Baaghi TV

Tag: لندن

  • سدرہ نیازی فیملی فرینڈ ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں اففان وحید

    سدرہ نیازی فیملی فرینڈ ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں اففان وحید

    اداکار اففان وحید کانام آج کل اداکارہ سدرہ نیازی کے ساتھ جڑ رہا ہے کہا جا رہا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو ڈیٹ کررہے ہیں. دونوں کی لندن میں‌ ایک ملاقات کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر سرکولیٹ ہو رہی ہیں جس کے بعد کہا جا رہا ہے کہ شاید دونوں کے درمیان دوستی سے بڑھ کر تعلق ہے. اففان وحید کو اب وضاحت دینا پڑ گئی ہے ان کا کہنا ہے کہ میں اکثر لندن اپنے بھتیجے کو ملنے جاتا ہوں اور اتفاق ایسا ہوا ہے کہ جب میں گیا تو سدرہ بھی انہی دنوں میں لندن میں موجود تھیں ، لہذا ہماری ملاقات ہوگئی . ہماری ایکساتھ تصاویر بس ایسی ہی ملاقاتوں‌کی ہیں جن

    میں ہم دونوں وہاں موجود تھے اور ہمیں ایک دوسرے کی موجودگی کا پہلے سےعلم نہ تھا وہ تو رابطہ ہوا تو پتہ چلا کہ دونوں یہیں‌موجود ہیں. اففان وحید نے کہا کہ سدرہ نیازی میری فیملی فرینڈ ہے اس سے زیادہ ہمارے درمیان کچھ بھی نہیں‌ہے، تصاویر دیکھ کر کسی کا کسی کے ساتھ نام جوڑ دینا مناسب نہیں ہے. ہم صرف اچھے دوست ہیں. یاد رہے کہ اففان وحید گزشتہ دنوں لاہور میں ہونے والے برائیڈل کٹیور ویک میں شوسٹاپر بھی بنے.اففان کم مگر معیاری کام کو ترجیح دیتے ہیں.

  • تسنیم حیدر نے مبشر لقمان کے پروگرام میں جھوٹ بولا، مشیر وزیراعلی پنجاب سچ سامنے لے آئے

    تسنیم حیدر نے مبشر لقمان کے پروگرام میں جھوٹ بولا، مشیر وزیراعلی پنجاب سچ سامنے لے آئے

    لاہور:سید تسنیم حیدرشاہ سے ہمارا کوئی خاندانی تعلق نہیں:مشیروزیراعلیٰ‌ پنجاب کے بھتیجے کی لندن میں‌ پریس کانفرنس ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کے مشیر عدیل شاہ کے بھتیجے سید شجاع عباس نے لندن میں پریس کانفرنس کی ہے اور سید تسنیم حیدر شاہ کے دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے

     

    ۰اطلاعات کے مطابق چند دن قبل لندن میں مبینہ طور پر اپنے آپ کو لندن ن لیگ کے ترجمان کے طور پر متعارف کروانے والے اور ارشد شریف کے قتل اور عمران خان پر وزیرآباد میں حملے کے ماسٹر مائنڈ نوازشریف کوقراردینے والے سید تسنیم حیدر شاہ کے بارے میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں،

     

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ مشیروزیراعلیٰ پنجاب عدیل شاہ کے بھتیجے سید شجاع عباس نے لندن میں پریس کانفرنس کی ہے ، جس میں انہوں نے تسنیم حیدر شاہ کی طرف سے قریبی رشتہ داری کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ سادات ضرور ہیں لیکن ان کے ساتھ ہمارا کوئی خونی تعلق نہیں ہے ،

    لندن میں پریس کانفرنس کے دوران جب عدیل شاہ کے بھتیجے سید شجاع عباس نے اپنے چچا سے فون پر جب یہ بات کہ سید تسنیم حیدرشاہ کہتے ہیں کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوسید عدیل شاہ کو مشیر وزیراعلی پنجاب بنانے کی درخواست کی تھی تو سید عدیل شاہ نے یہ دعویٰ‌ مسترد کردیا اورکہا کہ ہماری اپنی سیاسی حیثیت اور قوت ہے ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں

     

    ایسے ہی سید تسنیم حیدرشاہ کے دوسرے دعوے کی نفی کرتے ہوئے عدیل شاہ کے بھتیجے سید شجاع عباس نے کہا ہے کہ سید تسنیم حیدرشاہ سینیئر صحافی مبشرلقمان کے پروگرام میں یہ کہنا ہے کہ سید عدیل شاہ کو مشیروزیراعلیٰ‌پنجاب میری درخواست پر لگایا گیا ہے تو اس کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی غلط ہے ، اس کی اپنی کوئی سیاسی بیک گراونڈ نہیں ہے ، وہ ہمارے کے لیے کیا کرسکتا ہے ، جبکہ میرے داداسید طالب حسین شاہ ہماری ابائی یونین کونسل معین الدین پورسیداں کے بلامقابلہ 20 سال سے زائد عرصہ چیئرمین رہے ،اب میرے والد سید عقیل شاہ اس کونسل کے چیئرمین ہیں‌

     

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ مدینہ پور سیداں سے ہیں اور ہم معین الدین پورسے ہیں ، جو یہ دعویٰ کہ پرویز الہی نے ان کے کہنے پر بنایا اس وجہ سے بھی بے بنیاد ہے کیونکہ ہمارا خاندان اس علاقے سے پچھلے 30 ، 35 سال سے سیاست میں ہے ، ہماری اپنی سیاسی حیثیت ہے ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک طرف سید تسنیم حیدر شاہ کاکہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے میرے اوپر قتل کے پرچے کروائے ہیں اور دوسری طرف یہ کہنا ہےکہ اس کی سفارش پر میرے چچا کو مشیربنادیا گیا ، یہ ایک غیرمعقول دعوی ہے ،

     

    صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سید شجاع عباس کا کہنا تھا کہ تسنیم حیدر شاہ فیس بک پر تو بڑے مشہور ہیں ، اس کے علاوہ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ، وہ اپنے آپ کو کسی انجمن سادات کے رکن اور ممبر کہتے ہیں ، سادات جو بھی ہیں ان کا ایک دوسرے سے اس نسبت سے تعلق تو ضرور ہے مگرمیرا اس سے کوئی تعلق نہیں

     

    یاد رہے کہ لندن میں سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف پر عمران خان پر وزیر آباد میں ہونیوالے حملے اور کینیا میں ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے الزام عائد کرنے والے سید تسنیم حیدر شاہ کے حوالے سے اہم حقائق سامنے آئے ہیں ۔سید تسنیم حیدر شاہ جو کہ چھیمے شاہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، امریکہ بھی چار سال سے زائد عرصہ تک رہے جس کے بعد پاکستان اور پھر لندن منتقل ہو گئے

     

    سید تسنیم حیدر شاہ عرف چھیمے شاہ کا تعلق مدینہ سیداں ، گجرات سے ہے ۔ ان کے والد کا نام سید اکرم شاہ تھا جو کہ خاندانی دشمنی میں قتل ہوئے تھے ۔ان کے والد اسلامیہ سکول گجرات کے ہیڈماسٹر تھے ۔ ان کے چچا سید اعظم شاہ ایڈوکیٹ ہائی کورٹ بھی گجرات کچہری میں قتل ہوئے تھے ۔سید تسیم حیدر شاہ کے خاندان کے اہم ارکان پر بھی قتل کے الزامات ہیں۔

  • نواز شریف اٹلی کے شہر میلان کے ریسٹورینٹ میں، تصویر وائرل

    نواز شریف اٹلی کے شہر میلان کے ریسٹورینٹ میں، تصویر وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی اٹلی کے شہر میلان سے تصویر سامنے آئی ہے

    سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کے لئے پاکستان سے لندن گئے تھے مگر تاحال واپس نہیں آئے، اب نواز شریف لندن سے یورپی ممالک کے دورے پر گئے ہیں، نواز شریف اسوقت اٹلی کے شہر میلان میں موجود ہیں، میلان کے ایک ریسٹورینٹ سے نواز شریف کی تصویر سامنے آئی ہے، حسین نواز بھی نواز شریف کے ہمراہ موجود ہیں، اطلاعات کے مطابق مریم نواز بھی نواز شریف کے ہمراہ گئی ہیں تا ہم تصویر میں وہ دکھائی نہیں دے رہیں،

    نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان ماضی میں میاں نواز شریف کی صحت بارے مسلسل آگاہ کرتے اب ان کے ٹوئٹر پر شاعری،احادیث یا کورونا وائرس بارے معلومات ہی ملتی ہیں،میاں نواز شریف کی صحت بارے پارٹی رہنما ،کارکنان تمام ذرائع خاموش ہیں. نواز شریف جلسوں سے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے رہے ہیں اور ساتھ ریسٹورینٹ میں بھی نظر آتے ہیں لیکن ہسپتال میں گئے ایک دن بھی نظر نہیں آئے، نواز شریف سے انکے بھائی شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں، نواز شریف اجلاسوں کی صدارت بھی کرتے رہے ہیں جبکہ لندن میں انکا گھر سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کا مرکز بنا ہوا ہے، پی ٹی آئی کارکنان آئے روز نواز شریف کے گھر کے باہر احتجاج کرتے ہیں،

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر جلسوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

  • ٌدورہ پاکستان:انگلینڈ کےآل راؤنڈر لیام لیونگ اسٹون نےکیلئےبگ بیش لیگ چھوڑ دی

    ٌدورہ پاکستان:انگلینڈ کےآل راؤنڈر لیام لیونگ اسٹون نےکیلئےبگ بیش لیگ چھوڑ دی

    لندن:انگلینڈ کے آل راؤنڈر لیام لیونگ اسٹون دورہ پاکستان کے لئے بگ بیش لیگ سے دستبردار ہوگئے۔اطلاعات کے مطابق انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم آئندہ ماہ پاکستان کے خلاف 3 ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کے لئے چند روز میں اسلام آباد پہنچ رہی ہے۔

    پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لئے انگلینڈ کے آل راؤنڈر لیام لیونگسٹن آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ سے دستبردار ہوگئے ہیں۔بگ بیش لیگ کی فرنچائز میلبرن رینیگیڈز نے لیام لیونگسٹن کو اوورسیز ڈرافٹ میں منتخب کیا تھا۔میلبرن رینیگیڈز نے بھی راؤنڈر لیام لیونگسٹن کی دستبرداری کی تصدیق کردی ہے۔

    بگ بیش فرنچائز میلبرن رینیگیڈز نے کہا ہے کہ لیام لیونگ اسٹون کی بین الاقوامی مصروفیات بڑھ گئی ہیں، لیام لیونگ اسٹون دسمبر میں اپنی قومی ٹیم کے ٹیسٹ اسکواڈ کے ساتھ مصروف ہیں۔

    میلبرن رینیگیڈز نے مزید کہا کہ ہمیں لیام لیونگ اسٹون کی عدم دستیابی پر مایوسی ہے لیکن ہم فیصلے کو سمجھنے ہیں، ویسٹ انڈیز کے آندرے رسل کے ساتھ پہلے چار میچز کا معاہدہ کیا گیا ہے۔

    ادھر دوسری طرف نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے قومی ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کی تعریف کردی۔

    کرک انفو کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کو قومی ٹیم کے نوجوان پیسر شاہین شاہ آفریدی اور آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک کے یارکر میں سے کسی ایک پلئیر کو منتخب کرنے کا سوال کیا؟ جس پر کیوی کپتان نے شاہین کا نام لیا،انہوں نے کہا کہ کین دونوں گیند بازوں کے یارکرز بالکل ایک جیسے ہیں۔

    واضح رہے کہ شاہین شاہ آفریدی اور مچل اسٹارک اپنی تیز اور سوئنگ بالنگ کی وجہ سے کرکٹ کی دنیا میں کافی مشہور ہیں۔دوسری جانب قومی فاسٹ بولر شاہین آفریدی ٹی20 ورلڈکپ میں انگلینڈ کے خلاف فائنل میں انجری کا شکار ہوئے تھے، تاہم اب انکی صحت میں بہتری آرہی ہے۔

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر جلسوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

  • وزیراعظم شہباز شریف کی لندن سے پاکستان روانگی موخر

    وزیراعظم شہباز شریف کی لندن سے پاکستان روانگی موخر

    وزیراعظم شہباز شریف کی لندن سے پاکستان روانگی موخر ہوگئی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی طبیعت خرابی کی وجہ سے لندن سے پاکستان روانگی تاخیر کا شکار ہوئی، اب وزیراعظم شہباز شریف کل پاکستان روانہ ہوں گے، وزیراعظم گزشتہ روز پاکستان روانگی کے لئے بڑے بھائی نواز شریف سمیت سب کو الوداع کر کے نکل چکے تھے کہ انکی طبیعت خراب ہو گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بخار محسوس ہوا جس کے بعد انہوں نے پاکستان روانگی کا پروگرام موخر کر دیا، اب وزیراعظم شہباز شریف کل پاکستان واپسی کے لئے سفر کریں گے

    ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے لندن میں مزید ایک روز قیام بڑھا دیا۔ وزیر اعظم نے رات لندن سے لاہور کیلئے روانہ ہونا تھا ،وزیراعظم نے نجی پرواز کے ذریعے ہیتھرو ائرپورٹ سے روانہ ہونا تھا۔ تاہم اب وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی کل متوقع ہے-

    جتھوں کی بات پہلے مانی ہے نہ اب مانیں گے. نواز شریف

    وزیراعظم شہبازشریف نے لندن میں نوازشریف سے تین دن میں چار ملاقاتیں کیں۔ ملکی صورتحال پر صلاح مشورے کیے گئے۔پاکستان میں اتحادی سیاسی جماعتوں سے بھی رابطے ہوئے۔ شریف برادران نے حکومت کی مدت پوری کرنے پر اتفاق کرلیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو، حالات اور نتائج کیسے بھی ہوں، وزیراعظم کسی ’’دباؤ‘‘کو قبول نہیں کریں گے۔ نواز شریف نے کہا، جتھوں کی بات نہ پہلے مانی، نہ اب مانیں گے۔ ملک اس وقت مشکل میں ہے، دعا ہے سارے معاملات بہتر ہو جائیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی آئینی معاملہ ہے، قانون کے مطابق ہوگی۔

    نروس نہیں ہیں، ہمارا کام محنت کرنا ہے نتیجہ اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے،بابر اعظم


    وزیر دفاع خواجہ آصف جو لندن میں موجود ہیں انکا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نہ صرف میرے قائد اور میرے بڑے بھائی ہیں بلکہ وہ شخص ہیں جو زندگی بھر میرے لیے طاقت کا ستون رہے ہیں۔ ان کا پیار اور محبت میرے لیے اعتماد اور تحریک کا باعث ہے۔

    وزیر دفاع نے کہا تھا کہ 2013 اور2018 کی تعیناتیوں کی سمری بھی 18 تاریخ کے بعد بھجوائی گئی تھی، اگر سمری 18 نومبر کے بعد آتی ہے تو پرانی روایت برقراررہے گی

    پہلے پاکستانی نے 8 ڈالرز ماہانہ کے عوض ٹوئٹرکا بلیو ٹک حاصل کر لیا

  • برطانیہ "ہیکنگ کا عالمی مرکز”،بھارتی ہیکرز نے پاکستانی سیاستدانوں اور اعلیٰ حکام کے کمپیوٹرزکو بھی نشانہ بنایا

    برطانیہ "ہیکنگ کا عالمی مرکز”،بھارتی ہیکرز نے پاکستانی سیاستدانوں اور اعلیٰ حکام کے کمپیوٹرزکو بھی نشانہ بنایا

    لندن: بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے پاکستانی سیاستدانوں، سفارتکاروں اور اہلکاروں کے کمپیوٹرز بھی ہیک کرائے۔

    باغی ٹی وی : خبررساں ادارے ” دی نیوز” نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے کہنے پر بھارت میں مقیم کمپیوٹر ہیکنگ گینگ نے پاکستان کے سیاستدانوں،اور سفارت کاروں کے کمپیوٹرز پر قبضہ کر لیا اور ان کی نجی گفتگو کو ریکارڈ کیا،دی بیورو آف انویسٹی گیشن جرنلزم اور غیر ملکی اخبار کو گینگ کے ڈیٹا بیس تک رسائی دی گئی مجرموں نے 10 سے زائد متاثرین کے نجی ای میل اکاوئنٹس کو ہدف بنایا۔

    ٹوئٹر جھوٹ اورجہالت کاپلیٹ فارم بن کررہ گیا ہے:امریکی صدر

    رپورٹ کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی سے کئی سیاسی اہداف پیدا ہوئے ہیں ہیکرز کو 10 جنوری 2022 کواس وقت کے وزیر اعظم عمران خان فواد چوہدری کا ای میل اکاؤنٹ ہیک کرنے کا ہدف دیا گیا تھا،اس وقت فواد چوہدری پاکستان کے وزیر اطلاعات تھے، سابق صدر پرویز مشرف بھی بھارتی ہیکر گروپ کا نشانہ تھے۔

    ہیکنگ ٹیم نے اپنے کمپیوٹرز پر قبضہ کرنے کے لیے مالویئر کا استعمال کیا اور ملک کے سینئر جنرلوں کے ساتھ ساتھ بیجنگ، شنگھائی اور کھٹمنڈو میں اس کے سفارت خانوں کو بھی اسی طرح نشانہ بنایا۔

    لندن شہر سے منسلک پرائیویٹ تفتیش کار بھی ہندوستان میں مقیم کمپیوٹر ہیکنگ گینگ کو برطانوی کاروباری اداروں، سرکاری اہلکاروں اور صحافیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم اور سنڈے ٹائمز کو گینگ کے ڈیٹا بیس تک رسائی دی گئی ہے، جو حملوں کے غیر معمولی پیمانے کو ظاہر کرتی ہے۔

    دی بیورو آف انویسٹی گیٹیوجرنلزم کے مطابق قطر میں رواں ماں ہونے والے ورلڈ کپ کے موقع پر بے ضابطگیاں سامنے لانے والے بھی متاثرین میں شامل ہیں، کچھ ہیکرز کے صارفین برطانیہ میں نجی تحقیقات کار بھی ہیں ،مجرموں نے خود مختار ریاستوں، برطانوی وکلاء تفتیش کاروں سمیت 100 سے زائد متاثرین کے نجی ای میل اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا۔

    ایلون مسک کے کمپنی سنبھالنے کے بعد ایمبر ہرڈ کا ٹوئٹر سےاکاؤنٹ غائب ہو گیا

    بی بی سی کے پولیٹیکل ایڈیٹر کرس ماؤسن کی تعیناتی کے تین ہفتوں بعد گینگ کو انہیں ہدف بنانے کے احکامات ملے، دی بیورو آف انویسٹی گٹیو جرنلزم نے بھارت میں ہونے والے خفیہ لیک دستاویزات کی تحقیقات کیں-

    ہیکرز نے سوئٹزرلینڈ کے صدر اور ان کے نائب کو بورس جانسن اور لز ٹرس سے ملاقات کے بعد نشانہ بنایا، سوئٹزر لینڈ کے صدر نے بورس جانسن اور لزٹرس سے روس پر پابندیوں سے متعلق مذاکرات کیے تھے۔

    فلپ ہیمنڈ، اس وقت کے چانسلر،کو اس وقت ہیک کر لیا گیا تھا جب وہ سیلسبری میں روس کے نووچوک زہر کے اثرات سے نمٹ رہے تھے۔ روسی ریاست کے لیے کام کرنے والی لندن کی ایک قانونی فرم کی خدمات حاصل کرنے والے ایک نجی تفتیش کار نے اس گینگ کو حکم دیا کہ وہ ولادیمیر پیوٹن سے فرار ہونے والے برطانوی نژاد تاجر کو نشانہ بنائے۔

    یورپی فٹ بال کے سابق سربراہ مشیل پلاٹینی کو 2022 ورلڈ کپ سے متعلق بدعنوانی کے الزامات کے بارے میں فرانسیسی پولیس سے بات کرنے سے کچھ دیر پہلے ہیک کر لیا گیا تھا۔

    ہیکرز نے فارمولا ون موٹر ریسنگ باسز روتھ بسکومبے، جو الفا رومیو ٹیم میں ریس کی حکمت عملی کی برطانوی سربراہ ہیں، اور آسٹن مارٹن ٹیم کے چیف ایگزیکٹیو اوٹمار زافناؤر کے ای میل ان باکسز کو توڑا۔

    قطر میں بھارتی بحریہ کے 8 ریٹائرڈ افسران کی پُراسرار گرفتاری

    ہیکنگ کا کمیشن کرنا ایک مجرمانہ جرم ہے جس کی سزا برطانیہ میں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس کو قطر کے حوالے سے الزامات کے بارے میں پچھلے سال اکتوبر میں اطلاع دی گئی تھی لیکن اس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

    سابق کابینہ کے وزیر ڈیوڈ ڈیوس نے کہا کہ فورس کو برطانوی شہریوں کے خلاف ممکنہ مجرمانہ سائبر حملوں کی تحقیقات دوبارہ شروع کرنی چاہئیں۔

    ڈیوس نے کہا کہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ کس طرح لندن "ہیکنگ کا عالمی مرکز” بن گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "یہ مجرمانہ ہیکنگ کے نیٹ ورک کی ایک سنگین تصویر پینٹ کرتا ہے جو یہاں برطانیہ اور پوری دنیا میں انصاف اور رازداری کو خطرہ بناتا ہے۔”

    ہیکنگ گینگ، جو وائٹ انٹ کے نام سے کام کرتا ہے، ہندوستانی ٹیک سٹی گروگرام کے مضافاتی علاقے میں چوتھی منزل کے اپارٹمنٹ سے چلایا جاتا ہے۔ اس کا ماسٹر مائنڈ 31 سالہ آدتیہ جین ہے – جو کبھی کبھار ٹی وی سائبر سیکیورٹی کا سربراہ ہے جو برطانوی اکاؤنٹنسی فرم ڈیلوئٹ کے بھارتی دفتر میں بھی کام کرتا ہے-

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف توشہ خانے سے تحائف غائب کرنے کی تحقیقات شروع

    سات سالوں سے، جین کمپیوٹر ہیکرز کا ایک نیٹ ورک چلا رہا ہے جنہیں برطانوی نجی جاسوسوں نے "فشنگ” تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اہداف کے ای میل ان باکسز کو چرانے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ بعض اوقات اس کی ٹیم بدنیتی پر مبنی سافٹ ویئر تعینات کرتی ہے جو کمپیوٹر کیمروں اور مائیکروفون کو اپنے کنٹرول میں لے لیتی ہے اور انہیں اپنے متاثرین کو دیکھنے اور سننے کی اجازت دیتی ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں ہیکنگ جرم ہے تاہم بھارتی گینگز کے خلاف اب تک کارروائی نہیں کی گئی-

  • برطانیہ امیگریشن دفتر پرنامعلوم شخص کا بم حملہ ،ملزم نے خودکشی کر لی

    برطانیہ امیگریشن دفتر پرنامعلوم شخص کا بم حملہ ،ملزم نے خودکشی کر لی

    لندن: جنوبی برطانیہ کی بندرگاہ پر بنے تارکین وطن کی امیگریشن کے دفتر پر نامعلوم شخص نے تین بم پھینک کر خود کو بھی دھماکے سے اُڑالیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کےمطابق اتوار کے روز جنوبی برطانیہ کے چینل پورٹ ٹاؤن ڈوور میں تارکین وطن کےلیےبنائے گئے پروسیسنگ سینٹر میں تین بم پھینکے گئے جس میں ایک شخص زخمی ہوگیا اور دفتر کو شدید نقصان پہنچا۔

    دس سال سزا پانے والے للا دی سلوا دوبارہ برازیل کے صدر منتخب

    بعد ازاں حملہ آور نے خود کو ہلاک کر لیا اس شخص نے تین پٹرول بم پھینکے تاہم ان میں سے ایک پھٹنے میں ناکام رہا۔

    ایک عینی شاہد نے کہااس شخص نے سفید Saeat گاڑی کو کینٹ میں ٹگ ہیون پروسیسنگ کی سہولت تک پہنچایا۔ اس نے باہر نکل کر تین پٹرول بم پھینکے، جن میں سے ایک نہیں چلا۔

    کینٹ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا تعاقب کیا گیا تاہم اس نے خود بارودی مواد سے اُڑا کر خودکشی کرلی۔ حملہ آور کی شناخت کا عمل جاری ہے جو شکل سے تارکین وطن لگتا ہے۔

    دفتر میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا یہ دفتر چھوٹی کشتیوں میں چینل کراس کرنے والے تارکین وطن کا ریکارڈ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاحال واقعے کے محرک کا پتہ نہیں چل سکا۔

    پولیس حملے کے چند منٹوں میں پہنچی اور اتوار کی صبح 11:22 بجے ڈوور میں علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ اس شخص کی ذہنی صحت کے مسائل کی تاریخ تھی۔

    بعد میں، پولیس نے تصدیق کی کہ مشتبہ شخص کی شناخت ہوگئی ہے اور وہ قریبی پولیس اسٹیشن میں واقع ہےجہاں اس کی موت کی تصدیق کی گئی۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایکسپلوسیو آرڈیننس ڈسپوزل یونٹ جائے وقوعہ پرپہنچی اور ایک اور ڈیوائس کا پتہ لگایا، جس کی "مشتبہ گاڑی کے اندر محفوظ ہونے کی تصدیق کی گئی-

    عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو دنیا پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے. اقوام متحدہ

  • برطانیہ:ہرپانچ میں سے ایک برطانوی لڑکی ، نوجوان خاتون غیرمحفوظ

    برطانیہ:ہرپانچ میں سے ایک برطانوی لڑکی ، نوجوان خاتون غیرمحفوظ

    لندن:ہرپانچ میں سے ایک برطانوی لڑکی ، نوجوان خاتون غیرمحفوظ ،برطانیہ میں خواتین خصوصا نوجوان لڑکیوں کی عزتیں اور زندگیاں کس قدر غیرمحفوظ ہیں اس بات کا اندازہ ایک معروف برطانوی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے، اس حوالے سے گرل گائیڈنگ چیریٹی کے ایک سروے کے مطابق، جو رویوں میں "سخت” علاقائی فرق کے بارے میں فکر مند ہے، انگلینڈ کے شمال میں لڑکیاں اور نوجوان خواتین لندن اور جنوبی میں اپنے ہم منصبوں کے مقابلے میں کم محفوظ اور کم خوش محسوس کرتی ہیں۔

    منگل کو شائع ہونے والے سروے میں حصہ لینے والی 11-16 سال کی شمالی علاقوں میں پانچ میں سے ایک سے زیادہ (22%) لڑکیوں اور نوجوان خواتین نے انہیں اسکول میں روکے رکھنے کے لیے جنسی ہراسانی کے خوف کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ لندن اور جنوبی علاقوں میں یہ تعداد نمایاں طور پر 16 فیصد کم تھی۔

    اسی طرح، شمال میں ایک چوتھائی سے زیادہ (26٪) نے کہا کہ صنفی دقیانوسی تصور انہیں اسکول میں روک رہا ہے، اس کے مقابلے میں لندن اور جنوب میں یہ شرح 18 فیصد ہے۔ لڑکیوں اور نوجوان خواتین میں یہ مسئلہ خاص طور پر شدید تھا، جس میں پانچ میں سے تقریباً دو (37%) سکول میں صنفی دقیانوسی تصورات کے بارے میں شکایت کر رہے تھے۔

    مجموعی طور پر، سروے میں حصہ لینے والی پانچ میں سے تقریباً ایک (19٪) لڑکیوں اور نوجوان خواتین نے کہا کہ وہ اسکول میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی ہیں، لیکن شمال میں رہنے والوں کو محفوظ محسوس کرنے کا امکان کم ہے لندن اور جنوب میں لڑکیاں اور نوجوان خواتین اپنے سفید فام ہم منصبوں کے مقابلے میں اسکول میں خود کو محفوظ محسوس کرنے کا امکان کم رکھتی ہیں

    چیف ایگزیکٹیو انجیلا سالٹ نے کہا، ’’یہ حیران کن ہے کہ کتنی لڑکیاں اور نوجوان خواتین، جن میں سے کچھ کی عمریں 11 سال تک ہیں، اسکول، سوشل میڈیا یا عوام کے سامنے خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔ ہماری تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں امتیازی سلوک، دقیانوسی تصورات اور جنس پرستی کتنی عام ہے اور حیرت انگیز طور پر یہ خوشی، اعتماد اور کامیابی کی راہ میں کتنی رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا، "ملک بھر میں لڑکیوں کے تجربات میں تفاوت کے ساتھ مل کر، یہ ضروری ہے کہ ہم ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ابھی کام کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہر لڑکی اور نوجوان عورت کو ان کی صلاحیتوں کو پورا کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں، چاہے وہ کہیں بھی رہیں،”

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

  • لندن:فائرنگ کے واقعے میں 2 افراد ہلاک اور1 زخمی

    لندن:فائرنگ کے واقعے میں 2 افراد ہلاک اور1 زخمی

    لندن: برطانیہ کے دارالحکومت میں مسلح شخص فائرنگ کر کے 2 افراد کو قتل اور ایک کو شدید زخمی کرنے کے بعد فرار ہوگیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق لندن کے مشرقی علاقے الفورڈ میں تلخ کلامی کے بعد ملزم نے پستول تان لی اور تین افراد پر فائرنگ کردی جن میں ایک موقع پر دم توڑ گیا جب کہ دوسرے کو اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔

    پتہ نہیں عمران خان نے مجھےکیوں نکالا:سابق گورنرپنجاب چوہدری سرور کی معصومانہ گفتگو

    نامعلوم شخص کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والا شخص انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہے جس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو ایک شخص مردہ جب کہ دو شدید زخمی حالت میں پڑے تھے جن پر معمولی جھگڑے میں ایک شخص نے فائرنگ کی تھی۔ پولیس کو دیکھ کر مسلح ملزم فرار ہوگیا

     

    بھارتی نژاد رشی سوناک نے برطانوی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھال لیا

     

    پولیس کا مزید کہنا ہے کہ انتہائی تشویشناک حالت میں زیر علاج زخمی کے ہوش میں آنے پر بیان لیا جائے گا اور ملزم کا سراغ ملنے کی امید ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز سے بھی کوئی شواہد نہ مل سکے۔

    ماضی میں گیٹ نمبر4 اورعدلیہ کے ذریعے وزرائے اعظم گھر بھیجے گئے، بلاول بھٹو

    ادھربرطانیہ کے پہلے بھارتی نژاد وزیراعظم رشی سنک نے اپنی پیشرو لز ٹرس کی جانب سے کی گئیں غلطیوں کو سدھارنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

    لندن میں وزیراعظم کی حیثیت سے تقرری کے بعد میڈیا سے اپنی پہلی گفتگو کے دوران رشی سونک نے کہا کہ وہ اپنی پیشرو لز ٹرس کو خراج تحسین پیش کرنے چاہتے ہیں، وہ اس ملک میں ترقی کو بہتر بنانا چاہتی تھیں جو ایک عظیم مقصد ہے۔

    رشی سونک نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم لز ٹرس کے دور میں کچھ غلطیاں کی گئی تھیں- یہ غلطیاں برے ارادے یا غلط مقصد کے لئے نہیں کی گئیں۔ ان ہی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کے لئے مجھے اپنی پارٹی کا لیڈر اور عوام کا وزیراعظم منتخب کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل لزٹرس نے رشی سونک کی ہر کامیابی اور اپنے ملک کی بھلائی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ اچھے دن آنے والے ہیں، ہم کم ترقی یافتہ ملک بننے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

  • معاشی استحکام خطرے میں ڈالنے پر برطانوی وزیراعظم لزٹرس نے معافی مانگ لی

    معاشی استحکام خطرے میں ڈالنے پر برطانوی وزیراعظم لزٹرس نے معافی مانگ لی

    لندن:برطانیہ کی وزیراعظم لزٹرس نے معاشی استحکام کو خطرے میں ڈالنے پر معافی مانگ لی، انہیں ٹیکسوں میں بڑے پیمانے پر کمی کے فیصلے کو مجبوراً ختم کرنا پڑا تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے حکومتی بانڈز اور پاؤنڈ ڈمپنگ کے لیے منڈیوں اور عالمی عناصر کو ذمہ دار ٹھہرانے کے کئی ہفتوں بعد لزٹرس نے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کئی برسوں سے جاری جمود کو ختم کرکے معاشی بحالی کے لیے یہ ’بہت دور اور بہت تیزقدم‘ تھا۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    23 ستمبر کو ’منی بجٹ‘ کے بعد مارکیٹ میں افراتفری پھیل گئی تھی، لزٹرس کے وزیر خزانہ جیریمی ہنٹ کی جانب سے وہ منصوبہ ختم کرنے کے باوجود منڈیاں دباؤ کا شکار ہیں جبکہ لزٹرس وزیراعظم بننے کے صرف 6 ہفتے بعد کرسی بچانے کی جدوجہد کررہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ بات واضح نہیں ہے کہ لزٹرس کی معافی کے بعد ان کی جماعت کنزرویٹو پارٹی میں ان کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت ختم ہو جائے گی یا نہیں، متعدد ممبران اسمبلی انہیں عہدہ چھوڑنے کے لیے زور دے رہے ہیں، سیکڑوں لوگوں کو خدشات ہیں کہ وہ اگلے عام انتخابات تک اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

    ان کی ایک وزیر کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی وزیراعظم مزید کوئی غلطی کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتیں، یہ بہت مشکل کام ہے اگر ان کی حکومت زیادہ بچتوں کی طرف جاتی ہے تو متوقع کساد بازاری میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔جبکہ وزیر خزانہ جیریمی ہنٹ پہلے ہی صحت اور دفاع جیسے محکموں کو بجٹ دینے کی گارنٹی کو مسترد کرچکے ہیں۔

    نئے ’یوگوو‘ پول کے مطابق حتیٰ کہ کنزرویٹو پارٹی کے وہ اراکین جنہوں نے لزٹرس کی بطور وزیراعظم حمایت کی تھی، اب وہ بھی مختلف سوچ رہے ہیں۔اس میں بتایا گیا کہ ایسے نصف سے زائد اراکین کہتے ہیں کہ انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے جبکہ ایک تہائی لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی جگہ بورس جانسن کو آنا چاہیے۔

    لزٹرس کا کہنا تھا کہ میں اپنی ذمہ داری کو تسلیم کرتی ہوں، اور جو غلطیاں ہوئی ہیں ان پر معافی مانگتی ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ میں لوگوں کی توانائی کے بلوں اور بُلند ٹیکسوں کے مسئلے میں مدد کرنا چاہتی تھی لیکن ہم بہت دور اور بہت جلدی چلے گئے۔