Baaghi TV

Tag: مریم نواز

  • بہتان، اور کردار کشی کی تمام عمارت زمیں بوس ہو گئی،وزیراعظم

    بہتان، اور کردار کشی کی تمام عمارت زمیں بوس ہو گئی،وزیراعظم

    بہتان، اور کردار کشی کی تمام عمارت زمیں بوس ہو گئی،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے مریم نواز شریف اور کیپٹن(ر) صفدر کی سزائیں کالعدم ہونے پر اظہار تشکر کیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے بری ہونے پر قائد محمد نوازشریف کو مبارک پیش کرتا ہوں امید ہے کہ میرے قائد محمد نوازشریف کے خلاف جج ارشد ملک مرحوم کی گواہی پر انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے مریم نواز شریف اور کیپٹن (ر) صفدر نے بہادری، صبر اور ثابت قدمی سے مشکل ترین حالات کا سامنا کیا آج کے عدالتی فیصلے سے جھوٹ، بہتان، اور کردار کشی کی تمام عمارت زمیں بوس ہو گئی ہے ،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ مریم نواز کا بری ہونا اس سیاسی انتقام کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے جس کے ذریعے شریف خاندان کو نشانہ بنایا گیا عدالت سے بری ہونے پر بیٹی مریم اور صفدر کو مبارک دیتا ہوں،

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    عمران خان کی آڈیو سے ظاہر ہوا وہ ملک سے کھیل رہے ہیں

    مریم نواز کی ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی.ویڈیو کیسی ہے؟ مریم برس پڑیں

    ویڈیو: عدالتی فیصلے کے بعد مریم کی نواز شریف کو کال،کہا ہم سرخرو ہو گئے

    واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس ، مریم نواز ، کیپٹن ر صفدر بری کر دیئے گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے چار سال کے بعد مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلیں منظور کر لیں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کی سزائیں کالعدم قراردے دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ پراسیکیوشن ٹیم کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی

    تحریک انصاف کی حکومت جانے کے بعد ن لیگ کے مسلسل اچھے دن ہی آ رہے ہیں، ن لیگ پر اب کوئی جمعہ جمعرات بھاری نہیں پڑ رہا، شہباز شریف وزیراعظم بن گئے تو اسحاق ڈار بھی لندن سے واپس آ کر وزیر خزانہ بن گئے. مریم نواز کی بھی آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں اپیل منظور کر لی گئی، عدالت نے مریم اور انکے شوہر کیپٹن ر صفدر کی سزا کالعدم قرار دے دی

    مریم نواز نے عدالتی فیصلے کے بعد والد نواز شریف کو فون پر بتایا کہ "ہم سرخرو ہو گئے” مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہماری بے گناہی ثابت ہوگئی اگر نواز شریف میدان میں رہتا عمران خان کی تین زندگیاں ہوتیں تب بھی اس عہدے تک نہ پہنچ پاتا، وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فیصلے کے بعد کہا کہ خدانے بڑی عزت دی،بہت بہت مبارک ہو، مریم نواز کا بری ہونا اس سیاسی انتقام کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے جس کے ذریعے شریف خاندان کو نشانہ بنایا گیا

    نیب نے 8 ستمبر 2017 کو پاناما پیپرز کی جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں نواز شریف، مریم نواز ، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا ،14 ستمبر 2017 کو پہلی سماعت ہوئی۔ 26 ستمبر کو نواز شریف ، 9 اکتوبر 2017 کو مریم نواز پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ 19 اکتوبر 2017 کو نواز شریف کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان کے نمائندے ظافر خان، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر فرد جرم عائد کی گئی 8 نومبر 2017 کو پیشی کے موقع پر نواز شریف پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔ 3 جولائی 2018 کو احتساب عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔ 6 جولائی 2018 کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 11 سال، مریم نواز کو 8 سال اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو 1 سال قید کی سزا سنا ئی تھی

  • مریم نوازکی ویڈیووائرل کرنے کی دھمکی.ویڈیو کیسی ہے؟ مریم نے خود کیا تہلکہ خیز انکشاف

    مریم نوازکی ویڈیووائرل کرنے کی دھمکی.ویڈیو کیسی ہے؟ مریم نے خود کیا تہلکہ خیز انکشاف

    مریم نواز کی ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی.ویڈیو کیسی ہے؟ مریم برس پڑیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے اپنی ویڈیو کے حوالے سے کھل کر بتا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ سے فیصلہ آنے کے بعد مریم نواز نے میڈیا سے بات کی، مریم نواز اس موقع پر کھل کر بولیں، مریم نواز سے انکی ویڈیو کے بارے میں صحافی نے سوال کیا کہ آپکی کوئی ویڈیو جیل میں‌ بنائی گئی تھی، اس حوالہ سے کیا کہیں گی، جس پر مریم نواز نے ویڈیو کے حوالہ سے سب سچ بتا دیا اور کہا کہ میری ویڈیو ریلیز کرنے کی بات کی گئی، میں جیل میں تھی اور رات کو نائٹ سوٹ میں تھی،میرے کمرے میں دھاوا بول کر میری ویڈیو بنائی گئی،15 سے 20 افراد تھے ،ایک کے ہاتھ میں موبائل تھا اوروہ ویڈیو بنا رہا تھا، شرم کی بات ہے، قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں، آپ نے خاتون کی ویڈیو بنائی، کریں ریلیز تاکہ دنیا بھی دیکھے، کریں ویڈیو ریلیز تاکہ دنیا کو پتا چلے انہوں نے مریم نواز کے ساتھ جیل میں کیا کیا،

    صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس سے جو آڈیوز جاری ہوئیں اس میں سے 4میری ہیں، میں نے کہا کہ یہ یہ شو کرتا ہے کہ ہیلتھ کارڈ اس نے شروع کیا، میں نے کہا تھا وزیر اعظم سے کہ آپ اسے اون کریں، صحت کارڈ کی ساری آڈیوز نکال کے دیکھ لیں وہ ساری میرے متعلق ہیں، وہ سب کچھ میرے خلاف ہورہا ہے، یہ پروگرام نواز شریف نے شروع کیا تھا، میں نے دن رات محنت کی تھی، جگہ جگہ میں گئی تھی،

    ویڈیو: عدالتی فیصلے کے بعد مریم کی نواز شریف کو کال،کہا ہم سرخرو ہو گئے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

  • ویڈیو: عدالتی فیصلے کے بعد مریم کی نواز شریف کو کال،کہا ہم سرخرو ہو گئے

    ویڈیو: عدالتی فیصلے کے بعد مریم کی نواز شریف کو کال،کہا ہم سرخرو ہو گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ فیصلے کے بعد خیال آیا اللہ آزمائش کے بعد کامیابی دیتا ہے،اپنے وکلا کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتی ہوں نوازشریف کو بتا دیا کہ ہم سرخرو ہو گئے ہیں،

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ فیصلہ آیا تو سب سے پہلے نوازشریف یاد آئے،نوازشریف کو اللہ نے سرخروکیا میری بات تو بہت بعد میں آتی ہے،فیصلے پر اللہ کاشکر ادا کرتی ہوں ،آج انصاف ہوگیا ،ہماری بے گناہی ثابت ہوگئی ،نوازشریف میرے والد اور لیڈر ہیں،نواز شریف صاحب اور ان کے رفقا نے انہیں کہا تھا کہ یہ کوئی لیگل مقدمہ نہیں، قانون کی بات نہیں، اس میں نہ پیش ہوں، جو امیونٹی ملتی ہے وہ لے لیں، مقصد آپ کو سزا دینا ہے، آپ کے حقائق نہیں سنیں گے، انہوں نے کہا میں، میری بیٹی میرا خاندان اس کو فیس کریں گے،جس نے نواز شریف کے خلاف جھوٹ بولا، آج اس شخص کا چہرہ دیکھنا چاہتی ہوں، اب اللہ تعالی نے سرخرو کیا، اس پر تفصیلی پریس کانفرنس ایک دو دنوں میں کروں گی،

    مریم نواز نے بریت کے بعد اپنے والد میاں نواز شریف سے بات کی،نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں بریت پر اپنی بیٹی مریم نواز کو مبارکباد دی، مریم نواز کا کہنا تھا کہ اللہ کا بڑا شکر ہے،اللہ نے ہمیں سرخرو کر دیا ہے

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ اسے ضرور پوچھنا چاہتی ہوں، اللہ نے تمہیں جھوٹا اور ناکام ثابت کیا، ڈار صاحب جس پرائم منسٹر کے جہاز پر گئے تھے اسی میں واپس آئے، آج پھر وہ وزیر خزانہ ہیں، اسی پارلیمنٹ میں حلف لیا، عمران خان کو جواب دینا ہوگا کہ بہتان کیوں باندھے، جھوٹ کیوں بولا، جواب دو یا نہ دو تاریخ تم سے جواب لے گی نواز شریف صاحب کو ہٹا کر جو آج سازشی ہے وہ بھی کہیں دور بیٹھا ہے، اسے سب پتا تھا، اس کی پلیننگ سے نواز شریف کو ہٹایا گیا، وہ بیساکھیوں پر آیا، اگر نواز شریف میدان میں رہتا عمران خان کی تین زندگیاں ہوتیں تب بھی اس عہدے تک نہ پہنچ پاتا،جھوٹا تو وہ ثابت ہوا، میرے لیے شاکنگ نہیں، تشویش کی بات میرے لیے بطور پاکستانی ٹویٹ میں کہا تھا، سازشی ذہن کا انسان جو ڈالرز لے کر فتنہ پھیلاتا رہا، جسے یہ بھی نہیں پتا ملک کی سلامتی کے ساتھ کھیلنا کتنا سنگین جرم ہے،جب اسے عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نظر آنے لگی تو سازش کا ڈرامہ رچایا،عمران خان کی آڈیو سے ظاہر ہوا وہ ملک سے کھیل رہے ہیں وہ قذافی سٹیڈیم اور اوول سٹیڈیم سے باہر ہی نہیں نکلے عمران خان کہتے ہیں امریکہ کا نام نہیں لینا صرف کھیلنا ہے عمران خان نے ملک میں تقسیم پیدا کی اور انتشار کی سیاست کررہے ہیں عمران خان 3 زندگیاں بھی لے آئیں تو بھی نواز شریف نہیں بن سکتے ،عمران خان پانامہ کی سازش سے اقتدار میں آئے تھے، ملک کو ڈی سٹیبلائز کیا، کہہ رہا ہے ڈیل کی بات ہورہی تھی، شوکت ترین کہہ رہے تھے، خط لکھ دو تاکہ پاکستان کو پیسے نہ ملیں، پہلے ملک کو گروی رکھ دیا، پھر کہہ رہے ہیں کہ خط لکھ دو کہ پیسے نہ ملیں، پاکستان اگر وہ پیسے نہ ملتے تو ڈیفالٹ کر جاتا،انہیں حلف پڑھنا نہیں آیا، اسے وائلیٹ کیا، عہدے پر بیٹھ کر سازش کی، جعل سازی کی بنا پر سازش کی،

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا، آپ کا چیف آف سٹاف اے آر وائی پر لکھا خط پڑھتا ہے، ادارے میں تقسیم پیدا کرتا ہے، آپ نے افواج پاکستان، شہدا، سیاست اور سیاسی جماعتوں، پاکستان کی سالمیت پر حملے کیے، شیطانی ذہن کی بنا پر، بیوی کہہ رہی ہے غداری سے ریلیٹ کرو،آج وہ بچے بھی سوچتے ہوں گے جنہیں بتا رہا تھا کہ میرے خلاف سازش ہوگئی، پوری عوام کو گمراہ کرتا رہا، افواج پر تنقید کرتا رہا، مذہب سے کھیلتا رہا، مذہب کا تماشا بناتا رہا، ہمارے قائدین دیکھتے رہے، کچھ نہیں کیا، وہ سب کرتا رہا ہم سب بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہے، یہ ہے کون جو سب کچھ کر کے خاموشی سے نکل جاتا ہے، حکومت نے جے آئی ٹی بنائی ہے،جس طرح پانامہ میں روزانہ کی بنیاد پر جے آئی ٹی بنائی گئی، اس طرح کی ہائی پاور کی جے آئی ٹی بنائی جائے جس کے اندر، آئی ایس آئی، آئی بی، لا منسٹری کے ممبرز ہوں،عمران خان، اعظم خان، شاہ محمود قریشی، سفیر اسد سے پوچھا جائے، مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ مجھے کسی سے معافی منگوانے کی ضرورت ہے، وہ بھول گئے تھے،جب آپ کے پاس طاقت ہوتی ہے وہ اسی طاقت کے نشے میں سب کچھ بھول جاتے ہیں، ججز کی مہربانی انہوں نے انصاف کیا، فیصلہ اللہ کی طرف سے آیا، یاد ہے نواز شریف صاحب نے کہا تھا انگلی اٹھا کر کہا تھا، فیصلہ اللہ پر چھوڑتا ہوں، جس قسم کی چیزیں اور شواہد ان کے خلاف آچکے انہیں بند کرنا چاہیے، انہیں پاکستان کی سالمیت اور معیشت کھیلنے کی اجازت نہین، وہ کسی کا لاڈلہ ہوگا ہمارا بالکل نہیں،

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک میرے داماد کا تعلق ہے، بیٹوں سے بڑھ کر ہے،عمران کی سٹیٹمنٹ بھیجھی کہ مریم نے داماد کےلیے مشینری منگوائی، شرم عمران خان کو آنی چاہیے کہ آدھی مشینری آئی ہوئی تھی، باقی کو روکا گیا، کسی نے اس بات کو اس وقت اٹھایا، انہوں نے اور میں نے بھی قانون کا احترام کیا،وزیراعظم ہاؤس سے جو آڈیوز جاری ہوئیں اس میں سے 4میری ہیں، میں نے کہا کہ یہ یہ شو کرتا ہے کہ ہیلتھ کارڈ اس نے شروع کیا، میں نے کہا تھا وزیر اعظم سے کہ آپ اسے اون کریں، صحت کارڈ کی ساری آڈیوز نکال کے دیکھ لیں وہ ساری میرے متعلق ہیں، وہ سب کچھ میرے خلاف ہورہا ہے، یہ پروگرام نواز شریف نے شروع کیا تھا، میں نے دن رات محنت کی تھی، جگہ جگہ میں گئی تھی،

    مریم نواز نے جیل میں اپنی ویڈیو کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میری ویڈیو ریلیز کرنے کی بات کی گئی، میں جیل میں تھی اور رات کو نائٹ سوٹ میں تھی،میرے کمرے میں دھاوا بول کر میری ویڈیو بنائی گئی، شرم کی بات ہے، قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں، آپ نے خاتون کی ویڈیو بنائی، کریں ریلیز تاکہ دنیا بھی دیکھے، کریں ویڈیو ریلیز تاکہ دنیا کو پتا چلے انہوں نے مریم نواز کے ساتھ جیل میں کیا کیا،نیب کو اپیل کرنی چاہیے کہ ہمارا مقدمہ پٹ گیا،

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

  • بریکنگ،ایون فیلڈ ریفرنس ، مریم نواز ، کیپٹن ر صفدر بری

    بریکنگ،ایون فیلڈ ریفرنس ، مریم نواز ، کیپٹن ر صفدر بری

    ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اورکیپٹن (ر) صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    ایون فیلڈ ریفرنس ، مریم نواز ، کیپٹن ر صفدر بری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چار سال کے بعد مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلیں منظور کر لیں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کی سزائیں کالعدم قراردے دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ پراسیکیوشن ٹیم کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی

    احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018 کو مریم نواز کو 7 اورکیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی جج محمد بشیر نے نواز شریف پر ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا تھا جج محمد بشیر نے مریم نواز پر 30 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا تھا

    قبل ازیں ن لیگی نائب صدر مریم نواز اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں ،کیپٹن (ر) صفدر بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ،دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ نیب پراسیکیوٹر عثمان راشد طبیعت ناسازی کی وجہ سے آج پیش نہیں ہو ئے،ڈپٹی پراسیکیوٹر نے کہا کہ عثمان راشد کی طبیعت ناساز ہے عدالت اجازت دے تو دلائل کا آغاز کروں ، امجد پرویز نے ڈپٹی پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایون فیلڈ ریفرنس کا ٹرائل کیا آپ سے بہتر دلائل کون دے سکتا ہے،

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف وہ حصہ پڑھیں جس میں مریم اور نواز شریف کا ان پراپرٹیز سے تعلق واضح ہو،تفتیشی افسر نے جے آئی ٹی کی ساری رپورٹ لکھ دی، خود کیا تفتیش کی؟ یہ دستاویزات پراسیکیوشن کا کیس کیسے ثابت کرتے ہیں؟ ان دستاویزات سے الزام کیسے ثابت ہوتا ہے؟ دیکھنا یہ ہے کہ کیا تفتیشی افسر نے دستاویزات پر کوئی تفتیش بھی کی؟ کوئی ایسی چیز ابھی سامنے نہیں آئی جو نواز شریف یا مریم نواز کا پراپرٹیز سے تعلق جوڑے،کیا پراپرٹیز کی مالیت کا تعین کرنے والا کوئی دستاویز سامنے آیا؟ آپ نے دستاویزات پڑھے لیکن ان میں کہیں وہ مریم نواز اور نواز شریف کا لنک واضح نہیں ہو رہا ،کیا آپ کے پاس کوئی دستاویز ہے جس سے پراپرٹیز کی مالیت یا ایک اپارٹمنٹ کی مالیت پتہ چلے

    سردار مظفر عباسی نے کہا کہ حسن اور حسین نواز نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دی، 26 جنوری 2017 کو یہ درخواست دی گئی تھی،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ طارق شفیع کا بیان حلفی ریکارڈ پر رکھا گیا تھا، سردار مظفر عباسی نے کہا کہ بیان حلفی میں گلف اسٹیل ملز کی فروخت کا بتایا گیا،ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح سوال اٹھایا تھا گلف اسٹیل مل بنی کیسے؟ طارق شفیع یہ دکھانے میں ناکام رہے تھے کہ وہ بزنس پارٹنر تھے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کی رائے کو شواہد کے طور پر نہیں لیا جا سکتا، جے آئی ٹی نے کوئی حقائق بیان نہیں کیے، صرف اکٹھا کی گئی معلومات دیں، سردار مظفر عباسی نے کہا کہ واجد ضیا نے یہ ڈاکومنٹس خود دیکھے اور اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا، میں ڈاکومنٹس سے دکھاؤں گا کہ یہ پراپرٹیز 1999 میں خریدی گئیں، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ان پراپرٹیز کی خریداری کے لیے کتنی رقم ادا کی گئی؟ آپ اس متعلق ڈاکومنٹ دکھائیں، زبانی بات نہ کریں،کل کو یہ ساری چیزیں ججمنٹ میں آنی ہیں، آف شور کمپنیوں نے اپارٹمنٹ کتنی قیمت میں خریدا؟ اپیل میں کام آسان ہوتا ہے کہ جو چیزیں ریکارڈ پر موجود ہیں انہی کو دیکھنا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پراسیکیوشن زبانی بیانات کے علاوہ کیا دستاویزات سامنے لائی ہے؟ نواز شریف کا اس کیس کے حوالے سے موقف کیا ہے؟ سردار مظفر عباسی نے کہا کہ نواز شریف کا موقف تھا کہ ان کا اس پراپرٹی سے تعلق نہیں،

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا 342 کے بیان میں مانا گیا کہ پراپرٹی کتنی میں خریدی گئی؟ وکیل مریم نواز نے کہا کہ 342 کے بیان میں کہیں پر کوئی ذکر نہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ وہ واحد اور بہترین دستاویز ہے جو کیس پیش کی گئی؟ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آخری سماعت پر عثمانی چیمہ نے کہا کہ مریم نواز کا کردار 2006 سے شروع ہوتا ہے، ابھی آپ کہہ رہے ہیں کہ مریم نواز کا کردار 1993 سے شروع ہوتا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز پراپرٹیز کی مالک ہیں یہ دستاویزات سے عدالت کو بتا دیں ، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے خود کو تو واضح کر لیں پھر عدالت کو بتائیں، سردار مظفر نے کہا کہ میں تین جملوں میں نیب کا سارا کیس عدالت کو بتا دیتا ہوں،نواز شریف نے پبلک آفس ہولڈر ہوتے ہوئے مریم نواز کے نام پر لندن پراپرٹیز خریدیں،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو چار جملے آپ نے بتائے ہیں یہی شواہد سے ثابت کر دیں، بات ختم،جو متفرق درخواستیں دائر ہوئیں اس کے علاوہ نیب کے پاس کوئی کیس نہیں،واجد ضیاء کو پتہ چل گیا تھا کہ پراپرٹیز کی مالیت 5 ملین ڈالر تھی تو تفصیل لی جا سکتی تھی، پراپرٹیز کی تفصیلات لینا بالکل بھی مشکل نہیں تھا، پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے کہا کہ پراپرٹیز کی مالیت کا تعین متعلقہ نہیں تھا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ آپ بالکل غلط کہہ ریے ہیں کہ مالیت کا تعین غیرمتعلقہ تھا، آپ نے تحقیقات کے بعد شوائد سے کیس بنانا تھا ،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ شریف فیملی کا موقف ہے کہ دادا نے پوتے کو پراپرٹیز دیں، واجد ضیاء نے انہی کی متفرق درخواست کو اپنی رپورٹ کا حصہ بنا دیا، تفتیشی نے انکے اس موقف کو غلط ثابت کرنا تھا، پراسیکیوشن نے یہ ثابت کرنا تھا کہ اصل ملکیت نواز شریف کی ہے یا نہیں تفتیشی ایجنسی نے تفتیش کر کے حقائق سامنے لانے تھے، وہ دستاویزات دکھا دیں کہ جن سے پراپرٹی ٹریل "یہ ہیں وہ ذرائع” غلط ثابت ہوں ،جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نواز شریف نے اگر اپنی پوتے کیلئے پراپرٹیز بنائیں تو اس میں نواز شریف کا تعلق کہاں ہے؟ دادا نے سارا کچھ پوتا پوتی کیلئے بنائے تو پھر بھی نواز شریف کہیں موجود نہیں، یہ تو کہیں ثابت نہیں ہو رہا کہ باپ نے بیٹے نواز شریف کو پراپرٹیز دیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے عدالت کو وہ ٹائٹل ڈاکیومنٹ دکھانا ہے، وہ دکھا دیں، کیس تقریباً مکمل ہو چکا ہے، نیب نے بس وہ چھپا ہوا دستاویز دکھانا ہے،

    صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    نیب پراسیکیوٹر نے پراپرٹیز کی رجسٹری کے دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کردیں ،نیب پراسیکیوٹر نے نیلسن اور نیسکول کمپنیز کی رجسٹریشن کی دستاویزات دکھا دیں، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ تصدیق شدہ دستاویزات ہیں؟ وکیل مریم نواز امجد پرویز نے کہا کہ یہ تصدیق شدہ سرٹیفکٹ کی کاپی ہے، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ پراپرٹیز کمپنیز کی ملکیت ہیں، پراسیکیوٹر نے کہا کہ دستاویز میں care off لکھا ہو ا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملکیت کمپنی کی ہے اب اس کمپنی کو لنک کریں

    وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کیس میں مہلت مانگ لی

    پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی طور پر ملکیت نیلسن نیسکول کی ہے اور بینیفیشل اونر مریم نواز ہیں لافرم بھی بینیفیشل اونر شپ کی بات کررہی ہے کمپنی کی ملکیت ہونا الگ بات ہے اس میں ڈائریکٹر ہونا الگ بات ہے اور اس کے شئیر ہولڈر ہونا الگ ،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ 2006 سے 2012 کے درمیان پراپرٹیز ان کمپنیز ملکیت تھیں یا نہیں، یہ کیسے پتہ چلے،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا آج کی تاریخ میں اس خط کی بنیاد پر مریم نواز ان پراپرٹیز کی بینیفشل اونر ہیں؟ پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے کہا کہ جی، آج بھی ہیں، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیسے مالک ہیں کوئی دستاویز دکھا دیں ،یہ بھی بینفشل اونر کی بات ہو رہی ہے قانونی مالک کی نہیں ،سردار مظفر نے کہا کہ 2017 میں بی وی آئی ایف آئی اے کی دستاویز کے مطابق وہ اب بھی بینفشل اونر ہیں، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیس ثابت کرنے میں فیل ہوئے ہیں، نیب کے سارے کیس میں نواز شریف کا کہیں نام نہیں آ رہابیٹی کے نام پر ہونے کا مطلب لازم نہیں کہ وہ باپ کی ہی ملکیت ہو، سردار مظفر نے کہا کہ شریف فیملی نے خود بھی اپنے دفاع میں کوئی دستاویز پیش نہیں کی، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وہ کیوں دستاویزات پیش کرتے، انکا تو کام ہی نہیں تھا، نیب نے ثابت کرنا تھا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ انہیں تو خاموشی سے کھڑے رہنا چاہیے تھا بالکل کچھ بولنا ہی نہیں چاہیے تھا،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ اگر روسٹرم پر کھڑے ہو کر کہیں کہ پراپرٹیز ہماری ہیں پھر بھی پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو ٹرسٹ ڈیڈ کی بنیاد پر سزا دی گئی کیا اصل ٹرسٹ ڈیڈ موجود ہے؟ کیا نواز شریف، مریم نواز یا کیپٹن (ر) صفدر کبھی گرفتار ہوئے؟ نیب نے کہا کہ نہیں ،نواز شریف، مریم نواز یا کیپٹن (ر) صفدر میں سے کوئی گرفتار نہیں ہوئے،

  • مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست،نیب نے بھی بڑا فیصلہ کر لیا

    مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست،نیب نے بھی بڑا فیصلہ کر لیا

    مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر سماعت3 اکتوبر تک ملتوی
    مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی متفرق درخواست پر سماعت ہوئی
    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کہاں ہیں ؟ جونیئر وکیل نے عدالت میں جواب دیا کہ امجد پرویز دوسری عدالت میں مصروف ہیں ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف یہی کیس ہے کیا ،وکیل کو اتنا نہیں پتہ کہ کونسی عدالت میں پہلے پیش ہونا ہے لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر اظہار برہمی کیا مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی متفرق درخواست پر سماعت3 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی

    مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست،نیب نے بھی بڑا فیصلہ کر لیا ،لاہور ہائیکورٹ میں نیب نے مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے نیب نے مریم نواز کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں دو صفحات پر مشتمل جواب جمع کرا دیا،نیب کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جواب جمع کروا دیا گیا ہےجس میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز کا پاسپورٹ نیب کو درکار نہیں ہے ،

    واضح رہے کہ مریم نواز نے پاسپورٹ واپس لینے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے ہائیکورٹ نے مریم نواز کو ضمانت دیتے ہوئے پاسپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے اپنے پاسپورٹ کی واپسی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا- پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پاسپورٹ واپسی کے لیے عدالت میں دوبارہ درخواست دائر کر دی مریم نواز نے وکیل امجد پرویز کی وساطت سے درخواست دائر کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ گزشتہ 4 سال سے ان کا پاسپورٹ عدالتی تحویل میں ہے جبکہ ابھی تک قومی احتساب بیورو (نیب) چودھری شوگر مل کا چالان عدالت میں پیش نہیں کر سکا۔

    وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کیس میں مہلت مانگ لی

    پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے میرٹ پر ضمانت منظور کی اور لمبے عرصے کے لیے کسی شخص کو اس کے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ کہیں فرار نہیں ہوں گی، ماں کو بستر مرگ پر چھوڑ کر پاکستان واپس آئی تھی، نیب قانون میں ملزم کے بیرون ملک جانے پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی 7 کروڑ روپے بھی سیکیورٹی کے لیے جمع کرا رکھے ہیں، چوہدری شوگر ملز کیس میں میرٹ پر ضمانت ملی تھی-درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سابق صدر پرویز مشرف اور ایان علی کے کیسز کے فیصلے اس کی نظیر ہیں عدالت سے استدعا ہے کہ پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دے۔

    یاد رہے مسلم لیگ (ن) نائب صدر مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر سماعت کیلئے 4 بینچوں نے سماعت سے انکار کردیا تھا ، جس کےبعد مریم نواز نے عمرے کیلئے پاسپورٹ واپسی کی درخواست واپس لے لی تھی مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کے موقع پر عدالتی حکم پر پاسپورٹ سرنڈر کیا تھا۔

    لاہور ہائی کورٹ نے نومبر 2019 میں چوہدری شوگر ملز کے کیس میں مریم نواز کو ضمانت دے دی تھی لیکن اس کے ساتھ ہی یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ وہ عدالت میں اپنا پاسپورٹ جمع کرائیں گی بعد ازاں مریم نواز کی جانب سے اپنا نام ای سی ایل سے نکالنے اور عدالت میں جمع پاسپورٹ واپس حاصل کرنے کے لیے متفرق درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

  • عمران خان کو جلسے کی اجازت ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وی سی کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے،مریم نواز

    عمران خان کو جلسے کی اجازت ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وی سی کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے،مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو جلسے کی اجازت دینے پر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے کہاکہ تعلیمی ادارے کو سیاسی نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کرنا ایک ایسا جرم ہےجس کی سزا ضرور ملنی چاہیے عمران خان کو جلسےکی اجازت دینے پرگورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلرکے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

    صدر مذاکرات میں کردار ادا نہیں کرسکتے ہیں،کوئی ادارہ دوسرے ادارے میں مداخلت نہیں کرے گا،سینیٹر میاں…


    وزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ جی سی یونیورسٹی کا وائس چانسلر اس فتنے کو بلا کر جلسے کرا رہا ہے، ایسے لوگ یونیورسٹیوں مِں بیٹھے ہیں تو انھیں نکال دینا چاہیے وائس چانسلر کا محاسبہ ہونا چاہیے، اس پر مقدمہ ہونا چاہیے، یہ فتنہ گری کرا رہا ہے، بچوں کے ذہنوں کو گندہ کرا رہا ہے۔

    ایک بیان میں وفاقی وزیر احسن اقبال کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جی سی یونیورسٹی کو سیاسی اکھاڑے میں تبدیل کر دیا گیا، بحیثیت راوین مجھے اس پر بے حد دکھ پہنچا ہے، مادر علمی زہر آلود اور نفرت انگیز تقریر کی جگہ نہیں ہوتی یونیورسٹی انتظامیہ نے عمران نیازی کو جلسےکی اجازت دے کر تعلیمی ادارےکا تقدس پامال کیا۔

    جنوبی وزیرستان:دہشت گردوں کی ضلع اعظم ورسک میں چوکی پر فائرنگ،دو جوان شہید ایک…

    دوسری جانب گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے یونی ورسٹی میں سیاسی پروگرام کے انعقاد کا نوٹس لے لیا ہے۔

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک کے نامور تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کو سیاسی اکھاڑہ بنانا افسوس ناک ہے، جامعات میں اس طرح کے سیاسی جلسوں کی گنجائش نہیں، بچے ہمارا مستقل اور قومی سرمایہ ہیں انہیں سیاست میں دھکیلنے کی کوئی گنجائش نہیں۔

    اسحاق ڈار پاکستان پہنچ گئے

  • مریم نواز کے دامادکا بھارت سے پاورپلانٹ درآمدکرنےکے معاملےکا ڈراپ سین

    مریم نواز کے دامادکا بھارت سے پاورپلانٹ درآمدکرنےکے معاملےکا ڈراپ سین

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف کی لیک آڈیو میں مریم نواز کے داماد کے بھارت سے پاورپلانٹ کی مشینری درآمد کرنےکے معاملےکا ڈراپ سین ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق مریم نواز کے داماد کے زیرتعمیر پاورپلانٹ کا 60 فیصد کام 2020 سے پہلے مکمل ہوچکا تھا، حکومت نے 2020 میں بھارت سے ہر طرح کی درآمد پر مکمل پابندی لگادی تھی۔یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ پابندی سے پہلے شروع ہونے والے منصوبوں کے لیے حکومت کی کیا پالیسی ہوگی؟

    حکومت پاکستان کی طرف سے جواب دیا گیا تھا کہ پالیسی تبدیل ہوچکی ہے، اگرچہ آپ کے ساتھ ناانصافی ہے لیکن پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے آپ کو متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے، حکومتی فیصلے کے بعد مریم نواز کے داماد نے پاورپلانٹ کی درآمد کے لیے چین سے رابطہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق پاور پلانٹ کی 60 فیصد مشینری 2020سے پہلے کابینہ کے رکن رزاق داؤد کی کمپنی ڈیسکون نے درآمد کی، جس کے بعد کمپنی نے باقی 40 فیصد مشینری کی درآمدکے لیے چین کا رخ کیا جس کے لیے تقریباً ایک ارب روپے اضافی رقم ادا کی جارہی ہے۔

    ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے بجلی کی ترسیل کرنے والی کمپنی نے گرڈ اسٹیشن دینے سے انکار کردیا تھا، 2020 میں لاہور ہائی کورٹ نے متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے حق اور ڈسکو کے خلاف فیصلہ دیا تھا، عدالتی فیصلے کے باوجود تاحال گرڈ اسٹیشن نہیں لگایا گیا۔

    خیال رہےکہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آئی تھی۔آڈیو ٹیپ میں ایک شخص سے گفتگو میں شہباز شریف کو بتایا جارہا ہےکہ مریم نواز اپنے داماد کے لیے بھارت سے پاور پلانٹ درآمد کرنے کا کہہ رہی ہیں۔

    اس پر شہباز شریف جواب دیتے ہیں وہ ہمارے داماد ہیں، آپ ان کو ایشوز بتادیں، پلانٹ بھارت سےآدھا آگيا ہے، وہ مانتے ہیں کہ یہ ایشو گلے پڑ جائے گا، آپ ان سے بات کریں، میں ترکی سے واپس آؤں گا تو بلاکر انہیں سمجھا دوں گا۔

    اس پر دوسرا شخص شہباز شریف کو مشورہ دیتاہے کہ یہ کام اسحاق ڈار سے کروالیں تو شہباز شریف کہتے ہیں ٹھیک ہے ایسے کرلیں۔

  • عمران خان جن کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں ،ان کا نام  کیوں نہیں لیتے ؟ مریم نواز

    عمران خان جن کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں ،ان کا نام کیوں نہیں لیتے ؟ مریم نواز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ قدرت کا اصول ہے سچ سامنے آ ہی جاتا ہے اللہ پر بھروسہ ہے ،انصاف کی توقع ہے،چکوال جلسے میں کچھ باتیں بہت واضح تھیں،

    اسلام آباد میں عدالت پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ن لیگی رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ فیصلہ ہوگا تب وہ ساری باتیں کہوں گی جو ابھی تک نہیں کہیں،عمران خان جن کو ذمہ دار ٹھہرارہےہیں ،ان کا نام کیوں نہیں لیتے ؟ عمران خان نے پارٹی اجلاس میں کہا کون کس سےملاقات کررہا ہے خود دھرنا چھوڑ کر جنرل راحیل سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے، اس وقت دھرنے کے لوگوں کو بتایا تھا کہ میں اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات کرنے جارہا ہوں،عمران خان ایک نان ایشو ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتی، عمران خان کو چھوڑ کرہمیں پاکستان کی ترقی کی بات کرنی چاہیے کیا عمران خان نے اپنی پارٹی کو ملاقاتوں پراعتماد میں لیا تھا،کل جو کالز کروا رہا تھا آج وہ کہہ رہے ہیں میرے اراکین کو کالز آرہی ہیں،کالز کے اگر ثبوت ہیں تو سامنے لے آئیں،لانگ مارچ ہم نے بھی کیے،جمہوریت کی حامی ہوں ،

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ عمران بہروپیے کی منافقت کو بے نقاب کرنا ضرور ی ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ دن کو للکاریں اور رات کے اندھیرے میں ملاقاتیں کرلیں،کالز تو ہمیں بھی آتی تھیں اور دھمکیاں ہمیں بھی ملتی تھیں اداروں پرحملہ کرنا ،پسند کی تقرری کے لیے انتشار کی طرف جانا کیا جمہوری شخص کا عمل ہے؟ عمران خان کا طریقہ ڈرا دھمکا کر اپنا راستہ صاف کرنا ہے،عمران خان جلسوں میں لوگوں کو انتشار پر اکساتے ہیں،عمران خان کی تقریر سننے کے عذاب سے گزرنا پسند نہیں کرتی ،عمران خان نان ایشو کو ایشو بنا رہے ہیں ہمارا انقلاب فوت نہیں ہوا،عمران خان کا انقلاب رانا ثنااللہ کےڈر سے نکلا ہی نہیں عمران خان لوگوں کو کہتے ہیں خوف کا بت توڑدیں ،آپ توخود نام لینے سے ڈرتے ہیں،بہروپیے کی اصلیت کو بے نقاب کرنا ضروری ہے ،نوازشریف کیس میں بھی دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگا،پنجاب حکومت جتنی جلد ختم ہوجائے بہترہے ،

  • نواز شریف کی اپیل میرٹ پر خارج نہیں کی گئی تھی،جسٹس عامر فاروق

    نواز شریف کی اپیل میرٹ پر خارج نہیں کی گئی تھی،جسٹس عامر فاروق

    ایون فیلڈ ریفرنس میں دائر اپیلوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بنچ نے سماعت کی ، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امجد پرویز نے اپنے دلائل مکمل کرلیے تھے آج نیب کی باری ہے ،پراسیکیوٹر نیب نے کہ سپریم کورٹ کے پہلے فیصلے میں دو ججز نے نواز شریف کو نااہل کر دیا، تین ججوں کی رائے تھی کہ جے آئی ٹی بنا کر مزید تفتیش کی جانی چاہیے، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے اکثریت سے فیصلہ یہ کیا کہ جے آئی ٹی بنا دی جائے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے دوسرے فیصلے میں نیب کو چھ ہفتوں میں نیب کو ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا،سپریم کورٹ کی ڈائریکشنز کے تحت نیب نے احتساب عدالت میں ریفرنسز دائر کیے،سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل خارج کر دی گئی، عدالت اسی ریفرنس میں مرکزی ملزم نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر چکی ہے، نیب کا موقف ہے کہ احتساب عدالت میں تین ملزمان کے خلاف ٹرائل چلا، نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل اب اس عدالت کے سامنے موجود نہیں، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی اپیل میرٹ پر خارج نہیں کی گئی تھی، نیب نے ثابت تو کرنا ہے کہ ٹرائل کورٹ سے جو سزا ہوئی وہ درست تھی،

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کو بتانا ہو گا کہ مریم نواز نے نواز شریف کی 1993 سے کیسے معاونت کی؟ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کا کیس ٹرسٹ ڈیڈ کا ہے تو پھر ان کا کیس نواز شریف کے ساتھ نہیں ہے، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر 1993 سے پراپرٹیز لینے کا موقف ہے تو پھر کیس کو وہیں سے لے کر چلیں گے، ایون فیلڈ اپارٹمنٹس1993اور1996کے درمیان ایکوائر ہوئی بتائیں کہ یہ پراپرٹیز کیسے ایکوائر ہوئیں مریم نے کس طرح معاونت کی، آپ مریم نواز کو 1993 سے مرکزی ملزم کے ساتھ کیس میں لے کر چل رہے ہیں، ہمیں سمجھائیں کہ آپ مریم کو کس اسٹیج پر کیس میں شامل کر رہے ہیں ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف بری ہو جائیں تو کیا اس کیس میں مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو سزا ہو سکتی ہے؟ پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ Theoratically تو نہیں ہو سکتی،

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا کیس نواز شریف کے خلاف بپلک آفس ہولڈر ہوتے ہوئے امدنی سے زائد اثاثوں کا ہے؟ پراپرٹیز نواز شریف نے ایکوائر کیں ہونگیں تب ہی مریم نواز نے اپنے والد کی معاونت کریں گی نا۔ ایسا تو نہیں ہوتا کہ قتل ہوا ہی نہیں اور شریک ملزم بنا کر اعانت جرم کا الزام لگا دیں آپ پہلے مرکزی ملزم کا ان پراپرٹیز سے تعلق واضح کریں آپ کا کیس مریم نواز کے خلاف ایڈننگ اور آبیڈننگ کا ہے ہمیں کیس کو حقائق پر دیکھانا ہے ویکیوم میں تو بات نہیں ہوسکتی ، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ نواز شریف سے مریم نواز کیس کا تعلق واضح کریں میرے پاس اس سے آسان لفظ نہیں میرے الفاظ جواب دے گئے ہیں نیب نے عدالت سے ایک بار پھر وقت مانگ لیا عدالت نے کیس کی سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کر دی

    قبل ازیں مریم نواز عدالت میں پیش ہوئیں تو انکے شوہر کیپٹن ر صفدر بھی انکے ہمراہ تھے، کیپٹن ر صفدر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سارے سیاسی کیسز ہیں،سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال نے اپنی نوکری بچانے کیلئے کیسسز بنائے ، جے آئی ٹی تھی اور ایک جھوٹا سابق جج تھا جو پاکستان کی عدالتی نظام کا المیہ تھا، ایک سابق جج کے غلط فیصلوں کی وجہ سے مہنگائی ہے اور ڈالر کنٹرول نہیں ہورہا،ریاست پاکستان کے آئین کے ساتھ ظلم کرنے والاسابق چیف جسٹس تھا،کس قانون میں لکھا ہے جے آئی ٹی بنے گی؟

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • حسد کی آگ میں جلتے رہنا اب عمران خان کا مقدر ہے،مریم نواز

    حسد کی آگ میں جلتے رہنا اب عمران خان کا مقدر ہے،مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ شہبازشریف کو ملنے والی سفارتی کامیابیوں نےعمران خان کو تڑپا کر رکھ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں مریم نواز نے چکوال جلسے میں کئے گئے خطاب پر عمران خان کو منہ توڑ جواب دیا ہے انہوں نے کہا کہ فتنہ خان کی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بارے میں بےتکی باتیں پتہ دے رہی ہیں کہ شہباز شریف اور پاکستان کو جو سفارتی کامیابیاں اور عزت بیرونی دنیا سے ملی ہیں اس نے فارن فنڈڈ ایجنٹ کو تڑپا کے رکھ دیا ہیں ڈالر آخر حلال بھی تو کرنے ہیں!اسی حسد کی آگ میں جلتے رہنا اب اس کا مقدر ہے-

    کشوہ زہرہ کا ایم کیو ایم کے کارکنان کی گرفتاریوں اور بہیمانہ قتل پر شدید احتجاج


    ایک اور ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف کو گرانے کی کوشش کرنے والے خود تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن گئے۔ نوازشریف قائم رہا اور قائم رہے گا ،عوام اور نواز شریف کا رشتہ لازوال ہے۔

    ان حالات میں کون اپنا ملک چھوڑ کر بیرون ملک جاتا ہے، عمران خان


    مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے مخالفین نے انکے خلاف ظلم و انتقام کی ہر حد پار کر لی، انھیں مٹانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی مگرمخالفین کی اس سے بڑی سزا اور کیا ہو گی کہ وہ اپنی جیتی آنکھوں سے اُسی نواز شریف کو ایک بار پھر پاکستان کا سیاسی نقشہ ترتیب دیتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ چکوال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کی بےحسی دیکھیں، ان حالات میں وہ باہر دورےکر رہے ہیں، کونسا معرکہ مارنا ہے باہر ؟ جب ملک میں اتنا بڑا سیلاب آیا ہوا ہے، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی منہ اٹھا کرباہر چلےگئے، ان کو اس لیے مسلط کیا گیا کہ یہ ان کا حکم مانےگا۔

    حیدر آباد: سندھ گورنمنٹ کیجانب سے سیلاب زدگان کیلیے ٹینٹ سٹی کا قیام

    عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ باہر لے جایا گیا پیسا آدھا بھی واپس لائیں توپاکستان کوپیسا نہ مانگنا پڑے، روسی صدر پیوٹن کے سامنے شہباز شریف کی کانپیں ٹانگ رہی تھیں، کسی وزیراعظم کویہ باتیں نہیں کرتے دیکھا جو شہبازشریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سےکیں، شہباز شریف سیکرٹری جنرل سے پیسے مانگ رہے تھے۔

    انہوں نےکہا کہ شہباز شریف نے بیان حلفی دیا تھا کہ نوازشریف واپس آئیں گے، نواز شریف کی بیٹی نے زندگی میں ایک گھنٹہ کام نہیں کیا، مریم نے جھوٹ بولنے میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے، مریم نواز شہزادی بنی ہوئی ہیں ان کو میرٹ کا پتا ہی نہیں، چوہدری نثار ن لیگ سے الگ ہی اس لیے ہوئےکہ کہاں چوہدری نثار اور کہاں مریم نواز، پیپلزپارٹی میں بھی میرٹ ہوتا تو چیئرمین اعتزاز احسن ہوتے بلاول نہیں-

    ان حالات میں کون اپنا ملک چھوڑ کر بیرون ملک جاتا ہے، عمران خان