Baaghi TV

Tag: مشرق وسطیٰ

  • مشرق وسطیٰ میں امریکی بی 52 طیارے،بحری جہازتعینات

    مشرق وسطیٰ میں امریکی بی 52 طیارے،بحری جہازتعینات

    امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بی 52 طیارے اور بحری جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق، یہ تعیناتی مشرق وسطیٰ میں ملٹری ری ایڈجسٹمنٹ کا حصہ ہے۔مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود طیارہ بردار جہاز اور تین جنگی جہاز رواں ماہ کے وسط تک واپس امریکا چلے جائیں گے۔پینٹاگون کے مطابق، اسرائیل کی دفاع اور حوثیوں کے حملوں سے اتحادیوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔

    یہ اقدام اسرائیل کے دفاع اور ایران کو انتباہ کے طور پر کیا جائے گا۔ امریکی وزارت دفاع نے پینٹاگان سے جاری ایک بیان میں کہا کہ امریکی وزیر دفاع واضح طور پر مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ایران یا اس کے شراکت داروں یا اس کے زیر انتظام گروپوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں امریکی افراد یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکا اپنے عوام کے دفاع کے لیے تمام مطلوبہ اقدامات کرے گا۔مذکورہ نئے ہتھیاروں میں بیلسٹک میزائل کے خلاف دفاعی وسائل، لڑاکا طیارے، B-52 بم بار طیارے اور دیگر نوعیت کے فوجی طیارے شامل ہیں۔

    مشرق وسطیٰ میں امریکی طیاروں اور بحری جہازوں کی اس تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے سنجیدہ ہے، لیکن اس کے اثرات خطے کی موجودہ صورت حال پر مزید تناؤ پیدا کر سکتے ہیں۔ جنگی طاقت کا مظاہرہ ایک طرف تو حفاظتی اقدام ہو سکتا ہے، مگر دوسری جانب یہ علاقائی تنازعات کو بھی بھڑکا سکتا ہے۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کا عزم

    ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کا عزم

    سابق امریکی صدر اور موجودہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کا عزم کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت کے دوران مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوا تھا اور وہ جلد ہی اس امن کو دوبارہ بحال کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، "میں کاملا ہیرس اور جو بائیڈن کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کروں گا اور لبنان میں تباہی کو روکا جائے گا۔”انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں یہ دیکھنا ہے کہ مشرق وسطیٰ حقیقی اور دیرپا امن کی طرف لوٹتا ہے۔ "ہم یہ کام صحیح طریقے سے کریں گے تاکہ یہ ہر 5 یا 10 سال بعد نہ دہرایا جائے۔” ٹرمپ نے لبنان کی تمام کمیونٹیوں کے درمیان برابری کی شراکت داری کو برقرار رکھنے کا عہد کیا۔

    سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ "آپ کے دوست اور خاندان لبنان میں امن، خوشحالی اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارنے کے حقدار ہیں، اور یہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔” ٹرمپ نے امریکی سرزمین پر رہنے والی لبنانی کمیونٹی کے ساتھ کام کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ لبنان کے عظیم لوگوں کی سلامتی اور سیکیورٹی کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ امن کے لیے ٹرمپ کو ووٹ دیں۔

    ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں حالات کشیدہ ہیں، اور بہت سے لوگ وہاں امن کی بحالی کی امید کر رہے ہیں۔

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • مشرق وسطی میں کشیدگی:پروازیں  متبادل، طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور

    مشرق وسطی میں کشیدگی:پروازیں متبادل، طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، قطر، سعودی عرب، بحرین، قبرص، مصر، اردن، اور عمان جیسے ممالک کو اہم فضائی ٹریفک کا سامنا ہے کیونکہ ایئر لائنز کی جانب مشرق وسطیٰ میں تنازعات والے علاقوں سے بچنے کے لیے پروازوں کا راستہ تبدیل کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایران، شام اور عراق جیسے علاقوں میں جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ نے ایئر لائنز کو محفوظ فضائی حدود کے ذریعے متبادل، طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، دبئی انٹرنیشنل (DXB) اور دوحہ کے حماد انٹرنیشنل جیسے بڑے ہوائی اڈے بڑھتی ہوئی ٹریفک کو سنبھال رہے ہیں، ان ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے زیادہ آپریشنل اخراجات اور پروازوں کے اوقات بڑھ گئے ہیں-

    جزیرہ نما عرب، خاص طور پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور سعودی عرب کے اوپر کی فضائی حدود، عالمی ہوا بازی کے لیے ایک فوکل پوائنٹ بن گیا ہے، دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (DXB) دنیا بھر کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک کے طور پر اپنا غلبہ جاری رکھے ہوئے ہے، جو یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان مربوط پروازوں کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔ خلیجی خطے میں پروازوں کا زیادہ ارتکاز دبئی، ابوظہبی اور دوحہ کی بین الاقوامی ہوائی ٹریفک کے لیے اہم ٹرانزٹ پوائنٹس کے طور پر اہمیت اختیار کر گیا ہے-

    بھارتی مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں دینے والا شخص گرفتار

    دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، اپنے جدید انفراسٹرکچر اور اسٹریٹجک مقام کے ساتھ، بین الاقوامی سفر کے لیے ایک اہم پل کا کام کرتا ہے، جو مشرق اور مغرب کے درمیان روابط فراہم کرتا ہے ایمریٹس دنیا کی صف اول کی ایئر لائنز میں سے ایک کے طور پر کامیابی نے دبئی کی حیثیت کو ہوا بازی کے ایک بڑے مرکز کے طور پر مستحکم کیا ہے۔ ہوائی اڈے کا وسیع نیٹ ورک 240 سے زیادہ منزلوں کو جوڑتا ہے، جس نے اسے یورپ اور ایشیا یا افریقہ کے درمیان طویل فاصلے تک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ایک ترجیحی اسٹاپ اوور بنا دیاہے۔

    مزید برآں، ابوظہبی میں واقع اتحاد ایئرویز، اور دوحہ میں قطر ایئرویز، خطے میں فضائی ٹریفک کے اعلیٰ حجم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کیریئرز لگژری ہوائی سفر اور وسیع روٹ نیٹ ورکس کے مترادف بن گئے ہیں، جس سے ہوا بازی کی صنعت میں خلیج کی اہمیت کو مزید تقویت ملی ہے۔

    خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک، خاص طور پر UAE، سعودی عرب اور قطر، نے اپنے آپ کو عالمی ہوا بازی کے مرکز کے طور پر پوزیشن دینے کی اقتصادی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے، اپنے ہوابازی کے شعبوں میں حکمت عملی کے ساتھ سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ بھاری ٹریفک ان کوششوں کا براہ راست نتیجہ ہے، کیونکہ مسافر کاروباری اور تفریحی سفر دونوں کے لیے اس خطے پر انحصار کرتے ہیں۔

    ایران اسرائیل کشیدگی:پاکستان نے فضائی ٹریفک کی مانیٹرنگ شروع کردی

    مشرق وسطیٰ میں فضائی ٹریفک کے موجودہ نمونوں کی ایک اہم خصوصیت تنازعہ والے علاقوں سے بچنا ہے، خاص طور پر عراق، شام اور ایران میں ، ان زیادہ خطرے والے علاقوں پر براہ راست پرواز کرنے کے بجائے، ایئر لائنز محفوظ علاقوں، بنیادی طور پر اردن، سعودی عرب اور جنوبی بحیرہ روم کے راستوں کے ذریعے متبادل راستوں کا انتخاب کر رہی ہیں۔ یہ راستہ تبدیل کرنے سے ایئر لائنز کو اضافی وقت اور اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں، کیونکہ طویل پرواز وں میں ایندھن کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے-

    تاہم، ایئر لائنز کے لیے حفاظت اولین ترجیح بنی ہوئی ہے، ایران، عراق اور شام پر فضائی حدود کو نظرانداز کرتے ہوئے، ایئر لائنز متبادل، زیادہ محفوظ راستوں کے ذریعے یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان روابط برقرار رکھتے ہوئے مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنا رہی ہیں۔

    ترکی اور مصر: بین الاقوامی ٹریفک کے لیے اہم گیٹ ویز
    مزید شمال میں، ترکی اور مصر کی فضائی حدود زیادہ استعمال کی جا رہی ہے ، جو یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کو ملانے والی پروازوں کے لیے ضروری گیٹ ویز کے طور پر ان کے کردار کو واضح کرتا ہے ترکی کی فضائی حدود، خاص طور پر، گنجان ہے، کیونکہ یہ ملک یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والی پروازوں کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔

    یوم سیاہ کشمیر :وزیراعظم اور صدر مملکت کے پیغامات

    استنبول ہوائی اڈہ، جو دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے، اس میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، کیونکہ ترکش ایئر لائنز یورپ اور باقی دنیا کے درمیان وسیع رابطے کی پیشکش کرتی ہے۔ استنبول کا تزویراتی محل وقوع اسے طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے ایک اہم اسٹاپ اوور بناتا ہے، جو ترکی کی فضائی حدود میں نظر آنے والی گھنی فضائی ٹریفک میں معاون ہے۔

    اسی طرح مصر کو اپنے مرکزی مقام اور یورپ اور افریقہ دونوں سے قربت کے ساتھ، کافی فضائی ٹریفک کا سامنا ہے قاہرہ بین الاقوامی ہوائی اڈہ افریقی اور مشرق وسطیٰ کی پروازوں کا ایک بڑا مرکز ہے، جس میں EgyptAir یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے لیے رابطوں کی پیشکش کرتی ہے-

    ایرانی فضائی حدود سے گریز ٹریفک
    ایک اور واضح رجحان ایرانی فضائی حدود سے گریز ہے۔ عراق اور شام کی طرح، ایران کے اوپر کی فضائی حدود جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے بین الاقوامی پروازوں کے لیے کم سازگار ہو گئی ہے۔ ایئر لائنز ایران کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کا انتخاب کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ہمسایہ ممالک جیسے آذربائیجان، ترکمانستان، اور سعودی عرب کے ذریعے اہم راستے نکل رہے ہیں۔

    معیشت کی بہتری کے لیے ہمیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے،وفاقی وزیر خزانہ

    پروازوں کی یہ ری روٹنگ نہ صرف پرواز کے اوقات میں اضافہ کرتی ہے بلکہ قریبی ممالک کی فضائی حدود پر بھی اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، سعودی عرب اور عمان جیسے ممالک نے ہوائی ٹریفک میں اضافہ دیکھا ہے، کیونکہ وہ ایرانی فضائی حدود سے بچنے والی ہوائی کمپنیوں کے لیے محفوظ، متبادل پرواز کے راستے فراہم کرتے ہیں۔

    عالمی فضائی ٹریفک پر جیو پولیٹیکل تناؤ کا اثر
    مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کا عالمی فضائی ٹریفک پر نمایاں اثر پڑا ہے۔ ایئر لائنز کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیزی سے ڈھالنا پڑا، حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پروازوں کا راستہ بدلنا پڑا اور تنازعات کے شکار علاقوں سے بچنا پڑا۔ اس ری روٹنگ نے کیریئرز کے لیے آپریشنل چیلنجز کا اضافہ کیا ہے، بشمول ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور پرواز کا طویل وقت۔

    مزید برآں، خلیجی ریاستوں، ترکی اور مصر پر مرکوز فضائی ٹریفک ان ممالک میں ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے، جس سے پروازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو منظم کرنے کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، خطے کا مسلسل استحکام، جدید ہوائی اڈے کی سہولیات، اور تزویراتی جغرافیائی پوزیشن اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ عالمی فضائی سفر کے لیے ایک اہم مرکز بنی ہوئی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کا ایران کی جوہری اور تیل تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے سے …

    نتیجہ: خلیجی ریاستیں عالمی ایوی ایشن پاور ہاؤسز کے طور پر
    جزیرہ نما عرب اور خلیجی ریاستیں، خاص طور پر دبئی اور ابوظہبی، نے اپنی حیثیت کو عالمی ہوا بازی کے مرکز کے طور پر مستحکم کیا ہے، جس سے نمایاں ہوائی ٹریفک کو راغب کیا گیا ہے۔ اس خطے کی یورپ، ایشیا اور افریقہ سے قربت اسے عالمی ہوائی سفر میں ایک اہم کنیکٹر بناتی ہے، جس میں امارات، اتحاد ایئرویز، اور قطر ایئرویز جیسی ایئر لائنز غالب کردار ادا کرتی ہیں۔

    چونکہ ایئر لائنز عراق، شام اور ایران میں تنازعات والے علاقوں کے ارد گرد سفر جاری رکھتی ہیں، خلیجی ریاستوں، ترکی اور مصر کے اوپر کی فضائی حدود عالمی رابطے کے لیے اہم رہیں گی۔ یہ علاقے عالمی ایوی ایشن نیٹ ورک میں اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے تیار ہیں، خاص طور پر جب کہ مشرق وسطیٰ کے دیگر حصوں میں جغرافیائی سیاسی تناؤ برقرار ہے۔

    یورپ سے متعلق با با وانگا کی خوفناک پیشگوئی

  • ایران اسرائیل کشیدگی کم کروانے کیلئے امریکا، برطانیہ متحرک

    ایران اسرائیل کشیدگی کم کروانے کیلئے امریکا، برطانیہ متحرک

    ایران ،اسرائیل کشیدگی رکوانے کے لئے امریکا سرگرم ہو چکا ہے، امریکا نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ ایران کو کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کرے

    ترکی میں امریکا کے سفیر جیف فلیک نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ترکی سمیت دیگر اتحادی ایران سے بات کریں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے کے لئے ایران کو آمادہ کریں، ترک رابطہ کار کوشش کر رہے ہیں کہ حالات مزید کشیدہ نہ ہوں،

    دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مشترکا بیان پر ایران کا ردعمل سامنے آیا ہے،ایران نے کشیدگی پر تحمل کے یورپی ممالک کے مطالبے کو مسترد کردیا،ایران نے جواب میں کہا کہ ” ایران سے تحمل کا مطالبہ سیاسی شعور کا فقدان ہے، ایران سے تحمل کا مطالبہ بین الاقوامی قانونی اصولوں سے بھی متصادم ہے، ایران ایک بار پھر فرانس، جرمنی اور برطانیہ سے غزہ جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے”۔ تین یورپی ممالک کے رہنماؤں کا یہ بیان اس وقت شائع ہوا جب اسرائیلی حکومت کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک کی بے حسی کے اثرات، اس حکومت کی طرف سے نسل کشی اور ہر قسم کے جنگی جرائم بے دفاع فلسطینی قوم پر جاری ہیں، اور صہیونی حکام کے سزا سے استثنیٰ نے انتہائی گھناؤنے جرائم اور بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب میں ان کی ہمت کو بڑھا دیا ہے،اگر متذکرہ ممالک واقعی خطے میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں تو انہیں اسرائیل کی نسل پرست حکومت کی جنگی مہم جوئی اور غزہ کے خلاف جنگ اور خواتین، بچوں اور شہریوں کے گھناؤنے اور خوفناک قتل کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔

    علاوہ ازیں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے ایرانی صدر سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے،سر کیئر اسٹارمر نے ایرانی صدر سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایران اسرائیل پر حملے سے باز رہے، جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے، برطانیہ کے وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا،برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر 30 منٹ تک بات چیت کی۔

    واضح رہے کہ برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران 24 گھنٹوں کے اندر اسرائیل پر حملہ کرسکتا ہے،مشرق وسطیٰ میں حکام سمجھتے ہیں کہ اسرائیل پر حملے کا وقت آگیا ہے،

    اسماعیل ہنیہ کے قتل پر ایران کے یقینی ردعمل اور اس کے سینئر کمانڈر شہید فواد شکر کے قتل پر لبنان کی اسلامی مزاحمت کے ردعمل کی وجہ سے اسرائیلی حکومت کی بے چینی اور ذہنی الجھنوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے،صہیونی ریڈیو نے اعتراف کیا ہے کہ شہید ھنیہ کے قتل کے بعد صہیونی اس قاتلانہ کارروائی کے جواب کے منتظر ہیں،اس رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کی انٹیلی جنس سروسز بھی اپنے اتحادیوں کی مدد سے حملے کی نوعیت، ٹارگٹ اور وقت جاننے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں اور حزب اللہ کے اہم عسکری کمانڈر فؤاد شکر کی بیروت کے جنوبی نواح میں ہلاکت کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی شدت عروج پر پہنچ چکی ہے ،اسماعیل ہنیہ کو 31 جولائی کو ایران میں اس وقت شہید کیا گیا تھا جب وہ ایرانی صدر کی حلف برداری کی تقریب کے لئے ایران میں موجود تھے.

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے اتوار کے روز اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں آگاہ کیا کہ ایران کی فوجی تیاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اسرائیل پر وسیع پیمانے پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے اسرائیل پر براہ راست حملے کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والے چند دنوں میں ہو گا، ایرانی صدر شدید جوابی کارروائی سے گریز چاہتے ہیں جب کہ پاسداران انقلاب وسیع پیمانے پر حملے کا ارادہ رکھتی ہے

  • امریکی اہلکاروں پر حملے برداشت نہیں کرینگے، امریکی وزیر دفاع

    امریکی اہلکاروں پر حملے برداشت نہیں کرینگے، امریکی وزیر دفاع

    امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں امریکی اہلکاروں پر حملے برداشت نہیں کرے گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں پر حملے کے پیچھے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کا ہاتھ تھا،امریکی اہلکاروں پر حملے کسی صورت برداشت نہیں ہیں،قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع یاو گیلنٹ نے اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن سے ٹیلی فون پر مشرق وسطی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کےلیے رابطہ کیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی سلامتی کےلیے امریکہ ہر ممکنہ تعاون کرے گا.

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ہم نے ایران اور اسرائیل سے براہ راست بات چیت کی ہے کہ کسی کو بھی مشرق وسطیٰ میں تنازعات کو نہیں بڑھانا چاہیے، مشرق وسطیٰ میں مزید حملے تنازعات، عدم استحکام اور عدم تحفظ کو جنم دیں گے،غزہ کے یرغمالیوں کے مذاکرات آخری مرحلے پر پہنچ چکے ہیں، یہ اہم ہے کہ فریقین معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کیلئے کام کر رہے ہیں،ایران اور اسرائیل کشیدگی سے گریز کریں ۔خطے میں کشیدگی کو روکنے کیلئے مسلسل کام کررہے ہیں ۔ اس سلسلے میں اتحادیوں سے بات چیت اور سفارتی ذرائع استعمال کررہے ہیں ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عراق میں امریکی فوجی اڈے پر راکٹ حملہ ہوا تھا جس میں متعدد امریکی اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

    لبنان بارے سفری ایڈوائزری،365 نیوز کی "کھرا سچ”ٹیم کی لبنان روانگی مؤخر

    یحییٰ السنوار حماس کے نئے سربراہ مقرر

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی،کئی ممالک کااپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت

    مشرق وسطیٰ کشیدگی،کئی ممالک کااپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت

    مشرق وسطیٰ ميں کشيدگی کم کرنے کی علاقائی و عالمی کوششیں جاری ہیں،اردن کے وزير خارجہ ايران کا دورہ کر رہے ہيں تاکہ ايران کو اسرائيل کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب امريکہ اور کئی عرب ممالک بھی اس وقت کشیدگی میں کمی کے لیے متحرک ہیں۔

    امریکا کا کہنا ہے کہمشرق وسطیٰ میں فوجی اقدامات کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے،وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر جوناتھن فنر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی اقدامات کا مقصد حملوں کو روکنا، دفاع کرنا اور علاقائی تنازعات سے بچنا ہے، امریکا اور اسرائیل ہر ممکن تیاری کر رہے ہیں، اپریل میں علاقائی تصادم کا امکان بہت قریب پہنچ گیا تھا، امریکا چاہتا ہے دوبارہ ایسی صورت پیدا ہوتی ہے تو اس کیلئے تیاری کی جائے۔

    مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے امریکہ، برطانیہ،جاپان، اٹلی اور ترکیہ سمیت کئی ممالک نے لبنان کے لیے سفری ایڈوائزری جاری کی ہے اور اپنے شہریوں کو لبنان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے،اطالوی وزیر خارجہ نے اپنے شہریوں کو لبنان کے جنوبی حصے کا سفر نہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے،ترک وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے اور لبنان کے کشیدگی والے علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کی ہدایت کی ہے، جاپان نے بھی اپنے شہریوں کو فوری لبنان چھوڑنے کی ہدایت کر دی،جاپانی وزارت خارجہ نے ٹریول الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو لبنان چھوڑنے پر زور دیا ہے، امریکا،برطانیہ،سوڈان، اردن بھی اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کا کہہ چکے ہیں،لبنان میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ امریکی شہری فوری طور پر کسی بھی میسر ایئرلائن سے واپسی کر لیں،دوسری جانب کینیڈا نے اپنے شہریوں کو اسرائیل کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، فرانس نے بھی اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی کے خطرے کے پیش نظر فرانسیسی شہری لبنان کا سفر نہ کریں۔

    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں گاڑی پر فضائی حملے میں حزب اللّٰہ کے اہم کمانڈر علی عبد علی شہید ہوگئے، جواب میں حزب اللّٰہ نے اسرائیلی اہداف کو راکٹوں اور توپوں سے نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف حملہ آج ہو سکتا ہے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے حملے کے پیشں نظر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایران پر قبل از وقت حملے کی منظوری دے سکتے ہیں،اسرائیل نے بھی ایران پر جوابی حملے کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے،یہ تیاری اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ کے بعد کی گئی ہے، جس میں اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کے علاوہ وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف ہرزی حلوی نے بھی شرکت کی تھی۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی میڈیا کے علاوہ امریکی ویب سائٹ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور بیروت میں اسرائیلی حملوں کا جواب ایران آج دے سکتا ہے،امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کے حوالے سے امریکی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ایران اور اس کی پراکسیز پیر تک اسرائیل پر حملہ کرسکتے ہیں، جو 13 اپریل جیسا لیکن پہلے سے زیادہ وسیع پیمانے پر ہوگا، اس حملے میں ایران لبنان سے حزب اللہ کو بھی اپنے ساتھ شامل کرسکتا ہے

    مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان کئی ایئر لائن نے تل ابیب جانے والی اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ منسوخی سے سینکڑوں اسرائیلی پھنسے ہوئے ہیں اور اس نے خطے میں پروازوں کی حفاظت اور حفاظت کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اضافی لڑاکا طیارے بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ ایران اور اس کے پراکسیوں کے متوقع حملوں کا مقابلہ کرنے میں اسرائیل کی مدد کی جا سکے۔ صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک تناؤ بھرا فون کیا، جس میں ان پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں اور غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کے معاہدے پر عمل کریں۔

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • مشرق وسطیٰ میں صورتحال کو مستحکم کرنے اور امن کی بحالی کی اشد ضرورت ہے،پاکستان

    مشرق وسطیٰ میں صورتحال کو مستحکم کرنے اور امن کی بحالی کی اشد ضرورت ہے،پاکستان

    اسلام آباد: پاکستان نے خطے میں امن کے قیام اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری پیش رفت کو گہری تشویش سے دیکھ رہا ہے تاہم اب صورتحال کو مستحکم کرنے اور امن کی بحالی کی اشد ضرورت ہےکئی مہینوں سے، پاکستان نے خطے میں امن کے قیام اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے 2 اپریل کو شام میں ایرانی قونصلر دفتر پر حملے کو خطے میں ایک بڑی کشیدگی کے طور پر اشارہ کیا تھا اور آج کی پیش رفت سفارت کاری کے بریک ڈاؤن کو ظاہر کرتی ہے یہ ان صورتوں میں سنگین مضمرات کو بھی واضح کرتے ہیں جہاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہے ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انتہائی تحمل سے کام لیں اور کشیدگی کو کم کرنے کی طرف بڑھیں۔

    اردن کا اسرائیلی حمایت میں جوابی حملوں پرنظر ہے، اردن ہمارا اگلا ہدف ہوسکتا ہے،ایران

    ٹیکس نادہندگان کیخلاف کارروائی کی تیاری مکمل، ٹیکس لیے بغیر اب گزارا نہیں،ایف بی …

    اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک کیساتھ بارش متوقع ،محکمہ …

  • مشرق وسطیٰ میں ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپوں پر  مزید حملے کریں گے،امریکا

    مشرق وسطیٰ میں ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپوں پر مزید حملے کریں گے،امریکا

    واشنگٹن: امریکانے خبردار کیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپوں کے خلاف ابھی اور حملے کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے-

    باغی ٹی وی : وائٹ ہاؤس کےقومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کو نشانہ بنانے کے لیے مشرق وسطیٰ میں مزید حملوں کا ارادہ رکھتا ہے، ہم اس سلسلے میں مزید حملوں اور دیگر ایکشنز کا بھی سوچ رہے ہیں، مشرق وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں پر مزید حملوں کا مقصد یہ واضح پیغام دینا ہے جب ہماری فورسز پر حملہ کیا جائے گا اور ہمارے لوگوں کو قتل کیا جائے گا تو امریکا اس کا جواب دے گا۔

    دوران بریفنگ ایک سوال کے جواب میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے ایران کے اندر حملے سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ اس حوالے سے امریکی فوج محتاط رہی ہے۔

    جنوبی وزیرستان میں آزاد امیدوارکو پولیس نے گرفتار کرلیا

    واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ دنوں عراق، شام اور یمن میں حملے کیے جن میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کو نشانہ بنانےکا دعویٰ کیا گیا ہے جب کہ امریکا کے ساتھ برطانیہ نے بھی ہفتے کی شب یمن میں حوثیوں پر حملے کیے اس سے پہلے امریکہ اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے رد عمل میں دو بار ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے ٹھکانوں پر حملے کر چکا ہے۔

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، …

    علی ظفر نے پی ایس ایل 9 کے ترانے کا نام بتا دیا

  • مشرق وسطیٰ کیلئے نئی قومی دفاعی حکمت عملی کا مقصد لاکھوں امریکی فوجیوں کو نکالنا ہے،امریکا

    مشرق وسطیٰ کیلئے نئی قومی دفاعی حکمت عملی کا مقصد لاکھوں امریکی فوجیوں کو نکالنا ہے،امریکا

    واشنگٹن: امریکی نائب وزیر دفاع برائے اسٹریٹیجی مارا کارلن کا کہنا ہےکہ امریکا مشرق وسطیٰ میں حکومت کی تبدیلی کے لیے جنگیں نہیں چھیڑے گا لیکن اس خطے میں موجود رہے گا۔

    باغی ٹی وی: امریکا کی نائب وزیردفاع برائے سٹریٹیجی، پلان اور کیپیبلٹی مارا کارلن نےواشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کے دوران حکمت عملی کی وضاحت کرتےہوئےکہا کہ امریکا نئی قومی دفاعی پالیسی کے تحت فوجی کارروائیوں کے ذریعے حکومتوں کو تبدیل کرنے کے بجائے ریاستوں کے ساتھ اتحاد اور شراکت داری کے فروغ پر توجہ دے رہا ہے۔

    معروف قانون دان عرفان قادر وزیراعظم کے معاون خصوصی مقرر

    امریکی عہدیدارمارا کارلن نے کہا کہ امریکا کی نئی قومی دفاعی حکمت عملی کے تحت علاقائی خطرات کو ختم کرنے کے لئے شراکت داری کے ساتھ باہمی تعاون پرغور کرے گا مشرق وسطیٰ کےلیے نئی قومی دفاعی حکمت عملی کے مقاصد میں ایک یہ بھی شامل ہے کہ اس خطے سے لاکھوں امریکی فوجیوں کو نکالنا ہے اس لئے اس حکمت عملی کو ’پیراڈائم شفٹ‘ یعنی بنیادی تبدیلی قراردیا ہے۔

    ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنا ہے جو پاکستان کی بنیادوں کو تباہ کرنا چاہتے …

    امریکی نائب وزیر دفاع نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکا کے عزائم میں کوئی کمی آئی ہے امریکہ اس خطے میں موجود رہے گا یہ ہماری حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے، یہاں سے ہمارے قومی سلامتی کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

  • امریکامشرقِ وسطیٰ سے کہیں نہیں جارہا، بدستورشراکت دار رہے گا: جوبائیڈن

    امریکامشرقِ وسطیٰ سے کہیں نہیں جارہا، بدستورشراکت دار رہے گا: جوبائیڈن

    جدہ :امریکامشرقِ وسطیٰ سے کہیں نہیں جارہا، بدستورشراکت دار رہے گا:اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدرجو بائیڈن نے عرب رہ نماؤں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکا مشرقِ اوسط میں ایک فعال شراکت دار کی حیثیت سے موجود رہے گا۔

    وہ ہفتے کے روزجدہ میں منعقدہ ’سلامتی اورترقی سربراہ اجلاس‘ میں شریک عرب رہ نماؤں سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہاکہ امریکاخطے کے مثبت مستقبل کی تعمیرمیں مدد دینے کے لیے آپ سب کے اشتراک سے سرمایہ کاری کر رہا ہے اور وہ خطے سے کہیں نہیں جا رہا ہے۔

    بائیڈن مشرقِ اوسط میں امریک کی مشغولیت کا ایک نیاباب شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔امید ہے کہ وہ امریکی فوجی تنازعات سے آگے بڑھیں گے اور اس کے بجائے ایک ایسے خطے پرزوردیں گے جو ممالک کے داخلی معاملات کا احترام کرے لیکن امریکا ایران سے متعلق لاحق خدشات کے پیش نظراقتصادی انضمام اور مشترکہ دفاع کا خواہاں ہو۔

    بائیڈن نے سربراہ اجلاس کویہ بھی بتایا کہ امریکااس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ جوہری ہتھیار کبھی ایران کے ہاتھ نہ لگیں۔

    وہ صدر امریکاکی حیثیت سے مشرق اوسط کے اپنے پہلے دورے پر ہیں۔ انھوں نے جمعہ کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز اورسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی اورآج انھوں نے چھے خلیجی عرب ریاستوں پر مشتمل جی سی سی اور مصر، اردن اور عراق کے مشترکہ سربراہ اجلاس میں شرکت کی ہے۔