Baaghi TV

صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ شیئر کردی

trump

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا ایران معاہدے سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں وزیراعظم پاکستان شہاز شریف نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران پہلے سے کہیں زیادہ امن معاہدے کے قریب ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں معاہدے کو حتمی شکل دیدی جائے گی پاکستان امن معاہدے کو حتمی شکل ملنے کے فوراً بعد اس پر الیکٹر ا نک دستخط کے لیے تیاریاں کررہا ہے، جبکہ اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی متوقع ہیں۔

وزیراعظم نے ممکنہ امن معاہدے کے سلسلے میں مثبت رویے پر امریکا اور ایران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس عمل کے دوران فریقین کے مثبت کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان مذاکراتی عمل میں تعاون کرنے والے برادر ممالک کے کردار کو سراہتا ہے اور امید کرتا ہے یہ تاریخی امن معاہدہ خطے میں دیرپا استحکام اور امن کے قیام کے لیے مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔

شہباز شریف نے گزشتہ روز بھی ایک بیان میں امریکی صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کو ٹیگ کرتے ہوئے ایران امریکا معاہدے پر اتفاق کا اعلان کیا تھاکہا تھا امریکا اور ایران میں امن معاہدہ پرحتمی فیصلہ ہوچکا ہے، پاکستان اب فریقین کے ساتھ مل کر اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کررہا ہے۔

دوسری جانب یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ اس ممکنہ امن معاہدے پر مکمل اتفاق کی صورت میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا میں ہوگی جس میں وزیراعظم شہبازشریف بھی شریک ہوں گے، تاہم اس خبر کی تاحال سرکاری حکام نے تصدیق نہیں کی ہے۔

البتہ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا سوئس وزیر خارجہ اگنازیو کاسس سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی صورت حال اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے سوئس وزیر خارجہ نے امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا جبکہ پاکستان کی علاقائی استحکام کے لیے کوششوں کی تعریف بھی کی ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بعض غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور اس پر اتوار کو جنیوا میں دستخط ہوں گے، مکمل طور پر غلط ہے،فارس کے مطابق اتوار کی تاریخ اور جنیوا کے مقام، دونوں کی مکمل طور پر تردید کی گئی ہے۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک مغربی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر اتوار تک دستخط ہو سکتے ہیں، جبکہ مذاکرات کے انعقاد کے لیے جنیوا سب سے زیادہ متوقع مقام قرار دیا جا رہا تھا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کے مسودے میں 60 روزہ مدت مقرر کی گئی ہے، جس کے دوران ایرانی جوہری پروگرام اور امریکی بنیادی و ثانوی پابندیوں کے مکمل خاتمے سے متعلق مذاکرات کیے جائیں گے۔

یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ تہران نے واضح کیا تھا کہ اس حوالے سے اس کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

More posts