفتار

    نوٹیفیکیشن کے مطابق انکوائری افسر نے تمام شواہد اکٹھے کرکے انہیں نوکری سے برطرف کرنے کی سفارش کی۔

    واضح رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج بہاولپور اور سول جج بہاولپور ملک فاروق کے درمیان کافی عرصے سے تنازع چلا آرہا تھا جس پر سیشن جج نے سول جج ملک فاروق اور ان کی اہلیہ پر مقدمہ بھی درج کرایا تھا جبکہ ایف آئی اے نے ان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا تھا۔

    گزشتہ برس جولائی میں ایڈیشنل سیشن جج بہاولپور کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کے معاملے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سول جج بہاولپور ملک فاروق اور ان کی اہلیہ کی حفاظتی ضمانت رات گئے منظور کی تھی-

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان حتمی مذاکرات آج ہوں گے،درجنوں اشیا پر …

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 10 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض 18 جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کرنے کے احکامات جاری کیے تھے-

    ہائیکورٹ میں دائر اپنی درخواست میں سول جج نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیشن جج نے مجھے مختلف مقدمات کے فیصلے ان کی مرضی کے کرنے کا کہا لیکن میں نے میرٹ پر فیصلے کئے، سیشن جج نے دھمکی دی پھر میرا تبادلہ کروایا۔

    سول جج کا کہنا تھا کہ میرے خلاف مقدمہ درج کروا دیا اور اب پولیس گھر پر چھاپے مار رہی ہے، میرے پاس سیشن جج کے واٹس ایپ میسجز کالز کا مکمل ریکارڈ موجود ہے، گرفتاری کا خدشہ ہے اس لیے حفاظتی ضمانت منظور کی جائے۔

    عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں …

  • عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے پیمرا کانوٹیفکیشن  معطل

    عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے پیمرا کانوٹیفکیشن معطل

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے پیمرا کانوٹیفکیشن معطل کر دیا-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس شمس محمود مرزا نے سماعت کی-

    تحریک انصاف کے رہنما عامر کیانی اورعمران اسماعیل کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج

    دوران سماعت جسٹس شمس محمود مرزا نے ریمارکس دیئے کہ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ پر اس طرح پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔یہ توآزادی اظہار رائے کیخلاف ہے۔

    پیمرا کے وکیل نے اعتراض کیا کہ یہ معاملہ یہاں نہیں سنا جا سکتا ہے، فل بینچ نے سماعت کرنا ہے۔میری عدالت سے درخواست ہے کہ یہ دائرہ اختیار نہیں ہے۔

    متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار

    عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ آئندہ چیئرمین پیمرا سے کہیے گا کہ آپ سے مشاورت کر لیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ پیمرا نے عمران خان کی اور تقاریر نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔بیانات اور تقاریر پر پابندی لگانا بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کی آج عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر

    بعد ازاں دوبارہ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس شمس محمود مرزا نے پیمرا کی جانب سے عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پابندی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔

    عدالت نے عمران خان کی درخواست کو مزید سماعت کے لیے فل بینچ کو بھجوا دیا۔عمران خان نے پیمرا کی جانب سے پابندی کے نوٹیفکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔عدالت نے وفاقی حکومت سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کاروائی 13مارچ تک ملتوی کردی۔

    پیمرا نے 5 مارچ کو عمران خان کی جانب سے ریاستی اداروں پر الزامات کے حوالے سے ان کی تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔

  • لاہور ہائیکورٹ کی عمران خان کی تقریر پر پابندی کیخلاف درخواست سننے سے معذرت

    لاہور ہائیکورٹ کی عمران خان کی تقریر پر پابندی کیخلاف درخواست سننے سے معذرت

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال نے عمران خان کی تقریر پر پیمرا کی پابندی کے خلاف درخواست سننے سے معذرت کر لی۔

    باغی ٹی وی: رواًں ماپ 5 مارچ کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی پیمرا کی جانب سے نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ عمران خان مسلسل ریاستی اداروں کےخلاف بےبنیادالزامات لگارہےہیں، ان کی تقاریربراہ راست یاریکارڈڈ نہیں چلائی جائیں گی۔

    اسلام آباد اورکوئٹہ میں مقدمات درج: عمران خان کا حفاظتی ضمانت کیلئےہائیکورٹ سے رجوع

    پیمرا نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ عمران خان اشتعال انگیزبیانات کے ذریعے ریاستی اداروں اور افسران کے خلاف نفرت پھیلارہے ہیں، وہ اداروں کے خلاف بے بنیاد الزامات اور نفرت انگیز گفتگو کررہے ہیں، ان کی گفتگو سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہےعمران خان کا بیان ،گفتگو یا خطاب لائیو ہو یا ریکارڈ ٹی وی چینلز نشر نہیں کرسکتے اور ان کی تقاریر، بیانات پر پابندی کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔

    پنجاب اسمبلی کے انتخابات،الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کردیا

    پاکستان تحریک انصاف نے پیمرا کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے عمران خان کی تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

    عمران خان کی جانب سے دائر درخواست سماعت کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد بلال کے پاس بھیجی گئی تھی تاہم جسٹس شاہد بلال نے ذاتی وجوہات کی بنا پر معذرت کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے کیس کسی اور بینچ کو بھیجنےکی سفارش کر دی۔

    ٹھٹھہ :این آرایس پی کے طرف سے نیشنل پاورٹي گریجوايشن پروگرام کے تحت ۔خواتین کے …

  • اسلام آباد اورکوئٹہ میں مقدمات درج: عمران خان کا حفاظتی ضمانت کیلئےہائیکورٹ سے رجوع

    اسلام آباد اورکوئٹہ میں مقدمات درج: عمران خان کا حفاظتی ضمانت کیلئےہائیکورٹ سے رجوع

    چئیرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد اور کوئٹہ میں درج تین مقدمات میں حفاظتی ضمانت کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی : عمران خان نے تھانہ رمنا اسلام آباد کے 2 مقدمات اور کوئٹہ کے ایک مقدمے میں ے بیرسٹر سلمان صفدر کے توسط سے حفاظتی ضمانت کی درخواستیں دائر کی ہیں جس میں آئی جی پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن سے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری اسلام آباد پولیس کو موصول

    عمران خان نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ تھانہ رمنا کی دونوں ایف آئی آرمیں دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں اور کوئٹہ میں مقدمہ پیکا قانون کی دفعات کے تحت درج ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان ضمانت کیلئے عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں مگر پولیس نےغیرقانونی حراست کیلئے زمان پارک رہائش گاہ کوگھیر رکھا ہے لہٰذا آئی جی پنجاب کو کہاجائے کہ پولیس رکاوٹ نہ ڈالے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ 22 واں وزیراعظم بننے کے بعد ملک کو ادائیگوں کے بحران سے بچانے کیلئے بروقت آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا، امریکا اور افغان طالبان کے مابین بات چیت کرائی –

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا یقینی بنایا، کورونا کیلئے انتظامات پر دنیا نے تعریف کی، سیاسی مخالفین نے جھوٹے مقدمے درج کرائے ہیں۔

    عمران خان توشہ خانہ کیس میں مسلسل 7 مرتبہ حاضر نہیں ہوئے،عدالت

    واضح رہےکہ عمران خان کےخلاف کوئٹہ میں مقدمہ درج کیاگیا تھا،خبریں تھیں کہ عمران خان کے خلاف کوئٹہ میں درج مقدمے میں پولیس وارنٹ لے کر زمان پارک آ رہی ہے، بلوچستان پولیس پنجاب پولیس کی مدد سے عمران خان کو گرفتارکرے گی-

    کوئٹہ میں درج مقدمے میں کہا گیا تھا کہ جب پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے ان گھر زمان پارک گئی تو انہوں نے ٹی وی پر آکر اعلیٰ افسران کیخلاف نفرت انگیز تقریر کی جس سے ان کی جان کو خطرہ ہوا اور انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف اپنے لوگوں کو اکسایا.

    بلوچستان پولیس کی ٹیم عمران خان کے وارنٹ گرفتاری لے کر لاہور روانہ

  • عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ناقابل سماعت قرار

    عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ناقابل سماعت قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: توہین عدالت کی کارروائی کے لیے درخواستوں پر سماعت ہوئی، لاہور ہائیکورٹ نے آفس اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے دیا-

    غلط بیانی کرنے اور کار سرکار میں مداخلت پر شبلی فراز پر مقدمہ درج

    لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ بادی النظر میں عمران خان کے بیانات سپریم کورٹ کے جج کے بارے ہیں،ایسے میں درخواستیں ہائیکورٹ میں کیسے قابل سماعت ہیں-

    آفس ہائیکورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض لگا یا تھااور آفس ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اعتراض کیا گیا تھا کہ ججوں کو درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا۔

    واضح رہے کہ درخواست گزار نے آفس ہائیکورٹ کے اعتراض کو چیلنج کیا تھا۔ جسٹس شجاعت علی خان نے مشکور احمد کی اعتراض کی درخواست پر سماعت کی جس میں عمران خان کو فریق بنایا گیا درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہورہائیکورٹ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے ،اپیل میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری خارج کرنے کی استدعا کی گئی تھی-

    جنرل (ر ) باجوہ یا فیض حمید سے متعلق کوئی بات نہیں کی،سابق چیف …

    درخواست میں موقف تھا کہ عمران خان کی سربراہی میں عدلیہ کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے پر ججز کےخلاف مہم چلائی گئی لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد میں پیشی پر عمران خان جتھوں کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوئے لیکن سرکاری عمارتوں کو نقصان اور نعرے بازی کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہونا توہین عدالت ہے۔

    اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس پر پلان کر کے حملہ کیا گیا جس کے ماسٹر مائنڈ عمران خان تھے، عمران خان نے عدلیہ کو پریشرائز کرنے کے لیے ورکرز کو جوڈیشل کمپلیکس بلایا درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہور ہائیکورٹ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے، عدالت عمران خان کو عدالت میں طلب کر کے جواب دہی کرے۔

    کوئٹہ میں دھماکا،6 افراد جاں بحق