Baaghi TV

Tag: مشرق وسطیٰ

  • اتحاد ایئرویز کا کرایوں میں 50 فیصد کمی کا اعلان

    اتحاد ایئرویز کا کرایوں میں 50 فیصد کمی کا اعلان

    ابوظہبی کی سرکاری ایئرلائن ’اتحاد ایئرویز‘ نے مسافروں کو راغب کرنے کے لیے طویل فاصلے کی پروازوں پر 50 فیصد تک کی بڑی رعایتوں کا اعلان کر دیا ہے۔

    برطانوی اخبار دی سنڈے ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ رعایتیں مئی اور جون کے دوران سفری طلب بڑھانے اور خالی نشستیں بھرنے کے مقصد سے متعارف کرائی گئی ہیں یہ قومی ایئرلائن، جو خلیج کی تین بڑی ایئرلائنز میں شمار ہوتی ہے، حالیہ برسوں کے مقابلے میں انتہائی کم کرایے پیش کر رہی ہے۔

    لندن سے سڈنی تک ابوظہبی کے راستے اکانومی کلاس کے ریٹرن ٹکٹ کی قیمت صرف 688 پاؤنڈ سے شروع ہو رہی ہے، جبکہ بزنس کلاس کے ریٹرن کرایے 2 ہزار 465 پاؤنڈ سے دستیاب ہیں اسی نوعیت کی نمایاں رعایتیں سنگاپور، ہانگ کانگ، بینکاک، مالدیپ اور ٹوکیو جیسے اہم مقامات کے لیے بھی دی جا رہی ہیں۔

    یہ قیمتیں دیگر ایئرلائنز کے مقابلے میں واضح طور پر کم ہیں، مثال کے طور پر برٹش ایئرویز پر لندن سے سڈنی کے اکانومی ریٹرن ٹکٹ کی قیمت تقریباً 1850 پاؤنڈ ہے، جبکہ بزنس کلاس دس ہزار پاؤنڈ سے تجاوز کر جاتی ہےبعض اطلاعات کے مطابق اتحاد ایئرویز کے موجودہ کرایے کورونا وبا کے عروج کے دوران پیش کیے گئے نرخوں سے بھی کم ہیں۔

    یہ غیر معمولی رعایتیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے خطے میں فضائی سفر کو شدید متاثر کیا ہے،متعدد پروازیں منسوخ یا متاثر ہو چکی ہیں، جس کے باعث خلیجی ایئرلائنز کو خالی نشستوں کا سامنا ہے۔ اتحاد ایئرویز کو توقع ہے کہ جولائی تک حالات بہتر ہو جائیں گے اور کرایے دوبارہ معمول پر آ جائیں گے-

  • وزیرا عظم و عسکری قیادت کی کوششوں کے باعث تیل کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی،رانا ثنا اللہ

    وزیرا عظم و عسکری قیادت کی کوششوں کے باعث تیل کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی،رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کے خلاف احتجاج کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بنتی، وزیرا عظم و عسکری قیادت کی کوششوں کے باعث تیل کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی-

    فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بعض عناصر اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے احتجاج کی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، پیٹر و لیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا نتیجہ ہے، جس میں حکومت کا براہِ راست کوئی کردار نہیں۔

    رانا ثنااللہ نے کہاکہ ابتدا میں توقع تھی کہ یہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، تاہم اب بھی بعض لوگ ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے ملک میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جن کے لیے کوئی گنجائش نہیں،پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدوں پر عمل کررہا ہے، اور وزیرا عظم و عسکری قیادت کی کوششوں کے باعث تیل کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی۔

    ان کے مطابق عالمی برادری اس وقت جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے، لہٰذا سب کو ملک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے وزیراعظم نے حال ہی میں پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 80 روپے کمی کی، تاہم بعض ناگزیر حالات کے باعث قیمتوں میں اضافہ بھی کرنا پڑا،حکومت کے خلاف احتجاج کا جواز نہیں بنتا، اور اگر احتجاج کرنا ہے تو اسے اسرائیل اور نیتن یاہو کے خلاف ہونا چاہیے۔

  • اٹلی: اجازت کے بغیر امریکی فوجی طیاروں کی لینڈنگ کی کوشش

    اٹلی: اجازت کے بغیر امریکی فوجی طیاروں کی لینڈنگ کی کوشش

    اٹلی نے امریکی فوجی طیاروں کو مشرق وسطیٰ سے منسلک کارروائیوں کے لیے سسلی کا فضائی اڈہ استعمال کرنے سے منع کردیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کا تعلق نیول ایئر اسٹیشن سگونیلا سے ہے جو ایک اسٹریٹجک مرکز ہے جو اکثر نیٹو اور امریکی مشنز کے لیے استعمال ہوتا ہے، امریکی طیاروں بشمول بمباروں کے مشرق وسطیٰ کی طرف جانے سے پہلے اڈے پر اترنے کی توقع تھی تاہم اٹلی نے اترنے سے منع کردیا۔

    رپورٹس کے مطابق درخواست مسترد اس لیے کی گئی کیونکہ اجازت کے مناسب طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا، اٹلی میں امریکی فوجی اڈوں کے استعمال کو کنٹرول کرنیوالےمعاہدوں کےتحت، روم سے باضابطہ طور پر مشورہ کیا جانا چاہیے اور اس طرح کی کارروائیوں کو آگےبڑھنے سے پہلےمنظوری دینا چاہیے، مبینہ طور پر اطالوی حکام سے پیشگی مشاورت نہیں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے انکار کیا گیا،وزارت دفاع نے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔

  • میسنجر نہیں، ثالث: عالمی امن میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    میسنجر نہیں، ثالث: عالمی امن میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    میسنجر نہیں، ثالث: عالمی امن میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

    مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کیا پاکستان ثالثی کا کردار سنبھال سکتا ہے؟

    ایران، امریکہ اور اسلامی دنیا کے درمیان پل پاکستان کی سفارتی آزمائش

    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے، جہاں جاری کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ اس نازک صورتحال میں ایسے ممالک کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو تنازعات کے حل میں مثبت اور متوازن کردار ادا کر سکیں۔ پاکستان انہی ممالک میں سے ایک ہے، جس کے پاس نہ صرف سفارتی صلاحیت موجود ہے بلکہ وہ مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔

    پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے متوازن تعلقات ہیں۔ ایک طرف اس کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ سفارتی اور دفاعی روابط ہیں، تو دوسری جانب ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت، ثقافتی رشتہ اور باہمی مفادات بھی اسے ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو محض "میسنجر” یا پیغام رسانی تک محدود رکھنے کے بجائے ایک بااختیار ثالث کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ تاہم، ثالثی کا کردار صرف خواہش سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے عالمی اعتماد، غیر جانبداری اور داخلی استحکام بنیادی شرائط ہیں۔

    اگر پاکستان کو واقعی اس سطح پر کردار ادا کرنا ہے تو اسے اپنی خارجہ پالیسی میں تسلسل، داخلی سیاسی استحکام اور معاشی مضبوطی کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور ایران، کا پاکستان پر اعتماد بھی ناگزیر ہے۔ یہاں اسلامی دنیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہو جاتا ہے اگر اسلامی ممالک پاکستان کو ایک ثالث کے طور پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو انہیں محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت پاکستان کو سفارتی حمایت فراہم کی جائے اور اسے ایک نمائندہ کردار دیا جائے، تاکہ وہ مؤثر انداز میں فریقین کے درمیان اعتماد سازی کر سکے۔

    پاکستان کے اندر بھی یہ ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے وزارت خارجہ، عسکری قیادت اور دیگر متعلقہ ادارے—ایک صفحے پر ہوں۔ مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے بیک چینل ڈپلومیسی کو فروغ دیا جا سکتا ہے، جو ایسے حساس معاملات میں اکثر کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ حتمی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ایک سنہری موقع موجود ہے۔ اگر وہ دانشمندی، توازن اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور باوقار سفارتی قوت کے طور پر اپنی پہچان بھی مضبوط کر سکتا ہے۔

  • وزیر خارجہ  اسحاق ڈار  کا ترک ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ترک ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس میں تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

    گزشتہ رات گئے ہونے والی اس اہم بات چیت کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے پائیدار سفارتی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا بھرپور اعادہ کیا۔

    گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی حالات کے تناظر میں باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے اور مستقبل میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔

  • وزیراعظم سے ملائیشین ہم منصب کی ٹیلیفونک گفتگو،سفارتی کوششوں کی تعریف

    وزیراعظم سے ملائیشین ہم منصب کی ٹیلیفونک گفتگو،سفارتی کوششوں کی تعریف

    وزیراعظم شہباز شریف سے ملائیشین ہم منصب نے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔

    گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے عید الفطر کی مبارکباد کا تبادلہ کیا اور امت کے اتحاد و ترقی کے لیے دعا کی۔ ملائیشین وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششوں کی حمایت کے مضبوط پیغام پر خراج تحسین پیش کیا۔

    شہباز شریف نے ملائیشیا کے وزیر اعظم کو امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے برادر خلیجی ممالک اور ایرانی رہنماؤں کے ساتھ ان کی بات چیت سمیت تازہ ترین سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی شاندار قیادت کی تعریف کرتے ہوئے ملائیشیا کے وزیراعظم نے انہیں مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی گفتگو سے بھی آگاہ کیا، جس میں انہوں نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے پاکستان کی خطے میں امن کے لیے جاری کوششوں میں ملائیشیا کی مکمل حمایت کی پیشکش بھی کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ پاکستان خطے کی موجودہ صورتحال میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مخلصانہ اور حقیقی کوششیں جاری رکھے گا، دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے بحال رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • وزیراعظم  سے چینی سفیر  کی ملاقات

    وزیراعظم سے چینی سفیر کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے عوامی جمہوریہ چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی-

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ’ٹو سیشنز‘ کی کامیاب تکمیل پر چینی قیادت کو مبارکباد دی اور صدر شی جن پنگ، وزیر اعظم لی کیانگ اور وزیر خارجہ وانگ یی کا یوم پاکستان کی خوشیوں پر شکریہ ادا کیا وزیراعظم نے چین کی مستحکم اقتصادی حمایت کو سراہا اور زراعت، صنعتی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے ترجیحی منصوبوں کے ساتھ سی پیک 2.0 کو آگے بڑھانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

    چینی سفیر نے پاکستان کی اقتصادی استقامت اور اصلاحات کو سراہا اور چین کی تجارت و سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون کا اعادہ کیا، فریقین نے جاری ملاقاتوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر اعلیٰ سطح رابطوں کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کشیدگی میں کمی اور استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کے تعمیری کردار کو اجاگر کیا، انہوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی ہم آہنگی جاری رکھنے اور پائیدار پاک چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کے اعادہ پر زور دیا۔

    اس موقع پر نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ بھی موجود تھے۔

  • سعودی عرب کا ویزہ ہولڈرز کے لیے  بڑا اعلان

    سعودی عرب کا ویزہ ہولڈرز کے لیے بڑا اعلان

    سعودی حکومت نے موجودہ علاقائی حالات کے پیش نظر ویزہ ہولڈرز کے لیے خصوصی سہولتوں کا اعلان کیا ہے۔

    سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق اُن افراد کے معاملات نمٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جن کے ویزے (بشمول وزٹ ویزے، عمرہ، ٹرانزٹ اور فائنل ایگزٹ) 25 فروری 2026 کے بعد ختم ہو چکے ہیں اور جو حالات کے باعث ملک سے روانہ نہ ہو سکے وزارت نے واضح کیا کہ ایسے افراد کے ویزوں میں توسیع میزبان کی درخواست پر 18 اپریل 2026 تک کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ مقررہ فیس ادا کی جائے، اور یہ سہولت ابشر پلیٹ فارم کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔

    سعودی حکومت نے ان افراد کو یہ رعایت بھی دی ہے کہ وہ بغیر ویزہ توسیع اور کسی بھی قسم کے جرمانے کے، براہِ راست بین الاقوامی سرحدی راستوں سے ملک چھوڑ سکتے ہیں،سعودی وزارتِ داخلہ نے مستفید ہونے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ مقررہ تاریخ 18 اپریل 2026 سے قبل ملک سے روانگی یقینی بنائیں، بصورت دیگر مروجہ قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

  • امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی، 2000 پیراٹروپرز روانہ

    امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی، 2000 پیراٹروپرز روانہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکا نے اپنے فوجی دستوں میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق تقریباً 2 ہزار امریکی فوجی، جو 82ویں ایئربورن ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں، خطے کی جانب روانہ کیے جا رہے ہیں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید فوجی آپشنز فراہم کیے جا سکیں یہ فوجی ایک خاص یونٹ “’امیڈیٹ ریسپانس فورس‘ کا حصہ ہیں، جو دنیا کے کسی بھی حصے میں 18 گھنٹوں کے اندر تعینات ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اس دستے میں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل برینڈن ٹیگٹمیئر سمیت سینئر افسران اور تقریباً دو بٹالین شا مل ہیں، جن میں ہر ایک میں لگ بھگ آٹھ سو اہلکار موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید فوجی بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق پہلے ہی تقریباً 4500امریکی میرینز خطے کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، جس کے بعد حالیہ تعیناتی کے ساتھ کل اضافی فوجیوں کی تعداد تقریباً 7000تک پہنچ گئی ہے مجموعی طور پر اس وقت مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 50 ہزار فوجی ’ایپک فیوری‘ نامی آپریشن کا حصہ ہیں ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان نئے فوجیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے کس مقام پر تعینات کیا جائے گا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے مقامات پر رکھا جائے گا جہاں سے ایران تک فوری رسائی ممکن ہو۔

    ماہرین کے مطابق ان فوجیوں کو ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز ’خارگ جزیرے‘ پر ممکنہ کارروائی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں امریکی فضائی حملے بھی کیے گئے تھے اسی دوران مزید امریکی میرینز بھی خطے میں پہنچنے والے ہیں، جنہیں آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کو محفوظ بنا نے یا دیگر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیراٹروپرز تیزی سے تعینات ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس بھاری اسلحہ اور بکتر بند گاڑیاں کم ہوتی ہیں، اس لیے ممکنہ طور پر انہیں دیگر فوجی یونٹس کے ساتھ مل کر استعمال کیا جائے گا۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان رابطہ

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس دوران خطے کی تازہ صورتحال اور کشیدگی کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی و عالمی امن و استحکام سے متعلق امور اور جاری سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو کی،وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی سلامتی اور خودمختاری پر حملوں کی مذمت کی۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیشہ اور مضبوطی سے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔