لندن: عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان کے گھر میں نامعلوم نوجوان گھس آئے-
باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جمائما گولڈ اسمتھ نے سی سی ٹی وی فوٹیج شئیر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے گھر میں دو نامعلوم نوجوان گھس آئے ہیں فوٹیج میں دو کم عمر نوجوانوں کو جمائما کے گھر میں دیکھا جا سکتا ہے –
جرنلسٹ یسری عسکری نے اسے خوفناک قراد یتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ جلد ہی قانون کے ذریعے تجاوز کرنے والوں کی شناخت کی جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارووائی کی جائے گی-
Prayers for your safety. May they be caught and dealt with by the law.
فارسی ریڈیو لندن سے نشر ہوتا تھا جسے فارسی بولنے والے کافی پسند کرتے تھے اور اس کے سامعین کی تعداد دنیا بھر میں لاکھوں میں ہے بالخصوص افغانستان، ایران اور تاجکستان میں کافی مقبول تھا۔
بی بی سی ورلڈ سروس نے کہا کہ اس نے یہ فیصلہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد کی اشاعت پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے "اسٹریٹجک تبدیلیوں” کے حصے کے طور پر کیا ہے۔
کارپوریشن نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد کی اشاعت پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے "اسٹریٹجک تبدیلیوں” کے حصے کے طور پر گزشتہ سال ستمبر میں بی بی سی فارسی اور عربی ریڈیو کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ورلڈ سروس نے ستمبر 2022 میں کہا تھا کہ اس نے اپنے فارسی اور عربی ریڈیو اسٹیشن کو بند کر کے اخراجات کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن آن لائن سروس جاری رہے گی بی بی سی ورلڈ سروس کے کم از کم 382 ملازمین اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ ورلڈ سروس نے کہا تھا کہ اس کا مقصد فارسی اور عربی ریڈیو اسٹیشنوں کو بند کر کے £28.5 ملین کی بچت کرنا ہے تاکہ سالانہ 500 ملین پاؤنڈ کی بچت کی جاسکے-
براڈکاسٹر نے کہا ہے کہ یہ کٹوتی پروگراموں کی تیاری کی بڑھتی ہوئی لاگت کے علاوہ مہنگائی سے نیچے لائسنس فیس پر برطانیہ کی حکومت کی طرف سے عائد کردہ حدود کے برسوں کے نتیجے میں ہوئی ہے نیز، کارپوریشن چینی اور ہندی سمیت دس دیگر زبانوں میں ریڈیو مواد کی تیاری بند کر دے گی۔
بی بی سی نے اپنی پہلی فارسی ریڈیو سروس اپنی ایمپائر سروس کے حصے کے طور پر 29 دسمبر 1940 کو دوسری جنگ عظیم کے دوران دفتر خارجہ کے تعاون سے شروع کی بی بی سی فارسی براڈکاسٹنگ سروس افغانستان، ایران اور تاجکستان سے متعلق تازہ ترین سیاسی، سماجی، اقتصادی اور کھیلوں کی خبریں فراہم کرتی ہے۔
خیال رہے کہ بی بی سی نے 28 جنوری کو عربی ریڈیو کی نشریات بھی بند کردی تھیں۔ بی بی سی عربی ریڈیو کا یہ سفر 85 برسوں پر محیط تھا تاہم بی بی سی ویب سائٹ کے ذریعے عربی کی سروس فراہم کرتا رہے گا۔
لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے خالصتان تحریک کے حامی مظاہرین نے بھارت کے خلاف نعرے لگائے۔
باغی ٹی وی: بھارتی پنجاب میں پولیس مظالم کےخلاف بھارتی ہائی کمیشن لندن پر ہزاروں سکھوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شریک ہوئی مظاہرے کا اہتمام فیڈریشن آف سکھ آرگنائزیشن اور سکھ یوتھ تنظیموں نے کیا۔
مظاہرے میں سکھ رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت طاقت کے زور پر خالصتان کی تحریک کو نہیں دبایا جاسکتا ریفرنڈم کے ذریعے دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں،ہائی کمیشن کی حفاظت کیلئے سیکڑوں پولیس افسران ڈیوٹی پر موجود تھے اور بھارتی ہائی کمیشن کے مرکزی دروازے کے سامنے پولیس نے صف بندی کر رکھی تھی۔ پولیس کو خدشہ تھا کہ مشتعل نوجوان دوبارہ بھارتی جھنڈا نہ اتار دیں۔
سکھ نوجوانوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر پر جوتیاں برسائیں لندن کے علاوہ برطانیہ کے دیگر شہروں سے بھی مظاہرین لندن پہنچے جس کیلئے پولیس کی مزید نفری طلب کر نا پڑگئی۔
جھنڈا لہرانے والے واقعے کے بعد اس شدید احتجاج پر برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے کہا ہے کہ ان کا ملک بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کے خلاف ”ناقابل قبول تشدد کی کارروائیوں“ کے بعد سیکیورٹی کا جائزہ لے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے برطانیہ میں خالصتان کے حامی کارکن لندن میں بھارتی مشن میں داخل ہوئے اوربھارتی پرچم اتار کر اس کی جگہ خالصتان کا پرچم لہرا دیا تھا اس دوران دیگرشرکا ہائی کمیشن کے دروازے کو لاتیں بھی مارتے رہے اور کھڑکیوں پر لگے مضبوط شیشے بھی ٹوٹ گئے یہ واقعہ اتوار کی دوپہر اس وقت پیش آیا جب سکھ کمیونٹی کے افراد بھارتی پنجاب میں خالصتان کے حامی رہنما امرت پال سنگھ کی گرفتاری کیلئے پولیس آپریشن کے دوران درجنوں سکھوں کو گرفتارکرنےکےخلاف بطوراحتجاج اورآسٹریلیا کے شہر برسبین میں خالصتان ریفرنڈم سے اظہاریکجہتی کیلئے بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے جمع تھے۔
خالصتان کے حامیوں نے بھارتی ہائی کمیشن کے احاطے میں امرت پال سنگھ کا پوسٹر اٹھا کر خالصتان زندہ بادکےنعرےبھی لگائے تھے پائی کمیشن کے گرد سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی اور ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا –
بھارت نے برطانوی حکومت سے ملوث افراد کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا اور بھارت میں برطانیہ کے ہائی کمزنر کر بلا کر احتجا ریکارڈ کروایا جبکہ اندرون اور بیرون ملک سکھ کاز کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت سے پریشان بھارتی حکومت تازہ ترین اقدام سے بھارت میں برطانیہ کے سفارت کارکو دفتر خارجہ طلب کرنے پر مجبور ہوئی اوران سے خالصتانی کارکنان کے بھارتی ہائی کمیشن میں داخلے اور بھارتی پرچم کی جگہ خالصتانی جھنڈا لہرانے پر وضاحت طلب کی۔
ایک بیان میں بھارتی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ برطانیہ کی حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اتوار کے واقعے میں ملوث افراد کی شناخت، گرفتاری اور مقدمہ چلانے کیلئے فوری کارروائی کرے گی اور ایسے واقعات کو روکنے کیلئے سخت اقدامات کرے گی۔
واشنگٹن ڈی سی سے لندن کیلئے روانہ ہونے والی برٹش ائیر ویز کی پرواز میں آگ لگنے کی اطلاع پر طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کردی گئی۔
باغی ٹی وی: ایوی ایشن حکام کے مطابق پرواز بی اے 216 کے طور پر بوئنگ 9-787 ڈریم لائنر طیارے نے امریکا کے مقامی وقت کے مطابق شام چھ بج کر 49 منٹ پر واشنگٹن ڈی سی سے برطانیہ کے ہیتھرو لندن ائیرپورٹ کیلئے ٹیک آف کیا۔
پرواز کے ایک گھنٹے بعد پائلٹ نے ائیر ٹریفک کنٹرول کو طیارے کے کیبن میں دھواں بھرنے کی اطلاع دی، جس کے بعد پرواز کو قریبی ہیلی فیکس ائیر پورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرادی گئی تاہم طیارہ اور تمام مسافر محفوظ رہے۔
بعدازاں رجسٹریشن (G-ZBkL) کے حامل طیارے کا مکمل معائنہ کیا گیا اور طیارے کو مکمل فٹ قرار دے کر مسافروں کو منزل پر روانہ کر دیا گیا۔
باغی ٹی وی: لندن کی میڑو پولیٹن پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈینیل عابد خلیف برطانوی فوج کے حاضر سروس اہلکار ہیں اور ان کا تعلق وسطی انگلینڈ سے ہے۔
خلیف پر اگست 2021 میں مبینہ طور پردہشت گردی میں ملوث یا دہشتگرد حملے کی تیاری کرنے والے شخص کو دینے کے لیے اہم معلومات حاصل کرنے کی کوشش کا الزام ہے۔ خلیف زیرحراست ہیں اوران کو آج لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
21 سالہ ڈینیئل عابد خلیف پر 2021 میں "دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے یا اس کی تیاری کرنے والے شخص کے لیے مفید معلومات کو ظاہر کرنے” کی کوشش سمیت دو واقعات پر فرد جرم عائد کی گئی۔
لندن: مسلم لیگ پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ نے پنجاب کے عام انتخابات کیلئے ن لیگی امیدواروں کی فہرست پارٹی سربراہ نواز شریف کے سامنے پیش کردی۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے سرجوڑ لئے اس سلسلے میں لندن میں ن لیگ کے قائد نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب کی صورتحال پر اعلی سطح اجلاس ہوا،جس میں وفاقی وزیر داخلہ راناثنااللہ اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب بھی شریک تھیں۔
اجلاس میں پنجاب میں آئندہ انتخابات میں پارٹی امیدواروں پر غور کیا گیا، رانا ثناءاللہ نے پارٹی قائد کو ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال سمیت اہم امور پر تفصلات سےآگاہ کیا اورپنجاب کےعام انتخابات کیلئے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی فہرست میاں نواز شریف کے سامنے رکھی۔
اجلاس کے دوران امیداوروں کے بیک گراؤنڈ اور وننگ کینیڈیت پر غور کیا گیا، اس دوران رانا ثناء اللہ اور مریم اورنگزیب نے پنجاب میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر آگاہ کیا۔
اجلاس میں نواز شریف اور مریم نواز کی ناموں کی منظوری کے بعد پارٹی کو گو ہیڈ دیا جائے گا، پنجاب میں انتخابی مہم کی قیادت مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز شریف کریں گے۔
ہیتھرو ایئرپورٹ؛ یورینیم کی تصدیق کے بعد انسداد دہشت گردی پولیس کی تحقیقات
ہیتھرو ایئرپورٹ؛ بیگ میں یورینیم کی تصدیق کے بعد کاؤنٹر ٹیرر پولیس کی تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے ملنے والے مشکوک بیگ میں یورینیم کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ بارڈر فورسز کی جانب سے تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ ایئرپورٹ سے یورینیم سے بھرا بیگ 29 دسمبر2022 کو پکڑا گیا تھا جس سے متعلق پولیس کا کہنا تھا کہ یورینیم سے عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق ہیتھرو میں بارڈر فورس کے افسران کی جانب سے یورینیم سے آلودہ مواد قبضے میں لینے کے بعد انسداد دہشت گردی کی پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔
Full support to the police and Border Force in their ongoing investigations in this serious case – shows the immensely important work they & intelligence services do on security & keeping country safehttps://t.co/8oNksurL2Q
انہوں نے کہا کہ یہ ہماری بندرگاہوں اور سرحدوں کی نگرانی کرنے کے لیے ہمارے اور ہمارے شراکت داروں کے پاس موجود بہترین صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے تاکہ عوام کو ان کی حفاظت اور سلامتی کو لاحق کسی بھی ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے جو برطانیہ میں آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہم مزید چھان بین بھی کررہے ہیں اور جیسے کوئی نئی پیش رفت ہوگی ہم بتادیں گے لیکن عوام اور مسافروں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے.
لندن:برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ایک لڑکی کی لاش اس کے گھر سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق اس لڑکی کو نئے سال کی چھٹیوں کے موقع پر قتل کیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق پولیس حکام نے بتایا ہے کہ پڑوسیوں نے اس واقعے کی رپورٹ دی تھی ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ برطانیہ میں خواتین اور لڑکیوں کا قتل ایک سنجیدہ سماجی مسئلے میں تبدیل ہوچکا ہے جس کی جانب سے گھرانوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
صنف نسواں کی حمایت کی عوامی تحریکوں کے باوجود حکومت، عدالتی نظام اور پولیس کی بے عملی اور لاپرواہی کے نتیجے میں خواتین سے بدسلوکی یا انہیں قتل کرنے کے واقعات کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، گذشتہ اٹھائیس ہفتے کے دوران برطانیہ کے مختلف علاقوں میں اسّی سے زائد خواتین کا قتل ہوچکا ہے۔
باضابطہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران برطانیہ میں سات سو افراد کا قتل ہوا جس میں خواتین اور لڑکیوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ نہ صرف خواتین کو ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد سے خطرہ لاحق ہے بلکہ خود برطانوی پولیس بھی صنف نسواں کے لئے سنجیدہ خطرہ بن گئی ہے۔ اس کا ایک واضح نمونہ ایک پولیس اہلکار کے ہاتھوں سارا ایوارڈ کے قتل کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اداکار اففان وحید کانام آج کل اداکارہ سدرہ نیازی کے ساتھ جڑ رہا ہے کہا جا رہا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو ڈیٹ کررہے ہیں. دونوں کی لندن میں ایک ملاقات کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر سرکولیٹ ہو رہی ہیں جس کے بعد کہا جا رہا ہے کہ شاید دونوں کے درمیان دوستی سے بڑھ کر تعلق ہے. اففان وحید کو اب وضاحت دینا پڑ گئی ہے ان کا کہنا ہے کہ میں اکثر لندن اپنے بھتیجے کو ملنے جاتا ہوں اور اتفاق ایسا ہوا ہے کہ جب میں گیا تو سدرہ بھی انہی دنوں میں لندن میں موجود تھیں ، لہذا ہماری ملاقات ہوگئی . ہماری ایکساتھ تصاویر بس ایسی ہی ملاقاتوںکی ہیں جن
میں ہم دونوں وہاں موجود تھے اور ہمیں ایک دوسرے کی موجودگی کا پہلے سےعلم نہ تھا وہ تو رابطہ ہوا تو پتہ چلا کہ دونوں یہیںموجود ہیں. اففان وحید نے کہا کہ سدرہ نیازی میری فیملی فرینڈ ہے اس سے زیادہ ہمارے درمیان کچھ بھی نہیںہے، تصاویر دیکھ کر کسی کا کسی کے ساتھ نام جوڑ دینا مناسب نہیں ہے. ہم صرف اچھے دوست ہیں. یاد رہے کہ اففان وحید گزشتہ دنوں لاہور میں ہونے والے برائیڈل کٹیور ویک میں شوسٹاپر بھی بنے.اففان کم مگر معیاری کام کو ترجیح دیتے ہیں.
لاہور:سید تسنیم حیدرشاہ سے ہمارا کوئی خاندانی تعلق نہیں:مشیروزیراعلیٰ پنجاب کے بھتیجے کی لندن میں پریس کانفرنس ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کے مشیر عدیل شاہ کے بھتیجے سید شجاع عباس نے لندن میں پریس کانفرنس کی ہے اور سید تسنیم حیدر شاہ کے دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے
۰اطلاعات کے مطابق چند دن قبل لندن میں مبینہ طور پر اپنے آپ کو لندن ن لیگ کے ترجمان کے طور پر متعارف کروانے والے اور ارشد شریف کے قتل اور عمران خان پر وزیرآباد میں حملے کے ماسٹر مائنڈ نوازشریف کوقراردینے والے سید تسنیم حیدر شاہ کے بارے میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں،
اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ مشیروزیراعلیٰ پنجاب عدیل شاہ کے بھتیجے سید شجاع عباس نے لندن میں پریس کانفرنس کی ہے ، جس میں انہوں نے تسنیم حیدر شاہ کی طرف سے قریبی رشتہ داری کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ سادات ضرور ہیں لیکن ان کے ساتھ ہمارا کوئی خونی تعلق نہیں ہے ،
لندن میں پریس کانفرنس کے دوران جب عدیل شاہ کے بھتیجے سید شجاع عباس نے اپنے چچا سے فون پر جب یہ بات کہ سید تسنیم حیدرشاہ کہتے ہیں کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوسید عدیل شاہ کو مشیر وزیراعلی پنجاب بنانے کی درخواست کی تھی تو سید عدیل شاہ نے یہ دعویٰ مسترد کردیا اورکہا کہ ہماری اپنی سیاسی حیثیت اور قوت ہے ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں
ایسے ہی سید تسنیم حیدرشاہ کے دوسرے دعوے کی نفی کرتے ہوئے عدیل شاہ کے بھتیجے سید شجاع عباس نے کہا ہے کہ سید تسنیم حیدرشاہ سینیئر صحافی مبشرلقمان کے پروگرام میں یہ کہنا ہے کہ سید عدیل شاہ کو مشیروزیراعلیٰپنجاب میری درخواست پر لگایا گیا ہے تو اس کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی غلط ہے ، اس کی اپنی کوئی سیاسی بیک گراونڈ نہیں ہے ، وہ ہمارے کے لیے کیا کرسکتا ہے ، جبکہ میرے داداسید طالب حسین شاہ ہماری ابائی یونین کونسل معین الدین پورسیداں کے بلامقابلہ 20 سال سے زائد عرصہ چیئرمین رہے ،اب میرے والد سید عقیل شاہ اس کونسل کے چیئرمین ہیں
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ مدینہ پور سیداں سے ہیں اور ہم معین الدین پورسے ہیں ، جو یہ دعویٰ کہ پرویز الہی نے ان کے کہنے پر بنایا اس وجہ سے بھی بے بنیاد ہے کیونکہ ہمارا خاندان اس علاقے سے پچھلے 30 ، 35 سال سے سیاست میں ہے ، ہماری اپنی سیاسی حیثیت ہے ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک طرف سید تسنیم حیدر شاہ کاکہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے میرے اوپر قتل کے پرچے کروائے ہیں اور دوسری طرف یہ کہنا ہےکہ اس کی سفارش پر میرے چچا کو مشیربنادیا گیا ، یہ ایک غیرمعقول دعوی ہے ،
صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سید شجاع عباس کا کہنا تھا کہ تسنیم حیدر شاہ فیس بک پر تو بڑے مشہور ہیں ، اس کے علاوہ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ، وہ اپنے آپ کو کسی انجمن سادات کے رکن اور ممبر کہتے ہیں ، سادات جو بھی ہیں ان کا ایک دوسرے سے اس نسبت سے تعلق تو ضرور ہے مگرمیرا اس سے کوئی تعلق نہیں
یاد رہے کہ لندن میں سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف پر عمران خان پر وزیر آباد میں ہونیوالے حملے اور کینیا میں ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے الزام عائد کرنے والے سید تسنیم حیدر شاہ کے حوالے سے اہم حقائق سامنے آئے ہیں ۔سید تسنیم حیدر شاہ جو کہ چھیمے شاہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، امریکہ بھی چار سال سے زائد عرصہ تک رہے جس کے بعد پاکستان اور پھر لندن منتقل ہو گئے
سید تسنیم حیدر شاہ عرف چھیمے شاہ کا تعلق مدینہ سیداں ، گجرات سے ہے ۔ ان کے والد کا نام سید اکرم شاہ تھا جو کہ خاندانی دشمنی میں قتل ہوئے تھے ۔ان کے والد اسلامیہ سکول گجرات کے ہیڈماسٹر تھے ۔ ان کے چچا سید اعظم شاہ ایڈوکیٹ ہائی کورٹ بھی گجرات کچہری میں قتل ہوئے تھے ۔سید تسیم حیدر شاہ کے خاندان کے اہم ارکان پر بھی قتل کے الزامات ہیں۔