Baaghi TV

Tag: لاہور

  • گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئی

    گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئی

    سول جج کی اہلیہ کی جانب سے گھریلو ملازمہ پر تشدد کا معاملہ ،وفاقی پولیس کی ٹیم متاثرہ بچی کے والدین سے ملنے لاہور روانہ ہوئی ہے،

    پولیس ٹیم والدین سے کیس کے حوالے سے مزید تفتیش کے سلسلے میں روانہ ہوئی، پولیس کی جانب سے گزشتہ روز سول جج کے آبائی گاؤں کی رہائشگاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا،پولیس کی جانب سے اسلام آباد، گوجرانوالہ اور آبائی گاؤں کی رہائش گاہوں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے ،تینوں مقامات پر سول کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار تعینات کر دئیے گئے، پولیس کی جانب سے ملزمہ کے موبائل نمبر کی بھی ٹریسنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے،ملزمہ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئی،

    سول جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی رضوانہ جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے، لاہور جنرل ہسپتال میں گھریلو تشدد کی زیر علاج بچی کی تازہ ترین صحت کی صورتحال بارے اجلاس ہوا.میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر جودت سلیم نے پرنسپل پی جی ایم آئی کو تفصیلات سے آگاہ کیا ،ڈاکٹرز نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بچی کو برین سرجری کی ضرورت نہیں، دماغی سوزش ادویات سے کنٹرول کر لی جائیں گی 15سالہ رضوانہ کے زخموں کی دن میں دو بار ڈریسنگ کی جاتی ہے

    پرنسپل جنرل ہسپتال کا کہنا ہے کہ سپیشل میڈیکل بورڈ میں پلاسٹک سرجری کا ڈاکٹر بھی شامل کر لیا گیا ہے زخموں کے انفیکشن اور جلد ریکوری کے لئے معیاری ادویات دی جا رہی ہیں روزانہ کی بنیادپر ڈاکٹر ز متاثرہ بچی کا طبی معائنہ جاری رکھیں گے بچی کی جلد صحت یابی کیلئے علاج معالجہ کی بہترین سہولیات و خصوصی نگہداشت جاری رکھی جائے

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلوملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • پاکستان میں تشدد کا ہولناک واقعہ

    پاکستان میں تشدد کا ہولناک واقعہ

    زنیرہ ماہم کی حالیہ ویڈیو نے 14 سالہ لڑکی کے ساتھ ہولناک زیادتی کا پردہ فاش کیا ہے،
    زنیرہ ماہم کی جانب سے شیئر کی گئی ایک حالیہ ویڈیو نے پورے پاکستان میں ہلچل مچا دی ہے۔ جس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مبینہ طور پر ایک سول جج کی سربراہی میں ایک خاندان کے ہاتھوں 14 سالہ لڑکی پر وحشیانہ تشدد کا انکشاف ہوا ہے۔ ویڈیو میں کم از کم 15 مختلف مقامات پر لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے پریشان کن مناظر دکھائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ تشدد اس کے جنسی اعضاء تک بھی کیا گیا ہے،۔ لڑکی کے سر پر ایک کھلا زخم بتایا جاتا ہے، جس کے اندر کیڑے رینگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعد میں اسے تشدد کرنے والوں نے ایک بس سٹاپ پر چھوڑ دیا اور بالآخر اس کے والدین اسے سرگودھا کے ایک ہسپتال لے گئے، وہاں پر اسکا علاج نہ ہونے کی وجہ سے اسے مزید علاج کے لیے لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    حکام نے لڑکی کے لیے روزگار تلاش کرنے کے ذمہ دار فرد کو گرفتار کر لیا ہے۔ لیکن حیران کن طور پر اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے باوجود، پولیس کی جانب سے جج اور ان کی اہلیہ سے تاحال کوئی تحقیقات نہیں کی گئی۔ جج نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ متاثرہ لڑکی کو خاندان نے چھ ماہ سے ملازم رکھا تھا۔

    لنک: https://www.youtube.com/watch?v=rcRsOJ2hfz0

    اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر پاکستانی معاشرے میں پائی جانے والی عدم مساوات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جہاں بااثر افراد اکثر اپنے اعمال کے لیے جوابدہی سے بچ سکتے ہیں۔ جب کہ عام عوام کو معمولی جرائم کے لیے بھی سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بدعنوانی اقتدار میں رہنے والوں کے لئے ڈھال بنتی ہے، انہیں انصاف سے بچاتی ہے، اور یہاں تک کہ اگر وہ چاہیں تو ملک چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ واضح تضاد ملک کے تمام صوبوں میں قیدیوں کی خطرناک تعداد میں ظاہر ہوتا ہے، جن کو سزا نہیں دی گئی۔ جس کا تناسب سندھ میں 70%، کے پی میں 71%، بلوچستان میں 59%، اور پنجاب میں 55% تک پہنچ گیا ہے – بااثر مجرم سزا سے بچتے رہتے ہیں، اور اکثر بیرون ملک چلے جاتے ہیں

    کسی کی سماجی حیثیت سے قطع نظر، معاشرے میں انصاف اور مساوات کی بالادستی ہونی چاہیے۔ یہ واقعہ ملک میں بدعنوانی، استثنیٰ، اور عام آدمی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کے مروجہ مسائل سے نمٹنے کے لیے اصلاحات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ ان مشکلات کو تسلیم کرنے اور ان سے نمٹنے کے ذریعے ہی، پاکستان ایک منصفانہ اور ہمدرد معاشرہ بن سکتا ہے۔ جو اپنے سب سے زیادہ کمزوروں کی حفاظت کرتا ہے۔

  • اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی سہولیات فراہم کرنیکی درخواست،سماعت ملتوی

    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی سہولیات فراہم کرنیکی درخواست،سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی رہنماء سینیٹر اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی سہولیات فراہم کرنےکی درخواست پر سماعت ہوئی

    دورکنی بنچ نے درخواست پر سماعت یکم اگست تک ملتوی کردی ،عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو ایڈشنل چیف سیکرٹری ہوم پنجاب کے فیصلے کی کاپی لف کرنے کی ہدایت کر دی، جسٹس شجاعت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک درخواست واپس لینے کی بنا پر دوسری درخواست کیسے قابل سماعت ہے ۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پہلی درخواست ایڈشنل چیف سیکرٹری ہوم پنجاب سے رجوع کرنے کے لیے واپس لی ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے بی کلاس دینے کی درخواست مسترد کر دی۔

    جسٹس شجاعت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈشنل چیف سیکرٹری ہوم کے فیصلے کو چیلنج کیا ؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نئی درخواست لے کر آیا ہوں

    جسٹس شجاعت علی خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سلمی اعجاز چوہدری کی درخواست پر سماعت کی ،یہ درخواست اعجاز چوہدری کی اہلیہ سلمی اعجاز نے اپنے وکیل مہر فیاض کےتوسط سے دائر کی ہے درخواست میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم، آئی جی جیل اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو فریق بنایا گیا، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت نے اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی سہولیات فراہم کرنے کی درخواست کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے کسی قانونی جواز کےبغیر درخواست مسترد کردی۔ سینیٹر اعجاز چوہدری پر صرف الزام ہے وہ سزا یافتہ نہیں ہیں۔ اعجاز چوہدری سیاسی جماعت کے عہدیدار اور عمر رسیدہ شہری ہیں،نو مئی کے واقعات کے بعد درخواست گزار کےخاوند کو گرفتار کر کے جیل میں رکھا گیا ہے۔ جیل میں اعجاز چوہدری کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم نہیں کی جارہی،اعجاز چوہدری کو جیل میں ادویات، کھانا فراہم کرنے سمیت سہولیات نہیں دی جارہی عدالت جیل حکام کو اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس جیل کی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دے۔

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • سبسڈی واپس لینے کیخلاف درخواستیں خارج کرنیکا فیصلہ چیلنج

    سبسڈی واپس لینے کیخلاف درخواستیں خارج کرنیکا فیصلہ چیلنج

    ہائیکورٹ کا بجلی کے بلوں پر سبسڈی واپس لینے کیخلاف درخواستیں خارج کرنیکا فیصلہ چیلنج کر دیا گیا

    بجلی بلوں کے متاثرین نے لاہورہائیکورٹ میں انٹرا کورٹ اپیلیں دائرکردیں ،عدالت نے اٹارنی جنرل کو 27 اے کا نوٹس جاری کر دیا اور معاونت کیلئے طلب کر لیا،عدالت نے وفاقی حکومت ، لیسکو ، نیپرا و دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، عدالت نے سنگل بینچ کا بجلی کے بلوں سے متعلق درخواستیں خارج کرنیکا فیصلہ معطل کرنیکی استدعا مسترد کر دی، عدالت نے اپیل کنند گان کی بقایا جات کی وصولی بینک گارنٹی کے عوض روک دی ،بینک گارنٹی کےعوض اپیل کنندگان کے میٹرکنکشن بھی منقطع کرنے سے روک دیئے

    جسٹس شاہد کریم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے انٹرا کورٹ اپیلوں پرسماعت کی ،وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ پیش ہوئے ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ بلوں پر سبسڈی یا سرچاجزعائد کرنا یا واپس لینے حکومتی پالیسی ہے ،عدالت حکومت کے پالیسی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرسکتی ،وکیل نے کہا کہ درخواستگزاروں نےبجلی کے بلوں پردی گئی سبسڈی واپس لینےکے اقدام کوچیلنج کیا سنگل بینچ نے بجلی کے بلوں پر سرچاجز کی وصولی روکتے ہوئے عبوری ریلیف دیا تھا،سنگل بینچ نےبجلی کےبلوں پرواپس لی گئی سبسڈی کیخلاف درخواستیں خارج کیں ،

    فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، پولیس کو ملیں صرف خواتین ،پولیس نے کیا کام سرانجام دیا؟

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    میرا شوہر نامرد، پیار نہیں کرتا، مقدمہ درج کیا جائے

  • رانا ثناء اللہ  دہشت گردی کے مقدمے سے بری

    رانا ثناء اللہ دہشت گردی کے مقدمے سے بری

    گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو دہشت گردی کے مقدمے سے بری کردیا ہے

    انسداد دہشت گردی عدالت میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے خلاف گجرات کے تھانہ انڈسٹریل میں درج مقدمے کی سماعت ہوئی،رانا ثنااللہ انسداد دہشت گردی عدالت گوجرانوالہ میں پیش ہوئے، عدالت نے بذریعہ نوٹس رانا ثناء اللہ کو آج طلب کیا تھا

    دوران سماعت مدعی مقدمہ اپنا بیان تبدیل کرلیا جس پر عدالت نے رانا ثنا اللہ کو مقدمے سے بری کر دیا

    عدالت پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ آج ایک جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ اپنے انجام کو پہنچا،میں جھوٹے مقدمے سے باعزت بری ہوا ہوں،ہم سب نے اپنی بے گناہی عدالتوں میں پیش ہو کر ثابت کی،ہمارے قائدین سب عدالتوں میں پیش ہوئے، نہ ہم نے عدالتوں کا گھیراؤ کیا اور نہ ہی کارکن اکٹھے کرکے عدالتوں پر چڑھائی کی ،ہمارے تمام قائدین عدالتوں میں عام آدمی کی طرح پیش ہوئے ،ہمارے قائدین نے سروں پر بالٹیاں نہیں رکھی اورنہ ہی عدالتوں کے دروازے توڑے،نومئی کو اس ملک کے دفاعی ادارے پر حملہ کیا گیا،جنھوں نے ہمارے شہدا کی بے حرمتی کی ان کو معاف نہیں کیا جا سکتا ،الیکشن میں پاکستان عوام کو موقع ملے گا کہ وہ اپنے نمائندے کو منتخب کرے،ہم نے ہمیشہ اپنے ذات کی نفی کرکے ملک کی ترقی کے لیے کام کیا،ہمارا کرادر بھی سب کے سامنے ہیں اور ان کا بھی جنھوں نے معاشرے کو تقسیم کرنے کی سیاست کی ،ہمارا یہ دعوی ہے پاکستان جب بھی بحران کا شکار ہوا ہے ہم نے ملک کو بحران سے نکالا ہے،ایک شخص جو ملکی سیاست کا فتنہ ہے اس کے برسر اقتدار میں آنے پر ملک بحرانوں کا شکار ہوا، وزیراعظم نے دن رات کوشیشیں کرکے ملک کو بحرانوں سے نکالا،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ سائفر اس وقت کے سیکرٹری ٹو وزیراعظم کی ذمہ داری تھیاعظم خان نے کہا ہے کہ سائفر اس سے اگلے دن وزیراعظم نے لیا جو بعد میں نہیں ملا،سائفر عمران خان کے پاس ہیے اور اسکا وہ ذمہ دار ہیں، یہ بات کی جا رہی ہے کہ اس مرتبہ نگران وزیراعظم کوئی سیاست دان ہونا چاہیئے ،اگر یہ بات سرے چڑھتی ہے تو وہ نام سیاستدانوں میں سے ہی ہوگا،اسحاق ڈار بہت اچھے سیاست دان اور باوقار آدمی ہیں،اس بارے میں کسی جماعت نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا،پاکستان مسلم لیگ ن عوام کے ردعمل کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی، عدالت نے شارٹ آرڈر پر مجھے بری کیا ہے،جو بجلی مہنگی ہوئی ہے وہ اسحاق ڈار کا تحفہ نہیں آئی ایم ایف کا تحفہ ہے،اگر آئی ایم ایف سے معاہدہ اسحاق ڈار نے کہا ہے یا جس نے پہلے کیا تھا اس کے گریبان کو پکڑنا چاہیے، ہم 2018 میں ملک کو آگے لیکر جا رہے تھے ، اگر ہمیں ٹائم دیا تو یہ ملک ترقی یافتہ ہوسکتا تھا ، ہم دو سو یونٹ تک بجلی کو فری کرنا چاہتے تھے ،لوگ میاں نواز شریف پر اعتماد کریں ہم ایک سال میں وہی قیمتیں واپس لائیں گے جو 2018 میں تھیں،عمران خان امریکہ میں کہتے تھے میں جا کے پتہ کروں گا کہ نواز شریف کے سیل میں کوئی اے سی تو نہیں لگا،ہم نے عدالتوں کا احترام کیا ہے عدالتوں پر چڑھائی نہیں کی،جن کو جھوٹے مقدمات کے تحفظات ہیں وہ بھی عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کریں،

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    گزشتہ سماعت پر عدالت نے مسلسل عدم پیشی پر رانا ثناء اللہ کے وکلاء پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 جولائی کو طلب کیا تھا،عدالت نے حکم دیا تھا کہ پولیس رانا ثناء اللہ کو پابند کرے کہ وہ ہر صورت پیش ہوں ،انسداد دہشت گردی عدالت نے وزیر داخلہ کے ضمانتی رانا سعد کو بھی 25 جولائی کیلئے نوٹس جاری کر دیا جس میں کہا گیا کہ آپ نے رانا ثناء اللہ کیلئے 5 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے آپ نے لکھ کر دیا کہ ملزم ہر حاضری پر پیش ہوتا رہے گا اقرار کیا گیا تھا رانا ثناء اللہ پیش نہ ہوئے تو 5 لاکھ روپے بطور تاوان ادا کریں گے ملزم عدالت سے غیر حاضر ہو گیا اور مقدمہ سننے سے گریزاں ہے

  • پیمرا قانون کے تحت فیصلہ کرے،عمران خان کی درخواست پر عدالت کا حکم

    پیمرا قانون کے تحت فیصلہ کرے،عمران خان کی درخواست پر عدالت کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ: چئیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے میڈیا پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی ،عدالت نے درخواست گزار کو پیمرا سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی ،عدالت نے حکم دیا کہ پیمرا قانون کے تحت درخواست دائر ہونے پر فیصلہ کرے

    واضح رہے کہ عمران خان کے اداروں کیخلاف بیانات کی وجہ سے پیمرا نے عمران خان کی تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی ۔ عمران خان نے پابندی کے اس اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ عمران خان کی جانب سے بیرسٹر احمد پنسوتا کے ذریعے توہین عدالت کی دائر درخواست میں چیئرمین پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کی پابندی کا نوٹیفیکیشن معطل کر رکھا ہےاس کے باوجود ٹی وی چینلز پر نشر نہ کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو عمران خان کی تقاریر نشر نہ کرنے کے لیے پریشرائز کیا جا رہا ہے۔ پیمرا کی جانب سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

    عمران خان کی جانب سے درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پیمرا کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے اور  چیئرمین پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے

    یاد رہےکہ پیمرا نےتمام ٹی وی چینلز پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تقاریربراہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کردی تھی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان کی تقریر پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لگائی گئی ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

  • یاسمین راشد،عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری  کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی 14 روز کی توسیع

    یاسمین راشد،عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی 14 روز کی توسیع

    لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے پانچ مقدمات میں رہنما تحریک انصاف یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی، جبکہ جناح ہاؤس حملہ توڑ پھوڑ کیس میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی 14 روز کی توسیع کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی : انسداد دہشتگردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل خان نے عسکری ٹاور پر حملہ، مسلم لیگ ن آفس جلانے اور یاسمین راشد کے خلاف دیگر مقدمات پر سماعت کی ڈاکٹر یاسمین راشد کو جوڈیشل ریمانڈ کی معیاد ختم ہونے پرعدالت میں پیش کیا گیا پولیس نےیاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی تاہم عدالت نے پانچ مقدمات میں یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی عدالت نے یاسمین راشد کو 7 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

    خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان کی عدالت میں حاضری کیلئےجوڈیشل کمپلیکس آمد،اوپر جانے سے انکار

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے جناح ہاؤس حملہ توڑ پھوڑ کیس میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور سینیٹر اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کر دی۔

    پولیس کی جانب سے عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت پیش کیا گیا تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ مقدمات کا چالان تکمیل کے مرحلے میں ہے مہلت دی جائے عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس سے جناح ہاؤس حملہ کیس کے چالان کی تفصیلات طلب کرلیں اور عدالت نے ملزمان کو 7 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم بھی دیا-

    میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجود، بے اختیار لب پہ ترا نام …

    عمر سرفراز چیمہ کو بیماری کے باعث وہیل چیئر پر عدالت میں پیش کیا گیا عدالت نے انہیں بہتر سہولیات فراہم کرنےکا حکم دے دیا عمر سرفراز چیمہ کے خلاف سانحہ 9 مئی کے حوالے سے تھانہ سرور روڈ میں مقدمہ درج ہے۔

  • تحفے میں ملنے والے جوتوں کی رقم سے زیادہ ٹیکس

    تحفے میں ملنے والے جوتوں کی رقم سے زیادہ ٹیکس

    پاکستان کی ایتھلیٹ صاحب اسرا کو تحفے میں اسپائیک منگوانا مہنگا پڑ گیا ہے جبکہ صاحب اسرا کے لیے بھیجے گئے جوتوں کی مالیت 54 ہزار روپوں کے لگ بھگ ہے تاہم جوتوں پر 67 ہزار کا ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ فیضان لاکھانی کے مطابق صاحب اسرا نے کہا کہ مجھے کسی نے مدد کرنے کے لیے تحفے کے طور پر جوتے بھیجے تھے، جب میں کوریئر کمپنی گئی تو مجھ سے ٹیکس کی رقم کا تقاضا کیا گیا، تحفے میں آنے والے شوز پر اتنی بڑا ٹیکس میرے لیے حیران کن تھا۔

    جبکہ قومی ایتھلیٹ نے کہا کہ میرے پرانے جوتے خراب ہو گئے ہیں اس لیے مجھے ان جوتوں کی شدید ضرورت ہے، حکومت سے درخواست ہے کہ اس معاملے پر میری مدد کی جائے۔ کمپنی عہدیدار کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کوریئر کمپنی سامان حاصل کرتے وقت ٹیکس کی رقم حکام کو ادا کرتی ہے، جو حکومتی ٹیکس ہیں وہ دے کر ہم سامان وصول کرتے ہیں۔
    زرعی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،اسحاق ڈار
    ایس ایچ او اورساتھی افسر بھتہ وصول کرنے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار

    تاہم یاد رہے کہ صاحب اسرا ساؤتھ ایشین گیمز کی میڈلسٹ اسپرنٹر ہیں۔

  • ایس ایچ او اورساتھی افسر بھتہ وصول کرنے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار

    ایس ایچ او اورساتھی افسر بھتہ وصول کرنے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار

    لاہور کے سول لائن تھانے کے ایس ایچ او اور ساتھی افسر کو ہوٹل سے بھتہ وصول کرنے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے اپنے ہی تھانے میں قید کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: تفصِلات کے مطابق بھتہ خوری میں ملوث ایس ایچ او، سب انسپکٹر اور پرائیویٹ شخص کیخلاف تھانہ سول لائن میں مقدمہ الزام نمبر1055/23 مجموعہ تعزیزات پاکستان کی دفعہ 384 اور 155 سی کےتحت درج کیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آپریشن لاہور علی ناصر رضوی کو برطانیہ میں مقیم ایک شہری نے شکایت کی تھی کہ لاہور میں لارنس روڈ پر واقع ان کے ہوٹل سے سول لائن تھانے کے ایس ایچ او اور ایک سب انسپکٹر ماہانہ بھتہ طلب کر رہے ہیں جس پر ڈی آئی جی آپریشن نے سخت کارروائی کی ہدایت کی۔
    Lahore
    ڈی آئی جی کی ہدایت پر ہوٹل مینیجر نے ایس ایس پی آپریشن لاہور سہیل اشرف سے رابطہ کیا ہوٹل کے مینیجر محمد مشتاق کے مطابق 17 جولائی کو سول لائن تھانے کے سب انسپکٹر اختر حسین سادہ کپڑوں میں ان کے پاس ہوٹل آئے اور "مختصر دورانیے” کیلئے کمرہ بک کرنے کا کہا اور من مرضی کے پیسے دینے کی آفر کی لیکن کمرہ بک کرنے سے انکار کر دیا جس پر اختر حسین نے خود کو پولیس افسر ظاہر کیا اور بتایا کہ وہ ایس ایچ او کے لیے کمرہ بک کرنا چاہتے ہیں تب بھی انہوں نے کمرہ دینے سے صاف انکار کر دیا، اس پر اختر حسین نے کہا کہ انہیں ایس ایچ او ندیم شیخ نے بلوایا ہے، سب انسپکٹر انہیں گنگا رام اسپتال کی پولیس چوکی پر لے گیا-

    ایس ایچ او نے انہیں کہا کہ آپ ہوٹل میں غلط کاری کرتے ہو لہٰذا مجھے 70 ہزار روپے ماہانہ دیں بصورت دیگر آپ کے ہوٹل پر چھاپہ مار کر کاروبار بند کر دوں گا اور اگر کوئی وقوعہ ہوا تو اس کا پرچہ بھی آپ کے ہوٹل پر درج کروں گا امجد حسین نے بتایا کہ وہ آرمی سے ریٹائرڈ آفیسر ہیں اور ہوٹل کے مالک بھی پڑھے لکھے اور اچھے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ہوٹل پر کبھی کوئی غلط کام نہیں ہوا اور نہ ہوتا ہے جس پر ایس ایچ او نے انہیں ڈرایا دھمکایا اور صاف کہا کہ ہوٹل چلانا ہے تو ماہانہ بھتہ دینا پڑےگا۔

    جب برطانیہ میں مقیم ہوٹل مالکان کی جانب سےاعلیٰ پولیس حکام کو شکایت کی گئی تو اس سلسلے میں اختر حسین سے تحریری درخواست وصول کی گئی اورایس ایس پی آپریشن سہیل اشرف نے منصوبہ بندی کی اس سلسلے میں اعلیٰ افسران کی نگرانی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، منصوبہ بندی کے تحت محمد مشتاق رقم لے کر اختر حسین کے پاس پہنچے جو انہیں لے کر ایس ایچ او ندیم شیخ کے پاس گئے۔محمد مشتاق نے جونہی رقم ایس ایچ او شیخ ندیم کو دی تو ایس پی سول لائن حسن جاوید بھٹی کی نگرانی میں پولیس پارٹی نے چھاپہ مار دیا۔

    نشان زدہ نوٹ برآمد کرکے ایس ایچ او ندیم شیخ اور سب انسپکٹر اختر حسین کے خلاف ہوٹل مینیجر محمد مشتاق کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر لی گئی مقدمے کے تحت دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے لاک اپ بھی کر دیا گیا، یہی نہیں گرفتاری کے ساتھ ساتھ ایس ایچ او اور اس کے ساتھی پولیس افسر کے خلاف انتہائی سخت محکمانہ کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔

  • منی لانڈرنگ کیس :مونس الہٰی اشتہاری قرار

    منی لانڈرنگ کیس :مونس الہٰی اشتہاری قرار

    لاہور کی سیشن عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں سابق وفاقی وزیر مونس الہٰی کو اشتہاری قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی:عدالت نے کہا ہے کہ مونسی الہٰی کیخلاف منی لانڈرنگ کے 2 مقد مات درج ہیں ، مونسی الہٰی اربوں روپے غیر قانونی طریقے سے باہر لے کر گئے، اینٹی کرپشن سرکل پنجاب میں بھی مونس الہٰی کیخلاف مقدمہ درج ہےمونس الہٰی سمیت دیگر 3 ملزمان کیخلاف چالان عدالت میں جمع کر دیا گیا، عدالت نے مونس الہٰی کی ٹریول ہسٹری، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کر لیں۔

    عدالت نے مونس الٰہی کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ، بینک اکاؤنٹ، تمام جائیداد کے منجمد ہونے کی کارروائی شروع کر دی ہے، عدالت نے پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور رہائش گاہ کا درست ایڈریس بھی طلب کیا ہے۔

    مونس الٰہی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    قبل ازیں لاہور کی سیشن کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور صدر پی ٹی آئی پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے، مونس الٰہی کے وارنٹ گرفتاری رشوت لینے، دینے اور اعانت جرم کے مقدمے میں جاری کیے گئے ہیں ایف آئی اےنےمونس الہیٰ کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست دائرکرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں شامل تفتیش کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ایسا کرنے سے گریزاں ہیں۔

    ایف آئی اے نے عدالت سے شریک ملزم حامد سہیل کے بھی دائمی وارںٹ جاری کرنے کی استدعا کی تھی جسے منظورکرتے ہوئے عدالت نے دونوں ملزمان کے وارنٹس جاری کیے۔

    میرا خواب ہےکہ پاکستان بھارت کی سرزمین پر ورلڈکپ لفٹ کرے،عطا تارڑ