Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • پنجاب الیکشن: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کیلئےعدالت سے رجوع کرنےکا فیصلہ

    پنجاب الیکشن: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کیلئےعدالت سے رجوع کرنےکا فیصلہ

    لاہور: پنجاب میں الیکشن سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: گورنر پنجاب کی زیرصدارت گورنر ہاؤس میں اہم اجلاس ہوا جس میں آئی جی، چیف سیکرٹری، سیکرٹری الیکشن کمیشن، ڈی جی لا الیکشن کمیشن اور دیگر حکام بھی شریک ہیں جبکہ اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا –

    گورنر پنجاب نےانتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک افراد نے اپنی اپنی آئینی اور قانونی تجاویز دیں جبکہ اجلاس کے شرکا نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پروضاحت طلب کرنے پر اتفاق کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ اجلاس میں لاہورہائیکورٹ سے فیصلےکی تشریح کیلئے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ویڈیو لیک کیس:سندھ ہائی کورٹ نےدانیہ شاہ کی ضمانت منظور کرلی

    گورنر پنجاب لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے اور سنگل بنچ کے فیصلے کے قانونی دائرہ کار کو چیلنج کریں گے گورنر لاہور ہائی کورٹ سے فیصلے کی تشریح کی درخواست کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ الیکشن تاریخ سے متعلق فیصلہ کیسے گورنر پنجاب پر لاگو ہوتاہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے اور گورنر سے مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

    دوسری جانب پنجاب میں الیکشن کی تاریخ نہ دینے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے،درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ صدر مملکت کو پنجاب الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دے، درخواست میں وفاقی حکومت، صدر ، گورنر پنجاب، نگران وزیر اعلیٰ کو فریق بنایا گیا-

    شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے 10 فروری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دیا،دوسری جانب عدالتی احکامات کے باوجود الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا-

  • اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی تعیناتی کیخلاف درخواست:پرویز اشرف نے عدالت میں جواب جمع کرادیا

    اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی تعیناتی کیخلاف درخواست:پرویز اشرف نے عدالت میں جواب جمع کرادیا

    لاہور: اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر پرویز اشرف نے عدالت میں جواب جمع کرادیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر راجہ ریاض کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دے دی۔

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اپنا جواب جعمع کراتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی کارروائی کو عدالت کے فورم پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

    وفاقی حکومت اور دیگر فریقین نے جواب کیلئے وقت دینے کی استدعا کی عدالت نے حکومت کو آخری موقع دیتے ہیں کارروائی اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی تقرری کے خلاف کیس کی سماعت 28فروری تک ملتوی کر دی اور وفاقی حکومت سے 28 فروری کو دوبارہ جواب طلب کر لیا-

    آئی ایم ایف کا مستقل ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ

    درخواست میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر راجہ ریاض کی تعیناتی کو چیلنج کیا گیا ہے،درخواست گزار نے کہا کہ راجہ ریاض کی تقرری غیر آئینی ہے ، عدالت راجہ ریاض کی تقرری کالعدم قرار دے-

  • تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

    تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

    لاہور :الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن بروقت کروانے سے معذرت کر لی-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی جسٹس جواد حسن نے درخوست پر سماعت کی آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے-

    چیف سیکریٹری نے کہا کہ ہم آئین کے آرٹیکل 220 پر عملدرآمد کے پابند ہیں،عدالت اور الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گی عملدرآمد کے پابند ہیں، عدالت نے کہا کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری سے ہمیں یقین دہانی چاہیے تھی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن بروقت کروانے سے معذرت کر لی وکیل نے کہا کہ جوڈیشری،چیف سیکریٹری، فنانس سب نے معذرت کرلی ہے، الیکشن کمیشن ایسے حالات میں کیسے الیکشن کروا سکتا ہے، کیس صرف تاریخ سے متعلق ہے،تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں کیس میں فریق نہیں بنایا جاسکتا-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے،کیس میں صدر مملکت کو بھی فریق نہیں بنایا گیا ،عدالت نےکہا کہ ایسا آرڈر جاری نہیں کریں گے جس پر عملدرآمد نہ کرا سکیں،درخواست میں وفاقی حکومت کو بھی فریق نہیں بنایا گیا جس نے فنڈز جاری کرنے ہیں-

    وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدلیہ سے رابطہ کیا انہوں نے ججز دینے سے انکار کر دیا ،ملک میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر الیکشن کروانا مشکل ہے، الیکشن کمیشن کو 40 بلین کی رقم مانگے کے باوجود ضمنی الیکشن کے لیے جاری نہیں کی گئی-

    جسٹس جواد حسن نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کرانے کے لیےا سٹاف بھی چاہیے ہوتا ہے،جس پر وکیل نے کہا کہ اگر قومی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن ایک دن نہ ہوں تو شفاف الیکشن نہیں ہو سکتے-

    گورنر پنجاب کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کی درخواست میں فیڈریشن اور وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق نہیں بنایا گیا، اگر گورنر اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کرے تو پھر گورنر تاریخ دینے کا پابند ہے، اگر گورنر اس پراسس کا حصہ نہ بنے تو پھر گورنر الیکشن کی تاریخ دینے کا پابند نہیں ہے ،کیس میں گورنر نے سمری پر دستخط نہیں کیے، اس لیے الیکشن کی تاریخ دینے کا پابند نہیں-

    تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین میں واضح درج ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں الیکشن ہوں گے ، صدر مملکت بھی الیکشن کی تاریخ دے سکتے ہیں ، عدالت حکم دے گی تو صدر تاریخ دے دیں گے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے لیے دائر درخواستوں پر وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد از نماز جمعہ سنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 14 جنوری کو وزیر اعلیٰ کی جانب سے سمری پر دستخط کرنے کے 48 گھنٹے مکمل ہونے پرپنجاب کی صوبائی اسمبلی از خود تحلیل ہوگئی تھی اس کے بعد گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے سے گریز کیا تھا۔

    چنانچہ پی ٹی آئی نے 27 جنوری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا بیرسٹر علی ظفر کی وساطت سے دائر درخواست میں گورنر پنجاب کو بذریعہ سیکریٹری فریق بنایا گیا۔

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ آئین کے تحت اسمبلی تحلیل ہونے کے فوری بعد گورنر کو الیکشن کا اعلان کرنا ہے، گورنر پنجاب الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہے جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے، 10 روز سے زائد کا وقت گزر چکا ہے اور گورنر پنجاب کی جانب سے تاحال الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ گورنر اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہور ہائی کورٹ پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے گورنر کو ہدایات جاری کرے۔

  • پنجاب الیکشن کی تاریخ سےمتعلق درخواست، گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب عدالت میں جمع

    پنجاب الیکشن کی تاریخ سےمتعلق درخواست، گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب عدالت میں جمع

    لاہور ہائیکو رٹ میں پنجاب الیکشن کی تاریخ سے متعلق درخواست پر گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب جمع کرا دیا گیا-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکو رٹ میں پنجاب الیکشن کی تاریخ سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،شہری منیر احمد کی درخواست پر گورنرپنجاب نےجواب جمع کرایا،گورنر پنجاب نے درخواست جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کی استدعا کر دی۔

    سماعت کے دوران عدالت نے پی ٹی آئی کو کچھ دستاویزات متفرق درخواست کے ذریعے ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دے دی-

    لاہور، اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں بارشوں کی پیشگوئی

    عدالت میں گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب جمع کرایا گیا،جواب میں درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا گیا،تحریری جواب میں کہا گیا کہ گورنر پنجاب اپنی آئینی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جائے-

    گورنر کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہےکہ وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل نہیں کی تو الیکشن کی تاریخ دینا گورنرکی ذمہ داری نہیں، جب گورنر اسمبلی تحلیل کرے تو الیکشن کی تاریخ دینا اس کی آئینی ذمہ داری ہے،گورنرکی جانب سے الیکشن کمیشن کے اختیار میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے،گورنر آئین اور قانون کے مطابق فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ گورنر نےجواب دیا ہےکہ اسمبلی کی تحلیل انہوں نے نہیں کی اور اگر اسمبلی کی تحلیل انہوں نے نہیں کی تو تاریخ دینا ان کاکام نہیں۔

    جسٹس جواد حسن کا کہنا تھا کہ ہم نے قابل عمل حکم دینا ہے تاکہ عمل درآمد ہو، اب وقت ہی سب کچھ ہے، ہم کو منطق سے چلنا ہوگا، دیکھنا ہوگا کہ لارجر بینچ کی ضرورت ہے یا نہیں۔

    کیس میں الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب کے لیے وقت مانگ لیا، وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ میرا بطور وکیل کل ہی تقرر ہوا ہے، میں نےعدالت کے حکم بھی نہیں دیکھے اور جواب بھی تیار نہیں۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ الیکشن 90 دن میں کرانے سے متعلق عدالتی نظائر بھی ہیں۔

    وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن ہم نےکرانے ہیں لیکن تاریخ گورنر نے دینی ہے، ضمنی الیکشن کی تاریخ الیکشن کمیشن نے دینی ہوتی ہے، لیکن جنرل الیکشن کی تاریخ دینے کے اختیار میں قانون مختلف ہے۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ اسد عمر نے جو الیکشن کمیشن کے خط پر اعتماد کا اظہار کیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا الیکشن کمیشن نے گورنر کو خط لکھا،جسٹس جواد نے کہا کہ میرے سارے فیصلوں پر عملدرآمد ہوجاتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ عملدرآمد کا کہہ رہے ہیں لیکن بہت سے مسائل ہیں-

    جسٹس جواد نے کہا کہ بتائیں کیا مسائل ہیں، میں نے گورنر کو الیکشن کا نہیں کہنا،اسی لیے تو الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے،الیکشن کمیشن کی انتخابات کروانا آئینی ذمہ داری ہے،یہ تو خوش آئند بات ہے کہ الیکشن کمیشن نے مجوزہ تاریخ دی-

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر گورنر اور الیکشن کمیشن تاریخ نہ دیں تو صدر الیکشن کی تاریخ دے سکتاہے۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ آپ نے یہاں صدر کو تو فریق نہیں بنایا، ہم نے یہاں دیکھنا ہے کہ تاریخ کون دے سکتا ہے، ابھی الیکشن کمیشن نے الیکشن کروانے سے انکار نہیں کیا،

    وفاقی حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگرتاریخ کا اعلان ہوجائے اور الیکشن کمیشن اس پر عمل درآمدنہ کرسکے تو کیا ہوگا؟

    جسٹس جواد نے تحریک انصاف کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ قابل عمل حکم کیا چاہ رہے ہیں، اس پر بیرسٹر علی ظفر نےکہا کہ الیکشن13 اپریل سے پہلے ہونا چاہیے، سوال تاریخ دینےکا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب میں عام انتخابات کی درخواست پر الیکشن کمیشن اور گورنر پنجاب کو نوٹس جاری کردئیے گئےلاہور ہائیکورٹ میں پنجاب میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے حوالے سے دائر متفرق درخواست پر سماعت ہوئی تھی عدالت نے الیکشن کمیشن اور گورنر پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 9 فروری کو جواب طلب کیا تھا-

    خانیوال:سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، انتہائی مطلوب دہشتگرد…

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی کےحلقوں کا ضمنی شیڈول جاری کردیا۔ عام انتخابات کا شیڈول جاری نہ ہونے سے حلقے کےووٹرز کااستحقاق مجروع ہورہا ہے۔ اسمبلیوں کی تحلیل کےنوے دن میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا ہے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن پنجاب اسمبلی کی تحلیل کےباوجود انتخابی شیڈول جاری نہ کرکے آئین سے انحراف کررہا ہے۔ صاف و شفاف انتخابات کےلئے انتخابی شیڈول کااجراء جمہوری اساس ہے۔آئین کےآرٹیکل 105 کےبرعکس گورنر بدنیتی کی بناء پر انتخابی شیڈول جاری نہیں کررہا۔ عدالت الیکشن کمیشن کو پنجاب کے لیے انتخابی شیڈول جاری کرنے کا حکم دے۔

    کوہلو: بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں ووٹنگ آج ہو گی

  • عدالت نے  پی ٹی آئی کے 43 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا

    عدالت نے پی ٹی آئی کے 43 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 43 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 43 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا الیکشن کمیشن کاحکم معطل کردیا۔ جسٹس شاہد کریم نے 43 سابق ایم این ایز کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے 43 حلقوں میں ضمنی الیکشن تاحکم ثانی روک دیا عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیئے-

    عمران خان کی متوقع گرفتاری، پی ٹی آئی کی ڈنڈا بردار فورس زمان پارک پہنچ گئی

    جسٹس شاہد کریم نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ بتائیں کن قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا؟،بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ اسپیکر نے استعفے منظور کرنے سے قبل آئین کے تحت انکوائری نہیں کی ارکان اسمبلی استعفے منظور کرانے کے لیے اسپیکر کے پاس پیش نہیں ہوئے، ارکان کو سنے بغیر اسپیکر استعفے منظور نہیں کر سکتے۔

    عدالت نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے 43 ایم این اے کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا۔

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی عالمی بینک کے ریجنل ڈائریکٹر سے ملاقات

    واضح رہے کہ درخواست میں موقف اختیار کیاگیا تھا کہ ممبران اسمبلی نے استعفیٰ منظور ہونے سے قبل ہی واپس لے لئے تھے ،ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کرنا خلاف قانون اور بدنیتی پر مبنی ہے،درخواست میں سپیکر کا 22 جنوری اور الیکشن کمیشن کا 25 جنوری کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا گیا تھا-

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 43 ارکانِ قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا پی ٹی آئی کے ان 43 ارکان کے استعفے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے منظور کر کے سمری الیکشن کمیشن کو بھجوائی تھی الیکشن کمیشن نے اس سمری پر کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے 43 ارکانِ قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کیا تھا تحریک انصاف نے 43 ایم این اے کے استعفے منظور کرنے کا اقدام چیلنج کیا تھا-

  • لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب حکومت کو اقلیتوں کے طلاق سرٹیفکیٹ سے متعلق رولز بنانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب حکومت کو اقلیتوں کے طلاق سرٹیفکیٹ سے متعلق رولز بنانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو اقلیتوں کے طلاق سرٹیفکیٹ سے متعلق 90 روز میں رولز بنانےکا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: لاہورہائیکورٹ نے اقلیتی خاتون کی طلاق کے بعد والد کے نام سے شناختی کارڈ کے اجرا کی درخوست پر فیصلہ جاری کردیا درخواست گزار کےمطابق یونین کونسل اقلیتوں کو طلاق سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرتی طلاق سرٹیفکیٹ کے بغیر نادرا شناختی کارڈ میں تبدیلی نہیں کرتا۔

    ضلع خیبر میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 2 پولیس اہلکاروں سمیت 3 شہید

    جسٹس طارق سلیم نے خاتون شہری کی درخواست پر 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔

    جسٹس طارق سلیم نے درخواست گزار کے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اقلیتوں کے طلاق سرٹیفکیٹ سے متعلق 90 روز میں رولز بنانےکا حکم دے دیا ریمارکس دیئے کہ مسیحی برادری کی جانب سے ‎طلاق سرٹیفکیٹ جاری نہ ہونےکی شکایات آرہی ہیں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت رولز کا اجراضروری ہے۔

    ننکانہ : ڈی سی آفس میں قائم کیے گئے RTI مرکز کا باقاعدہ افتتاح

    لاہور ہائیکورٹ نے ہدایت کی ہے کہ رولز بنائےجائے تک نادرا رجسٹریشن پالیسی کے تحت سہولت فراہم کرےعدالت نے درخواست گزارکو شناختی کارڈ کیلئےدوبارہ نادراسے رجوع کرنےکی ہدایت بھی کردی۔

  • مونس الٰہی کی اہلیہ کا نام نو فلائی لسٹ میں ڈالنے پر جواب طلب

    مونس الٰہی کی اہلیہ کا نام نو فلائی لسٹ میں ڈالنے پر جواب طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کے بیٹے مونس الٰہی کی اہلیہ کا نام نو فلائی لسٹ میں ڈالنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور نے درخواست پر سماعت کی ،ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کل تک جواب طلب کرلیا، عدالت نے حکم دیا کہ تمام فریقین کل تک عدالت میں جواب جمع کروائیں، دوبارہ سماعت کل جمعہ کو ہو گی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز مونس الہی کے اہلیہ تحریم الہی نے بیرون ملک جانے سے روکنے پر ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں، وفاقی حکومت اور ایف آئی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ 10 جنوری کو ائیرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا،ایف آئی اے کیجانب سے نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا ہے عدالت ایف آئی اے کا اقدام غیر قانونی قرار دے، عدالت اسٹاپ لسٹ سے نام نکالنے اور بیرون ملک جانے کی اجازت دے

    دوسری جانب ایف آئی اے نے تحریم الہی، راسخ الہی اور زہرہ اہلیہ کو طلب کرلیا چوہدری خاندان کے افراد کو منی لانڈرنگ کیس میں پنجاب اسمبلی کے ملازم قیصر اقبال بھٹی کے ذریعے غیر قانونی رقوم کی منتقلی کی تحقیقات کیلئے بلایا گیا

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

  • رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد

    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کر دی۔

    لاہور ہائیکورٹ نے رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کر دی ہے۔ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی اپیل ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی۔ جسٹس چوہدری محمد اقبال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت کی۔ پنجاب حکومت نے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی۔ سنگل بینچ نے رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔

    واضح رہے کہ منگل 10 جنوری کو لاہور ہائیکورٹ نے رمضان شوگر ملز کو دو روز میں این او سی جاری کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا تھا۔ شریف خاندان کی ملکیت رمضان شوگر ملز کو عدالتی حکم کے باوجود لائسنس جاری نہ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کی تھی. جس میں عدالتی حکم پر ڈی جی ایکسائز عدالت میں پیش ہوئے تھے. عدالت نے استفسار کیاتھا کہ آپ کیوں فیصلے پر عمل درآمد نہیں کررہے؟، کوئی ذاتی ایشو ہے؟

    دوران سماعت سرکاری وکیل نے استدعا کی تھی کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیے لیے مہلت دی جائے، تاہم لاہور ہائی کورٹ نے 2 روز میں رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا تھا. عدالت میں درخواست گزار کی جانب سے سلیمان اسلم بٹ ایڈووکیٹ پیش ہوئےتھے۔ وکیل نے کہا کہ درخواست گزار رمضان شوگر ملز نے لائسنس کے حصول کے لیے تمام شرائط پوری کیں، مگر اس کے باوجود سیاسی بنیادوں پر لائسنس جاری نہیں کیا جا رہا ۔محکمہ ایکسائز کے مطابق لائسنس کی درخواست پر کارروائی کی جارہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    معروف فٹبالر کی منفرد گھڑی توجہ کا مرکز بن گئی
    وزیراعظم دو روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ
    وکیل درخواست گزار کے مطابق رمضان شوگر ملز ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ اور تمام قوانین کو پورا کررہی ہے۔عدالت نے اس کی درخواست منظور کرتے ہوئے لائسنس کے اجرا کا حکم دی تھا. اس کے باوجود اسے لائسنس فراہم نہیں کیا جا رہا، نہ ہی مل کو چلانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ وکیل نے استدعا کی تھی کہ عدالت اپنے فیصلے کی تعمیل کرنے تک شوگر ملز چلانے کی اجازت دے ساتھ ہی عدالت درخواست گزار کمپنی کو لائسنس کی فراہمی کا حکم بھی دے۔

  • لاہور ہائیکورٹ نےعمران خان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست نمٹا دی

    لاہور ہائیکورٹ نےعمران خان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست نمٹا دی

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے خارج کر دیعمران خان کی نااہلی کے متعلق کیسز کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی کی سرراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزار ایڈووکیٹ آفاق احمد عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن عمران خان کو چیئرمین کے عہدے سے نااہل نہیں کر رہا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی کے بعد آپ کی درخواست تو بظاہر غیر موثر ہو گئی ہے، الیکشن کمیشن کے نوٹس کے بعد تو آپ کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔

    ایڈووکیٹ آفاق احمد نے کہا کہ میری درخواست ابھی غیر موثر نہیں ہوئی، میرے دلائل اظہر صدیق والی درخواست کے بعد سن لیں، جس پر جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ اظہر صدیق صاحب اب تو عمران خان خود درخواست گزار بن چکے، حلقے کے ووٹر کی درخواست بھی بظاہر غیر مؤثر ہے۔ اظہر صدیق نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ عمران خان کی درخواست سنگل بینچ میں چل رہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی
    لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے عمران خان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے ہٹانےکی درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دی۔ عمران خان کی ممنوعہ فنڈنگ میں نااہلی کے خلاف حلقے کے ووٹر کی جانب سے درخواست واپس لیے جانے کے بعد عدالت نے یہ درخواست بھی خارج کر دی۔

  • اراکین اسمبلی کو لوکل گورنمنٹ کےترقیاتی کاموں کیلئےگرانٹ دیناغیرقانونی ہے،لاہور ہائیکورٹ

    اراکین اسمبلی کو لوکل گورنمنٹ کےترقیاتی کاموں کیلئےگرانٹ دیناغیرقانونی ہے،لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے کابینہ کی منظوری کے بغیر وزیراعلیٰ کی بلدیاتی اداروں کے ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری غیر قانونی قرار دے دی۔

    باغی ٹی وی :لاہور ہائیکورٹ میں کابینہ کی منظوری کےبغیر وزیراعلیٰ کی بلدیاتی اداروں کےایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کےخلاف درخواست کی سماعت ہوئی،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد جمیل نے ملک مظہر حسین کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا-

    عدالت نے قراردیا کہ لوکل گورنمنٹ کی منظوری کے بغیر تمام نئے ترقیاتی پروجیکٹ غیر قانونی ہیں، نئے ترقیاتی کام مقامی گورنمنٹ کی منظوری سے ہی جاری رہ سکتے ہیں، انتظامی حکم کے ذریعے اراکین اسمبلی کو لوکل گورنمنٹ کے دائرہ اختیار میں ترقیاتی کاموں کیلئے گرانٹ دیناغیر قانونی ہے بلدیاتی کاموں کیلئے ایڈمنسٹریٹرز کو اختیارات دینے کا نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی ہے۔

    پاکستانی بولرز نے عمدہ کارکردگی دکھاکرہمیں بہت پریشان کیا ،ڈیوون کانوے

    ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کی تکمیل کے فوری بعد بلدیاتی انتخابات کرائے۔

    واضح رہے کہ درخواست گزار نے اکتوبر 2022 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری اور اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلدیاتی منتخب نمائندوں کی عدم موجودگی میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ذریعے ترقیاتی کام کرانا غیر قانونی ہے۔