Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری، درخواست واپس لینے کی بنا پرناقابل سماعت قرار

    رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری، درخواست واپس لینے کی بنا پرناقابل سماعت قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کیخلاف درخواست واپس لینے کی بنا پر ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے مسترد کردی،

    لاہور ہائیکورٹ میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس علی باقر نجفی نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی بات نظر نہیں آ رہی کہ آرڈر ختم کریں جسٹس شہباز رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی تفتیش انویسٹی گیشن افسر نے کرنا تھی قانون موجود ہے آپ تفتیش تبدیلی کی درخواست دے سکتے ہیں تفتیش کے بغیر تفتیشی رپورٹ بنائے گا تو وہ بے معنی ہو گی جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تفتیشی پر ممانعت تھی کہ وہ مقدمہ کی تفتیش نہ کرتا

    دوران سماعت وکیل رانا ثنا اللہ نے عدالت میں کہا یہ دفعات صرف مرکزی اور صوبائی حکومت لگا سکتی ہیں دو رکنی بنچ نے درخواست واپس لینے کی بنا پر ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے مسترد کردی عدالت نے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی

    قبل ازیں وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے وارنٹ گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل(ر ) نذیر احمد کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    گزشتہ ہفتے انسداد دہشتگردی کی عدالت نے گجرات کے تھانہ انڈسٹریل میں رانا ثنا اللہ کے خلاف درج ایک مقدمے میں ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔عدالت نے پولیس کو رانا ثنا اللہ کو 7 مارچ کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

    زمان پارک فحاشی کا اڈہ بن گیا،یاسمین راشد کی ایک اور آڈیو لیک،تحریک انصاف کا …

    رانا ثنا اللہ کے خلاف 5 اگست 2022 کو (ق) لیگ کے مقامی رہنما شاہ کاز اسلم کی مدعیت میں انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرایا گیا تھا جس میں ان پر چیف سیکرٹری اور ان کے اہلخانہ کوجان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    عورت مارچ کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،پنجاب حکومت

  • لاہور ہائیکورٹ نے عورت مارچ کی اجازت نہ دینے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت سے معذرت کرلی

    لاہور ہائیکورٹ نے عورت مارچ کی اجازت نہ دینے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت سے معذرت کرلی

    لاہور ہائیکورٹ نے عورت مارچ کی اجازت نہ دینے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت سے معذرت کرلی۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ میں عورت مارچ کے منتظمین نے مارچ کی اجازت نہ دیے جانے کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس پر جسٹس مزمل اختر شبیر نے سماعت سے معذرت کرلی۔

    عورت مارچ کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،پنجاب حکومت

    جسٹس مزمل اختر نے درخواست دوسرے بینچ کے سامنے لگانے کی سفارش کی ہے اور فائل چیف جسٹس کو بھجوادی۔

    واضح رہے کہ ہفتے کے روز ڈپٹی کمشنر لاہور نے عورت مارچ کے انعقاد کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا جس پر عورت مارچ کے منتظمین نے کل ہی لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا تھا تاہم گزشتہ روز پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے کہا ہے کہ نگران حکومت شخصی آزادیوں پر یقین رکھتی ہے اور 8 مارچ کوعورت مارچ کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی، خواتین کا تحفظ کریں گے اور مارچ کو سیکیورٹی دی جائےگے عورت مارچ کے منتظمین کے تحفظات دور کردیئے ہیں-

    دوسری طرف عورت مارچ کے منتظمین کی تیاریاں بھی جاری ہیں اس سال عورت مارچ ناصر باغ کے قریب منعقد ہوگا جس میں سول سوسائٹی، ٹرانس جینڈر کمیونٹی سمیت خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم این جی اوز کے رہنما اور کارکنان شریک ہوں گے۔

    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل …

    عورت مارچ کی آرگنائزنگ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام مزدوروں چاہےوہ فیکٹریوں، کھیتوں یا گھروں میں کام کرتے ہیں یا پھر صفائی و ستھرائی کے عملے کے طور پر گھریلو ملازمین ہیں، انہیں اپنے اور اپنے خاندان کے لیے محفوظ ربائش معیاری تعلیم اور سستی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کیلئے مناسب اجرت دی جائے۔

    ان کا کہنا ہے کہ پہلے قدم کے طور پر ہم تمام شعبوں میں کم از کم اجرت کے فوری نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں اور ان تمام عناصر کے لیے جو اس سے انکار کرتے ہیں قانون کے تحت جرمانہ کا مطالبہ کرتے ہیں ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں فوجی اخراجات میں کمی کی جائے اور پہلے قدم کے طور پر فوج کے محکمہ کی غیر جنگی کٹوتیاں کی جائیں جیسا کہ گولف کلب، گیٹڈ ہاؤسنگ اسکیموں اور اس طرح کے شاہانہ اخراجات ہیں جن میں ٹیکس دہندگان کا پیسہ ضائع ہو رہا ہے۔

    چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل(ر ) نذیر احمد کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

  • پی ٹی آئی رہنماؤں کو 30 روزکیلئےایم پی اوکے تحت نظربند کیا ہے،پنجاب حکومت نےعدالت میں رپورٹ جمع کرا دی

    پی ٹی آئی رہنماؤں کو 30 روزکیلئےایم پی اوکے تحت نظربند کیا ہے،پنجاب حکومت نےعدالت میں رپورٹ جمع کرا دی

    لاہور: جیل بھرو تحریک کے دوران گرفتار رہنماؤں کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں پر پنجاب حکومت نے گرفتاریاں دینے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں سے متعلق رپورٹ جمع کروا دی۔

    باغی ٹی وی: پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شاہ محمود قریشی، اسدعمر اور اعظم سواتی سمیت 9 رہنماؤں کو 30 روزکے لیے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت نظربند کیا ہے۔

    پنجاب حکومت کے وکیل نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں77 لوگوں کو نظر بندکیا گیا ہے، ڈپٹی کمشنر لاہور نے نظر بندی کے احکامات جاری کیےپی ٹی آئی رہنماؤں کی دوسرےشہروں میں منتقلی کےخلاف درخواست ہےاعجاز چوہدری کی رہنماؤں کی بازیابی کی درخواست میں رپورٹ آگئی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ نے سرکاری وکیل کو اگلی سماعت تک باقاعدہ جواب داخل کرانےکی ہدایت کرتے ہوئےکہا کہ ابھی رپورٹ عدالت کی فائل میں نہیں لگی، اس میں بھی رپورٹ جمع کرائیں، دونوں درخواستوں میں رپورٹ آنےکے بعد جمعےکو سماعت کریں گے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک کے دوران گرفتار وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی، سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر، سینیٹر اعظم سواتی، سینیٹر ولید اقبال، عمر چیمہ، مراد راس، جان مدنی، اعطم نیازی اور احسان ڈوگر کی بازیابی کے لیے ایک سے زائد درخواستیں دائر کی گئیں تھیں-

    پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری نے مشترکہ درخواست دائر کی تھی جس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم، انسپکٹر جنرل (آئی جی) اور سی سی پی او کو فریق بنایا گیا تھا-

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئی جی اور سی سی پی او نے پی ٹی آئی کے قائدین کو گرفتار کیا، پی ٹی آئی قائدین کو مال روڈ سے پکڑ کر پہلے کیمپ جیل پھر کوٹ لکھپت جیل لے جایا گیا،قائدین کو کھانا اور دوائیاں بھی فراہم نہیں کی جارہی ہیں اور نہ ادویات کی اجازت دی گئی اور انہیں غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے تاکہ ان کی شہرت اور ذات کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹے مقدمات بنائے جاسکیں۔

    درخواست کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کو حراست میں رکھنے کا کوئی قانونی جواز نہیں سینیٹر اعجاز چوہدری نے عدالت سے استدعا کی رہنماؤں کو بازیاب کرکے پولیس کو غیرقانونی اقدام سے باز رہنے کا حکم دیا جائے۔

    پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی، ولید اقبال کی اہلیہ سیدہ نوریا، اعظم سواتی کے بیٹے عثمان علی سواتی نے الگ درخواستیں بھی دائر کیں، جس میں ان کی رہائی کی استدعا کی گئی-

  • لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن الیکشن:ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں پہلی بار خاتون سیکریٹری منتخب

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن الیکشن:ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں پہلی بار خاتون سیکریٹری منتخب

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا،الیکشنزمیں ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں پہلی بار خاتون سیکریٹری منتخب ہوگٸیں۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ بار کے سالانہ انتخابات کا میدان حامد خان گروپ کے صدارتی امیدوار اشتیاق اے خان نے میدان مار لیا۔ صدراتی نشست پر انہوں نے 7293 ووٹ حاصل کیے جبکہ عاصمہ جہانگیر گروپ کے لہراسب گوندل نے 3372 ووٹ حاصل کیے۔

    نائب صدر کی نشست پر ربیعہ باجوہ 3590 ووٹ لے کر فاتح قرار پائیں جبکہ سیکریٹری کی سیٹ پر صباحت رضوی نے 4310 ووٹ لے کر ہائی کورٹ کی تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی مرتبہ سیکریٹری منتخب ہوئیں۔

    فنانس سیکرٹری کی نشست پر شاہ رخ شہباز وڑائچ 7109 ووٹ لے کر کامیاب رہے، فاتح امیدواروں کی جانب سے ہائی کورٹ کے احاطے میں جیت کا جشن منایا گیا۔ حامی ووٹرز کی جانب سے نعرے بازی اور گل پاشی کر کہ امیدواروں کو مبارک باد دی۔

    لاہور ہائی کورٹ بار کے سالانہ انتخابات میں چار عہدوں پر چودہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ دس ہزار پانچ سو ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔

  • عمران خان 4 بجے لاہورہائیکورٹ پہنچ جائیں گے،حماد اظہر

    عمران خان 4 بجے لاہورہائیکورٹ پہنچ جائیں گے،حماد اظہر

    لاہور،عمران خان کی پارٹی سینئر رہنماوں سے مشاور ت جاری ہے،لاہور ہائیکورٹ میں پیشی اور سیکیورٹی انتظامات پر بھی مشاورت کی جائے گی-

    باغی ٹی وی :فوادچودھری ،شفقت محمود،حماداظہراوردیگر مشاورتی اجلاس میں شریک ہیں جبکہ پی ٹی آئی رہنماوں کی قافلوں کی صورت میں زمان پارک آمد کاسلسلہ جاری ہے،پی ٹی آئی کارکنوں کی گاڑیوں کے باعث کینال روڈ پر ٹریفک سست روی کا شکار ہوگئی-

    زمان پارک میں عمران خان کے گھر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرخ حبیب نے کہا کہ جہاں جہاں عدالتوں نے عمران خان کو بلایا وہ پیش ہوئے،عمران خان پر 70سے زائد مقدمات درج ہیں،عمران خان کی جان کو سیریس تھریٹس ہیں،لاہور ہائیکورٹ نےعمران خان کو پیشی کیلئے بلایا ہے،عمران خان نے ہمیشہ عدالتوں اور قانون کااحترام کیا ہے-

    فرخ حبیب نے کہا کہ عمران خان 5 بجے لاہورہائیکورٹ میں پیش ہوں گے، عدالت کے سامنے عمران خان کی میڈیکل رپورٹس بھی رکھیں ،ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ عمران خان کو ہر قسم کی دھکم پیل سے بچانا ہے،جو سیکیورٹی خدشات ہیں ان کا ذکر عمران خان صاحب خود بھی کر چکے ہیں-

    حماداظہر نے کہا کہ عمران خان آدھے گھنٹے میں زمان پارک سے لاہورہائیکورٹ کیلئے روانہ ہوں گے،عمران خان 4 بجے لاہورہائیکورٹ پہنچ جائیں گے-

  • پی ٹی آئی کے مزید 70 ارکان  کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل

    پی ٹی آئی کے مزید 70 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل

    لاہور:عدالت پی ٹی آئی پنجاب کے ایم این ایز کو ڈی نوٹی فائی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹی فکیشن معطل کردیا۔

    باغی ٹی وی : تحریکِ انصاف کے مزید 70ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کے اقدام کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،جسٹس شاہد کریم نے فواد چوہدری ، شاہ محمود قریشی پرویز خٹک ،اسد عمر سمیت 70 ارکان کی درخواست پر سماعت کی، جس میں اسپیکر قومی اسمبلی ،الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے-

    دوران سماعت عدالت پی ٹی آئی کے پنجاب کے ایم این ایز کو ڈی نوٹی فائی کرنے سے متعلق الیکشن کا نوٹی فکیشن معطل کردیا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسپیکر نے استعفے منظور کرنے سے پہلے ارکان کا مؤقف نہیں لیا۔ الیکشن کمیشن نے استعفے منظور ہونے کے بعد ممبران کو ڈی نوٹیفائی کردیا۔ عدالت پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے اور الیکشن کمیشن کو متعلقہ حلقوں میں ضمنی انتخابات کا انعقاد روکنے کا حکم دے۔

    کوئٹۃ سے گرفتار مبینہ خودکش بمبار خاتون کوآج عدالت میں پیش کیا جائے گا

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے ارکان قومی اسمبلی کی حد تک ضمنی الیکشن بھی روکنے کا حکم دے دیا۔

    بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ میں عدالت نے آئندہ سماعت پر الیکشن کمیشن سمیت فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کے نوٹیفکیشن کی حد تک معاملہ 7مارچ کو سنا جائے گا۔

  • عمران خان کی گاڑی کو لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں داخلے کی اجازت مسترد

    عمران خان کی گاڑی کو لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں داخلے کی اجازت مسترد

    لاہور: عدالت نے عمران خان کی گاڑی کو لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں داخلے کی اجازت مسترد کر دی-

    باغی ٹی وی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمران خان نے بالآخر لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہونےکا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے انہوں نے گزشتہ روز عدالت میں سیکیورٹی کی درخواست کی تھی-

    سابق وزیر مملکت اور پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے کہا کہ اس حوالے سے ان کی سیکیورٹی ٹیم نے لاہور ہائیکورٹ کے اندر بھی سیکیورٹی کا جائزہ لیا،عمران خان پرپہلے قاتلانہ حملہ ہوچکا ان پر دوبارہ حملے کا خطرہ موجود ہے-

    فرخ حبیب نے کہا کہڈاکٹرز نےٹانگ کی ہڈی فریکچر ریکوری کےلیے دھکم پیل سے احتیاط کی ہدایات دی ہیں جس پر ایڈمن سےعمران خان کی گاڑی کوعدالتی احاطے میں لےجانے کی اجازت مانگی ہے –

    عمران خان کے وکلا نے گاڑی کو احاطہ عدالت میں لانے کے لیے رجوع کیا تھا لیکن عمران خان کی گاڑی کو لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی،لاہور ہائیکورٹ پیشی پر لیگل ٹیم عمران خان سے دوبارہ مشاورت کرے گی-

    لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس عابد عزیز شیخ نے بطور انتظامی جج فیصلہ سنایا-

    واضح رہےکہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے باہر مظاہرہ کرنے اور رکن قومی اسمبلی پر حملےکےکیس میں حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    عدالت نے حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کے مختلف دستخط کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں آج طلب کیا تھا۔

    عدالت نے عمران خان کو آج طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت میں آ کر حلف پر دستخط کی وضاحت کرنا ہوگی، عدالت نے پیش نہ ہونے پر توہین عدالت کا عندیہ دیا تھا۔

  • پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا معاملہ:گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا معاملہ:گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    لاہور: گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

    باغی ٹی وی : گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کی جانب سے ایڈوکیٹ شہزاد شوکت نے سنگل بینچ کے فیصلے کی تشریح کے لیے درخواست دائر کی۔

    درخواست گزار کے مطابق سنگل بینچ نے الیکشن کمیشن کو تاریخ سے متعلق گورنر سے مشاورت کا حکم دیا ہے لیکن گورنر کے پاس ایسا کوئی آئینی اختیار نہیں جبکہ گورنر نے اسمبلی تحلیل پر دستخط ہی نہیں کیے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل گورنر پنجاب نے صوبے میں الیکشن کے حکم کی وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے الیکشن کمیشن وفد نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمن سے گورنر ہاؤس پنجاب میں ملاقات بھی کی تھی اس موقع پر چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب بھی موجود تھے، جنہوں نے صوبے میں انتظامی اور امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی تھی۔

    اجلاس میں فیصلے کی تشریح اور وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ گورنر پنجاب لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے اور سنگل بنچ کے فیصلے کے قانونی دائرہ کار کو چیلنج کریں گے۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ گورنر لاہور ہائی کورٹ سے فیصلے کی تشریح کی درخواست کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ الیکشن تاریخ سے متعلق فیصلہ کیسے گورنر پنجاب پر لاگو ہوتاہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے اور گورنر سے مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

  • حفاظتی ضمانت کیس: حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط،معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا.لاہور ہائیکورٹ

    حفاظتی ضمانت کیس: حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط،معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا.لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط کا نوٹس لے لیا۔

    باغی ٹی وی:اسلام آباد کی انسداد دہشتگری عدالت سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی عمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان کے وکلا جسٹس طارق سلیم شیخ کے روبرو پیش ہوئے، ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عمران خان کی جانب سے اپنا وکالت نامہ جمع کرایا۔

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز سے میٹنگ چل رہی ہے، سکیورٹی پر پارٹی تحفظات ہیں،2 گھنٹے میں پوری کوشش ہےکہ عمران خان کسی طرح پہنچ سکیں۔

    عمران خان کے وکیل کی درخواست پر عدالت نے ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کردیا،عدالتی مہلت گزر گئی لیکن عمران خان لاہور ہائیکورٹ میں پیش نہ ہوئے، حفاظتی ضمانت کی درخواست پر دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ اظہر صدیق ہدایات لے کر آرہے ہیں، کچھ وقت دے دیں جس کے بعد عدالت نے سماعت میں دوسری مرتبہ وقفہ کردیا اور سماعت کے لیے 2 بجے کا وقت مقرر کردیا۔

    2 بجےعمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے درخواست پر سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل اظہر صدیق اور معالج ڈاکٹر فیصل سلطان عدالت میں پیش ہوئے وکیل اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ ایک اور درخواست ضمانت دائر ہوئی ہے، ڈاکٹر سے میٹنگ ہوئی ہے، عدالت کے حکم پر عمل کے لیے تیار ہیں، ڈاکٹر طارق سلطان یہیں ہیں۔

    جسٹس طارق سلیم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کونہیں سننا شرط ہے کہ عمران خان پہلے عدالت میں پیش ہوں وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ دوسری درخواست ضمانت کا انتظار کرلیں اس پر عدالت نےکہا کہ اس کے انتظار کی ضرورت نہیں، آپ موجودہ درخواست پر دلائل شروع کریں۔

    جسٹس طارق سلیم نے عمران خان کے وکیل اظہر صدیق سے مکالمہ کیا کہ ابھی ایک مسئلہ ہے، درخواست، حلف نامے اورآپ کے وکالت نامے پر عمران خان کے دستخط مختلف ہیں، دستخط کیسے مختلف ہوگئے۔

    عدالت کے استفسار پر وکیل نے کہا کہ مجھے وقت دیں، دیکھ لیتا ہوں، اس پر عدالت نے کہا کہ آپ ابھی دیکھ لیں،کسی نے یہ فراڈکی کوشش کی ہے، اس میں آپ کویا عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس دوں گا۔

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ میں موجودہ درخواست ضمانت واپس لینا چاہتا ہوں،عدالت نے عمران خان کے وکیل کی درخواست واپس لینے کی استدعا رد کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ درخواست واپس لینےکی اجازت نہیں دوں گاجب تک یہ معاملہ حل نہ ہوجائے۔

    عدالت کےریمارکس پر ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دستخط مختلف ہونے پر جواب کے لیے وقت مانگ لیا جس پر عدالت نے کہا کہ معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس درخواست کو التوا میں رکھ رہے ہیں۔

    عدالت نے سماعت 4 بجے تک ملتوی کردی۔

  • عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    لاہور: ماہر قانون جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا ہے کہ اگرعمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا کہ عمران خان کی عدالت میں حاضری لازمی ہے، ورنہ انہیں ضمانت نہیں مل سکتی قانون سب کیلئے برابر ہوتا ہے، عمران خان اپنے اصولوں کے خلاف جا رہے ہیں۔

    جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی کا کہنا تھا کہ اس کیس میں انہیں خود عدالت آنا چاہیے، اب عمران خان کیلئے کوئی بچت نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو پیشی کے بغیر حفاظتی ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ عمران خان متعلقہ عدالت میں پیش ہونا چاہتےہیں، میڈیکل کے مطابق تین ہفتے تک عمران خان چل پھر نہیں سکتے لہٰذا میڈیکل گراؤنڈ پرحفاظتی ضمانت دےدیں۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ حفاظتی ضمانت کا قانون کیا ہے؟حفاظتی ضمانت میں ملزم کی پیشی ضروری ہے، زیادہ مسئلہ ہے تو ایمبولینس میں آ جائیں، قانون سب کیلئے برابر ہے، اصولی طورپر مجھے یہ درخواست خارج کردینی چاہیے لیکن رعایت دے رہا ہوں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے عبوری ضمانت کے لیے عمران خان کو آج صبح 9 بجے تک عدالت میں پیش ہونے کی مہلت دے دی ہے۔ اس سے قبل ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے گزشتہ رات 8بجے تک کا وقت دیا تھا تاہم عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوئے ہیں۔

    عدالت نے گزشتہ روز رات کو سوا آٹھ بجے دوبارہ کیس کی سماعت کی جس میں عمران خا ن کے وکیل نے ہائیکورٹ میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو ڈاکٹر نے چلنے سے منع کیا ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ ہم نے عمران خان کو چلنے کے لیے نہیں کہا ہے۔ اگر عمران خان چل نہیں سکتے ہیں تو سٹریچر پر عدالت آجائیں۔ اور ایمبولینس تو انکی اپنی ہے۔ اس موقع پر وکیل کی جانب سے عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی بھی درخواست کی گئی جو کہ عدالت کی جانب سے مسترد کردی گئی۔

    عدالت میں عمران خان کے دیگر وکلا میں اظہر صدیق ایڈووکیٹ بھی پیش ہوئے اور بولنا چاہا تو ان کو جسٹس طارق سلیم شیخ نے روک دیا اور کہا کہ یہ ٹاک شو نہیں ہے اور عمران خان کی جانب سے پیش ہونے والے دیگر وکلا کو حکم دیا کہ آپ قانون پیش کریں۔

    جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ میری درخواست حفاظتی ضمانت کی ہے۔ ڈاکٹر نے عمران خان کو اجازت نہیں دی ہے، وہ زخمی بھی ہیں اور سکیورٹی ایشو بھی ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ اگر آپ اس کو واپس لینا چاہتے ہیں تو لے لیں۔ عدالت نے کہا کہ سکیورٹی میں دلا دیتا ہوں۔