Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • عمران خان کی گاڑی کو لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں داخلے کی اجازت مسترد

    عمران خان کی گاڑی کو لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں داخلے کی اجازت مسترد

    لاہور: عدالت نے عمران خان کی گاڑی کو لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں داخلے کی اجازت مسترد کر دی-

    باغی ٹی وی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمران خان نے بالآخر لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہونےکا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے انہوں نے گزشتہ روز عدالت میں سیکیورٹی کی درخواست کی تھی-

    سابق وزیر مملکت اور پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے کہا کہ اس حوالے سے ان کی سیکیورٹی ٹیم نے لاہور ہائیکورٹ کے اندر بھی سیکیورٹی کا جائزہ لیا،عمران خان پرپہلے قاتلانہ حملہ ہوچکا ان پر دوبارہ حملے کا خطرہ موجود ہے-

    فرخ حبیب نے کہا کہڈاکٹرز نےٹانگ کی ہڈی فریکچر ریکوری کےلیے دھکم پیل سے احتیاط کی ہدایات دی ہیں جس پر ایڈمن سےعمران خان کی گاڑی کوعدالتی احاطے میں لےجانے کی اجازت مانگی ہے –

    عمران خان کے وکلا نے گاڑی کو احاطہ عدالت میں لانے کے لیے رجوع کیا تھا لیکن عمران خان کی گاڑی کو لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی،لاہور ہائیکورٹ پیشی پر لیگل ٹیم عمران خان سے دوبارہ مشاورت کرے گی-

    لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس عابد عزیز شیخ نے بطور انتظامی جج فیصلہ سنایا-

    واضح رہےکہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے باہر مظاہرہ کرنے اور رکن قومی اسمبلی پر حملےکےکیس میں حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    عدالت نے حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کے مختلف دستخط کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں آج طلب کیا تھا۔

    عدالت نے عمران خان کو آج طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت میں آ کر حلف پر دستخط کی وضاحت کرنا ہوگی، عدالت نے پیش نہ ہونے پر توہین عدالت کا عندیہ دیا تھا۔

  • پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا معاملہ:گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا معاملہ:گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    لاہور: گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

    باغی ٹی وی : گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کی جانب سے ایڈوکیٹ شہزاد شوکت نے سنگل بینچ کے فیصلے کی تشریح کے لیے درخواست دائر کی۔

    درخواست گزار کے مطابق سنگل بینچ نے الیکشن کمیشن کو تاریخ سے متعلق گورنر سے مشاورت کا حکم دیا ہے لیکن گورنر کے پاس ایسا کوئی آئینی اختیار نہیں جبکہ گورنر نے اسمبلی تحلیل پر دستخط ہی نہیں کیے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل گورنر پنجاب نے صوبے میں الیکشن کے حکم کی وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے الیکشن کمیشن وفد نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمن سے گورنر ہاؤس پنجاب میں ملاقات بھی کی تھی اس موقع پر چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب بھی موجود تھے، جنہوں نے صوبے میں انتظامی اور امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی تھی۔

    اجلاس میں فیصلے کی تشریح اور وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ گورنر پنجاب لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے اور سنگل بنچ کے فیصلے کے قانونی دائرہ کار کو چیلنج کریں گے۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ گورنر لاہور ہائی کورٹ سے فیصلے کی تشریح کی درخواست کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ الیکشن تاریخ سے متعلق فیصلہ کیسے گورنر پنجاب پر لاگو ہوتاہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے اور گورنر سے مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

  • حفاظتی ضمانت کیس: حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط،معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا.لاہور ہائیکورٹ

    حفاظتی ضمانت کیس: حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط،معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا.لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط کا نوٹس لے لیا۔

    باغی ٹی وی:اسلام آباد کی انسداد دہشتگری عدالت سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی عمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان کے وکلا جسٹس طارق سلیم شیخ کے روبرو پیش ہوئے، ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عمران خان کی جانب سے اپنا وکالت نامہ جمع کرایا۔

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز سے میٹنگ چل رہی ہے، سکیورٹی پر پارٹی تحفظات ہیں،2 گھنٹے میں پوری کوشش ہےکہ عمران خان کسی طرح پہنچ سکیں۔

    عمران خان کے وکیل کی درخواست پر عدالت نے ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کردیا،عدالتی مہلت گزر گئی لیکن عمران خان لاہور ہائیکورٹ میں پیش نہ ہوئے، حفاظتی ضمانت کی درخواست پر دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ اظہر صدیق ہدایات لے کر آرہے ہیں، کچھ وقت دے دیں جس کے بعد عدالت نے سماعت میں دوسری مرتبہ وقفہ کردیا اور سماعت کے لیے 2 بجے کا وقت مقرر کردیا۔

    2 بجےعمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے درخواست پر سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل اظہر صدیق اور معالج ڈاکٹر فیصل سلطان عدالت میں پیش ہوئے وکیل اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ ایک اور درخواست ضمانت دائر ہوئی ہے، ڈاکٹر سے میٹنگ ہوئی ہے، عدالت کے حکم پر عمل کے لیے تیار ہیں، ڈاکٹر طارق سلطان یہیں ہیں۔

    جسٹس طارق سلیم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کونہیں سننا شرط ہے کہ عمران خان پہلے عدالت میں پیش ہوں وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ دوسری درخواست ضمانت کا انتظار کرلیں اس پر عدالت نےکہا کہ اس کے انتظار کی ضرورت نہیں، آپ موجودہ درخواست پر دلائل شروع کریں۔

    جسٹس طارق سلیم نے عمران خان کے وکیل اظہر صدیق سے مکالمہ کیا کہ ابھی ایک مسئلہ ہے، درخواست، حلف نامے اورآپ کے وکالت نامے پر عمران خان کے دستخط مختلف ہیں، دستخط کیسے مختلف ہوگئے۔

    عدالت کے استفسار پر وکیل نے کہا کہ مجھے وقت دیں، دیکھ لیتا ہوں، اس پر عدالت نے کہا کہ آپ ابھی دیکھ لیں،کسی نے یہ فراڈکی کوشش کی ہے، اس میں آپ کویا عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس دوں گا۔

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ میں موجودہ درخواست ضمانت واپس لینا چاہتا ہوں،عدالت نے عمران خان کے وکیل کی درخواست واپس لینے کی استدعا رد کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ درخواست واپس لینےکی اجازت نہیں دوں گاجب تک یہ معاملہ حل نہ ہوجائے۔

    عدالت کےریمارکس پر ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دستخط مختلف ہونے پر جواب کے لیے وقت مانگ لیا جس پر عدالت نے کہا کہ معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس درخواست کو التوا میں رکھ رہے ہیں۔

    عدالت نے سماعت 4 بجے تک ملتوی کردی۔

  • عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    لاہور: ماہر قانون جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا ہے کہ اگرعمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا کہ عمران خان کی عدالت میں حاضری لازمی ہے، ورنہ انہیں ضمانت نہیں مل سکتی قانون سب کیلئے برابر ہوتا ہے، عمران خان اپنے اصولوں کے خلاف جا رہے ہیں۔

    جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی کا کہنا تھا کہ اس کیس میں انہیں خود عدالت آنا چاہیے، اب عمران خان کیلئے کوئی بچت نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو پیشی کے بغیر حفاظتی ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ عمران خان متعلقہ عدالت میں پیش ہونا چاہتےہیں، میڈیکل کے مطابق تین ہفتے تک عمران خان چل پھر نہیں سکتے لہٰذا میڈیکل گراؤنڈ پرحفاظتی ضمانت دےدیں۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ حفاظتی ضمانت کا قانون کیا ہے؟حفاظتی ضمانت میں ملزم کی پیشی ضروری ہے، زیادہ مسئلہ ہے تو ایمبولینس میں آ جائیں، قانون سب کیلئے برابر ہے، اصولی طورپر مجھے یہ درخواست خارج کردینی چاہیے لیکن رعایت دے رہا ہوں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے عبوری ضمانت کے لیے عمران خان کو آج صبح 9 بجے تک عدالت میں پیش ہونے کی مہلت دے دی ہے۔ اس سے قبل ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے گزشتہ رات 8بجے تک کا وقت دیا تھا تاہم عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوئے ہیں۔

    عدالت نے گزشتہ روز رات کو سوا آٹھ بجے دوبارہ کیس کی سماعت کی جس میں عمران خا ن کے وکیل نے ہائیکورٹ میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو ڈاکٹر نے چلنے سے منع کیا ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ ہم نے عمران خان کو چلنے کے لیے نہیں کہا ہے۔ اگر عمران خان چل نہیں سکتے ہیں تو سٹریچر پر عدالت آجائیں۔ اور ایمبولینس تو انکی اپنی ہے۔ اس موقع پر وکیل کی جانب سے عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی بھی درخواست کی گئی جو کہ عدالت کی جانب سے مسترد کردی گئی۔

    عدالت میں عمران خان کے دیگر وکلا میں اظہر صدیق ایڈووکیٹ بھی پیش ہوئے اور بولنا چاہا تو ان کو جسٹس طارق سلیم شیخ نے روک دیا اور کہا کہ یہ ٹاک شو نہیں ہے اور عمران خان کی جانب سے پیش ہونے والے دیگر وکلا کو حکم دیا کہ آپ قانون پیش کریں۔

    جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ میری درخواست حفاظتی ضمانت کی ہے۔ ڈاکٹر نے عمران خان کو اجازت نہیں دی ہے، وہ زخمی بھی ہیں اور سکیورٹی ایشو بھی ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ اگر آپ اس کو واپس لینا چاہتے ہیں تو لے لیں۔ عدالت نے کہا کہ سکیورٹی میں دلا دیتا ہوں۔

  • پنجاب الیکشن: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کیلئےعدالت سے رجوع کرنےکا فیصلہ

    پنجاب الیکشن: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کیلئےعدالت سے رجوع کرنےکا فیصلہ

    لاہور: پنجاب میں الیکشن سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: گورنر پنجاب کی زیرصدارت گورنر ہاؤس میں اہم اجلاس ہوا جس میں آئی جی، چیف سیکرٹری، سیکرٹری الیکشن کمیشن، ڈی جی لا الیکشن کمیشن اور دیگر حکام بھی شریک ہیں جبکہ اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا –

    گورنر پنجاب نےانتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک افراد نے اپنی اپنی آئینی اور قانونی تجاویز دیں جبکہ اجلاس کے شرکا نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پروضاحت طلب کرنے پر اتفاق کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ اجلاس میں لاہورہائیکورٹ سے فیصلےکی تشریح کیلئے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ویڈیو لیک کیس:سندھ ہائی کورٹ نےدانیہ شاہ کی ضمانت منظور کرلی

    گورنر پنجاب لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے اور سنگل بنچ کے فیصلے کے قانونی دائرہ کار کو چیلنج کریں گے گورنر لاہور ہائی کورٹ سے فیصلے کی تشریح کی درخواست کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ الیکشن تاریخ سے متعلق فیصلہ کیسے گورنر پنجاب پر لاگو ہوتاہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے اور گورنر سے مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

    دوسری جانب پنجاب میں الیکشن کی تاریخ نہ دینے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے،درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ صدر مملکت کو پنجاب الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دے، درخواست میں وفاقی حکومت، صدر ، گورنر پنجاب، نگران وزیر اعلیٰ کو فریق بنایا گیا-

    شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے 10 فروری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دیا،دوسری جانب عدالتی احکامات کے باوجود الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا-

  • اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی تعیناتی کیخلاف درخواست:پرویز اشرف نے عدالت میں جواب جمع کرادیا

    اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی تعیناتی کیخلاف درخواست:پرویز اشرف نے عدالت میں جواب جمع کرادیا

    لاہور: اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر پرویز اشرف نے عدالت میں جواب جمع کرادیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر راجہ ریاض کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دے دی۔

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اپنا جواب جعمع کراتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی کارروائی کو عدالت کے فورم پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

    وفاقی حکومت اور دیگر فریقین نے جواب کیلئے وقت دینے کی استدعا کی عدالت نے حکومت کو آخری موقع دیتے ہیں کارروائی اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی تقرری کے خلاف کیس کی سماعت 28فروری تک ملتوی کر دی اور وفاقی حکومت سے 28 فروری کو دوبارہ جواب طلب کر لیا-

    آئی ایم ایف کا مستقل ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ

    درخواست میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر راجہ ریاض کی تعیناتی کو چیلنج کیا گیا ہے،درخواست گزار نے کہا کہ راجہ ریاض کی تقرری غیر آئینی ہے ، عدالت راجہ ریاض کی تقرری کالعدم قرار دے-

  • تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

    تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

    لاہور :الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن بروقت کروانے سے معذرت کر لی-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی جسٹس جواد حسن نے درخوست پر سماعت کی آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے-

    چیف سیکریٹری نے کہا کہ ہم آئین کے آرٹیکل 220 پر عملدرآمد کے پابند ہیں،عدالت اور الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گی عملدرآمد کے پابند ہیں، عدالت نے کہا کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری سے ہمیں یقین دہانی چاہیے تھی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن بروقت کروانے سے معذرت کر لی وکیل نے کہا کہ جوڈیشری،چیف سیکریٹری، فنانس سب نے معذرت کرلی ہے، الیکشن کمیشن ایسے حالات میں کیسے الیکشن کروا سکتا ہے، کیس صرف تاریخ سے متعلق ہے،تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں کیس میں فریق نہیں بنایا جاسکتا-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے،کیس میں صدر مملکت کو بھی فریق نہیں بنایا گیا ،عدالت نےکہا کہ ایسا آرڈر جاری نہیں کریں گے جس پر عملدرآمد نہ کرا سکیں،درخواست میں وفاقی حکومت کو بھی فریق نہیں بنایا گیا جس نے فنڈز جاری کرنے ہیں-

    وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدلیہ سے رابطہ کیا انہوں نے ججز دینے سے انکار کر دیا ،ملک میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر الیکشن کروانا مشکل ہے، الیکشن کمیشن کو 40 بلین کی رقم مانگے کے باوجود ضمنی الیکشن کے لیے جاری نہیں کی گئی-

    جسٹس جواد حسن نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کرانے کے لیےا سٹاف بھی چاہیے ہوتا ہے،جس پر وکیل نے کہا کہ اگر قومی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن ایک دن نہ ہوں تو شفاف الیکشن نہیں ہو سکتے-

    گورنر پنجاب کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کی درخواست میں فیڈریشن اور وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق نہیں بنایا گیا، اگر گورنر اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کرے تو پھر گورنر تاریخ دینے کا پابند ہے، اگر گورنر اس پراسس کا حصہ نہ بنے تو پھر گورنر الیکشن کی تاریخ دینے کا پابند نہیں ہے ،کیس میں گورنر نے سمری پر دستخط نہیں کیے، اس لیے الیکشن کی تاریخ دینے کا پابند نہیں-

    تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین میں واضح درج ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں الیکشن ہوں گے ، صدر مملکت بھی الیکشن کی تاریخ دے سکتے ہیں ، عدالت حکم دے گی تو صدر تاریخ دے دیں گے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے لیے دائر درخواستوں پر وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد از نماز جمعہ سنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 14 جنوری کو وزیر اعلیٰ کی جانب سے سمری پر دستخط کرنے کے 48 گھنٹے مکمل ہونے پرپنجاب کی صوبائی اسمبلی از خود تحلیل ہوگئی تھی اس کے بعد گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے سے گریز کیا تھا۔

    چنانچہ پی ٹی آئی نے 27 جنوری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا بیرسٹر علی ظفر کی وساطت سے دائر درخواست میں گورنر پنجاب کو بذریعہ سیکریٹری فریق بنایا گیا۔

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ آئین کے تحت اسمبلی تحلیل ہونے کے فوری بعد گورنر کو الیکشن کا اعلان کرنا ہے، گورنر پنجاب الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہے جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے، 10 روز سے زائد کا وقت گزر چکا ہے اور گورنر پنجاب کی جانب سے تاحال الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ گورنر اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہور ہائی کورٹ پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے گورنر کو ہدایات جاری کرے۔

  • پنجاب الیکشن کی تاریخ سےمتعلق درخواست، گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب عدالت میں جمع

    پنجاب الیکشن کی تاریخ سےمتعلق درخواست، گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب عدالت میں جمع

    لاہور ہائیکو رٹ میں پنجاب الیکشن کی تاریخ سے متعلق درخواست پر گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب جمع کرا دیا گیا-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکو رٹ میں پنجاب الیکشن کی تاریخ سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،شہری منیر احمد کی درخواست پر گورنرپنجاب نےجواب جمع کرایا،گورنر پنجاب نے درخواست جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کی استدعا کر دی۔

    سماعت کے دوران عدالت نے پی ٹی آئی کو کچھ دستاویزات متفرق درخواست کے ذریعے ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دے دی-

    لاہور، اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں بارشوں کی پیشگوئی

    عدالت میں گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب جمع کرایا گیا،جواب میں درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا گیا،تحریری جواب میں کہا گیا کہ گورنر پنجاب اپنی آئینی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جائے-

    گورنر کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہےکہ وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل نہیں کی تو الیکشن کی تاریخ دینا گورنرکی ذمہ داری نہیں، جب گورنر اسمبلی تحلیل کرے تو الیکشن کی تاریخ دینا اس کی آئینی ذمہ داری ہے،گورنرکی جانب سے الیکشن کمیشن کے اختیار میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے،گورنر آئین اور قانون کے مطابق فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ گورنر نےجواب دیا ہےکہ اسمبلی کی تحلیل انہوں نے نہیں کی اور اگر اسمبلی کی تحلیل انہوں نے نہیں کی تو تاریخ دینا ان کاکام نہیں۔

    جسٹس جواد حسن کا کہنا تھا کہ ہم نے قابل عمل حکم دینا ہے تاکہ عمل درآمد ہو، اب وقت ہی سب کچھ ہے، ہم کو منطق سے چلنا ہوگا، دیکھنا ہوگا کہ لارجر بینچ کی ضرورت ہے یا نہیں۔

    کیس میں الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب کے لیے وقت مانگ لیا، وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ میرا بطور وکیل کل ہی تقرر ہوا ہے، میں نےعدالت کے حکم بھی نہیں دیکھے اور جواب بھی تیار نہیں۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ الیکشن 90 دن میں کرانے سے متعلق عدالتی نظائر بھی ہیں۔

    وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن ہم نےکرانے ہیں لیکن تاریخ گورنر نے دینی ہے، ضمنی الیکشن کی تاریخ الیکشن کمیشن نے دینی ہوتی ہے، لیکن جنرل الیکشن کی تاریخ دینے کے اختیار میں قانون مختلف ہے۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ اسد عمر نے جو الیکشن کمیشن کے خط پر اعتماد کا اظہار کیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا الیکشن کمیشن نے گورنر کو خط لکھا،جسٹس جواد نے کہا کہ میرے سارے فیصلوں پر عملدرآمد ہوجاتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ عملدرآمد کا کہہ رہے ہیں لیکن بہت سے مسائل ہیں-

    جسٹس جواد نے کہا کہ بتائیں کیا مسائل ہیں، میں نے گورنر کو الیکشن کا نہیں کہنا،اسی لیے تو الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے،الیکشن کمیشن کی انتخابات کروانا آئینی ذمہ داری ہے،یہ تو خوش آئند بات ہے کہ الیکشن کمیشن نے مجوزہ تاریخ دی-

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر گورنر اور الیکشن کمیشن تاریخ نہ دیں تو صدر الیکشن کی تاریخ دے سکتاہے۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ آپ نے یہاں صدر کو تو فریق نہیں بنایا، ہم نے یہاں دیکھنا ہے کہ تاریخ کون دے سکتا ہے، ابھی الیکشن کمیشن نے الیکشن کروانے سے انکار نہیں کیا،

    وفاقی حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگرتاریخ کا اعلان ہوجائے اور الیکشن کمیشن اس پر عمل درآمدنہ کرسکے تو کیا ہوگا؟

    جسٹس جواد نے تحریک انصاف کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ قابل عمل حکم کیا چاہ رہے ہیں، اس پر بیرسٹر علی ظفر نےکہا کہ الیکشن13 اپریل سے پہلے ہونا چاہیے، سوال تاریخ دینےکا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب میں عام انتخابات کی درخواست پر الیکشن کمیشن اور گورنر پنجاب کو نوٹس جاری کردئیے گئےلاہور ہائیکورٹ میں پنجاب میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے حوالے سے دائر متفرق درخواست پر سماعت ہوئی تھی عدالت نے الیکشن کمیشن اور گورنر پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 9 فروری کو جواب طلب کیا تھا-

    خانیوال:سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، انتہائی مطلوب دہشتگرد…

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی کےحلقوں کا ضمنی شیڈول جاری کردیا۔ عام انتخابات کا شیڈول جاری نہ ہونے سے حلقے کےووٹرز کااستحقاق مجروع ہورہا ہے۔ اسمبلیوں کی تحلیل کےنوے دن میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا ہے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن پنجاب اسمبلی کی تحلیل کےباوجود انتخابی شیڈول جاری نہ کرکے آئین سے انحراف کررہا ہے۔ صاف و شفاف انتخابات کےلئے انتخابی شیڈول کااجراء جمہوری اساس ہے۔آئین کےآرٹیکل 105 کےبرعکس گورنر بدنیتی کی بناء پر انتخابی شیڈول جاری نہیں کررہا۔ عدالت الیکشن کمیشن کو پنجاب کے لیے انتخابی شیڈول جاری کرنے کا حکم دے۔

    کوہلو: بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں ووٹنگ آج ہو گی

  • عدالت نے  پی ٹی آئی کے 43 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا

    عدالت نے پی ٹی آئی کے 43 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 43 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 43 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا الیکشن کمیشن کاحکم معطل کردیا۔ جسٹس شاہد کریم نے 43 سابق ایم این ایز کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے 43 حلقوں میں ضمنی الیکشن تاحکم ثانی روک دیا عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیئے-

    عمران خان کی متوقع گرفتاری، پی ٹی آئی کی ڈنڈا بردار فورس زمان پارک پہنچ گئی

    جسٹس شاہد کریم نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ بتائیں کن قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا؟،بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ اسپیکر نے استعفے منظور کرنے سے قبل آئین کے تحت انکوائری نہیں کی ارکان اسمبلی استعفے منظور کرانے کے لیے اسپیکر کے پاس پیش نہیں ہوئے، ارکان کو سنے بغیر اسپیکر استعفے منظور نہیں کر سکتے۔

    عدالت نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے 43 ایم این اے کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا۔

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی عالمی بینک کے ریجنل ڈائریکٹر سے ملاقات

    واضح رہے کہ درخواست میں موقف اختیار کیاگیا تھا کہ ممبران اسمبلی نے استعفیٰ منظور ہونے سے قبل ہی واپس لے لئے تھے ،ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کرنا خلاف قانون اور بدنیتی پر مبنی ہے،درخواست میں سپیکر کا 22 جنوری اور الیکشن کمیشن کا 25 جنوری کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا گیا تھا-

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 43 ارکانِ قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا پی ٹی آئی کے ان 43 ارکان کے استعفے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے منظور کر کے سمری الیکشن کمیشن کو بھجوائی تھی الیکشن کمیشن نے اس سمری پر کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے 43 ارکانِ قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کیا تھا تحریک انصاف نے 43 ایم این اے کے استعفے منظور کرنے کا اقدام چیلنج کیا تھا-

  • لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب حکومت کو اقلیتوں کے طلاق سرٹیفکیٹ سے متعلق رولز بنانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب حکومت کو اقلیتوں کے طلاق سرٹیفکیٹ سے متعلق رولز بنانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو اقلیتوں کے طلاق سرٹیفکیٹ سے متعلق 90 روز میں رولز بنانےکا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: لاہورہائیکورٹ نے اقلیتی خاتون کی طلاق کے بعد والد کے نام سے شناختی کارڈ کے اجرا کی درخوست پر فیصلہ جاری کردیا درخواست گزار کےمطابق یونین کونسل اقلیتوں کو طلاق سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرتی طلاق سرٹیفکیٹ کے بغیر نادرا شناختی کارڈ میں تبدیلی نہیں کرتا۔

    ضلع خیبر میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 2 پولیس اہلکاروں سمیت 3 شہید

    جسٹس طارق سلیم نے خاتون شہری کی درخواست پر 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔

    جسٹس طارق سلیم نے درخواست گزار کے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اقلیتوں کے طلاق سرٹیفکیٹ سے متعلق 90 روز میں رولز بنانےکا حکم دے دیا ریمارکس دیئے کہ مسیحی برادری کی جانب سے ‎طلاق سرٹیفکیٹ جاری نہ ہونےکی شکایات آرہی ہیں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت رولز کا اجراضروری ہے۔

    ننکانہ : ڈی سی آفس میں قائم کیے گئے RTI مرکز کا باقاعدہ افتتاح

    لاہور ہائیکورٹ نے ہدایت کی ہے کہ رولز بنائےجائے تک نادرا رجسٹریشن پالیسی کے تحت سہولت فراہم کرےعدالت نے درخواست گزارکو شناختی کارڈ کیلئےدوبارہ نادراسے رجوع کرنےکی ہدایت بھی کردی۔