Baaghi TV

Tag: مشرق وسطیٰ

  • فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’ مشرقی وسطیٰ کی جانب روانہ

    فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’ مشرقی وسطیٰ کی جانب روانہ

    فرانس نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’(Charles de Gaulle) کو مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا ہے،تاکہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ مشن کے لیے پیشگی تیاری کی جا سکے –

    فرانسیسی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فرانس نہ صرف آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہ کی حفاظت کے لیے تیار ہے بلکہ اس صلاحیت کا عملی مظاہرہ بھی کر سکتا ہے صدر امانوئل میکرون کے ایک معاون نے صحافیوں کو بتایا کہ اس تعیناتی کا مقصد خطے میں کشیدگی کے باوجود سمندر ی راستوں کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔

    بحیرہ احمر کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے یہ بحری بیڑہ نہر سویز سے گزرتے ہوئے اپنے مشن کی طرف بڑھ رہا ہے فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ آپریشن کو بروقت شروع کیا جا سکے ‘شارل ڈی گول’ اور اس کے ساتھ موجود جنگی جہاز بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں تعینات ہوں گے۔

    اس مشن میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور صدر میکرون کی قیادت میں متعدد ممالک کی شمولیت متوقع ہے یہ مشن صرف دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے بعد بحری تجارت کی بحالی بتایا جا رہا ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں اسی وجہ سے تقریباً 40ممالک اس ممکنہ مشن کی منصوبہ بندی میں شریک ہیں امریکا اور ایران کو بھی الگ الگ مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ خطے میں تناؤ کم کیا جا سکے اور تیل کی عالمی ترسیل دو بارہ معمول پر آ سکے-

  • امریکاکا ایران کے خلاف  ہائپرسونک میزائل تعینات کرنے پر غور، امریکی میڈیا

    امریکاکا ایران کے خلاف ہائپرسونک میزائل تعینات کرنے پر غور، امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ڈارک ایگل میزائل مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کی درخواست کی ہے،اقدام کا مقصد ایران کے اندر گہرائی میں موجود میزائل لانچرز کو نشانہ بنانا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق پہلی بار امریکا ہائپرسونک میزائل عملی طور پر تعینات کرے گا، ڈارک ایگل پروگرام تاخیر کا شکار رہا ہے اب تک مکمل طور پر آپریشنل قرار نہیں دیا گیا، اقدام کا مقصد ایران کے اندر گہرائی میں موجود میزائل لانچرز کو نشانہ بنانا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق روس اور چین پہلے ہی اس نوعیت کی ٹیکنالوجی میدان میں لا چکے ہیں، اقدام کی وجہ یہ پیش کی گئی ہے کہ ایران نے میزائل لانچرز کو ‘پریسیژن اسٹرائیک میزائل’ کی حدود سے باہر منتقل کر دیا ہے، ایرانی میزائل 300 میل سے زائد فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، درخواست ابھی پبلک نہیں کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سینٹکام نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، ڈارک ایگل میزائل کی ممکنہ رینج 1،725 میل سے زائد ہے، یہ میزائل آواز کی رفتار سے 5 گنا زیادہ رفتار سے ہدف کی جانب بڑھتا ہے، ڈارک ایگل راستہ بدل کر دفاعی نظاموں سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے،ڈارک ایگل میزائل کی قیمت تقریباً 4 ارب 18 کروڑ روپے( ڈیڑھ کروڑ ڈالر) بتائی جاتی ہے، اس نظام کی بیٹری کی لاگت تقریباً 7کھرب 53 ارب روپے ( 2.7 ارب ڈالر ) ہو سکتی ہے۔

  • عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار،خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار،خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    30 اپریل 2026 تک، مشرق وسطیٰ میں 61 دن سے جاری تنازعہ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز مزید اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات برقرار ہیں اور امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

    امریکی زیر قیادت ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے نتیجے میں برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمتیں جنگ کے دوران نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو 30 اپریل کو مختصر وقت کے لیے $119.71 فی بیرل تک جا پہنچیں-

    برینٹ خام تیل کی جون ڈیلیوری کے لیے فیوچرز کی قیمت 1.91 ڈالر یا 1.62 فیصد اضافے کے ساتھ 119.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں اس میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ جولائی کے زیادہ فعال معاہدے کی قیمت 111.38 ڈالر رہی، جو 94 سینٹس یا 0.85 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

    ادھر امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی جون ڈیلیوری کے لیے قیمت 63 سینٹس یا 0.59 فیصد اضافے کے ساتھ 107.51 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ اس سے قبل سیشن میں اس میں 7 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

    برینٹ کروڈ 120 ڈالر کے قریب پہنچ گیا ہے، جو فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز سے اب تک 55 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی سخت کر دی ہے، جس کے تحت ایران کی تیل برآمدات کو روکنے کے لیے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    ایران کی جانب سے خلیجی آبی گزرگاہوں (آبنائے ہرمز) پر جزوی کنٹرول اور کشیدگی نے عالمی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے 13 ملین بیرل روزانہ کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اسرائیل اور ایران کے درمیان توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے بھی قیمتوں کو بڑھایا ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف یہ ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے، تو تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس سے 2026 میں عالمی افراط زر میں ریکارڈ اضافے کا خطرہ ہے-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو تیل کمپنیوں کے ساتھ ملاقات کی، جس میں ایران کی بندرگاہوں پر ممکنہ امریکی ناکہ بندی کے اثرات کم کرنے پر غور کیا گیا۔ اس پیش رفت نے مارکیٹ میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کہ تیل کی سپلائی طویل عرصے تک متاثر رہ سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع کے جلد حل ہونے یا آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ ایران نے خلیج سے گزرنے والی زیادہ تر بحری ترسیل کو محدود کر رکھا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

    دوسری جانب اوپیک پلس ممالک کے گروپ کی جانب سے اتوار کو تیل کی پیداوار میں معمولی اضافہ متوقع ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث اس کے اثرات محدود رہیں گے۔

    ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، کو جنگ سے قبل کی پیداوار بحال کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔

  • امریکا کا  جیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ سے واپس بلانے کا فیصلہ

    امریکا کا جیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ سے واپس بلانے کا فیصلہ

    امریکا نے یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (سی وی این-78) کو مشرقِ وسطیٰ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیاہے-

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے اس جدید طیارہ بردار بحری جہاز کی واپسی کو اسٹریٹجک ترتیبِ نو کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد خطے میں فوجی تعیناتی کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہےجیرالڈ فورڈ دنیا کے جدید ترین ایئرکرافٹ کیریئرز میں شمار ہوتا ہے اور اسے حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے اظہار کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کو امریکا کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور ممکنہ سفارتی کوششوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی میں کمی کا تاثر بھی دیا جا سکتا ہے تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کرتے ہوئے جوہری معاہدے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف اپنے مقاصد تقریباً حاصل کر چکے ہیں، اس کے پاس میزائل سازی کی صلاحیت انتہائی کم رہ گئی ہے، ایران کے 82 فیصد میزائل تباہ کر دیئے ہیں، ایران کے پاس کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیئں۔

    بدھ کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزوس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ پہلے ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ ہونا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینیٹ کام) نے ایران پر ”مختصر اور طاقتور“ فضائی حملوں کا ایک منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جس کا مقصد مذاکرات میں تعطل توڑنا بتایا جا رہا ہے ان ممکنہ حملوں میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے ان حملوں کے بعد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر مجبور کیا جائے گا تاہم تاحال کسی فوجی کارروائی کا باضابطہ حکم جاری نہیں کیا گیا یران کی بحری ناکہ بندی بمباری کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے اور ایران اس صورت حال میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔

    امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی تیل کی برآمدات رکنے سے اس کے آئل ذخائر اور پائپ لائنز خطرناک حد تک دباؤ میں ہیں تاہم بعض ماہرین نے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے تہران ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے لیکن امریکا اس وقت تک کوئی نرمی نہیں دکھائے گا جب تک جوہری معاملہ حل نہیں ہوتا۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ  : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے

    امریکہ ایران کشیدگی جنگ بندی کی امید یا وقتی خاموشی؟

    عالمی طاقتیں متحرک، کیا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے بحران سے بچ جائے گا؟

    دو ہفتوں کی مہلت: کیا سفارتکاری جنگ پر غالب آ سکتی ہے؟

    مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید کیا جنگ ٹل سکتی ہے؟

    عالمی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ ایسے حساس وقت میں اگر کوئی ملک مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔

    اس تناظر میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے نہایت متوازن اور ذمہ دار سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کشیدگی عروج پر تھی، پاکستان نے پل کا کردار ادا کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کیا۔ یہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک مثبت اور تعمیری قدم ہے، جو پاکستان کی سفارتی بصیرت اور ذمہ دارانہ عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات اور امن کو ترجیح دی ہے، جو اس کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل اور مثبت پہلو رہا ہے۔

    حالیہ صورتحال میں یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ سفارتی سطح پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر واقعی جنگ بندی (سیز فائر) کے لیے دو ہفتوں کا وقت طے پایا ہے تو یہ ایک اہم موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ بندی کے ابتدائی لمحات ہمیشہ نازک ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اعتماد سازی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس عرصے کے دوران فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مذاکرات کو جاری رکھیں، تو ایک مستقل حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    اس تنازعے کی پیچیدگی اس بات میں ہے کہ یہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر پڑتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ اگر یہ کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو نہ صرف علاقائی استحکام خطرے میں پڑے گا بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی بندش کے باعث۔

    بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دے۔ بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر قائم رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار ممالک کا کردار بھی نہایت اہم ہو جاتا ہے جو اعتماد سازی میں پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی دیرپا امن کے لیے صرف وقتی جنگ بندی کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بنیادی مسائل کو حل کرنا ضروری ہوتا ہے، جن میں سیکیورٹی خدشات، علاقائی اثر و رسوخ، اور جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔ جب تک ان نکات پر کھلے دل سے بات چیت نہیں ہوگی، تب تک مستقل امن ایک خواب ہی رہے گا۔

    تاہم، موجودہ حالات میں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اگر جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی جو خطے کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتی ہے دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ ایک دانشمندانہ قدم امن اور استحکام کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ عالمی قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا کردار کس طرح درج کروانا چاہتی ہے۔

  • سعودی و ایرانی وزرائے خارجہ کا رابطہ

    سعودی و ایرانی وزرائے خارجہ کا رابطہ

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلیفون کیا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور باہمی امور پر گفتگو کی گئی۔

    سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری پیش رفت کا جائزہ لیا اور کشیدگی میں کمی لانے، سیکیورٹی اور استحکام کی بحالی کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔

    سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری پیش رفت کا جائزہ لیا اور کشیدگی میں کمی لانے، سیکیورٹی اور استحکام کی بحالی کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔

    رپورٹس کے مطابق گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں سفارتی روابط کو فروغ دے کر مسائل کا پرامن حل تلاش کیا جائے، تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال اور امن کے قیام کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ ہوا ہے، جس میں مذاکرات اور سفارتکاری کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی،اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

    یورپی یونین کی نمائندہ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور ابتدائی جنگ بندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کو یورپی یونین کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا،جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے رابطوں کو جاری رکھنے اور سفارتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

  • ٹرمپ کی امریکی پائلٹ کی گمشدگی رپورٹ کرنیوالے صحافی کو جیل بھیجنے کی دھمکی

    ٹرمپ کی امریکی پائلٹ کی گمشدگی رپورٹ کرنیوالے صحافی کو جیل بھیجنے کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وہ اس شخص کو تلاش کر رہے ہیں جس نے ایران میں پھنسے دوسرے پائلٹ کی خبر لیک کی، لیک ہونے والی معلومات سے ریسکیو آپریشن متاثر ہوا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی حکام اس شخص یا ادارے کی تلاش میں ہیں جس نے ایران میں پھنسے دوسرے پائلٹ کی معلومات لیک کیں صدر کے مطابق یہ معلومات منظرِ عام پر آنے سے ریسکیو آپریشن مزید مشکل ہو گیا اور اس سے پہلے ایران کو دوسرے پائلٹ کے بارے میں علم نہیں تھا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ جس میڈیا ادارے نے یہ رپورٹ شائع کی، امریکی حکام اس سے لیک کرنے والے کی شناخت طلب کریں گے اور اگر تعاون نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ خبر لیک کرنے والے کو ڈھونڈیں ہمیں یقین ہے کہ ہم اسے تلاش کر لیں گے کیونکہ ہم اس میڈیا کمپنی کے پاس جائیں گے اور کہیں گے یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، معلومات دو یا جیل جاؤ۔

    پریس بریفنگ آغاز میں صدر ٹرمپ نے ایران میں گرنے والے امریکی لڑاکا طیارے کے بعد کیے گئے بڑے ریسکیو آپریشن کی تفصیلات بھی جاری کیں۔

    اُنھوں نے بتایا کہ ایک امریکی ایف-15 طیارہ ایران میں ایک آپریشن کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، تاہم اس میں سوار دونوں اہلکار بروقت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پائلٹ محفوظ رہا جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا تھا، جسے ایرانی فورسز اور مقامی افراد تلاش کر رہے تھے زخمی پائلٹ ایک بلند مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، جہاں اس نے خود اپنے زخموں کا علاج کیا اور ایک خصوصی کمیونیکیشن ڈیوائس (بیپر طرز) کے ذریعے امریکی فوج سے رابطہ قائم کیا۔

    ٹرمپ کے مطابق پائلٹ کی تلاش اور بازیابی کے لیے تقریباً 200 امریکی فوجیوں کو تعینات کیا گیا اور ایک تاریخی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس میں 4 بمبار طیاروں، 13 ریسکیو ایئرکرافٹ سمیت مجموعی طور پر تقریباً 150 طیاروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی فورسز سات مختلف مقامات پر پھیل گئیں تاکہ ایرانی فورسز کو الجھایا جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس دوران نچلی پرواز کرنے والے کئی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں پر شدید فائرنگ ہوئی، حتیٰ کہ امریکی ہیلی کاپٹروں کو بھی متعدد گولیاں لگیں، تاہم فوری مرمت کے ذریعے انہیں دوبارہ قابلِ پرواز بنا دیا گیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کچھ کمپنیوں کو ایسی مرمت میں کئی دن لگ جاتے، مگر امریکی فوج نے یہ کام محض 10 منٹ میں انجام دیا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ شدید موسمی اور زمینی حالات، خصوصاً ریت کی وجہ سے دو پرانے طیارے پرواز نہ کرسکے، جس کے بعد امریکی فورسز نے کم وزن طیاروں کے ذریعے وہاں پہنچ کر ان طیاروں کو بھی تباہ کر دیا تاکہ کوئی اور انہیں استعمال یا جانچ نہ سکے۔

    ٹرمپ کے مطابق ایرانی حکام نے زخمی پائلٹ کو پکڑنے پر انعام کا بھی اعلان کیا تھا، تاہم امریکی فوج نے تمام خطرات کے باوجود کارروائی کرتے ہوئے 48 گھنٹوں کے اندر پائلٹ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پورے آپریشن میں کوئی بھی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور تمام طیارے شدید نقصان کے باوجود بحفاظت واپس لوٹ آئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے فوج کو واضح ہدایت دی تھی کہ کسی بھی صورت میں اپنے اہلکاروں کو واپس لایا جائے، کیونکہ امریکی فوج کسی کو پیچھے نہیں چھوڑتی۔

    اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج نے وسیع پیمانے پر کارروائیوں کے دوران ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا اور اس آپریشن میں غیر معمولی مہارت اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا گیا۔

  • 2 ارب مسلمان حرمین کے تحفظ کے لیے متحد ہیں، حافظ طاہر محمود اشرفی

    2 ارب مسلمان حرمین کے تحفظ کے لیے متحد ہیں، حافظ طاہر محمود اشرفی

    پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان کے کہنے پر سعودی عرب نے ایران کو کوئی جواب نہیں دیا، متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہمارے بھائیوں جیسے تعلقات ہیں، اگر کوئی ملک پاکستان سے مالی تعاون کرتا ہے اس کے معاہدات طے ہوتے ہیں اس پر منفی پروپیگنڈا کیا گیا کہ تعلقات خراب ہوجائیں۔

    جامعہ منظور اسلامیہ لاہور کینٹ میں اتحاد امت کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کوئی پاکستانی نہیں چاہتا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب ہوں اور پاکستانی یہ بھی نہیں چاہتے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو، دعا ہے کہ افغان عبوری حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں، افغان عبوری حکومت اورعلما سے کہتے ہیں کہ بے گناہ بچوں اورخواتین کو شہید کرنا جہاد نہیں بلکہ گناہ اورجرم عظیم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 36 روز گزر گئے مسجد الاقصی میں نماز نہیں ہو رہی، ایران حملے کے بعد اسرائیل کو موقع ملا اور اس نے نماز عید نہیں ہونے دی، 1967ء کے بعد اب مسجد الاقصی میں نماز عید نہیں ہوئی، ایران و اسلامی عالم میں تصادم نہیں ہونا چاہیے، عاصم منیر اور شہبازشریف نے برادر اسلامی ممالک سے مل کر کوشش کی کہ جنگ نہ ہو، آج کے دور میں افواہ سازی بے بنیاد پروپیگنڈا جس انداز سے پھیلایا جاتا ہے بھگوڑے یوٹیوبر ملکی وقار کو مجروع کررہے ہیں۔

    طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ایران کے صدر نے ٹویٹ میں پاکستان زندہ باد لکھا، سعودی عرب کے وزیر خارجہ پاکستان آئے جس پر پروپیگنڈا کیا کہ وہ نہیں آ رہے، پاکستان کے کہنے پر سعودی عرب نے ایران کو کوئی جواب نہیں دیا، متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہمارے بھائیوں جیسے تعلقات ہیں، اگر کوئی ملک پاکستان سے مالی تعاون کرتا ہے اس کے معاہدات طے ہوتے ہیں اس پر منفی پروپیگنڈا کیا گیا کہ تعلقات خراب ہوجائیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے باہمی اتحاد سے قومی امن کمیٹی کے ضابطہ اخلاق کے تحت پاک یو اے ای کے درمیان غلط فہمیوں کا مقابلہ کرکے قوم کو آگاہی دی، ایرانی حملے سے پہلے افغانستان سے پاکستان پر حملہ کروایا جس کے پیچھے اسرائیل و بھارت تھا تاکہ پاکستان سفارت کاری نہ کر سکے، اس وقت ایران بھی پاکستان زندہ باد کہہ رہا ہے اور سعودی عرب بھی پاکستان کی تعریف کررہا ہے، افواہ ساز کسی غلط فہمی میں نہ رہیں-

    طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ 2 ارب مسلمان حرمین کے تحفظ کے لیے متحد ہیں، بھارت کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ ہم جنگ مانگتے نہیں ہیں لیکن اگرکوئی جارحیت کی تو پہلے سے سخت جواب ملے گا،پاکستان کا کام امن کے قیام کے لیے کوششیں کرنا ہے، پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے، آگ پر پانی ڈالتے رہیں گے، جب ملک میں امن ہوگا، معیشت بہتر ہوگی تو مہنگائی کم ہوگی۔

  • ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں،وزیراعظم

    ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور حکومت عوامی ریلیف کے اقدامات کر رہی ہے،مشکل کی اس گھڑی میں کسی صورت عوام کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے-

    وزیراعظم کی زیرصدارت پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے نفاذ پر پیشرفت کا جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا اور متعلقہ حکام شریک ہوئے انٹیلی جینس بیورو نے حکومتی کفایت شعاری اور سادگی اقدامات کے نفاذ پر رپورٹ پیش کی اجلاس کو سبسڈی فراہمی پر پیشرفت کے ساتھ ملک میں ایندھن کے ذخائر اور کھپت پر بھی بریفنگ دی گئی۔

    اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسافر بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ منی بس و ویگنوں کو 40 ہزار روپے ماہانہ اور مال بردار گاڑیوں کو 80 ہزار اور ڈیلیوری وینوں کو 35 ہزار روپے سبسڈی دی جا رہی ہےاشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ روکنے کے لیے ٹرکوں کو 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جا رہی ہے، نظام میں شفافیت کیلئے یہ رقوم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کی جارہی ہے بلوچستان حکومت نے قومی پیکیج کے لیے طے شدہ رقم جمع کرادی ہے جو لائق تحسین ہے، امید ہے باقی صوبے بھی اس پیکیج کے لیے جلد از جلد طے شدہ رقوم جمع کرا دیں گے-

    ایران کے خلیجی ممالک پر حملے،متعدد اہم تنصیبات میں آگ لگ گئی

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں 129 ارب روپے کا عوامی ریلیف پیکیج دیا گیا، مشکل کی اس گھڑی میں کسی صورت عوام کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے، پیٹرول لیوی میں فی الفور 80 روپے فی لیٹر کی کمی کرکے عوام کو ریلیف دیا گیا جبکہ پاکستان ریلوے 6 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر رہی ہے، مسافر ٹرینوں اور مال گاڑیوں کے کرایوں میں کسی بھی قسم کا اضافہ نہیں کیا جا رہا، ٹول ٹیکس میں سہ ماہی 25 فیصد اضافہ بھی واپس لے لیا گیا ہے، مشکل وقت میں جس قدر ممکن ہے، عوامی ریلیف کے اقدامات کر رہے ہیں، ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں۔

    اتحاد ایئرویز کا کرایوں میں 50 فیصد کمی کا اعلان