Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • پرویز الہٰی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    پرویز الہٰی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    لاہور:لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب سمیت دیگر کا نام پی سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی،درخواست گزاروں کی جانب سے ابوذر سلمان خان نیازی ایڈووکیٹ نے دلائل دیے، دوران سماعت وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق وزیراعلی پنجاب پرویز الہیٰ ان کے صاحبزادے راسخ الہی اور بہو زارا الہیٰ کا نام پی سی ایل سے نکال دیا گیا ہے،عدالت نے چوہدری پرویز الہٰی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا،عدالت نے چوہدری پرویز الہٰی، اور بیٹے راسخ الہٰی، ان کی اہلیہ زارا الہٰی کا پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے بھی نام نکالنے کا حکم دے دیا۔

    اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 ملازمین نوکری سے برطرف

    واضح رہے کہ 28 جون کو وفاقی حکومت نے صدر تحریک انصاف پرویز الہٰی کا نام پی سی ایل میں ڈال دیا تھا، پرویز الہیٰ سمیت دیگر نے پی سی ایل سے اپنا نام نکالنے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

    لاہور میں بھی دفعہ 144 نافذ

  • یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے پرو وائس چانسلر کی برطرفی کا فیصلہ معطل

    یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے پرو وائس چانسلر کی برطرفی کا فیصلہ معطل

    لاہور ہائیکورٹ نے یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے پرو وائس چانسلر کی برطرفی کا فیصلہ معطل کردیا جبکہ عدالت نے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر عالم سعید کو عہدے پر بحال کردیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے ملک اویس خالد ایڈووکیٹ نے دلائل دئیےدلائل سننے کے بعد جسٹس احمد ندیم ارشد نے یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے پرو وائس چانسلر کی برطرفی کا فیصلہ معطل کرکے انہیں بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر عالم سعید کو 3 سال کے لیے تعینات کیا گیا مگر گورنر پنجاب نے حکومت پنجاب کی سفارش پر بغیر نوٹس دئیے 2 سال قبل ہی پرو وائس چانسلر کو عہدے سے ہٹا دیا، حکومت پنجاب کا یہ اقدام آئین اور قانون کے خلاف ہے،درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت حکومتی اقدام کالعدم قرار دے۔

  • نیب ترامیم کے صدارتی آرڈیننس کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

    نیب ترامیم کے صدارتی آرڈیننس کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے نیب ترامیم کے صدارتی آرڈیننس کے خلاف درخواست باضابطہ سماعت کے لیے منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی:لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے شہری منیر احمد درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار منیر احمد کے وکیل اظہر صدیق نے دلائل دیے، عدالت نے وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا جبکہ اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر عدالتی معاونت کے لیے طلب کر لیا۔

    درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ صدارتی آرڈیننس ہنگامی صورتحال میں ہی جاری ہو سکتا ہے لیکن ترامیم پاکستان تحریک انصاف کے بانی پر دباؤ ڈالنے کے لیے کی گئی، قائم مقام صدر کی طرف سے آرڈیننس کا اجراء سیاسی مقاصد کے لیے کیا گیا ہے، نیب ترامیم سے بڑے بڑے ریفرنسز متاثر ہوں گے جس سے انارکی پھیلے گی۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیب ترامیم کالعدم قرار دے۔

    واضح رہے کہ 29 مئی کو چیئرمین سینیٹ اور قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کی منظوری کے بعد نیب ترمیمی آرڈیننس 2024 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا گزٹ نوٹی فکیشن وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری کیا گیا، نوٹیفکیشن کے مطابق اس کو قومی احتساب (ترمیمی) آرڈیننس 2024 کہا جائے گا، نیب آرڈیننس کے تحت زیر حراست ملزم کا ریمانڈ 14دن سے بڑھاکر40 دن کردیا گیا،نیب افسر کی جانب سے بدنیتی پر مشتمل نیب ریفرنس بنانے پر سزا 5سال سے کم کر کیے 2 سال کر دی گئی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ان پر جرمانہ بھی کیا جائے گا۔

  • مینار پاکستان پر پی ٹی آئی جلسہ: ڈپٹی کمشنر  لاہور کو 30 ستمبر تک درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت

    مینار پاکستان پر پی ٹی آئی جلسہ: ڈپٹی کمشنر لاہور کو 30 ستمبر تک درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت

    لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کے لیے درخواست پر ڈپٹی کمشنر لاہور کو 30 ستمبر تک درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی لاہور مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس فاروق حیدر نے پی ٹی آئی کے اکمل خان باری کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کی ہماری درخواست ڈی سی لاہور کے پاس زیر التوا ہے۔

    عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ 30 ستمبر تک ڈی سی لاہور اس درخواست پر فیصلہ کریں، ڈی سی لاہور ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو اس حوالے سے رپورٹ جمع کروائیں،بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی مینار پاکستان پر جلسے کی درخواست پر ڈی سی لاہور کو 30 ستمبر تک درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

    درخواست میں پنجاب حکومت، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا، درخواست گزار کا موقف تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سالگرہ 5 اکتوبر کو ہے، پرامن جلسہ کرنا چاہتے ہیں، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ مینار پاکستان پر شام 5 سے رات 10 بجے تک جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے، عدالت ضلعی حکومت 5 اکتوبر جلسے کی اجازت دینے کا حکم دے۔

  • پی ٹی آئی جلسہ رکوانے کی درخواست مسترد

    پی ٹی آئی جلسہ رکوانے کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو تحریک انصاف کی جلسہ کی اجازت کے لیے درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا

    جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور قانون کے مطابق آج شام پانچ بجے تک درخواست پر فیصلہ کریں۔ لاہور ہائیکورٹ نے جلسہ کی اجازت کے لیے دائر درخواست نمٹا دی،لاہور ہائیکورٹ نے جلسہ رکوانے کی الگ درخواست ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کر دی ،جلسہ رکوانے کی درخواست ایڈوکیٹ ندیم سرور نے دائر کی تھی۔ جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آپ متاثرہ فریق نہیں ہیں۔تین رکنی فل بنچ نے جلسہ رکوانے کی درخواست خارج کر دی

    تحریک انصاف کیجانب لاہور کے جلسے سے متعلق درخواست پر سماعت جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے کی،آئی جی پنجاب عثمان انوار لاہور ہائیکورٹ پیش ہوئے ،پراسکیوشن نے جلسہ کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کردی،سرکاری وکیل نے کہا کہ عالیہ حمزہ نے لاہور کے جلسے کےلیے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا، جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ اہم سماعت ہےایڈوکیٹ جنرل پنجاب کہاں ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اسلام آباد میں موجود ہیں،جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ کمرہ عدالت میں کون کون موجود ہے، حاضری لگوائیں، آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری، کمشنر سمیت دیگر نےحاضری لگوا ئی،

    سرکاری وکیل نے دلائل کا آغاز کردیا۔سرکاری وکیل نے کہا کہ اسلام آباد جلسے میں پی ٹی آئی لیڈرز نے نفرت انگیز تقاریر کیں،اشتہاری ملزم حماد اظہر نے صوابی جلسے میں کہا کہ پنجابیو تیار ہوں جاؤ میدان لگنے والا ہے،حماد اظہر نے کہا پنجابیو خون کے آخری قطرے تک لڑنا ہے،حساس اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں جلسے کی اجازت نہیں دی گئی ہے،پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ جلسوں کی تقریریں ریکارڈ کا حصہ ہیں،جلسے میں عدلیہ مخالف ،ریاست مخالف تقریریں ہوئیں،اسلام آباد کے جلسے میں صحافیوں کے خلاف نامناسب زبان استعمال ہوئیں،حماد اظہر جو مختلف مقدمات کا اشتہاری ہے اس نے تقریر کی،علی امین گنڈا پور نے بھی نامناسب الفاظ کا استعمال کیا،

    جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ یہ بتائیے کہ عالیہ حمزہ کیا پارٹی کی کوئی عہدے دار ہیں،وکیل اشتیاق چوہدری نے کہا کہ عالیہ حمزہ پی ٹی آئی کی سی ای سی کی رکن ہیں،جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ عالیہ حمزہ نے جلسے کے لیے کوئی درخواست نہیں دی،قانون کے مطابق درخواست دینا ضروری ہے، جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کہاں ہیں آگے آئیے،کیا عالیہ حمزہ نے جلسے کے لیے کوئی درخواست دی ،ڈی سی نے جواب دیا کہ عالیہ حمزہ نے جلسے کےلیے کوئی درخواست نہیں دی،جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آپ کے سیکرٹری جنرل نے تو 22 ستمبر کو جلسے کی اجازت مانگی ہے ،کیا کہیں آپ نے 21 ستمبر کو جلسے کی اجازت مانگی ہے ،عالیہ حمزہ ہے کہاں ،وکیل اشتیاق چوہدری نے کہا کہ وہ اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ کی کیفیت میں ہیں ،جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آپ ابھی جلسے کی اجازت کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دیں،ہم پندرہ منٹ میں دوبارہ آئین گے آپ ہمارے سامنے درخواست دیں،ڈپٹی کمشنر آج ہی درخواست پر فیصلہ کرینگے ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جواب نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اکیلا درخواست پر فیصلہ نہیں کرسکتا،درخواست پر حساس اداروں سے رپورٹس منگوانی ہوتیں ہیں پھر فیصلہ کرتے ہیں ، جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آج اور ابھی درخواست پر فیصلہ کریں،

    دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی ہم آج بھی یہاں پھنسے ہیں بولنے کی آزادی نہیں جلسے کی اجازت نہیں ،جسٹس طارق ندیم
    دوبارہ سماعت ہوئی تو ،عدالت نے چیف سیکرٹری کو آگے بلا لیا۔جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ یہ دیکھیے یہ ملک ہے تو سب ہیں،آج جو اقتدار میں ہیں ماضی میں وہ حزب اختلاف میں تھے ،ہر 15 یا 20 دن بعد اس طرح کی کوئی ناں کوئی پٹشن دائر ہوجاتی ہے،کیا یہ بہتر نہ ہوگا ہم ہر ضلع میں جلسے کےلیے ایک جگہ مختص کردیں، اب دیکھیں سارا کا سارا سسٹم چوک ہوا پڑا ہے،تمام افسران یہاں موجود ہیں ،لاہور بڑا شہر ہے یہاں جلسے کےلیے دو تین جگہ مختص کردیں ،یہاں صورتحال یہ ہے کہ آگے جلسہ ہورہا ہوتا ہے پپچھے جنازے رکے ہوتے ہیں ،حکومتیں تو آتی جاتیں رہی ہیں.کوئی ایسا کام کر جائے جس سے آپ لوگ کو یاد رکھیں،آج یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جلسے کی اجازت نہیں مل رہی کل وہ کہہ رہے تھے ،دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی ہم آج بھی یہاں پھنسے ہیں بولنے کی آزادی نہیں ہے جلسے کی اجازت نہیں ہے ،

    جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آئی جی صاحب آپ آگے آئیے،آئی جی صاحب ہم آپ سے یہ توقع نہیں کرتے کہ لوگوں کو غیر قانونی ہراساں کیا جائے،آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہماری طرف سے کوئی ہراسمنٹ نہیں کی جارہی ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ جھوٹ مت بولئے میرے گھر کے باہر ایک ہفتے سے پولیس کھڑی ہے،

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    دوسری جانب تحریک انصاف کے لاہور جلسے کو لے کر پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، پولیس نے پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی امتیاز وڑائچ کو گرفتارکیا تھا، علی امتیاز وڑائچ 2 گھنٹے پولیس کی حراست میں رہے جس کے بعد پولیس نے انہیں رہا کر دیا،پولیس نے پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کے گھر بھی چھاپہ مارا، جس پر عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ 16 ماہ پابند سلاسل رہنے کے باوجود پولیس نے میرے گھر ریڈ کیا، تین تھانوں کی پولیس نے میرے گھر پر آدھی رات کو ریڈ کیا، پولیس نے میرے گھر کی تلاشی لی۔فلک جاوید کے والد کو بھی گزشتہ شب رات میں حراست میں لے لیا گیا.

  • لاہور: پی ٹی آئی جلسہ سے متعلق تمام درخواستوں پرلارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش

    لاہور: پی ٹی آئی جلسہ سے متعلق تمام درخواستوں پرلارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش

    لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی جلسے کی اجازت اور جلسہ روکنے سے متعلقہ تمام درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کردی-

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے عالیہ حمزہ سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی دوران سماعت انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ فائلز 10 منٹ میں چیف جسٹس کے پاس بھجوائی جائیں گی، یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے اس کی آئینی تشریح ہونا ضروری ہے، یہ معاملہ ایک بار ہی سیٹل ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں جلسہ کرنے اور جلسہ رکوانے والی دونوں درخواستیں دائر کی گئیں، جس پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کردی ہے۔

    سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا امکان مشروط کر دیا

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے 21ستمبر کو لاہور میں جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم انتظامیہ کی جانب سے جلسے کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے لیکن حکومت نے بھی جلسہ رکوانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کررکھی ہے۔

    قومی ترانے کی بے حرمتی:پاکستان نے افغانستان سفارتخانے کی وضاحت کو سختی سے مسترد کردیا

  • پی ٹی آئی کی مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر

    پی ٹی آئی کی مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی عدلیہ مخالف تقاریر اور جلسہ رکوانے کے لیے دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر درخواست پر سماعت کریں گے جبکہ شہری مرزا واحد رفیق کی جانب سے دائر درخواست میں حکومت پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت سیکیورٹی خدشات کے تحت عدالت سے رجوع کرتی رہی ہے، پی ٹی آئی اپنے مؤقف سے ہٹ کر لاہور میں جلسہ کرنے جا رہی ہے، پی ٹی آئی کے 8 ستمبر کے جلسے میں حکومت اور عدلیہ کے خلاف زبان استعمال کی گئی، پی ٹی آئی انتظامیہ کی منظوری کے بغیر جلسہ کرنا چاہ رہی ہے، جلسے میں عدلیہ مخالف تقاریر ہوسکتی ہیں، پی ٹی آئی آئین میں دی گئی رعایت کا غلط استعمال کررہی ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس :عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواست کا …

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پی ٹی آئی کو عدلیہ مخالف تقاریر سے روکنے اور انتظامیہ کی اجازت کے بغیر جلسہ کرنے سے روکنے کا حکم دے، بغیراجازت جلسہ کرنے پر پی ٹی آئی کے خلاف سخت کارروائی کا بھی حکم دیا جائے۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی،

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ اور شیخ امتیاز محمود کی درخواست پر سماعت کریں گے، درخواست میں حکومت پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    ایرانی ہیکرز نےجو بائیڈن کو ٹرمپ کی انتخابی مہم سے چوری شدہ مواد بھیجا

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہے، تحریک انصاف نے لاہور میں جلسے کیلئے متعدد درخواستیں دیں، سیاسی بنیادوں پر پی ٹی آئی کو لاہور میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، ڈپٹی کمشنر لاہور کو 21 ستمبر کو مینار پاکستان پر جلسے کیلئے درخواست دی ہے، ڈی سی لاہور پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہیں دے رہے، جلسہ کرنا ہر سیاسی جماعت کا بنیادی آئینی حق ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پی ٹی آئی کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کی اجازت دینے کا حکم دے۔

  • لاہور ہائیکورٹ،راضی نامے کی بنیاد پر نمٹائے گئے تمام مقدمات کی تفصیلات طلب

    لاہور ہائیکورٹ،راضی نامے کی بنیاد پر نمٹائے گئے تمام مقدمات کی تفصیلات طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں منشیات کےملزم عمران علی کے کیس کی سماعت ہوئی۔
    ہائی کورٹ نے عدالتوں میں بروقت چالان نہ بھجوانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے راضی نامے کی بنیاد پر نمٹائے گئے تمام ترمقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں،عدالت نے دو لاکھ دو ہزار مقدمات کےچالان کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے مقدمات کےاندراج کےنظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کی ہدایت کردی۔دوران سماعت لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی بتائیں پنجاب میں کیا ہو رہا ہے، تین لاکھ باسٹھ ہزار مقدمات درج ہوئے، اب پتہ ہی نہیں کہ ان مقدمات کو زمین کھا گئی یا آسمان، بتایا جائے سب سے زیادہ مشکلات کن اضلاع میں آرہی ہے؟آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ گیارہ ہزار آٹھ سو کے قریب تفتیشی افسران کو شوکاز نوٹس دیے ہیں، گیارہ ہزار مرتبہ اہلکاروں کو سزائیں دی گئی ہیں، کئی روز سے مسلسل اجلاس بلا کرڈیڑھ لاکھ مقدمات کو ٹریس کرکے چالان مرتب کئے، ڈیڑھ سال میں مقدمات کے اندراج کی تعداد میں چھالیس فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ سال پچھتر ہزار بجلی چوری کے مقدمات درج ہوئے، اس سال بجلی چوری کے مقدمات کی تعداد بڑھ کر80 ہزار ہوگئی، لودھراں میں مقدمات کے چالان زیرو فیصد تک لے آئے ہیں، لاہور میں 59 ہزارمقدمات اور فیصل آباد میں 81ہزار مقدمات درج ہوئے۔

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے کہا کہ جن مقدمات میں راضی نامہ ہوا ان کی تفصیلات سے متعلقہ عدالت کو آگاہ کیا گیا یا نہیں، 2017 سے ریکارڈ طلب کیا پتہ نہیں اس پہلے کا کیا حال ہے، کیسز کے چالان پیش نہ کرنے سے امور متاثر ہوتے ہیں،آئی جی پنجاب نے بتایا کہ سالانہ 160 کیسز ہر تفتیشی کے حصے میں آتے ہیں،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے کہا کہ تو اس طرح سے روزانہ کے حساب سے تو تفتیشی افسر کیلئے چالان پیش کرنا مشکل نہیں۔

    کارساز حادثہ،ملزمہ نتاشا نشے میں تھی، میڈیکل رپورٹ میں تصدیق

    نتاشا کے شوہر دانش اقبال نے گرفتاری کے ڈر سے حفاظتی ضمانت کروا لی

    کارساز حادثہ،ملزمہ "پاگل” نہیں بالکل تندرست ہے، ڈاکٹرکی تصدیق

    کارساز حادثہ،ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،جیل بھجوا دیا گیا

    کارساز حادثہ،پولیس کی سنگین غفلت، ملزمہ کو بچانے کی کوشش

    کارساز حادثہ،ملزمہ کی ضمانت مسترد،جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

  • الیکشن ایکٹ   کیخلاف درخواست،جسٹس سلطان تنویر احمد کی سماعت سے معذرت

    الیکشن ایکٹ کیخلاف درخواست،جسٹس سلطان تنویر احمد کی سماعت سے معذرت

    لاہور ہائیکورٹ ،الیکشن ترمیمی ایکٹ 2024 کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس سلطان تنویر احمد نے کیس سننے سے معذرت کر لی،جسٹس سلطان تنویر احمد نے کہا کہ موجودہ درخواست سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح سے متعلق ہے،میں لاہور ہائیکورٹ پرنسپل سیٹ پر دستیاب نہیں ہوں، وکیل نے کہا کہ معاملہ بہت ہی اہم نوعیت کا ہے اور الیکشن کمیشن اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے اور حکومت نے ترمیم ذاتی مقاصد کےلیے کی گئی ہے، جسٹس سلطان تنویر نے کہا کہ میں آج ہی کیس فائل قائمقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے پاس بھجوا رہا ہوں،

    جسٹس سلطان تنویر احمد نے شہری منیر احمد کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ اظہر صدیق عدالت میں پیش ہوئے،درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن اور مختلف سیاسی جماعتوں کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایکٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، الیکشن ترمیمی ایکٹ 2024 کا اطلاق ماضی سے نہیں ہو سکتا، الیکشن ترمیمی ایکٹ 2024 کو غیر آئینی قرار دیا جائے،درخواست کے حتمی فیصلے تک پی ٹی آئی کے علاؤہ کسی دوسری جماعت کو مخصوص نشستیں دینے سے روکا جائے،

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

  • لاہور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی کی مینار پاکستان جلسے کی درخواست پر جواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی کی مینار پاکستان جلسے کی درخواست پر جواب طلب

    لاہور ہائی کورٹ،تحریک انصاف کی 14 اگست کو مینار پاکستان گراؤنڈ پر جلسے کی اجازت کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی۔

    سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ حکومت کا استحقاق ہے یا پالیسی کہ وہ جلسے جلوس کی اجازت دے یا نہیں دے؟ 14 اگست کو بھی عوام کو تہوار منانے کی اجازت نہیں؟درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ صرف پی ٹی آئی کو جلسے جلوس کی اجازت نہیں دی جا رہی، ہم یقین دلاتے ہیں کہ پُرامن جلسہ کریں گے،سرکاری وکیل نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات پر پی ٹی آئی کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، استحکام پاکستان پارٹی اور پیپلز پارٹی کو بھی جلسوں کی اجازت نہیں دی گئی،عدالت نے پی ٹی آئی کی درخواست پر 14 اگست کو عوامی اجتماع کی اجازت نہ دینے پر پالیسی طلب کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور ڈپٹی کمشنر سے کل رپورٹ طلب کر لی۔