Baaghi TV

Tag: مشرق وسطیٰ

  • امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی، 2000 پیراٹروپرز روانہ

    امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی، 2000 پیراٹروپرز روانہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکا نے اپنے فوجی دستوں میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق تقریباً 2 ہزار امریکی فوجی، جو 82ویں ایئربورن ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں، خطے کی جانب روانہ کیے جا رہے ہیں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید فوجی آپشنز فراہم کیے جا سکیں یہ فوجی ایک خاص یونٹ “’امیڈیٹ ریسپانس فورس‘ کا حصہ ہیں، جو دنیا کے کسی بھی حصے میں 18 گھنٹوں کے اندر تعینات ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اس دستے میں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل برینڈن ٹیگٹمیئر سمیت سینئر افسران اور تقریباً دو بٹالین شا مل ہیں، جن میں ہر ایک میں لگ بھگ آٹھ سو اہلکار موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید فوجی بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق پہلے ہی تقریباً 4500امریکی میرینز خطے کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، جس کے بعد حالیہ تعیناتی کے ساتھ کل اضافی فوجیوں کی تعداد تقریباً 7000تک پہنچ گئی ہے مجموعی طور پر اس وقت مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 50 ہزار فوجی ’ایپک فیوری‘ نامی آپریشن کا حصہ ہیں ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان نئے فوجیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے کس مقام پر تعینات کیا جائے گا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے مقامات پر رکھا جائے گا جہاں سے ایران تک فوری رسائی ممکن ہو۔

    ماہرین کے مطابق ان فوجیوں کو ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز ’خارگ جزیرے‘ پر ممکنہ کارروائی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں امریکی فضائی حملے بھی کیے گئے تھے اسی دوران مزید امریکی میرینز بھی خطے میں پہنچنے والے ہیں، جنہیں آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کو محفوظ بنا نے یا دیگر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیراٹروپرز تیزی سے تعینات ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس بھاری اسلحہ اور بکتر بند گاڑیاں کم ہوتی ہیں، اس لیے ممکنہ طور پر انہیں دیگر فوجی یونٹس کے ساتھ مل کر استعمال کیا جائے گا۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان رابطہ

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس دوران خطے کی تازہ صورتحال اور کشیدگی کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی و عالمی امن و استحکام سے متعلق امور اور جاری سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو کی،وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی سلامتی اور خودمختاری پر حملوں کی مذمت کی۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیشہ اور مضبوطی سے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی آگ اور پاکستان کی خاموش حکمتِ عملی،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی آگ اور پاکستان کی خاموش حکمتِ عملی،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی آگ اور پاکستان کی خاموش حکمتِ عملی

    پاکستان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم ناپ تول کر رکھنا ضروری ہے، ایک طرف ایران اس کا ہمسایہ ہے، جس کے ساتھ طویل سرحد اور تاریخی روابط موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے اسٹریٹجک اور معاشی تعلقات ہیں۔ٕ، مزید برآں، امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات مکمل طور پر منقطع نہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اس بحران میں کھل کر کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے ایک محتاط اور متوازن پالیسی اختیار کی ہے۔

    یہ پالیسی بظاہر سادہ نظر آتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک نہایت پیچیدہ حکمتِ عملی ہے، پاکستان نے بیک وقت تین محاذوں پر توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے: ہمسایہ ایران کے ساتھ تعلقات کو خراب ہونے سے بچانا، خلیجی اتحادیوں کو مطمئن رکھنا، اور عالمی سطح پر خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرنا۔ اس دوران اس نے سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جو کہ ایک مثبت اشارہ ہے۔

    تاہم، اس حکمتِ عملی کے اپنے خطرات بھی ہیں۔ اگر جنگ مزید پھیلتی ہے اور خلیجی ممالک براہِ راست اس میں شامل ہو جاتے ہیں تو پاکستان کے لیے غیر جانبدار رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ داخلی سطح پر بھی اس کے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر فرقہ وارانہ تناؤ کی صورت میں۔ مزید یہ کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کی کمزور معیشت پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔

    ان تمام چیلنجز کے باوجود، اب تک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے ایک حد تک کامیابی کے ساتھ اپنی پوزیشن کو سنبھالا ہوا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی میں احتیاط، توازن اور وقتی ضرورتوں کو مدنظر رکھنے کا عنصر نمایاں ہے، عسکری قیادت نے بھی کسی جذباتی یا جلد بازی پر مبنی فیصلے کے بجائے ایک محتاط رویہ اپنایا ہے، جو کہ موجودہ حالات میں دانشمندانہ معلوم ہوتا ہے۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان نے اب تک کیا کیا، بلکہ یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ کیا کرے گا، اگر جنگ محدود دائرے میں رہتی ہے تو پاکستان اپنی موجودہ پالیسی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے، لیکن اگر یہ تصادم ایک بڑی عالمی صف بندی میں بدل جاتا ہے تو پھر پاکستان کو زیادہ واضح اور شاید مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔

    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک خاموش مگر اہم کردار ادا کر رہا ہے، اس کی حکمتِ عملی بظاہر کم نمایاں ضرور ہے، مگر اس میں بقا، تواز ن اور دور اندیشی کے عناصر واضح طور پر موجود ہیں، موجودہ حالات میں شاید یہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ پاکستان خود کو اس آگ سے دور رکھتے ہوئے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں طاقت کے زور پر معاہدے مسلط نہیں کیے جا سکتے ، روس

    مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں طاقت کے زور پر معاہدے مسلط نہیں کیے جا سکتے ، روس

    ماسکو: روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے زور پر معاہدے مسلط نہیں کیے جا سکتے اور اس طرح کی پالیسی خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرے گی۔

    اپنے ایک بیان میں سرگئی لاروف نے ایران پر امریکی حملوں کے تناظر میں کہا کہ دنیا تیزی سے ’طاقت کے قانون‘ کی طرف واپس جا رہی ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں جبکہ کمزور ممالک کو اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، امریکا کی پالیسیوں میں صرف اپنے مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس کے باعث عالمی توازن متاثر ہو رہا ہے، مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں زبردستی فیصلے یا معاہدے نافذ کرنا دیرپا امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    سرگئی لاروف نے مزید کہا کہ امریکا توانائی کے وسائل کے حصول کے لیے وینزویلا اور ایران جیسے ممالک میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ دوسری جانب یورپ کو سستی توانائی سے محروم کیا جا رہا ہے، جس کے معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں،عالمی تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

  • ایرانی حملوں کا خوف، امارات میں کھلے میدانوں میں عید کی نماز پر پابندی

    ایرانی حملوں کا خوف، امارات میں کھلے میدانوں میں عید کی نماز پر پابندی

    ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں حکام نے اعلان کیا ہے کہ عید الفطر کی نماز صرف مساجد کے اندر ادا کی جائے گی، جبکہ کھلے میدانوں میں نماز کی اجازت نہیں ہوگی۔

    اماراتی حکام کے مطابق یہ فیصلہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ تمام مساجد میں عید کی نماز کے حوالے سے انتظاما ت مکمل کر لیے گئے ہیں حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور مقررہ مقامات پر ہی نماز ادا کریں۔

    دوسری جانب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں عید الفطر کا چاند دیکھنے کے لیے اجلاس آج ہوں گے، جس کے بعد عید کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

    عید کے چاند سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    ادھر یران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے رپورٹس کے مطابق قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، سعودی عرب اور بحرین نے حالیہ گھنٹوں میں متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے قطر کی وزارت دفا ع کے مطابق ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ کویت کی نیشنل گارڈ نے ایک ڈرون مار گرانے کی تصدیق کی ہے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس کے پی سے معلومات لیک ، 80اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا

    متحدہ عرب امارات میں بھی فضائی دفاعی نظام کو متحرک کیا گیا، جہاں دبئی سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں حکام کے مطابق یہ دھماکے دفاعی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوئےسعودی عرب نے بھی مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ بحرین نے جنگ کے آغاز سے اب تک سینکڑوں میزائل اور ڈرونز کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    دبئی، کویت اور دوحہ میں میزائل اور ڈرون حملے

  • اسحاق ڈار کا آذربائیجانی ہم منصب سے رابطہ

    اسحاق ڈار کا آذربائیجانی ہم منصب سے رابطہ

    نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسٖحاق ڈار نے آذربائیجان کے وزیر خارجہ جيحون بيراموف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری صورتحال کی تازہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا،اس موقع پر باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر بھی گفتگو کی گئی۔

    مذاکرات کے دوران پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں سفارتی سطح پر مشاورت کا عمل تیز ہو رہا ہے۔

    آپریشن غضب للحق ،خیبر سیکٹر سے ملحقہ افغان طالبان کی فوجی پوسٹیں تباہ

    فٹبال ورلڈ کپ: ایران کا اپنے میچز امریکا سے منتقل کرنے کے لیے فیفا سے رابطہ

    آبنائے ہرمز،اتحاد کی آزمائش یا نئی تقسیم؟تجزیہ :شہزاد قریشی

  • فرانسیسی صدر  کا ایران سےآبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ

    فرانسیسی صدر کا ایران سےآبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فرانسیسی صدر میکرون کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس دوران مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کی گئی، فرانسیسی صدر میکرو ن نے ایرانی صدر پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں حملوں کو فوری بند کیاجائے، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جلد از جلد بحال کی جانی چاہیے‏۔

    میکرون نے کہا کہ نیا سیاسی اور سکیورٹی فریم ورک ہی سب کے لیے امن اور سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے، فریم ورک کو یہ ضمانت بھی دی جائے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

    کوسٹ گارڈز کی گوادر میں کارروائی، اعلی کوالٹی کی منشیات برآمد کرلیں

    ایتھوپیا میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں، پاکستان کا اظہار افسوس

    اماراتی صدر کا سعودی ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ

  • اماراتی صدر کا سعودی ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ

    اماراتی صدر کا سعودی ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ

    اماراتی صدر محمد بن زاید النہیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے کی صورتحال پر گفتگو میں فوجی کشیدگی فوری روکنے کا مطالبہ کیا گیا اماراتی صدر اور سعودی ولی عہد نے ایرانی حملوں کو عرب خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کیخلاف ورزی قرار دیا،انہوں نے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ مکالمے اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دینے پر زور دیا۔

    دربار بابا بلہے شاہ کے مزار کے قریب گندگی کے ڈھیر ،انتظامیہ بے خبر

    ایران کا اسرائیل پر پہلی بار سجیل میزائل سے حملہ

    ہمت ہے تو ٹرمپ امریکی بحریہ کو خلیج فارس بھیجیں،پاسداران انقلاب

  • حملے ہوئے تو سخت جواب دیا جائے گا،انڈیا کی ایران کو دھمکی

    حملے ہوئے تو سخت جواب دیا جائے گا،انڈیا کی ایران کو دھمکی

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پہلی بار تہران کو دھمکی دی-

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ بھارت پہلے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ ایران اس طرح کے حملوں میں ملوث ہے اور اگر تصدیق ہو گئی تو ایران کو پاکستان سے سخت جواب دیا جائے گابھارت دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا اور ایران کو بھارت کے خلاف کسی بھی جارحیت کے لیے نہیں بخشا جائے گا۔”

    واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں بھارت جانے والے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جسے بعض ماہرین ایران کے ممکنہ ردعمل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

    امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تھائی لینڈ کے مال بردار جہاز مے یوری ناری کو اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا اس جہاز پر بھارت کے شہر گجرات کے لیے سامان لے جایا جا رہا تھاحملے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور اس کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، تاہم عملے کے کئی ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و بھارت تعلقات میں موجود پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے ایران بھارت کی اس پالیسی سے ناراض ہے جس میں وہ بیک وقت ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ عملی طور پر اسرائیل کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

    امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران حالیہ بعض اقدامات کو اپنے خلاف بھارتی صف بندی کا حصہ سمجھ رہا ہے، اسی لیے بھارت جانے والے تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کو ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • خلیجی پانیوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ

    خلیجی پانیوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ

    خلیج کے پانیوں میں متعدد بحری جہازوں پر حملوں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق کے قریب خلیجی پانیوں میں کم از کم چھ جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو آئل ٹینکروں میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور ایک غیر ملکی عملے کے رکن کی ہلاکت کی اطلاع ہے نشانہ بننے والے جہازوں میں مارشل آئی لینڈ کے جھنڈے تلے چلنے والے آئل ٹینکر ’سیف سی وشنو‘ اور ’زیفیروز‘ شامل ہیں، جو عراق سے ایندھن لے کر روانہ ہوئے تھے، عراقی بندرگاہ حکام کے مطابق حملے کے بعد دونوں جہازوں میں آگ لگ گئی جبکہ امدادی ٹیموں نے متعدد عملے کے ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔حملے کے بعد ملک کے آئل ٹرمینلز کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں، تاہم تجارتی بندرگاہیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔

    نیتن یاہو ہولوکاسٹ کے بعد اسرائیلیوں کے لیے سب سے بڑی آفت بن چکے ہیں،ترک صدر

    ادھر اطلاعات ہیں کہ حملوں میں دھماکہ خیز مواد سے لیس بغیر عملے کی کشتیوں اور سمندری بارودی سرنگوں کا استعمال کیا گیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

    اسی دوران مختلف ممالک کے کئی جہازوں پر بھی حملوں کی اطلاعات ملی ہیں تھائی لینڈ کے کارگو جہازکو دو نامعلوم میزائل نما اشیاء نے نشانہ بنایا جس سے جہاز کے انجن روم میں آگ لگ گئی جبکہ تین عملے کے ارکان لاپتا بتائے جا رہے ہیں،اسی طرح جاپانی کمپنی کے کنٹینر جہاز ’ون مجیسٹی‘ اور ایک اور بحری جہاز ’اسٹار گینتھ‘ کو بھی نامعلوم پروجیکٹائل سے نقصان پہنچا، تاہم ان کے عملے کے ارکان محفوظ رہے۔

    نیتن یاہو ہولوکاسٹ کے بعد اسرائیلیوں کے لیے سب سے بڑی آفت بن چکے ہیں،ترک صدر

    دوسری جانب رپورٹس کے مطابق عالمی شپنگ کمپنیوں کی درخواستوں کے باوجود امریکی نیوی نے ابھی تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو فوجی سکیورٹی فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ موجودہ صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق خلیج میں حالیہ حملوں کے بعد عالمی تیل سپلائی اور سمندری تجارت کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں کیونکہ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس اسی اہم گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

    نیتن یاہو ہولوکاسٹ کے بعد اسرائیلیوں کے لیے سب سے بڑی آفت بن چکے ہیں،ترک صدر