Baaghi TV

Tag: لاہور

  • اچھرہ میں گھر میں آتشزدگی،چار بہن بھائی جاں‌بحق، وزیراعلیٰ کا نوٹس

    اچھرہ میں گھر میں آتشزدگی،چار بہن بھائی جاں‌بحق، وزیراعلیٰ کا نوٹس

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، اچھرہ میں گھر میں آتشزدگی سے 4 بچے جاں بحق ہو گئے، آگ عمارت کی پانچویں منزل پر لگی۔

    اعظم چوک اچھرہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا،آگ لگنے سے گھر میں موجود 4 بہن بھائی جاں بحق ہوگئے۔آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والوں میں 12سالہ امان ،8سالہ نور ،5سالہ ابراہیم ،2سالہ اسماعیل شامل ہیں،ریسکیو ٹیموں نے آگ پر قابو پا لیا جبکہ کولنگ کا عمل بھی مکمل ہوگیا ہے،پولیس اور فرانزک ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر ابتدائی کارروائی مکمل کر لی، پولیس کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات کے تعین کیلئے تحقیقات کی جا رہی ہیں، ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ سلنڈر کی وجہ سے لگی،رات کو سلنڈر جل رہا تھا،

    نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا،وزیراعلیٰ پنجاب نے جاں بحق بچوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے افسوسناک واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی اور آتشزدگی کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا،نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی ہے اور بچوں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں

    4 بہن بھائیوں کے جھلس کر جاں بحق ہونے کی افسوسناک اطلاع نے نہایت غمزدہ کر دیا،شہباز شریف
    سابق وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اچھرہ، لاہور میں ایک گھر میں آتشزدگی سے 4 بہن بھائیوں کے جھلس کر جاں بحق ہونے کی افسوسناک اطلاع نے نہایت غمزدہ کر دیا ہے۔ گیس سلنڈرز کے معیار کو بہتر بنانے اور خصوصاً سردیوں میں چولہوں اور ہیٹرز کے استعمال کو محفوظ بنانے کے لیے ایک آگاہی مہم کی اشد ضرورت ہے تاکہ معصوم جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے، آمین۔

    صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب کا اچھرہ آگ سے متاثرہ گھر کا دورہ،لواحقین سے کی ملاقات
    صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر نے اچھرہ میں آتشزدگی سے مرنے والوں کے لواحقین سے ملاقات کی، انہوں نے گھر میں آگ لگنے سے جاں بحق ہونے والے بچوں کے رشتہ داروں سے تعزیت کی،صوبائی وزیر ہاؤسنگ بیرسٹر اظفر علی ناصر اور کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا بھی ہمراہ تھے، اس موقع پر عامر میر کا کہنا تھا کہ صبح کے وقت عمارت کی پانچویں منزل میں آگ بھڑکنے سے چار بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔ دکھ اور غم کی گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ریسکیو ٹیموں نے بروقت جائے حادثہ پر پہنچ کر امدادی کاروائیاں شروع کر دی تھیں۔ پولیس اس واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش بھی کر رہی ہے۔

    عامر میر اور اظفر علی ناصر نے عمارت کی 5ویں منزل پر جلنے والے کمرے کا جائزہ بھی لیا، ریسکیو حکام کے مطابق ابتدائی رپورٹ کے مطابق کمرے میں آگ چولہے کے باعث لگی۔ آگ اچانک بھڑکی اور منٹوں میں پورا کمرہ آگ کی لپیٹ میں آگیا۔کمشنر لاہور کے مطابق تمام انتظامی افسران موقع پر موجود ہیں، متاثرہ خاندان سے رابطے میں ہیں۔صوبائی وزیر ہاوسنگ پنجاب بیرسٹر سید اظفر علی ناصر نے دعا کرائی۔

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا،

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • لاہور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی کا بلے کا نشان واپس لینے کی درخواست خارج

    لاہور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی کا بلے کا نشان واپس لینے کی درخواست خارج

    لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف دائر درخواست خارج کردی

    تحریک انصاف کے رہنما عمر ڈھلوں نے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، گزشتہ روز عدالت نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج عدالت نے سنا دیا، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے پی ٹی آئی رہنما کی درخواست پر سماعت کی جسے عدالت نے ناقابل سماعت قرار دیدیا،عدالت نے عمر ڈھلوں کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اسے خارج کردیا۔

    تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار ،لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،فیصلے میں عدالت نے کہا کہ جو معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے وہاں لاہور ہائیکورٹ دخل اندازی نہیں کر سکتی۔انتخابی نشان کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔ ایک ہی معاملے پر دو جگہ سماعت سے تضاد کے باعث الیکشن میں تاخیر ہو سکتی ہے۔اس موقع پر درخواست یہاں قابل سماعت نہیں ہے۔ جسٹس جواد حسن نے تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

  • پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر دیا

    پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر دیا

    پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں سی ای سی کا اجلاس ہوا

    بلاول ہاؤس میں ہونے والے پی پی پی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ہائبرڈ اجلاس میں تمام اراکین موجود تھے، پیپلزپارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں عام انتخابات کے حوالے سے مہم اور منشور کے حوالے سے بات چیت کی گئی، اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال اور انتخابات کے حوالے سے سیاسی رابطوں پر گفتگوکی گئی،

    پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نےصدر پی پی پی پی آصف علی زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر اعتماد کا اظہارکر دیا، آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا نام پیش کردیا. پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا نام پی پی پی کی جانب سے وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر منظور کرلیا

    خواتین اگر اسی لگن سے کام کرتی رہیں گی تو جیت انشااللہ پیپلزپارٹی کی ہی ہوگی،

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

  • متحدہ عرب امارات کی مدد سے لاہور میں پھر مصنوعی بارش برسائی جائیگی

    متحدہ عرب امارات کی مدد سے لاہور میں پھر مصنوعی بارش برسائی جائیگی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں متحدہ عرب امارات کی مدد سے ایک بار پھر مصنوعی بارش برسائی جائے گی

    لاہور میں مصنوعی بارش کا انتظام کرنے والی متحدہ عرب امارات کے محکمہ موسمیات کی کلاؤڈ سیڈنگ ٹیم نے اپنے سربراہ احمد الکمال کی سربراہی میں وزیراعلی پنجاب محسن نقوی سے ملاقات کی ہے ،ملاقات کرنے والوں میں چیف پائلٹ مائیکل اینسٹس(Mr.Michael Anstis) اورپائلٹ کرنل عبید بھی شامل تھے۔ وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے سموگ میں کمی کے لئے مصنوعی بارش برسانے والے یو اے ای کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اوران کا شکریہ ادا کیا ۔

    اس موقع پر نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی ٹیم مطلوبہ بادل آتے ہی مصنوعی بارش برسا ئے گی تاکہ سموگ لیول میں مزید کمی لائی جاسکے، پاکستان میں پہلی بارمصنوعی بارش برسا کریواے ای کی ٹیم کا نام تاریخ کا حصہ بن چکا ہے

    نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھاکہ پاکستانی قوم متحدہ عرب امارات کے پائلٹس کی اس کاوش کو فراموش نہیں کرسکتی، مصنوعی بارش برسانے کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کی قیادت کے بے پایاں تعاون کے شکرگزار ہیں، جنوری میں مطلوبہ بادل آتے ہی مصنوعی بارش برسانے کا دوسرا تجربہ کیا جائے گا

    متحدہ عرب امارات کی ٹیم کے سربراہ احمد الکمال اور وفد کے دیگر ارکان نے شاندار مہمان نوازی پر وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہے کہ انہیں لاہور میں بہت پیار ملا،پاکستان ہمارا دوسر اگھر ہے،

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ مصنوعی بارش کا تجربہ کامیاب رہا،

     مصنوعی بارش برسانے کے منصوبے پر عملدرآمد کیلئے ورکنگ گروپ قائم

    سائیکل کرائے پر دینے کے لیے مختلف پوائنٹ بنانے کے لیے اسیکم بنائی جائے

    آلودگی پھیلانے والی فیکٹروں کو سیل کرنے کا حکم

     ہفتے میں 2روز گھر سے کام کرنے کی پالیسی پر عمل کرائیں

    گھروں میں گاڑیاں دھونے والوں کے خلاف بھی کارروائی یقینی بنائی جائے

  • دو جانیں لینے والے کم عمر ڈرائیور کو تھانے میں پروٹوکول

    دو جانیں لینے والے کم عمر ڈرائیور کو تھانے میں پروٹوکول

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، پولیس کی سر توڑ کوشش کے باوجود کم عمر ڈرائیور سڑکوں‌پر آنے سے باز نہ آ رہے، ایک اور حادثہ پیش آیا، کم عمر ڈرائیور کی تیز رفتاری کی وجہ سے دو افراد کی موت ہو گئی ہے

    واقعہ گرین ٹاؤن تھانے کی حدود میں پیش آیا،حادثے میں دو خواتین کی موت ہوئی ہے، خواتین کی شناخت 45 سالہ رضیہ اور 50 سالہ غفوراں کے نام سے ہوئی جنہیں انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دونوں خواتین زندگی کی بازی ہار گئی ہیں

    پولیس کے مطابق کم عمر ڈرائیور نے چند روز قبل تیز رفتار کار رکشہ میں مار دی تھی،ملزم کی شناخت 13 سالہ ابراہیم کے نام سے ہوئی تھی، پولیس نے کم عمر ڈرائیور کو حراست میں لے لیا تھا، مظاہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس ملزم کو تھانے میں پروٹوکول دے رہی ہے، کم عمر ڈرائیور کو کمرے میں ہیٹر لگا کر دیا گیا ہے اور وہ موبائل پر گیمیں کھیلتا ہے

    ڈی ایچ اے حادثہ کی کہانی، افنان شفقت کے والد کی زبانی

    ملزم افنان کے والد شفقت کا مکمل انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں

     عدالت نے حکم دیا کہ بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے والوں کو گرفتار کیاجائے

  • ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    انسان کی زندگی میں کچھ لمحے، کچھ واقعات ایسے یادگار ہوتے ہیں جو اگرچہ لوٹ کر نہیں آتے مگر وہ دل و دماغ پر ایسے نقش ہوجاتے ہیں کہ انسان ان کے سحر میں تادم مرگ جکڑا رہتا ہے۔ آل پاکستان رائٹز ویلفیئرایسوسی ایشن(اپووا) کے بانی وصدر ایم ایم علی نے مجھے دعوت دی کہ اپووا خواتین ونگ کی گورنر ہاوس میں محترم گورنر محمد بلیغ الرحمان صاحب کے ساتھ میٹینگ ہے تو کیا آپ آسکتی ہیں؟ اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں۔ میرے لئے تو بہت اعزاز کی بات تھی۔ میں نے فورا ًاوکے کیا اور دن گننے شروع کردیئے کہ کب وہ دن آئے گا؟ نا سردی کی پرواہ نا ہی بیماری، بچے اور میاں جی ہنس رہے تھے کہ جی اب تو گھٹنے بھی ٹھیک ہو گئے ہیں۔میں ان کی باتوں کو انجوائے کرتی لاہور پہنچ ایک دن پہلے ہی لاہور پہنچ گئی۔ رات خوشی کے مارے نیند ہی نا آئی، صبح سویرے اٹھ گئی ساتھ ہی بیٹے ڈاکٹر محمد عمر کو بھی اٹھا دیا کہ دو بجے سے پہلے پہنچنا ہے گورنر ہاوس۔قصہ مختصر! دوپہر دو بجے سے بھی پہلے میں گورنر ہاوس لاہور کے گیٹ پر تھی دور جو نظر پڑی تو کچھ خواتین مجھ سے بھی پہلے موجود تھیں اس چمکیلی سی دوپہر میں جیسے ہی میں اندر داخل ہوئی تو میری سوچ کی پرواز آج سے 40 سال پہلے پشاور کے گورنر ہاوس میں پہنچ گئی جب میں فرسٹ ایئر کی سٹوڈنٹ تھی میٹرک میں ضلع پشاور میں ٹاپ کیا تھا اور اس وقت کے گورنر جناب فضل حق (مرحوم) صاحب نے پہلی بار تمام ٹاپرز کو بلوایا اور انعامات سے نوازا (ابھی تک اس تقریب کے سحر میں تھی) یہ 1983 کی بات ہے اور اب دسمبر 2023 میں وہ بچی ٹھیک 40 سال بعد گورنر ہاوس لاہور میں کھڑی تھی اور کبھی سوچا ہی نا تھا حد سے زیادہ خوشی تھی۔پورے دو بجے اپووا صدر ایم ایم علی،صدر خواتین ونگ اپووا ثمینہ بٹ،اورایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول کی قیادت میں ہم سب کانفرنس روم میں پہنچے، وہاں چائے کے ساتھ دیگر لوازمات سے تواضع کی گئی،

    punjab

    کچھ دیر بعد محترم جناب گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب تشریف لائے اور تمام شرکاء کو بہت عزت و احترام سے، نہایت خوشدلی سے خوش آمدید کہا۔۔صدر خواتین ونگ ثمینہ طاہر نے تنظیم کی مجموعی کارکردگی پر بریف دیا جبکہ ایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول نے تنظیم کا تفصیلی تعارف پیش کیا اس کے بعد تمام لکھاریوں سے تعارف ہوا جسے بہت دلچسپی سے گورنر صاحب نے سنا اور مجھ ناچیز کو اسپیشل پشاور سے آنے پر بہت سراہا تعارف مکمل ہونے کے بعد انہوں نے ہمیں گورنر ہاوس کی تاریخ کے بارے میں کافی تفصیل سے آگاہ کیا۔ گورنر ہاوس پنجاب کی تاریخ سوا چار سو سال پرانی ہے یہ 700 کنال پر پھیلا ہوا ہے،اکبر بادشاہ نے 1600میں یہاں اپنے کزن (چچا زاد بھائی) قاسم خان کا مقبرہ تعمیر کروایا جو اس کی بیسمینٹ میں آج بھی موجود ہے بعد میں سکھوں اور انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا اور انگریزوں کے ہی دور میں اس عمارت کو گورنر ہاوس کا درجہ دیا گیا۔ گورنر پنجاب جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے سیاحت کے عالمی دن کے موقع پر گورنر ہاوس لاہور میں گایئڈڈ ٹور کا افتتاح کیا اور مزید بتایا کہ یہ ایک تاریخی عمارت اور قومی ورثہ ہے اس میں قائداعظم محمدعلی جناح بھی بطور گورنر جنرل ٹھہر چکے ہیں۔اس میں قائد، ملکہ وکٹوریہ اور دیگر شخصیات کے کمرے بھی موجود ہیں جہاں انہوں نے قیام کیا تھا۔سکولوں، کالجوں کے طلباء، عام عوام،ملکی و غیر ملکی سیاح سب گایئڈڈٹورز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ سب عالمی معیار کا ہوگا اور لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔استاد اللہ بخش کی شاہکار پینٹنگز بھی یہاں موجود تھیں جنہیں گورنر صاحب نے اکٹھی کرکے کمروں میں تزیئن و آرائش کے لئے استعمال کیا استاد اللہ بخش کی تصاویر مصوری کا نایاب شاہکار ہیں ان کا استاد کوء نہیں تھا ان کی ایک پینٹینگ 1 ملین میں فروخت ہوئی نامور مصور چغتائی کے بارے میں بھی بتایا۔

    punjab

    گورنر صاحب نے تمام لکھاریوں، صحافیوں، شعراء کی کاوشوں کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی نسبت لکھاری زیادہ حساس ہوتا ہے اگر وہ حساس نا ہو تو کبھی لکھ نا پائے لیکن جو بھی لکھیں بغیر تحقیق کے نا لکھیں کبھی بھی سنی سنائی بات کو آگے نا پہنچایئں کہ اس سے معاشرے میں بہت خرابی پھیلتی ہے اور کچھ ہی دیر جھوٹی خبر ایسے پھیلتی ہے کہ وہ سچ لگتی ہے خود بھی اس پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس بات کا احساس دلایئں کہ اس سے معاشرے میں خرابی پھیلتی ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق کسی قوم کو ناکام کرنا ہو تو اسے مایوس کردو اور آج کل ہماری نوجوان نسل میں بہت مایوسی پھیلائی جارہی ہے آپ جو بھی لکھیں اس سے صرف مایوسی یا پریشانی نا بتائیں بلکہ اس کے پازیٹیو اور نیگیٹو دونوں پہلو لکھیں صرف نیگیٹیو لکھیں گے تو پڑھنے والا مایوس ہوگا ملکی معشیت کے پہلووں پر بھی روشنی ڈالی گئی نوجوانوں کی تعلیم و تربیت بارے بھی گفتگو ہوئی ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی تعلیم وتربیت ایسی ہو کہ ان کو خرابی کی پہچان ہو تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکیں مایوسی بہت بڑی خرابی ہے اور نوجوانوں کو اس سے باہر نکالنا ہوگا جو اچھائیاں ہیں ان کی قدر کریں ان پر شکر کریں اور مایوس ہونا چھوڑ دیں۔پھر مادری زبان میں تعلیم،عربی اور ناظرہ کی تعلیم پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے حوالے سے بھی تعلیم اور قومی زبان میں تعلیم پر گفتگوہوئی اس گفتگو میں، نوجوانوں کے حوالے میں نے بھی ایک عرض پیش کی کہ نوجوان طبقہ ڈپریسڈ ہے بیروزگار ہے اور میری درخواست ہے کہ خاص کر فارن گریجویئٹیس کے لئے کچھ کریں یہ صرف ایک میری آواز نا سمجھیں یہ ان ہزاروں ماوں کی اور ان نوجوان ڈاکٹرز کی آواز سمجھیں جو باہر سے پڑھ کر آئے ہیں ان کو جابز نہیں تو کم از کم لائسسنس ایشو کر دیئے جائیں تاکہ گھر کے کسی کمرے میں ہی کلینک بنا لیں کچھ تو کرسکیں اس بارے میں بھی گورنر صاحب کی مشکور ہوں کہ انہوں نے توجہ سے سنااور تمام سوالات کے مفصل جوابات بھی دیئے اور تمام مسائل کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے کا عہد بھی کیا میٹینگ اور گفتگو اتنی دلچسپ تھی کہ وقت کا پتہ ہی نا چلا اور آدھے گھنٹے کی بجائے دورانیہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک چلا گیا۔

    دل تھا کہ یہ ابھی کچھ دیر اور جاری رہتی کیونکہ ایسے خوبصورت مواقع، یادگاری لمحے زندگی میں قسمت سے کبھی کبھار ہی ملتے ہیں آخر میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے وفد کے تمام اراکین کو یادگاری سرٹیفیکیٹس سے اور خوبصورت قلم و تحائف سے نوازا، مصنفین نے اپنی کتابوں اور رسائل کا تحفہ گورنر صاحب کو پیش کیا اختتام پر گروپ فوٹو کے بعد گورنر صاحب کے حکم پر وفد کو تاریخی گورنر ہاوس کا تفصیلی ٹور بھی کروایا گیا جو میں بوجہ اپنی صحت نا کرسکی اور دور کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی اور سوچ میں وہ بچی تھی جس نے 83 میں گورنر ہاوس پشاور کا کونا کوناایسے بھاگ بھاگ کر دیکھا تھا اور آج؟ پھر اللہ پاک ہزاروں بار شکر ادا کیا کہ جس نے آج یہ موقع دیا کہ جس عمارت کے اندر چڑی بھی پر نہیں مار سکتی وہاں آکر بیٹھنا، گفتگو کرنا، اتنی عزت افزائی یہ سب کیا کسی نعمت سے کم ہے۔۔؟ سب دوستوں سے اجازت لی اور بیٹے کے ساتھ گھر کو روانہ ہوء بہت سی حسین اور خوشگوار یادوں کے ہمراہ۔۔ ابھی پشاور کو جاتے ہوئے راستے میں اس خوبصورت اور یادگار دن کو قلمبند کررہی ہوں اور آخر میں گورنر جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب کی بے حد ممنون ومشکور ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت سے ہمیں اتنا وقت، اتنی عزت اتنا مان دیا۔۔ اپووا کی تمام ٹیم کی شکرگزار ہوں۔۔ اللہ پاک ہم سب کو سلامت رکھے صحت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ آمین ثم آمین
    punjab

  • نئے سال کا لوڈشیڈنگ سے آغاز،موسم سرما میں بھی بجلی غائب

    نئے سال کا لوڈشیڈنگ سے آغاز،موسم سرما میں بھی بجلی غائب

    نیا سال شروع مگر لاہور میں سردی کے موسم میں بھی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر قابو نہ پایا جا سکا،

    کراچی ،لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، پشاور،ملتان، بدین اور سوات سمیت کئی شہروں میں بجلی غائب ہونے کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔لاہور میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، بجلی کے آنے اور جانے کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہے،
    لیسکو میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بارہ گھنٹے تک جا پہنچا، سسٹم پر نو سو میگاواٹ کا شارٹ فال ہے،لاہورشہر سمیت مضافات کے علاقوں میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہونے لگی۔ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سسٹم پر بجلی کی طلب دو ہزار چار سو پچاس میگاواٹ ریکارڈ کی گئی ، نیشنل پاور کنٹرول سینٹر سے فراہمی ایک ہزار پانچ سو پچاس میگاواٹ کی جا رہی ہے، بجلی کی طلب و رسد میں نو سو میگاواٹ کا شارٹ فال ہونے سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ لیسکو نے مضافات میں بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کرنے کا شیڈول نافذالعمل کیا ہے. لاہورمیں اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ چار سے پانچ گھنٹے تک کیا گیا، لیسکو کے الیون کے وی فیڈرز کی بجائے گرڈ سٹیشنز کو بند کر کے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، گڈوپار پلانٹ میں خرابی کی وجہ سے سسٹم پر بجلی کی قلت ہے

    لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی بجلی کی ڈیمانڈ میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں اعلانیہ کیساتھ ساتھ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،

    خوشاب میں بجلی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بارہ گھنٹے سے بھی زیادہ تجاوز کر گیا ، ہر ایک گھنٹے بعد دو گھنٹے بجلی جانا روٹین بن گئی ،بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کام کرنے والے مزدور پریشان ہیں، تجارتی مرکز کے تاجر شدید پریشان ہیں،ے ایکسین خوشاب بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا کوئی بھی جواب دینے سے قاصر ہیں

    سرائے عالمگیر:شہر اور گرد و نواح میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے،گھنٹوں بجلی کی بندش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،گھنٹے کے بعد گھنٹہ بجلی بند رہنا معمول بن گیا شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے تک جا پہنچا

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، رانا شمیم کے نہ آنے پرجاوید لطیف کا بڑا اعلان

    گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے

    کراچی کا بچہ بچہ جانتا ہے ایم کیو ایم والے کتنے شریف ہیں،سعید غنی

  • سال نو کا جشن،فائرنگ،30 زخمی، 65 گرفتار،2024 کا پہلا مقدمہ درج

    سال نو کا جشن،فائرنگ،30 زخمی، 65 گرفتار،2024 کا پہلا مقدمہ درج

    نئے سال کا آغاز ،کراچی میں‌ہوائی فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہو گئے، جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا

    کراچی میں نئے سال کے آغاز کے موقع پر شہریوں‌نے ہوائی فائرنگ کی، آتش بازی کا مظاہرہ کیا، اس دوران کراچی کے مختلف علاقوں میں گولیاں لگنے سے 30 افراد زخمی ہو گئے ہیں، زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے فائرنگ کرنیوالے 65 افراد کو گرفتار کر لیا،زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

    لاہور، نیو ائیر پرغیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 162ملزمان گرفتار137مقدمات درج
    ڈی آئی جی آپریشنز لاہورسید علی ناصر رضوی نے نیو ایئر نائٹ پر بہترین سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے پر پولیس افسران و اہلکاروں کوشاباش دیتے ہوئے کہا کہ لاہور پولیس کی جانب سے کئے جانے والے فول پروف سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے نیو ایئر نائٹ پُر امن گزری۔انہوں نے کہا کہ ڈولفن سکواڈ، پولیس ریسپانس یونٹ، اینٹی رائٹ فورس، ٹریفک پولیس اورپنجاب سیف سٹی اتھارٹیز نے مربوط حکمت عملی اپنائی جس کی وجہ سے ہلڑ بازی، ہوائی فائرنگ، ون ویلنگ اور دیگر سماج دشمن سرگرمیاں پہلے سالوں کی نسبت نہ ہونے کے برابر تھیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز سید علی ناصر رضوی، ایس ایس پی آپریشنز سمیت تمام ڈویژنل ایس پیز نیو ایئر نائٹ پر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے خودفیلڈ میں موجود رہے۔شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی چیکنگ یقینی بنائی گئی۔غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث مجموعی طور پر 162ملزمان گرفتارجبکہ137مقدمات درج کئے گئے۔ہوائی فائرنگ کرنے پر 49ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے قبضہ سے 3رائفلز،2بندوقیں،36پسٹلز اور درجنوں گولیاں برآمد کی گئی۔آتش بازی میں ملوث 12اور ون ویلنگ کرنے والے 42ملزمان کو بھی حراست میں لیا گیا۔ شراب برآمدگی پر58ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے 768لیٹر شراب برآمد کی گئی۔شہر بھر میں ناکہ بندی کے دوران 5337موٹر سائیکل سواروں کوچیک کیا گیا۔شناخت نہ کروانے والے افراد کی72موٹرسائیکلیں تھانوں میں بند کی گئیں۔

    دوسری جانب نیو ایئر نائٹ پر لاہور پولیس نے فائرنگ کرنیوالے 20 ملزمان کو گرفتار کر لیا،ماڈل ٹاؤن ڈویژن پولیس کا نیو ائیر نائٹ پر قانون شکن عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن رہا،چوکی صوااصل پولیس نے ہوائی فائرنگ کے مرتکب 4 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا،تھانہ گلبرگ، غالب مارکیٹ نے 2 کالے شیشے والی گاڑیوں سمیت 2 ون ویلرز کو دھر لیا ،تھانہ شادمان اور اچھرہ پولیس نے 3 ہوائی فائرنگ کے مرتکب ملزمان کو گرفتار کیا ،تھانہ نشترکالونی، کوٹ لکھپت، کاہنہ نے سرعام اسلحہ کی نمائش و ہوائی فائرنگ کے 6 ملزمان کو گرفتار کیا ،نصیر آباد پولیس نے 1 جبکہ لیاقت آباد پولیس نے 2 ہوائی فائرنگ و ناجائز اسلحہ کے ملزمان کو گرفتار کیا ،سرخ و نیلی بتی اور کالے شیشے والی 3 گاڑیوں کو بند کیا گیا ،ملزمان سے مجموعی طور پر 4 رائفل، 5 پستول و گولیاں برآمد، مقدمات درج کر لئے گئے.

    دوسری جانب شہر قائد کراچی میں سال نو کا پہلا مقدمہ خواجہ اجمیر نگری تھانے میں درج ہوا، پہلا مبینہ پولیس مقابلہ لیاری کلری میں ہوا جس میں گینگ وار کا مبینہ کارندہ زخمی ہوا، جبکہ پہلا ٹریفک حادثہ سائٹ سپر پائی وے پر ہوا جس میں 18سالہ جوان کی موت ہوئی ہے

    علاوہ ازیں سال نو کی آمد پر راولپنڈی پولیس کیجانب سے سیکورٹی کے مؤثر انتظامات کیے گئے تھے، ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق ہوائی فائرنگ، آتش بازی، ہلڑ بازی اور ون ویلنگ کی روک تھام کے لئے 6600 سے زائد افسران مامور تھے، ون ویلنگ اور ہوائی فائرنگ کی روک تھام کے لئے 57 خصوصی پکٹس لگائی گئی تھیں، ون ویلنگ، آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کے 13 مقدمات درج، 15 ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور شہر بھر سے کوئی نا خوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں ہوا،

    میری بیوی کو برہنہ کیا گیا،عزت محفوظ نہیں ہمیں گولی مار دو، جمشید دستی

    جیل میں مجھے برہنہ بھی کیا گیا تھا،راج کندرا کا انکشاف

    فون پر دوستی، خاتون نے نوجوان کو گھر بلا کر برہنہ کر کے تشدد کروا دیا

    برہنہ ویڈیو کال کی ریکارڈنگ،نوجوان کو کیا گیا بلیک میل

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    بیوی کو تشدد کر کے برہنہ پریڈ کروانے والے سفاک شوہر کو پولیس نے حراست میں لے لیا 

  • دھند کی وجہ سے پروازیں مسلسل تاخیر کا شکار،منسوخ

    دھند کی وجہ سے پروازیں مسلسل تاخیر کا شکار،منسوخ

    پنجاب میں شدید دھند، آج بھی ملکی و غیر ملکی آٹھ پروازیں منسوخ جبکہ کئی تاخیر کا شکار ہوئی ہیں

    دھند کی وجہ سے تیسرا دن مسلسل پروازیں منسوخ و تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں،آج بھی لاہور، سیالکوٹ سمیت دیگر ایئر پورٹس پر ملکی و غیر ملکی آٹھ پروازیں منسوخ ہوئی ہیں جبکہ کئی تاخیر کا شکار ہو ئی ہیں، دبئی سے گزشتہ شب سیالکوٹ آنے والے امارات ایئر کی پرواز کی لینڈنگ نہ ہو سکی، پرواز دوبارہ دبئی پہنچ گئی، مسقط سے سیالکوٹ آنے والی پرواز کو لاہور اتارا گیا، ابوظہبی سے لاہور آنے والی پرواز کو اسلام آباد میں اتارا گیا،لاہور سے جدہ، ریاض ،استنبول جانے والے پروازوں کی روانگی میں تاخیر ہوئی ہے،

    دبئی، دوحہ اور مسقط سے سیالکوٹ کی پروازوں کی آمد میں بھی تاخیر ہوئی ہے، سیالکوٹ سے ہی دبئی کی تین مختلف پروازیں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں، اسلام آباد سے دمام، کراچی سے دبئی، مدینہ، کولمبو اور جدہ کی پروازوں کی روانگی میں بھی تاخیر ہوئی ہے،ائیرپورٹ شیڈول کے مطابق پی آئی اے کی جدہ سے کراچی کیلئے پرواز منسوخ کی گئی ہے، کراچی لاہور کی پروازیں، اسلام آباد اور جدہ کی پرواز بھی منسوخ کردی گئی ہے

     مساج سروس تلاش کرنیوالے آدمی کو جسم فروشی کی ویب سائٹ پر بیوی اور بہن کی تصویریں نظر آ گئیں

    مساج سینٹر میں کام کرنیوالے کرنے لگے گھناؤنا دھندہ، پولیس کے ہتھے چڑھ گئے

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

  • کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل، کون کون الیکشن لڑے گا؟

    کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل، کون کون الیکشن لڑے گا؟

    عام انتخابات، امیدواروں کی سکروٹنی کا آج آخری روز تھا، سکروٹنی مکمل کر لی گئی ہے
    تحریک انصاف کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں، صرف چند امیدواروں کے کاغذات منظور ہوئے ہیں، تحریک انصاف نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے

    کاغذاتِ نامزدگی منظور یا مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل 3 جنوری تک کی جاسکے گی اور ان اپیلوں پر انتخابی ٹریبونل 10 جنوری تک فیصلہ کریں گے، امیدوار اپنے کاغذات 12 جنوری تک واپس لے سکیں گے، امیدواروں کو انتخابی نشان 13 جنوری کو دیے جائیں گے ،

    اسلام آباد، شعیب شاہین کے تین حلقوں سے کاغذات مسترد،بابر اعوان کے منظور
    اسلام آباد کے تین حلقوں کے لیے مجموعی طور پر 209 امیدواروں نے کاغزات نامزدگی جمع کروائے۔این اے 48 سے 61 میں سے 39 کاغذات نامزدگی منظور 22 کے مستردہو گئے،این اے 47 میں 75 میں سے36 کاغذات نامزدگی منظور -39 کےمسترد ہو گئے،این اے 46 میں سے 73 امیدواروں میں سے 41کے منظور 32کے مسترد کردئیے گئے۔
    عمران خان کے ترجمان ایڈووکیٹ شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی اسلام آباد کے تینوں حلقوں سے مسترد کر دیئے گئے،وکیل شعیب شاہین کے اسلام آباد کے تینوں حلقوں این اے 46,47,48 سے کاغزات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے،،ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نیاز اللہ نیازی کے کاغذاتِ نامزدگی این اے 47 اسلام آباد سے مسترد کر دیئے گئے،اسلام آباد حلقہ این اے 46 سے پی ٹی آئی کے امیدوار ایڈووکیٹ سردار مصروف خان اور بابر اعوان کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کر لئے گئے،اسلام آباد کے این اے 46 سے خالد یوسف چوہدری کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،مسلم لیگ ن کےرہنماء زیشان نقوی اور انجم عقیل خان کے بھی کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، مصطفیٰ نواز کھوکھر، خرم نواز، عمران اشرف کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،این اے 48 سے سابق ڈپٹی میئر چوہدری رفعت،راجہ خرم نواز،شیخ انصر عزیز،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور مصطفی نواز کھوکھر کے کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے ہیں اسی حلقے سے پی ٹی آئی کے شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے۔این اے 47 سے چوہدری رفعت، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری،ن لیگ کے زیشان نقوی،آزاد امیدوار راجہ خرم نواز، پی ٹی آئی رہنماء بابر اعوان اور استحکام پاکستان پارٹی کے عامر کیانی کے بھی کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے۔این اے47 سے آزاد امیدوار مصطفی نواز کھوکھر کے بھی کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے ہیں،شعیب شاہین کے این اے47سے بھی کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں۔این اے 46 سے پیپلزپارٹی رہنما راجہ عمران اشرف ، مسلم لیگ ن کےرہنما زیشان نقوی اور انجم عقیل خان کے بھی کاغذات نامزدگی منظورکرلیے گئے۔ پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئے گئے، ڈاکٹر بابر اعوان اور انکے بیٹے عبداللہ بابراعوان کے کاغذات منظور کرلیے گئے.

    اسلام آباد کے دو حلقوں سے جماعت اسلامی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد
    اسلام آباد کے دو حلقوں سے جماعت اسلامی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بھی مستردکر دیئے گئے،این اے 47 سے کاشف چوہدری کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے،این اے 48 سے جماعت اسلامی کے امیداوار ملک عبدالعزیز کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے،این اے 46 سے میاں اسلم کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے

    اسلام آباد، خواجہ سرا نایاب علی کے این اے 46 اور 47 سے کاغذات منظور
    اسلام آباد میں این اے 46 اور 47 سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے ہیں،نایاب علی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی اور بتایا کہ اسلام آباد کے دو حلقوں سے اس کے کاغذات منظور ہو گئے ہیں،نایاب علی نے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت کہا تھا کہ ملک کی پہلی خواجہ سرا ہوں جس نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ،میں نے حلقہ این 46 اور 47 کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ،اسلام آبا د کے گیارہ لاکھ ووٹرز میں سے پانچ لاکھ خواتین ہیں ،میں خواتین اور کچی آبادیوں کے حقوق کے لئے کام کروں گی ،اسلام آباد کے مظلوم طبقوں کی نمائندگی کروں گی ،ایم این ایز اور ایم پی ایز آپ کو صرف الیکشن کے دنوں میں ہی نظر آتے ہیں ،اسلام آباد سب سے بڑا مسئلہ کچی آبادیوں کا ہے ،کچی آبادیوں میں رہنے والوں کے لئے کوئی متبادل نہیں دیا ،خواتین کو اسلام آباد سے کوئی نمائندگی نہیں دی گئی ،خواجہ سرا کمیونٹی کو سیاست میں ایک گالی بنا دیا ہے ،بہت سے سیاسی رہنماؤں کو خواجہ سرا کہہ کر گالی دی جاتی ہے ،مجھے آر او نے کاغذات نامزدگی نہیں دے رہے تھے ،سوشل میڈیا پر ویڈیو لگانے پر مجھ سے معذرت کی گئی

    این اے 89 میانوالی،این اے 122 لاہور، سابق وزیراعظم عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد
    سابق وزیراعظم پاکستان عمران احمد خان نیازی کے NA89 میانوالی 1 سے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئےگئے ہیں، پی پی 85 میانوالی عبدالرحمن المعروف ببلی خان کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کردئیے گئے ہیں،این اے 122 سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،ریٹرننگ افسر نے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کے حوالے سے محفوظ فیصلہ سنا دیا ، عمران خان این اے 122 سے الیکشن نہیں لڑ سکیں گے.

    این اے 127،لطیف کھوسہ، عطا تارڑ، بلاول،خالد نیک و دیگر کے کاغذات منظور،اعجاز چودھری کے مسترد
    حلقہ این اے 122 سے اظہر صدیق کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں، اسی حلقہ سےمرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کر لئے گئے ہیں،این اے 18 سیکرٹری جنرل تحریک انصاف عمر ایوب کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،این اے 8 باجوڑ سے پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان رہنما ریحان زیب خان کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،این اے 99 سے تحریک انصاف کے عادل رفیع چیمہ کے کاغذات منظور کر لئے گئے،این اے 128 لاہور سے امیدوار تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔این اے 115 شیخوپورہ امیدوار تحریک انصاف خرم شہزاد ورک اور پی پی 141 شیخوپورہ سے طیاب راشد سندھو کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔تحریک انصاف کے حلیم عادل شیخ کراچی،اکمل باری لاہور،سعداللہ بلوچ فیصل آباد،راشد طفیل قصور کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ہیں.این اے 127 سے تحریک انصاف کے امیدوار کریم کلواڑ،ظہیر عباس کھوکھر کی اہلیہ،خرم لطیف کھوسہ اور لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی منظور مگر سب سے مضبوظ امیدوار اعجاز چوہدری کے کاغذات مسترد ہوگئے۔اعجاز چوہدری نے 2018 میں اس حلقہ سے 77 ہزار ووٹ لیے تھے وہ اسی حلقہ کے رہائشی ہیں۔اسی حلقے سے بلاول زرداری،عطا تارڑ،ہما میر،سمیع اللہ، آصف جٹ، اسلم گل،خالد نیک ودیگر کے کاغذات منظور ہو گئے،این اے 128 سے شفقت محمود کے بھی کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے،

    این اے 130،نواز شریف کے کاغذات منظور،یاسمین راشد کے مسترد
    علیم خان، حمزہ شہباز،خواجہ عمران نذیر، علی پرویز، چودھری سالک، حنیف عباسی،سیف الملوک کھوکھر کے کاغذات منظور

    سابق وزیراعظم، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے این اے 242 سے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں،این اے 122 مسلم لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،این اے 102 سے ن لیگ کے عابد شیر علی کے کاغذات منظور کر لئے گئے، این اے 102 سے استحکام پاکستان کے فرخ حیبیب اور پی ٹی آئی جہانزیب امتیاز گل کے کاغذات منظورکر لئے گئے،این اے 130 لاہور سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے جبکہ اسی حلقے سے تحریک انصاف کی یاسمین راشد کے کاغذات مسترد کر دیئے گئے،سرگودھا این اے 82 سے 11 امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظورکئے گئے ہیں، پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن ، ن لیگ کے مختار احمد برتھ کے کاغذات نامزدگی منظورکئے گئے ہیں.این اے 125 لاہورسےمسلم لیگ ن کے رہنما سیف الملوک کھوکھر کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،حلقہ پی پی 147 سے مسلم لیگ(ن) کے رہنما حمزہ شہباز کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے جبکہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کر لیے گئے،حلقہ این اے 119 سے مریم نواز ، عبدالعلیم خان ،خواجہ عمران نذیر ،شائستہ پرویز، علی پرویز کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،،پی پی 32 سے چودھری سالک حسین ، شافع حسین کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،حلقہ این اے 56 سے حنیف عباسی،دانیال چوہدری کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے،حلقہ این اے 242 ضلع کیماڑی سے صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے، اسی حلقے سے ایم کیو ایم پاکستان کے مصطفیٰ کمال ، پیپلز پارٹی کے قادر مندوخیل، پاکستان تحریک انصاف کے رضوان خانزادہ کے کاغذات نامزدگی بھی منظور ہوگئے.

    این اے 100، رانا ثناء اللہ، انکی اہلیہ، داماد کے کاغذات منظور، پی ٹی آئی امیدوار کے مسترد
    این اے 100 سے سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،رانا ثنا اللہ کی اہلیہ نبیلہ ثنا، داماد احمد شہریار کے کاغذات منظور کر لئے گئے،پی ٹی آئی کے ڈاکٹر نثار احمد جٹ کے کاغذات مسترد کر دیئے گئے، پیپلز پارٹی کی سدرہ سعید بندیشہ کے کاغذات منظورکر لئے گئے،جماعت اسلامی کے عظیم طاہر رندھاوا کے کاغذات منظورکر لئے گئے،این اے 99 سے ن لیگ کے میاں فاروق ، قاسم فاروق ، تحریک انصاف کے عادل رفیع چیمہ کے کاغذات منظور کر لئے گئے،تحریک انصاف کے عمر فاروق کے کاغذات مستردکر دیئے گئے،

    جہانگیر ترین، جاوید ہاشمی، عون چودھری کے کاغذات منظور،معاویہ اعظم طارق کے مسترد
    ملتان این اے 149 سے جاوید ہاشمی، جہانگیرترین، عامر ڈوگر کے کاغزات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں،این اے 124 سے استحکام پاکستان کے رہنما عون چوہدری کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،جہانگیر ترین کے این اے 155 لودھراں سے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،جہانگیر ترین کے پی پی 227 لودھراں سے بھی کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،سابق نگران وفاقی وزیر اور پیپلزپارٹی کےرہنما میر سرفراز بگٹی کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کرلیے گئے،سرفراز بگٹی پی بی 10 ڈیرہ بگٹی سے انتخابی میدان میں اترے ہیں۔چیئرمین سیںٹ صادق سنجرانی کے کاغذات نامزدگی این اے 260 اور پی بی 32 چاغی سے منظور کر لئے گئے،این اے 65 پشین میں فضل الرحمان کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،حلقہ این اے 53، آزاد امیدوار چودھری نثار علی خان، استحکام پاکستان کے غلام سرور خان، مسلم لیگ ن کے انجینئر قمر الاسلام کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔

    سراج الحق،عامر کیانی، ملک ابرار کے کاغذات منظور،راجہ بشارت،اعجازالحق کے مسترد
    پرویز خٹک،مولانا فضل الرحمان، امیر مقام،امیر حیدر ہوتی، غلام احمد بلور،ایمل ولی خان کے کاغذات منظور

    لوئر دیر سے سراج الحق کے کاغذات منظور جبکہ پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی محمد بشیر خان کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،این اے 55 سے استحکام پاکستان پارٹی کے عامر محمود کیانی، ن لیگ کے ملک ابرار کے کاغذات منظور، مسلم لیگ ضیاء کے اعجاز الحق،پی ٹی آئی کے راجہ بشارت، راجہ ناصر، عمر تنویر بٹ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے.این اے 44 ڈیرہ اسماعیل خان سے جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے کاغذات منظور کرلیے گئے، چیئرمین پی ٹی آئی پی پرویز خٹک کے این اے 33 نوشہرہ سے ،مسلم لیگ ن کے امیر مقام کے این اے 11 شانگلہ سے ، این اے 22 مردان سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر ہوتی کے کاغذات نامزدگی کو منظورکرلیا گیا ، این اے 32 پشاور سے عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور ،این اے 25 چارسدہ سے اے این پی کے ایمل ولی خان ،این اے 27 سے سابق ارکان قومی اسمبلی نور الحق قادری اور اقبال آفریدی کے کاغذات نامزدگی بھی منظورکرلیے گئے

    کراچی ضلع جنوبی پی ایس 106،صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 106 پر 31 امیدواروں کے کاغذات منظور کئے گئے ہیں،ریٹرننگ آفیسر کی منظوری کے بعد فہرست آویزاں کر دی گئیں ،شازیہ عمر ،سید عبدالرشید ،عبدالوحید ہنگورو،عبدالغفور سومرو کے کاغذات منظور کئے گئے ہیں،پی ایس 106 کی نشست پر 32 امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے تھے

    این اے 234 سے 27 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد،صرف چھ کے منظور
    شہر قائد کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 234 میں سب سے زیادہ کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں، این اے 234 میں 33 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جس میں سے 27 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں،صرف چھ امیدواروں کےکاغذات منظور کئے گئے ہیں،این اے 234 سے ایم کیو ایم کے صادق افتخار، پیپلز پارٹی کے محمد علی راشد اور پی ٹی آئی کے امیدوار فہیم خان کے کاغذات مسترد ہوئے ہیں، این اے 234 سے ن لیگ کے سلیم ضیا کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہوئے ہیں.این اے 234 سے تحریک لبیک کے امیدوار عبدالستار،بہری کمال،دلاور گلزار،فراز الرحمان،محمد شاہد کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ہیں،

    پی پی 284 سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں،سابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان نے آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے ،2018 کے انتخابات میں سابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار حلقہ 285 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے ۔

    این اے 128،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد چاہت علی خان نے بڑا مطالبہ کر دیا
    چاہت فتح علی خان کا بھی الیکشن لڑنے کا خواب پورا نہ ہو سکا، این اے 128 سے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے، چاہت فتح علی خان کے کاغذات نامزدگی دوہری شہریت کی وجہ سے مسرد کئے گئے، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد چاہت فتح علی خان کا کہنا تھا ، آج میری سکروٹنی تھی ، میرے کاغذات مسترد کر دیئے کہ میرے پاس دو شہریت ہیں، ایک پاکستان کی اور ایک برطانیہ کی، پاکستان کے قانون میں ہے کہ دو شہریتیں رکھ سکتا ہوں، اس وجہ سے میرے کاغذات مسترد ہو گئے ایک کروڑ پاکستانی دنیا میں‌آباد ہیں، ہر ہفتے کروڑوں ڈالر پاکستان بھیجتے جس کی وجہ سے ہماری اکانومی ٹھیک رہتی ہے، مودبانہ گزارش ہے کہ ایسا لا بنائیں کہ جن کو ملک کی خدمت کرنے کا شوق ہو وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں

    قاسم سوری،شاہ محمود قریشی،زین قریشی،خرم لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی مسترد
    اختر مینگل،حماد اظہر، نعیم حیدر پنجوتھا، میجر (ر) غلام سرور چیمہ، عادل سعید گجر ،چودھری غلام عباس، احسن عباس ایڈووکیٹ ،عمران خان کے کزنز عرفان اللہ نیازی، رفیق خان نیازی کے کاغذات نامزدگی مسترد

    تھرپارکر کے قومی اسمبلی حلقے این اے214 ون پر شاہ محمود قریشی اور انکےبیٹے مخدوم زین قریشی کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،این اے 44، این اے 45 ڈیرہ اسماعیل خان، علی امین گنڈا پور کے کاغذاتِ نامزدگی مستردکر دیئے گئے،این اے 122 لاہور سے خرم لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے، این اے 263 سے پی ٹی آئی رہنما قاسم خان سوری کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،این اے 121 سے مسرت جمشید اور ان کے شوہر جمشید اقبال چیمہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے ۔این اے 82عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتہ کے کاغذات نامزدگی مستردکر دئیے گئے،نعیم حیدر کا کہنا ہےکہ این اے 82 سے میرے کاغذات نامزدگی بلا وجہ مسترد کر دئیے گئے ہیں.آپ کا کپتان کے ایک کھلاڑی سے یوں خوف زدہ ہو جانا ہمارے لیے یہ ہی جیت ہے،این اے 72، پسرور سیالکوٹ، چودھری غلام عباس، احسن عباس ایڈووکیٹ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،پی پی 90 دریا خان، بھکر،عمران خان کے کزنز عرفان اللہ نیازی، رفیق خان نیازی کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،پی پی 172 سے سابق وفاقی حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے،ملتان این اے 151 سے بھی وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کے کاغذات مسترد کردئے گئے ، این اے 151 سے زین قریشی ، مہر بانو قریشی کے کاغزت نامزدگی مستردکر دیئے گئے،ملتان کے حلقہ پی پی 218 سے شاہ محمود قریشی کے کاغذات مستردکر دیئے گئے،پی پی 202، تحریک انصاف کے میجر (ر) غلام سرور چیمہ، عادل سعید گجر کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،پی پی 203،رائے حسن نواز، رائے مرتضیٰ اقبال، رائے محمد اقبال کے کاغذات مستردکر دیئے گئے،این اے 130 یاسمین راشد کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،این اے 73 ڈسکہ، سیالکوٹ، علی اسجد ملہی، باؤ رضوان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،باجوڑسے منتخب سابق رکن قومی اسمبلی گل ظفر خان اور سابق صوبائی وزیر انور زیب خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئے گئے،بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے این اے 264 سے کاغذات نامزدگی مستردکر دیے گئے،پنڈی کے حلقہ این اے 57 سے پی ٹی آئی امیدوار سمابیہ طاہر کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے،این اے 133سے پی ٹی آئی کے عظیم الدین لکھوی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے، پی ٹی آئی کے سردار حسن موکل ، حاجی مقصود کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،قصور سے ن لیگ کے سابقہ ایم پی اے نعیم صفدر انصاری ،سابقہ ایم این اے وسیم اختر شیخ کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،جھنگ سے سابق وفاقی وزیر صاحبزادہ محبوب سلطان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے

    اسد قیصر،شہرام ترکئی، شہریارآفریدی،عاطف خان، شاہد خٹک،پرویز الہی، مونس الہیٰ، قیصرہ الہیٰ، فواد چودھری کے کاغذات مسترد
    این اے 19 صوابی: اسد قیصر کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،این اے 20 صوابی: شہرام تراکئی کے کاغذات نامزدگی مستردکر دئے گئے،این اے 35، کوہاٹ: شہریار خان آفریدی کے کاغذات مستردکر دیئے گئے،این اے 38، کرک: شاہد خٹک، عنایت اللہ خٹک کے کاغذات مسترد کر دیئے گئے،پی کے 59 رہنما تحریک انصاف عاطف خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،مردان پی کے 55 اور پی کے 56 سے تحریک انصاف کے امیدوار طفیل انجم اور امیر فرزند کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری ان کی اہلیہ حبا فواد سمیت بیشتر امیدواروں کے این اے 61 اور پی پی 26 سے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،این اے 69، منڈی بہاوالدین: چودھری پرویز الہیٰ، مونس الہیٰ، قیصرہ الہیٰ کے کاغذاتِ نامزدگی مستردکر دیئے گئے،جھنگ سابق ایم پی اے مولانا معاویہ اعظم کے این اے 109 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے،این اے 212 سے تحریک انصاف کے سید ممتاز علی شاہ کے بھی کاغذات نامزدگی مستردہو گئے، این اے 264 پر آزاد امیدوار و سابق صوبائی وزیرخالدلانگو کےکاغذات نامزدگی بھی مسترد ہوگئے ہیں ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ نیب کیس کی وجہ سے خالد لانگوکے کاغذات مسترد کیےگئے ہیں۔پی پی 84خوشاب سے فتح خالق بندیال اور فیصل بندیال کے بھی کاغذات مستردکر دیئے گئے،پی پی 244 چشتیاں سے سابق صوبائی وزیر ملک مظفر خان کے بھی کاغذات مستردکر دیئے گئے،این اے 79 سے تحریک انصاف کے تمام اہم رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،تحریک انصاف کے ظفر اللہ چیمہ،سہیل ظفر چیمہ، رضوان ظفر چیمہ،علی وکیل خان,رانا ساجد علی کے کاغذات مستردکر دیئے گئے،اقصی رانا،نباء اعجاز، ماجد علی کے کاغذات بھی مسترد کر دیئے گئے،ٹوبہ ٹیک سنگھ NA106سے پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر میاں عبدالباسط ایڈووکیٹ کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے، چوہدری سعید اکبر پی ٹی ائی ٹوبہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،حلقہ این اے 112 سے سابق ایم این اے بلال ورک اور پی ٹی آئی رہنماء رانا جمیل حسن کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،پی ٹی آئی رہنماء محمد نواز چڈھر کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دئیے گئے،این اے 112 سے 18 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے.رحیم یار خان،جاوید وڑائچ NA-172، رئیس محبوب NA-174، آصف مجیدPP-262، چوہدری شفیق، نعیم شفیق PP-263، سجاد وڑائچPP-265، میاں غوثNA-170،ڈاکٹر فیصل جمیلPP-259 سب کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے،کوٹ ادو،این اے 180 سے سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر اور انکی بیوی ایونیہ مصطفیٰ کھر کے کاغذات نامزدگی بھی مستردہو گئے،این اے 170 میاں غوث محمد کے کاغذات نامزدگی مستردہو گئے،این اے 172 جاوید اقبال وڑائچ کے کاغذات نامزدگی مستردہو گئے،پی پی 94چنیوٹ: تیمور امجد لالی کے کاغذات نامزدگی مستردہو گئے ،ایڈوکیٹ شیر افضل مروت کےا حلقہ NA-32 پشاور سے کاغذات نامزدگی مستردہو گئے،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے،بہاولپور این اے 164 سے امیدوار تحریک انصاف اور طارق بشیر چیمہ کے روایتی حریف نعیم وڑائچ کے کاغذات مستردہو گئے، این اے 187 راجن پورسے سابق ایم این اے نصراللہ دریشک،سابق صوبائی وزیر حسنین بہادر دریشک کے بھی کاغذات نامزدگی مستردہو گئے،پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اعجاز چوہدری کے این اے 127 سے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے ہیں،پی پی 88 سے سپیکر پنجاب اسمبلی سردار محمد سبطین خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے،سبطین خان کے بیٹوں علی اکبر خان اور علی جعفر خان کے کاغذات بھی مسترد ہوگئے،این اے 119 سے صنم جاوید اور عباد فاروق کے کاغذات نامزدگی معلومات چھپانے اور غلط بیانی کی بنیاد پر مسترد کر دئیے گئے،
    kaghzat

    شیخ رشید، شیر افضل مروت کے کاغذات مسترد،این اے 128 سےسلمان اکرم راجہ کے کاغذات نامزدگی منظور

    این اے 58 چکوال ایاز امیر ،این اے 59 پرویز الہیٰ، اہلیہ ،حافظ عماریاسر کے کاغذات مسترد
    این اے 58 چکوال سے امیدوار تحریک انصاف ایاز امیر کے کاغذات نامزدگی مستردہو گئے، این اے 59چکوال ٹو سے پرویز الہی اور ان کی اہلیہ قیصرہ الہیی،حافظ عمار یاسر کے کاغذات مسترد ہو گئے،حلقہ پی پی 20 سے چوہدری علی ناصر بھٹی،چوہدری اعجاز حسین فرحت کے کاغذات نامزدگی مستردہو گئے،حلقہ پی پی 21سے راجہ طارق افضل کالس کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے،حلقہ پی پی 22چکوال 3سے سابق صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر کے کاغذات نامزدگی مستر د ہو گئے،فوزیہ بہرام،سردار آفتاب اکبر اور ملک فدا حسین کے کاغذات مسترد کر دیئے گئے،پی ٹی آئی تلہ گنگ کے ضلعی صدر حکیم نثار کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے، حافظ عمار یاسر کے بھائی طلحہ زبیر کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،اٹک سے میجرطاہرصادق سمیت 5 امیدواروں کےکاغزات نامزدگی مسترد ، میجرطاہرصادق کےبیٹےزین الہی کےکاغزات بھی مسترد کر دیے گئے

    مری، این اے 51،سات امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد
    مری قومی اسمبلی حلقہ این اے 51 لسٹ جاری کر دی گئی ،مری 36 امید واروں کے کاغذات نامزدگی جانچ پڑتال کے بعد منظور ہوئے ،سات امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئے گئے ، پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے میجر ر لطاسب ستی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے ،تحصیل صدر پی ٹی ائی سہیل عرفان عباسی کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے، غلام مرتضی ستی کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے، پی ٹی آئی کے سنئیر راہنما سردار محمد سلیم خان کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ،ریٹرنگ آفیسر ڈسٹرکٹ مری کی جانب سے فائنل لسٹ جاری کر دی گئی

    آصف زرداری، بلاول، یوسف رضا گیلانی کے کاغذات نامزدگی منظور
    این اے 148 سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،پاکستان پیپلز پارٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل و ترجمان بلاول بھٹو زرداری، ذوالفقار علی بدر کے کاغذات نامزدگی دو صوبائی حلقوں سے منظور کر لئے گئے،ذوالفقار علی بدر کے پی پی 161 اور پی پی 162 سے کاغذات نامزدگی منظورکئے گئے ہیں،پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما "سینیٹر یوسف بلوچ کے حلقہ این اے 239 اور پی ایس 107 لیاری سے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے ہیں.حلقہ این اے 207 سے سابق صدر آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں،حلقہ این اے 127 لاہور سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے ہیں

    لاڑکانہ کے دو حلقوں سے بلاول کے کاغذات منظور
    پیپلز پارٹی کے چیئرمی بلاول زرداری کے لاڑکانہ سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں، بلاول کے حلقہ این اے 194 اور این اے 196 سے کاغذات منظورکئے گئے ہیں،بلاول کے مقابلے میں جے یو آئی کے امیدوار مولانا راشد محمود سومرو کے بھی دونوں حلقوں سے کاغذات منظور ہو گئے ہیں،حلقہ این اے 195 سے جی ڈی اے کے صفدر عباسی کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے ہیں,دوسری جانب صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے لاڑکانہ کے حلقہ پی ایس 10 سے فریال تالپور حلقہ اور پی ایس 13 سے پیپلز پارٹی کے عدنان الطاف انڑ کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے نواز شریف،مریم نواز،خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں امیدواروں کے کاغذات منظور
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے امیدواران کی سکروٹنی مکمل کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کے این اے 130 سے کاغذاتِ نامزدگی منظور کر لیے گئے ،خالد مسعود سندھ نواز شریف کے مقابلے میں الیکشن لڑیں گے، حافظ طلحہ سعید کے این اے 122 سے کاغذاتِ نامزدگی منظور کر لیے گئے،حافظ طلحہ سعد خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں میدان میں ہوں گے، انجنئیر عادل خلیق کے پی پی 145 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے، انجنئیر حارث ڈار کے این اے 129 حارث ڈار سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،حافظ عبد الروف کے این اے 119 سے کے کاغزات نامزدگی منظورہو گئے،حافظ راشد سندھو کے این اے 123 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے، عمران لیاقت بھٹی کے این اے 126 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے، سیٹھ اکرم کے پی پی 164 سے کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے، فہیم گل کے پی پی 154 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے، عمر فاروق گجر کے این اے 120 سے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے، ڈاکٹر یوسف کے پی پی 158 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے، میاں زاہد منیر کے پی پی 146 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے، حافظ راشد محمود کے پی پی 173 سے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے، رانا محمد حسین عامر کےاین اے 117 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،

    جھنگ،معاویہ اعظم طارق کے این اے 109 سےکاغذات مسترد،پی پی 127 سے منظور، احمد لدھیانوی کے قومی وصوبائی دونوں‌سیٹوں پر منظور
    جھنگ کے 3 قومی اور 7 صوبائی امیدواروں کی لسٹیں جاری کر دی گئی ہیں،جھنگ کی تین قومی اور سات صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے اہم شخصیات کے کاغذات نامزدگی منظورکئے گئے ہیں،این اے 108 سے مخدوم فیصل صالح حیات ، شیخ محمد اکرام ، غلام بی بی بھروانہ کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیںَ، این اے 108 سے صاحبزادہ محبوب سلطان، افتخار بلوچ ،، سمیت 3 امیدوران کے کاغذات مسترد ہو گئے ہیں، این اے 109 سے شیخ محمد وقاص اکرم، شیخ یعقوب ،غلام بی بی بھروانہ، محبوب سلطان ، محمد احمد لدھیانوی کے کاغذات منظور جبکہ شیخ محمد یونس اور مولانا معاویہ اعظم سمیت 4 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے ہیں. این اے 110 سے صاحبزادہ امیر سلطان ، سائمہ اختر بھروانہ ، بربر علی خان ، مولانا آصف معاویہ سمیت 17 امیدوراوں کے کاغذات نامزدگی منظورکئے گئے ہیں،حلقہ پی پی 125 سے مخدوم فیصل صالح حیات ، تیمور بھٹی، غلام محمد گاڑی اور نیلم سیال سمیت تمام امیدوں کے کاغذات نامزدگی منظورکئے گئے ہیں، حلقہ پی پی 126 خرم عباس سیال ، علی نواز بھروانہ ،، غلام بی بی بھروانہ ،، مخدوم اسد حیات ،، مہر محمد اسلم بھروانہ ،، مہر محمد نواز بھروانہ کے کاغذات نامزدگی منظور جبکہ 4 امید واروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں، حلقہ پی پی 127 سے مولانا احمد لدھیانوی ، مسرور نواز ،،شیخ محمد اکرم ، مولانا معاویہ اعظم ، شیخ یعقوب ، راشدہ یعقوب ، شیخ شیراز اکرم ،، شیخ فواد اکرم سمیت تمام کے کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے ہیں، پی پی 128 سے غضنفر عباس ، خالد سرگانہ، مولانا انس معاویہ ،، ڈاکٹر عبداللہ جبار سمیت تمام امیدوں کے کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے ہیں، پی پی 129 سے محمد آصف معاویہ ، قمر حیات کاٹھیہ ، شہباز علی ، خالد غنی ،سائمہ اختر بھروانہ کے کاغذات نامزدگی منظور جبکہ 4 امیدوران کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں، حلقہ پی پی 130 سے محبوب سلطان ، امیر عباس ، نوازش علی خان ،،، شہباز احمد ،،کے کاغذات نامزدگی منظور جبکہ 2 امیدوران کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں، پی پی 131 سے میاں محمد اعظم چیلہ ،، فیصل حیات جبوانہ سمیت تمام امیدوں کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے ہیں.

    بہاولنگر،شوکت بسرا،انکی اہلیہ،ملک مظفر، شہزاد رشید جٹ،اعجاز فاطمہ کے کاغذات مسترد،حافظ سعد رضوی کے منظور
    بہاولنگر ، کاغذات نامزدگی سکروٹنی مرحلہ مکمل پی ٹی آئی کو بڑے جھٹکے ، الیکشن 2024 کاغذات نامزدگی کی سیکروٹنی کا مرحلہ مکمل ہوگیا ،ضلع بھر میں پی ٹی آئی کے اکثریتی مضبوط امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے ، پی ٹی آئی رہنماء شوکت محمود بسراء اور انکی اہلیہ کے حلقہ این اے 163 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے،ضلعی صدر پی ٹی آئی سابق ایم پی اے ملک مظفر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے، پرویزالہی کے قریبی ساتھی سابق مشیر وزیراعلی پنجاب شہزاد رشید جٹ کے 2 حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے، سابق ایم پی اے پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے رہنماء عبداللہ وینس کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد ہو گئے،پی ٹی آئی خواتین ونگ کی ضلعی صدر اعجاز فاطمہ کے کاغذات نامزدگی بھی مستردہو گئے،

    ضلع بہاولنگر قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر کل 81 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے ،حلقہ این اے 160 سے ٹی ایل پی کے سربراہ علامہ سعد رضوی سمیت تمام 13 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ہیں، حلقہ این اے 161 سے ماں بیٹا اور باپ بیٹا سمیت 28 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ایک امیدوار کے مسترد ہوئے ہیں،حلقہ این اے 162 سے 20 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور 1 امیدوار کے مسترد کردئیے گئے . حلقہ این اے 163 سے 20 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور پی ٹی آئی کے شوکت بسراء اور انکی اہلیہ سمیت 5 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے ،ضلع بہاولنگر کی آٹھ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر 187 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے ، حلقہ پی پی 238 میں 17 امیدواروں کے کاغذات منظور جبکہ پی ٹی آئی خواتین ونگ کی ضلعی صدر اعجاز فاطمہ اور سابق مشیر پرویز الہی شہزاد رشید جٹ سمیت 3 کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،حلقہ پی پی 239 میں 25 امیدواروں کے کاغذات منظور جبکہ سابق مشیر وزیراعلی پنجاب شہزاد رشید جٹ سمیت 4 کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے، حلقہ پی پی 240 سے تمام 35 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے، حلقہ پی پی 241 میں 25 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور 2 امیدواروں کے مسترد کردئیے گئے ، حلقہ پی پی 242 سے تمام 23 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے، حلقہ پی پی 243 سے 15 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے رہنماء سابق ایم پی اے عبداللہ وینس کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے،حلقہ پی پی 244 سے 23 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ضلعی صدر پی ٹی آئی سابق ایم پی اے ملک مظفر سمیت 5 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے

    مرکزی مسلم لیگ نے پورے ملک سے قومی و صوبائی حلقوں سے 529 امیدوار میدان میں اتار دیئے
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے پورے ملک سے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق مرکزی مسلم لیگ نے پورے ملک میں قومی و صوبائی حلقوں سے 529 امیدواران کو میدان میں اتار دیا ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ سے 162 جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ سے 367 امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔مرکزی مسلم لیگ کے قومی و صوبائی حلقوں کے امیدواران کی سکروٹنی کا سلسلہ جاری ہے۔ مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر سیاست کے میدان میں اتری ہے۔ سیاستدانوں نے قوم کو شدید مایوس کیا ہے۔ہمارے سیاستدانوں نے ملک و قوم کی خدمت کی بجائے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے اور آڈیو ویڈیو لیک کی سیاست کو اپنا وطیرہ بنا کر رکھا ہے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ ملک میں چلتی سیاسی روایت کو تبدیل کرکے حقیقی خدمت کی سیاست کا ٹرینڈ لانچ کرے گی۔

    مرکزی مسلم لیگ کراچی، قومی اسمبلی کے 19،صوبائی کے 39 امیدواروں کے کاغذات منظور
    مرکزی مسلم لیگ کراچی کے قومی اسمبلی کے لیے 19 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،مرکزی مسلم لیگ کراچی کے 39 امیدواروں کے صوبائی اسمبلی کےلیے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر فیصل ندیم کے این اے 235 سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان کےPS97 سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے، مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار عبدالرحیم کےNA229 سے،محمد شاہد صدیقNA232سے ،مدثر یعقوبNA233سے،رمحمد عمارNA234سے،انجینئر عمران علی NA236سے ،فیصل ہارون NA237سے ،محمد یوسف بھاٹی NA238سے،حمزہ میمن NA239سے،مہدی اسحاقNA240سے ،تاج محل NA241سے ،عبدلوحید عابد NA242سے ،عبدالرحیم NA243سے ،سید رباب حیدر NA245سے ،امجد اسلام امجد NA246سے ،محمد امین NA247سے،نورین کامران NA248سے،عبدالعظیم خان NA249سے،محمد بلال حیدرNA250سے ،انجینئرعمار عبداللہ رفیق PS84سے ،آدم خان PS85سے،محمد بلال PS86سے ،انیس انصاریPS89سے،مطیع اللہ PS90سے ،انجینئر نعمان علی PS91سے ،ایڈوکیٹ طاہر حمیدPS93سے،عمیر شکیل PS94سے،ہزار خان شر بلوچPS96سے،حافظ عبدالقیوم PS98سے،مفتی محمد یوسف خانPS99سے ،سید محبوب علی PS100سے، عارف PS102سے ،محمد خالد شاہ PS103سے ،محمد عمر PS104سے ، سید اسامہ اخترPS105سے،محمد عمران PS106سے ،محمد خان PS107سے ،عبدالرافعPS109سے،جنید میمن PS110سے،عبدالوہاب PS112سے ،حماد احمدPS113سے ،عبدلقادر ناگوریPS114سے،سجاد حسین اعوان PS115سے ،قاری الیاسPS116سے ،تحسین مقبولPS118سے،محمد یحییٰPS119سے ،امداد علی PS120سے، عبدالرحمن PS121 سے ،محمد فیصل چوہدریPS123سے،محمد اسلم PS124سے ،بابر احمد PS125سے ،جرائد ہمدانی PS126سے ،عمران احمد شیخ PS127سے ،اسما انصاریPS128سے،اقبال راجپوتPS129سے ،فیصل رحمن PS130 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے

    این اے 223،فہمیدہ مرزا،ذوالفقار مرزا،حسام مرزا کے کاغذات مسترد
    بدین میں این اے 223 پر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں اورمرزا فیملی کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے ہیں، مرزا فیملی کے خلاف پیپلز پارٹی کے امیدوار حاجی رسول بخش چانڈیو نے اعتراضات جمع کروائے تھے، اعتراض میں کہا گیا تھا کہ مرزا فیملی بینکوں کی نادہندہ ہے،آر او محمد نواز نے فیصلہ سنایا اور مرزا فیملی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے،آر او نے این اے 223 پر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ذوالفقار مرزا اور ان کے بیٹے حسام مرزا کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے،مرزا فیملی کے پی ایس 70، 71 اور 72 کا فیصلہ ہونا باقی ہے

    مریم نوازکے کاغذات نامزدگی تمام حلقوں سے منظور
    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نوازکے کاغذات نامزدگی تمام حلقوں سے منظور ہوگئے ہیں،مریم نواز نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 119،اور 120 جبکہ صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں‌ پی پی 159، 160 اور 165 میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے.مریم نواز نے پنجاب اسمبلی کے سرگودھا کے ایک حلقے پی پی 80 سے بھی کاغذات جمع کروائے تھے، سرگودھا سے بھی مریم نواز کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں، دوسری جانب مریم نواز کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض دائر کر دیا گیا،درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ افسر کی طرف سے مصدقہ کاپی نہیں دی جا رہی،مریم نواز سزا یافتہ ہیں ، ان کی نااہلی معطل ہوئی ہے، سزا معطل نہیں ہوئی، مریم نواز نے مختلف ٹی وی چینلز پر انٹرویوز میں اثاثے مختلف بتائے ہیں، آئین کے آرٹیکل 62،63 کے مطابق مریم نواز صادق اور امین نہیں ہیں،صحافی نے درخواست گزار سے سوال کیا کہ مریم کی لیگل ٹیم سکروٹنی کروا کر جا چکی ہے،جس پر اعتراض کنندہ کا کہنا تھا کہ ریٹرننگ افسر نے اگر من مرضی کی تو آگے ٹریبونل میں جائیں گے

    این اے 50،زلفی بخاری، این اے 15 اعظم سواتی کے کاغذات مسترد
    تحریک انصاف کے رہنمازلفی بخاری کے این ایے 50 سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیئے گئے، این اے 15 سے اعظم سواتی کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے،بورے والا میں پولیس پی ٹی آئی رہنما خالد نثار عائشہ نذیر کے تائید کنندہ کو گرفتار کرکے لے گئی،پولیس کی بھاری نفری مونسپل کمیٹی کے گیٹ پہ تعینات تھی،پولیس نے رات گئے پی ٹی ائی رہنماوں تائید کنندہ کے گھروں پہ بھی چھاپے مارے، پی ٹی آئی امیدوار ارشاد ارائیں کے تجویز کنندہ ماجد حبیب گرفتار کر لئے گئے،سابق ڈسٹرکٹ انفارمیشن سیکرٹری پی ٹی آئی شہباز قریشی کے گھر بھی پولیس نے چھاپہ مارا، تحریک انصاف کے سابق ایم این اے علی محمد خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے ہیں،این اے 23پرانتخابات لڑنے کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرنے والےعلی محمد خان کا نام فائنل لسٹ میں موجود نہیں،علی محمد خان پر مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج ہے۔کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر علی محمد خان کا کہنا تھا کہ میرے آبائی علاقہ مردان سے میرے کاغذات نامزدگی برائے این اے 23 بغیر کسی مناسب قانونی اور صحیح وجہ کے مسترد کر دئیے گئے،لیکن شاید یہ ” وجہ“ کافی ہے کہ میں عمران خان کے ساتھ ہوں !کوئی بات نہیں ایک امتحان اور صحیح !اس غیر قانونی اور غلط فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ الیکشن ٹرائیبونل میں اپیل کریںنگے۔ اپنے رب سےامید ہے انصاف ملے گا۔ نہ ہمت ہاریں گے نہ حوصلہ ہاریں گے نہ خان کو چھوڑیں گے اور نہ ہی حق کے راستے کو !افسوس اپنے کاغذاتِ نامزدگی کے مسترد ہونے کا نہیں بلکہ دکھ اس بات کا ہے کہ ملک کی جمہوریت اور انصاف کے نظام کیساتھ کھلواڑ جاری ہےاور الیکشن جیسے اہم ترین قومی زمہ داری کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان زندہ باد

    این اے 90 میانوالی، پی ٹی آئی امیدوار عمارہ نیازی گرفتار
    این اے 90 میانوالی سے تحریک انصاف کی امیدوار، اور خواتین ونگ کی ضلعی صدر عمارہ نیازی کو گرفتار کر لیا گیا، عمارہ نیازی کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی کے لئے آر او آفس پہنچی تھیں جہاں سے پولیس نے انہیں گرفتار کیا ،پولیس کے مطابق ضلع کچہری کے احاطے سے عمارہ نیازی کو گرفتار کیا گیا ہے،عمارہ نیازی 9 مئی واقعات کے مقدمات میں مطلوب تھیں

    عابد شیر علی کے این اے 102 سے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد
    مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی کے این اے 102 سے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیا گیا،عابد شیر علی کے خلاف چند سال قبل پولیس کانسٹیبل کو دھمکیاں دینے کا کیس سامنے آ گیا، حلقہ کے ووٹر رانا عدنان جاوید نے ریٹرننگ افسر کو درخواست دے دی،درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ عابد شیر علی کے خلاف تھانہ مدینہ ٹاؤن کے کانسٹیبل کو دھمکیاں دینے پر دہشتگردی عدالت میں مقدمہ درج ہے، کیمینل ریکارڈ کے باعث عابد شیر علی کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں۔

    این اے 71، عثمان ڈار کی والدہ، بیوی کے کاغذات مسترد
    این اے 71،عثمان ڈار کی ماں اور بیوی کے کاغذات نامزدگی مسترد، دونوں سرکاری ادارے کی نادہندہ نکلیں،عثمان ڈار کی والدہ نے ن لیگی رہنما خواجہ آصف کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا اور کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،عروبہ ڈار کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے، آر او نے واجبات کی عدم ادائیگی اور اثاثے ظاہر نہ کرنے پر کاغذات نامزدگی مسترد کئے

    این اے 150، شاہ محمود قریشی، زین، مہر بانو کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض
    این اے 150 میں بھی شاہ محمود قریشی ، زین قریشی اور مہر بانو قریشی کے کاغذات نامزدگی کیخلاف اعتراض جمع ہو گئے، اعتراض مد مقابل امیدور چوہدری وحید آرائیں نے جمع کروائے ، چوہدری وحید آرائیں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں خود این اے 150 سے امیدوار ہوں ، شاہ محمود قریشی ، زین قریشی ، مہربانو قریشی نے بھی اسی حلقے سے جمع کروائے ، اتنے بڑے لیڈر شاہ محمود قریشی نے اسٹامپ پیپر جعلی جمع کروائے ، شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد کا اسٹامپ پیپر ملتان جمع کروایا ، شاہ محمود قریشی اور ان کے تائید کنندہ کے جعلی دستخط تھے، بڑے لوگ جو مرضی بلنڈر کریں ایسا نہیں ہے کہ ان کیخلاف کوئی نہیں جاسکتا ہے۔ شاہ محمود قریشی ، زین قریشی ، مہر بانو قریشی نے غلط دستاویزات جمع کروائے تینوں امیدواروں کے کاغزات نامزدگی مسترد کرنے کی استدعا کی ہے ،

    شاہ محمود قریشی،زین ،مہر بانو قریشی کے کاغذات مسترد ہونے کا امکان
    جنرل الیکشن 2024 شاہ محمود قریشی ، زین قریشی اور مہربانو قریشی کے لیے الیکشن لڑنا مشکل ہوگیا ،شاہ محمود قریشی ، زین قریشی اور مہربانو کے وکلاء ریٹرننگ آفیسر کو اعتراضات مطمئن نہ کرسکے ، شاہ محمود قریشی کے وکلاء ریٹرننگ آفیسر کے سامنے پیش ہوئے،اعتراض کنندہ نوید الحق آرائیں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے بیان حلفی میں جعل سازی کی ، کاغزات نامزدگی پر شاہ محمود کے دستخط جعلی ہیں ، شاہ محمود قریشی 91 ہزار کے ڈیفالٹر ہیں ، شاہ محمود قریشی کے تجویز اور تائید کنندہ دونوں غیر حاضر ہیں،این اے 150 سے زین قریشی پر بھی اعتراضات عائد کئے گئے، زین قریشی کے تائید کنندہ حاضر جبکہ تجویز کنندہ غیر حاضر رہے دستخط کی تصدیق نہیں ہوسکی ،مہربانو قریشی کا تجویز کنندہ این اے 150 سے نہیں ،دوسری جانب زین قریشی اور مہر بانو قریشی کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو آر او آفس کے باہر سے حراست میں لےلیا گیا،نامعلوم افراد زین قریشی اور مہر بانو قریشی کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو گاڑی میں بٹھا کر ساتھ لے گئے

    سیاست سے دستبرداری کا اعلان کرنیوالے میاں بیوی این اے 121 میں کاغذات جمع کرانے میں کامیاب
    سیاست سے دستبرداری کا اعلان کرنے والے میاں بیوی این اے 121 میں کاغذات جمع کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں،مسرت جمشید چیمہ اور جمشید اقبال چیمہ کے کاغذات منظور ہوں گے یا نہیں، آر او فیصلہ آج کرے گا۔این اے 121سے ن لیگ کے رہنما شیخ روحیل اصغر کے کاغذات نامزدگی منظور ہوچکے ہیں،رہنما ن لیگ سردار ایاز صادق کے کاغذات بھی منظور ہوچکے ہیں،دونوں رہنماؤں کے بیٹے کورنگ امیدوار ہیں۔قانون دان اظہر صدیق کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوچکی، منظوری کا فیصلہ آج ہوگا ۔ن لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں آنے والے وسیم قادر کے کاغذات کی جانچ پڑتال بھی مکمل ہوچکی ،منظوری کا فیصلہ آج ہوگا ۔وسیم قادر سابق ڈپٹی میئر لاہور اور سابق رکن صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں۔این اے 121 سے 24امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرواے ، جن کی جانچ پڑتال کی جاچکی ۔این اے 121 کے آر او حامد محمود ملہی ہیں۔

    علی امین گنڈا پور، مجید نیازی کے کاغذات مسترد،ایاز امیر کے کاغذات پر اعتراض
    این اے 44علی امین گنڈا پور کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،این اے 181لیہ سے مجید نیازی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،این اے 87ملک عمر اسلم اعوان ،ملک حسن اعوان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے،تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے علی امین گنڈاپور اور مراد سعید سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کی مذمت کی،علی امین خان گنڈا پور، مراد سعید، صاحبزادہ صبغت اللہ، ڈاکٹر امجد خان، فضل حکیم خان، میاں شرافت، سلیم الرحمان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں،

    این اے 58،ایاز امیر کے کاغذات پر اعتراض، فیصلہ محفوظ
    حلقہ این اے 58 چکوال پر امیدوار قومی اسمبلی ایاز امیر کے کاغذاتِ نامزدگی پر اعتراضات عائد ہو گئے، ایاز امیر نے اعتراضات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،ایاز امیر پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔اسی حلقہ سے استحکام پاکستان پارٹی کے ذوالفقار دولہہ امیدوار ہیں، ذوالفقار دولہہ تحریک انصاف میں تھے تاہم انہوں‌نے تحریک انصاف چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے، سردار ذوالفقار دولہہ کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا انتہائی قریبی تصور کیا جاتا ہے،

    صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض، بل جمع کروا دیا ، جواب
    صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کا معاملہ ،صنم جاوید کے وکیل شکیل احمد پاشا ریٹرننگ افسر پی پی 150 کے سامنے پیش ہو گئے،صنم جاوید کے والد اور والدہ بھی ریٹرنگ آفیسر کے سامنے پیش ہو گئے،صنم جاوید کے وکیل نے اعتراضات بارے تحریری جواب ریٹرنگ افسر کو جمع کروا دیا ، شکیل پاشا نے کہا کہ صنم جاوید کے خلاف شکایت کنندہ ریٹرنگ افسر کے سامنے پیش نہیں ہوا، صنم جاوید کو ہراساں اور پریشان کیا جا رہا ہے،جعلی شکایت کنندہ تیار کیا گیا ،صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراض میں کہا گیا ہے کہ صنم جاوید کے گھر کا بجلی کا بل ادا نہیں ہوا ،صنم جاوید پر اعتراض شہری محمد حفیظ نے دائر کیا ،صنم جاوید کے جواب میں کہا گیا ہے کہ صنم جاوید کے گھر کا بجلی کا بل ادا کردیا گیا ہے

    بڑے بڑے نام جنہوں نے کاغذات ہی جمع نہیں کروائے
    عام انتخابات 2024 میں کئی بڑے سیاستدانوں نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے،اسد عمر، اسفند یار ولی ،شاہد خاقان عباسی ، فیصل واوڈا، خسرو بختیار عمران اسماعیل ، علی زیدی ،علی اعوان نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے،خواتین سیاست دانوں میں ملیکہ بخاری ، شیری مزاری ،سمیراملک ،عندیب عباس نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے، فخر امام ، سردار ریاض احمد خان ، نواب یوسف تالپور، اسلم بھوتانی ،محسن داوڑ، علی وزیر، نور الحق قادری ، مفتاح اسماعیل ، امجد نیازی، چوہدری شجاعت ،صداقت عباسی نے بھی کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ حلقہ این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں،فیصل ندیم کے این اے 235سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں،ایبٹ آباد پی کے 45 کے بعد این اے سترہ سے بھی سپیکر کے پی اسمبلی مشتاق احمد غنی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے، آر او نے مؤقف اپنایا کہ سپیکر کے پی اسمبلی عدالتی مفرور ہیں ،سفری ضمانت کے باوجود واپس نہیں آئے،این اے 264 سے اختر مینگل،این اے 262 سے ن لیگ امیدوار کے کاغذات منظورکر لئے گئے ہیں،پی پی 114 سے استحکام پاکستان کے فرخ حبیب کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں،این سے 247، مصطفیٰ کمال کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے ہیں،این اے55 سے محمد اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں، مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید کے این اے 122 سے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں،حافظ سعد رضوی کے کاغذات نامزدگی این اے 50 اٹک سے منظورہو گئے ہیں،ن لیگی رہنما عابد شیر علی کے کاغذات نامزدگی منظوری،میاں طاہر جمیل کے بھی منظورکر لئے گئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کے این اے 130سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں،این اے 244 سے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں،