Baaghi TV

Tag: مشرق وسطیٰ

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی:عالمی ہوا بازی اور معشیت  مفلوج ،دبئی بند

    مشرق وسطیٰ کشیدگی:عالمی ہوا بازی اور معشیت مفلوج ،دبئی بند

    28 فروری، 2026 تک، دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (DXB) شدید خلل کا سامنا ہے، جس میں علاقائی سلامتی میں اضافے کے بعد پروازیں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہیں۔

    ایکس پر صارفین پھنسے ہوئے مسافروں کی فوٹیج شیئر کر رہے ہیں کیونکہ بڑے کیریئرز نے خدمات کو روک دیا ہے، جس سے خلیج میں وسیع پیمانے پر ہوا بازی کی افراتفری اور اقتصادی نظام مفلوج ہو رہا ہے۔

    ائیر پورٹ کی بندش: دبئی (DXB) اور ابوظہبی کی فضائی حدود/ہوائی اڈوں پر معطلی دیکھی گئی ہے، حفاظتی صورتحال کی وجہ سے ٹریفک روک دی گئی ہے کینیا ایئرویز اور دیگر بین الاقوامی ایئر لائنز نے متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں بند کر دی ہیں ایئر انڈیا اور انڈیگو نے مشرق وسطی کے آپریشنز کو معطل کر دیا، اور دیگر علاقائی فضائی حدود کی بندش سے موجودہ رکاوٹوں کو بڑھا دیا۔

    اقتصادی اثر: شٹ ڈاؤن سے دبئی کے اقتصادی ماڈل کو خطرہ ہے، جو کنیکٹیویٹی، سیاحت اور تجارت پر بنایا گیا ہے مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ ہوائی اڈوں سے گریز کریں اور ایئر لائنز سے رابطہ کریں، کیونکہ ہزاروں لوگ اعراض میں ہیں۔

    یہ بحران ایران اور عراق سمیت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کی اطلاع کے بعد ہے، جس نے اہم فضائی راہداریوں کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا ہے۔

  • مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی :8 ممالک کی فضائی حدود بند

    مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی :8 ممالک کی فضائی حدود بند

    ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

    مشرقی وسطیٰ میں صورتحال نے یورپ اور ایشیا کے درمیان فضائی راستوں کو شدید متاثر کیا ہے اور دنیا بھر کی بڑی فضائی کمپنیوں کو پروازیں منسوخ، معطل یا متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑا ہے،فضائی حدود بند کرنے والے ممالک میں ایران، اسرائیل، عراق، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور شام شامل ہیں۔

    امارات ایئرلائن نے دبئی ہوائی اڈے سے اپنی پروازیں معطل کر دیں، جبکہ فلائی دبئی کی سروسز بھی فضائی حدود کی بندش سے متاثر ہوئیں قطر ایئرویز نے عارضی طور پر پروازیں روک دیں، اور عمان ایئر نے بغداد کے لیے پروازیں معطل کر دیں، کویت ایئرویز نے ایران کے لیے تمام پروازیں بند کر دیں،پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر روک دیں۔

    ایمریٹس نے بھی دبئی آنے اور جانے والی اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ ایئر لائن نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے تازہ ترین صورتحال ضرور چیک کریں متاثرہ مسافروں کو ری بکنگ، رقم کی واپسی یا متبادل سفری انتظامات کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    ورجن اٹلانٹک نے بھی لندن ہیتھرو سے دبئی جانے والی اپنی پرواز منسوخ کر دی ہے جبکہ کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا، مالدیپ اور سعودی عرب جانے والی پروازوں کو متبادل راستوں کے باعث زیادہ وقت لگ سکتا ہےاسی طرح برٹش ایئر ویز نے تل ابیب اور بحرین کے لیے اپنی پروازیں بدھ تک منسو خ کر دی ہیں جبکہ عمان جانے والی پرواز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔

    ہنگامی صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لندن سے دوحہ جانے والی ایک پرواز کو منزل کے قریب پہنچ کر واپس موڑ دیا گیاوزز ایئر نے اسرائیل، دبئی، ابوظہبی اور عمان کے لیے تمام پروازیں فوری طور پر معطل کر دی ہیں جبکہ سعودی عرب کے لیے اس کی پروازیں منگل تک منسوخ رہیں گی۔

    ان کے علاوہ ایئر انڈیا، لفتھانسا اور ترکش ایئرلائنز نے بھی مشرقِ وسطیٰ کے لیے متعدد پروازیں منسوخ یا محدود کرنے کا اعلان کیا ہے ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ وہ خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی فضائی حدود محفوظ قرار دی جائیں گی، پروازوں کا شیڈول مرحلہ وار بحال کر دیا جائے گا۔

    ترک ایئرلائنز اور دیگر ترک فضائی کمپنیوں نے ایران، عراق، شام، لبنان، اردن، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کے لیے متعدد پروازیں منسوخ کر دیں۔

    جرمن، فرانسیسی، برطانوی اور نیدرلینڈز کی بڑی فضائی کمپنیوں نے تل ابیب، دبئی، بیروت، ریاض اور دیگر شہروں کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کر دیں، جبکہ بعض پروازوں کو دورانِ سفر واپس موڑنا پڑا۔

    بھارت کی قومی فضائی کمپنی نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے تمام پروازیں معطل کر دیں اور دہلی سے تل ابیب جانے والی پرواز کا رخ موڑ دیا۔ جاپان کی قومی فضائی کمپنی نے ٹوکیو سے دوحہ کی سروس منسوخ کر دی، جبکہ دیگر بھارتی فضائی کمپنیوں نے بھی ممکنہ خلل سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔

    قومی ایئر لائن نے بھی خلیجی ممالک کے لیے اپنا فضائی آپریشن فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہےاعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات، بحرین، دوحہ اور کویت کے لیے شیڈول تمام پروازیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں یہ معطلی ابتدائی طور پر اتوار کی شام تک یا خطے میں فضائی حدود کی بحالی تک برقرار رہے گی سعودی عرب کے لیے پروازیں بدستور جاری رہیں گی تاہم حفاظتی وجوہات کی بنا پر ان کا روٹ تبدیل کر دیا گیا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث متعدد پروازیں کراچی منتقل کر دی گئی ہیں جس کے باعث جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈائیورٹڈ فلائٹس کا دباؤ بڑھ گیا ہےایئرپورٹ ذرائع کے مطابق کراچی ایئرپورٹ پر پارکنگ اسپیس عارضی طور پر دستیاب نہیں رہی۔

    انتظامیہ کی جانب سے ایئرلائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ڈائیورژن سے قبل جناح ٹرمینل انتظامیہ سے رابطہ کیا جائے، جبکہ ڈائیورٹڈ پروازوں کے لیے پیشگی کوآرڈینیشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہےصورتحال کے پیشِ نظر دو گھنٹوں کے لیے نیا نوٹم جاری کر دیا گیا ہے ذرائع کے مطابق مختلف ایئرلائنز کی تین بین الاقوامی پروازیں صرف ایندھن بھروانے کے لیے کراچی ایئرپورٹ پر اتریں، جو ری فیولنگ کے بعد روانہ ہو گئیں۔

    ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود کی بندش سے عالمی فضائی نظام میں شدید خلل پیدا ہوا ہے اور مسافروں کو طویل تاخیر اور منسوخیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے صورتحال کے پیشِ نظر فضائی کمپنیاں مسلسل اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں۔

  • امریکا اپنے سیاسی عزائم مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو نہیں بتاتا،صدر ٹرمپ

    امریکا اپنے سیاسی عزائم مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو نہیں بتاتا،صدر ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران سے متعلق اپنے سیاسی عزائم مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک کو آگاہ نہیں کرتا۔

    امریکی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے اور کوشش ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچا جائےمنصوبہ یہ ہے کہ ایران مذاکرات کرے، اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ آگے کیا ممکن ہے، اور اگر بات نہ بنی تو پھر حالات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

    ٹرمپ نے ایک بار پھر جنگی جہازوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑا بحری بیڑہ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے حالیہ مذاکرات کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کےبارے میں امریکا اپنے سیاسی عزائم مشرق وسطی کے اتحادیوں کو نہیں بتاتا،ان کے مطابق امریکا تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

    یاد رہے کہ ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی حکام کسی معاہدے کو نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں، تاہم ڈیڈ لائن کے بارے میں صرف وہی جانتے ہیں کہ کوئی حتمی وقت مقرر ہے یا نہیں۔

  • امریکی بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ پہنچ گیا

    امریکی بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ پہنچ گیا

    امریکی بحریہ کا جدید طیارہ بردار بحری بیڑہ یو ایس ایس ابراہم لنکن جنگی جہازوں کیساتھ مشرق وسطیٰ پہنچ گیا۔

    خبر ایجنسی کے مطابق امریکی ایئرکرافٹ کیریئر کے ساتھ کئی جدید میزائل بردار ڈسٹرائرز بھی خطے میں پہنچ چکے ہیں، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز اعلان جنگی جہاز ایران کی جانب روانہ کرنے کا اعلان کیا تھاامریکی حکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سلامتی کی صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کی مشرقِ وسطیٰ میں موجودگی سے ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

  • امریکا کی جانب سے کوئی بھی حملہ مکمل جنگ تصور ہوگا، ایران

    امریکا کی جانب سے کوئی بھی حملہ مکمل جنگ تصور ہوگا، ایران

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے کسی بھی حملے کو مکمل جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا-

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی فوجی ائیرکرافٹ کیریئر اسٹریک گروپ اور دیگر فوجی اثاثے آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں پہنچ رہے ہیں،سینیئر ایرانی عہدیدار نے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ فوجی بڑھوتری حقیقی تصادم کے لیے نہیں ہے، لیکن ہماری فوج بدترین صورتحال کے لیے تیار ہے، اسی لیے ایران میں سب کچھ ہائی الرٹ پر ہے، اس بار ہم کسی بھی حملے چاہے محدود ہو، غیر محدود، سرجیکل یا کسی بھی قسم کا کو مکمل جنگ کے طور پر شمار کریں گے اور سب سے سخت طریقے سے جواب دیں گے،اگر امریکی ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کریں گے، تو ہم جواب دیں گے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ امریکہ کا ‘آرمادا’ ایران کی طرف جا رہا ہے، لیکن امید ہے کہ اسے استعمال نہ کرنا پڑے، جبکہ ایران کو مظاہرین کے قتل یا نیوکلیئر پروگرام دوبارہ شروع کرنے سے روکنے کی تنبیہ بھی دی۔

  • امریکی نمائندہ خصوصی کی اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات

    امریکی نمائندہ خصوصی کی اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات

    مشرق وسطیٰ کے لیے امریکا کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اسرائیل پہنچ گئے جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی۔

    عالمی خبر ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں غزہ میں جاری جنگ بندی کی کوششوں اور انسانی بحران پر بات چیت متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق حماس کو دی گئی تجاویز کے جواب میں اسرائیل نے اپنا مؤقف تیار کر کے گذشتہ روز ثالث کاروں کو پہنچا دیا ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہونے والے بلواسطہ مذاکرات گذشتہ ہفتے کسی پیشرفت کے بغیر ڈیڈلاک کا شکار ہو گئے تھے۔

    غزہ پر اسرائیلی بمباری سے مزید 41 فلسطینی شہید، بچوں کیلئے دودھ کی شدید قلت

    829 کلومیٹر طویل آسمانی بجلی کا عالمی ریکارڈ قائم

    روس کی شام کو عرب روس سربراہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت

  • امریکا کے جدید A-10 بمبار طیارے مشرق وسطیٰ میں تعینات

    امریکا کے جدید A-10 بمبار طیارے مشرق وسطیٰ میں تعینات

    امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نےخطے میں سکیورٹی اور اسٹریٹیجک مفادات کی نگرانی کیلئے A-10 تھنڈر بولٹ طیاروں کو مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں فضائی نگرانی کے لیے تعینات کر دیا ہے-

    A-10 تھنڈر بولٹ اپنی پائیداری اور زمینی حملوں میں مہارت کی وجہ سے مشہور ہے یہ طیارے امریکا کی طرف سے ان علاقوں میں اعلیٰ فضائی موجودگی برقرار رکھنے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، امریکی سینٹ کمانڈ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں 21 ممالک پر مشتمل علاقے میں دفاعی، انٹیلی جنس اور سکیورٹی کارروائیوں کا ذمہ دار ہے، جن میں ایران، افغانستان، پاکستان، سعودی عرب، امارات، قطر اور مصر جیسے اہم ممالک شامل ہیں۔

    سینٹ کام کا خصوصی فوکس بحیرہ احمر، اسٹریٹ آف ہرمز اور سوئز کینال جیسے حساس اور اسٹریٹیجک سمندری راستوں پر ہے، جہاں سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل گزرتی ہےامریکی سینٹرل کمانڈ کا ہیڈکوارٹر فلوریڈا، امریکا میں واقع ہے، جبکہ اس کا فارورڈ آپریشنل بیس قطر میں قائم ہے۔

    مناسب وقت پر ایران سے پابندیاں ہٹائیں گے، امریکی صدر

    غزہ: حماس سے جھڑپ کے دوران 5 صہیونی فوجی ہلاک اور 14 زخمی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ برقرار

  • برطانوی اور ترک صدور کا مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر اظہارِ تشویش

    برطانوی اور ترک صدور کا مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر اظہارِ تشویش

    برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

    لندن میں برطانوی حکومت کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔وزیرِ اعظم اسٹارمر نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ادھر ترک صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بھی ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی ہے۔انقرہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دونوں صدور نے ایران اسرائیل کشیدگی پر بات چیت کی۔

    صدر اردوان نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ خطے کو ممکنہ تباہی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔انہوں نے ثالثی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی۔

    کراچی میں ہلکی بارش ، مغربی ہواؤں کا سلسلہ فعال

    ایران کے جوہری پروگرام پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ فوری مذاکرات کے لیے تیار

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا

    ایران اسرائیل جنگ سے متعلق پاکستان کا وائرل بیان جعلی ، سفارتی ذرائع کی تردید

    سندھ میں پلاسٹک شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی نافذ

  • مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کے پھیلنے کا خدشہ مزید بڑھ   گیا

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کے پھیلنے کا خدشہ مزید بڑھ گیا

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کے پھیلنے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران برطانیہ نے اسرائیل کی مدد کے لیے فوجی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے، جس سے خطے میں ایک بڑی جنگ بھڑکنے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ لڑاکا طیاروں، عسکری ساز و سامان اور A400M ملٹری ٹرانسپورٹ وہیکل سمیت دیگر دفاعی وسائل کو مشرقِ وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ ری فیولنگ کے لیے KC-3 طیارہ قبرص منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں فضائی آپریشنز کو جاری رکھا جا سکے۔

    ادھر ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک برطانوی جنگی بحری جہاز خلیج فارس کے قریب پہنچ گیا تھا، جو اسرائیل کی حمایت کے لیے خطے میں داخل ہونا چاہتا تھا ایرانی فوج کے مطابق، یہ جنگی جہاز صہیونی میزائلوں کی رہنمائی کے لیے لایا گیا تھا۔

    بھارتی شہر کیدرناتھ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ، 7 افراد ہلاک

    ایرانی بحریہ نے عمان کے سمندری حدود میں اس جہاز کو روکا اور مسلح ڈرونز کو اس کی جانب بھیج کر وارننگ دی۔ ایرانی بیان کے مطابق، ڈرونز کی پرواز اور تنبیہ کے بعد برطانوی بحری جہاز کو رخ بدلنے پر مجبور کر دیا گیاایرانی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر علاقائی طاقت کی مداخلت کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور خطے کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

    اسرائیلی حملوں میں امریکا برابر کا شریک ، اسکا خمیازہ بھگتنا ہوگا،ایرانی وزیر خارجہ

  • مشرق وسطی کے ممالک کو  برآمدات میں اضافہ

    مشرق وسطی کے ممالک کو برآمدات میں اضافہ

    مشرق وسطی کے ممالک سعودی عرب اور عرب امارات کو پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہو گیا۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران برآمدات سے 2.381 ارب ڈالر زر مبادلہ کمایا گیا ہے جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں زرمبادلہ کا حصول 2.279 ارب ڈالر رہا تھا۔ جاری مالی سال کے دوران مشرق وسطی کے ممالک کو برآمدات میں 4.47 فیصد، سعودی عرب کو 6.95فیصد اور متحدہ عرب امارات کو 8.27 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

    گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ میں مشرق وسطی کے ممالک کو کی جانے والی قومی برآمدات میں 0.102 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ سعودی عرب کو پہلے نو ماہ میں 552.26 ملین ڈالر کی برآمدات کی گئیں۔متحدہ عرب امارات کو کی جانے والی برآمدات میں رواں مالی سال کے دوران 8.27 فیصد اضافہ ہوا اور گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے نو ماہ کے عرصہ میں برآمدات کے حجم میں 1.487 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 1.610 ارب ڈالر تک کا اضافہ ہوا۔

    اسحٰاق ڈار کا یورپی یونین سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ہارورڈ یونیورسٹی کی ٹیکس سے مستثنیٰ حیثیت ختم کرنے کا اعلان

    بھارت نے پانی روکنے کا سٹرکچر بنایا تو تباہ کردیں گے، خواجہ آصف