Baaghi TV

Tag: لاہور

  • کراچی:دوران ڈکیتی مزاحمت پر5افراد قتل:لاہورمیں ڈاکو گھرسے20 تولہ سونا اور7لاکھ روپےلوٹ کرفرار

    کراچی:دوران ڈکیتی مزاحمت پر5افراد قتل:لاہورمیں ڈاکو گھرسے20 تولہ سونا اور7لاکھ روپےلوٹ کرفرار

    کراچی: شہر قائد کے ضلع کورنگی میں مسلح افراد نے ڈکیتی مزاحمت پر دو نوجوانوں کو گولیاں مار کر قتل جبکہ تین کو زخمی کردیا، گزشتہ 36 گھنٹوں میں شہر بھر میں بے لگام ڈاکوؤں نے مزاحمت پر پانچ شہریوں کو موت کی نیند سلادیا۔

    ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ کورنگی کے دو تھانوں ماڈل کالونی اور لانڈھی کے علاقوں میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ڈاکوؤں مزاحمت پر مزید دو نوجوانوں کو گولیاں مار کر قتل کر دیا ، گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران بے لگام ڈاکوؤں نے 5 افراد کو قتل اور نصف درجن سے زائد افراد کو زخمی کر دیا۔

    پولیس روایتی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہ کرسکی جس کی وجہ سے شہریوں کا محکمے پر سے اعتبار ختم ہورہا ہے۔ماڈل کالونی کے علاقے میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے قتل کیے جانے والے عثمان کے ورثا نے پوسٹ مارٹم اور پولیس کارروائی کو بے وجہ قرار دیا اور لاش اپنے ہمراہ لے گئے ۔

    تھانہ ماڈل کالونی کی حدود ملیر کاظم آباد ہیرا مسجد کے قریب ڈاکوؤں نے ملک و بیکری شاپ میں فائرنگ کر کے دکاندار کو زخمی کر دیا اور موقع سے فرار ہوگئے ، زخمی ہونے والے شخص کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ دوران سفر وہ خون زیادہ بہہ جانے کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔

    مقتول کی لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی ، مقتول کے سینے اور بازو میں دو گولیاں ماری گئی تھیں۔

    ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 25 سالہ عثمان ولد مشتاق کے نام سے کی گئی ، مقتول عثمان ملیر ماڈل کالونی جعفر باغ علی چوک کے قریب کا رہائشی اور ملک و بیکری شاپ کا مالک تھا ، مقتول 3 بھائیوں میں دوسرے نمبر اور غیر شادی شدہ تھا، جس کا آبائی تعلق پنجاب کے علاقے لیہ سے تھا۔

    مقتول نے تقریباً ڈیڑھ سال قبل مذکورہ دکان کھولی تھی ، واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ موٹرسائیکل سوار دو مسلحہ ملزمان نے دکان میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر دکان کے مالک نے ملزمان کے ہاتھ میں اسلحہ دیکھ کر انہیں روکنے کے لیے کی کوشش کی جس پر ملزمان نے مشتعل ہو کر فائرنگ کر دی اور لوٹ مار کیے بغیر فرار ہوگئے۔

    واقعے کے بعد علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موقع پر اکھٹی ہوگئی ، اطلاع ملنے پر ماڈل کالونی تھانے کی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور فارنزک ڈپارٹمنٹ کو موقع پر طلب کر لیا۔ تفتیشی پولیس اور فارنزک ڈپارٹمنٹ کے افسران نے جائے وقوعہ سے دو خول اور فنگر پرنٹ اور دیگر شواہد اکھٹے کیے دوسری طوف مقتول کے ورثا نے پوسٹ مارٹم اور پولیس کارروائی کرانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس سے قبل بھی ان کے خاندان کے 3 افراد ڈاکوؤں کی گولیاں کا شکار بن چکے ہیں جن کے لیے پولیس نے کچھ بھی نہیں کیا۔

    خاندان کے ایک شخص کے قتل میں ملوث ڈاکوؤں کو پنجاب سے گرفتار بھی کیا گیا تاہم وہ بھی چھوڑ دیے گئے ، ماڈل کالونی تھانے کے ڈیوٹی افسر نے مقتول کے رشتے داروں کو پوسٹ مارٹم کرانے کے لیے بہت سمجھانے کی کوشش کی تاہم انہوں نے پولیس کی ایک نہ سنی اور لاش ایدھی ایمبولینس میں رکھ کر اپنے ہمراہ گھر لے گئے۔

    ڈسٹرکٹ کورنگی کے تھانہ لانڈھی کی حدود سیکٹر 36/B پیالہ ہوٹل پر ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر 28 سالہ نوجوان کو تیز دھار آلے کے پے در پے وار کر ہلاک کر دیا اور موقع سے فرار ہوگئے ، مقتول کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کی گئی۔

    ترجمان کراچی پولیس کے مطابق فوری طور پر مقتول کی شناخت نہیں کی جا سکی ، پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے ، لانڈھی 89 صادق میڈیکل اسٹور پر ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے ایک شخص کو زخمی کر دیا اور لوٹ مار کر کے فرار ہوگئے، زخمی ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا ، ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے شخص کی شناخت 45 سالہ ذولفقار علی ولد محمد صادق کے نام سے کی گئی۔

    پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے ، منگھو پیر کے علاقے ناردرن بائی پاس کٹی پہاڑی دعا ہوٹل کے قریب ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے 2 افراد کو زخمی کر دیا ، زخمی ہونے والے افراد کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا ، ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے افراد کی شناخت 25 سالہ محمد ساجد ولد محمد لطیف اور 40 سالہ محمد ندیم ولد جن وڈا کے نام سے کی گئی ، پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

    ادھرلاہور کے علاقے محافظ ٹاؤن کے ایک گھر میں ڈاکو 20 تولہ سونا اور سات لاکھ روپے کیش لوٹ کر فرار ہوگئے۔

    تفصیلات کے مطابق مسلح ڈاکوؤں نے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر لوٹ مار کی، ڈاکووں کے گھر میں داخل اور فرار ہونے کی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔

    سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا ہے کہ دونوں ڈاکو سفید رنگ کی کار میں سوار تھے جبکہ ڈاکوؤں نے ڈکیتی کا مال رکھنے کے لیے کار دروازے کے باہر پارک کی۔فوٹیج میں چہرے واضح ہونے کے باوجود ڈاکو گرفتار نا ہوسکے۔

  • لاہور: منگیتر کی فائرنگ سے 20 سالہ لڑکی جاں بحق:10 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

    لاہور: منگیتر کی فائرنگ سے 20 سالہ لڑکی جاں بحق:10 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

    لاہور:منگیتر کی فائرنگ سے 20 سالہ لڑکی جاں بحق:10 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل ،اطلاعات کے مطابق پہلے واقعہ میں لاہور میں منگیتر کی فائرنگ سے بیس سالہ لڑکی جاں بحق ہوگئی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی۔

    پولیس کے مطابق واقعہ وحدت کالونی کی حدود میں پیش آیا، بیس سالہ رباب فاطمہ کا منگیتر دو دن پہلے ملتان سے آیا تھا۔ملزم نے مقتولہ کے بھائی کے پستول سے فائرنگ کی جس سے دو گولیاں رباب کے بازو اور سینے پر لگیں۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    پولیس نے ملزم علی گردیزی کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا ہے، ملزم نے ابتدائی بیان میں بتایا ہے کہ گولی حادثاتی طور پر چلی۔پولیس نے حتمی وجوہات اور حقائق جاننے کے لیے دونوں کے موبائل فون اور دیگر شواہد اکھٹے کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

    لاہور میں ایک دردناک واقعہ میں لاہور میں 10 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے مناواں میں سوئمنگ پول سے مردہ حالت میں ملنے والی باجوڑ ایجنسی کی بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے تفتیش کو نیا رخ دے دیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    مناواں پولیس نے سوئمنگ پول کے مالک کو گرفتارکررکھا ہے لیکن شریک ملزم اسلم تاحال مفرور ہے جس کی عدم گرفتاری پر متاثرہ فیملی سراپا احتجاج ہے۔

    بچی کی لاش چند روز قبل سوئمنگ پول سے ملی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ بچی سے دو بار زیادتی کی گئی جس کے بعد اسے قتل کیا گیا۔مقتول بچی کے ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان بااثر ہیں جن کے ساتھ پولیس ملی ہوئی ہے۔

  • شیخ رشید ،ریما اور شہباز شریف، میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید فلم انڈسٹری بچ جائے:انورمقصود

    شیخ رشید ،ریما اور شہباز شریف، میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید فلم انڈسٹری بچ جائے:انورمقصود

    لاہور: معروف فنکار اور ڈراما نگار انور مقصود کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت عوام کی مدد نہیں کر رہی تو فلم کو کیا کرے گی۔اب تو بس ایک ہی حل ہےکہ اگرشیخ رشید ،ریما اور شہباز شریف، میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید حکومت فلم انڈسٹری کونئی زندگی مل سکے ورنہ حالات کچھ بہتر نظرنہیں آرہے

    انور مقصود کا پلے ”ساڑھے 14 اگست “یوم آزادی کے موقع پر پیش کیا جائیگا

    نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انورمقصود نے فلم انڈسٹری کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں فلم انڈسٹری کو حکومت کی حمایت حاصل ہوتی ہے ہمارے یہاں نہیں ہے۔انورمقصود نے کہا کہ ہمارے یہاں عوام کو نہیں ہے تو فلموں کو کیا کریں گے، وزیر کے لئے ضروری ہونا چاہیے کہ وہ کسی نہ کسی ہیروین کے ساتھ فلموں میں کام کریں۔ اگر شیخ رشید ، ریما اور شہباز شریف اور میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید پاکستانی فلم انڈسٹری کے حالات بہتر ہو جائیں۔

     

     

    لقمان ولا میں انور مقصود کی آنر میں تقریب کا اہتمام

    پاکستان کی موجودہ صورت حال پر خوبصؤرت تبصرہ کرتے ہوئے کراچی کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ بعض شہراجڑنے کے لئے بنائے جاتے ہیں کراچی ان میں سے ایک ہے۔ لوگ کراچی سے نکل کر لاہور اور اسلام آباد جا رہے ہیں، کچھ دن بعد لوگ لاہور اور اسلام آباد سے بھی نکل کر کہیں اور جائیں گے ۔

    انور مقصود کو معافی مانگنی پڑ گئی لیکن کیوں؟

    انورمقصود شہروں میں ویرانیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ک ڈیفنس کی خراب صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ ڈیفنس کی حالت تو 1947 سے بہت اچھی ہے لیکن ہاں ڈیفنس سوسائٹی کی حالت خراب ہے۔ وہ خیابان بخاری میں رہتے ہیں جہاں ہفتوں تک ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ تک پانی ان کے گھر کے باہر کھڑا رہا۔

    عمران خان کے نو حلقوں سے بیک وقت انتخابات لڑنے کے حوالے سے انور مقصود نے کہا کہ وہ کرکٹ کے کھلاڑی ہیں گیارہ سے بیک وقت لڑسکتے ہیں۔ مگر غلطی سے عمران خان ہاکی کے اسٹیڈیم میں آگئے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اتنے لوگوں کو کبھی نکلتے ہوئے نہیں دیکھا، ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ جو عمران کی طرف جا رہے ہیں وہ کسی اور کے خلاف اس کے طرف جا رہے ہیں۔

  • چالان کیوں کیا، ڈرائیور نے دلبرداشتہ ہو کررکشہ اور انسپکٹر کی موٹر سائیکل جلادی

    چالان کیوں کیا، ڈرائیور نے دلبرداشتہ ہو کررکشہ اور انسپکٹر کی موٹر سائیکل جلادی

    لاہور:صوبائی دارالحکومت کے علاقے لوہاری گیٹ میں رکشہ ڈرائیور نے چالان سے دلبرداشتہ ہوکر پر اپنے رکشے اور لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے انسپکٹر کی موٹرسائیکل کو آگ لگادی۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق لوہاری گیٹ میں رکشہ ڈارئیور افتخار ریلوے اسٹیشن کی طرف جا رہا تھا کہ لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے انفورسمنٹ انسپکٹر علی نے اس کا 2 ہزار روپے کا چالان کردیا۔

    مجلس عزاء پر آسمانی بجلی گرنے سے 5 خواتین ہلاک اور متعدد زخمی

    افتخار نے غصے میں آکر اپنے رکشے کو آگ لگادی، جو موقع پر موجود لوگ نے بجھائی اس کے ساتھی نے انفورسمنٹ انسپکٹر کی موٹرسائیکل جلا دی پولیس نے رکشہ ڈرائیور اور اس کے ساتھی کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔

    یوٹیوبر جمیل فاروقی کو گرفتار کر لیا گیا

    قبل ازیں لاہور میں چوروں نے ایک ہی دن میں انہوں نے 2 سرکاری گاڑیاں چُرا لیں تھیں رِنگ روڈ پولیس کی گاڑی وائرلیس سیٹ،پبلک ایڈریس سسٹم اور دیگر ضروری آلات سمیت چرائی گئی، جبکہ مزنگ میں چور فائر بریگیڈ کے دفتر سے فائر ٹینڈر ہی چرا کر لے گیا تھا پولیس نے دونوں واقعات کا مقدمہ درج کر لیا تھا-

    چوروں کی دیدہ دلیری،ایک ہی دن میں انہوں نے 2 سرکاری گاڑیاں چُرا لیں

  • پب جی سمیت آن لائن گیموں کی آڑ میں بچوں سےہزاروں روپےلُوٹنےوالےگروہ کیخلاف کاروائی

    پب جی سمیت آن لائن گیموں کی آڑ میں بچوں سےہزاروں روپےلُوٹنےوالےگروہ کیخلاف کاروائی

    لاہور: آن لائن پب جی سمیت دیگر گیموں کی آڑ میں بچوں سے ہزاروں روپے لوٹنے والے گروہ کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی :اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم نے والدین کی جانب سے شکایات موصول ہونے پر آن لائن پب جی سمیت دیگر گیموں کی آڑ میں بچوں سے ہزاروں روپے لوٹنے والے گروہ کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے-

    یوٹیوبر جمیل فاروقی کو گرفتار کر لیا گیا

    ذرائع کے مطابق گروہ کے افراد پہلے بچوں کے ساتھ آئن لائن گیمز کھیلتے ہیں پھر انھیں مختلف جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے مقابلے میں حصہ لینے اور زیادہ رقم کا لالچ دے کر ان سے ایزی پیسہ یا دیگر ذرائع سے ہزاروں روپے بٹور رہے ہیں-

    شہبازگل کی تازہ ویڈیو نے فواد چوہدری کا جھوٹ بے نقاب کر دیا،اسلام آباد پولیس کی…

    ذرائع کے مطابق جب کسی بچے کی جانب سے گیم کے مقابلے میں حصہ لینے کیلیے ہزاروں روپے بھجوائے جاتے ہیں تو اس کے بعد اپنا آئن لائن اکاؤنٹ بند کردیتے ہیں، اب تک متعدد بچے والدین کو بتائے بغیر ہزاروں روپے اس فراڈ گروہ کے ہاتھوں لٹا چکے ہیں۔

    اس حوالے سے ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم ایکٹ کے تحت آئن لائن فراڈ کرنے والے افراد کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں البتہ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی آئن لائن حرکات کو ضرور چیک کریں۔

    چوروں کی دیدہ دلیری،ایک ہی دن میں انہوں نے 2 سرکاری گاڑیاں چُرا لیں

  • لاہور: ڈینگی مچھر کی افزائش روکنے کیلئےتمام سوئمنگ پولز بند کرنے کا حکم دے دیا

    لاہور: ڈینگی مچھر کی افزائش روکنے کیلئےتمام سوئمنگ پولز بند کرنے کا حکم دے دیا

    لاہور: ضلعی انتظامیہ نے ڈینگی مچھر کی افزائش روکنے کے لیے تمام سوئمنگ پولز بند کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہورکے احکامات کے مطابق شہر میں موجود تمام سوئمنگ پولز فوری بند کرائے جا رہے ہیں اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تحصیلوں میں موجود سوئمنگ پولز بند کرائیں۔

    چوروں کی دیدہ دلیری،ایک ہی دن میں انہوں نے 2 سرکاری گاڑیاں چُرا لیں

    ڈپٹی کمشنر لاہور کا کہنا تھا کہ ٹائرشاپس کی سخت مانیٹرنگ کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے،ٹائرشاپ مالکان ڈینگی روک تھام کیلئے ضلعی انتظامیہ کا ساتھ دیں، پیٹرول پمپس اور ٹائروں کی دکانوں سے پرانے ٹائرز فوری ختم کیے جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ خلاف ورزی پر دکان سیل اور ایف آئی آر درج ہوگی۔

    ڈینگی مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والی ایک بیماری ہے جو کہ ڈینگی وائرس کی وجہ سےہوتی ہے۔یہ وائرس شہری اور نیم شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ ڈینگی کا وسبب بننے والا وائرس ڈینگی وائرس (DENV) کهلا تا ہے چار (DENV) سیرو ٹائپس ہیں، اسکا مطلب یہ کہ اس وائرس سے چار بار متا ثر ہونا ممکن ہےڈینگی وائرس فی میل مچھر ایڈس کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ یہ مچھر 100 سے زائد ممالک میں عام ہے۔ ڈینگی وائرس ہونے کی وجوہات، علامات اورعلاج و احتیاط بر وقت کرنے سے اس وائرس سے خود کو اور اپنے عزیزوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

    دریائے سندھ میں طغیانی ،ہزاروں ایکڑ فصلیں زیر آب ،8 لاکھ کیوسک سیلاب کے ریلے کا…

    علامات ہلکی یا شدید ہو سکتی ہیں۔ شدید ڈینگی چند گھنٹوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور اسے اکثر ڈاکٹ کی نگرانی میں دیکھ بھال کی ضروت ہوتی ہے ڈینگی کی ہلکی علامات دوسری بیماریوں سے الجھ سکتی ہیں جو بخار، درد اور درد کا سبب بنتی ہیں۔

    ڈینگی کی سب سے عام علامات دکھانے والے انسانی جسم کا گرافک مندرجہ ذیل میں سے کسی کے ساتھ بخار ہے جیسا کہ آنکھوں میں درد، سر کا درد، پٹھوں میں درد، خارش، ہڈیوں میں درد، جوڑوں کا درد ہو سکتی ہیں۔

    ڈینگی بخار کی پہلی علامت مریض کے سر میں شدید قسم کا درد ہوتا ہے ڈینگی وائرس جسم میں داخل ہوتے ہی تیز بخار ہو جاتا ہے جو کہ 104 اور 105 سے آگے بھی بڑھ سکتا ہے جسم کے درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی ہوتی ہے۔

    بجلی 4 روپے 69 پیسے فی یونٹ مذید مہنگی ہونے کا امکان

    ڈینگی وائرس کے سبب کمر کے پچھلے حصے میں، اور ٹانگوں اور پٹھوں میں شدید درد ہوتا ہے ڈینگی بخار بڑھ جائے تو مریض کے منہ سے ،ناک سے خون آنے لگتا ہے بخار کے باعث ڈائریا بھی ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے جسم سے نمکیات خارج ہو جاتی ہیں اور مریض میں کمزوری بڑھ جاتی ہے۔

    ڈینگی کی وجہ سے بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کم ہو جاتی ہے۔ یہ وائرس خون کے بہائو کو متاثر کرتا ہےمچھر کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی یہ بیماری خون کے سفید خلیات پر حملہ کرتی ہیں اور انہیں آہستہ آہستہ ناکارہ کرنے لگتی ہے ڈینگی کے متاثرہ مریض کو شدید بخار کے سبب ہر وقت غنودگی طاری رہتی ہے۔

    طاقت کا سرچشمہ عوام،سیلابی ریلے میں بہہ رہا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

  • مشہور گلوکارہ نیرہ نور انتقال کر گئیں ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

    مشہور گلوکارہ نیرہ نور انتقال کر گئیں ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

    لاہور:وطن کی مٹی گواہ رہنا جیسا شہرہ آفاق ملی نغمہ گانے والی نیرہ نور انتقال کر گئیں، انا لله و انا الیه راجعون، نیرہ نورپاکستان کی ایک معروف شخصیت تھیں جن کا ہرکوئی دل سے احترام کرتا ہے،

    نیرہ نور،شمال مشرقی ہندوستان کی ریاست آسام کے گوہاٹی شہرمیں3نومبر 1950کو پیدا ہوئیں۔ یہیں پلی بڑھیں اور بیگم اختر کے نغموں،علی الصبح مقامی مندروں کے لاؤڈ اسپیکر س سے گونجنے والے بھجنوں اور شہر میں منعقد ہونے والے کنسرٹس سے محظوظ ہوتی رہیں۔ پھر کشاںکشاں ان کی آواز اور وجود میں یہ فن لطیف داخل ہوہی گیا۔دوسری جانب نیر ہ کے تجارت پیشہ اہل خانہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی پاکستان ہجرت تحریک پر، آسام سے رخت سفر باندھنا شروع کردیا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ نیرہ کے والد محترم اور چند دیگر اہل خانہ، آل انڈیا مسلم لیگ(اے آئی ایم ایل)کے ممبر اور آسام اکائی کے اہم عہدوں پر فائز تھے۔چنانچہ یہ کارواں پہلے پہل امرتسر واردہوا ،پھر 1958میںوہاں سے سیدھا کراچی پلائن کرگیا۔نیر ہ نور کی گنگناہٹ سب کا دل موہ لیتی تھی ۔ پاکستان میں ریڈیو پاکستان،پاکستان ٹیلی ویژن ،لالی ووڈ فلم انڈسٹری،پاکستان فلمس کارپوریشن جیسے ادارے وجود میں آچکے تھے اور تب تک ان کا مرکزی کراچی ہی تھا۔چنانچہ موقع اور دستور کے مطابق نیرہ نور نے اپنا پہلا نغمہ پی ٹی وی سے ہی نشر کیا ۔

    نیرہ کی گلوکارانہ صلاحیتوں کو سب سے پہلے جس شخص اور شخصیت نے دریافت کیا،اس کا نام نامی ہے پرو فیسر اسرار احمد ،جو اس وقت اسلامیہ کالج ،لاہور میں مدرس تھے۔یہ1968کی بات ہے،ایک دن نیرہ نیشنل کالج آف آرٹس،لاہور میں منعقدہ سالانہ ڈنر کے موقع پر اپنی کالج فرینڈس اور اساتذہ میں گھری میڈم نور جہاں،بیگم اختراور ناہید اختر کی آوازوں میںگارہی تھیں۔وہیں پرو فیسر موصوف نے اس جوہر قابل کو پرکھا اور یونیورسٹی آف لاہور کے مرکزی کیمپس میں واقع،ریڈیو پاکستان،لاہور کے اسٹوڈیو لے آئے ۔اب نیر ہ نور کی آواز،ہواکے دوش پر سوار ہو کرکراچی سے خیبر تک،لاہور سے پشاور تک اور اسلام آباد سے گوادر تک پورے ملک میں سُروں کی عطربیزی کرنے لگی۔ پھر محض دوسال بعد ہی انھیں پی ٹی وی،نیشنل اسٹوڈیو ،اسلام آباد سے دعوت نامہ موصول ہوا اور نیرہ کچھ اپنے پروں اور کچھ فن کے پروں پر اڑتی ہوئی’کانسٹی ٹیوشن اوینیو‘ جاپہنچی ۔نیرہ نے پی ٹی وی کے لیے مرزا غالب ،فیض احمد فیض اور احمد فراز کی غزلیں گا کر آواز و ساز عطا کیا ۔اس وقت پی ٹی وی مہدی حسن،احمد رشدی جیسے لیجنڈ اور اساتذہ سے موسوم تھا،نیرہ کو ان کے ساتھ گلوکاری کے مواقع میسر آئے۔

    نیرہ نور بہت جلد پاکستان شوبز انڈسٹری کے افق کا ستارہ بن گئی ۔اب وہ ریڈیو اور ٹی وی گلوکاری کے علاوہ فلموں میں بھی پلے بیک دینے لگیں۔ان کی پہلی فلم1973میں کے ۔خورشید کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ”گھرانہ“ہے۔جس میںانھوںنے رونا لیلیٰ علی اوراحمد رشدی کے ساتھ ’تیراسایہ جہاں بی ہو سجنا‘نغمہ گایا ۔شائقین و فلم بینوں کی پسند پر وہ اس نغمے کے لیے لالی ووڈ کے باوقار ایوارڈ”نگار ایوارڈ “ سے سرفرازکی گئیں،علاوہ ازیں انھیں تین مرتبہ ”آل پاکستان میوزیکل کانفرنس“ کی جانب سے گولڈ میڈل ملے۔لالی ووڈ کے آگے کے سفر میں نیرہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں’ایم اشرف‘،’روبن گھوش‘،’کمال احمد‘اور ’نثار بزمی‘نے کلیدی کردار اداکیا۔

    بہزاد لکھنوی کی غزل ”اے جذبہ دل گر میں چاہوں“اس وقت مراد ِشاعر بنی، جب نیرہ نور نے اسے ارشد محمود کی موسیقی میں پی ٹی وی کے پرو گرام ’سخن ور‘ میں گایا ۔آج بھی نیرہ کے البم’میری پسند‘ کاسب سے بہترین اور زیادہ سناجانے والا نغمہ ہے۔جدید شاعروں کے نائب امام ،ناصر کاظمی کی روح بھی اس وقت مسرت سے جھوم اٹھی جب نیرہ نے ان کی’رنگ برسات نے بھرے کچھ تو‘ اور ’پھر ساون رُت کی پون چلی‘غزلیں گائیں ——- اور اختر شیرانی کے رومان پر رنگ اس و قت چڑھا جب نیرہ نے ’اے عشق ہمیں برباد نہ کر‘غزل کو اپنا ساز دروں دیا۔فیض احمد فیض،ابن انشا،تسلیم فاضلی،کلیم عثمانی،مسرور انور وغیرہ دیگر شعرا و سانگ رائٹرس ہیں جنھوں نے نیرہ کے لیے نغمے تحریر کیے اور نیرہ نے انھیں سازو آواز کی روح پھونکی۔

    یہ بات کس قدر متاثر کن اور زندگانی ساز ہے کہ حکومت پاکستان کے باوقار اعزاز’صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔2005‘کی مالک نیرہ نور، انتہائی سادہ، کم گو اور شرمیلی خاتون ہیں۔ انھوں نے آغاز سے اب تک اپنے مخصوص انداز اور معیار کو قائم رکھاہوا ہے۔ان کے چہرے پر گلوکاری کے وقت بھی کسی قسم کے تاثرات کی جھلک نہ ہوتی تھی اور عام زندگی میں بھی ان کی شرافت و نجابت مثالی تھی۔ان کا ظاہری رکھ رکھاؤ سادگی کی اعلیٰ مثال ہے۔آج بھی پاکستان میں ان کی وہی شخصی قدرو منزلت۔ہاں البتہ 2012کے بعد سے انھوں نے شوبز کی دنیا سے منہ موڑلیا

  • لاہور میں 10 سالہ گھریلو ملازمہ پرمالکان کا تشدد، میاں بیوی گرفتار

    لاہور میں 10 سالہ گھریلو ملازمہ پرمالکان کا تشدد، میاں بیوی گرفتار

    لاہور: 10 سالہ گھریلو ملازمہ پر مالکان کی جانب سے تشدد کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کر متاثرہ بچی کو بازیاب کروا لیا۔اطلاعات کے مطابق اقبال ٹاؤن کے علاقے میں 10 سالہ بچی فاطمہ فرحان نامی شخص کے گھر پر تین ماہ سے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ ظالم مالکن اور اسکا شوہر فرحان بچی پر تشدد کرتے تھے۔

    اطلاع ملنے پر پولیس نے بچی کو بازیاب کر کے تشدد کرنے والے میاں بیوی کو حراست میں لے لیا، متاثرہ بچی فاطمہ کا کہنا تھا کہ مالکن اس پر تشدد کرتی اور والدین سے بات نہیں کرواتی تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ بچی کا میڈیکل کروانے کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کیا جائے گا۔

    ادھر ایک اور واقعہ میں بہاولپور میں نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم محمد عاشق کو شیخوپورہ سے گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزم نے یزمان سےفرار ہوکر شیخوپورہ میں پناہ لے رکھی تھے۔ ملزم کو بہاولپور منتقل کرنے کیلیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

    تفتیشی حکام کے مطابق نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم تفتیش جاری ہے،تمام حقائق جلد سامنے آجائیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں نوجوان کو ایک شخص پر بری طرح تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

  • لاہور پولیس جشن آزادی کی خوشیوں میں اہل وطن کے ساتھ شریک ہے،سی سی پی او

    لاہور پولیس جشن آزادی کی خوشیوں میں اہل وطن کے ساتھ شریک ہے،سی سی پی او

    قیام پاکستان کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر سی سی پی او لاہور ایڈیشنل آئی جی غلام have ڈوگر نے اپنے ویڈیو پیغام میں شہریوں کو یوم پاکستان کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ لاہور پولیس جشن آزادی کی خوشیوں میں اہلیان لاہور کے ساتھ برابر کی شریک ہے اور یہ تاریخی دن ملی جذبے اور قومی جوش و خروش کے ساتھ منا رہی ہے۔

    غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ لاہور پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے اس عزم کو دہراتا ہوں کہ ہمارا ایک ایک سپاہی شہریوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ یوم پاکستان الگ وطن کے حصول کے لئے قربانیاں پیش کرنے والے ہمارے اسلاف کی عظیم قربانیوں کو یاد کرنے اور خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔لاہور پولیس کے 329 شہیدوں نے ملک و قوم کی حفاظت کرتے ہوئے فرض کی راہ میں جانیں نچھاور کی ہیں۔سربراہ لاہور پولیس نے کہا کہ لاہور پولیس لا اینڈ آرڈرکے قیام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور خدمت کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ لاہور پولیس جشن آزادی کی تقریبات اور شہریوں کو بھرپور سکیورٹی فراہم کرے گی۔

    13 اگست کی درمیانی شب اور 14 اگست پانچ ہزار سے زائد پولیس افسران اوراہلکار تعینات کئےگئے ہیں۔6 ایس پیز،35 ڈی ایس پیز،84 ایس ایچ اوز، لیڈیز پولیس اہلکار،اینٹی رائٹ فورس کے جوان سکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ہوائی فائرنگ، ون ویلنگ، ہلڑبازی،روڈ بلاک اور ریسنگ کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی۔

    ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جشن آزادی کی خوشیاں مناتے ہوئے دیگر شہریوں خاص کر خواتین کے حقوق اور احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں،ہلڑ بازی، ہوائی فائرنگ،ون ویلنگ سے سختی سے اجتناب کریں اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے یوم آزادی کی خوشیاں منائیں بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ون ویلنگ، ہوائی فائرنگ،ہلڑبازی روکنے کیلئے خصوصی سکواڈ تشکیل اور مختلف مقامات پر ناکے لگائے گئے ہیں۔ون ویلنگ،ہوائی فائرنگ،ہلڑبازی میں ملوث سابقہ ریکارڈ یافتہ افراد کی ڈور ناکنگ اور ان سے شورٹی بانڈز لیے گئے ہیں۔پارکوں پبلک مقامات پر اضافی نفری،اینٹی رائٹ فورس تعینات کی گئی ہے۔ پارکوں اور تفریح گاہوں کے لئے بھی لاہور پولیس نے مربوط سکیورٹی پلان تشکیل دیا۔سی سی پی او غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ پارکوں اور تفریح گاہوں پر آنے والی خواتین اور شہریوں کو بھر پور سکیورٹی فراہم کریں گے۔شہر کے 12مرکزی پارکوں اور تفریح گاہوں کی سکیورٹی پر 650 سے زائد افسران اور جوان تعینات کئے گئے ہیں۔06 ایس پی،09 ڈی ایس پی،10 ایس ایچ اوز،19اپر سب آرڈینیٹس،250 لیڈی پولیس اہلکار فرائض انجام دے رہی ہیں۔ہلڑ بازی،خواتین سے بدتمیزی،ہراسگی اور غیر اخلاقی حرکات کے مرتکب عناصر کی سرکوبی کے لیے اینٹی رائٹ فورس کے دستے بھی تعینات ہوں گے۔

    پارکس اور تفریحی مقامات کے اطراف ڈولفن سکواڈ اور پیرو ٹیمیں مسلسل گشت کریں گی۔ہلڑ بازی،ون ویلنگ، ہوائی فائرنگ کرنے والوں،غنڈہ عناصر کو سیدھا حوالات بھیجیں گے۔گریٹر اقبال پارک، ریس کورس پارک،گلشن اقبال پارک،باغ جناح،چڑیا گھر،شالا مار باغ،ماڈل ٹاؤن پارک نواز شریف پارک،جلو پارک،سوزو واٹر پارک، سفاری زو پارک اورنیشنل پارک سمیت تمام مرکزی تفریحی مقامات کو سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ڈولفن سکواڈ، پیرو،ایلیٹ فورس ٹیمیں اہم شاہراہوں، پارکوں، پبلک مقامات کے گرد مسلسل پٹرولنگ کریں گی۔شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور چیکنگ کا عمل مزید سخت کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہر بھر میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز باقاعدگی سے جاری ہیں۔ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لئے مربوط ٹریفک پلان تشکیل دیا گیا ہے۔

    غلام محمود ڈوگر نے والدین سے اپیل کی کہ وہ ذمہ دارای کا مظاہرہ کریں، اپنے بچوں کو ون ویلنگ، ہلڑ بازی میں ملوث نہ ہونے دیں۔حادثات کے پیش نظرکم سن اور نابالغ بچوں کوموٹر سائیکل اورگاڑی ہرگز نہ چلانے دیں۔
    *

  • محبت کی شادی کا انجام:فقط دس دن میں 500 سےزائد خواتین طلاق لینے عدالت میں پہنچ گئیں

    محبت کی شادی کا انجام:فقط دس دن میں 500 سےزائد خواتین طلاق لینے عدالت میں پہنچ گئیں

    لاہور:محبت کی شادی کا انجام:فقط دس دن میں 500 سےزائد خواتین طلاق لینے عدالت میں پہنچ گئیں،اطلاعات کے مطابق صرف لاہور اور گردو نواح میں طلاق کی شرح اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ سننے والوں کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، اس سلسلے میں لاہور کی سول فیملی کورٹس میں خواتین کی جانب سے گزشتہ 10 دنوں کے دوران 500 طلاق کے کیسز دائر کیے گئے جن میں سے اکثریت نے پہلے اپنی پسند کے مردوں سے شادیاں کیں لیکن اب بڑھتے ہوئے گھریلو جھگڑوں سے جان چھڑانا چاہتی ہیں۔ اپنے شوہروں کی بے روزگاری کی وجہ سے جھگڑے،

    معلوم ہوا ہے کہ اپنے والدین کی مرضی کے خلاف نام نہاد محبت کے نام پر اپنی پسند کے مردوں سے شادی کرنے والی خواتین نے مبینہ طور پر اپنے شوہروں کا گھر چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔

    طلاق کی درخواستوں میں خواتین نے کہا کہ انہوں نے والدین کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق شادی کی لیکن بعد میں انہیں پچھتاوا ہوا۔

    "شوہر بے روزگار ہے۔ اسے نوکری نہیں ملتی۔ اگر میں گھر کا خرچہ مانگتا ہوں تو وہ تشدد کا سہارا لیتا ہے۔ سسرال والوں نے مجھے نوکرانی کے طور پر رکھا ہوا ہے،‘‘ اکثر خواتین نے طلاق کی درخواستوں میں کہا۔

    ڈیوٹی ججز نے شوہروں کو عدالتی تعطیلات کے بعد یکم ستمبر کو عدالتوں میں پیش ہونے کے نوٹس جاری کر دیئے۔

    طلاق کا معاملہ صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا کے دیگر ممالک میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے ، سعودی عرب میں طلاق کی شرح میں گزشتہ 10 سالوں کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں طلاق کی شرح فی گھنٹہ 7 طلاقیں ہوگئی ہے۔ طلاق کے رجحان میں اضافہ 2011 کے بعد سے ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2020 میں سعودی عرب میں 57 ہزار 595 طلاقیں رجسٹرڈ ہوئیں۔ یہ اعداد وشمار 2019 کے مقابلے میں 12 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔ سعودی عرب میں فی گھنٹہ 7 طلاقیں ہورہی ہیں۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں حکومتی سطح پر اورپبلک سیکٹرمیں خواتین کی عزت افرائی کے بعد خواتین زیادہ خومختار ہوگئی ہیں اوراپنے فیصلے اپنے مطابق کررہی ہیں۔